Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 376 of 379

7512Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَتَقَارَبَا فِي لَفْظِ الْحَدِيثِ وَالسِّيَاقُ لِهَارُونَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ مُجَاهِدٍ أَبِي حَزْرَةَ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الْوَلِيدِ بْنِ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ خَرَجْتُ أَنَا وَأَبِي نَطْلُبُ الْعِلْمَ فِي هَذَا الْحَيِّ مِنْ الْأَنْصَارِ قَبْلَ أَنْ يَهْلِکُوا فَکَانَ أَوَّلُ مَنْ لَقِينَا أَبَا الْيَسَرِ صَاحِبَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ غُلَامٌ لَهُ مَعَهُ ضِمَامَةٌ مِنْ صُحُفٍ وَعَلَی أَبِي الْيَسَرِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ وَعَلَی غُلَامِهِ بُرْدَةٌ وَمَعَافِرِيَّ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا عَمِّ إِنِّي أَرَی فِي وَجْهِکَ سَفْعَةً مِنْ غَضَبٍ قَالَ أَجَلْ کَانَ لِي عَلَی فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْحَرَامِيِّ مَالٌ فَأَتَيْتُ أَهْلَهُ فَسَلَّمْتُ فَقُلْتُ ثَمَّ هُوَ قَالُوا لَا فَخَرَجَ عَلَيَّ ابْنٌ لَهُ جَفْرٌ فَقُلْتُ لَهُ أَيْنَ أَبُوکَ قَالَ سَمِعَ صَوْتَکَ فَدَخَلَ أَرِيکَةَ أُمِّي فَقُلْتُ اخْرُجْ إِلَيَّ فَقَدْ عَلِمْتُ أَيْنَ أَنْتَ فَخَرَجَ فَقُلْتُ مَا حَمَلَکَ عَلَی أَنْ اخْتَبَأْتَ مِنِّي قَالَ أَنَا وَاللَّهِ أُحَدِّثُکَ ثُمَّ لَا أَکْذِبُکَ خَشِيتُ وَاللَّهِ أَنْ أُحَدِّثَکَ فَأَکْذِبَکَ وَأَنْ أَعِدَکَ فَأُخْلِفَکَ وَکُنْتَ صَاحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکُنْتُ وَاللَّهِ مُعْسِرًا قَالَ قُلْتُ آللَّهِ قَالَ اللَّهِ قُلْتُ آللَّهِ قَالَ اللَّهِ قُلْتُ آللَّهِ قَالَ اللَّهِ قَالَ فَأَتَی بِصَحِيفَتِهِ فَمَحَاهَا بِيَدِهِ فَقَالَ إِنْ وَجَدْتَ قَضَائً فَاقْضِنِي وَإِلَّا أَنْتَ فِي حِلٍّ فَأَشْهَدُ بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ وَوَضَعَ إِصْبَعَيْهِ عَلَی عَيْنَيْهِ وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَی مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ مَنْ أَنْظَرَ مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْهُ أَظَلَّهُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ

ہارون بن معروف، محمد بن عباد، ہارون، حاتم ابن اسماعیل، یعقوب بن مجاہد، ابی حزرہ عباد بن ولید بن حضرت عبادہ بن صامت (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں اور میرا باپ علم کے حصول کے لئے قبیلہ حی میں گئے یہ اس قبیلہ کی ہلاکت سے پہلے کی بات ہے تو سب سے پہلے ہماری ملاقات رسول اللہ ﷺ کے صحابی حضرت ابوالیسر سے ہوئی حضرت ابوالیسر کے ساتھ ان کا غلام بھی تھا جس کے پاس صحیفوں کا ایک بستہ تھا حضرت ابوالیسر ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے اور مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھے اور حضرت ابوالیسر کے غلام پر بھی ایک چادر تھی اور وہ بھی مغافری کپڑے پہنے ہوئے تھا (حضرت عبید اللہ) فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے ان سے کہا اے چچا میں آپ کے چہرے پر ناراضگی کے اثرات دیکھ رہا ہوں انہوں نے فرمایا فلاں بن فلاں حرامی کے اوپر میرا کچھ مال تھا میں اس کے گھر گیا اور میں نے سلام کیا اور میں نے کہا کیا کوئی شخص ہے ؟ گھر والوں نے کہا نہیں اسی دوران جفر کا بیٹا باہر نکلا میں نے اس سے پوچھا تیرا باپ کہاں ہے اس نے کہا آپ کی آواز سن کر میری ماں کے چھپر کھٹ میں داخل ہوگیا ہے پھر میں نے کہا میری طرف باہر نکل مجھے معلوم ہوگیا ہے کہ تو کہاں ہے پھر وہ باہر نکلا تو میں نے اس سے کہا تو مجھ سے چھپا کیوں تھا اس نے کہا اللہ کی قسم میں آپ سے بیان کرتا ہوں اور آپ سے جھوٹ نہیں کہوں گا کہ اللہ کی قسم مجھے آپ سے جھوٹ کہتے ہوئے ڈر لگا اور مجھے آپ سے وعدہ کرنے کے بعد اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خوف معلوم ہوا کیونکہ آپ رسول اللہ کے صحابی ہیں اور اللہ کی قسم میں ایک تنگ دست آدمی ہوں حضرت ابوالیسر فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تو اللہ کو حاظر وناظر جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے فرمایا کیا تو اللہ کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کر حاضر وناظر جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے پھر فرمایا کیا تو اللہ کو حاضر وناظر جان کر کہتا ہے اس نے کہا میں اللہ کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں حضرت ابوالیسر نے وہ کاغذ (جس پا قرض لکھا ہوا تھا) منگوا کر اپنے ہاتھ سے اسے مٹا دیا اور فرمایا اگر تو (مال) پائے تو اسے ادا کردینا ورنہ میں تجھے معاف کرتا ہوں اپنی آنکھوں پر دو انگلیاں رکھ کر فرمایا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میری ان آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے اس کو یاد رکھا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں جو آدمی کسی تنگ دست کو مہلت دے یا اس سے اس کا قرض معاف کر دے تو اللہ تعالیٰ اسے اپنے سائے میں جگہ عطا فرمائے گا۔

Ubadahb. Walid bin Samit reported: I and my father set out in search of knowledge to a tribe of the Ansar before their death (i. e. before the Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) left the world) and I was the first to meet Abu Yasar, a Companion of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and there was a young man with him who carried the record of letters with him and there was a mantle prepared by the tribe of Maafiri upon him. And his servant too had a Maafiri mantle over him. My father said to him: My uncle, I see the signs of anger or that of agony on your face. He said: Yes, such and such person, the son of so and so, of the tribe of Harami owed me a debt. I went to his family, extended salutations and said: Where is he? They said: He is not here. Then came out to me his son who was at the threshold of his youth. I said to him: Where is your father? He said: No sooner did he hear your sound than he hid himself behind my mothers bedstead. I said to him: Walk out to me, for I know where you are. He came out. I said to him: What prompted you to hide yourself from me? He said: By God, whatever I would say to you would not be a lie. By Allah, I fear that I should tell a lie to you and in case of making promise with you I should break it, as you are the Companion of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . The fact is that I was hard up in regard to money. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. I said: Do you adjure by Allah? He said: I adjure by Allah. Then he brought his promissory note and he wrote off (the debt) with his hand and said: Make payment when you find yourself solvent enough to pay me back; if you are not, then there is no liability upon you.These two eyes of mine saw, and he (AbuI-Yasar) placed his fingers upon his eyes and these two ears of mine heard and my heart retained, and he pointed towards his heart that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who gives time to one who is financially hard up (in the payment of debt) or writes off his debt, Allah will provide him His shadow.

7513Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

قَالَ فَقُلْتُ لَهُ أَنَا يَا عَمِّ لَوْ أَنَّکَ أَخَذْتَ بُرْدَةَ غُلَامِکَ وَأَعْطَيْتَهُ مَعَافِرِيَّکَ وَأَخَذْتَ مَعَافِرِيَّهُ وَأَعْطَيْتَهُ بُرْدَتَکَ فَکَانَتْ عَلَيْکَ حُلَّةٌ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ اللَّهُمَّ بَارِکْ فِيهِ يَا ابْنَ أَخِي بَصَرُ عَيْنَيَّ هَاتَيْنِ وَسَمْعُ أُذُنَيَّ هَاتَيْنِ وَوَعَاهُ قَلْبِي هَذَا وَأَشَارَ إِلَی مَنَاطِ قَلْبِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ أَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْکُلُونَ وَأَلْبِسُوهُمْ مِمَّا تَلْبَسُونَ وَکَانَ أَنْ أَعْطَيْتُهُ مِنْ مَتَاعِ الدُّنْيَا أَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ حَسَنَاتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

حضرت ابوالیسر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے ان سے کہا اے چچا اگر آپ اپنے غلام کی چادر لے لیتے اور اپنے معافری کپڑے اسے دے دیتے یا اس کے معافری کپڑے لے لیتے اور اپنی چادر اسے دے دیتے تو آپ کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا اور آپ کے غلام کا بھی جوڑا پورا ہوجاتا حضرت ابوالیسر نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا اے اللہ اسے برکت عطا فرما پھر فرمایا اے بھتیجے میری ان دونوں آنکھوں نے دیکھا اور میرے ان دونوں کانوں نے سنا اور میرے اس دل نے یاد رکھا (اور انہوں نے اپنے دل کی طرف اشارہ کیا) کہ رسول اللہ فرماتے ہیں کہ ان کو وہی کچھ کھلاؤ جو کچھ تم خود کھاتے ہو اور ان کو وہی کچھ پہناؤ جو کچھ تم خود پہنتے ہوں اور اگر میں اسے دنیا کا مال و متاع دے دوں میرے لئے اس سے زیادہ آسان ہے کہ قیامت کے دن یہ میری نیکیاں لے (یعنی دنیا میں ہی سب کچھ دینا آسان ہے ورنہ قیامت کے دن نیکیاں دینی پڑیں گی) ۔

I said to him: My uncle, if you get the cloak of your servant and you give him your two clothes, or take his two clothes of Maafir and give him your cloak, then there would be one dress for you and one for him. He wiped my head and said: O Allah, bless the son of my brother. O, son of my brother, these two very eyes of mine saw and these two ears of mine listened to and this heart of mine retained this, and he pointed towards the heart that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Feed them (the servants) and clothe them (the servants) what you wear, and if I give him the goods of the world, it is easy for me than this that he should take my virtues on the Day of Resurrection.

7514Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

ثُمَّ مَضَيْنَا حَتَّی أَتَيْنَا جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ فِي مَسْجِدِهِ وَهُوَ يُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ مُشْتَمِلًا بِهِ فَتَخَطَّيْتُ الْقَوْمَ حَتَّی جَلَسْتُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَقُلْتُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ أَتُصَلِّي فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَرِدَاؤُکَ إِلَی جَنْبِکَ قَالَ فَقَالَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي هَکَذَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ وَقَوَّسَهَا أَرَدْتُ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيَّ الْأَحْمَقُ مِثْلُکَ فَيَرَانِي کَيْفَ أَصْنَعُ فَيَصْنَعُ مِثْلَهُ أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَسْجِدِنَا هَذَا وَفِي يَدِهِ عُرْجُونُ ابْنِ طَابٍ فَرَأَی فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ نُخَامَةً فَحَکَّهَا بِالْعُرْجُونِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَخَشَعْنَا ثُمَّ قَالَ أَيُّکُمْ يُحِبُّ أَنْ يُعْرِضَ اللَّهُ عَنْهُ قُلْنَا لَا أَيُّنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَإِنَّ أَحَدَکُمْ إِذَا قَامَ يُصَلِّي فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی قِبَلَ وَجْهِهِ فَلَا يَبْصُقَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ وَلَا عَنْ يَمِينِهِ وَلْيَبْصُقْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَی فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ فَلْيَقُلْ بِثَوْبِهِ هَکَذَا ثُمَّ طَوَی ثَوْبَهُ بَعْضَهُ عَلَی بَعْضٍ فَقَالَ أَرُونِي عَبِيرًا فَقَامَ فَتًی مِنْ الْحَيِّ يَشْتَدُّ إِلَی أَهْلِهِ فَجَائَ بِخَلُوقٍ فِي رَاحَتِهِ فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهُ عَلَی رَأْسِ الْعُرْجُونِ ثُمَّ لَطَخَ بِهِ عَلَی أَثَرِ النُّخَامَةِ فَقَالَ جَابِرٌ فَمِنْ هُنَاکَ جَعَلْتُمْ الْخَلُوقَ فِي مَسَاجِدِکُمْ

عبادہ بن صامت فرماتے ہیں کہ حضرت ابوالیسر کے پاس سے چلے یہاں تک کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کے پاس ان کی مسجد میں آگئے اور وہ ایک کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے تھے میں لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا حضرت جابر (رض) اور قبلہ کے درمیان حائل ہو کر بیٹھ گیا پھر میں نے کہا اللہ آپ پر رحم فرمائے کیا آپ ایک ہی کپڑا اوڑھے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں حالانکہ آپ کے پہلو میں ایک چادر رکھی ہوئی ہے حضرت جابر نے اپنی ہاتھ کی انگلیاں کھول کر (قوس نما شکل بنا کر) میرے سینے پر ماریں اور پھر فرمایا میں نے یہ اس لئے کیا ہے کہ جب تیری طرح کا کوئی احمق میری طرف آئے تو وہ مجھے اس طرح کرتے ہوئے دیکھے تاکہ وہ بھی اسی طرح کرے کیونکہ ایک مرتبہ آپ ﷺ اسی مسجد میں تشریف لائے اس حال میں کہ آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک میں ابن طاب کی لکڑی تھی تو آپ ﷺ نے مسجد کی قبلہ رخ والی دیوار میں ناک کی کچھ بلغم سی لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے لکڑی سے کھرچ دیا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم میں سے کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے رو گردانی کرے راوی کہتے ہیں کہ ہم گھبراگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا تم میں کون اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اللہ اس سے رو گردانی کرے ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم میں سے کوئی بھی یہ پسند نہیں کرتا آپ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی آدمی جب بھی نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اللہ تبارک وتعالی اس کے سامنے ہوتا ہے لہذا تم میں سے کوئی بھی اپنے منہ کے سامنے نہ تھوکے بلکہ اپنی بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے اور اگر تھوک نہ رکے تو وہ کپڑے کو لے کر اس طرح کرے پھر آپ ﷺ نے کپڑے کو لپیٹ کر اور اسے مسل کر دکھایا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کوئی خوشبو لاؤ پھر قبیلہ حی کا ایک نوجوان کھڑا ہو اور دوڑتا ہوا اپنے گھر کی طرف گیا اور وہ اپنی ہتھیلی پہ کچھ خوشبو رکھ کرلے آیا پھر رسول اللہ ﷺ نے وہ خوشبو لکڑی کی نوک پر لگائی اور پھر اسے ناک کی ریزش والی جگہ پر لگائی (جہاں سے آپ ﷺ نے ناک کی ریزش گندگی وغیرہ کھرچی تھی) اور اسے مل دیا دیا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ تم لوگ اسی وجہ سے اپنی مسجدوں میں خوشبو لگاتے ہو۔

We went on till we came to Jabir bin Abdullah (RA) in the mosque and he was busy in observing prayer in one cloth which he had joined at its opposite ends. I made my way through the people till I sat between him and the Qibla and I said: May Allah have mercy upon you. Do you observe prayer with one cloth on your body whereas your mantle is lying at your side? He pointed me with his hand towards my breast just like this and he separated his fingers and bent them in the shape of a bow. And (he said): I thought that a fool like you should come to me so that he should see me as I do and he should then also do like it. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to us in this very mosque and he had in his hand the twig of the palm-tree and he saw mucus towards the Qibla of the mosque and he erased it with the help of the twig. He then came to us and said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We were afraid. He then again said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We were afraid. He again said: Who amongst you likes that Allah should turn His face away from him? We said: Allahs Messenger, none of us likes it. And he said: If one amongst you stands for prayer, Allah, the Exalted and Glorious, is before him he should not spit in front of him, or on his right side, but should spit on his left side beneath his left foot and if he is impelled to do so all of a sudden (in spite of himself) he should then spit in his cloth and fold it in some part of it. (and he further said:) Bring some sweet-smelling thing. A young man who belonged to our tribe stood up, went and brought scent in his palm. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took that and applied it to the end of that twig and then touched the place where there had been mucus. Jabir said: This is why you should apply scent to your mosques.

7515Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَطْنِ بُوَاطٍ وَهُوَ يَطْلُبُ الْمَجْدِيَّ بْنَ عَمْرٍو الْجُهَنِيَّ وَکَانَ النَّاضِحُ يَعْقُبُهُ مِنَّا الْخَمْسَةُ وَالسِّتَّةُ وَالسَّبْعَةُ فَدَارَتْ عُقْبَةُ رَجُلٍ مِنْ الْأَنْصَارِ عَلَی نَاضِحٍ لَهُ فَأَنَاخَهُ فَرَکِبَهُ ثُمَّ بَعَثَهُ فَتَلَدَّنَ عَلَيْهِ بَعْضَ التَّلَدُّنِ فَقَالَ لَهُ شَأْ لَعَنَکَ اللَّهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا اللَّاعِنُ بَعِيرَهُ قَالَ أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ انْزِلْ عَنْهُ فَلَا تَصْحَبْنَا بِمَلْعُونٍ لَا تَدْعُوا عَلَی أَنْفُسِکُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَی أَوْلَادِکُمْ وَلَا تَدْعُوا عَلَی أَمْوَالِکُمْ لَا تُوَافِقُوا مِنْ اللَّهِ سَاعَةً يُسْأَلُ فِيهَا عَطَائٌ فَيَسْتَجِيبُ لَکُمْ

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں، کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بطن بواط کے غزوہ میں چلے اور آپ ﷺ مجدی بن عمرو جہنی کی تلاش میں تھے اور ہمارا یہ حال تھا کہ ہم پانچ اور چھ اور سات آدمیوں میں ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سواری کرتے تھے اس اونٹ پر ایک انصار آدمی کی سواری کی باری آئی تو اس نے اونٹ بٹھایا اور پھر اس پر چڑھا اور پھر اسے اٹھایا اس نے کچھ شوخی دکھائی تو انصاری نے کہا اللہ تجھ پر لعنت کرے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ اپنے اونٹ پر لعنت کرنے والا کون ہے ؟ انصاری نے عرض کیا میں ہوں اے اللہ کے رسول آپ ﷺ نے فرمایا اس سے نیچے اتر جا اور ہمارے ساتھ کوئی لعنت کیا ہوا اونٹ نہ رہے کہ اپنی جانوں کے خلاف بد دعا نہ کیا کرو اور نہ ہی اپنی اولاد کے خلاف بددعا کیا کرو اور نہ ہی اپنے مالوں کے خلاف بد دعا کیا کرو کیونکہ ممکن ہے کہ وہ بد دعا ایسے وقت میں مانگی جائے کہ جب اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگا جاتا ہو اور تمہیں عطا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ تمہاری وہ دعا قبول فرمالے۔

It is reported on the same authority: We set out along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on an expedition of Batn Buwat. He (the Holy Prophet) was in search of al-Majdi bin Amr al-Juhani. (We had so meagre equipment) that five. Six or seven of us had one camel to ride and so we mounted it turn by turn. Once there was the turn of an Ansari to ride upon the camel. He made it kneel down to ride over it (and after having mounted it), he tried to raise it up but it hesitated. So he said. May there be curse of Allah upon you! Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who is there to curse his camel? He said: Allahs Messenger, it is I. Thereupon he said: Get down from the camel and let us not have in our company the cursed one. Dont curse your own selves, nor your children. Nor your belongings. There is the possibility that your curse may synchronies with the time when Allah is about to confer upon you what you demand and thus your prayer may be readily responded.

7516Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی إِذَا کَانَتْ عُشَيْشِيَةٌ وَدَنَوْنَا مَائً مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ رَجُلٌ يَتَقَدَّمُنَا فَيَمْدُرُ الْحَوْضَ فَيَشْرَبُ وَيَسْقِينَا قَالَ جَابِرٌ فَقُمْتُ فَقُلْتُ هَذَا رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ رَجُلٍ مَعَ جَابِرٍ فَقَامَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَانْطَلَقْنَا إِلَی الْبِئْرِ فَنَزَعْنَا فِي الْحَوْضِ سَجْلًا أَوْ سَجْلَيْنِ ثُمَّ مَدَرْنَاهُ ثُمَّ نَزَعْنَا فِيهِ حَتَّی أَفْهَقْنَاهُ فَکَانَ أَوَّلَ طَالِعٍ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَتَأْذَنَانِ قُلْنَا نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَأَشْرَعَ نَاقَتَهُ فَشَرِبَتْ شَنَقَ لَهَا فَشَجَتْ فَبَالَتْ ثُمَّ عَدَلَ بِهَا فَأَنَاخَهَا ثُمَّ جَائَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی الْحَوْضِ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ ثُمَّ قُمْتُ فَتَوَضَّأْتُ مِنْ مُتَوَضَّإِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُصَلِّيَ وَکَانَتْ عَلَيَّ بُرْدَةٌ ذَهَبْتُ أَنْ أُخَالِفَ بَيْنَ طَرَفَيْهَا فَلَمْ تَبْلُغْ لِي وَکَانَتْ لَهَا ذَبَاذِبُ فَنَکَّسْتُهَا ثُمَّ خَالَفْتُ بَيْنَ طَرَفَيْهَا ثُمَّ تَوَاقَصْتُ عَلَيْهَا ثُمَّ جِئْتُ حَتَّی قُمْتُ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِيَدِي فَأَدَارَنِي حَتَّی أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ ثُمَّ جَائَ جَبَّارُ بْنُ صَخْرٍ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَائَ فَقَامَ عَنْ يَسَارِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيْنَا جَمِيعًا فَدَفَعَنَا حَتَّی أَقَامَنَا خَلْفَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْمُقُنِي وَأَنَا لَا أَشْعُرُ ثُمَّ فَطِنْتُ بِهِ فَقَالَ هَکَذَا بِيَدِهِ يَعْنِي شُدَّ وَسَطَکَ فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا جَابِرُ قُلْتُ لَبَّيْکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِذَا کَانَ وَاسِعًا فَخَالِفْ بَيْنَ طَرَفَيْهِ وَإِذَا کَانَ ضَيِّقًا فَاشْدُدْهُ عَلَی حَقْوِکَ

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ جب شام ہوگئی اور ہم عرب کے پانیوں میں سے کسی پانی کے قریب ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون آدمی ہے کہ جو ہم سے پہلے جا کر حوض کو درست کرے اور خود بھی پانی پئے اور ہمیں بھی پانی پلائے حضرت جابر فرماتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! یہ آدمی (آگے جائے گا) ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جابر کے ساتھ کون آدمی جائے گا تو جبار بن صخر کھڑے ہوئے پھر ہم دونوں ایک کنوئیں کی طرف چلے اور ہم نے حوض میں ایک ڈول یا دو ڈول ڈالے پھر اسے بھر دیا پھر سب سے پہلے رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم اجازت دیتے ہو ہم نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول پھر آپ ﷺ نے اپنی اونٹنی کو چھوڑا اور اس نے پانی پیا پھر آپ ﷺ نے اس اونٹنی کی باگ کھینچی تو اس نے پانی پینا بند کردیا اور اس نے پیشاب کیا پھر آپ ﷺ نے اسے علیحدہ لے جا کر بٹھا دیا پھر رسول اللہ ﷺ حوض کی طرف آئے آپ نے اس سے وضو فرمایا پھر میں کھڑا ہوا اور اس جگہ سے وضو کیا کہ جس جگہ سے رسول اللہ ﷺ نے وضو فرمایا تھا اور جبار بن صخر قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور رسول اللہ نماز پڑھنے کے لئے کھڑے ہوگئے اور میرے اوپر ایک چادر تھی جو کہ چھوٹی تھی میں نے اس کے دونوں کناروں کو پلٹا تو وہ میرے کندھوں تک نہیں پہنچی تھی پھر میں نے اسے اوندھا کیا اور اس کے دونوں کناروں کو پلٹا کر اسے اپنی گردن پر باندھا پھر میں آکر رسول اللہ ﷺ کے بائیں طرف کھڑا ہوگیا تو آپ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑ کر اور گھما کر مجھے اپنی دائیں طرف کھڑا کردیا پھر جبار بن صخر آئے انہوں نے وضو کیا پھر وہ آئے اور رسول اللہ ﷺ کے بائیں طرف کھڑے ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہم دونوں کے ہاتھوں کو پکڑ کر پیچھے ہٹا کر اپنے پیچھے کھڑا کیا پھر رسول اللہ ﷺ گھور کر میری طرف دیکھنے لگے جسے میں سمجھ نہ سکا بعد میں سمجھ گیا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ آپ نے اپنے ہاتھ مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا کہ اپنی کمر باندھ لے تاکہ تمہارا ستر نہ کھل جائے پھر جب رسول اللہ ﷺ فارغ ہوگئے فرمایا اے جابر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں حاضر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا جب تمہاری چادر بڑی ہو تو اس کے دونوں کناروں کو الٹا اور جب چادر چھوٹی ہو تو اسے اپنی کمر پر باندھ لو۔

It is reported on the same authority: We set out on an expedition along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until it was evening, and we had been near a water reservoir of Arabia. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who would be the person who would go ahead and set right the reservoir and drink water himself and serve us with it? Jabir said: I stood up and said: Allahs Messenger, it is I who am ready to do that. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who is the person to accompany Jabir? And then Jabbar bin Sakhr stood up. So we went to that well and poured in that tank a bucket or two of water and plastered it with clay and then began to fill it (with water) until it was filled to the brim. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was the first who appeared before us, and he said: Do you (both) permit me to drink water out of it? We said: Yes, Allahs Messenger. He led his camel to drink water and it drank. He then pulled its rein and it stretched its legs and began to urinate. He then took it aside and made it kneel down at another place and then came to the tank and performed ablution. I then got up and performed ablution like the ablution of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and Jabbar bin Sakhr went in order to relieve himself and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) got up to observe prayer and there was a mantle over me. I tried to invert its ends but it was too short (to cover my body easily). It had its borders. I then inverted it (the mantle) and drew its opposite ends and then tied them at my neck. I then came and stood upon the left side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He caught hold of me and made me go round behind him, until he made me stand on his right side. Then Jabbar bin Sakhr came. He performed ablution and then came and stood on the left side of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) caught hold of our hands together, pushed us back and made us stand behind him. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) began to look upon me with darting looks, but I did not perceive that. After that I became aware of it and he pointed with the gesture of his hand that I should wrap my loin-cloth. When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had finished the prayer, he said: Jabir! I said: Allahs Messenger, at thy beck and call. He said: When the cloth around you is inadequate, then tie the opposite ends but when it is small, tie it over the lower body.

7517Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَانَ قُوتُ کُلِّ رَجُلٍ مِنَّا فِي کُلِّ يَوْمٍ تَمْرَةً فَکَانَ يَمَصُّهَا ثُمَّ يَصُرُّهَا فِي ثَوْبِهِ وَکُنَّا نَخْتَبِطُ بِقِسِيِّنَا وَنَأْکُلُ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا فَأُقْسِمُ أُخْطِئَهَا رَجُلٌ مِنَّا يَوْمًا فَانْطَلَقْنَا بِهِ نَنْعَشُهُ فَشَهِدْنَا أَنَّهُ لَمْ يُعْطَهَا فَأُعْطِيَهَا فَقَامَ فَأَخَذَهَا

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے اور ہم میں سے ہر ایک آدمی کو روزانہ ایک کھجور ملتی تھی اور یہی ہماری خوراک تھی اور وہ اس کھجور کو چوستا اور پھر اسے اپنے کپڑے میں لپیٹ کر رکھ لیتا تھا اور ہم اپنی کمانوں سے درختوں کے پتے جھاڑا کرتے تھے اور انہیں کھایا کرتے تھے یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں اور کھجوریں تقسیم کرنے والے آدمی سے ایک غلطی ہوگئی ( وہ ہمارے ایک آدمی کو کھجور دینا بھول گیا) تو ہم اس آدمی کو اٹھا کر اس کے پاس لے گئے اور ہم نے گواہی دی کہ اسے کھجور نہیں ملی تو اس نے اس آدمی کو کھجور دے دی تو اس نے کھڑے کھڑے پکڑی اور کھالی۔

Jabir reported: We set out on an expedition with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the only means of sustenance for every person amongst us was only one date for a day and we used to chew it. And we struck the leaves with the help of our bow and ate them until the sides of our mouths were injured. It so happened one day that a person was overlooked and not given a date. We carried that person and bore witness to the fact that he had not been given that date so he was offered that and he got up and received that.

7518Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی نَزَلْنَا وَادِيًا أَفْيَحَ فَذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْضِي حَاجَتَهُ فَاتَّبَعْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَائٍ فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَرَ شَيْئًا يَسْتَتِرُ بِهِ فَإِذَا شَجَرَتَانِ بِشَاطِئِ الْوَادِي فَانْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی إِحْدَاهُمَا فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ کَالْبَعِيرِ الْمَخْشُوشِ الَّذِي يُصَانِعُ قَائِدَهُ حَتَّی أَتَی الشَّجَرَةَ الْأُخْرَی فَأَخَذَ بِغُصْنٍ مِنْ أَغْصَانِهَا فَقَالَ انْقَادِي عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَانْقَادَتْ مَعَهُ کَذَلِکَ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالْمَنْصَفِ مِمَّا بَيْنَهُمَا لَأَمَ بَيْنَهُمَا يَعْنِي جَمَعَهُمَا فَقَالَ الْتَئِمَا عَلَيَّ بِإِذْنِ اللَّهِ فَالْتَأَمَتَا قَالَ جَابِرٌ فَخَرَجْتُ أُحْضِرُ مَخَافَةَ أَنْ يُحِسَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقُرْبِي فَيَبْتَعِدَ وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ فَيَتَبَعَّدَ فَجَلَسْتُ أُحَدِّثُ نَفْسِي فَحَانَتْ مِنِّي لَفْتَةٌ فَإِذَا أَنَا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقْبِلًا وَإِذَا الشَّجَرَتَانِ قَدْ افْتَرَقَتَا فَقَامَتْ کُلُّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا عَلَی سَاقٍ فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَفَ وَقْفَةً فَقَالَ بِرَأْسِهِ هَکَذَا وَأَشَارَ أَبُو إِسْمَعِيلَ بِرَأْسِهِ يَمِينًا وَشِمَالًا ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَمَّا انْتَهَی إِلَيَّ قَالَ يَا جَابِرُ هَلْ رَأَيْتَ مَقَامِي قُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ فَانْطَلِقْ إِلَی الشَّجَرَتَيْنِ فَاقْطَعْ مِنْ کُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا فَأَقْبِلْ بِهِمَا حَتَّی إِذَا قُمْتَ مَقَامِي فَأَرْسِلْ غُصْنًا عَنْ يَمِينِکَ وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِکَ قَالَ جَابِرٌ فَقُمْتُ فَأَخَذْتُ حَجَرًا فَکَسَرْتُهُ وَحَسَرْتُهُ فَانْذَلَقَ لِي فَأَتَيْتُ الشَّجَرَتَيْنِ فَقَطَعْتُ مِنْ کُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا غُصْنًا ثُمَّ أَقْبَلْتُ أَجُرُّهُمَا حَتَّی قُمْتُ مَقَامَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلْتُ غُصْنًا عَنْ يَمِينِي وَغُصْنًا عَنْ يَسَارِي ثُمَّ لَحِقْتُهُ فَقُلْتُ قَدْ فَعَلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَعَمَّ ذَاکَ قَالَ إِنِّي مَرَرْتُ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ فَأَحْبَبْتُ بِشَفَاعَتِي أَنْ يُرَفَّهَ عَنْهُمَا مَا دَامَ الْغُصْنَانِ رَطْبَيْنِ

جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ پھر ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ چلے یہاں تک کہ ہم ایک وسیع وادی میں اترے اور پھر رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لئے چلے گئے اور میں ایک ڈول میں پانی لے کر چلا تو آپ نے کوئی آڑ نہ دیکھی جس کی وجہ سے آپ پردہ کرسکیں اس وادی کے کناروں پر دو درخت تھے رسول اللہ ان دونوں درختوں میں سے ایک درخت کی طرف گئے اور اس درخت کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑی اور فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ آپ ﷺ کے تابع ہوگئی جس طرح کہ وہ اونٹ اپنے کھینچنے والے کے تابع ہوجاتا ہے جس کے نکیل پڑی ہوئی ہو پھر آپ نے دوسرے درخت کی طرف آئے اور اس کی شاخوں میں سے ایک شاخ پکڑ کر فرمایا اللہ کے حکم سے میرے تابع ہوجا تو وہ شاخ بھی اسی طرح آپ کے تابع ہوگئی یہاں تک کہ جب آپ ﷺ دونوں درختوں کے درمیان ہوئے تو دونوں کو ملا کر فرمایا تم دونوں اللہ کے حکم سے آپس میں ایک دوسرے سے جڑ جاؤ تو وہ دونوں جڑ گئے حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں اس ڈر سے نکلا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ مجھے قریب دیکھ کر دور نہ تشریف لے جائیں میں اپنے آپ سے (یعنی دل میں) بیٹھے بیٹھے باتیں کرنے لگا تو اچانک میں نے دیکھا کہ سامنے سے رسول اللہ ﷺ آرہے ہیں (اور پھر اس کے بعد) وہ دونوں درخت اپنی اپنی جگہ پر جا کر کھڑے ہوگئے اور ہر ایک درخت اپنے تنے پر کھڑا ہوا علیحدہ ہو رہا ہے (حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں) کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کچھ دیر ٹھہرے اور پھر آپ ﷺ نے اپنے سر مبارک سے اس طرح اشارہ فرمایا ابواسمعیل نے اپنے سر سے دائیں اور بائیں اشارہ کر کے بتایا پھر آپ سامنے آئے اور جب آپ میری طرف پہنچے تو فرمایا اے جابر کیا تو نے دیکھا جس جگہ میں کھڑا تھا میں نے عرض کیا جی ہاں اے اللہ کے رسول آپ نے فرمایا دونوں درختوں کے پاس جاؤ اور ان دونوں درختوں میں سے ایک ایک شاخ کاٹ کر لاؤ اور جب اس جگہ آجاؤ جس جگہ میں کھڑا ہوں تو ایک شاخ اپنی دائیں طرف اور ایک شاخ اپنی بائیں طرف ڈال دینا حضرت جابر فرماتے ہیں کہ پھر میں نے کھڑے ہو کر ایک پتھر کو پکڑا اور اسے توڑا اور اسے تیز کیا وہ تیز ہوگیا تو پھر میں ان دونوں درختوں کے پاس آیا تو میں نے ان دونوں درختوں میں سے ہر ایک سے ایک ایک شاخ کاٹی پھر میں ان شاخوں کو کھینچتے ہوئے اس جگہ پر لے آیا جس جگہ رسول اللہ ﷺ کھڑے تھے۔ پھر میں نے ایک شاخ دائیں طرف ڈالی اور دوسری شاخ بائیں طرف ڈالی پھر میں جا کر آپ سے ملا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول جس طرح آپ نے مجھے حکم فرمایا تھا میں نے اسی طرح کردیا ہے کہ لیکن اس کی وجہ کیا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں دو قبروں کے پاس سے گزرا مجھے وحی الٰہی کے ذریعہ پتہ چلا کہ ان قبر والوں کو عذاب دیا جا رہا ہے تو میں نے اس بات کو پسند کیا کہ میں ان کی شفاعت کروں شاید کہ ان سے عذاب ہلکا کردیا جائے جب تک کہ یہ دونوں شاخیں تر رہیں گی۔

Jabir reported: We set out on an expedition along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) until we got down at a spacious valley and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went to relieve himself. I followed him with a bucket full of water and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) looked about and he found no privacy but two trees at the end of the valley and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) went to one of them and took hold of one of its twigs and said: Be thou under my control by the permission of Allah, and so it came under his control like the camel who has its nosestring in the hand of its rider, and then he came to the second tree and took hold of a twig and said: Be thou under my control with the permission of Allah, and it came under his control, and when he came in the middle of the two trees he joined together the two twigs and said: join with the permission of Allah. Jabir said: I was afraid lest Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) should be aware of my nearness and go still farther. And Muhammad bin Abbad has used the word "faitabd" and I began to talk to myself. And as I saw, I suddenly found Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) before me and the two trees were separated and each one of them was standing at its place. I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) standing for a short time, nodding his head towards right and left. Ismail pointed towards the right and left with the help of his head (in order to demonstrate how the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had pointed). Then he (the Holy Prophet) came to me and said: Jabir did you see my place where I was standing? I said: Allahs Messenger, yes. He then said: Then you should go to those two trees and cut a twig from each of them and go to that place with them where I was standing and stand there where I was standing and place a twig on the right and a twig on the left. Jabir said: I set out and took hold of a stone and broke it and sharpened it and then I came to those trees and cut a twig from each one of them. I then came dragging them until I stood at the place where Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been standing and placed a twig on the right and a twig on the left. Then I met him and said: Allahs Messenger, I have done that, but (kindly) explain to me the reason for it. Thereupon he said: I passed by two graves the occupants of which had been undergoing torment. I liked to make intercession for them so that they might be relieved of this torment as long as these twigs remain fresh.

7519Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

قَالَ فَأَتَيْنَا الْعَسْکَرَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا جَابِرُ نَادِ بِوَضُوئٍ فَقُلْتُ أَلَا وَضُوئَ أَلَا وَضُوئَ أَلَا وَضُوئَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا وَجَدْتُ فِي الرَّکْبِ مِنْ قَطْرَةٍ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ يُبَرِّدُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَائَ فِي أَشْجَابٍ لَهُ عَلَی حِمَارَةٍ مِنْ جَرِيدٍ قَالَ فَقَالَ لِيَ انْطَلِقْ إِلَی فُلَانِ ابْنِ فُلَانٍ الْأَنْصَارِيِّ فَانْظُرْ هَلْ فِي أَشْجَابِهِ مِنْ شَيْئٍ قَالَ فَانْطَلَقْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ فِيهَا فَلَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَائِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي لَمْ أَجِدْ فِيهَا إِلَّا قَطْرَةً فِي عَزْلَائِ شَجْبٍ مِنْهَا لَوْ أَنِّي أُفْرِغُهُ لَشَرِبَهُ يَابِسُهُ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِهِ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَأَخَذَهُ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَتَکَلَّمُ بِشَيْئٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ وَيَغْمِزُهُ بِيَدَيْهِ ثُمَّ أَعْطَانِيهِ فَقَالَ يَا جَابِرُ نَادِ بِجَفْنَةٍ فَقُلْتُ يَا جَفْنَةَ الرَّکْبِ فَأُتِيتُ بِهَا تُحْمَلُ فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ فِي الْجَفْنَةِ هَکَذَا فَبَسَطَهَا وَفَرَّقَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ ثُمَّ وَضَعَهَا فِي قَعْرِ الْجَفْنَةِ وَقَالَ خُذْ يَا جَابِرُ فَصُبَّ عَلَيَّ وَقُلْ بِاسْمِ اللَّهِ فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ وَقُلْتُ بِاسْمِ اللَّهِ فَرَأَيْتُ الْمَائَ يَفُورُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ فَارَتْ الْجَفْنَةُ وَدَارَتْ حَتَّی امْتَلَأَتْ فَقَالَ يَا جَابِرُ نَادِ مَنْ کَانَ لَهُ حَاجَةٌ بِمَائٍ قَالَ فَأَتَی النَّاسُ فَاسْتَقَوْا حَتَّی رَوُوا قَالَ فَقُلْتُ هَلْ بَقِيَ أَحَدٌ لَهُ حَاجَةٌ فَرَفَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ مِنْ الْجَفْنَةِ وَهِيَ مَلْأَی

حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ پھر ہم لشکر میں آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے جابر لوگوں میں آواز لگا دو کہ وضو کرلیں پھر میں نے آواز لگائی کہ وضو کرلو وضو کرلو وضو کرلو حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول قافلہ میں تو کسی کے پاس پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے اور انصار کا ایک آدمی جو رسول اللہ کے لئے ایک پرانا مشکیزہ جو کہ لکڑی کی شاخوں پر لٹکا ہوا تھا اس میں پانی ٹھنڈا کیا کرتا تھا آپ ﷺ نے فرمایا فلاں بن فلاں انصاری کے پاس جا کر دیکھو کہ اس کے مشکیزے میں پانی ہے یا نہیں میں اس انصاری کی طرف گیا اور اس کے مشکیزے میں دیکھا کہ اس کے منہ میں سوائے ایک قطرے کے اور کچھ بھی نہیں ہے اگر میں اس مشکیزے کو انڈیلوں تو خشک مشکیزہ اسے پی جائے پھر میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے اس انصاری کے مشکیزے میں سوائے اس ایک قطرہ پانی کے اور کچھ نہیں پایا اگر میں اسے الٹاتا تو خشک مشکیزہ اسے پی لیتا آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور اس مشکیزے کو میرے پاس لے آؤ پھر میں اس مشکیزہ کو لے کر آیا اور اسے اپنے ہاتھ میں پکڑا پھر آپ ﷺ کچھ بات کرنے لگے میں نہیں جانتا کہ آپ کیا فرما رہے تھے اور آپ ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے اس مشکیزے کو دباتے جاتے پھر وہ مشکیزہ مجھے عطا فرمایا اور فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ قافلے میں سے کسی کا پانی کا بڑا برتن لایا جائے میں نے آواز لگائی اور بڑا برتن لایا گیا اور لوگ اس برتن کو اٹھا کر لائے میں نے اس بڑے برتن کو آپ کے سامنے رکھ دیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس مشکیزے میں اپنا ہاتھ مبارک پھیرا اس طرح سے پھیلا کر اور انگلیوں کو کھلا کر کے اس مشکیزے کی تہ میں اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر پکڑ اور بسم اللہ کہہ کر میرے ہاتھوں پر پانی ڈال۔ میں نے بسم اللہ کہہ کر اس مشکیزے میں سے پانی آپ ﷺ کے ہاتھ مبارک پر ڈالا تو میں نے دیکھا کہ پانی رسول اللہ ﷺ کی انگلیوں کے درمیان سے جوش مار رہا ہے پھر اس برتن نے جوش مارا اور وہ برتن گھوما یہاں تک کہ وہ برتن پانی سے بھر گیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے جابر آواز لگاؤ کہ جس کو پانی کی ضرورت ہو تو آکر پانی لے جائے حضرت جابر فرماتے ہیں لوگ آئے اور انہوں نے پانی پیا یہاں تک کہ سب سیر ہوگئے حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کیا کوئی ایسا باقی رہ گیا ہے کہ جسے پانی کی ضرورت ہو پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے ہاتھ مبارک کو اس مشکیزے سے اٹھایا تو پھر وہ بھی بھرا ہوا تھا۔

Jabir said: We came back to the (camp of the) army and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Jabir, call people for performing wudu. I cried: Come and perform wudu, come and perform wudu, come and perform wudu. I said: Allahs Messenger, there is not even a drop of water in the army camp, and there was a person who used to cool the water for Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the old water-skin which kept hanging by the twig. He asked me to go to such and such Ansari and ask him to see if there was any water in that skin. I went to him and cast a glance in it but did not find anything but a drop in the mouth of that water-skin and if I were to draw that, the water-skins dried part would suck it up. I came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Allahs Messenger, I have not found anything in it but a drop of water in the mouth of the water-skin and now if I were to draw that, it would be absorbed. He said: Go and bring that to me. I brought that to him. He took hold of it and began to utter something which I could not understand and then pressed it with his hand and gave that to me and said: Jabir, announce for the tub to be brought. So I announced that the tub of the army (be brought). It was brought accordingly and I placed it before him (the Holy Prophet). Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) placed his hands in the tub like this: with his fingers stretched out, and then he placed his fingers at the bottom of the tub and said: Jabir, take it (that waters-skin) and pour water over me, by reciting Bismillah, and I poured water and I said: Bismillah, and found water sprouting out between the fingers of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then that tub gushed forth until it was filled up and the Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Jabir, make an announcement to the effect: He who needs water should take that. Jabir said: The people came and got water until they were all satiated. I said: Is there anyone left who wants to get it? And Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) then lifted up his hand from that tub and it was still full.

7520Sahih Muslimصحیح

حضرت ابوالیسر (رض) کا واقعہ اور حضرت جابر (رض) کی لمبی حدیث کے بیان میں

وَشَکَا النَّاسُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُوعَ فَقَالَ عَسَی اللَّهُ أَنْ يُطْعِمَکُمْ فَأَتَيْنَا سِيفَ الْبَحْرِ فَزَخَرَ الْبَحْرُ زَخْرَةً فَأَلْقَی دَابَّةً فَأَوْرَيْنَا عَلَی شِقِّهَا النَّارَ فَاطَّبَخْنَا وَاشْتَوَيْنَا وَأَکَلْنَا حَتَّی شَبِعْنَا قَالَ جَابِرٌ فَدَخَلْتُ أَنَا وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ حَتَّی عَدَّ خَمْسَةً فِي حِجَاجِ عَيْنِهَا مَا يَرَانَا أَحَدٌ حَتَّی خَرَجْنَا فَأَخَذْنَا ضِلَعًا مِنْ أَضْلَاعِهِ فَقَوَّسْنَاهُ ثُمَّ دَعَوْنَا بِأَعْظَمِ رَجُلٍ فِي الرَّکْبِ وَأَعْظَمِ جَمَلٍ فِي الرَّکْبِ وَأَعْظَمِ کِفْلٍ فِي الرَّکْبِ فَدَخَلَ تَحْتَهُ مَا يُطَأْطِئُ رَأْسَهُ

اور پھر اس کے بعد لوگوں نے رسول اللہ ﷺ سے بھوک کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا قریب ہے کہ اللہ تمہیں کھلادے پھر ہم سمندر کے کنارے پر آئے اور سمندر نے موج ماری اور ایک جانور نکال کر باہر ڈال دیا پھر ہم نے اس سمندر کے کنارے پر آگ جلائی اور اس جانور کا گوشت پکایا اور بھونا اور ہم نے کھایا یہاں تک کہ ہم خوب سیر ہوئے گئے حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ پھر میں اور فلاں اور فلاں اس جانور کی آنکھ کے گوشے میں داخل ہوئے اور ہمیں کسی نے نہیں دیکھا یہاں تک کہ ہم باہر نکلے پھر ہم نے اس جانور کی پسلیوں میں سے ایک پسلی پکڑی اور قافلے میں جو سب سے بڑا آدمی تھا اور وہ سب سے بڑے اونٹ پر سوار تھا ہم نے اس آدمی کو بلایا اور اس کے اونٹ پر سب سے بڑی زین رکھی ہوئی تو وہ آدمی بغیر اپنا سر جھکائے اس پسلی کے نیچے سے گزر گیا۔

Then the people made a complaint to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about hunger and he said: May Allah provide you food! We came to the bank of the ocean and the ocean was tossing and it threw out a big animal and we lit fire and cooked it and took it until we had eaten to our hearts content. Jabir said: I and such and such five persons entered its socket and nobody could see us until we had come out, and we took hold of one of its ribs and twisted it into a sort of arch, then we called the tallest of the persons of the army and the hugest of the camels of the army and it had the big saddle over it, and it could easily pass through it without the rider having need to bend down.

7521Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا واقعہ ہجرت کے بیان میں

حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ بْنَ عَازِبٍ يَقُولُا جَائَ أَبُو بَکْرٍ الصِّدِّيقُ إِلَی أَبِي فِي مَنْزِلِهِ فَاشْتَرَی مِنْهُ رَحْلًا فَقَالَ لِعَازِبٍ ابْعَثْ مَعِيَ ابْنَکَ يَحْمِلْهُ مَعِي إِلَی مَنْزِلِي فَقَالَ لِي أَبِي احْمِلْهُ فَحَمَلْتُهُ وَخَرَجَ أَبِي مَعَهُ يَنْتَقِدُ ثَمَنَهُ فَقَالَ لَهُ أَبِي يَا أَبَا بَکْرٍ حَدِّثْنِي کَيْفَ صَنَعْتُمَا لَيْلَةَ سَرَيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ أَسْرَيْنَا لَيْلَتَنَا کُلَّهَا حَتَّی قَامَ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ وَخَلَا الطَّرِيقُ فَلَا يَمُرُّ فِيهِ أَحَدٌ حَتَّی رُفِعَتْ لَنَا صَخْرَةٌ طَوِيلَةٌ لَهَا ظِلٌّ لَمْ تَأْتِ عَلَيْهِ الشَّمْسُ بَعْدُ فَنَزَلْنَا عِنْدَهَا فَأَتَيْتُ الصَّخْرَةَ فَسَوَّيْتُ بِيَدِي مَکَانًا يَنَامُ فِيهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ظِلِّهَا ثُمَّ بَسَطْتُ عَلَيْهِ فَرْوَةً ثُمَّ قُلْتُ نَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَأَنَا أَنْفُضُ لَکَ مَا حَوْلَکَ فَنَامَ وَخَرَجْتُ أَنْفُضُ مَا حَوْلَهُ فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي غَنَمٍ مُقْبِلٍ بِغَنَمِهِ إِلَی الصَّخْرَةِ يُرِيدُ مِنْهَا الَّذِي أَرَدْنَا فَلَقِيتُهُ فَقُلْتُ لِمَنْ أَنْتَ يَا غُلَامُ فَقَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قُلْتُ أَفِي غَنَمِکَ لَبَنٌ قَالَ نَعَمْ قُلْتُ أَفَتَحْلُبُ لِي قَالَ نَعَمْ فَأَخَذَ شَاةً فَقُلْتُ لَهُ انْفُضْ الضَّرْعَ مِنْ الشَّعَرِ وَالتُّرَابِ وَالْقَذَی قَالَ فَرَأَيْتُ الْبَرَائَ يَضْرِبُ بِيَدِهِ عَلَی الْأُخْرَی يَنْفُضُ فَحَلَبَ لِي فِي قَعْبٍ مَعَهُ کُثْبَةً مِنْ لَبَنٍ قَالَ وَمَعِي إِدَاوَةٌ أَرْتَوِي فِيهَا لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَشْرَبَ مِنْهَا وَيَتَوَضَّأَ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَکَرِهْتُ أَنْ أُوقِظَهُ مِنْ نَوْمِهِ فَوَافَقْتُهُ اسْتَيْقَظَ فَصَبَبْتُ عَلَی اللَّبَنِ مِنْ الْمَائِ حَتَّی بَرَدَ أَسْفَلُهُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ اشْرَبْ مِنْ هَذَا اللَّبَنِ قَالَ فَشَرِبَ حَتَّی رَضِيتُ ثُمَّ قَالَ أَلَمْ يَأْنِ لِلرَّحِيلِ قُلْتُ بَلَی قَالَ فَارْتَحَلْنَا بَعْدَمَا زَالَتْ الشَّمْسُ وَاتَّبَعَنَا سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ وَنَحْنُ فِي جَلَدٍ مِنْ الْأَرْضِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أُتِينَا فَقَالَ لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا فَدَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَطَمَتْ فَرَسُهُ إِلَی بَطْنِهَا أُرَی فَقَالَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّکُمَا قَدْ دَعَوْتُمَا عَلَيَّ فَادْعُوَا لِي فَاللَّهُ لَکُمَا أَنْ أَرُدَّ عَنْکُمَا الطَّلَبَ فَدَعَا اللَّهَ فَنَجَا فَرَجَعَ لَا يَلْقَی أَحَدًا إِلَّا قَالَ قَدْ کَفَيْتُکُمْ مَا هَاهُنَا فَلَا يَلْقَی أَحَدًا إِلَّا رَدَّهُ قَالَ وَوَفَی لَنَا

سلمہ بن شبیب، حسن بن اعین، زہیر، ابواسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت براء بن عازب (رض) سنا وہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) میرے والد کے گھر میں تشریف لائے اور ان سے ایک کجاوہ خریدا پھر عازب یعنی میرے والد سے فرمایا کہ اپنے بیٹے (براء) کو میرے ساتھ بھیج دیں تاکہ وہ اس کجاوہ کو اٹھا کر میرے گھر لے چلے اور پھر میرے والد نے مجھ سے کہا کہ اسے اٹھا لے تو میں نے اس کجاوے کو اٹھا لیا اور میرے والد بھی حضرت ابوبکر (رض) کے ساتھ اس کجاوے کی قیمت وصول کرنے کے لئے نکلے تو میرے والد نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا اے ابوبکر مجھ سے بیان فرمائیں کہ جس رات تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گئے تھے (یعنی تم نے ملکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک کا جو سفر آپ ﷺ کے ساتھ کیا ہے اس کی کیفیت بیان کیجئے) حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : اچھا ! (اور پھر فرمایا کہ) ہم ساری رات چلتے رہے یہاں تک کہ دن چڑھ گیا اور ٹھیک دوپہر کا وقت ہوگیا اور راستہ خالی ہوگیا اور راستے میں کوئی گزرنے والا نہ رہا یہاں تک کہ ہمیں سامنے ایک لمبا پتھر دکھائی دیا جس کا سایہ زمین پر تھا اور ابھی تک وہاں دھوپ نہیں آئی تھی پھر ہم اس کے پاس اترے اور میں نے اس پتھر کے پاس جا کر اپنے ہاتھ سے جگہ صاف کی تاکہ نبی ﷺ اس کے سائے میں آرام فرمائیں پھر میں نے اس جگہ پر ایک دری بچھا دی پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ آرام فرمائیں اور میں آپ ﷺ کے اردگرد ہر طرف سے بیدار رہتا ہوں پھر آپ ﷺ سو گئے اور میں آپ کے اردگرد جاگ کر پہرہ دیتا رہا پھر میں نے سامنے کی طرف سے بکریوں کا ایک چرواہا دیکھا جو اپنی بکریوں کو لئے ہوئے اس پتھر کی طرف آرہا ہے اور چرواہا بھی اس پتھر سے وہی چاہتا تھا جو ہم نے چاہا (یعنی آرام) میں نے اس چرواہے سے ملاقات کی اور میں نے اس سے کہا اے لڑکے تو کس کا غلام ہے اس نے کہ میں مدینہ والوں میں سے ایک آدمی کا غلام ہوں میں نے کہا تیری بکریوں میں دودھ ہے اس نے کہا ہاں میں نے کہا کیا تو مجھے دودھ دے گا اس نے کہا ہاں پھر اس چرواہے نے ایک بکری پکڑی تو میں نے اس چرواہے سے کہا اس بکری کے تھن کو بالوں مٹی اور کچرے وغیرہ سے صاف کرلے راوی ابواسحاق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت براء کو دیکھا کہ وہ اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ پر مار کر دکھا رہے تھے اس چرواہے نے لکڑی کے ایک پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہا حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میرے پاس ایک ڈول تھا کہ جس میں نبی ﷺ کے پینے کے لئے اور وضو کے لئے پانی تھا حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور میں نے ناپسند سمجھا کہ میں آپ ﷺ کو نیند سے بیدا کروں لیکن آپ خود ہی بیدار ہوگئے پھر میں نے دودھ پر پانی بہایا تاکہ دودھ ٹھنڈا ہوجائے پھر میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ دودھ نوش فرمائیں حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے وہ دودھ پیا یہاں تک کہ میں خوش ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کیا یہاں سے کوچ کرنے کو وقت نہیں آیا میں نے عرض کیا جی ہاں وہ وقت آگیا ہے حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ پھر ہم سورج ڈھلنے کے بعد چلے اور سراقہ بن مالک نے ہمارا پیچھا کیا حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم جس زمین پر تھے وہ سخت زمین تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کافر ہم تک آگئے آپ ﷺ نے فرمایا فکر نہ کر کیونکہ ہمارے ساتھ اللہ ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے سراقہ کے لئے بد دعا فرمائی تو سراقہ کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ کہنے لگا مجھے معلوم ہے کہ تم نے میرے لئے بد دعا کی ہے اب تم میرے لئے دعا کرو اللہ کی قسم اب جو بھی آپ حضرات کی تلاش میں آئے گا میں اسے واپس کر دوں گا آپ ﷺ نے اس کے لئے اللہ سے دعا فرمائی تو اسے نجات مل گئی اور وہ واپس لوٹ گیا اور اسے جو کوئی کافر بھی ملتا وہ اسے کہہ دیتا کہ میں اس طرف دیکھ آیا ہوں سراقہ کو جو کافر بھی ملتا وہ اسے واپس لوٹا دیتا۔ حضرت ابوبکر (رض) فرماتے ہیں کہ سراقہ نے جو ہم سے کہا وہ اس نے پورا کیا۔

Al-Bara bin Azib (RA) reported that Abu Bakr Siddiq (RA) came to the residence of my father (Azib) and bought a haudaj from him and said to Azib: Send your son to my residence (to carry this haudaj), and my father said to me: Carry it (for him). So I carried it and there went along with him (with Abu Bakr) my father in order to fetch its price and he (Azib) said to Abu Bakr (RA) : Abu Bakr, narrate to me what you both did on the night when you set out on a journey along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said: We set out during the night and went on walking until it was noon, and the path was vacant and so none passed by that (until) there appeared prominently before us a large rock. It had its shade and the rays of the sun did not reach that place. So we got down at that place. I then went to the rock and levelled the ground with my hands at the place where the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would take rest under its shade. I then set the bedding and said: Allahs Messenger, go to sleep and I shall keep a watch around you. I went out and watched around him. There we saw a shepherd moving towards that rock with his flock and he intended what we intended (i. e. taking rest). I met him and said to him: Young boy, to which place do you belong? He said: I am a person from Madinah. I said, is there any milk in the udders of your sheep and goats? He said: Yes. He took hold of a goat, and I said to him: Clean the udder well so that it should be free from hair, dust and impurity. I saw al-Bara striking his hand upon the other (to give an indication) how he did that. He milked the goat for me in a wooden cup which he had with him and I had with me a bucket in which I kept water for drinking and for performing ablution. I came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and did not like to awaken him from sleep but he was accidentally startled from the sleep. I poured water upon the milk (till it was cold) and I said: Allahs Messenger, take this milk. He then took it and I was delighted and he (the Holy Prophet) said: Is now not the time to march on? I said: Of course. So he marched on after the sun had passed the meridian and Suraqa bin Malik pursued us and we had been walking on soft, level ground. I said: Allahs Messenger, we are about to be overtaken by them. Thereupon he said: Be not grieved. Verily, Allah is with us. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) cursed him and his horse sank into the earth. I think he also said: I know you have hurled curse upon me. So supplicate Allah for me and I take an oath that I shall turn everyone away who would come in search of you. So he (Allahs Messenger) supplicated Allah and he was rescued and he came back and to everyone he met, he said: I have combed all this side. In short, he diverted everyone whom he met and he in fact fulfilled his promise.

7522Sahih Muslimصحیح

جناب نبی ﷺ کا واقعہ ہجرت کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ کِلَاهُمَا عَنْ إِسْرَائِيلَ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ الْبَرَائِ قَالَ اشْتَرَی أَبُو بَکْرٍ مِنْ أَبِي رَحْلًا بِثَلَاثَةَ عَشَرَ دِرْهَمًا وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ زُهَيْرٍ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ و قَالَ فِي حَدِيثِهِ مِنْ رِوَايَةِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ فَلَمَّا دَنَا دَعَا عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَاخَ فَرَسُهُ فِي الْأَرْضِ إِلَی بَطْنِهِ وَوَثَبَ عَنْهُ وَقَالَ يَا مُحَمَّدُ قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ هَذَا عَمَلُکَ فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يُخَلِّصَنِي مِمَّا أَنَا فِيهِ وَلَکَ عَلَيَّ لَأُعَمِّيَنَّ عَلَی مَنْ وَرَائِي وَهَذِهِ کِنَانَتِي فَخُذْ سَهْمًا مِنْهَا فَإِنَّکَ سَتَمُرُّ عَلَی إِبِلِي وَغِلْمَانِي بِمَکَانِ کَذَا وَکَذَا فَخُذْ مِنْهَا حَاجَتَکَ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي فِي إِبِلِکَ فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ لَيْلًا فَتَنَازَعُوا أَيُّهُمْ يَنْزِلُ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَنْزِلُ عَلَی بَنِي النَّجَّارِ أَخْوَالِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أُکْرِمُهُمْ بِذَلِکَ فَصَعِدَ الرِّجَالُ وَالنِّسَائُ فَوْقَ الْبُيُوتِ وَتَفَرَّقَ الْغِلْمَانُ وَالْخَدَمُ فِي الطُّرُقِ يُنَادُونَ يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَا مُحَمَّدُ يَا رَسُولَ اللَّهِ

زہیر بن حرب، عثمان بن عمر، اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل، اسرائیل، ابواسحاق، براء روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے میرے والد سے تیرہ درہم پر ایک کجاوہ خریدا (اور پھر مذکورہ حدیث زہیرعن اسحاق کی روایت کی طرح روایت بیان کی) لیکن عثمان بن عمر (رض) کی اس روایت میں ہے کہ جب سراقہ بن مالک قریب آگیا تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے لئے بد دعا فرمائی اور اس کا گھوڑا اپنے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا سراقہ اپنے اس گھوڑے سے کو دا اور کہنے لگا اے محمد مجھے معلوم ہے کہ یہ آپ کا کام ہے اس لئے آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ مجھے اس تکلیف سے نجات دے دے اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو میرے پیچھے آرہے ہیں میں ان سے آپ کا حال چھپاؤں گا اور میرے اس ترکش سے ایک تیر لے لیں اور آپ کو فلاں فلاں مقام پر میرے اور میرے اونٹ اور غلام ملیں گے ان میں سے جتنی آپ کو ضرورت ہو آپ لے لیں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے تیرے اونٹوں کی کوئی ضرورت نہیں پھر ہم رات کو مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ اس بات میں جھگڑنے لگے کہ رسول اللہ ﷺ کس جگہ اتریں آپ نے فرمایا میں قبیلہ بنی نجار کے پاس اتروں گا وہ عبدالمطب کے ننھیال تھے آپ ﷺ نے ان کو عزت دی پھر مرد اور عورتیں گھروں کے اوپر چڑھے اور لڑکے اور غلام راستوں میں پھیل گئے اور یہ پکارنے لگے اے محمد اے اللہ کے رسول اے محمد اے اللہ کے رسول ﷺ ۔

Al-Bara reported: Abu Bakr (RA) purchased a saddle from me for thirteen dirhams; the rest of the hadith is the same, and in the narration of Uthman bin Umar, the words are: He (Suraqa bin Malik) drew near Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he (the Holy Prophet) cursed him and his camel sank in the earth up to the belly and he jumped from that and said: Muhammad, I am fully aware of it that it is your doing. Supplicate Allah that He should rescue me from it in which I am (pitchforked) and I give you a solemn pledge that I shall keep this as a secret from all those who are coming after me. Take hold of an arrow out of it (quiver) for you will find my camels and my slaves at such and such place and you can get whatever you need (on showing this arrow). He (the Holy Prophet) said: I dont need your camels. And we (the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abu Bakr) came to Madinah during the night and the people began to contend as to where Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) should reside and he encamped in the tribe of Najjar who were related to Abd ul-Muttalib from the side of mother. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) honoured them, then people climbed upon house-top and women also and boys scattered in the way, and they were all crying: Muhammad, Messenger of Allah, Muhammad, Messenger of Allah.

7523Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لِبَنِي إِسْرَائِيلَ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُولُوا حِطَّةٌ يُغْفَرْ لَکُمْ خَطَايَاکُمْ فَبَدَّلُوا فَدَخَلُوا الْبَابَ يَزْحَفُونَ عَلَی أَسْتَاهِهِمْ وَقَالُوا حَبَّةٌ فِي شَعَرَةٍ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل سے کہا گیا ادْخُلُوا الْبَابَ کہ دروازے میں داخل ہو سجدہ کرتے ہوئے اور کہتے جاؤ بخش دے تو، تو ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے لیکن بنی اسرائیل نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور (بیت المقدس) کے دروازے میں سے سرین کے بل گھسٹتے ہوئے اور حبہ (یعنی دانہ بال میں) کہتے ہوئے داخل ہوئے۔

Hammim bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) reported to us from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and in this connection he narrated some of the ahadith and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It was said to people of Israel: Enter this land saying Hitta (Remove Thou from us the burden of our sins), whereupon We would forgive you your sins, but they twisted (this statement) and entered the gate dragging upon their breech and said: The "grain in the ear."

7524Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بُکَيْرٍ النَّاقِدُ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنُونَ ابْنَ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ تَابَعَ الْوَحْيَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ وَفَاتِهِ حَتَّی تُوُفِّيَ وَأَکْثَرُ مَا کَانَ الْوَحْيُ يَوْمَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

عمرو بن محمد، ابن بکیر، ناقد، حسن بن علی حلوانی، عبد ابن حمید، عبد یعقوب ابن ابراہیم، ابن سعد ابوصالح ابن کیسان، حضرت ابن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ مجھے حضرت انس بن مالک (رض) نے خبر دی ہے کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ ﷺ پر آپ ﷺ کی وفات سے پہلے لگاتار وحی نازل فرمائی یہاں تک کہ جس دن رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی اس دن تو بہت ہی زیادہ مرتبہ وحی نازل ہوئی۔

Anas bin Malik (RA) reported that Allah, the Exalted and Glorious, sent revelation to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) just before his death in quick succession until he left for his heavenly home, and the day when he died, he received the revelation profusely.

7525Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَهُوَ ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ أَنَّ الْيَهُودَ قَالُوا لِعُمَرَ إِنَّکُمْ تَقْرَئُونَ آيَةً لَوْ أُنْزِلَتْ فِينَا لَاتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْيَوْمَ عِيدًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ حَيْثُ أُنْزِلَتْ وَأَيَّ يَوْمٍ أُنْزِلَتْ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيْثُ أُنْزِلَتْ أُنْزِلَتْ بِعَرَفَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفٌ بِعَرَفَةَ قَالَ سُفْيَانُ أَشُکُّ کَانَ يَوْمَ جُمُعَةٍ أَمْ لَا يَعْنِي الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِي

ابوخیثمہ، زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عبدالرحمن ابن مہدی، سفیان، قیس بن مسلم، حضرت طارق بن شہاب (رض) سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضرت عمر (رض) سے کہا تم ایک ایسی آیت کریمہ پڑھتے ہو (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5 ۔ المائدہ : 3) اگر یہ آیت کریمہ ہم لوگوں میں نازل ہوتی تو اس دن کو ہم عید کا دن بنا لیتے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھے معلوم ہے کہ یہ آیت کریمہ کہاں نازل ہوئی اور کس دن نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ کہاں تھے جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی میدان عرفات میں نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ بھی عرفات ہی میں ٹھہرے ہوئے تھے راوی حضرت سفیان کہتے ہیں کہ مجھے اس بات میں شک ہے کہ وہ جمعہ کا دن تھا یا نہیں یعنی الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ یعنی آج کے دن میں نے تم پر تمہارا دین کامل کردیا ہے اور اپنی نعمتوں کو تم پر پورا کردیا ہے۔

Tariq bin Shihab reported that a Jew said toUmar (RA) : You recite a verse which, if it had been revealed in relation to us, we would have taken that day as the day of rejoicing. Thereupon Umar said: I know where it was revealed and on the day when it was revealed and where Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been at that time when it was revealed. It was revealed on the day of Arafa (ninth of Dhul Hijjah) and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been staying in Arafat. Sufyan said: I doubt, whether it was Friday or not (and the verse referred to) is this: "Today I have perfected your religion for you and completed My favours upon you" (v. 4).

7526Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ قَالَتْ الْيَهُودُ لِعُمَرَ لَوْ عَلَيْنَا مَعْشَرَ يَهُودَ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةَ الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَکُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا نَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ فَقَدْ عَلِمْتُ الْيَوْمَ الَّذِي أُنْزِلَتْ فِيهِ وَالسَّاعَةَ وَأَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَتْ نَزَلَتْ لَيْلَةَ جَمْعٍ وَنَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابی بکر، عبداللہ بن ادریس، قیس بن مسلم، حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ یہودیوں نے حضرت عمر (رض) سے کہا اگر ہم یہودیوں کے گروہ پر یہ آیت کریمہ (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5 ۔ المائدہ : 3) آج کے دن میں تم پر تمہارا دین مکمل کردیا ہے اور میں نے اپنی نعمت تم پر پوری کردی ہے اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کرلیا ہے نازل ہوتی اور ہم اس آیت کریمہ کے نزول کے دن کو جان لیتے تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا مجھے وہ دن اور وہ وقت بھی معلوم ہے اور یہ بھی معلوم ہے کہ اس وقت رسول اللہ ﷺ کہاں تھے جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو ہم اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عرفات میں جمع تھے۔

Tariq bin Shihab reported that a Jew said to Umar (RA) : If this verse were revealed in relation to the Jews (i. e. "This day I have perfected your religion for you and have completed My favours for you and have chosen for you al-Islam as religion") we would have taken the day of rejoicing on which this verse was revealed. Thereupon Umar said: I know the day on which it was revealed and the hour when it was revealed and where Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been when it was revealed. It was revealed on the night of Friday and we were in Arafat with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at that time.

7527Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنِي عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عُمَيْسٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ قَالَ جَائَ رَجُلٌ مِنْ الْيَهُودِ إِلَی عُمَرَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ آيَةٌ فِي کِتَابِکُمْ تَقْرَئُونَهَا لَوْ عَلَيْنَا نَزَلَتْ مَعْشَرَ الْيَهُودِ لَاتَّخَذْنَا ذَلِکَ الْيَوْمَ عِيدًا قَالَ وَأَيُّ آيَةٍ قَالَ الْيَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْکُمْ نِعْمَتِي وَرَضِيتُ لَکُمْ الْإِسْلَامَ دِينًا فَقَالَ عُمَرُ إِنِّي لَأَعْلَمُ الْيَوْمَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ وَالْمَکَانَ الَّذِي نَزَلَتْ فِيهِ نَزَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَرَفَاتٍ فِي يَوْمِ جُمُعَةٍ

عبد بن حمید، جعفر، عون، ابوعمیس، قیس بن مسلم، حضرت طارق بن شہاب سے روایت ہے کہ یہودیوں کا ایک آدمی حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہنے لگا اے امیر المومنین تمہاری کتاب میں ایک آیت کریمہ ہے جسے تم پڑھتے ہو اگر وہ آیت کریمہ ہم پر یعنی یہودیوں کے گروہ پر نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید کا دن بنا لیتے حضرت عمرنے فرمایا وہ کون سی آیت کریمہ ہے یہودی آدمی نے کہا (اَلْيَوْمَ اَ كْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِيْ وَرَضِيْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِيْنًا) 5 ۔ المائدہ : 3) تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں اس دن کے بارے میں جانتا ہوں کہ جس دن میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی جس جگہ اور جس دن رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی وہ عرفات کا میدان اور جمعہ کا دن ہے۔

Tariq bin Shihab reported that a Jew came to Umar and said: Commander of the Faithful, there is a verse in your Book, which you recite. Had it been revealed in connection with the Jews, we would have taken it as the day of rejoicing. Thereupon he said: Which verse do you mean? He replied: "This day I have perfected your religion for you and I have completed My favours upon you and I have chosen al-Islam as religion for you." Umar said, I know the day when it was revealed and the place where it was revealed. It was revealed to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) at Arafat on Friday.

7528Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ قَالَ أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا و قَالَ حَرْمَلَةُ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ مَثْنَی وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي هِيَ الْيَتِيمَةُ تَکُونُ فِي حَجْرِ وَلِيِّهَا تُشَارِکُهُ فِي مَالِهِ فَيُعْجِبُهُ مَالُهَا وَجَمَالُهَا فَيُرِيدُ وَلِيُّهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا بِغَيْرِ أَنْ يُقْسِطَ فِي صَدَاقِهَا فَيُعْطِيَهَا مِثْلَ مَا يُعْطِيهَا غَيْرُهُ فَنُهُوا أَنْ يَنْکِحُوهُنَّ إِلَّا أَنْ يُقْسِطُوا لَهُنَّ وَيَبْلُغُوا بِهِنَّ أَعْلَی سُنَّتِهِنَّ مِنْ الصَّدَاقِ وَأُمِرُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا طَابَ لَهُمْ مِنْ النِّسَائِ سِوَاهُنَّ قَالَ عُرْوَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ اسْتَفْتَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ فِيهِنَّ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْتَفْتُونَکَ فِي النِّسَائِ قُلْ اللَّهُ يُفْتِيکُمْ فِيهِنَّ وَمَا يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ فِي يَتَامَی النِّسَائِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا کُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ قَالَتْ وَالَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ تَعَالَی أَنَّهُ يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ الْآيَةُ الْأُولَی الَّتِي قَالَ اللَّهُ فِيهَا وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ قَالَتْ عَائِشَةُ وَقَوْلُ اللَّهِ فِي الْآيَةِ الْأُخْرَی وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ رَغْبَةَ أَحَدِکُمْ عَنْ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَکُونُ فِي حَجْرِهِ حِينَ تَکُونُ قَلِيلَةَ الْمَالِ وَالْجَمَالِ فَنُهُوا أَنْ يَنْکِحُوا مَا رَغِبُوا فِي مَالِهَا وَجَمَالِهَا مِنْ يَتَامَی النِّسَائِ إِلَّا بِالْقِسْطِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ

ابوطاہر احمد بن عمرو بن سرح، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، عروہ بن زبیر، حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عروہ بن زبیر (رض) نے مجھے خبر دی ہے کہ انہوں نے سیدہ عائشہ (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ ) 4 ۔ النساء : 3) کہ اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ تم یتیموں کے بارے میں انصاف نہ کرسکو گے تو پھر ان عورتوں سے نکاح کرلو جو تمہیں پسند ہیں دو دو یا تین تین یا چار چار سے کے بارے میں پوچھا سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا اے بھانجے اس سے مراد وہ یتیم بچی ہے جو اپنے ولی کے زیر تربیت ہو اور وہ ولی اس کا مال اور اس کی خوبصورتی دیکھ کر اس سے نکاح کرنا چاہتا ہو بغیر اس کے کہ اس کے مہر میں انصاف کرے اور اس قدر اسے مہر کی رقم دینے پر رضامند نہ ہو کہ جس قدر دوسرے لوگ مہر کی رقم دینے کے لئے راضی ہوں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی لڑکیوں سے نکاح کرنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس صورت میں کہ ان سے انصاف کریں اور ان کو پورا مہر ادا کریں اور ان کو حکم دے دیا ہے کہ وہ عورتوں سے جو ان کو پسند ہوں نکاح کرلیں حضرت عروہ (رض) فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا پھر لوگوں نے اس آیت کریمہ کے بعد رسول اللہ ﷺ سے یتیم لڑکیوں کے بارے میں پوچھا تو پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی (وَيَسْتَفْتُوْنَكَ فِي النِّسَا ءِ قُلِ اللّٰهُ يُفْتِيْكُمْ فِيْهِنَّ وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَا ءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ ) 4 ۔ النساء : 127) اے نبی ﷺ لوگ آپ ﷺ سے رخصت مانگتے ہیں عورتوں کے نکاح کی آپ ﷺ ان کو فرما دیں کہ اللہ تم کو اجازت دیتا ہے ان کی اور وہ جو تم کو سنایا جاتا ہے قرآن میں سو حکم ہے ان یتیم عورتوں کا جن کو تم نہیں دیتے جو ان کے لئے مقرر کیا ہے اور تم چاہتے ہو کہ ان کو نکاح میں لے آؤ، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ اس آیت میں اللہ نے جو ذکر فرمایا (يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ ) کہ تم کو سنایا جاتا ہے قرآن میں اس سنائے جانے سے مراد وہی پہلی آیت ہے (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ ) 4 ۔ النساء : 3) ہے اور سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کے فرمان دوسری آیت کریمہ (وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ رَغْبَةَ أَحَدِکُمْ عَنْ الْيَتِيمَةِ الَّتِي تَکُونُ فِي حَجْرِهِ ) سے مراد یہ ہے کہ اگر تم میں سے کسی کے ہاں کوئی یتیم لڑکی زیر تربیت ہو اور مال و خوبصورتی میں کم ہو تو اگر اس وجہ سے اس کے ساتھ نکاح کرنے سے اعراض کرتا ہے تو ان کو اس سے منع کیا گیا ہے کہ جو یتیم عورتوں کے مال اور خوبصورتی میں رغبت کرتے ہیں کہ بغیر انصاف کے ان کے ساتھ نکاح نہ کریں۔

Urwa bin Zubair reported that he asked Aisha about the words of Allah: "If you fear that you will not be able to maintain equity amongst the orphan girls, then marry (those) you like from amongst the women two, three or four." She said: O, the son of my sister, the orphan girl is one who is under the patronage of her guardian and she shares with him in his property and her property and beauty fascinate him and her guardian makes up his mind to marry her without giving her due share of the wedding money and is not prepared (to pay so much amount) which anyone else is prepared to pay and so Allah has forbidden to marry these girls but in case when equity is observed as regards the wedding money and they are prepared to pay them the full amount of the wedding money and Allah commanded to marry other women besides them according to the liking of their heart. Urwa reported that Aisha said that people began to seek verdict from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) after the revelation of this verse about them (orphan girls) and Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "They asked thee verdict about women; say: Allah gives verdict to you in regard to them and what is recited to you in the Book about orphan woman, whom you give not what is ordained for them while you like to marry them" (iv. 126). She said: The wording of Allah "what is recited to you" in the Book means the first verse, i. e. "if you fear that you may not be able to observe equity in case of an orphan woman, marry what you like in case of woman" (iv. 3). Aisha said: (And as for this verse [iv. 126], i. e. and you intend "to marry one of them from amongst the orphan girls" it pertains to one who is in charge (of orphans) having small amount of wealth and less beauty and they have been forbidden that they should marry what they like of her wealth and beauty out of the orphan girls, but with equity, because of their disliking for them.

7529Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

و حَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ جَمِيعًا عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ وَزَادَ فِي آخِرِهِ مِنْ أَجْلِ رَغْبَتِهِمْ عَنْهُنَّ إِذَا کُنَّ قَلِيلَاتِ الْمَالِ وَالْجَمَالِ

حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم، ابن سعد، ابوصالح، عروہ حضرت ابن شہاب سے روایت ہے کہ حضرت عروہ (رض) نے مجھے خبر دی کہ انہوں نے سیدہ عائشہ (رض) سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی) کے بارے میں پوچھا (اور پھر اس کے بعد) یونس عن الزہری کی روایت کی طرح بیان کی اور اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ زائد ہیں ان عورتوں کے مال اور حسن کی کمی کی وجہ سے نکاح کرنے سے اعراض کریں۔

Urwa reported that he asked Aisha about the words of Allah: "If you fear that you will not be able to observe equity in case of orphan girls" ; the rest of the hadith is the same but with a slight variation of wording.

7530Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الرَّجُلِ تَکُونُ لَهُ الْيَتِيمَةُ وَهُوَ وَلِيُّهَا وَوَارِثُهَا وَلَهَا مَالٌ وَلَيْسَ لَهَا أَحَدٌ يُخَاصِمُ دُونَهَا فَلَا يُنْکِحُهَا لِمَالِهَا فَيَضُرُّ بِهَا وَيُسِيئُ صُحْبَتَهَا فَقَالَ إِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَی فَانْکِحُوا مَا طَابَ لَکُمْ مِنْ النِّسَائِ يَقُولُ مَا أَحْلَلْتُ لَکُمْ وَدَعْ هَذِهِ الَّتِي تَضُرُّ بِهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کے فرمان (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَا ءِ ) 4 ۔ النساء : 3) کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم بچی ہو اور وہ آدمی اس بچی کا سرپرست اور اس کا وارث ہو اور اس بچی کے پاس مال بھی ہو اور اسی بچی کے پاس اس آدمی کے علاوہ اس بچی کی طرف سے کوئی جھگڑنے والا بھی نہ ہو تو وہ آدمی اس کے مال کی وجہ سے اس کا نکاح نہ کرے اور اس یتیم بچی کو تکلیف پہنچائے اور برے طریقے سے اس کے ساتھ پیش آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (وَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتٰمٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَا ءِ ) 4 ۔ النساء : 3) اگر تم کو اس بات کا ڈر ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرسکو گے تو جو عورتیں تمہیں پسند ہیں ان سے نکاح کرو یعنی جو عورتیں میں نے تمہارے لئے حلال کردی ہیں ان سے نکاح کرو اور تم اس یتیم لڑکی کو چھوڑ دو جسے تم تکلیفیں پہنچا رہے ہو۔

Aisha said that as for the words of Allah: "If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls)," it was revealed in reference to a person who had an orphan girl (as his ward) and he was her guardian, and her heir, and she possessed property, but there was none to contend on her behalf except her ownself. And he (her guardian) did not give her in marriage because of her property and he tortured her and ill-treated her, it was in relation to her that (Allah said:) "If you fear that you would not be able to observe equity in case of orphan girls, then marry whom you like among women," i. e. whatever I have made lawful for you and leave her whom you are putting to torture.

7531Sahih Muslimصحیح

مختلف آیات کی تفسیر کے بیان می

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ فِي قَوْله وَمَا يُتْلَی عَلَيْکُمْ فِي الْکِتَابِ فِي يَتَامَی النِّسَائِ اللَّاتِي لَا تُؤْتُونَهُنَّ مَا کُتِبَ لَهُنَّ وَتَرْغَبُونَ أَنْ تَنْکِحُوهُنَّ قَالَتْ أُنْزِلَتْ فِي الْيَتِيمَةِ تَکُونُ عِنْدَ الرَّجُلِ فَتَشْرَکُهُ فِي مَالِهِ فَيَرْغَبُ عَنْهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا وَيَکْرَهُ أَنْ يُزَوِّجَهَا غَيْرَهُ فَيَشْرَکُهُ فِي مَالِهِ فَيَعْضِلُهَا فَلَا يَتَزَوَّجُهَا وَلَا يُزَوِّجُهَا غَيْرَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدہ بن سلیمان، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) اللہ تعالیٰ کا فرمان (وَمَا يُتْلٰي عَلَيْكُمْ فِي الْكِتٰبِ فِيْ يَتٰمَي النِّسَا ءِ الّٰتِيْ لَا تُؤْتُوْنَھُنَّ مَا كُتِبَ لَھُنَّ وَتَرْغَبُوْنَ اَنْ تَنْكِحُوْھُنَّ ) 4 ۔ النساء : 127) کے بارے میں فرماتی ہیں کہ یہ آیت کریمہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو کسی ایسے آدمی کے زیر تربیت ہو کہ جو اس لڑکی کے مال میں شریک ہو یہ خود بھی اس لڑکی سے نکاح نہ کرنا چاہتا ہو اور کسی اور سے بھی اس کا نکاح کرانا پسند نہ کرتا ہو اس ڈر سے کہ کہیں وہ اس کے مال میں شریک نہ ہوجائے اور وہ آدمی اس یتیم لڑکی کو ایسے ہی لٹکائے رکھے نہ خود اس سے نکاح کرتا ہو اور نہ ہی کسی دوسرے کو اس سے نکاح کرنے دے۔

Aisha said in connection with His words (those of Allah): "What is recited to you in the Book about orphan women whom you give not what is ordained for them, while you like to marry them," these were revealed in connection with an orphan girl who was in the custody of the person and she shared with him in his property and he was reluctant to marry her himself and was also unwilling to marry her to someone else (fearing) that (that person) would share in his property (as the husband of that girl), preventing her to marry, neither marrying her himself nor marrying her to another person.