Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 56 of 379

1107Sahih Muslim

سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ عَمِّهِ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ قَالَتْ کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ لَوْ شَائَتْ بَهْمَةٌ أَنْ تَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ لَمَرَّتْ

یحییٰ بن یحیی، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ام المومنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب سجدہ کرتے تو اگر بکری کا بچہ آپ ﷺ کے ہاتھوں کے درمیان سے گزرنا چاہتا تو گزر جاتا۔

Maimuna reported: When the Apostle of Allah ﷺ prostrated himself, if a lamb wanted to pass between his arms, it could pass.

1108Sahih Muslim

سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ عَنْ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ خَوَّی بِيَدَيْهِ يَعْنِي جَنَّحَ حَتَّی يُرَی وَضَحُ إِبْطَيْهِ مِنْ وَرَائِهِ وَإِذَا قَعَدَ اطْمَأَنَّ عَلَی فَخِذِهِ الْيُسْرَی

اسحاق بن ابراہیم حنظلی، مروان بن معاویہ، عبیداللہ بن عبداللہ بن اصم، یزید بن اصم، حضرت ام المومنین میمونہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ فرماتے تو اپنے ہاتھوں کو اتنا جدا رکھتے کہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی اور جب آپ ﷺ بیٹھتے تو بائیں ران پر مطمئن ہوتے۔

Maimuna, the wife of the Apostle of Allah ﷺ , reported: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated himself, he spread his arms, i. e. he separated them so much that the whiteness of his armpits became visible from behind and when he sat (for Jalsa) he rested on his left thigh.

1109Sahih Muslim

سجود میں میانہ روی اور سجدہ میں ہتھیلیوں کو زمین پر رکھنے اور کہنیوں کو پہلوؤں سے اوپر رکھنے اور پیٹ کو رانوں سے اوپر رکھنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِعَمْرٍو قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ بِنْتِ الْحَارِثِ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَجَدَ جَافَی حَتَّی يَرَی مَنْ خَلْفَهُ وَضَحَ إِبْطَيْهِ قَالَ وَکِيعٌ يَعْنِي بَيَاضَهُمَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، عمرو، اسحاق، وکیع، جعفر بن برقان، یزید بن اصم، میمونہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ سجدہ کرتے تو ہاتھوں کو جدا رکھتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پیچھے سے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی۔

Maimuna daughter of Harith reported: When the Messenger of Allah ﷺ prostrated, he kept his hands so much apart from each other that when it was seen from behind the armpits became visible. Waki said: That is their whiteness.

1110Sahih Muslim

طریقہ نماز کی جامعیت اس کا افتتاح واختتام رکوع وسجود کو اعتدال کے ساتھ ادا کرنے کا طریقہ چار رکعات والی نماز میں سے ہر دو رکعتوں کے بعد تشہد اور دونوں سجدوں اور پہلے قعدے میں بیٹھنے کے طریقہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ حُسَيْنٍ الْمُعَلِّمِ قَالَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ أَبِي الْجَوْزَائِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَفْتِحُ الصَّلَاةَ بِالتَّکْبِيرِ وَالْقِرَائَةَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَکَانَ إِذَا رَکَعَ لَمْ يُشْخِصْ رَأْسَهُ وَلَمْ يُصَوِّبْهُ وَلَکِنْ بَيْنَ ذَلِکَ وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّی يَسْتَوِيَ قَائِمًا وَکَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ لَمْ يَسْجُدْ حَتَّی يَسْتَوِيَ جَالِسًا وَکَانَ يَقُولُ فِي کُلِّ رَکْعَتَيْنِ التَّحِيَّةَ وَکَانَ يَفْرِشُ رِجْلَهُ الْيُسْرَی وَيَنْصِبُ رِجْلَهُ الْيُمْنَی وَکَانَ يَنْهَی عَنْ عُقْبَةِ الشَّيْطَانِ وَيَنْهَی أَنْ يَفْتَرِشَ الرَّجُلُ ذِرَاعَيْهِ افْتِرَاشَ السَّبُعِ وَکَانَ يَخْتِمُ الصَّلَاةَ بِالتَّسْلِيمِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ نُمَيْرٍ عَنْ أَبِي خَالِدٍ وَکَانَ يَنْهَی عَنْ عَقِبِ الشَّيْطَانِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابوخالد احمر، حسین، اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، حسین، بدیل بن میسرہ، ابوجوزاء، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز کی ابتداء تکبیر تحریمہ اور اَلْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ کی قرأت سے کرتے تھے اور جب رکوع کرتے تو سر کو اونچا رکھتے نہ نیچا بلکہ برابر سیدھا رکھتے اور جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے کھڑے نہ ہوجاتے اور جب سجدہ سے سر اٹھاتے تو اس وقت تک سجدہ نہ کرتے جب تک سیدھے نہ بیٹھ جاتے اور ہر دو رکعتوں میں التحیات پڑھتے اور بائیں پاؤں کو بچھاتے اور اپنے دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور شیطان کی طرح بیٹھنے سے منع فرماتے اور درندوں کی طرح آدمی اپنے دونوں ہاتھ زمین پر بچھا دے اس سے بھی منع فرماتے اور آپ ﷺ سلام کے ساتھ نماز ختم کرتے اور آپ ﷺ عقبہ شیطان سے یعنی دونوں پاؤں کھڑے کر کے ایڑیوں پر بیٹھنے سے منع فرماتے تھے۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ used to begin prayer with takbir (saying Allih-o-Akbar) and the recitation: "Praise be to Allah, the Lord of the Universe." When he bowed he neither kept his head up nor bent it down, but kept it between these extremes; when he raised his head after bowing he did not prostrate himself till he had stood erect; when he raised his head after prostration he did not prostrate himself again till he sat up. At the end of every two rakahs he recited the tahiyya; and he used to place his left foot flat (on the ground) and raise up the right; he prohibited the devils way of sitting on the heels, and he forbade people to spread out their arms like a wild beast. And he used to finish the prayer with the taslim.

1111Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا وَضَعَ أَحَدُکُمْ بَيْنَ يَدَيْهِ مِثْلَ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ فَلْيُصَلِّ وَلَا يُبَالِ مَنْ مَرَّ وَرَائَ ذَلِکَ

یحییٰ بن یحیی، قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواحوص، سماک، موسیٰ بن طلحہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی کوئی چیز رکھ کر نماز ادا کرے تو پھر اس کے آگے سے گزرنے والے کی کوئی پرواہ نہ کرے۔

Musa bin Talha reported it on the authority of his father: The Messenger of Allah ﷺ said: When one of you places in front of him something such as the back of a saddle, he should pray without caring who passes on the other side of it.

1112Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُوسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کُنَّا نُصَلِّي وَالدَّوَابُّ تَمُرُّ بَيْنَ أَيْدِينَا فَذَکَرْنَا ذَلِکَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ تَکُونُ بَيْنَ يَدَيْ أَحَدِکُمْ ثُمَّ لَا يَضُرُّهُ مَا مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فَلَا يَضُرُّهُ مَنْ مَرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابن نمیر، عمر بن عبید، سماک بن حرب، موسیٰ بن طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ ہم نماز ادا کرتے اور جانور ہمارے آگے سے گزرتے ہم نے اس بات کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی مانند کوئی چیز اگر تمہارے آگے ہو تو جو بھی تمہارے سامنے سے گزرے تمہیں کوئی نقصان نہیں دے گا۔

Musa bin Talha reported on the authority of his father: We used to say prayer and the animals moved in front of us. We mentioned it to the Messenger of Allah ﷺ and he said: If anything equal to the back of a saddle is in front of you, then what walks in front, no harm would come to him. Ibn Numair said: No harm would come whosoever walks in front.

1113Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ

زہیر بن حرب، عبداللہ بن یزید، سعید بن ابی ایوب، ابواسود، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کی طرح ہو۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked about sutra of a worshipper; he said: Equal to the back of the saddle.

1114Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ فِي غَزْوَةِ تَبُوکَ عَنْ سُتْرَةِ الْمُصَلِّي فَقَالَ کَمُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبداللہ بن یزید، حیوہ، ابی اسود، محمد بن عبدالرحمن، عروہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک میں رسول اللہ ﷺ سے نمازی کے سترہ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کجاوے کی پچھلی لکڑی کے برابر ہو۔

Aisha reported: The Messenger of Allah ﷺ was asked in the expedition of Tabuk about the sutra the worshipper; he said: Like the back of the saddle.

1115Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْعِيدِ أَمَرَ بِالْحَرْبَةِ فَتُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهِ فَيُصَلِّي إِلَيْهَا وَالنَّاسُ وَرَائَهُ وَکَانَ يَفْعَلُ ذَلِکَ فِي السَّفَرِ فَمِنْ ثَمَّ اتَّخَذَهَا الْأُمَرَائُ

محمد بن مثنی، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ جب عید کے دن نماز کے لئے جاتے تو نیزہ کا حکم دیتے جو آپ ﷺ کے سامنے گاڑ دیا جاتا پھر اس کی آڑ میں نماز پڑھاتے اور لوگ آپ ﷺ کے پیچھے ہوتے اور آپ ﷺ سفر میں بھی ایسے ہی فرماتے پھر اسی کو امراء و حکام نے بھی مقرر کرلیا۔

Ibn Umar (RA) reported: When the Messenger of Allah ﷺ (may peace he upon him) went out on the Id day, he ordered to carry a spear-and it was fixed in front of him, and he said prayer towards its (direction), and the people were behind him. And he did it in the journey, and that is the reason why the Amirs carried it.

1116Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَرْکُزُ وَقَالَ أَبُو بَکْرٍ يَغْرِزُ الْعَنَزَةَ وَيُصَلِّي إِلَيْهَا زَادَ ابْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ وَهِيَ الْحَرْبَةُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، محمد بن بشر، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے رسول اللہ ﷺ برچھی گاڑتے اور اس کی آڑ میں نماز ادا کرتے۔

Ibn Umar (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ set up (sutra), and Abu Bakr (RA) said: He implanted iron-tipped spear and said prayer towards its direction. Ibn Abu Shaiba made this addition to it: "Ubaidullah said that it was a spear."

1117Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَعْرِضُ رَاحِلَتَهُ وَهُوَ يُصَلِّي إِلَيْهَا

احمد بن حنبل، معتمر بن سلیمان، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی کی آڑ میں نماز ادا کرتے۔

Ibn Umar said: The Apostle of Allah ﷺ used to place his camel (towards the Ka’bah) and said prayer in its direction.

1118Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُصَلِّي إِلَی رَاحِلَتِهِ و قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی إِلَی بَعِيرٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابوخالد احمر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ اپنی اونٹنی کی آڑ میں نماز ادا کرتے ابن نمیر کی روایت میں اونٹ کا ذکر ہے۔

Ibn Umar reported: The Apostle of Allah ﷺ used to say prayer towards his camel. Ibn Numair said: The Apostle of Allah ﷺ said prayer towards the camel.

1119Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَکَّةَ وَهُوَ بِالْأَبْطَحِ فِي قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوئِهِ فَمِنْ نَائِلٍ وَنَاضِحٍ قَالَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَائُ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی بَيَاضِ سَاقَيْهِ قَالَ فَتَوَضَّأَ وَأَذَّنَ بِلَالٌ قَالَ فَجَعَلْتُ أَتَتَبَّعُ فَاهُ هَا هُنَا وَهَا هُنَا يَقُولُ يَمِينًا وَشِمَالًا يَقُولُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ ثُمَّ رُکِزَتْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْحِمَارُ وَالْکَلْبُ لَا يُمْنَعُ ثُمَّ صَلَّی الْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ يُصَلِّي رَکْعَتَيْنِ حَتَّی رَجَعَ إِلَی الْمَدِينَةِ

ابوبکر بن شیبہ، زہیربن حرب، وکیع، زہیر، سفیان، عون بن جحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں مکہ میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ مقام ابطح میں سرخ چمڑے کے ایک قبہ میں تشریف فرما تھے حضرت بلال ؓ آپ ﷺ کے لئے وضو کا پانی لے کر نکلے پس بعض لوگوں کو تو آپ ﷺ کا بچا ہو پانی پہنچا اور بعض نے اس کو چھڑک لیا فرماتے ہیں پھر نبی کریم ﷺ سرخ جبہ پہنے ہوئے نکلے گویا کہ میں اس وقت آپ ﷺ کی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں آپ ﷺ نے وضو فرمایا اور بلال نے اذان دی اور میں نے ان کے منہ کی طرف دیکھنا شروع کیا وہ اپنے چہرہ کو دائیں بائیں پھیر رہے تھے اور حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ ) کہہ رہے تھے پھر آپ ﷺ کے لئے ایک برچھا گاڑا گیا آپ ﷺ آگے تشریف لے گئے اور ظہر کی دو رکعتیں پڑھائیں آپ ﷺ کے آگے سے کتے اور گدھے گزرتے رہے لیکن ان کو نہ روکا گیا پھر آپ نے عصر کی دو رکعتیں پڑھائی پھر آپ ﷺ دو رکعتیں ہی ادا کرتے رہے یہاں تک کہ مدینہ واپس آگئے۔

Abu Juhaifa reported it on the authority of his father: I came to the Apostle of Allah ﷺ in Makkah and he was (at that time) at al- Abtah in a red leather tent. And Bilal (RA) stepped out with ablution water for him. (And what was left out of that water) some of them got it (whereas others could not get it) and (those who got it) rubbed themselves with it. Then the Apostle of Allah ﷺ stepped out with a red mantle on him and I was catching a glimpse of the whiteness of his shanks. The narrator said: He (the Holy Prophet) performed the ablution. and Bilal (RA) pronounced Adhan and I followed his mouth (as he turned) this side and that as he said on the right and the left: "Come to prayer, come to success." A spear was then fixed for him (on the ground). He stepped forward and said two rakahs of Zuhr, while there passed in front of him a donkey and a dog, and these were not checked. He then said two rakahs of the Asr prayer, and he then continued saying two rakahs till he came back to Madinah.

1120Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَبِي زَائِدَةَ حَدَّثَنَا عَوْنُ بْنُ أَبِي جُحَيْفَةَ أَنَّ أَبَاهُ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ حَمْرَائَ مِنْ أَدَمٍ وَرَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ وَضُوئًا فَرَأَيْتُ النَّاسَ يَبْتَدِرُونَ ذَلِکَ الْوَضُوئَ فَمَنْ أَصَابَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يُصِبْ مِنْهُ أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِ ثُمَّ رَأَيْتُ بِلَالًا أَخْرَجَ عَنَزَةً فَرَکَزَهَا وَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حُلَّةٍ حَمْرَائَ مُشَمِّرًا فَصَلَّی إِلَی الْعَنَزَةِ بِالنَّاسِ رَکْعَتَيْنِ وَرَأَيْتُ النَّاسَ وَالدَّوَابَّ يَمُرُّونَ بَيْنَ يَدَيْ الْعَنَزَةِ

محمد بن حاتم، بہز، عمر بن ابی زائدہ، حضرت عون بن ابوجحفیہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے والد نے رسول اللہ ﷺ کو چمڑے کے سرخ قبہ میں دیکھا کہتے ہیں میں نے بلال کو دیکھا وہ آپ ﷺ کا بچا ہوا پانی لے کر نکلے میں نے لوگوں کو دیکھا کہ اس پانی کی طرف جلدی کرنے لگے جس کو اس میں کچھ نہ ملا اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری لے لی پھر میں نے بلال ؓ کو دیکھا کہ اس نے ایک نیزہ نکالا اور اس کو گاڑ دیا اور رسول اللہ ﷺ اپنے سرخ جبہ کو سمیٹتے ہوئے نکلے تو آپ ﷺ نے لوگوں کو اس نیزہ کی آڑ میں نماز پڑھائی اور میں نے لوگ اور جانور دیکھے جو اس نیزہ کے آگے سے گزر رہے تھے۔

Abu Juhaifa reported on the authority of his father: I saw the Messenger of Allah ﷺ (in Makkah at al-Abtah) in a red leather tent. and I saw Bilal (RA) take the ablution water (left by Allahs Messenger), and I saw the people racing, with one another to get that ablution water. If anyone got some of it, he rubbed himself with it, and anyone who did not get any got some of the moisture from his companions hand. I then saw Bilal (RA) take a staff and fix it in the ground, after which the Messenger of Allah ﷺ came out quickly in a red mantle and led the people in two rakahs facing the staff, and I saw people and animals passing in front of the staff.

1121Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ قَالَ ح و حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ زَکَرِيَّائَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ عَنْ زَائِدَةَ قَالَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ کِلَاهُمَا عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ سُفْيَانَ وَعُمَرَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَی بَعْضٍ وَفِي حَدِيثِ مَالِکِ بْنِ مِغْوَلٍ فَلَمَّا کَانَ بِالْهَاجِرَةِ خَرَجَ بِلَالٌ فَنَادَی بِالصَّلَاةِ

اسحاق بن منصور، عبد بن حمید، جعفر بن عون، ابوعمیس، قاسم بن زکریا، حسین بن علی، زائدہ، مالک بن مغول، حضرت ابوجحیفہ ؓ سے یہی حدیث اس سند کے ساتھ ذکر کی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ ہے کہ جب دوپہر کا وقت ہوا تو حضرت بلال ؓ نکلے اور نماز کے لئے اذان دی باقی حدیث اوپر والی حدیث کی طرح ہے۔

Aun bin Abu Juhaifa narrated from the Apostle of Allah ﷺ on the authority of his father a hadith like that of Sufyan, and Umar bin Abu Zaida made this addition: Some of them tried to excel the others (in obtaining water), and in the hadith transmitted by Malik bin Mighwal (the words are): When it was noon, Bilal (RA) came out and summoned (people) to (noon) prayer.

1122Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جُحَيْفَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْهَاجِرَةِ إِلَی الْبَطْحَائِ فَتَوَضَّأَ فَصَلَّی الظُّهْرَ رَکْعَتَيْنِ وَالْعَصْرَ رَکْعَتَيْنِ وَبَيْنَ يَدَيْهِ عَنَزَةٌ قَالَ شُعْبَةُ وَزَادَ فِيهِ عَوْنٌ عَنْ أَبِيهِ أَبِي جُحَيْفَةَ وَکَانَ يَمُرُّ مِنْ وَرَائِهَا الْمَرْأَةُ وَالْحِمَارُ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، حضرت ابوجحیفہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ دوپہر کے وقت بطحاء کی طرف نکلے آپ ﷺ نے وضو کیا اور ظہر کی نماز دو رکعتیں ادا کیں اور عصر کی دو رکعتیں ادا کیں اور آپ ﷺ کے سامنے نیزہ تھا جس کے پار سے عورتیں اور گدھے گزر رہے تھے۔

Abu Juhaifa reported: The Messenger of Allah ﷺ went at noon towards al-Batha, he performed ablution, and said two rakahs of the Zuhr prayer and two of the Asr prayer, and there was a spear in front of him. Shubah said and Aun made this addition to it on the authority of his father Abu Juhaifa: And the woman and the donkey passed behind it.

1123Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الْحَکَمِ فَجَعَلَ النَّاسُ يَأْخُذُونَ مِنْ فَضْلِ وَضُوئِهِ

زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، ابن مہدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے اس میں یہ ہے کہ لوگ آپ ﷺ کے بچے ہوئے پانی سے لینا شروع ہوگئے۔

Shubah narrated the same on the basis of two authorities and in the hadith transmitted by Hakam (the words are): The people began to get water that was left out of his (the Prophets) ablution.

1124Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أَقْبَلْتُ رَاکِبًا عَلَی أَتَانٍ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الِاحْتِلَامَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًی فَمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ الصَّفِّ فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الْأَتَانَ تَرْتَعُ وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ فَلَمْ يُنْکِرْ ذَلِکَ عَلَيَّ أَحَدٌ

یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھی پر سوار ہو کر حاضر ہوا اور ان دنوں میں بلوغت کے قریب تھا اور رسول اللہ ﷺ منیٰ میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے میں صف کے آگے سے گزر کر اترا اور گدھی کو چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور میں خود صف میں شریک ہوگیا اور اس بات پر مجھے کسی نے اعتراض نہیں کیا۔

Ibn Abbas reported: I came riding on a she-ass, and I was on the threshold of maturity, and the Messenger of Allah ﷺ was leading people in prayer at Mina. I passed in front of the row and got down, and sent the she-ass for grazing and joined the row, and nobody made any objection to it.

1125Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ أَقْبَلَ يَسِيرُ عَلَی حِمَارٍ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ يُصَلِّي بِمِنًی فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَالَ فَسَارَ الْحِمَارُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ ثُمَّ نَزَلَ عَنْهُ فَصَفَّ مَعَ النَّاسِ

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ میں گدھے پر سوار ہو کر حاضر ہوا اور رسول اللہ ﷺ لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے گدھا بعض صفوں سے گزر گیا تو وہ اس سے اترے اور لوگوں کے ساتھ صف میں شامل ہوگئے۔

Abdullah bin Abbas (RA) reported that he came riding on a donkey, and the Messenger of Allah ﷺ was leading the people in prayer at Mina on the occasion of the Farewell Pilgrimage and (the narrator) reported: The donkey passed in front of the row and then he got down from it and joined the row along with the people.

1126Sahih Muslim

نمازی کے سترہ اور سترہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے استح اور نمازی کے آگے سے گزرنے سے روکنے اور گزرنے والے کے حکم اور گزرنے والے کو روکنے نمازی کے آگے لیٹنے کے جواز اور سواری کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرنے اور سترہ کے قریب ہونے کے حکم اور مقدار سترہ اور اس کے متعلق امور کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِعَرَفَةَ

یحییٰ بن یحیی، عمرو ناقد، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، زہری یہی حدیث اس سند کے ساتھ بھی روایت کی گئی ہے لیکن اس میں ہے کہ نبی کریم ﷺ میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے۔

This hadith has been narrated by Ibn Uyaina on the authority of al-Zuhri with the same chain of transmitters and he reported: The Apostle of Allah ﷺ was leading prayer at Arafa.