Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 374 of 379

7472Sahih Muslimصحیح

مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ وَعَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الصَّبَّاحِ کِلَاهُمَا عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

اسحاق بن ابراہیم، ابوبکر حنفی، عبدالملک، ابن صباح، حضرت عبدالحمید (رض) بن جعفر سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں روایات میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنا دے گا۔

This hadith has been narrated on the authority of Jafar with the same chain of transmitters with this variation (that the words are): "Allah would build for him a house in Paradise."

7473Sahih Muslimصحیح

مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ وَهْبِ بْنِ کَيْسَانَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بَيْنَا رَجُلٌ بِفَلَاةٍ مِنْ الْأَرْضِ فَسَمِعَ صَوْتًا فِي سَحَابَةٍ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ فَتَنَحَّی ذَلِکَ السَّحَابُ فَأَفْرَغَ مَائَهُ فِي حَرَّةٍ فَإِذَا شَرْجَةٌ مِنْ تِلْکَ الشِّرَاجِ قَدْ اسْتَوْعَبَتْ ذَلِکَ الْمَائَ کُلَّهُ فَتَتَبَّعَ الْمَائَ فَإِذَا رَجُلٌ قَائِمٌ فِي حَدِيقَتِهِ يُحَوِّلُ الْمَائَ بِمِسْحَاتِهِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ مَا اسْمُکَ قَالَ فُلَانٌ لِلِاسْمِ الَّذِي سَمِعَ فِي السَّحَابَةِ فَقَالَ لَهُ يَا عَبْدَ اللَّهِ لِمَ تَسْأَلُنِي عَنْ اسْمِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ صَوْتًا فِي السَّحَابِ الَّذِي هَذَا مَاؤُهُ يَقُولُ اسْقِ حَدِيقَةَ فُلَانٍ لِاسْمِکَ فَمَا تَصْنَعُ فِيهَا قَالَ أَمَّا إِذْ قُلْتَ هَذَا فَإِنِّي أَنْظُرُ إِلَی مَا يَخْرُجُ مِنْهَا فَأَتَصَدَّقُ بِثُلُثِهِ وَآکُلُ أَنَا وَعِيَالِي ثُلُثًا وَأَرُدُّ فِيهَا ثُلُثَهُ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابی بکر، یزید بن ہارون، عبدالعزیز ابن ابوسلمہ، وہب بن کیسان عبید بن عمیر لیثی، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا ایک آدمی ایک جنگل میں تھا کہ اس نے بادلوں سے ایک آواز سنی کہ فلاں باغ کو پانی لگاؤ تو پھر ایک بادل ایک طرف چلا اور اس نے ایک پتھریلی زمین پر بارش برسائی اور وہاں نالیوں میں سے ایک نالی بھر گئی وہ آدمی برستے ہوئے پانی کے پیچھے پیچھے گیا اچانک اس نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ اپنے باغ میں کھڑا ہو اپنے پھاوڑے سے پانی ادھر ادھر کر رہا ہے اس آدمی نے باغ والے آدمی سے کہا اے اللہ کے بندے تیرا نام کیا ہے اس نے کہا فلاں اور اس نے وہی نام بتایا کہ جو اس نے بادلوں میں سنا تھا پھر اس باغ والے آدمی نے اس سے کہا تو نے میرا نام کیوں پوچھا ہے اس نے کہا میں نے ان بادلوں میں سے جس سے یہ پانی برسا ہے ایک آواز سنی ہے کہ کوئی تیرا نام لے کر کہتا ہے کہ اس باغ کو سیراب کر، تم اس باغ میں کیا کرتے ہو اس نے کہا جب تو نے یہ کہا ہے کہ تو سنو میں اس باغ میں پیداوار پر نظر رکھتا ہوں اور اس میں سے ایک تہائی صدقہ خیرات کرتا ہوں اور ایک تہائی اس میں سے میں اور میرے گھر والے کھاتے ہیں جبکہ ایک تہائی میں اسی باغ میں لگا دیتا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: While a person was in the wilderness he heard a voice from the cloud (commanding it thus): Irrigate the garden of so and so. (After that the clouds slinked aside and poured water on a stony ground. It filled a channel amongst the channels of that land and that person followed that water and he found a person standing in the garden busy in changing the course of water with the help of a hatchet. He said to him: Servant of Allah, what is your name? he said: So and so. And it was that very name which he had heard from the clouds. and he said to him: Servant of Allah, why do you ask me my name? He said: I heard a voice from the clouds of which it is the downpour, saying: Water the garden of so and so, like your name. What do you do (for the favour) shown to you by Allah in this matter? He said: Now as you state so. I look what yield I get from it, and I give one-third as charity out of it and I and my children eat one-third of it and one-third I return to it as investment.

7474Sahih Muslimصحیح

مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرنے کی فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ کَيْسَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَأَجْعَلُ ثُلُثَهُ فِي الْمَسَاکِينِ وَالسَّائِلِينَ وَابْنِ السَّبِيلِ

احمد بن عبدہ ضبی، ابوداؤد، عبدالعزیز بن ابوسلمہ، عبید ابن عمیر لیثی، ابوہریرہ (رض) حضرت وہب بن کیسان روایت بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں اس نے کہا اس میں سے ایک تہائی مسکینوں مانگنے والوں اور مسافروں پر صدقہ کرتا ہوں۔

This hadith has been narrated on the authority of Wahb bin Kaisan with the same chain of transmitters but with this change that he said: "I earmark one-third for the poor, the needy and the wayfarers."

7475Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ عَنْ الْعَلَائِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللَّهُ تَبَارَکَ وَتَعَالَی أَنَا أَغْنَی الشُّرَکَائِ عَنْ الشِّرْکِ مَنْ عَمِلَ عَمَلًا أَشْرَکَ فِيهِ مَعِي غَيْرِي تَرَکْتُهُ وَشِرْکَهُ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، روح بن قاسم، علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ فرماتا ہے کہ میں شرک والوں کے شرک سے بےپرواہوں جو آدمی میرے لئے کوئی ایسا کام کرے کہ جس میں میرے علاوہ کوئی میرا شریک ہو تو میں اسے اور اس کے شرک کو چھوڑ دیتا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as stating that Allah the Most High and Exalted said: I am the One Who does not stand in need of a partner. If anyone does anything in which he associates anyone else with Me, I shall abandon him with one whom he associates with Allah.

7476Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَمَّعَ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ رَائَی رَائَی اللَّهُ بِهِ

عمر بن حفص ابن غیاث، ابی اسماعیل بن سمیع، مسلم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی لوگوں کو سنانے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ذلت لوگوں کو سنائے گا اور جو آدمی لوگوں کے دکھاوے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ریاکاروں کی سزا دے گا۔

Ibn Abbas (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If anyone wants to have his deeds widely publicised, Allah will publicise (his humiliation). And if anyone makes a hypocritical display (of his deeds) Allah will make a display of him.

7477Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبًا الْعَلَقِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعْ اللَّهُ بِهِ وَمَنْ يُرَائِي يُرَائِي اللَّهُ بِهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، سلمہ ابن کہیل حضرت جندب علقی (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی لوگوں کو سنانے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی ذلت لوگوں کو سنائے گا اور جو آدمی دکھلاوے کے لئے کوئی کام کرے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی برائیاں لوگوں کو دکھلائے گا۔

Jundub reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who wants to publicise (his deeds), Allah will publicise (his humility), and he who makes a hypocritical display (of his deeds), Allah will make a display of him.

7478Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَزَادَ وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا غَيْرَهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

اسحاق بن ابراہیم، حضرت سفیان اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں کہ اور اس میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ میں نے ان کے علاوہ کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔

Sufyan reported this hadith with the same chain of transmitters and he made this addition: "I did not hear anyone saying besides him that it was Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who had said so."

7479Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَمْرٍو الْأَشْعَثِيُّ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَعِيدٌ أَظُنُّهُ قَالَ ابْنُ الْحَارِثِ بْنِ أَبِي مُوسَی قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ کُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ جُنْدُبًا وَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَهُ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِ الثَّوْرِيِّ

سعید بن عمرو اشعثی، سفیان، ولید بن حرب، سعید، سلمہ بن کہیل، جندب، حضرت ابن حارث بن ابی موسیٰ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سلمہ (رض) بن کہیل سے سنا وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت جندب سے سنا اور کسی سے نہیں سنا جو کہتا ہو کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں ثوری کی روایت کی طرح بیان کی۔

Salama bin Kuhail reported: I heard from Jundub but I did not hear him say like this: "I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying this."

7480Sahih Muslimصحیح

ریا کاری (دکھلاوے) کی حرمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الصَّدُوقُ الْأَمِينُ الْوَلِيدُ بْنُ حَرْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

ابن ابی عمر سفیان، حضرت الصدوق الامین ولید بن حرب اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں۔

Abu Sufyan (RA) reported like that as as-Saduq al-Amin al-Walid bin Harb narrated with the same chain of transmitters.

7481Sahih Muslimصحیح

زبان کی حفاظت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا بَکْرٌ يَعْنِي ابْنَ مُضَرَ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ يَنْزِلُ بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

قتیبہ بن سعید، بکر ابن مضر، ابن ہاد، محمد بن ابراہیم، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ بندہ ایک ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اس قدر اتر جاتا ہے جس قدر کہ مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The servant speaks words for which he is sent down to the Hell-Fire farther than the distance between the east and the west.

7482Sahih Muslimصحیح

زبان کی حفاظت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَی بْنِ طَلْحَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ الْعَبْدَ لَيَتَکَلَّمُ بِالْکَلِمَةِ مَا يَتَبَيَّنُ مَا فِيهَا يَهْوِي بِهَا فِي النَّارِ أَبْعَدَ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ

محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز دراردی یزید بن ہاد، محمد بن ابراہیم، عیسیٰ بن طلحہ، حضرت ابویوہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بندہ کوئی ایسی بات کہہ دیتا ہے کہ اس کا نقصان نہیں سمجھتا جبکہ اس کی وجہ سے وہ دوزخ میں اتنی دور جا کر گرتا ہے کہ جتنا مشرق و مغرب کے درمیان فاصلہ ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The servant speaks words that he does not understand its repercussions but he sinks down in Hell-Fire farther than the distance between the east and the west.

7483Sahih Muslimصحیح

جو آدمی دوسروں کو نیکی کا حکم دتیا ہے اور خود نیکی نہ کرتا ہو اور دوسروں کو برائی سے روکتا ہو اور خود برائی کرتا ہو ایسے آدمی کی سزا کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی وَإِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قِيلَ لَهُ أَلَا تَدْخُلُ عَلَی عُثْمَانَ فَتُکَلِّمَهُ فَقَالَ أَتَرَوْنَ أَنِّي لَا أُکَلِّمُهُ إِلَّا أُسْمِعُکُمْ وَاللَّهِ لَقَدْ کَلَّمْتُهُ فِيمَا بَيْنِي وَبَيْنَهُ مَا دُونَ أَنْ أَفْتَتِحَ أَمْرًا لَا أُحِبُّ أَنْ أَکُونَ أَوَّلَ مَنْ فَتَحَهُ وَلَا أَقُولُ لِأَحَدٍ يَکُونُ عَلَيَّ أَمِيرًا إِنَّهُ خَيْرُ النَّاسِ بَعْدَ مَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَی بِالرَّجُلِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُلْقَی فِي النَّارِ فَتَنْدَلِقُ أَقْتَابُ بَطْنِهِ فَيَدُورُ بِهَا کَمَا يَدُورُ الْحِمَارُ بِالرَّحَی فَيَجْتَمِعُ إِلَيْهِ أَهْلُ النَّارِ فَيَقُولُونَ يَا فُلَانُ مَا لَکَ أَلَمْ تَکُنْ تَأْمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَی عَنْ الْمُنْکَرِ فَيَقُولُ بَلَی قَدْ کُنْتُ آمُرُ بِالْمَعْرُوفِ وَلَا آتِيهِ وَأَنْهَی عَنْ الْمُنْکَرِ وَآتِيهِ

یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابوکریبی یحییی اسحاق ابومعاویہ اعمش، شقیق، حضرت اسامہ بن زید سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھ سے کہا گیا کیا تم حضرت عثمان کے پاس نہیں جاتے اور ان سے بات نہیں کرتے ؟ حضرت اسامہ نے فرمایا کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں حضرت عثمان سے بات نہیں کرتا میں تمہیں سناتا ہوں اللہ کی قسم میں ان سے بات کرچکا ہوں جو بات میں نے اپنے اور ان کے بارے میں کرنا تھی میں وہ بات کھولنا نہیں چاہتا اور میں نہیں چاہتا کہ وہ بات کھولنے والا پہلا میں ہی ہوں اور نہ ہی میں یہ کہتا ہوں کہ کسی کو جو مجھ پر حاکم ہو کہ وہ سب لوگوں سے بہتر ہے رسول اللہ ﷺ کا فرمان سن لینے کے بعد۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن ایک آدمی کو لایا جائے گا اور اسے دوزخ میں ڈال دیا جائے گا جس سے اس کے پیٹ کی آنتیں نکل آئیں گی وہ آنتوں کو لے کر اس طرح گھومے گا جس طرح گدھا چکی کو لے کر گھومتا ہے۔ دوزخ والے اس کے پاس اکٹھے ہو کر کہیں گے، اے فلاں ! تجھے کیا ہوا ؟ (یعنی آج تو کس حالت میں ہے ؟ ) کیا تو لوگوں کو نیکی کا حکم نہیں دیتا اور برائی سے نہیں روکتا تھا ؟ وہ کہے گا : ہاں میں لوگوں تو نیکی کا حکم دیتا تھا لیکن خود اس نیکی پر عمل نہیں کرتا تھا اور لوگوں کو برائی سے منع کرتا تھا لیکن میں خود برائی میں مبتلا تھا۔

Shaqiq reported that it was said to Usama bin Zaid: Why dont you visit Uthman and talk to him? Thereupon he said: Do you think that I have not talked to him but that I have made you hear? By Allah. I have talked to him (about things) concerning me and him and I did not like to divulge those things about which I had to take the initiative and I do not say to my ruler: "You are the best among people," after I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A man will be brought on the Day of Resurrection and thrown in Hell-Fire and his intestines will pour forth in Hell and he will go round along with them, as an ass goes round the mill-stone. The denizens of Hell would gather round him and say: 0, so and so, what has happened to you? Were you not enjoining us to do what was reputable and forbid us to do what was disreputable? He will say: Of course, it is so; I used to enjoin (upon people) to do what was reputable but did not practise that myself. I had been forbidding people to do what was disreputable, but practised it myself.

7484Sahih Muslimصحیح

جو آدمی دوسروں کو نیکی کا حکم دتیا ہے اور خود نیکی نہ کرتا ہو اور دوسروں کو برائی سے روکتا ہو اور خود برائی کرتا ہو ایسے آدمی کی سزا کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي وَائِلٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ فَقَالَ رَجُلٌ مَا يَمْنَعُکَ أَنْ تَدْخُلَ عَلَی عُثْمَانَ فَتُکَلِّمَهُ فِيمَا يَصْنَعُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، حضرت ابو وائل (رض) سے روایت ہے کہ ہم حضرت اسامہ بن زید کے پاس تھے کہ ایک آدمی نے عرض کیا آپ کو کس چیز نے روکا ہے کہ آپ حضرت عثمان کے پاس جا کر ان سے بات کریں پھر مذکورہ روایت کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔

Abu Wail reported: I was in the company of Usama bin Zaid that a person said: What prevents you to visit Uthman and talk to him for what he does? The rest of the hadith is the same.

7485Sahih Muslimصحیح

انسان کو اپنے گناہوں کے اظہار نہ کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ حَدَّثَنِي و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ قَالَ سَالِمٌ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ کُلُّ أُمَّتِي مُعَافَاةٌ إِلَّا الْمُجَاهِرِينَ وَإِنَّ مِنْ الْإِجْهَارِ أَنْ يَعْمَلَ الْعَبْدُ بِاللَّيْلِ عَمَلًا ثُمَّ يُصْبِحُ قَدْ سَتَرَهُ رَبُّهُ فَيَقُولُ يَا فُلَانُ قَدْ عَمِلْتُ الْبَارِحَةَ کَذَا وَکَذَا وَقَدْ بَاتَ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ فَيَبِيتُ يَسْتُرُهُ رَبُّهُ وَيُصْبِحُ يَکْشِفُ سِتْرَ اللَّهِ عَنْهُ قَالَ زُهَيْرٌ وَإِنَّ مِنْ الْهِجَارِ

زہیر بن حرب، محمد بن حاتم، عبد بن حمید، عبد یعقوب بن ابراہیم، ابن اخی، ابن شہاب، سالم، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میری ساری امت کے سارے گناہ معاف کر دئیے جائیں گے سوائے ان گناہوں کے جو اعلانیہ (یعنی کھلم کھُلا گناہوں کے۔ وہ معاف نہیں کئے جائیں گے وہ یہ کہ بندہ رات کو کوئی گناہ کرتا ہے پھر صبح کو اس کا پروردگار اس کے گناہ کی پردہ پوشی کرتا ہے لیکن وہ دوسرے لوگوں سے کہتا ہے : اے فلاں میں نے گزشتہ رات ایسے ایسے گناہ کیا اور رات گزاری پروردگار نے تو اسے چھپایا اور ساری رات پردہ پوشی کی لیکن صبح ہوتے ہی اس نے اس گناہ کو ظاہر کردیا جسے اللہ عزوجل نے چھپایا تھا۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: All the people of my Ummah would get pardon for their sins except those who publicise them. And (it means) that a servant should do a deed during the night and tell the people in the morning that he has done so and so, whereas Allah has concealed it. And he does a deed during the day and when it is night he tells the people, whereas Allah has concealed it. Zuhair has used the word jihar for publicising.

7486Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا حَفْصٌ وَهُوَ ابْنُ غِيَاثٍ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ عَطَسَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلَانِ فَشَمَّتَ أَحَدَهُمَا وَلَمْ يُشَمِّتْ الْآخَرَ فَقَالَ الَّذِي لَمْ يُشَمِّتْهُ عَطَسَ فُلَانٌ فَشَمَّتَّهُ وَعَطَسْتُ أَنَا فَلَمْ تُشَمِّتْنِي قَالَ إِنَّ هَذَا حَمِدَ اللَّهَ وَإِنَّکَ لَمْ تَحْمَدْ اللَّهَ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، حفص بن غیاث، سلیمان، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کے پاس دو آدمیوں نے چھینکا آپ ﷺ نے ان میں سے ایک کو چھینکنے کا جواب دیا اور دوسرے کو جواب نہیں دیا تو اس نے عرض کیا آپ ﷺ فلاں کو چھینکنے کا جواب دیا اور مجھے چھینکنے کا جواب نہیں دیا آپ نے فرمایا اس نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہا اور تو نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نہیں کہا۔

Anas bin Malik (RA) reported that two persons sneezed in the presence of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He (the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) invoked mercy for one, and did not invoke for the other. The one for whom he had not prayed said: So and so sneezed and you said: May Allah have mercy upon you. I also sneezed but you did not utter these words for me. Thereupon he (the Holy Prophet) said: That person praised Allah, and you did not praise Allah.

7487Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ يَعْنِي الْأَحْمَرَ عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَنَسٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

ابوکریب، ابوخالد احمر، سلیمان، حضرت انس نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Anas through another chain of transmitters.

7488Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ مَالِکٍ عَنْ عَاصِمِ بْنِ کُلَيْبٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی أَبِي مُوسَی وَهُوَ فِي بَيْتِ بِنْتِ الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ فَعَطَسْتُ فَلَمْ يُشَمِّتْنِي وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَهَا فَرَجَعْتُ إِلَی أُمِّي فَأَخْبَرْتُهَا فَلَمَّا جَائَهَا قَالَتْ عَطَسَ عِنْدَکَ ابْنِي فَلَمْ تُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَشَمَّتَّهَا فَقَالَ إِنَّ ابْنَکِ عَطَسَ فَلَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ فَلَمْ أُشَمِّتْهُ وَعَطَسَتْ فَحَمِدَتْ اللَّهَ فَشَمَّتُّهَا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا عَطَسَ أَحَدُکُمْ فَحَمِدَ اللَّهَ فَشَمِّتُوهُ فَإِنْ لَمْ يَحْمَدْ اللَّهَ فَلَا تُشَمِّتُوهُ

زہیر بن حرب، محمد بن عبداللہ بن نمیر، زہیر، قاسم بن مالک، عاصم بن کلیب (رض) حضرت ابوبردہ (رض) سے روایت ہے کہ میں حضرت ابوموسی کے پاس گیا تو وہ حضرت فضل بن عباس کی بیٹی کے گھر میں تھے مجھے چھینک آئی تو انہوں نے مجھے جواب نہ دیا اور فضل بن عباس (رض) کی بیٹی کو چھینک آئی تو حضرت ابوموسی نے اسے جواب دے دیا میں اپنی والدہ کے پاس گیا اور انہیں اس کی خبر دی توہ حضرت ابوموسی کے پاس آئیں اور کہنے لگی آپ نے میرے بیٹے کو چھینک کا جواب کیوں نہیں دیا۔ ابوموسی نے کہا اس نے اَلْحَمْدُ لِلَّهِ نہیں کہا۔

Abu Burda reported: I visited Abu Musa, as he was in the house of the daughter of Fadl bin Abbas. I sneezed but he did not respond to it (by saying): Allah may have mercy upon you. Then she sneezed and he (Fadl bin Abbas) said: May Allah have mercy upon you. I came back to my mother and informed her about it, and when he came to her she said: My son sneezed in your presence and you did not say: "Allah may have mercy upon you, and she sneezed and you said for her: "May Allah have mercy upon you." Thereupon he said: Your son sneezed but he did not praise Allah and I did not beg mercy of Allah for him and she sneezed and she praised Allah and so I said: May Allah have mercy upon you, as I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: When any one of you sneezes he should praise Allah and the other should say: May Allah have mercy upon you, and if he does not praise Allah, no mercy should be begged for him.

7489Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ عَنْ إِيَاسِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ أَبِيهِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَطَسَ رَجُلٌ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهُ يَرْحَمُکَ اللَّهُ ثُمَّ عَطَسَ أُخْرَی فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الرَّجُلُ مَزْکُومٌ

محمد بن عبداللہ بن نمیر، وکیع، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ بن اکوع، اسحاق بن ابراہیم، ابونضر ہاشم بن قاسم، عکرمہ بن عمار، حضرت ایاس بن سلمہ بن اکوع (رض) بیان فرماتے ہیں کہ ان کے باپ نے بیان فرمایا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے سنا کہ ایک آدمی نے آپ ﷺ کے پاس چھینکا تو آپ نے اس کے لئے دعا فرمائی یرحمک اللہ پھر اس آدمی نے دوسری مرتبہ چھینکا تو رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں فرمایا اسے تو زکام ہے۔

Iyas bin Salama bin al-Akwa reported that his father reported to him that he heard Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A person sneezed in his presence and he said to him: May Allah have mercy upon you. And he then sneezed for the second time and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: He is suffering from cold (and no response is necessary).

7490Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ الْعَلَائِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ التَّثَاؤُبُ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِذَا تَثَائَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيَکْظِمْ مَا اسْتَطَاعَ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر سعدی، اسماعیل ابن جعفر، علاء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمائی کا آنا شیطان کی طرف سے ہے تو جب تم میں سے کسی آدمی کو جمائی آئے تو جس قدر ہو سکے اسے روکے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The yawning as from the devil. So when one of you yawns he should try to restrain it as far as it lies in his power.

7491Sahih Muslimصحیح

چھینکنے والے کو جواب دینا اور جمائی لینے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ مَالِکُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنًا لِأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ يُحَدِّثُ أَبِي عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا تَثَاوَبَ أَحَدُکُمْ فَلْيُمْسِکْ بِيَدِهِ عَلَی فِيهِ فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَدْخُلُ

ابوغسان، مالک بن عبدالواحد، بشر بن مفضل، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوسعید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی آدمی کو جمائی آئے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے روکے کیونکہ شیطان اندر داخل ہوجاتا ہے۔

The son of Abu Said al-Khudri reported on the authority of his father that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: When one of you yawns, he should keep his mouth shut with the help of his hand, for it is the devil that enters therein.