Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 375 of 379

7492Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيُمْسِکْ بِيَدِهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

قتیبہ بن سعید، عبدالعزیز سہیل بن حضرت عبدالرحمن بن ابی سعید (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کو جمائی آئے تو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے اس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوجاتا ہے۔

The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When one of you yawns, he should try to restrain it with the help of his hand since it is the Satan that enters therein.

7493Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فِي الصَّلَاةِ فَلْيَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، سہیل بن ابوصالح، ابن ابوسعید خدری (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کو جمائی تو اسے چاہئے کہ اپنے ہاتھ سے اس کو روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوجاتا ہے۔

The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said. When one of you yawns while engaged in prayer, he should try to restrain so far as it lies in his power, since it is the Satan that enter therein.

7494Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ وَعَنْ ابْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ بِشْرٍ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، سہیل ابن ابوسعید، حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا (اور پھر) بشر اور عبدالعزیز کی روایت کی طرح نقل کیا ہے۔

Abu Said al-Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a hadith like this through another chain of transmitters.

7495Sahih Muslimصحیح

متفرق احادیث مبارکہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خُلِقَتْ الْمَلَائِکَةُ مِنْ نُورٍ وَخُلِقَ الْجَانُّ مِنْ مَارِجٍ مِنْ نَارٍ وَخُلِقَ آدَمُ مِمَّا وُصِفَ لَکُمْ

محمد بن رافع، عبد بن حمید عبد ابن رافع، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا فرشتوں کو نور سے پیدا کیا گیا ہے اور جنوں کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا گیا ہے اور حضرت آدم کو اس چیز سے (جس کا ذکر قرآن مجید میں) کیا گیا ہے۔

Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The Angels were born out of light and the Jinns were born out of the spark of fire and Adam علیہ السلامwas born as he has been defined (in the Quran) for you (i. e. he is fashioned out of clay).

7496Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ چوہا مسخ شدہ ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرُّزِّيُّ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُقِدَتْ أُمَّةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا يُدْرَی مَا فَعَلَتْ وَلَا أُرَاهَا إِلَّا الْفَأْرَ أَلَا تَرَوْنَهَا إِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الْإِبِلِ لَمْ تَشْرَبْهُ وَإِذَا وُضِعَ لَهَا أَلْبَانُ الشَّائِ شَرِبَتْهُ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَحَدَّثْتُ هَذَا الْحَدِيثَ کَعْبًا فَقَالَ آنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ ذَلِکَ مِرَارًا قُلْتُ أَأَقْرَأُ التَّوْرَاةَ و قَالَ إِسْحَقُ فِي رِوَايَتِهِ لَا نَدْرِي مَا فَعَلَتْ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، محمد بن عبداللہ رزی، ثقفی، ابن مثنی، عبدالوہاب، خالد، محمد بن سیرین، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی اسرائیل کا ایک گروہ گم ہوگیا تھا اور یہ پتہ نہیں لگ رہا تھا کہ وہ کہاں گیا ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ (مسخ شدہ) چوہے ہیں کیا تم یہ نہیں دیکھتے کہ جب چوہوں کے سامنے اونٹوں کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے نہیں پیتے اور جب ان کے سامنے بکریوں کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ پی لیتے ہیں حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث حضرت کعب (رض) سے بیان کی تو انہوں نے فرمایا کیا تو نے یہ حدیث رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے میں نے کہا ہاں انہوں نے باربار یہی پوچھا تو میں نے کہا کیا آپ نے تو راہ پڑھی ہے اسحاق نے اپنی روایت میں کہا ہے کہ ہم نہیں جانتے کہ اس گروہ کا کیا ہوا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: A group of Bani Israil was lost. I do not know what happened to it, but I think (that it underwent a process of metamorphosis) and assumed the shape of rats. Dont you see when the milk of the camel is placed before them, these do not drink and when the milk of goat is placed before them, these do drink. Abu Hurairah (RA) said: I narrated this very hadith to Kab and he said: Did you hear this from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? I ( Abu Hurairah (RA) ) said: Yes. He said this again and again, and I said: Have I read Torah? This hadith has been transmitted on the authority of Ishaq with a slight variation of wording.

7497Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ چوہا مسخ شدہ ہے۔

و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ الْفَأْرَةُ مَسْخٌ وَآيَةُ ذَلِکَ أَنَّهُ يُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْغَنَمِ فَتَشْرَبُهُ وَيُوضَعُ بَيْنَ يَدَيْهَا لَبَنُ الْإِبِلِ فَلَا تَذُوقُهُ فَقَالَ لَهُ کَعْبٌ أَسَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفَأُنْزِلَتْ عَلَيَّ التَّوْرَاةُ

ابوکریب محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، محمد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ چوہا مسخ شدہ ہے اور اس بات کی نشانی یہ ہے کہ جب چوہے کے سامنے بکری کا دودھ رکھا جاتا ہے تو وہ اسے پی جاتا ہے اور اونٹوں کا دودھ رکھا جائے تو اسے نہیں پیتا حضرت کعب نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے فرمایا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا تو کیا میرے اوپر تورات نازل ہوئی تھی ؟

Abu Hurairah (RA) reported that the rat (is the result of) metamorphosis (of a group of Bani Israil) and the proof of this is that when the milk of goat is placed before it, it drinks it, and when the milk of the camel is placed before it, it would not taste it at all. Kab said: Did you hear it from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? Thereupon he said: Has Torah been revealed to me?

7498Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يُلْدَغُ الْمُؤْمِنُ مِنْ جُحْرٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا مومن ایک سوارخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاسکتا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The believer does not allow to be stung twice from one (and the same) hole.

7499Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جا سکتا

و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوطاہر، حرملہ، ابن وہب، یونس، زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی ابن شہاب، ابن مسیب، حضرت ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.

7500Sahih Muslimصحیح

ت اس بات کے بیان میں کہ مومن کے ہر معاملے میں خیر ہی خیر ہے۔

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ جَمِيعًا عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ وَاللَّفْظُ لِشَيْبَانَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ صُهَيْبٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ کُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاکَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّائُ شَکَرَ فَکَانَ خَيْرًا لَهُ وَإِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّائُ صَبَرَ فَکَانَ خَيْرًا لَهُ

ہداب بن خالد ازدی، شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، شیبان، سلیمان، ثابت، عبدالرحمن ابن ابی لیلی حضرت صہیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مومن آدمی کا بھی عجیب حال ہے کہ اس کے ہر حال میں خیر ہی خیر ہے اور یہ بات کسی کو حاصل نہیں سوائے اس مومن آدمی کے کہ اگر اسے کوئی تکلیف بھی پہنچی تو اسے نے شکر کیا تو اس کے لئے اس میں بھی ثواب ہے اور اگر اسے کوئی نقصان پہنچا اور اس نے صبر کیا تو اس کے لئے اس میں بھی ثواب ہے۔

Suhaib reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Strange are the ways of a believer for there is good in every affair of his and this is not the case with anyone else except in the case of a believer. For if he has an occasion to feel delight, he thanks (God), thus there is a good for him in it, and if he gets into trouble and shows resignation (and endures it patiently), there is a good for him in it.

7501Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَدَحَ رَجُلٌ رَجُلًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَقَالَ وَيْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا إِذَا کَانَ أَحَدُکُمْ مَادِحًا صَاحِبَهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا وَاللَّهُ حَسِيبُهُ وَلَا أُزَکِّي عَلَی اللَّهِ أَحَدًا أَحْسِبُهُ إِنْ کَانَ يَعْلَمُ ذَاکَ کَذَا وَکَذَا

یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، خالد حذاء، حضرت عبدالرحمن بن بکرہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ کے پاس کسی دوسرے آدمی کی تعریف بیان کی تو آپ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی تو نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی کئی مرتبہ آپ ﷺ نے اسے دہرایا کہ جب تم میں سے کوئی آدمی اپنے ساتھی کی تعریف ہی کرنا چاہئے تو اسے چاہئے کہ وہ ایسے کہے میرا گمان ہے اور اللہ خوب جانتا ہے اور میں اس کے دل کا حال نہیں جانتا انجام کا علم اللہ ہی کو ہے کہ وہ ایسے ایسے ہے۔

Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) reported on the authority of his father that a person praised another person in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , whereupon he said: Woe be to thee, you have broken the neck of your friend, you have broken the neck of your friend-he said this twice. If one of you has to praise his friend at all, he should say: I think (him to be) so and Allah knows it well and I do not know the secret of the heart and Allah knows the destined end, and I cannot testify his purity against Allah but (he appears) to be so and so.

7502Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبَّادِ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ قَالَ شُعْبَةُ حَدَّثَنَا عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّائِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ ذُکِرَ عِنْدَهُ رَجُلٌ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ فِي کَذَا وَکَذَا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيْحَکَ قَطَعْتَ عُنُقَ صَاحِبِکَ مِرَارًا يَقُولُ ذَلِکَ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ کَانَ أَحَدُکُمْ مَادِحًا أَخَاهُ لَا مَحَالَةَ فَلْيَقُلْ أَحْسِبُ فُلَانًا إِنْ کَانَ يُرَی أَنَّهُ کَذَلِکَ وَلَا أُزَکِّي عَلَی اللَّهِ أَحَدًا

محمد بن عمرو، عباد بن جبلہ بن ابی رواد، محمد بن جعفر، ابوبکر بن نافع، غندر، شعبہ، خالد، حضرت عبدالرحمنن بن ابی بکرہ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک آدمی کا ذکر کیا گیا ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول فلاں فلاں کام میں رسول اللہ کے بعد کوئی بھی اس سے بہتر نہیں ہے تو نبی ﷺ نے فرمایا تجھ پر افسوس ہے کہ تو نے اپنے ساتھی کی گردن کاٹ دی آپ نے یہ جملہ کئی مرتبہ دہرایا پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی کی تعریف ضرور ہی کرنا چاہے تو اسے چاہے کہ وہ فرمائے میں گمان کرتا ہوں کہ وہ ایسا ہی ہے اور وہ اس پر یہ بھی رائے رکھے کہ میں اللہ کے مقابلے میں کسی کو بہتر نہیں سمجھتا۔

Abdul Rahman bin Abu Bakra (RA) reported on the authority of his father that a person was mentioned in the presence of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and a person said: Allahs Messenger, no person is more excellent than he after Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Woe be to thee, you have broken the neck of your friend, and he said this twice. Then Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If anyone has to praise his brother at all, he should say: I think him to be so and so, and even on this he should say: I do not consider anyone purer than Allah (considers).

7503Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ کِلَاهُمَا عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ زُرَيْعٍ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا فَقَالَ رَجُلٌ مَا مِنْ رَجُلٍ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْهُ

عمرو ناقد، ہاشم بن قاسم، ابوبکر بن ابی شیبہ، شبابہ بن قاسم، ابوبکر بن حضرت شعبہ (رض) سے اس سند کے ساتھ یزید بن زریع کی روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے صرف لفظی تبدیلی کا فرق ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Shubah with a slight variation of wording.

7504Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ زَکَرِيَّائَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ سَمِعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا يُثْنِي عَلَی رَجُلٍ وَيُطْرِيهِ فِي الْمِدْحَةِ فَقَالَ لَقَدْ أَهْلَکْتُمْ أَوْ قَطَعْتُمْ ظَهْرَ الرَّجُلِ

ابوجعفر محمد بن صباح، اسمعل بن زکریا، برید بن عبداللہ بن ابوبردہ (رض) حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ایک آدمی سے کسی آدمی کے بارے میں بہت زیادہ تعریف سنی تو آپ نے فرمایا تم نے اسے ہلاک کردیا یا تم نے اس آدمی کی پشت کاٹ دی۔

Abu Musa reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw a person lauding another person or praising him too much. Thereupon he said: You killed him, or you sliced the back of a person.

7505Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی جَمِيعًا عَنْ ابْنِ مَهْدِيٍّ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ حَبِيبٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ قَالَ قَامَ رَجُلٌ يُثْنِي عَلَی أَمِيرٍ مِنْ الْأُمَرَائِ فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثِي عَلَيْهِ التُّرَابَ وَقَالَ أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثِيَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن مہدی، عبدالرحمن، سفیان، حبیب، مجاہد، حضرت ابومعمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور وہ امیروں میں سے ایک آدمی کی بڑی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد اس آدمی کے منہ پر مٹی ڈالنے لگے اور فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ بہت زیادہ تعریف کرنے والے کے چہروں پر مٹی ڈال دیں۔

Abu Mamar reported that a person lauded a ruler amongst the rulers and Miqdad began to throw dust upon him and he said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded us that we should throw dust upon the faces of those who shower too much praise.

7506Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّ رَجُلًا جَعَلَ يَمْدَحُ عُثْمَانَ فَعَمِدَ الْمِقْدَادُ فَجَثَا عَلَی رُکْبَتَيْهِ وَکَانَ رَجُلًا ضَخْمًا فَجَعَلَ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ الْحَصْبَائَ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ مَا شَأْنُکَ فَقَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ الْمَدَّاحِينَ فَاحْثُوا فِي وُجُوهِهِمْ التُّرَابَ

محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبی، منصور، ابراہیم، حضرت ہمام بن حارث سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضرت عثمان کی تعریف کرنے لگا تو حضرت مقداد اپنے گھنٹوں کے بل بیٹھے اور وہ ایک بھاری بدن آدمی تھے تو اس تعریف کرنے والے آدمی کے چہرے میں کنکریاں ڈالنے لگے تو حضرت عثمان (رض) نے حضرت مقداد سے فرمایا تجھے کیا ہوگیا ہے حضرت مقداد نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اب تم تعریف کرنے والوں کو دیکھو تو ان کے چہروں میں مٹی ڈال دو ۔

Hammam bin al-Harith reported that a person began to praise Uthman and Miqdad sat upon his knee; and he was a bulky person and began to throw pebbles upon his (flatterers) face. Thereupon Uthman said: What is the matter with you? And he said: Verily, Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When you see those who shower (undue) praise (upon others), throw dust upon their faces.

7507Sahih Muslimصحیح

کسی کی اس قدر زیادہ تعریف کرنے کی ممانعت کے بیان میں کہ جس کی وجہ سے اس کے فتنہ میں پڑنے کا خطرہ ہو۔

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ الْأَعْمَشِ وَمَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ الْمِقْدَادِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، عبدالرحمن، سفیان، منصور، عثمان بن ابی شیبہ، اشجعی، عبیداللہ بن عبیدالرحمن، سفیان، اعمش، منصور، ابراہیم، ہمام، حضرت مقداد نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Miqdad through another chain of transmitters.

7508Sahih Muslimصحیح

(کوئی چیز) بڑے کو دینے کے بیان میں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا صَخْرٌ يَعْنِي ابْنَ جُوَيْرِيَةَ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي فِي الْمَنَامِ أَتَسَوَّکُ بِسِوَاکٍ فَجَذَبَنِي رَجُلَانِ أَحَدُهُمَا أَکْبَرُ مِنْ الْآخَرِ فَنَاوَلْتُ السِّوَاکَ الْأَصْغَرَ مِنْهُمَا فَقِيلَ لِي کَبِّرْ فَدَفَعْتُهُ إِلَی الْأَکْبَرِ

نصر بن علی، ابی صخر، ابن جویریہ، نافع، ابن عمر (رض) بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے خواب دیکھا کہ میں مسواک کر رہا ہوں تو دو آدمیوں نے مجھے کھینچا ان میں سے ایک دوسرے سے بڑا تھا تو میں نے مسواک چھوٹے کو دے دی تو مجھے سے کہا گیا کہ مسواک بڑے کو دو تو پھر میں نے چھوٹے سے لے کر بڑے کو دے دی۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: It was shown in a vision that I was rinsing my mouth with miswak and two persons began to contend with one another for getting that miswak. One was older than the other. I gave the miswak to the younger one amongst them, but it was said to me: (Let it be given) to the older one. So I gave it to the older one.

7509Sahih Muslimصحیح

حدیث مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنے اور علم کے لکھنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ حَدَّثَنَا بِهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ کَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ وَيَقُولُ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ اسْمَعِي يَا رَبَّةَ الْحُجْرَةِ وَعَائِشَةُ تُصَلِّي فَلَمَّا قَضَتْ صَلَاتَهَا قَالَتْ لِعُرْوَةَ أَلَا تَسْمَعُ إِلَی هَذَا وَمَقَالَتِهِ آنِفًا إِنَّمَا کَانَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِّثُ حَدِيثًا لَوْ عَدَّهُ الْعَادُّ لَأَحْصَاهُ

ہارون بن معروف، سفیان بن عیینہ، حضرت ہشام اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ (رض) حدیث بیان فرمایا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے سن حجرہ والی سن اے حجرہ والی سن اور سیدہ عائشہ (رض) نماز پڑھ رہی تھیں پھر جب وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوگئیں تو حضرت عائشہ (رض) نے حضرت عروہ (رض) سے فرمایا کیا تو نے حضرت ابوہریرہ (رض) کی وہ حدیثیں نہیں سنی کہ جو نبی ﷺ حدیث بیان فرمایا کرتے تھے اور اگر کوئی شمار کرنے والا آدمی انہیں شمار کرنا چاہتا تو انہیں شمار کرلیتا۔

Hurairah used to say: Listen to me, inmate of the apartment; listen to me, inmate of the It was reported that Abu apartment, while Aisha (Allah be pleased with her) had been busy in observing prayer. As she finished prayer, she said to "Urwa (RA) : Did you hear his words? And this is how Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to utter (so distinctly) that if one intended to count (the words uttered) he would be able to do so.

7510Sahih Muslimصحیح

حدیث مبارکہ کو سمجھ کر پڑھنے اور علم کے لکھنے کے حکم کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَکْتُبُوا عَنِّي وَمَنْ کَتَبَ عَنِّي غَيْرَ الْقُرْآنِ فَلْيَمْحُهُ وَحَدِّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ وَمَنْ کَذَبَ عَلَيَّ قَالَ هَمَّامٌ أَحْسِبُهُ قَالَ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ

ہداب بن خالد ازدی، ہمام، زید بن اسلم، عطاء ابن یسار، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم مجھ سے کوئی بات نہ لکھو اور جس آدمی نے قرآن مجید کے علاوہ مجھ سے کچھ سن کر لکھا ہے تو وہ اس مٹا دے اور مجھ سے (سنی ہوئی احادیث) بیان کرو اس میں کوئی گناہ نہیں اور جس آدمی نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھا تو اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لے۔

Abu Said Khudri reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Do not take down anything from me, and he who took down anything from me except the Quran, he should efface that and narrate from me, for there is no harm in it and he who attributed any falsehood to me -and Hammam said: I think he also said: "deliberately"- he should in fact find his abode in the Hell-Fire.

7511Sahih Muslimصحیح

اصحاب الاخددو (یعنی خندق والے) اور جادوگر اور ایک اور غلام کے واقعہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ صُهَيْبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَانَ مَلِكٌ فِيمَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ وَكَانَ لَهُ سَاحِرٌ فَلَمَّا كَبِرَ قَالَ لِلْمَلِكِ إِنِّي قَدْ كَبِرْتُ فَابْعَثْ إِلَيَّ غُلَامًا أُعَلِّمْهُ السِّحْرَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ غُلَامًا يُعَلِّمُهُ فَكَانَ فِي طَرِيقِهِ إِذَا سَلَكَ رَاهِبٌ فَقَعَدَ إِلَيْهِ وَسَمِعَ كَلَامَهُ فَأَعْجَبَهُ فَكَانَ إِذَا أَتَى السَّاحِرَ مَرَّ بِالرَّاهِبِ وَقَعَدَ إِلَيْهِ فَإِذَا أَتَى السَّاحِرَ ضَرَبَهُ فَشَكَا ذَلِكَ إِلَى الرَّاهِبِ فَقَالَ إِذَا خَشِيتَ السَّاحِرَ فَقُلْ حَبَسَنِي أَهْلِي وَإِذَا خَشِيتَ أَهْلَكَ فَقُلْ حَبَسَنِي السَّاحِرُ فَبَيْنَمَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ أَتَى عَلَى دَابَّةٍ عَظِيمَةٍ قَدْ حَبَسَتْ النَّاسَ فَقَالَ الْيَوْمَ أَعْلَمُ آلسَّاحِرُ أَفْضَلُ أَمْ الرَّاهِبُ أَفْضَلُ فَأَخَذَ حَجَرًا فَقَالَ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ أَمْرُ الرَّاهِبِ أَحَبَّ إِلَيْكَ مِنْ أَمْرِ السَّاحِرِ فَاقْتُلْ هَذِهِ الدَّابَّةَ حَتَّى يَمْضِيَ النَّاسُ فَرَمَاهَا فَقَتَلَهَا وَمَضَى النَّاسُ فَأَتَى الرَّاهِبَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لَهُ الرَّاهِبُ أَيْ بُنَيَّ أَنْتَ الْيَوْمَ أَفْضَلُ مِنِّي قَدْ بَلَغَ مِنْ أَمْرِكَ مَا أَرَى وَإِنَّكَ سَتُبْتَلَى فَإِنْ ابْتُلِيتَ فَلَا تَدُلَّ عَلَيَّ وَكَانَ الْغُلَامُ يُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَيُدَاوِي النَّاسَ مِنْ سَائِرِ الْأَدْوَاءِ فَسَمِعَ جَلِيسٌ لِلْمَلِكِ كَانَ قَدْ عَمِيَ فَأَتَاهُ بِهَدَايَا كَثِيرَةٍ فَقَالَ مَا هَاهُنَا لَكَ أَجْمَعُ إِنْ أَنْتَ شَفَيْتَنِي فَقَالَ إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ فَإِنْ أَنْتَ آمَنْتَ بِاللَّهِ دَعَوْتُ اللَّهَ فَشَفَاكَ فَآمَنَ بِاللَّهِ فَشَفَاهُ اللَّهُ فَأَتَى الْمَلِكَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ كَمَا كَانَ يَجْلِسُ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَنْ رَدَّ عَلَيْكَ بَصَرَكَ قَالَ رَبِّي قَالَ وَلَكَ رَبٌّ غَيْرِي قَالَ رَبِّي وَرَبُّكَ اللَّهُ فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الْغُلَامِ فَجِيءَ بِالْغُلَامِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ أَيْ بُنَيَّ قَدْ بَلَغَ مِنْ سِحْرِكَ مَا تُبْرِئُ الْأَكْمَهَ وَالْأَبْرَصَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ فَقَالَ إِنِّي لَا أَشْفِي أَحَدًا إِنَّمَا يَشْفِي اللَّهُ فَأَخَذَهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعَذِّبُهُ حَتَّى دَلَّ عَلَى الرَّاهِبِ فَجِيءَ بِالرَّاهِبِ فَقِيلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَدَعَا بِالْمِئْشَارِ فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَشَقَّهُ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ثُمَّ جِيءَ بِجَلِيسِ الْمَلِكِ فَقِيلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَوَضَعَ الْمِئْشَارَ فِي مَفْرِقِ رَأْسِهِ فَشَقَّهُ بِهِ حَتَّى وَقَعَ شِقَّاهُ ثُمَّ جِيءَ بِالْغُلَامِ فَقِيلَ لَهُ ارْجِعْ عَنْ دِينِكَ فَأَبَى فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ إِلَى جَبَلِ كَذَا وَكَذَا فَاصْعَدُوا بِهِ الْجَبَلَ فَإِذَا بَلَغْتُمْ ذُرْوَتَهُ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاطْرَحُوهُ فَذَهَبُوا بِهِ فَصَعِدُوا بِهِ الْجَبَلَ فَقَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَرَجَفَ بِهِمْ الْجَبَلُ فَسَقَطُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيهِمُ اللَّهُ فَدَفَعَهُ إِلَى نَفَرٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ اذْهَبُوا بِهِ فَاحْمِلُوهُ فِي قُرْقُورٍ فَتَوَسَّطُوا بِهِ الْبَحْرَ فَإِنْ رَجَعَ عَنْ دِينِهِ وَإِلَّا فَاقْذِفُوهُ فَذَهَبُوا بِهِ فَقَالَ اللَّهُمَّ اكْفِنِيهِمْ بِمَا شِئْتَ فَانْكَفَأَتْ بِهِمْ السَّفِينَةُ فَغَرِقُوا وَجَاءَ يَمْشِي إِلَى الْمَلِكِ فَقَالَ لَهُ الْمَلِكُ مَا فَعَلَ أَصْحَابُكَ قَالَ كَفَانِيهِمُ اللَّهُ فَقَالَ لِلْمَلِكِ إِنَّكَ لَسْتَ بِقَاتِلِي حَتَّى تَفْعَلَ مَا آمُرُكَ بِهِ قَالَ وَمَا هُوَ قَالَ تَجْمَعُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ وَتَصْلُبُنِي عَلَى جِذْعٍ ثُمَّ خُذْ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِي ثُمَّ ضَعْ السَّهْمَ فِي كَبِدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قُلْ بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ ارْمِنِي فَإِنَّكَ إِذَا فَعَلْتَ ذَلِكَ قَتَلْتَنِي فَجَمَعَ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ وَصَلَبَهُ عَلَى جِذْعٍ ثُمَّ أَخَذَ سَهْمًا مِنْ كِنَانَتِهِ ثُمَّ وَضَعَ السَّهْمَ فِي كَبْدِ الْقَوْسِ ثُمَّ قَالَ بِاسْمِ اللَّهِ رَبِّ الْغُلَامِ ثُمَّ رَمَاهُ فَوَقَعَ السَّهْمُ فِي صُدْغِهِ فَوَضَعَ يَدَهُ فِي صُدْغِهِ فِي مَوْضِعِ السَّهْمِ فَمَاتَ فَقَالَ النَّاسُ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ آمَنَّا بِرَبِّ الْغُلَامِ فَأُتِيَ الْمَلِكُ فَقِيلَ لَهُ أَرَأَيْتَ مَا كُنْتَ تَحْذَرُ قَدْ وَاللَّهِ نَزَلَ بِكَ حَذَرُكَ قَدْ آمَنَ النَّاسُ فَأَمَرَ بِالْأُخْدُودِ فِي أَفْوَاهِ السِّكَكِ فَخُدَّتْ وَأَضْرَمَ النِّيرَانَ وَقَالَ مَنْ لَمْ يَرْجِعْ عَنْ دِينِهِ فَأَحْمُوهُ فِيهَا أَوْ قِيلَ لَهُ اقْتَحِمْ فَفَعَلُوا حَتَّى جَاءَتْ امْرَأَةٌ وَمَعَهَا صَبِيٌّ لَهَا فَتَقَاعَسَتْ أَنْ تَقَعَ فِيهَا فَقَالَ لَهَا الْغُلَامُ يَا أُمَّهْ اصْبِرِي فَإِنَّكِ عَلَى الْحَقِّ

ہداب بن خالد، حماد بن سلمہ، ثابت بن عبدالرحمن بن ابی لیلی، صہیب، حضرت صہیب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے ایک بادشاہ تھا جس کے پاس ایک جادوگر تھا جب وہ جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ اب میں بوڑھا ہوگیا ہوں تو آپ میرے ساتھ ایک لڑکے کو بھیج دیں تاکہ میں اسے جادو سکھا سکوں تو بادشاہ نے ایک لڑکا جادو سیکھنے کے لئے جادوگر کی طرف بھیج دیا جب وہ لڑکا چلا تو اس کے راستے میں ایک راہب تھا تو وہ لڑکا اس راہب کے پاس بیٹھا اور اس کی باتیں سننے لگا جو کہ اسے پسند آئیں پھر جب بھی وہ جادوگر کے پاس آتا اور راہب کے پاس سے گزرتا تو اس کے پاس بیٹھتا (اور اس کی باتیں سنتا) اور جب وہ لڑکا جادوگر کے پاس آتا تو وہ جادوگر اس لڑکے کو (دیر سے آنے کی وجہ سے) مارتا تو اس لڑکے نے اس کی شکایت راہب سے کی تو راہب نے کہا کہ اگر تجھے جادوگر سے ڈر ہو تو کہہ دیا کر کہ مجھے میرے گھر والوں نے روک لیا تھا اور جب تجھے گھر والوں سے ڈر ہو تو تو کہہ دیا کر کہ مجھے جادوگر نے روک لیا تھا۔ اسی دوران ایک بہت بڑے درندے نے لوگوں کا راستہ روک لیا (جب لڑکا اس طرف آیا) تو اس نے کہا میں آج جاننا چاہوں گا کہ جادوگر افضل ہے یا راہب افضل ہے اور پھر ایک پتھر پکڑا اور کہنے لگا اے اللہ اگر تجھے جادوگر کے معاملہ سے راہب کا معاملہ زیادہ پسند یدہ ہے تو اس درندے کو مار دے تاکہ لوگوں کا آنا جانا ہو اور پھر وہ پتھر اس درندے کو مار کر اسے قتل کردیا اور لوگ گزرنے لگے پھر وہ لڑکا راہب کے پاس آیا اور اسے اس کی خبر دی تو راہب نے اس لڑکے سے کہا اے میرے بیٹے آج تو مجھ سے افضل ہے کیونکہ تیرا معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جس کی وجہ سے تو عنقریب ایک مصیبت میں مبتلا کردیا جائے گا پھر اگر تو (کسی مصیبت میں) مبتلا کردیا جائے تو کسی کو میرا نہ بتانا اور وہ لڑکا مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو صحیح کردیتا تھا بلکہ لوگوں کا ساری بیماری سے علاج بھی کردیتا تھا بادشاہ کا ایک ہم نشین اندھا ہوگیا اس نے لڑکے کے بارے میں سنا تو وہ بہت سے تحفے لے کر اس کے پاس آیا اور اسے کہنے لگا کہ اگر تم مجھے شفا دے دو تو یہ سارے تحفے جو میں یہاں لے کر آیا ہوں وہ سارے تمہارے لئے ہیں اس لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دے سکتا شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو اگر تو اللہ پر ایمان لے آئے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں گا کہ وہ تجھے شفاء دے دے پھر وہ (شخص) اللہ پر ایمان لے آیا تو اللہ تعالیٰ نے اسے شفاء عطا فرما دی پھر وہ آدمی بادشاہ کے پاس آیا اور اس کے پاس بیٹھ گیا جس طرح کہ وہ پہلے بیٹھا کرتا تھا بادشاہ نے اس سے کہا کہ کس نے تجھے تیری بینائی واپس لوٹا دی اس نے کہا میرے رب نے اس نے کہا کیا میرے علاوہ تیرا اور کوئی رب بھی ہے اس نے کہا میرا اور تیرا رب اللہ ہے پھر بادشاہ اس کو پکڑ کر اسے عذاب دینے لگا تو اس نے بادشاہ کو لڑکے کے بارے میں کہا پھر جب وہ لڑکا آیا تو بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا کہ اے بیٹے ! کیا تیرا جادو اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ اب تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو بھی صحیح کرنے لگ گیا ہے اور ایسے ایسے کرتا ہے ؟ لڑکے نے کہا میں تو کسی کو شفا نہیں دیتا بلکہ شفاء تو اللہ تعالیٰ دیتا ہے بادشاہ نے اسے پکڑ کر عذاب دیا یہاں تک کہ اس نے راہب کے بارے میں بادشاہ کو بتادیا راہب آیا تو اس سے کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا، راہب نے انکار کردیا پھر بادشاہ نے آرا منگوایا اور اس راہب کے سر پر رکھ کر اس کا سر چیر کر اس کے دو ٹکڑے کر دئیے پھر بادشاہ کے ہم نشین کو لایا گیا اور اس سے بھی کہا گیا کہ تو اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا بادشاہ نے اس کے سر پر بھی آرا رکھ کر سر کو چیر کر اس کے دو ٹکڑے کروا دئیے پھر اس لڑکے کو بلوایا گیا وہ آیا تو اس سے بھی یہی کہا گیا کہ اپنے مذہب سے پھر جا اس نے بھی انکار کردیا تو بادشاہ نے اس لڑکے کو اپنے کچھ ساتھیوں کے حوالے کرکے کہا اسے فلاں پہاڑ پر لے جاؤ اور اسے اس پہاڑ کی چوٹی پر چڑھاؤ اگر یہ اپنے مذہب سے پھر جائے تو اسے چھوڑ دینا اور اگر انکار کر دے تو اسے پہاڑ کی چوٹی سے نیچے پھینک دینا چناچہ بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو مجھے ان سے کافی ہے جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچا لے اس پہاڑ پر فورا ایک زلزلہ آیا جس سے بادشاہ کے وہ سارے ساتھی گرگئے اور وہ لڑکاچلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے پوچھا کہ تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا لڑکے نے کہا اللہ پاک نے مجھے ان سے بچا لیا ہے بادشاہ نے پھر اس لڑکے کو اپنے ساتھیوں کے حوالے کر کے کہا اسے ایک چھوٹی کشتی میں لے جا کر سمندر کے درمیان میں پھینک دینا اگر یہ اپنے مذہب سے نہ پھرے بادشاہ کے ساتھی اس لڑکے کو لے گئے تو اس لڑکے نے کہا اے اللہ تو جس طرح چاہے مجھے ان سے بچا لے پھر وہ کشتی بادشاہ کے ان ساتھیوں سمیت الٹ گئی اور وہ سارے کے سارے غرق ہوگئے اور وہ لڑکا چلتے ہوئے بادشاہ کی طرف آگیا بادشاہ نے اس لڑکے سے کہا تیرے ساتھیوں کا کیا ہوا اس نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے ان سے بچا لیا ہے پھر اس لڑکے نے باشاہ سے کہا تو مجھے قتل نہیں کرسکتا جب تک کہ اس طرح نہ کرو جس طرح کہ میں تجھے حکم دوں بادشاہ نے کہا وہ کیا ؟ اس لڑکے نے کہا سارے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرو اور مجھے سولی کے تختے پر لٹکاؤ پھر میرے ترکش سے ایک تیر کو پکڑو پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھو اور پھر کہو اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر مجھے تیر مارو اگر تم اس طرح کرو تو مجھے قتل کرسکتے ہو پھر بادشاہ نے لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس لڑکے کو سولی کے تختے پر لٹکا دیا پھر اس کے ترکش میں سے ایک تیر لیا پھر اس تیر کو کمان کے حلہ میں رکھ کر کہا اس اللہ کے نام سے جو اس لڑکے کا رب ہے پھر وہ تیر اس لڑکے کو مارا تو وہ تیر اس لڑکے کی کنپٹی میں جا گھسا تو لڑکے نے اپنا ہاتھ تیر لگنے والی جگہ پر رکھا اور مرگیا تو سب لوگوں نے کہا ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے ہم اس لڑکے کے رب پر ایمان لائے، بادشاہ کو اس کی خبر دی گئی اور اس سے کہا گیا تجھے جس بات کا ڈر تھا اب وہی بات آن پہنچی کہ لوگ ایمان لے آئے تو پھر بادشاہ نے گلیوں کے دھانوں پر خندق کھودنے کا حکم دیا پھر خندق کھودی گئی اور ان خندقوں میں آگ جلا دی گئی بادشاہ نے کہا جو آدمی اپنے مذہب سے پھرنے سے باز نہیں آئے گا تو میں اس آدمی کو اس خندق میں ڈلوا دوں گا تو انہیں خندق میں ڈال دیا گیا یہاں تک کہ ایک عورت آئی اور اس کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا وہ عورت خندق میں گرنے سے گھبرائی تو اس عورت کے بچے نے کہا اے امی جان صبر کر کیونکہ تو حق پر ہے۔

Suhaib reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) thus said: There lived a king before you and he had a (court) magician. As he (the magician) grew old, he said to the king: I have grown old, send some young boy to me so that I should teach him magic. He (the king) sent to him a young man so that he should train him (in magic). And on his way to the magician he (the young man) found a monk sitting there. He (the young man) listened to his (the monks) talk and was impressed by it. It became his habit that on his way to the magician he met the monk and set there and he came to the magician (late). He (the magician) beat him because of delay. He made a complaint of that to the monk and he said to him: When you feel afraid of the magician, say: Members of my family had detained me. And when you feel afraid of your family you should say: The magician had detained me. It so happened that there came a huge beast (of prey) and it blocked the way of the people, and he (the young boy) said: I will come to know today whether the magician is superior or the monk is superior. He picked up a stone and said: O Allah, if the affair of the monk is dearer to Thee than the affair of the magician, cause death to this animal so that the people should be able to move about freely. He threw that stone towards it and killed it and the people began to move about (on the path freely). He (the young man) then came to that monk and informed him and the monk said: Sonny, today you are superior to me. Your affair has come to a stage where I find that you would be soon put to a trial, and in case you are put to a trial dont give my clue. That young man began to treat the blind and those suffering from leprosy and he in fact began to cure people from (all kinds) of illness. When a companion of the king who had gone blind heard about him, he came to him with numerous gifts and said: If you cure me all these things collected together here would be yours. He said: I myself do not cure anyone. It is Allah Who cures and if you affirm faith in Allah, I shall also supplicate Allah to cure you. He affirmed his faith in Allah and Allah cured him and he came to the king and sat by his side as he used to sit before. The king said to him: Who restored your eyesight? He said: My Lord. Thereupon he said: It means that your Lord is One besides me. He said: My Lord and your Lord is Allah, so he (the king) took hold of him and tormented him till he gave a clue of that boy. The young man was thus summoned and the king said to him: O boy, it has been conveyed to me that you have become so much proficient in your magic that you cure the blind and those suffering from leprosy and you do such and such things. Thereupon he said: I do not cure anyone; it is Allah Who cures, and he (the king) took hold of him and began to torment him. So he gave a clue of the monk. The monk was thus summoned and it was said to him: You should turn back from your religion. He, however, refused to do so. He (ordered) for a saw to be brought (and when it was done) he (the king) placed it in the middle of his head and tore it into parts till a part fell down. Then the courtier of the king was brought and it was said to him: Turn back from your religion. And he refused to do so, and the saw was placed in the midst of his head and it was torn till a part fell down. Then that young boy was brought and it was said to him: Turn back from your religion. He refused to do so and he was handed over to a group of his courtiers. And he said to them: Take him to such and such mountain; make him climb up that mountain and when you reach its top (ask him to renounce his faith) but if he refuses to do so, then throw him (down the mountain). So they took him and made him climb up the mountain and he said: O Allah, save me from them (in any way) Thou likest, and the mountain began to quake and they all fell down and that person came walking to the king. The king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them. He again handed him to some of his courtiers and said: Take him and carry him in a small boat and when you reach the middle of the ocean (ask him to renounce) his religion, but if he does not renounce his religion throw him (into the water). So they took him and he said: O Allah, save me from them and what they want to do. It was quite soon that the boat turned over and they were drowned and he came walking to the king, and the king said to him: What has happened to your companions? He said: Allah has saved me from them, and he said to the king: You cannot kill me until you do what I ask you to do. And he said: What is that? He said: You should gather people in a plain and hang me by the trunk (of a tree). Then take hold of an arrow from the quiver and say: In the name of Allah, the Lord of the worlds; then shoot an arrow and if you do that then you would be able to kill me. So he (the king) called the people in an open plain and tied him (the boy) to the trunk of a tree, then he took hold of an arrow from his quiver and then placed the arrow in the bow and then said: In the name of Allah, the Lord of the young boy; he then shot an arrow and it bit his temple. He (the boy) placed his hands upon the temple where the arrow had hit him and he died and the people said: We affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man, we affirm our faith in the Lord of this young man. The courtiers came to the king and it was said to him: Do you see that Allah has actually done what you aimed at averting. They (the people) have affirmed their faith in the Lord. He (the king) commanded ditches to be dug at important points in the path. When these ditches were dug, and the fire was lit in them it was said (to the people): He who would not turn back from his (boys) religion would be thrown in the fire or it would be said to them to jump in that. (The people courted death but did not renounce religion) till a woman came with her child and she felt hesitant in jumping into the fire and the child said to her: O mother, endure (this ordeal) for it is the Truth.