ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَا قَامَ أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ الصَّلَاةَ فَإِنَّ فِيهِمْ الْکَبِيرَ وَفِيهِمْ الضَّعِيفَ وَإِذَا قَامَ وَحْدَهُ فَلْيُطِلْ صَلَاتَهُ مَا شَائَ
ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کی امامت کرے تو ہلکی نماز پڑھائے کیونکہ ان میں کمزور بھی ہوتے ہیں اور جب اکیلا کھڑا ہو تو جیسے چاہے اپنی نماز ادا کرے۔
Abu Hurairah (RA) reported: The Apostle of Allah ﷺ said: When any one of you leads the people in prayer, he should be brief for among them are the young and the aged, the weak and the sick. But when one of you prays by himself, he may (prolong) as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ لِلنَّاسِ فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِي النَّاسِ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَذَا الْحَاجَةِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو ہلکی پڑھائے کیونکہ لوگوں میں کمزور بیمار اور حاجت مند ہوتے ہیں۔
Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) transmitted to us from Muhammad the Messenger of Allah ﷺ , and he narrated (some) ahadith out of (these narrations and one of them is this): The Messenger of Allah ﷺ said: When any one of you stands to lead people In prayer, he should shorten it, for amongst them are the aged, and amongst them are the weak, but when he prays by himself, he may prolong his prayer as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ بَدَلَ السَّقِيمَ الْکَبِيرَ
عبدالملک بن شعیب بن لیث، لیث بن سعد، یونس، ابن شہاب، ابوبکر بن عبدالرحمن، حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فرمایا لیکن اس حدیث میں بیمار کے بجائے بوڑھے کا لفظ ہے باقی حدیث اسی طرح ہے۔
Abu Bakr (RA) bin Abdul Rahman reported that he had heard Abu Hurairah (RA) say that the Messenger of Allah ﷺ said like it, but he substituted "the aged" for "the infirm".
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ طَلْحَةَ حَدَّثَنِي عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ الثَّقَفِيُّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ أُمَّ قَوْمَکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي شَيْئًا قَالَ ادْنُهْ فَجَلَّسَنِي بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ وَضَعَ کَفَّهُ فِي صَدْرِي بَيْنَ ثَدْيَيَّ ثُمَّ قَالَ تَحَوَّلْ فَوَضَعَهَا فِي ظَهْرِي بَيْنَ کَتِفَيَّ ثُمَّ قَالَ أُمَّ قَوْمَکَ فَمَنْ أَمَّ قَوْمًا فَلْيُخَفِّفْ فَإِنَّ فِيهِمْ الْکَبِيرَ وَإِنَّ فِيهِمْ الْمَرِيضَ وَإِنَّ فِيهِمْ الضَّعِيفَ وَإِنَّ فِيهِمْ ذَا الْحَاجَةِ وَإِذَا صَلَّی أَحَدُکُمْ وَحْدَهُ فَلْيُصَلِّ کَيْفَ شَائَ
محمد بن عبداللہ بن نمیر، عمرو بن عثمان، موسیٰ بن طلحہ، حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفی ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اسے فرمایا اپنی قوم کی امامت کیا کرو وہ کہتے ہیں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے دل میں کچھ محسوس کرتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہوجا اور مجھے اپنے سامنے بٹھایا پھر اپنی ہتھیلی میرے سینے پر میری چھاتی کے درمیان رکھی پھر فرمایا گھوم جا اور اپنی ہتھیلی میری پیٹھ پر کندھوں کے درمیان رکھی پھر فرمایا اپنی قوم کی امامت کر جو امامت کرے اسے چاہیے کہ مختصر کرے کیونکہ ان میں بوڑھے مریض کمزور اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب تم میں سے کوئی اکیلے نماز ادا کرے تو جیسے چاہے ادا کرے۔
Uthman bin Abul-As at-Thaqafi reported: The Apostle of Allah ﷺ said to him: Lead your people in prayer. I said: Messenger of Allah. I perceive something (disturbing) in my soul. He (the Holy Prophet) asked me to draw near him and making me sit down in front of him he placed his hand on my breast between my nipples. and then, telling me to turn round, he placed it on my back between my shoulders. He then said: Act as an Imam for your people. He who acts as Imam of the people, he must be brief, for among them are the aged, among them are the sick, among them are the weak, and among them are the people who have business to attend. But when any of you prays alone, he may pray as he likes.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ قَالَ حَدَّثَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي الْعَاصِ قَالَ آخِرُ مَا عَهِدَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَمَمْتَ قَوْمًا فَأَخِفَّ بِهِمْ الصَّلَاةَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عمرو بن مرہ، سعید بن مسیب، حضرت عثمان بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے جو آخری عہد لیا تھا وہ یہ تھا کہ جب تو امامت کرے تو ان کو مختصر نماز پڑھائے۔
Uthman bin Abul-As reported: The last thing which the Messenger of Allah ﷺ instructed me was: When you lead the people in prayer, be brief.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَأَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يُوجِزُ فِي الصَّلَاةِ وَيُتِمُّ
خلف بن ہشام، ابوربیع، زہرانی، حماد بن زید، عبدالعزیز بن صہیب، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ہلکی اور کامل نماز پڑھاتے تھے۔
Anas reported: The Apostle of Allah ﷺ used to be brief and perfect in prayer.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ مِنْ أَخَفِّ النَّاسِ صَلَاةً فِي تَمَامٍ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن قتیبہ بن سعید، یحیی، قتیبہ، ابوعوانہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں میں سے پوری نماز اور سب سے ہلکی پڑھانے والے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ was among those whose prayers was brief and perfect.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شَرِيکِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ قَالَ مَا صَلَّيْتُ وَرَائَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ صَلَاةً مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتبیہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن جعفر، شریک بن عبداللہ بن نمیر، حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ہلکی اور زیادہ کامل نماز پڑھانے والے کسی امام کے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔
Anas reported: I never prayed behind an Imam who was more brief and more perfect in prayer than the Messenger of Allah ﷺ .
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ أَنَسٌ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِيِّ مَعَ أُمِّهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ فَيَقْرَأُ بِالسُّورَةِ الْخَفِيفَةِ أَوْ بِالسُّورَةِ الْقَصِيرَةِ
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ثابت بنانی، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز میں کسی بچے کی اپنی ماں کے پاس (فرض نماز میں شریک خاتوں کے پاس) رونے کی آواز سنتے تو چھوٹی سورت پڑھتے تھے۔
Anas reported: The Messenger of Allah ﷺ would listen to the crying of a lad in the company of his mother, in prayer, and he would recite a short surah or a small surah.
ائمہ کے لئے نماز پوری اور تخفیف کے ساتھ پڑھانے کے حکم کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَأَدْخُلُ الصَّلَاةَ أُرِيدُ إِطَالَتَهَا فَأَسْمَعُ بُکَائَ الصَّبِيِّ فَأُخَفِّفُ مِنْ شِدَّةِ وَجْدِ أُمِّهِ بِهِ
محمد بن منہال ضریر، یزید بن زریع، سعید بن ابوعروبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نماز شروع کرتا ہوں اور میرا ارادہ اس کی طوالت کا ہوتا ہے لیکن میں بچے کے رونے کی آواز سنتا ہوں تو میں نماز میں تخفیف کردیتا ہوں اس کی والدہ کی شدت تکلیف کی وجہ سے۔
Anas bin Malik (RA) reported the Messenger of Allah ﷺ having said: When I begin the prayer I intend to make it long, but I hear a boy crying; I then shorten it because of his mothers feelings.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ حَامِدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ رَمَقْتُ الصَّلَاةَ مَعَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ قِيَامَهُ فَرَکْعَتَهُ فَاعْتِدَالَهُ بَعْدَ رُکُوعِهِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ فَسَجْدَتَهُ فَجَلْسَتَهُ مَا بَيْنَ التَّسْلِيمِ وَالِانْصِرَافِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَائِ
حامد بن عمر بکراوی، ابوکامل، فضیل بن حسین جحدری، ابوعوانہ، ہلال بن ابی حمید، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرنے میں غور کیا تو میں نے آپ ﷺ کا قیام رکوع اور رکوع کے بعد اعتدال پھر سجدے میں پھر آپ ﷺ کا دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا پھر سجدہ اور اس کے بعد بیٹھنا سلام کے درمیان اور نماز سے فارغ ہونا تقریبا برابر تھے۔
Al-Bara bin Azib (RA) reported: I noticed the prayer of Muhammad ﷺ and saw his Qiyam (standing), his bowing, and then going back to the standing posture after bowing, his prostration, his sitting between the two prostrations, and his prostration and sitting between salutation and going away, all these were nearly equal to one another.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ غَلَبَ عَلَی الْکُوفَةِ رَجُلٌ قَدْ سَمَّاهُ زَمَنَ ابْنِ الْأَشْعَثِ فَأَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فَکَانَ يُصَلِّي فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ قَامَ قَدْرَ مَا أَقُولُ اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ قَالَ الْحَکَمُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی فَقَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُکُوعُهُ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ وَسُجُودُهُ وَمَا بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ قَرِيبًا مِنْ السَّوَائِ قَالَ شُعْبَةُ فَذَکَرْتُهُ لِعَمْرِو بْنِ مُرَّةَ فَقَالَ قَدْ رَأَيْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی فَلَمْ تَکُنْ صَلَاتُهُ هَکَذَا
عبیداللہ بن معاذ، عنبری، شعبہ، حضرت حکم ؓ سے روایت ہے کہ ابن الاشعث کے زمانہ میں ایک آدمی نے کوفہ پر غلبہ حاصل کیا تو ابوعیبدہ بن عبداللہ ؓ کو اس نے حکم دیا کہ لوگوں کو نماز پڑھائیں وہ نماز پڑھاتے تھے جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر کھڑے رہتے کہ میں یہ دعا پڑھ لیا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ مِلْئُ السَّمَاوَاتِ وَمِلْئُ الْأَرْضِ وَمِلْئُ مَا شِئْتَ مِنْ شَيْئٍ بَعْدُ أَهْلَ الثَّنَائِ وَالْمَجْدِ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْکَ الْجَدُّ اے اللہ تو اس تعریف کے لائق ہے جن سے تمام آسمان اور زمین اور جتنی جگہ تو چاہے بھر جائے تو ہی تعریف اور بڑائی کے لائق ہے جس کو تو کچھ عطا کرے اس سے کوئی چھین نہیں سکتا اور جس سے تو کوئی چیز لے لے اسے کوئی دے نہیں سکتا اور نہ کوئی کوشش تیرے مقابلہ میں کامیاب ہوسکتی ہے حکم کہتے ہیں میں نے یہ عبدالرحمن بن ابی لیلی سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا میں نے براء بن عازب سے سنا وہ فرماتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کا رکوع اور جب رکوع سے سر اٹھاتے اور آپ ﷺ کا سجدہ اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھنا تقریبا برابر برابر ہوتے تھے شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر عمرو بن مرہ سے کیا تو انہوں نے کہا میں نے ابن ابی لیلی کو دیکھا کہ ان کی نماز اس کیفیت کی نہ تھی۔
Hakam reported: There dominated in Kufa a man whose name was mentioned as Zaman bin al-Ashath, who ordered Abu Ubaidah bin Abdullah to lead people in prayer and he accordingly used to lead them. Whenever he raised his head after bowing, he stood up equal to the time that I can recite (this supplication): O Allah! our Lord! unto Thee be the praise which would fill the heavens and the earth, and that which will please Thee besides them. Worthy art Thou of all praise and glory. None can prevent that which Thou bestowest, and none can bestow that which Thou preventest. And the greatness of the great will not avail him against Thee. Hakam (the narrator) said: I made a mention of that to Abdul Rahman ibn Abi Laila who reported: I heard al-Bara bin Azib (RA) say that the prayer of the Messenger of Allah ﷺ and his bowing, and when he lifted his head from bowing, and his prostration, and between the two prostrations (all these acts) were nearly proportionate. I made a mention of that to Ar bin Murrah and he said: I saw Ibn Abi Laili (saying the prayer), but his prayer was not like this.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ أَنَّ مَطَرَ بْنَ نَاجِيَةَ لَمَّا ظَهَرَ عَلَی الْکُوفَةِ أَمَرَ أَبَا عُبَيْدَةَ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت حکم ؓ سے روایت ہے کہ جب مطر بن ناجیہ کوفہ پر غالب ہوا تو اس نے حضرت ابوعبیدہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے باقی حدیث مبارکہ پہلے گزر چکی ہے۔
Hakam reported: When Matar bin Najiya dominated Kufa he ordered Abu Ubaida to lead people in prayer, and the rest of the hadith is the same.
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ إِنِّي لَا آلُو أَنْ أُصَلِّيَ بِکُمْ کَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا قَالَ فَکَانَ أَنَسٌ يَصْنَعُ شَيْئًا لَا أَرَاکُمْ تَصْنَعُونَهُ کَانَ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ انْتَصَبَ قَائِمًا حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ السَّجْدَةِ مَکَثَ حَتَّی يَقُولَ الْقَائِلُ قَدْ نَسِيَ
خلف بن ہشام، حماد بن زید، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے انہوں نے کہا میں تم کو ایسی نماز پڑھانے میں کوتاہی نہیں کرتا جیسا کہ نبی ﷺ ہمیں نماز پڑھاتے تھے۔ حضرت انس ؓ جو عمل کرتے تھے وہ میں تم کو کرتے ہوئے نہیں دیکھتا جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تو سیدھے کھڑے ہوتے یہاں تک کہ کہنے والا کہتا کہ وہ بھول گئے ہیں، جب وہ سجدہ سے اپنا سر اٹھاتے تو ٹھہرتے، یہاں تک کہ کہنے والا کہتا ہے کہ وہ بھول چکے ہیں۔
Thabit reported it on the authority of Anas (RA) : While leading you in prayer I do not shorten anything in the prayer. I pray as I saw the Messenger of Allah ﷺ leading us. He (Thabit) said: Anas used to do that which I do not see you doing; when he lifted his head from bowing he stood up (so long) that one would say: He has forgotten (to bow down in prostration). And when he lifted his head from prostration, he stayed in that position, till someone would say: He has forgotten (to bow down in prostration for the second sajda).
ارکان میں میانہ روی اور پورا کرنے میں تخفیف کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ قَالَ مَا صَلَّيْتُ خَلْفَ أَحَدٍ أَوْجَزَ صَلَاةً مِنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي تَمَامٍ کَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَقَارِبَةً وَکَانَتْ صَلَاةُ أَبِي بَکْرٍ مُتَقَارِبَةً فَلَمَّا کَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ مَدَّ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ قَامَ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ ثُمَّ يَسْجُدُ وَيَقْعُدُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ حَتَّی نَقُولَ قَدْ أَوْهَمَ
ابوبکر بن نافع عبدی، بہز، حماد، ثابت، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ جیسی پوری نماز کسی کے پیچھے نہیں پڑھی رسول اللہ ﷺ کی نماز قریب قریب ہوتی تھی اور ابوبکر ؓ کی نماز بھی برابر برابر ہوتی تھی حضرت عمر ؓ بن خطاب فجر کی نماز بھی لمبی کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ جب سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو کھڑے ہوجاتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں پھر سجدہ کرتے اور دونوں سجدوں کے درمیان بیٹھتے یہاں تک کہ ہم کہتے کہ آپ ﷺ بھول گئے ہیں۔
Thabit reported it on the authority of Anas (RA) : I have never said such a light and perfect prayer as I said behind the Messenger of Allah ﷺ . The prayer of the Messenger. of Allah ﷺ was well balanced. And so too was the prayer of Abu Bakr (RA) well balanced. When it was the time of Umar bin al-Khattab he prolonged the morning prayer. When the Messenger of Allah ﷺ said: Allah listened to him who praised Him, he stood erect till we said: He has forgotten. He then prostrated and sat between two prostration till we said: He has forgotten.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ قَالَ حَدَّثَنِي الْبَرَائُ وَهُوَ غَيْرُ کَذُوبٍ أَنَّهُمْ کَانُوا يُصَلُّونَ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ لَمْ أَرَ أَحَدًا يَحْنِي ظَهْرَهُ حَتَّی يَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَبْهَتَهُ عَلَی الْأَرْضِ ثُمَّ يَخِرُّ مَنْ وَرَائَهُ سُجَّدًا
احمد بن یونس، زہیر، ابواسحاق یحییٰ بن یحیی، ابوخیثمہ، ابی اسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے اور وہ جھوٹے نہیں ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پیچھے نماز پڑھتے تھے جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے تو میں کسی کو بھی اپنی پیٹھ جھکاتے نہ دیکھتا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اپنا ماتھا زمین پر رکھتے پھر آپ ﷺ کے پیچھے سب لوگ سجدہ میں جاتے۔
Al-Bara (b. Azib), and he was no liar (but a truthful Companion of the Holy Prophet), reported: They used to say prayer behind the Messenger of Allah ﷺ . I never saw anyone bending his back at the time when he (the Holy Prophet) raised his head, till the Messenger of Allah ﷺ placed his forehead on the ground. They then fell in prostration after him.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنِي الْبَرَائُ وَهُوَ غَيْرُ کَذُوبٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ يَحْنِ أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی يَقَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاجِدًا ثُمَّ نَقَعُ سُجُودًا بَعْدَهُ
ابوبکر بن خلاد باہلی، یحییٰ بن سعید، سفیان، ابواسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ اور وہ جھوٹے نہیں ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فرماتے تو ہم سے کوئی اپنی کمر کو نہ جھکاتا تھا یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ سجدہ میں پہنچ جاتے پھر ہم آپ ﷺ کے بعد سجدہ میں جاتے۔
Al-Bara reported, and he was no liar: When the Messenger of Allah ﷺ said: Allah listened to him who praised Him, none of us bent his back till he (the Holy Prophet) prostrated; we then, afterwards, went down in prostration.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْمٍ الْأَنْطَاکِيُّ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَبُو إِسْحَقَ الْفَزَارِيُّ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يَقُولُا عَلَی الْمِنْبَرِ حَدَّثَنَا الْبَرَائُ أَنَّهُمْ کَانُوا يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَکَعَ رَکَعُوا وَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنْ الرُّکُوعِ فَقَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ لَمْ نَزَلْ قِيَامًا حَتَّی نَرَاهُ قَدْ وَضَعَ وَجْهَهُ فِي الْأَرْضِ ثُمَّ نَتَّبِعُهُ
محمد بن عبدالرحمن بن سہم، ابراہیم بن محمد، ابواسحاق، ابواسحاق شیبانی، محارب بن دثار، عبداللہ بن یزید، حضرت براء ؓ روایت ہے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز ادا کرتے جب آپ ﷺ رکوع کرتے وہ بھی رکوع کرتے جب آپ ﷺ رکوع سے سر اٹھاتے اور سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے تو ہم کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ ﷺ کو پیشانی زمین پر رکھتے ہوئے دیکھتے۔ پھر ہم آپ ﷺ کی پیروی کرتے۔
Al-Bara reported: They (the Companions) said prayer with the Messenger of Allah ﷺ , and they bowed when he (the Holy Prophet) bowed. And when he raised his head after bowing, he pronounced: "Allah listened to him who praised Him," and we kept standing till we saw him placing his face on the ground and then we followed him.
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ حَدَّثَنَا أَبَانُ وَغَيْرُهُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ الْبَرَائِ قَالَ کُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَحْنُو أَحَدٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی نَرَاهُ قَدْ سَجَدَ فَقَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ حَدَّثَنَا الْکُوفِيُّونَ أَبَانُ وَغَيْرُهُ قَالَ حَتَّی نَرَاهُ يَسْجُدُ
زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، ابان، حکم، عبدالرحمن بن ابی لیلی، حضرت براء بن عازب ؓ روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے تو ہم میں سے کوئی اپنی کمر کو نہیں جھکاتا تھا یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کو سجدہ کرتے دیکھ لیتے تھے۔
Al-Bara reported:
When we were (in prayer) with the Messenger of Allah Allah (صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) none of us benfft his back till we saw he prostrated. Zuhair and others reported:" till we saw him prostrating".
امام کی پیروی اور ہر رکن اس کے بعد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحْرِزُ بْنُ عَوْنِ بْنِ أَبِي عَوْنٍ حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ الْأَشْجَعِيُّ أَبُو أَحْمَدَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ سَرِيعٍ مَوْلَی آلِ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْفَجْرَ فَسَمِعْتُهُ يَقْرَأُ فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ وَکَانَ لَا يَحْنِي رَجُلٌ مِنَّا ظَهْرَهُ حَتَّی يَسْتَتِمَّ سَاجِدًا
محرز بن عون بن ابی عون، خلف بن خلیفہ، اشجعی، ابواحمد، ولید بن سریع، عمرو بن حریث، حضرت عمرو بن حریث ؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز فجر ادا کی تو میں نے آپ ﷺ سے سنا ( فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ الْجَوَارِ الْکُنَّسِ ) اور ہم میں کوئی آدمی اپنی کمر نہ جھکاتا تھا یہاں تک کہ آپ ﷺ پوری طرح سجدہ میں نہ چلے جاتے۔
Amr bin Huraith reported: I said the dawn prayer behind the Apostle ﷺ of ﷺ and heard him reciting: Nay. I call to witness the stars, running their courses and setting" (al-Quran, lxxxi. 15-16) and none of us bent his back till he completed prostration.