Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 377 of 379

7532Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله يَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِيهِنَّ الْآيَةَ قَالَتْ هِيَ الْيَتِيمَةُ الَّتِي تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ لَعَلَّهَا أَنْ تَکُونَ قَدْ شَرِکَتْهُ فِي مَالِهِ حَتَّی فِي الْعَذْقِ فَيَرْغَبُ يَعْنِي أَنْ يَنْکِحَهَا وَيَکْرَهُ أَنْ يُنْکِحَهَا رَجُلًا فَيَشْرَکُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا

ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے اس فرمان (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَا ءِ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ ) 4 ۔ النساء : 127) ترجمہ پچھلی حدیث میں گزر چکا ہے کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی کہ جو کسی ایسے آدمی کے زیر تربیت ہو کہ وہ آدمی اس لڑکی کے مال میں شریک ہو اور پھر وہ آدمی اس لڑکی سے نہ خود نکاح کرنا چاہتا ہو اور نہ ہی اسے کسی اور سے نکاح کرنے دے تاکہ وہ اس کے مال میں شریک ہوجائے اور اسے اسی طرح لٹکائے رکھے۔

Hisham reported that Aisha said in connection with the words of Allah: "They ask thee the religious verdict about women, say: Allah gives you the verdict about them" (iv. 126), that these relate to an orphan girl who is in custody of the person and she shares with him in his property (as a heir) even in the date-palm trees and he is reluctant to give her hand in marriage to any other person lest he (her husband) should partake of his property, and thus keep her in a lingering state.

7533Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله وَمَنْ کَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ الَّذِي يَقُومُ عَلَيْهِ وَيُصْلِحُهُ إِذَا کَانَ مُحْتَاجًا أَنْ يَأْکُلَ مِنْهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ) 4 ۔ النساء : 6) اور جو حاجت مند ہو تو وہ دستور کے مطابق کھالے۔ اس کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر کسی یتیم کے مال کا ولی ایسا آدمی ہو کہ جو اس کی سرپرستی بھی کرتا ہو اور اس کے مال کی دیکھ بھال بھی کرتا ہو تو اگر وہ محتاج ہو تو وہ اس کے مال میں سے انصاف کے ساتھ کچھ کھا سکتا ہے۔

Hisham reported on the authority of his father that Aisha said in connection with His (Allahs) words: "And whoever is poor let him take reasonably (out of it)" that it was revealed in connection with the custodian of the property of an orphan, who is in charge of her and looks after her; In case he is poor, he is allowed to eat out of that.

7534Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله تَعَالَی وَمَنْ کَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ وَمَنْ کَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي وَلِيِّ الْيَتِيمِ أَنْ يُصِيبَ مِنْ مَالِهِ إِذَا کَانَ مُحْتَاجًا بِقَدْرِ مَالِهِ بِالْمَعْرُوفِ

ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَمَنْ كَانَ فَقِيْرًا فَلْيَاْكُلْ بِالْمَعْرُوْفِ ) 4 ۔ النساء : 6) یعنی جو آدمی غنی ہو تو وہ بچے اور جو حاجت مند ہو تو وہ دستور کے مطابق کھالے۔ ولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اگر یتیم کا ولی اس یتیم کے مال کا ضرورت مند ہو تو وہ اس کے مال میں سے بقدر ضرورت دستور کے مطابق لے سکتا ہے۔

Aisha reported in connection with the words of Allah, the Exalted: "He who is rich should abstain, and he who is poor may reasonably eat (out of it)" that this was revealed in relation to the guardian of an orphan who is poor; he may get out of that what is reasonable keeping in view his own status of solvency.

7535Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابوکریب، ابن نمیر، حضرت ہشام اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.

7536Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ إِذْ جَائُوکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتْ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ قَالَتْ کَانَ ذَلِکَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (إِذْ جَائُوکُمْ مِنْ فَوْقِکُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنْکُمْ وَإِذْ زَاغَتْ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتْ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ ) جب چڑھ آئے تم پر اوپر کی طرف سے اور نیچے سے اور جب بدلنے لگیں آنکھیں اور پہنچے دل گلوں تک، (الاحزاب) کے بارے میں فرماتی ہیں کہ اس سے مراد غزوہ خندق کا منظر ہے۔

Aisha reported that these words of Allah: "When they came upon you from above you and from below you and when the eyes turned dull and the hearts rose up to the throats" (xxxiii. 10) pertain to the day of Ditch.

7537Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ وَإِنْ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا الْآيَةَ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَطُولُ صُحْبَتُهَا فَيُرِيدُ طَلَاقَهَا فَتَقُولُ لَا تُطَلِّقْنِي وَأَمْسِکْنِي وَأَنْتَ فِي حِلٍّ مِنِّي فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ (وَإِنْ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا) 4 ۔ النساء : 128) اگر کوئی عورت اپنے شوہر کی طرف سے زیادتی یا بےرغبتی کا خوف محسوس کرے اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو کسی آدمی کے پاس ہو اور بڑی لمبی مدت سے اس کے پاس رہی ہو اور اب وہ اسے طلاق دینا چاہتا ہو تو یہ عورت کہتی ہو کہ مجھے طلاق نہ دے اور مجھے اپنے پاس روکے رکھو اور میری طرف سے تجھے دوسری عورت کے پاس رہنے کی یعنی نکاح کرنے کی اجازت ہے۔

Aisha said in connection with the verse: "And if a woman has reason to fear ill-treatment from her husband or that he might turn away from her" (iv. 128) that it was revealed in case of a woman who had long association with a person (as his wife) and now he intends to divorce her and she says: Do not divorce me, but retain me (as wife in your house) and you are permitted to live with another wife. It is in this context that this verse was revealed.

7538Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ وَإِنْ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا قَالَتْ نَزَلَتْ فِي الْمَرْأَةِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَلَعَلَّهُ أَنْ لَا يَسْتَکْثِرَ مِنْهَا وَتَکُونُ لَهَا صُحْبَةٌ وَوَلَدٌ فَتَکْرَهُ أَنْ يُفَارِقَهَا فَتَقُولُ لَهُ أَنْتَ فِي حِلٍّ مِنْ شَأْنِي

ابوکریب، ابواسامہ، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَإِنْ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا) 4 ۔ النساء : 128) کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس عورت کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو کسی آدمی کے پاس ہو اور وہ آدمی اس کے پاس نہ رہنا چاہتا ہو اور اس عورت سے اولاد بھی ہو اور عورت اس مرد سے علیحدگی کرنا پسند کرتی ہو تو وہ عور رت اپنے شوہر سے کہے کہ میری طرف سے تجھے دوسرے نکاح کی اجازت ہے۔

Aisha said in connection with these words of Allah, the Exalted and Glorious: "And if a woman has reason to fear ill-treatment from her husband or that he might turn away from her" that it was revealed in case of a woman who lived with a person and perhaps he does not want to prolong (his relationship with her) whereas she has had sexual relationship with him (and as a result thereof) she got a child from him and she does not like that she should be divorced, so she says to him: I permit you to live with the other wife.

7539Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ لِي عَائِشَةُ يَا ابْنَ أُخْتِي أُمِرُوا أَنْ يَسْتَغْفِرُوا لِأَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَبُّوهُمْ

یحییٰ بن یحیی، ابومعاویہ، حضرت ہشام (رض) بن عروہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے مجھ سے فرمایا اے بھانجے (لوگوں کو اس بات کا) حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی ﷺ کے صحابہ کے لئے استغفار کریں لیکن لوگوں نے صحابہ کرام کو برا کہا۔

Urwa reported on the authority of his father that Aisha said to him: O, the son of my sister, the Muslims were commanded to seek forgiveness for the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but they reviled him.

7540Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، حضرت ہشام (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Usama with the same chain of narrators.

7541Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ النُّعْمَانِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْکُوفَةِ فِي هَذِهِ الْآيَةِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ فَرَحَلْتُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْهَا فَقَالَ لَقَدْ أُنْزِلَتْ آخِرَ مَا أُنْزِلَ ثُمَّ مَا نَسَخَهَا شَيْئٌ

عبیداللہ بن معاذ عنبری، ابی شعبہ، مغیرہ بن نعمان، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ کوفہ والوں نے اس آیت کریمہ جو آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کا بدلہ جہنم ہے، کے بارے میں اختلاف کیا تو میں حضرت ابن عباس (رض) کی طرف گیا اور میں نے اس بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا یہ آیت کریمہ آخر میں نازل ہوئی ہے اور پھر کسی اور آیت نے اس آیت کو منسوخ نہیں کیا۔

Said bin Jubair reported: The inhabitants of Kufa differed in regard to this verse: "But whoever slays another believer intentionally, his requital shall be Hell" (iv. 92), so I went to Ibn Abbas and asked him about it, whereupon he said: This has been revealed and nothing abrogated it.

7542Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي حَدِيثِ ابْنِ جَعْفَرٍ نَزَلَتْ فِي آخِرِ مَا أُنْزِلَ وَفِي حَدِيثِ النَّضْرِ إِنَّهَا لَمِنْ آخِرِ مَا أُنْزِلَتْ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، اسحاق بن ابراہیم، نضر، حضرت شعبہ (رض) اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں صرف لفظی فرق ہے ترجمہ ایک ہی ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with the same chain of narrators but with a slight variation of wording.

7543Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ أَمَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبْزَی أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا فَسَأَلْتُهُ فَقَالَ لَمْ يَنْسَخْهَا شَيْئٌ وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ قَالَ نَزَلَتْ فِي أَهْلِ الشِّرْکِ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے عبدالرحمن بن ابزی نے حکم فرمایا کہ میں حضرت ابن عباس (رض) سے ان دو آیات کریمہ کے بارے میں پوچھوں (ایک آیت کریمہ یہ ہے) (وَمَنْ يَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَا ؤُه جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِيْھَا) 4 ۔ النساء : 93) اور جو آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے گا تو اس کا بدلہ جہنم ہے اور وہ اس میں ہمیشہ رہے گا، میں نے اس آیت کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا اس آیت کو کسی اور آیت کریمہ نے منسوخ نہیں کیا اور اس آیت کریمہ (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ) 25 ۔ الفرقان : 68) وہ لوگ کہ نہیں پکارتے اللہ کے ساتھ دوسرے حاکم کو اور نہیں قتل کرتے جان کو جو منع کردی اللہ نے مگر جہاں چاہے، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت کریمہ مشرکوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔

Said bin Jubair reported: Abd al Rahman bin Abzi commanded me that I should ask Ibn Abbas about these two verses: "He who slays a believer intentionally his requital shall be Hell where he would abide for ever" (iv. 92). So, I asked him and he said: Nothing has abrogated it. And as for this verse: "And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden, except in the cause of justice" (xxv. 68), he ( Ibn Abbas (RA) ) said: This has been revealed in regard to the polytheists."

7544Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ اللَّيْثِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ بِمَکَّةَ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَی قَوْله مُهَانًا فَقَالَ الْمُشْرِکُونَ وَمَا يُغْنِي عَنَّا الْإِسْلَامُ وَقَدْ عَدَلْنَا بِاللَّهِ وَقَدْ قَتَلْنَا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ وَأَتَيْنَا الْفَوَاحِشَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَّا مَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِي الْإِسْلَامِ وَعَقَلَهُ ثُمَّ قَتَلَ فَلَا تَوْبَةَ لَهُ

ہارون بن عبداللہ، ابونضر، ہاشم بن قاسم لیثی، ابومعاویہ، شیبان، منصور بن معتمر، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ یہ آیت کریمہ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ آخر سے مُهَانًا تک مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا کہ پھر ہمیں مسلمان ہونے کا کیا فائدہ کیونکہ ہم نے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو بھی شریک کیا ہوا ہے اور ناحق قتل بھی کئے ہیں جب کہ اللہ تعالیٰ نے قتل کرنا حرام کیا تھا اور ہم نے دوسرے برے کام بھی کئے تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی (اِلَّا مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا) 25 ۔ الفرقان : 70 سوائے اس کے جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور نیک اعمال کئے آخر آیت تک، حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ جو آدمی اسلام میں داخل ہوجائے اور اسلامی تعلیمات کو سمجھ لے پھر اس کے بعد ناحق کسی کو قتل کرے تو اب اس کی کوئی توبہ قبول نہیں۔

Ibn Abbas said: This verse was revealed in Makkah: "And they who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" up to the word Muhdana (abased). Thereupon the polytheists said: Islam is of no avail to us for we have made peer with Allah and we killed the soul which Allah had forbidden to do and we committed debauchery, and it was (on this occasion) that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "Except him who repents and believes and does good deeds" up to the end Ibn Abbas says: He who enters the fold of Islam and understands its command and then kills the soul there is no repentance for him.

7545Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ بْنُ أَبِي بَزَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَلِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا مِنْ تَوْبَةٍ قَالَ لَا قَالَ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ هَذِهِ آيَةٌ مَکِّيَّةٌ نَسَخَتْهَا آيَةٌ مَدَنِيَّةٌ وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ هَاشِمٍ فَتَلَوْتُ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةَ الَّتِي فِي الْفُرْقَانِ إِلَّا مَنْ تَابَ

عبداللہ بن ہاشم، عبدالرحمن بن بشر عبدی، یحییٰ ابن سعید قطان، ابن جریج، قاسم بن ابی بزہ، حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے پوچھا کہ اگر کوئی آدمی کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو کیا اس کی توبہ قبول ہوسکتی ہے ؟ حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا نہیں، حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ پھر میں نے حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے یہ آیت کریمہ تلاوت کی (وَالَّذِيْنَ لَا يَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰ هًا اٰخَرَ وَلَا يَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِيْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ ) 25 ۔ الفرقان : 68) اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو نہیں پکارتے اور اس جان کو ناحق قتل نہیں کرتے کہ جس کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے آخر تک، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ آیت کریمہ مکہ میں نازل ہوئی اور مدینہ منورہ میں نازل ہونے والی آیت کریمہ ومن یقتل مومنا نے اس کو منسوخ کردیا ہے اور ابن ہاشم کی روایت میں ہے کہ پھر میں نے حضرت ابن عباس (رض) کے سامنے سورت الفرقان کی یہ آیت کریمہ ( إِلَّا مَنْ تَابَ ) تلاوت کی۔

Said bin Jubair reported: I said to Ibn Abbas (RA) : Will the repentance of that person be accepted who kills a believer intentionally? He said: No. I recited to him this verse of Sura al-Furqan (xix.): "And those who call not upon another god with Allah and slay not the soul which Allah has forbidden except in the cause of justice" to the end of the verse. He said: This is a Makkahn verse which has been abrogated by a verse revealed at Madinah: "He who slays a believer intentionally, for him is the requital of Hell-Fire where he would abide forever," and in the narration of Ibn Hisham (the words are): I recited to him this verse of Sura al-Furqan: "Except one who made repentance."

7546Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ قَالَ قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ تَعْلَمُ وَقَالَ هَارُونُ تَدْرِي آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ مِنْ الْقُرْآنِ نَزَلَتْ جَمِيعًا قُلْتُ نَعَمْ إِذَا جَائَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ قَالَ صَدَقْتَ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ تَعْلَمُ أَيُّ سُورَةٍ وَلَمْ يَقُلْ آخِرَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ہارون بن عبداللہ، عبد بن حمید، عبد، جعفر بن عون، ابوعمیس (رض) ، عبدالمجید بن سہیل، حضرت عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں علم ہے کہ قرآن مجید کی سب سے آخری سورت جو ایک ہی مرتبہ نازل ہوئی ہے ؟ میں نے کہا جی ہاں (إِذَا جَآءَ نَصْرُ اللَّهِ ) النصر : 1) ، حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا تو نے سچ کہا اور ابن شیبہ کی روایت میں انہوں نے آخر کا لفظ نہیں کہا۔

Ubaidullah bin Abdullah bin Utba reported: Ibn Abbas (RA) said to me: Do you know-and in the words of Harun (another narrator): Are you aware of-the last Sura which was revealed in the Quran as a whole? I said: Yes, "When came the help from Allah and the victory" (cx.). Thereupon, he said: You have told the truth. And in the narration of Abu Shaiba (the words are): Do you know the Sura? And he did not mention the words "the last one".

7547Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ آخِرَ سُورَةٍ وَقَالَ عَبْدِ الْمَجِيدِ وَلَمْ يَقُلْ ابْنِ سُهَيْلٍ

اسحاق بن ابراہیم، ابومعاویہ، حضرت ابوعمیس (رض) اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت بیان کرتے ہیں اور اس میں انہوں نے آخری سورت کے الفاظ کہے ہیں اور اس میں انہوں نے عبدالمجید کہا ہے اور ابن سبیل نہیں کہا۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Umais through the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7548Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ عَطَائٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَقِيَ نَاسٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ رَجُلًا فِي غُنَيْمَةٍ لَهُ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْکُمْ فَأَخَذُوهُ فَقَتَلُوهُ وَأَخَذُوا تِلْکَ الْغُنَيْمَةَ فَنَزَلَتْ وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَی إِلَيْکُمْ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا وَقَرَأَهَا ابْنُ عَبَّاسٍ السَّلَامَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، احمد بن عبدہ ضبی، ابن ابی شیبہ، سفیان، عمرو، عطاء، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں نے ایک آدمی کو کچھ بکریوں میں دیکھا تو اس نے کہا السلام علیکم تو مسلمانوں نے اسے پکڑ کر قتل کردیا اور اس کی بکریاں پکڑ لیں، تو پھر یہ آیت نازل ہوئی (وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا) 4 ۔ النسآء : 94) جو کوئی تم سے سلام کرے تو تم اسے یہ نہ کہو کہ تو مسلمان نہیں ہے حضرت ابن عباس (رض) نے اس آیت میں سلم کی بجائے السلام پڑھا ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported that some Muslims met a person with a small flock of sheep. He said: As-Salam-o-Alaikum. They caught hold of him and killed him and took possession of his flock. Then this verse was revealed: "He who meets you and extends you salutations, dont say: You are not a Muslim" (iv. 94). Ibn Abbas, however, recited the word as-Salam instead of "as-Salam".

7549Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ يَقُولَ کَانَتْ الْأَنْصَارُ إِذَا حَجُّوا فَرَجَعُوا لَمْ يَدْخُلُوا الْبُيُوتَ إِلَّا مِنْ ظُهُورِهَا قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فَدَخَلَ مِنْ بَابِهِ فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِکَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، غندر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ انصاری لوگ جب حج کر کے واپس آتے تھے تو وہ گھروں میں دروازوں سے داخل نہ ہوتے بلکہ اپنے گھروں کے پیچھے سے آتے حضرت برا فرماتے ہیں کہ ایک انصاری آدمی آیا تو وہ اپنے گھر کے دروازے سے داخل ہوا تو اس کو اس بارے میں کہا گیا (کہ پیچھے سے آؤ) تو یہ آیت نازل ہوئی (وَلَيْسَ الْبِرُّ بِاَنْ تَاْتُوا الْبُيُوْتَ مِنْ ظُهُوْرِھَا) 2 ۔ البقرۃ : 189) یہ کوئی نیکی کی بات نہیں کہ اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے آؤ۔

Bara reported: When the Ansar performed the Pilgrimage, they did not enter their houses but from behind. A person from the Ansar came and he began to enter from his door but it was said to him (why he was doing something in contravention to the common practice of coming to the houses from behind). Then this verse was revealed. "Piety is not that you come to the doors from behind" (ii. 189).

7550Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کیا وقت نہیں آیا ان کے لئے جو ایمان لائے کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ تعالیٰ کی یاد سے کے بیان میں

حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی الصَّدَفِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلَالٍ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ قَالَ مَا کَانَ بَيْنَ إِسْلَامِنَا وَبَيْنَ أَنْ عَاتَبَنَا اللَّهُ بِهَذِهِ الْآيَةِ أَلَمْ يَأْنِ لِلَّذِينَ آمَنُوا أَنْ تَخْشَعَ قُلُوبُهُمْ لِذِکْرِ اللَّهِ إِلَّا أَرْبَعُ سِنِينَ

یونس بن عبدالاعلی صدفی، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، سعید بن ابی ہلال، عون بن عبداللہ، حضرت ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ جب سے ہم اسلام لائے اس وقت سے لے کر اس آیت ( اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ ) 27 ۔ الحدید : 16) کیا وقت نہیں آیا ان کے لئے جو ایمان لائے کہ گڑگڑائیں ان کے دل اللہ کی یاد سے، (الحدید) کے نزول تک چار سال کا عرصہ گزرا ہے اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر عتاب فرمایا ہے۔

Ibn Masud said: Since our acceptance of Islam and the revelation of this verse in which Allah has shown annoyance to us: "Has not the time yet come for the believers that their hearts should be humble for the remembrance of Allah?" (lvii. 16), there was a gap of four years.

7551Sahih Muslimصحیح

اللہ تعالیٰ کے فرمان لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَتْ الْمَرْأَةُ تَطُوفُ بِالْبَيْتِ وَهِيَ عُرْيَانَةٌ فَتَقُولُ مَنْ يُعِيرُنِي تِطْوَافًا تَجْعَلُهُ عَلَی فَرْجِهَا وَتَقُولُ الْيَوْمَ يَبْدُو بَعْضُهُ أَوْ کُلُّهُ فَمَا بَدَا مِنْهُ فَلَا أُحِلُّهُ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ خُذُوا زِينَتَکُمْ عِنْدَ کُلِّ مَسْجِدٍ

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، سلمہ بن کہیل، مسلم، سعید بن جبیر حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت ننگے ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا کرتی تھی اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتی چلی جاتی کہ کون ہے جو مجھے ایک کپڑا دیتا اور اسے میں اپنی شرمگاہ پر ڈال لیتی اور پھر وہ کہتی کہ آج کے دن کھل جائے کچھ یا سارا اور پھر جو کھل جائے گا تو میں اسے کبھی حلال نہیں کروں گی، تو پھر یہ آیت نازل ہوئی (خُذُوْا زِيْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ ) 7 ۔ الأعراف : 31) لے لو اپنی آرائش ہر نماز کے وقت۔

Ibn Abbas (RA) reported: During the pre-Islamic days women circumambulated the Ka’bah nakedly, and said: Who would provide cloth to cover the one who is circumambulating the Ka’bah so that she would cover her private parts? And then she would say: Today will be exposed the whole or the part and what is exposed I shall not make it lawful. It was in this connection that the verse was revealed: "Adorn yourself at every place of worship" (vii. 31).