مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ سَعِيدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ أَوْ الْعَصْرِ فَقَالَ أَيُّکُمْ قَرَأَ خَلْفِي بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ قَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سعید، ابوعوانہ، قتادہ، زرارہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم کو ظہر اور عصر کی نماز پڑھائی آپ ﷺ نے فرمایا تم میں کون تھا جس نے میرے پیچھے ( سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی) پڑھی ایک شخص نے عرض کیا میں نے اس کو پڑھنے میں خیر اور بھلائی کے علاوہ کوئی ارادہ نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا میں نے جانا کہ تم میں سے کوئی مجھ سے قرأت میں الجھ رہا ہے۔
lmrin bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ led us in Zuhr or Asr prayer (noon or the afternoon prayer). (On concluding it) he said: Who recited behind me (the verses): Sabbih Isma Rabbik al-ala (Glorify the name of thy Lord, the Most High)? There upon a person said: It was I, but I intended nothing but goodness. I felt that some one of you was disputing with me in it (or he was taking out from my tongue what I was reciting), said the Holy Prophet ﷺ .
مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَی يُحَدِّثُ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ فَجَعَلَ رَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ بِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ أَيُّکُمْ قَرَأَ أَوْ أَيُّکُمْ الْقَارِئُ فَقَالَ رَجُلٌ أَنَا فَقَالَ قَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی ایک آدمی نے آپ ﷺ کے پیچھے (سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْأَعْلَی) پڑھی جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کس نے پڑھا یا فرمایا کون پڑھنے والا تھا؟ ایک آدمی نے عرض کی میں، تو آپ ﷺ نے فرمایا تحقیق میں نے گمان کیا کہ تم میں سے کوئی میری قرأت میں الجھن ڈال رہا ہے۔
Imran bin Husain reported: The Messenger of Allah ﷺ observed the Zuhr prayer and a person recited Sabbih Isma Rabbik al-ala (Glorify the name of thy Lord, the Most High) behind him. When he (the Holy Prophet) concluded the prayer he said: Who amongst you recited (the above-mentioned verse) or who amongst you was the reciter? A person said: It was I. Upon this he (the Holy Prophet) observed: I thought as if someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).
مقتدی کے لئے اپنے امام کے پیچھے بلند آواز سے قرأت کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّی الظُّهْرَ وَقَالَ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ بَعْضَکُمْ خَالَجَنِيهَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابوعروبہ، حضرت قتادہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ظہر کی نماز پڑھائی اور فرمایا تحقیق میں نے معلوم کیا کہ تم میں سے کوئی مجھے قرأت میں الجھا رہا ہے۔
This hadith has been narrated by Qatada with the same chain of transmitters that the Messenger of Allah ﷺ observed Zuhr prayer and said: I felt that someone amongst you was disputing with me (in what I was reciting).
بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ کِلَاهُمَا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَنَسٍ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، غندر، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر و عثمان ؓ کے ساتھ نماز ادا کی ہے اور میں نے ان میں کسی کو (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
Anas reported: I observed prayer along with the Messenger of Allah ﷺ and with Abu Bakr, Umar and Uthman (may Allah be pleased with all of them), but I never heard any one of them reciting Bismillah-ir-Rahman-ir-Rahim loudly.
بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ قَالَ شُعْبَةُ فَقُلْتُ لِقَتَادَةَ أَسَمِعْتَهُ مِنْ أَنَسٍ قَالَ نَعَمْ وَنَحْنُ سَأَلْنَاهُ عَنْهُ
محمد بن مثنی، ابوداؤد، شعبہ، حضرت انس ؓ سے یہی حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
Shubah reported it with the same chain of transmitters. with she addition of these words:" I said to Qatada (RA) : Did you hear it from Anas? He replied in the affirmative and added: We had inquired of him about it."
بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الرَّازِيُّ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ عَنْ عَبْدَةَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ کَانَ يَجْهَرُ بِهَؤُلَائِ الْکَلِمَاتِ يَقُولُ سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ وَعَنْ قَتَادَةَ أَنَّهُ کَتَبَ إِلَيْهِ يُخْبِرُهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ قَالَ صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ فَکَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ بِ الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا يَذْکُرُونَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ فِي أَوَّلِ قِرَائَةٍ وَلَا فِي آخِرِهَا
محمد بن مہران رازی، ولید بن مسلم، اوزعی، عبدہ، حضرت عبدہ ؓ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب ؓ ان کلمات کو بلند آواز سے پڑھتے تھے (سُبْحَانَکَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِکَ تَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالَی جَدُّکَ وَلَا إِلَهَ غَيْرُکَ ) حضرت انس ؓ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ ابوبکر و عمر و عثمان ؓ کے پیچھے نماز پڑھی وہ قرأت کو (الْحَمْد لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ) سے شروع کرتے تھے اور (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ) کو اول قرأت اور نہ آخر میں پڑھتے تھے۔
Abda reported: Umar bin al-Khattab used to recite loudly these words: Subhanak Allahumma wa bi hamdika wa tabarakasmuka wa taala jadduka wa la ilaha ghairuka [Glory to Thee,O Allah, and Thine is the Praise, and Blessed is Thy Name. and Exalted is Thy Majesty. and there is no other object of worship beside Thee]. Qatada informed in writing that Anas bin Malik (RA) had narrated to him: I observed prayer behind the Apostle of Allah ﷺ and Abu Bakr (RA) and Umar and Uthman. They started (loud recitation) with: Al-hamdu lillahi Rabb al-Alamin [All Praise is due to Allah, the Lord of the worlds] and did not recite Bismillah ir- Rahman-ir-Rahim (loudly) at the beginning of the recitation or at the end of it.
بسم اللہ کو بلند آواز سے پڑھنے والوں کی دلیل کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ أَخْبَرَنِي إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَذْکُرُ ذَلِکَ
محمد بن مہران، ولید بن مسلم، اوزاعی، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک ؓ ایک دوسری سند کے ساتھ بھی یہی حدیث روایت کی گئی ہے۔
It is reported on the authority of Abu Talha that he had heard Anas bin Malik (RA) narrating this.
سورت توبہ کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کا جز کہنے والوں کی دلیل کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ أَخْبَرَنَا الْمُخْتَارُ بْنُ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ الْمُخْتَارِ عَنْ أَنَسٍ قَالَ بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بَيْنَ أَظْهُرِنَا إِذْ أَغْفَی إِغْفَائَةً ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ مُتَبَسِّمًا فَقُلْنَا مَا أَضْحَکَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُنْزِلَتْ عَلَيَّ آنِفًا سُورَةٌ فَقَرَأَ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ ثُمَّ قَالَ أَتَدْرُونَ مَا الْکَوْثَرُ فَقُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ فَإِنَّهُ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ خَيْرٌ کَثِيرٌ هُوَ حَوْضٌ تَرِدُ عَلَيْهِ أُمَّتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ فَيُخْتَلَجُ الْعَبْدُ مِنْهُمْ فَأَقُولُ رَبِّ إِنَّهُ مِنْ أُمَّتِي فَيَقُولُ مَا تَدْرِي مَا أَحْدَثَتْ بَعْدَکَ زَادَ ابْنُ حُجْرٍ فِي حَدِيثِهِ بَيْنَ أَظْهُرِنَا فِي الْمَسْجِدِ وَقَالَ مَا أَحْدَثَ بَعْدَکَ
علی بن حجر سعدی، علی بن مسہر، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے درمیان تشریف فرما تھے کہ آپ ﷺ پر غفلت سی طاری ہوئی پھر آپ ﷺ نے مسکراتے ہوئے اپنا سر مبارک اٹھایا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ﷺ کو کس بات سے ہنسی آرہی تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا مجھ پر ابھی ایک سورت نازل ہوئی پھر (بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَاکَ الْکَوْثَرَ فَصَلِّ لِرَبِّکَ وَانْحَرْ إِنَّ شَانِئَکَ هُوَ الْأَبْتَرُ، ) پڑھا پھر فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ کوثر کیا ہے ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا وہ ایک نہر ہے مجھ سے میرے رب نے اس کا وعدہ کیا ہے اس میں بہت سی خوبیاں ہیں وہ ایک حوض ہے جس پر قیامت کے دن میری امت کے لوگ پانی پینے کے لئے آئیں گے اور اس کے برتنوں کی تعداد ستاروں کی تعداد کے برابر ہے ایک شخص کو وہاں سے ہٹا دیا جائے گا میں عرض کروں گا یا اللہ یہ میرا امتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا آپ ﷺ جانتے ہو کہ اس نے آپ ﷺ کے بعد نئی باتیں گھڑی تھیں، ابن حجر ؓ نے اس میں یہ اضافہ کیا کہ آپ ﷺ ہمارے درمیان مسجد میں تشریف فرما تھے اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا یہ وہ ہے جس نے آپ ﷺ کے بعد نئی باتیں نکال لی تھیں۔
Anas reported: One day the Messenger of Allah ﷺ was sitting amongst us that he dozed off. He then raised his head smilingly. We said: What makes you smile. Messenger of Allah? ﷺ He said: A Sura has just been revealed to me, and then recited: In the name of Allah, the Compassionate, the Merciful. Verily We have given thee Kauthar (fount of abundance). Therefore turn to thy Lord for prayer and offer sacrifice, and surely thy enemy is cut off (from the good). Then he (the Holy Prophet) said: Do you know what Kauthar is? We said: Allah and His Messenger know best. The Holy Prophet ﷺ said: It (Kauthar) is a canal which my Lord, the Exalted and Glorious has promised me, and there is an abundance of good in it. It is a cistern and my people would come to it on the Day of Resurrection, and tumblers there would be equal to the number of stars. A servant would be turned away from (among the people gathered there). Upon this I would say: My Lord, he is one of my people, and He (the Lord) would say: You do not know that he innovated new things (in Islam) after you. Ibn Hujr made this addition in the hadith: " He (the Holy Prophet) was sitting amongst us in the mosque, and He (Allah) said: (You dont know) what he innovated after you."
سورت توبہ کے علاوہ بسم اللہ کو قرآن کی ہر سورت کا جز کہنے والوں کی دلیل کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ أَخْبَرَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ عَنْ مُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ يَقُولُا أَغْفَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِغْفَائَةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ مُسْهِرٍ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ نَهْرٌ وَعَدَنِيهِ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فِي الْجَنَّةِ عَلَيْهِ حَوْضٌ وَلَمْ يَذْکُرْ آنِيَتُهُ عَدَدُ النُّجُومِ
ابوکریب، محمد بن علاء، ابن فضیل، مختار بن فلفل، انس بن مالک ؓ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر غفلت سی طاری ہوئی باقی حدیث گزر چکی ہے اس میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا کوثر جنت میں ایک نہر ہوگی جس کا اللہ نے میرے ساتھ وعدہ فرمایا ہے اور اس نہر پر ایک حوض ہے اور اس حدیث میں برتنوں کا ستاروں کی تعداد کے برابر ہونے کا ذکر نہیں ہے۔
Mukhtar bin Fulful reported that he had heard Anas bin Malik (RA) say that the Messenger of Allah ﷺ dozed off, and the rest of the hadith is the same as transmitted by Mushir except for the words that he (the Holy Prophet) said: It (Kauthar) is a canal which my Lord the Exalted and the Glorious has promised me in Paradise. There is a tank over it, but he made no mention of the tumblers like the number of the stars.
تکبیر تحریمہ کے بعد دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر سینہ سے نیچے ناف سے اوپر رکھنے اور سجدہ زمین پر دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے درمیان رکھنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ وَمَوْلًی لَهُمْ أَنَّهُمَا حَدَّثَاهُ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ أَنَّهُ رَأَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِينَ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ کَبَّرَ وَصَفَ هَمَّامٌ حِيَالَ أُذُنَيْهِ ثُمَّ الْتَحَفَ بِثَوْبِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَی عَلَی الْيُسْرَی فَلَمَّا أَرَادَ أَنْ يَرْکَعَ أَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ الثَّوْبِ ثُمَّ رَفَعَهُمَا ثُمَّ کَبَّرَ فَرَکَعَ فَلَمَّا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَفَعَ يَدَيْهِ فَلَمَّا سَجَدَ سَجَدَ بَيْنَ کَفَّيْهِ
زہیر بن حرب، عفان ہمام، محمد بن جحادہ، عبدالجبار بن وائل، علقمہ بن وائل بن حجر ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند کیا جب آپ ﷺ نماز میں داخل ہوئے تکیبر کہی اور ہمام نے بیان کیا کہ آپ ﷺ نے دونوں ہاتھ اپنے کانوں تک اٹھائے پھر آپ ﷺ نے چادر اوڑھ لی پھر دائیں ہاتھ بائیں ہاتھ کے اوپر رکھا جب آپ ﷺ نے رکوع کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو چادر سے نکالا پھر ان کو بلند کیا تکبیر کہہ کر رکوع کیا جب آپ نے (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہا) تو اپنے ہاتھوں کو بلند کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ اپنی دونوں ہتھیلیوں کے درمیان کیا۔
Wail bin Hujr reported: He saw the Apostle of Allah ﷺ raising his hands at the time of beginning the prayer and reciting takbir, and according to Hammam (the narrator), the hands were lifted opposite to ears. He (the Holy Prophet) then wrapped his hands in his cloth and placed his right hand over his left hand. And when he was about to bow down, he brought out his hands from the cloth, and then lifted them, and then recited takbir and bowed down, and when (he came back to the erect position) he recited: "Allah listened to him who praised Him." And when prostrates, he prostrated between the two palms.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نَقُولُ فِي الصَّلَاةِ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ إِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ فَإِذَا قَعَدَ أَحَدُکُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَقُلْ التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِذَا قَالَهَا أَصَابَتْ کُلَّ عَبْدٍ لِلَّهِ صَالِحٍ فِي السَّمَائِ وَالْأَرْضِ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَائَ
زہیر بن حرب، عثمان بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، جریر، منصور، ابو وائل، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں نماز میں (السَّلَامُ عَلَی اللَّهِ یا السَّلَامُ عَلَی فُلَانٍ ) کہتے تھے تو ایک دن ہم سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ بذات خود سلام ہے یعنی اللہ کی صفت سلام ہے جب تم میں سے کوئی نماز میں قعدہ میں بیٹھے تو اس کو چاہیے کہ (التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ) پڑھے جب کوئی یہ کلمہ کہے گا ( عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ ) پڑھے گا تو اس کا سلام اللہ کے ہر نیک بندے کو پہنچے گا آسمان و زمین میں۔ پھر (أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ) کہے پھر اس کو اختیار ہے جو چاہے دعا مانگے۔
Abdullah (b. Masud) said: While observing prayer behind the Messenger of Allah ﷺ we used to recite: Peace be upon Allah, peace be upon so and so. One day the Messenger of Allah ﷺ said to us: Verily Allah is Himself Peace. When any one of you sits during the prayer, he should say: "All services rendered by words, by acts of worship, and all good things are due to Allah. Peace be upon you, O Prophet, and Allahs mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allahs upright servants", for when he says this it reaches every upright servant in heaven and earth (and say further): I testify that there is no god but Allah and I testify that Muhammad is His servant and Messenger. Then he may choose any supplication which pleases him and offer it.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَائَ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور سے بھی اسی سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے کا جملہ نہیں ہے۔
Shubah has narrated this on the authority of Mansur with the same chain of transmitters, but he made no mention of this: "Then he may choose any supplication which pleases him."
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ مَنْصُورٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِهِمَا وَذَکَرَ فِي الْحَدِيثِ ثُمَّ لْيَتَخَيَّرْ بَعْدُ مِنْ الْمَسْأَلَةِ مَا شَائَ أَوْ مَا أَحَبَّ
عبد بن حمید، حسین جعفی، زائدہ، منصور سے ایک اور سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں ہے اس کے بعد اس کو اختیار ہے جو پسند کرے دعا مانگے۔
This hadith has been narrated on the authority of Mansur with the same chain of transmitters and he made a mention of this: "Then he may choose any supplication which pleases him or which he likes."
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ کُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَنْصُورٍ وَقَالَ ثُمَّ يَتَخَيَّرُ بَعْدُ مِنْ الدُّعَائِ
یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، اعمش، شقیق، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ قعدہ میں بیٹھے ہوئے تھے باقی حدیث منصور کی حدیث کی طرح ہے لیکن اس میں پسند کی دعا مانگنے کا ذکر نہیں ہے۔
Abdullah bin Masud reported: We were sitting with the Apostle ﷺ in prayer, and the rest of the hadith is the same as narrated by Mansur He (also said): After (reciting tashahud) he may choose any prayer.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُا عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ کَفِّي بَيْنَ کَفَّيْهِ کَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ وَاقْتَصَّ التَّشَهُّدَ بِمِثْلِ مَا اقْتَصُّوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابونعیم، سیف بن ابی سلیمان، مجاہد، عبداللہ بن سخبرہ، عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے تشہد سکھایا اس حال میں کہ میری ہتھیلی آپ ﷺ کی ہتھیلی کے درمیان میں تھی جیسے مجھے قرآن میں سے کوئی سورت سکھاتے تھے پھر تشہد کا پورا قصہ بیان کیا جیسا کہ انہوں نے بیان کیا۔
Ibn Masud is reported to have said: The Messenger of Allah ﷺ taught me tashahhud taking my hand within his palms, in the same way as he taught me a Sura of the Quran, and he narrated it as narrated above.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحِ بْنِ الْمُهَاجِرِ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ کَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ فَکَانَ يَقُولُ التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ کَمَا يُعَلِّمُنَا الْقُرْآنَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح بن مہاجر، لیث، ابوزبیر، سعید بن جبیر، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم کو تشہد اس طرح سکھاتے تھے جیسے ہمیں قرآن کی سورت سکھاتے تھے آپ ﷺ فرماتے ( التَّحِيَّاتُ الْمُبَارَکَاتُ الصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ لِلَّهِ ) تمام قولی، بدنی اور مالی عبادات اللہ کے لئے ہیں اے نبی! آپ ﷺ پر سلام ہو اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں نازل ہوں ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلام ہو، میں گواہی دیتا ہوں اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔
Ibn Abbas reported: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us tashahbud just as he used to teach us a Sura of the Quran, and he would say: All services rendered by words, acts of worship. and all good things are due to Allah. Peace be upon you,O Prophet. and Allahs mercy and blessings. Peace be upon us and upon Allahs upright servants. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Muhammad is the Messenger of Allah. In the narration of Ibn Rumb (the words are): "As he would teach us the Quran."
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعَلِّمُنَا التَّشَهُّدَ کَمَا يُعَلِّمُنَا السُّورَةَ مِنْ الْقُرْآنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، عبدالرحمن بن حمید، ابوزبیر، طاؤس، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تشہد اس طرح سکھاتے تھے جس طرح ہمیں قرآن کی سورت کی تعلیم دیتے تھے۔
Tawus narrated it on the authority of Ibn Abbas that he said: The Messenger of Allah ﷺ used to teach us tashahhud as he would teach us a Sura of the Quran.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کَامِلٍ قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ حِطَّانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيِّ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي مُوسَی الْأَشْعَرِيِّ صَلَاةً فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ قَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أُقِرَّتْ الصَّلَاةُ بِالْبِرِّ وَالزَّکَاةِ قَالَ فَلَمَّا قَضَی أَبُو مُوسَی الصَّلَاةَ وَسَلَّمَ انْصَرَفَ فَقَالَ أَيُّکُمْ الْقَائِلُ کَلِمَةَ کَذَا وَکَذَا قَالَ فَأَرَمَّ الْقَوْمُ ثُمَّ قَالَ أَيُّکُمْ الْقَائِلُ کَلِمَةَ کَذَا وَکَذَا فَأَرَمَّ الْقَوْمُ فَقَالَ لَعَلَّکَ يَا حِطَّانُ قُلْتَهَا قَالَ مَا قُلْتُهَا وَلَقَدْ رَهِبْتُ أَنْ تَبْکَعَنِي بِهَا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ أَنَا قُلْتُهَا وَلَمْ أُرِدْ بِهَا إِلَّا الْخَيْرَ فَقَالَ أَبُو مُوسَی أَمَا تَعْلَمُونَ کَيْفَ تَقُولُونَ فِي صَلَاتِکُمْ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَنَا فَبَيَّنَ لَنَا سُنَّتَنَا وَعَلَّمَنَا صَلَاتَنَا فَقَالَ إِذَا صَلَّيْتُمْ فَأَقِيمُوا صُفُوفَکُمْ ثُمَّ لْيَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوا وَإِذْ قَالَ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ فَقُولُوا آمِينَ يُجِبْکُمْ اللَّهُ فَإِذَا کَبَّرَ وَرَکَعَ فَکَبِّرُوا وَارْکَعُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَرْکَعُ قَبْلَکُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْکَ بِتِلْکَ وَإِذَا قَالَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فَقُولُوا اللَّهُمَّ رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ يَسْمَعُ اللَّهُ لَکُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قَالَ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ وَإِذَا کَبَّرَ وَسَجَدَ فَکَبِّرُوا وَاسْجُدُوا فَإِنَّ الْإِمَامَ يَسْجُدُ قَبْلَکُمْ وَيَرْفَعُ قَبْلَکُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتِلْکَ بِتِلْکَ وَإِذَا کَانَ عِنْدَ الْقَعْدَةِ فَلْيَکُنْ مِنْ أَوَّلِ قَوْلِ أَحَدِکُمْ التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
سعید بن منصور، قتیبہ بن سعید، ابوکامل، محمد بن عبدالملک، ابوکامل، ابوعوانہ، قتادہ، یونس بن جبیر، حطان بن عبداللہ، رقاشی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوموسی اشعری کے ساتھ نماز ادا کی جب وہ قعدہ کے قریب تھے تو ایک شخص نے کہاں نماز نیکی اور پاکیزگی کے ساتھ فرض کی گئی ہے جب حضرت ابوموسی اشعری نے نماز پوری کرلی اور سلام پھیر دیا تو فرمایا تم میں سے کس نے اس اس طرح کا یہ کلمہ کہا ہے لوگ خاموش رہے پھر فرمایا تم میں کون ایسا ایسا کلمہ کہنے والا ہے لوگ خاموش رہے تو فرمایا اے حطان شاید تو نے یہ کلمہ کہا ہو؟ میں نے عرض کی میں نے نہیں کہا میں تو آپ سے ڈرتا تھا کہ مجھ سے ناراض نہ ہوجائیں تو ایک آدمی نے کہا میں نے کہا ہے اور میں نے اس کے ساتھ صرف نیکی ہی کا ارادہ کیا ہے تو حضرت ابوموسی اشعری ؓ نے فرمایا تم نہیں جانتے کہ تم کو اپنی نماز میں کیا پڑھنا چاہئے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا اور ہمیں ہماری سنت واضح کی اور ہمیں نماز سکھائی اور فرمایا کہ جب تم نماز ادا کرو تو اپنی صفوں کو سیدھا کرو پھر تم میں سے کوئی تمہاری امامت کرے جب وہ تکبیر کہے تم تکبیر کہو اور جب وہ ( غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ) کہے تو تم آمین کہوتا کہ اللہ تم سے خوش ہو اور جب وہ تکبیر کہہ کر رکوع کرے تو تم بھی تکبیر کہہ کر رکوع کرو کیونکہ امام رکوع تم سے پہلے کرتا ہے اور رکوع سے تم سے پہلے اٹھتا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس طرح تمہارا عمل اس کے مقابلے میں ہوجائے گا اور جب وہ (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کہے تو تم (رَبَّنَا لَکَ الْحَمْدُ ) کہو اللہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے کیونکہ اللہ تبارک وتعالی نے اپنے نبی کریم ﷺ کی زبانی سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ فرمایا ہے جب وہ تکبیر کہہ کر سجدہ کرے تو تم بھی تکبیر کہو اور سجدہ کرو امام سجدہ تم سے پہلے کرتا ہے اور سجدہ سے تم سے پہلے اٹھتا ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارا یہ عمل امام کے مقابلہ میں ہوجائے گا اور جب وہ قعدہ میں بیٹھ جائے تو تمہارے قول میں سب سے پہلے یہ قول ہو (التَّحِيَّاتُ الطَّيِّبَاتُ الصَّلَوَاتُ لِلَّهِ السَّلَامُ عَلَيْکَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَکَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَی عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ )
Hattan bin Abdullah al-Raqiishi reported: I observed prayer with Abu Musu al-Ashari and when he was in the qadah, one among the people said: The prayer has been made obligatory along with piety and Zakat. He (the narrator) said: When Abu Musa had finished the prayer after salutation he turned (towards the people) and said: Who amongst you said such and such a thing? A hush fell on the people. He again said.. Who amongst you has said such and such a thing? A hush fell on the people. He (Abu Musa) said: Hattan, it is perhaps you that have uttered it. He (Hattan) said No. I have not uttered it. I was afraid that you might be annoyed with me on account of this. A person amongst the people said: It was I who said it, and in this I intended nothing but good. Abu Musa said: Dont you know what you have to recite in your prayers? Verily the Messenger of Allah ﷺ addressed us and explained to us all its aspects and taught us how to observe prayer (properly). He (the Holy Prophet) said: When you pray make your rows straight and let anyone amongst you act as your Imam. Recite the takbir when he recites it and when he recites: Not of those with whom Thou art angry nor of those who go astray, say: Amin. Allah would respond you. And when he (the Imam) recites the takbir, you may also recite the takbir, for the Imam bows before you and raises himself before you. Then the Messenger of Allah ﷺ said: The one is equivalent to the other. And when he says: Allah listens to him who praises Him, you should say: O Allah, our. Lord, to Thee be the praise, for Allah, the Exalted and Glorious, has vouchsafed (us) through the tongue of His Apostle ﷺ that Allah listens to him who praises Him. And when he (the Imam) recites the takbir and prostrates, you should also recite the takbir and prostrate, for the Imam prostrates before you and raises himself before you. The Messenger of Allah ﷺ said: The one is equivalent to the other. And when he (the Imam) sits for Qada (for tashahhud) the first words of every one amongst you should be: All services rendered by words, acts of worship and all good things are due to Allah. Peace be upon you,O Apostle, and Allahs mercy and blessings. Peace be upon us and upon the upright servants of Allah. I testify that there is no god but Allah, and I testify that Mubammad is His servant and His Messenger.
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ قَتَادَةَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ قَتَادَةَ مِنْ الزِّيَادَةِ وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ أَحَدٍ مِنْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ قَالَ عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ إِلَّا فِي رِوَايَةِ أَبِي کَامِلٍ وَحْدَهُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ قَالَ أَبُو بَکْرِ ابْنُ أُخْتِ أَبِي النَّضْرِ فِي هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ مُسْلِمٌ تُرِيدُ أَحْفَظَ مِنْ سُلَيْمَانَ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَکْرٍ فَحَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ فَقَالَ هُوَ صَحِيحٌ يَعْنِي وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا فَقَالَ هُوَ عِنْدِي صَحِيحٌ فَقَالَ لِمَ لَمْ تَضَعْهُ هَا هُنَا قَالَ لَيْسَ کُلُّ شَيْئٍ عِنْدِي صَحِيحٍ وَضَعْتُهُ هَا هُنَا إِنَّمَا وَضَعْتُ هَا هُنَا مَا أَجْمَعُوا عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، سعید بن ابی عروبہ، ابوغسان، معاذ بن ہشام، اسحاق بن ابراہیم، جریر، سلیمان، حضرت قتادہ ؓ سے تین مختلف اسانید سے یہی حدیث روایت کی گئی ہے لیکن اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو اور ان کی اس حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان پر سمع اللہ لمن حمدہ جاری فرما دیا ہے البتہ امام مسلم سے اس حدیث کی سند کے بارے میں ابونضر کے بھانجے ابوبکر نے گفتگو کی تو امام مسلم نے فرمایا سلیمان سے بڑھ کر زیادہ حافظہ والا کون ہوسکتا ہے یعنی یہ روایت صحیح ہے تو امام مسلم (رح) سے ابوبکر نے کہا کہ پھر حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث کا کیا حال ہے فرمایا مسلم نے وہ میرے نزدیک صحیح ہے یعنی جب امام قرأت کرے تو تم خاموش رہو تو اس نے کہا پھر آپ نے اس حدیث کو یہاں کیوں بیان نہیں کیا تو امام نے جواب دیا میں نے اس کتاب میں ہر اس حدیث کو نقل کیا جو میرے نزدیک صحیح ہو بلکہ اس میں میں نے ان احادیث کو نقل کیا ہے جس کی صحت پر سب کا اجماع ہو۔
Qatida has narrated a badith like this with another chain of transmitters. In the hadith transmitted by Jarir on the authority of Sulaiman, Qatidas further words are: When (the Qurin) is recited (in prayer), you should observe silence, and (the following words are) not found in the hadith narrated by anyone except by Abu Kamil who heard it from Abu Awina (and the words are): Verily Allah vouchsafed through the tongue of the Apostle of Allah ﷺ this: Allah listens to him who praises Him. Abu Ishaq (a student of Imam Muslim) said: Abu Bakr (RA) the son of Abu Nadrs sister has (critically) discussed this hadith. Imam Muslim said: Whom can you find a more authentic transmitter of hadith than Sulaiman? Abu Bakr (RA) said to him (Imam Muslim): What about the hadith narrated by Abd Hurairah, i. e. the hadith that when the Qurin is recited (in prayer) observe silence? He ( Abu Bakr (RA) again) said: Then, why. have you not included it (in your compilation)? He (Imam Muslim) said: I have not included in this every hadith which I deem authentic; I have recorded only such ahadith on which there is an agreement (amongst the Muhaddithin apart from their being authentic).
نماز میں تشہد کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَضَی عَلَی لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ
اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، عبدالرزاق، معمر قتادہ ایک اور سند سے یہی حدیث حضرت قتادہ سے روایت کی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کی زبان مبارک پر (سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ) کو جاری کردیا ہے۔
This hadith has been transmitted by Qatida with the same chain of transmitters (and the words are): "Allah, the Exalted and the Glorious, commanded it through the tongue of His Apostle ﷺ : Allah listens to him who praises Him."