Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 373 of 379

7452Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا کَانَتْ تَقُولُ وَاللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ کُنَّا لَنَنْظُرُ إِلَی الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثُمَّ الْهِلَالِ ثَلَاثَةَ أَهِلَّةٍ فِي شَهْرَيْنِ وَمَا أُوقِدَ فِي أَبْيَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَارٌ قَالَ قُلْتُ يَا خَالَةُ فَمَا کَانَ يُعَيِّشُکُمْ قَالَتْ الْأَسْوَدَانِ التَّمْرُ وَالْمَائُ إِلَّا أَنَّهُ قَدْ کَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِيرَانٌ مِنْ الْأَنْصَارِ وَکَانَتْ لَهُمْ مَنَائِحُ فَکَانُوا يُرْسِلُونَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَلْبَانِهَا فَيَسْقِينَاهُ

یحییٰ بن یحیی، عبدالعزیز بن ابی حازم، یزید بن رومان، عروہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی تھیں اللہ کی قسم اے میرے بھتیجے ہم ایک چاند دیکھتے پھر دوسرا چاند دیکھتے پھر تیسرا چاند دیکھتے تو مہینوں میں تین چاند دیکھ لیتے تھے اور رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں (اتنے عرصہ تک) آگ نہیں جلتی تھی حضرت عروہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے خالہ پھر آپ کسی طرح زندگی گزارتیں تھیں سیدہ عائشہ (رض) نے فرمایا کھجور اور پانی کے ساتھ سوائے اس کے کہ رسول اللہ ﷺ کے کچھ انصاری ہمسائے تھے اور ان کے دودھ والے جانور تھے وہ لوگ رسول اللہ ﷺ کی طرف ان جانوروں کا دودھ بھیج دیتے تھے توہ دودھ آپ ہمیں پلا دیتے تھے۔

Aisha used to say to Urwa (RA) : Son of my sister, by Allah, I used to see the new moon, then the new moon, then the new moon, i. e. three moons in two months, and fire was not kindled in the house of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I (Urwa) said: Auntie, then what were your means of sustenance? She said: Dates and water. But it (so happened) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had some Ansar as his neighbours and they had milch animals and they used to send to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) some milk of their (animals) and he served that to us.

7453Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ح و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَقَدْ مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا شَبِعَ مِنْ خُبْزٍ وَزَيْتٍ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ مَرَّتَيْنِ

ابوطاہر احمد، عبداللہ بن وہب، ابوصخر، یزید بن عبداللہ قسیط، ہارون بن سعید، ابن وہب، ابوصخر، ابن قسیط، عروہ بن زبیر (رض) ، سیدہ عائشہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی زوجہ مطہرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے اور آپ ﷺ نے ایک دن میں دو مرتبہ روٹی اور زیتون کا تیل تک سیر ہو کر نہیں کھائے۔

Urwa bin Zubair reported on the authority of Aisha, the wife of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , that she said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died (in a state) that it never happened that he could eat to his fill the bread with olive oil twice during a day.

7454Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَکِّيُّ الْعَطَّارُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارُ حَدَّثَنِي مَنْصُورُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحَجَبِيُّ عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَائِ

یحییٰ بن یحیی، داود بن عبدالرحمن مکی، منصور، ام منصور، حضرت عائشہ۔ سعید بن منصور، داؤد بن عبدالرحمن، عطاء، منصور بن عبدالرحمن، صفیہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو اس وقت صحابہ کرام کھجور اور پانی سے ہی سیر ہوتے تھے۔

Aisha reported this hadith through other chains of transmitters also (and the words are) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died (in a state) when the people could afford to eat only the dates and water.

7455Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورِ بْنِ صَفِيَّةَ عَنْ أُمِّهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَائِ وَالتَّمْرِ

محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، منصور بن صفیہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے اور ہم پانی اور کھجور سے ہی سیر ہوتے تھے۔

Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had died in a state that they could afford to eat two things only: water and dates.

7456Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ح و حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ سُفْيَانَ وَمَا شَبِعْنَا مِنْ الْأَسْوَدَيْنِ

ابو کریب، اشجعی، نصر بن علی، ابواحمد، سفیان، حضرت سفیان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں روایات میں ہے کہ ان دونوں چیزوں یعنی کھجور اور پانی سے بھی سیر نہیں ہوتے تھے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Sufyan and the words are: "We could not afford to eat to the fill even dates and water."

7457Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا مَرْوَانُ يَعْنِيَانِ الْفَزَارِيَّ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ کَيْسَانَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ و قَالَ ابْنُ عَبَّادٍ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا أَشْبَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْيَا

محمد بن عباد، ابن ابی عمر، مروان، یزید ابن کیسان، ابی حازم، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اور ابن عباد نے اپنی روایت میں وَالَّذِي نَفْسُ ابوہریرہ بِيَدِهِ کے الفاظ کہے ہیں یعنی قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں ابوہریرہ (رض) کی جان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لگاتار تین دن تک اپنے گھر والوں کو گندم کی روٹی سے سیر نہیں کیا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔

Abu Hurairah (RA) reported: By Him in Whose Hand is my life and Ibn Abbad also said: By One in Whose hand is the life of Abu Hurairah (RA) , Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) could not afford to provide adequate food to his family which could (fill their bellies) with bread and wheat for three days successively until he left the world.

7458Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ کَيْسَانَ حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ قَالَ رَأَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يُشِيرُ بِإِصْبَعِهِ مِرَارًا يَقُولُ وَالَّذِي نَفْسُ أَبِي هُرَيْرَةَ بِيَدِهِ مَا شَبِعَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ حِنْطَةٍ حَتَّی فَارَقَ الدُّنْيَا

محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، یزید بن کیسان، حضرت ابوحازم (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار اشارہ کرتے ہوئے فرما رہے ہیں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں ابوہریرہ (رض) کی جان ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے گھر والوں نے لگاتار تین دن تک کبھی بھی گندم کی روٹی سے سیر ہو کر نہیں کھایا یہاں تک کہ اس دنیائے فانی سے رحلت فرما گئے۔

Abu Hazim reported: I saw Abu Hurairah (RA) point with his finger many a time and saying: By One in Whose Hand is the life of Abu Hurairah (RA) , Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) could not eat to his fill and provide his family bread of wheat beyond three days successively until he left the world.

7459Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ سِمَاکٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ يَقُولُا أَلَسْتُمْ فِي طَعَامٍ وَشَرَابٍ مَا شِئْتُمْ لَقَدْ رَأَيْتُ نَبِيَّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا يَجِدُ مِنْ الدَّقَلِ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ وَقُتَيْبَةُ لَمْ يَذْکُرْ بِهِ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، احوص، سماک، حضرت نعمان بن بشیر (رض) فرماتے ہیں کہ کیا تم لوگ جو چاہتے ہو کھاتے اور پیتے نہیں ہو ؟ جبکہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ کو خراب کھجور بھی پیٹ بھر کر نہیں ملتی تھی۔

Numan bin Bashir said: Dont you eat and drink according to your hearts desire, whereas I saw that your Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (at times) could not find even an inferior quality of the dates with which he could fill his belly? Qutaiba, however, did not make a mention of it.

7460Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا الْمُلَائِيُّ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ سِمَاکٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ وَزَادَ فِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ وَمَا تَرْضَوْنَ دُونَ أَلْوَانِ التَّمْرِ وَالزُّبْدِ

محمد بن رافع، یحییٰ بن آدم، زہیر، اسحاق بن ابراہیم، حضرت سماک (رض) نے اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی ہے اور زہیر کی اس روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ تم تو طرح طرح کی کھجور اور مکھن کے علاوہ راضی نہیں ہوتے۔

This hadith has been narrated on the authority of Simak with the same chain of transmitters, with this addition of words: "You are not satisfied with the qualities of dates and butter."

7461Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ النُّعْمَانَ يَخْطُبُ قَالَ ذَکَرَ عُمَرُ مَا أَصَابَ النَّاسُ مِنْ الدُّنْيَا فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ الْيَوْمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ دَقَلًا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، حضرت سماک بن حرب سے روایت ہے کہ میں نے حضرت نعمان سے خطبہ دیتے ہوئے سنا انہوں نے فرمایا حضرت عمر (رض) نے ذکر فرمایا کہ لوگوں نے جو دنیا حاصل کرلی ہے اس کا ذکر کیا اور فرمایا میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ ﷺ سارا دن بھوک کی وجہ سے بیقرار رہتے تھے آپ ﷺ خراب کھجور تک نہ پاتے تھے کہ جس سے اپنا پیٹ بھرلیں۔

Simak bin Harb reported: I heard Numan deliver an address in which he said that (Hadrat) Umar made a mention of what had fallen to the lot of people out of the material world and he said: I saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) spend the whole day being upset because of hunger and he could not get even an inferior quality of dates with which he could fill his belly.

7462Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ سَمِعَ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ يَقُولُا سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَلَسْنَا مِنْ فُقَرَائِ الْمُهَاجِرِينَ فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ أَلَکَ امْرَأَةٌ تَأْوِي إِلَيْهَا قَالَ نَعَمْ قَالَ أَلَکَ مَسْکَنٌ تَسْکُنُهُ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْأَغْنِيَائِ قَالَ فَإِنَّ لِي خَادِمًا قَالَ فَأَنْتَ مِنْ الْمُلُوکِ

ابوطاہر احمد عمرو بن سرح، ابن وہب، ابوہانی، ابوعبدالرحمن حبلی، حضرت عبداللہ (رض) بن عمرو بن عاص (رض) سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ کیا ہم مہاجرین فقراء میں سے نہیں ہیں تو حضرت عبداللہ نے اس آدمی سے فرمایا کیا تیری بیوی ہے جس کے پاس تو رہتا ہے وہ کہنے لگا ہاں حضرت عبداللہ نے فرمایا پھر تو تو غنی لوگوں میں سے ہے اس آدمی نے کہا میرے پاس ایک خادم بھی ہے عبداللہ نے فرمایا پھر تو تو بادشاہوں میں سے ہے۔

Abdul Rahman al-Hubuli reported: I heard that a person asked Abdullah bin Amr bin As saying: Are we not amongst the destitute of the emigrants? Abdullah said to him: Have you a spouse with whom you live? He said: Yes. He again said: Then you are amongst the rich. He said: I have a servant also. Thereupon he (Abdullah bin Amr bin As) said: Then you are amongst the kings.

7463Sahih Muslimصحیح

دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں

قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَجَائَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ إِلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَأَنَا عِنْدَهُ فَقَالُوا يَا أَبَا مُحَمَّدٍ إِنَّا وَاللَّهِ مَا نَقْدِرُ عَلَی شَيْئٍ لَا نَفَقَةٍ وَلَا دَابَّةٍ وَلَا مَتَاعٍ فَقَالَ لَهُمْ مَا شِئْتُمْ إِنْ شِئْتُمْ رَجَعْتُمْ إِلَيْنَا فَأَعْطَيْنَاکُمْ مَا يَسَّرَ اللَّهُ لَکُمْ وَإِنْ شِئْتُمْ ذَکَرْنَا أَمْرَکُمْ لِلسُّلْطَانِ وَإِنْ شِئْتُمْ صَبَرْتُمْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ فُقَرَائَ الْمُهَاجِرِينَ يَسْبِقُونَ الْأَغْنِيَائَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَی الْجَنَّةِ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا قَالُوا فَإِنَّا نَصْبِرُ لَا نَسْأَلُ شَيْئًا

ابوعبدالرحمن فرماتے ہیں کہ تین آدمی حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص (رض) کے پاس آئے اور میں ان کے پاس موجود تھا وہ آدمی کہنے لگا اے ابومحمد اللہ کی قسم ہمارے پاس کچھ نہیں ہے نہ خرچ ہے نہ سواری نہ مال ومتاع حضرت عبداللہ نے ان تینوں آدمیوں سے فرمایا تم کیا چاہتے ہو اگر تم یہ چاہتے ہو کہ تم ہماری طرف لوٹ آؤ ہم تمہیں وہ دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تمہارے مقدر میں لکھ دیا ہے اور اگر تم چاہو تو تمہارا ذکر بادشاہ سے کریں اور اگر تم چاہو تو صبر کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں ہم مہاجرین فقراء قیامت کے دن مالداروں سے چالیس سال پہلے جنت میں جائیں گے وہ آدمی کہنے لگا ہم لوگ صبر کریں گے اور ہم کچھ نہیں مانگتے۔

Abu Abdal-Rahman reported that three persons came to Abdullah bin Amr (RA) bin As while I was sitting with him and they said: By Allah, we have nothing with us either in the form of provision, riding animals or wealth. Thereupon he said to them: I am prepared to do whatever you like. If you come to us, we would give you what Allah would make available for you and if you like I would make a mention of your case to the ruler, and if you like you can show patience also for I have heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Destitute amongst the emigrants would precede the rich emigrants by forty years in getting into Paradise on the Day of Resurrection. Thereupon they said: We then show patience and do not ask for anything.

7464Sahih Muslimصحیح

پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ جَمِيعًا عَنْ إِسْمَعِيلَ قَالَ ابْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَصْحَابِ الْحِجْرِ لَا تَدْخُلُوا عَلَی هَؤُلَائِ الْقَوْمِ الْمُعَذَّبِينَ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا بَاکِينَ فَإِنْ لَمْ تَکُونُوا بَاکِينَ فَلَا تَدْخُلُوا عَلَيْهِمْ أَنْ يُصِيبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ

یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، علی بن حجر، اسماعیل بن ایوب، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے پتھروں والے یعنی قوم ثمود کے بارے میں فرمایا اس قوم کے گھروں کے پاس سے نہ گزرو کیونکہ انہیں عذاب دیا گیا ہے سوائے اس کے کہ وہاں سے روتے ہوئے گزرو اور اگر تمہیں رونا نہیں آتا تو پھر وہاں سے نہ گزرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی وہ عذاب مسلط ہوجائے کہ جو عذاب قوم ثمود پر مسلط ہوا تھا۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said in connection with the people of Hijr (Thamud): Do not enter but weepingly (the habitations) of these people who had been punished by (Allah), and in case you do not feel inclined to weep, then do not enter (these habitations) that you may not meet the same calamity as had fallen to their lot.

7465Sahih Muslimصحیح

پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ وَهُوَ يَذْکُرُ الْحِجْرَ مَسَاکِنَ ثَمُودَ قَالَ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ مَرَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْحِجْرِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَدْخُلُوا مَسَاکِنَ الَّذِينَ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ إِلَّا أَنْ تَکُونُوا بَاکِينَ حَذَرًا أَنْ يُصِيبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَهُمْ ثُمَّ زَجَرَ فَأَسْرَعَ حَتَّی خَلَّفَهَا

حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ، حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پتھر والوں یعنی قوم ثمود کے مقامات کے پاس سے گزرے تو رسول اللہ ﷺ نے ہم سے فرمایا تم ان لوگوں کے پتھروں کے پاس سے نہ گزرو کہ جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے سوائے اس کے کہ تم وہاں سے روتے ہوئے گزرو اور اس بات سے بچو کہ کہیں تمہیں بھی نہ آپہنچے کہ جو عذاب ان کو پہنچا پھر اپنی سواری کو ڈانٹ کر جلد چلایا یہاں تک کہ قوم ثمود کے گھروں کو پیچھے چھوڑ دیا۔

Ibn Shihab reported, and he had been talking about the stony abodes of Thamud, and he said: Salim bin Abdullah reported that Abdullah bin Umar (RA) said: We were passing along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) through the habitations of Hijr, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Do not enter but weepingly the habitations of these persons who committed tyranny among themselves, lest the same calamity should fall upon you as it fell upon them. He then urged his mount to proceed quickly and pass through that valley hurriedly.

7466Sahih Muslimصحیح

پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔

حَدَّثَنِي الْحَکَمُ بْنُ مُوسَی أَبُو صَالِحٍ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّاسَ نَزَلُوا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْحِجْرِ أَرْضِ ثَمُودَ فَاسْتَقَوْا مِنْ آبَارِهَا وَعَجَنُوا بِهِ الْعَجِينَ فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُهَرِيقُوا مَا اسْتَقَوْا وَيَعْلِفُوا الْإِبِلَ الْعَجِينَ وَأَمَرَهُمْ أَنْ يَسْتَقُوا مِنْ الْبِئْرِ الَّتِي کَانَتْ تَرِدُهَا النَّاقَةُ

حکم بن موسیٰ ابوصالح شعیب بن اسحاق بن عبیداللہ نافع حضرت ابن عمر (رض) خبری دیتے ہیں کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کے ساتھ قوم ثمود کے علاقہ میں اترے تو انہوں نے اس جگہ کے کنوؤں سے پینے کا پانی لیا اور انہوں نے اس پانی سے آٹا بھی گوندھا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کرام کو حکم فرمایا پینے والا پانی بہا دیا جائے اور اس پانی سے گوندھا گیا آٹا اونٹوں کو کھلا دیا جائے اور آپ ﷺ نے ان کو حکم فرمایا کہ اس کنوئیں سے پانی لیا جائے کہ جس کنوئیں پر حضرت صالح کی اونٹنی پانی پینے آئی تھی۔

Abdullah bin Umar reported that the people encamped along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in the valley of Hijr, the habitations of Thamud, and they quenched their thirst from the wells thereof and kneaded the flour with it. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded that the water collected for drinking should be spilt and the flour should be given to the camels and commanded them that the water for drinking should be taken from that well where the she-camel (of Hadrat Salih) used to come.

7467Sahih Muslimصحیح

پتھر والوں (قوم ثمود) کے گھروں پر سے داخل ہونے کی ممانعت کے بیان میں سوائے اس کے کہ جو روتا ہوا داخل ہو۔

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مُوسَی الْأَنْصَارِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فَاسْتَقَوْا مِنْ بِئَارِهَا وَاعْتَجَنُوا بِهِ

اسحاق بن موسیٰ انصاری، انس بن عیاض، حضرت عبیداللہ اس سند کے ساتھ مذکورہ حدیث روایت کی طرح حدیث بیان کرتے ہیں سوائے اس کے کہ اس میں ہے انہوں نے اس سے پانی پیا اور اس سے انہوں نے آٹا بھی گوندھا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdullah with the same chain of transmitters but with a slight variation of wording.

7468Sahih Muslimصحیح

بیوہ مسکین یتیم کے ساتھ نیکی (حسن سلوک) کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِي الْغَيْثِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّاعِي عَلَی الْأَرْمَلَةِ وَالْمِسْکِينِ کَالْمُجَاهِدِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَحْسِبُهُ قَالَ وَکَالْقَائِمِ لَا يَفْتُرُ وَکَالصَّائِمِ لَا يُفْطِرُ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، ثور بن زید، ابی غیث، حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا بیوہ عورت اور مسکینوں پر کوشش کرنے والا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والے (مجاہد) کی طرح ہے اور میں گمان کرتا ہوں کہ وہ اس قائم کی طرح ہے کہ جو نہ تھکتا ہو اور اس صائم کی طرح ہے کہ جو افطار نہ کرتا ہو۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who makes efforts (for earning to be spent) on a widow and the destitute is like a striver in the cause of Allah, and I think he also said: He is like one who constantly stands for prayer and observes fast without breaking it.

7469Sahih Muslimصحیح

بیوہ مسکین یتیم کے ساتھ نیکی (حسن سلوک) کرنے کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ عِيسَی حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا الْغَيْثِ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَافِلُ الْيَتِيمِ لَهُ أَوْ لِغَيْرِهِ أَنَا وَهُوَ کَهَاتَيْنِ فِي الْجَنَّةِ وَأَشَارَ مَالِکٌ بِالسَّبَّابَةِ وَالْوُسْطَی

زہیر بن حرب، اسحاق عیسی، مالک، ثور بن زید، ابوغیث، حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی یتیم بچے کی کفالت کرنے والا اس کا کوئی قریبی رشتہ دار یا اس کے علاوہ اور جو کوئی بھی ہو اور وہ جنت میں اس طرح ہوں گے حضرت مالک (رض) نے شہادت کی اور درمیانی انگلی سے اشارہ کرکے بتایا۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One who looks after the orphan whether he is his relative or not, I and he would be together in Paradise like this, and Malik (explained it) with the gesture by drawing his index finger and middle finger close together.

7470Sahih Muslimصحیح

مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ وَأَحْمَدُ بْنُ عِيسَی قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ أَنَّ بُکَيْرًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ اللَّهِ الْخَوْلَانِيَّ يَذْکُرُ أَنَّهُ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عِنْدَ قَوْلِ النَّاسِ فِيهِ حِينَ بَنَی مَسْجِدَ الرَّسُولِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکُمْ قَدْ أَکْثَرْتُمْ وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا قَالَ بُکَيْرٌ حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ يَبْتَغِي بِهِ وَجْهَ اللَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ مِثْلَهُ فِي الْجَنَّةِ وَفِي رِوَايَةِ هَارُونَ بَنَی اللَّهُ لَهُ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ

ہارون بن سعید ایلی، احمد بن عیسی، ابن وہب، عمرو ابن حارث، بکیر، عاصم بن عمر بن قتادہ، حضرت عبیداللہ خولانی ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے سنا کہ حضرت عثمان بن عفان نے جس وقت رسول اللہ ﷺ کی مسجد کو (شہید کرکے) دوبارہ بنایا تو لوگ اس بارے میں باتیں کرنے لگے تو حضرت عثمان نے فرمایا تم نے بڑی کثرت سے باتیں کیں حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے مسجد بنائی راوی بکیر کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لئے اللہ کا گھر (مسجد) بنایا تو اس طرح کا ایک گھر جنت میں بنائے گا اور ہارون کی روایت میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بنادے گا۔

Abdullah al-Khaulani reported that when Uthman bin Affan tried to rebuild the mosque of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the people began to talk about this. Uthman bin Affan said: You discuss it very much whereas I have heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: "He who builds a mosque .." and the narrator Bukair said: I think he also said: (for) seeking the pleasure of Allah, Allah would build (a similar house for him in Paradise), and in the narration of Harun (the words are): "A house for him in Paradise."

7471Sahih Muslimصحیح

مسجدیں بنانے کی فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی کِلَاهُمَا عَنْ الضَّحَّاکِ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا الضَّحَّاکُ بْنُ مَخْلَدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ أَرَادَ بِنَائَ الْمَسْجِدِ فَکَرِهَ النَّاسُ ذَلِکَ وَأَحَبُّوا أَنْ يَدَعَهُ عَلَی هَيْئَتِهِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَی مَسْجِدًا لِلَّهِ بَنَی اللَّهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، ضحاک، عبدالحمید بن جعفر، محمود بن لبید (رض) سے روایت ہے کہ جب حضرت عثمان بن عفان (رض) نے مسجد بنانے کا ارادہ فرمایا تو لوگوں نے اسے ناپسند سمجھا اور وہ لوگ اس بات کو پسند کرنے لگے کہ اس مسجد کو اسی حالت پر چھوڑ دیا جائے تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس آدمی نے اللہ کے لئے مسجد بنائی تو اللہ جنت میں اس کے لئے اس جیسا ایک گھر بنا دے گا۔

Mahmud bin Labid reported that Uthman bin Affan decided to rebuild the mosque (of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in Madinah) but the people did not like this idea and they wished that it should be preserved in the same (old) form. Thereupon he (Hadrat Uthman) said: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who builds a mosque for Allah, Allah would build for him (a house) in Paradise like it.