دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْعَظِيمِ وَاللَّفْظُ لِإِسْحَقَ قَالَ عَبَّاسٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا بُکَيْرُ بْنُ مِسْمَارٍ حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدٍ قَالَ کَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ فِي إِبِلِهِ فَجَائَهُ ابْنُهُ عُمَرُ فَلَمَّا رَآهُ سَعْدٌ قَالَ أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا الرَّاکِبِ فَنَزَلَ فَقَالَ لَهُ أَنَزَلْتَ فِي إِبِلِکَ وَغَنَمِکَ وَتَرَکْتَ النَّاسَ يَتَنَازَعُونَ الْمُلْکَ بَيْنَهُمْ فَضَرَبَ سَعْدٌ فِي صَدْرِهِ فَقَالَ اسْکُتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْعَبْدَ التَّقِيَّ الْغَنِيَّ الْخَفِيَّ
اسحاق بن ابراہیم، عباس بن عبد العظیم، اسحاق، عباس، اسحاق، ابوبکر، بکیر بن مسمار، حضرت عامر بن سعد (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) اپنے اونٹوں میں (موجود) تھے کہ اسی دوران ان کا بیٹا عمر آیا تو جب حضرت سعد (رض) نے اسے دیکھا تو فرمایا میں سوار کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتا ہوں تو جب وہ اترا تو حضرت سعد (رض) سے کہنے لگا کہ کیا آپ اونٹوں اور بکریوں میں رہنے لگے ہیں اور لوگوں کو چھوڑ دیا ہے اور وہ ملک کی خاطر جھگڑا رہے ہیں تو حضرت سعد (رض) نے اس کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : خاموش ہوجا۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ اللہ اپنے بندے سے پیار کرتا ہے جو پرہیزگار اور غنی ہے اور ایک کونے میں چھپ کر بیٹھا ہے۔
It is reported on the authority of Amir bin Sad that Sad bin Abi Waqqas was in the fold of his camels that his son Umar came to him. When Sad saw him he said: I seek refuge with Allah from the mischief of this rider. And as he got down he said to him: You are busy with your camels and your sheep and you have abandoned people who are contending with one another for kingdom. Sad struck his chest and said: Keep quiet. I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Allah loves the servant who is God-conscious and is free from want and is hidden (from the view of people).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ قَالَ سَمِعْتُ إِسْمَعِيلَ عَنْ قَيْسٍ عَنْ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَابْنُ بِشْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ سَعْدَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ يَقُولُا وَاللَّهِ إِنِّي لَأَوَّلُ رَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ رَمَی بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَقَدْ کُنَّا نَغْزُو مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ نَأْکُلُهُ إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ وَهَذَا السَّمُرُ حَتَّی إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ کَمَا تَضَعُ الشَّاةُ ثُمَّ أَصْبَحَتْ بَنُو أَسَدٍ تُعَزِّرُنِي عَلَی الدِّينِ لَقَدْ خِبْتُ إِذًا وَضَلَّ عَمَلِي وَلَمْ يَقُلْ ابْنُ نُمَيْرٍ إِذًا
یحییٰ بن حبیب حارثی، معتمر، اسماعیل، قیس بن سعد، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، ابن بشر (رض) حضرت سعد بن ابی و قاص (رض) فرماتے ہیں اللہ کی قسم ! عرب میں سے سب سے پہلا میں وہ آدمی ہوں کہ جس نے اللہ کے راستہ میں تیر پھینکا اور ہمارے پاس اس حبلہ درخت کے پتوں اور سمر کے پتوں کے سوا کھانے کے لئے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم میں سے کوئی قضائے حاجت اس طرح کرتا جیسا کہ بکری مینگنی کرتی ہے پھر آج بنو اسد کے لوگ دین کی باتیں سکھانے لگے ہیں تو میں بالکل گھاٹے ہی میں رہا اگر یہ بات تھی اور میرے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔
Sad bin Abu Waqqas is reported to have, said: By Allah, I am the first person amongst the Arabs to throw an arrow in the cause of Allah and we used to go with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and there was no food for us to eat but only the leaves of hubla and samur trees (they are wild trees) and as a result thereof one amongst us would relieve himself as does the goat. (How strange it is) that now the people of Banu Asad (the progeny of Zubair) instruct me in religion and try to impose punishment upon me (in regard to it). If it is so (that I am so ignorant of religion), then indeed, I am undone and my deeds have been lost. Ibn Numair, however, did not make a mention of the word (idhan) thus (in his narration).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَکِيعٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ حَتَّی إِنْ کَانَ أَحَدُنَا لَيَضَعُ کَمَا تَضَعُ الْعَنْزُ مَا يَخْلِطُهُ بِشَيْئٍ
یحییٰ بن یحیی، وکیع، حضرت اسماعیل بن ابی خالد (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس میں انہوں نے کہا یہاں تک کہ اگر ہم میں سے کوئی قضائے حاجت کرتا تو ایسے کرتا جیسے بکری مینگنی کرتی ہے اور اس میں کوئی چیز ملی ہوئی نہ ہوتی تھی۔
This hadith has been narrated on the authority of Ismail bin Khalid with the same chain of transmitters and the words are: "One amongst us would relieve himself as the goats do without anything mixing with its excrement."
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ الْعَدَوِيِّ قَالَ خَطَبَنَا عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ الدُّنْيَا قَدْ آذَنَتْ بِصَرْمٍ وَوَلَّتْ حَذَّائَ وَلَمْ يَبْقَ مِنْهَا إِلَّا صُبَابَةٌ کَصُبَابَةِ الْإِنَائِ يَتَصَابُّهَا صَاحِبُهَا وَإِنَّکُمْ مُنْتَقِلُونَ مِنْهَا إِلَی دَارٍ لَا زَوَالَ لَهَا فَانْتَقِلُوا بِخَيْرِ مَا بِحَضْرَتِکُمْ فَإِنَّهُ قَدْ ذُکِرَ لَنَا أَنَّ الْحَجَرَ يُلْقَی مِنْ شَفَةِ جَهَنَّمَ فَيَهْوِي فِيهَا سَبْعِينَ عَامًا لَا يُدْرِکُ لَهَا قَعْرًا وَ وَاللَّهِ لَتُمْلَأَنَّ أَفَعَجِبْتُمْ وَلَقَدْ ذُکِرَ لَنَا أَنَّ مَا بَيْنَ مِصْرَاعَيْنِ مِنْ مَصَارِيعِ الْجَنَّةِ مَسِيرَةُ أَرْبَعِينَ سَنَةً وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَيْهَا يَوْمٌ وَهُوَ کَظِيظٌ مِنْ الزِّحَامِ وَلَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَنَا طَعَامٌ إِلَّا وَرَقُ الشَّجَرِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا فَالْتَقَطْتُ بُرْدَةً فَشَقَقْتُهَا بَيْنِي وَبَيْنَ سَعْدِ بْنِ مَالِکٍ فَاتَّزَرْتُ بِنِصْفِهَا وَاتَّزَرَ سَعْدٌ بِنِصْفِهَا فَمَا أَصْبَحَ الْيَوْمَ مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا أَصْبَحَ أَمِيرًا عَلَی مِصْرٍ مِنْ الْأَمْصَارِ وَإِنِّي أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَکُونَ فِي نَفْسِي عَظِيمًا وَعِنْدَ اللَّهِ صَغِيرًا وَإِنَّهَا لَمْ تَکُنْ نُبُوَّةٌ قَطُّ إِلَّا تَنَاسَخَتْ حَتَّی يَکُونَ آخِرُ عَاقِبَتِهَا مُلْکًا فَسَتَخْبُرُونَ وَتُجَرِّبُونَ الْأُمَرَائَ بَعْدَنَا
شیبان بن فروخ، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، حضرت خالد بن عمیر عدوی (رض) سے روایت ہے کہ عتبہ بن غزوان نے ہمیں ایک خطبہ دیا۔ انہوں نے (سب سے پہلے) اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی پھر فرمایا اما بعد ! کہ دنیا نے اپنے ختم ہونے کی خبر دے دی ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے اس کے کہ جس طرح ایک برتن میں کچھ بچا ہوا پانی باقی رہ جاتا ہے جسے اس کا پینے والا چھوڑ دیتا ہے اور تم لوگ اس دنیا سے ایسے گھر کی طرف منتقل ہونے والے ہو کہ جس کو پھر کوئی زوال نہیں۔ لہذا تم اپنے نیک اعمال آگے بھیج کر جاؤ کیونکہ ہمیں یہ بات ذکر کی گئی ہے کہ ایک پتھر جہنم کے ایک کنارے سے اس میں ڈالا جائے گا اور وہ ستر سال تک اس میں گرتا رہے گا پھر بھی وہ جہنم کی تہہ تک نہیں پہنچ سکے گا۔ اللہ کی قسم ! دوزخ کو بھر دیا جائے گا کیا تم تعجب کرتے ہو ؟ اور ہم سے یہ بات بھی ذکر کی گئی ہے کہ جنت کے ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک چالیس سال کی مسافت ہے اور جنت پر ایک ایسا دن آئے گا کہ وہ لوگوں کے رش کی وجہ سے بھری ہوئی ہوگی اور تو نے مجھے دیکھا ہوگا کہ میں ساتوں میں سے سا تواں ہوں جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ہمارا کھانا سوائے درختوں کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا۔ یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔ مجھے ایک چادر ملی جسے پھاڑ کر میں نے دو ٹکڑے کئے ایک ٹکڑے کا تہ بند بنایا اور ایک ٹکڑے کا سعد بن مالک نے تہ بند بنایا اور آج ہم میں سے کوئی ایسا آدمی نہیں ہے کہ جو شہروں میں سے کسی شہر کا حاکم نہ ہو اور میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں اس بات کی کہ میں اپنے آپ کو بڑا سمجھوں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں چھوٹا سمجھا جاؤں کیونکہ کسی نبی کی نبوت بھی ہمیشہ نہیں رہی اور نبوت کا اثر بھی جاتا رہا یہاں تک کہ اس کا آخرکار انجام یہ ہوا کہ وہ سلطنت تباہ ہوگئی اور تم عنقریب ان حاکموں کا تجربہ کرو گے کہ جو ہمارے بعد میں آئیں گے۔
Umair al-Adawi reported: Utba bin Ghazwan delivered us a sermon and he praised Allah and lauded Him, then said: Now coming to the point, verily the world has been given the news of its end and that too quite early. Nothing would be left out of it but only water left in the utensil which its owner leaves, and you are going to shift to an abode which knows no end, and you should shift with the good before you, for we have been told that a stone would be thrown at one side of the Hell and it would go down even for seventy years but would not be able to reach its bottom. By Allah, it would be fully packed. Do you find it something strange, and it has been mentioned that there yawns a distance which one would be able to cover in forty years from one end to another of Paradise, and a day would come when it would be fully packed and you must be knowing that I was the seventh amongst seven who had been with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and we had nothing to eat but the leaves of the tree until the corners of the mouth were injured. We found a sheet which we tore in two and divided between myself and Sad bin Malik. I made the lower garment with halt of it and so did Sad make the lower garment with half of it and today there is none amongst us who has not become the governor of a city from amongst the cities (of the Islamic Commonwealth) and I seek refuge with Allah that I should consider myself great whereas I am insignificant in the eye of Allah. Prophethood does not remain for ever and its impact fades with the result that it changes eventually into kingship, and you would soon come to know and experience those rulers who would come after us and see (how far they are from religion).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ عُمَرَ بْنِ سَلِيطٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ وَقَدْ أَدْرَکَ الْجَاهِلِيَّةَ قَالَ خَطَبَ عُتْبَةُ بْنُ غَزْوَانَ وَکَانَ أَمِيرًا عَلَی الْبَصْرَةِ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ شَيْبَانَ
اسحاق بن عمر بن سلیط، سلیمان بن مغیرہ، حمید بن ہلال، خالد بن عمیر، حضرت خالد بن و لید سے روایت ہے انہوں نے زمانہ جاہلیت پایا تھا۔ خالد (رض) فرماتے ہیں کہ عتبہ بن غزوان نے ایک خطبہ دیا جبکہ وہ بصرہ پر حاکم مقرر تھے (اور پھر اس کے بعد) شیبانی کی روایت کی طرح روایت ذکر کی۔
Khalid bin Umair reported and he had seen the pre-Islamic days also, that Uqba bin Ghazwan delivered this address and he was the governor of Basrah. The rest of the hadith is the same as transmitted by Shaiban.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ قُرَّةَ بْنِ خَالِدٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ عَنْ خَالِدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ سَمِعْتُ عُتْبَةَ بْنَ غَزْوَانَ يَقُولُا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا طَعَامُنَا إِلَّا وَرَقُ الْحُبْلَةِ حَتَّی قَرِحَتْ أَشْدَاقُنَا
ابو کریب محمد بن علاء، وکیع، قرہ بن خالد، حمید بن ہلال، حضرت خالد بن عمیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عتبہ بن غزوان سے سنا وہ کہتے ہیں کہ مجھے کیا دیکھتا ہے میں تو ان ساتوں میں سے سا تو اں ہوں کہ جو نبی ﷺ کے ساتھ تھے اور ہمارے پاس کھانے کے لئے سوائے حبلہ درخت کے پتوں کے اور کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہماری باچھیں زخمی ہوگئیں۔
Khalid bin Umair reported: I heard Uqba bin Ghazwan as saying: I found myself as the seventh amongst the seven who had been along with Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We had nothing to eat but the leaves of hubla (a wild tree) until the corners of our mouths were injured.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ نَرَی رَبَّنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ هَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الشَّمْسِ فِي الظَّهِيرَةِ لَيْسَتْ فِي سَحَابَةٍ قَالُوا لَا قَالَ فَهَلْ تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ لَيْسَ فِي سَحَابَةٍ قَالُوا لَا قَالَ فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ رَبِّکُمْ إِلَّا کَمَا تُضَارُّونَ فِي رُؤْيَةِ أَحَدِهِمَا قَالَ فَيَلْقَی الْعَبْدَ فَيَقُولُ أَيْ فُلْ أَلَمْ أُکْرِمْکَ وَأُسَوِّدْکَ وَأُزَوِّجْکَ وَأُسَخِّرْ لَکَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْکَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَی قَالَ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّکَ مُلَاقِيَّ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاکَ کَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَی الثَّانِيَ فَيَقُولُ أَيْ فُلْ أَلَمْ أُکْرِمْکَ وَأُسَوِّدْکَ وَأُزَوِّجْکَ وَأُسَخِّرْ لَکَ الْخَيْلَ وَالْإِبِلَ وَأَذَرْکَ تَرْأَسُ وَتَرْبَعُ فَيَقُولُ بَلَی أَيْ رَبِّ فَيَقُولُ أَفَظَنَنْتَ أَنَّکَ مُلَاقِيَّ فَيَقُولُ لَا فَيَقُولُ فَإِنِّي أَنْسَاکَ کَمَا نَسِيتَنِي ثُمَّ يَلْقَی الثَّالِثَ فَيَقُولُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ فَيَقُولُ يَا رَبِّ آمَنْتُ بِکَ وَبِکِتَابِکَ وَبِرُسُلِکَ وَصَلَّيْتُ وَصُمْتُ وَتَصَدَّقْتُ وَيُثْنِي بِخَيْرٍ مَا اسْتَطَاعَ فَيَقُولُ هَاهُنَا إِذًا قَالَ ثُمَّ يُقَالُ لَهُ الْآنَ نَبْعَثُ شَاهِدَنَا عَلَيْکَ وَيَتَفَکَّرُ فِي نَفْسِهِ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْهَدُ عَلَيَّ فَيُخْتَمُ عَلَی فِيهِ وَيُقَالُ لِفَخِذِهِ وَلَحْمِهِ وَعِظَامِهِ انْطِقِي فَتَنْطِقُ فَخِذُهُ وَلَحْمُهُ وَعِظَامُهُ بِعَمَلِهِ وَذَلِکَ لِيُعْذِرَ مِنْ نَفْسِهِ وَذَلِکَ الْمُنَافِقُ وَذَلِکَ الَّذِي يَسْخَطُ اللَّهُ عَلَيْهِ
محمد بن ابی عمر، سفیان، سہیل بن ابوصالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے ؟ آپ نے فرمایا کیا تمہیں دوپہر کے وقت میں جبکہ کوئی بادل نہ ہو سورج کے دیکھنے میں کوئی مشقت ہوتی ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا نہیں ! آپ نے فرمایا کیا تمہیں چودہویں رات کے چاند کے دیکھنے میں جبکہ بادل نہ ہوں کوئی مشقت ہوتی ہے ؟ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا نہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا : قسم ہے اس ذات جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے کہ تم لوگوں کو اپنے رب کے دیکھنے میں کسی قسم کا حجاب نہیں ہوگا سوائے اس کے کہ جتنا تمہیں سورج اور چاند میں سے کسی ایک کے دیکھنے میں حجاب ہوتا ہے آپ نے فرمایا پھر اس کے بعد اللہ اپنے بندوں سے ملاقات کرے گا اور فرمائے گا اے فلاں کیا میں نے تجھے عزت نہیں دی اور تجھے سردار نہیں بنایا اور تجھے جوڑا نہیں بنایا اور تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے اور کیا میں نے تجھے ریاست اور آرام کی حالت میں نہیں چھوڑا اور تو ان سے چوتھائی حصہ لیتا تھا وہ عرض کرے گا جی ہاں اے پروردگار اللہ عزوجل فرمائے گا کیا تو گمان کرتا تھا کہ تو مجھے سے ملاقات کرے گا وہ عرض کرے گا نہیں پھر اللہ عزوجل فرمائے گا کہ میں تجھے بھلا دیتا ہوں جس طرح کہ تو نے مجھے بھلا دیا تھا پھر اللہ تیسرے سے ملاقات کرے گا اور اللہ اسے بھی اسی طرح سے فرمائے گا وہ عرض کرے گا اے پروردگار میں تجھ پر اور تیری کتابوں پر اور تیرے رسولوں پر ایمان لایا اور میں نے نماز پڑھی اور میں نے روزہ رکھا اور میں نے صدقہ و خیرات کیا اس سے جس قدر ہو سکے گی وہ اپنی نیکی کی تعریف کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا تجھے ابھی تیری نیکیوں کا پتہ چل جائے گا آپ ﷺ نے فرمایا پھر اسے کہا جائے گا کہ ہم ابھی تیرے خلاف گواہ بھیجتے ہیں وہ اپنے دل میں غور وفکر کرے گا کہ کون ہے جو میرے خلاف گواہی دے پھر اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کی ران گوشت ہڈیوں سے کہا جائے گا بولو پھر اس کی رگ اور اس کا گوشت اور اس کی ہڈیاں اس کے اعمال کی گواہی دیتے ہوئے بولیں گے اور یہ سب اس وجہ سے ہوگا کہ کسی نفس کی طرف سے کوئی عذر قائم نہ ہو سکے گا اور یہ منافق آدمی ہوگا اور اس پر اللہ تعالیٰ اپنی ناراضگی کا اظہار فرمائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported that they (the Companions of the Holy Prophet) said: Allahs Messenger, will we be able to see our Lord on the Day of Judgment? He said: Do you feel any difficulty in seeing the sun in the noon when there is no cloud over it? They said: No. He again said: Do you feel any difficulty in seeing the moon on the fourteenth night when there is no cloud over it? They said: No. Thereupon he said: By Allah Who is One in Whose Hand is my life, you will not face any difficulty in seeing your Lord but only so much as you feel in seeing one of them. Then Allah would sit in judgment upon the servant and would say: O, so and so, did I not honour you and make you the chief and provide you the spouse and subdue for you horses, camels, and offered you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes. And then it would be said: Did you not think that you would meet Us? And he would say: No. Thereupon He (Allah) would say: Well, We forget you as you forgot Us. Then the second person would be brought for judgment and Allah would say: 0, so and so. Did We not honour you and make you the chief and make you pair and subdue for you horses and camels and offered you an opportunity to rule over your subjects? He would say: Yes, my Lord. And He (the Lord) would say: Did you not think that you would be meeting Us? And he would say: No. And then He (Allah) would say: Well, I forget you today as you forgot Us. Then the third one would be brought and He (Allah) would say to him as He said before. And he (the third person) would say: O, my Lord, I affirmed my faith in Thee and in Thy Book and in Thy Messenger and I observed prayer and fasts and gave charity, and he would speak in good terms like this as he would be able to do. And He (Allah) would say: Well, We will bring our witnesses to you. And the man would think in his mind who would bear witness upon him and then his mouth would be sealed and it would be said to his thighs, to his flesh and to his bones to speak and his thighs. flesh and bones would bear witness to his deeds and it would be done so that he should not be able to make any excuse for himself and he would be a hypocrite and Allah would be annoyed with him.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ النَّضْرِ بْنِ أَبِي النَّضْرِ حَدَّثَنِي أَبُو النَّضْرِ هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ عَنْ عُبَيْدٍ الْمُکْتِبِ عَنْ فُضَيْلٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ فَقَالَ هَلْ تَدْرُونَ مِمَّ أَضْحَکُ قَالَ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ قَالَ مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّهُ يَقُولُ يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنْ الظُّلْمِ قَالَ يَقُولُ بَلَی قَالَ فَيَقُولُ فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَی نَفْسِي إِلَّا شَاهِدًا مِنِّي قَالَ فَيَقُولُ کَفَی بِنَفْسِکَ الْيَوْمَ عَلَيْکَ شَهِيدًا وَبِالْکِرَامِ الْکَاتِبِينَ شُهُودًا قَالَ فَيُخْتَمُ عَلَی فِيهِ فَيُقَالُ لِأَرْکَانِهِ انْطِقِي قَالَ فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِهِ قَالَ ثُمَّ يُخَلَّی بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْکَلَامِ قَالَ فَيَقُولُ بُعْدًا لَکُنَّ وَسُحْقًا فَعَنْکُنَّ کُنْتُ أُنَاضِلُ
ابوبکر بن نضر بن ابی نضر، ابونضر، ہاشم بن قاسم، عبیداللہ، سفیان ثوری، عبیدالمکتب، فضیل، شعبی، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے تھے کہ آپ ﷺ ہنسے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنسا ہوں حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا میں بندے کی اس بات سے ہنسا ہوں کہ جو وہ اپنے رب سے کرے گا وہ بندہ عرض کرے گا اے پروردگار کیا تو نے مجھے ظلم سے پناہ نہیں دی آپ ﷺ نے فرمایا اللہ فرمائے گا ہاں آپ ﷺ نے فرمایا پھر بندہ عرض کرے گا میں اپنے اوپر اپنی ذات کے علاوہ کسی کی گواہی کو جائز نہیں سمجھتا آپ ﷺ نے فرمایا پھر اللہ فرمائے گا کہ آج کے دن تیرے اوپر تیری ہی ذات کی گوہی اور کراما کا تبین کی گواہی کفایت کر جائے گی آپ نے فرمایا پھر اس بندے کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے دیگر اعضاء کو کہا جائے گا کہ بولیں آپ ﷺ نے فرمایا اس کے اعضاء اس کے سارے اعمال بیان کریں گے آپ ﷺ نے فرمایا پھر بندہ اپنے اعضاء سے کہے گا دور ہوجاؤ چلو دور ہوجاؤ میں تمہاری طرف سے ہی تو جھگڑا کر رہا تھا۔
Anas bin Malik (RA) reported: We were in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he smiled and said: Do you know why I laughed? We said: Allah and His Messenger, know best. Thereupon he said: It was because of the (fact that there came to my mind) the talk which the servant would have with his Lord (on the Day of Judgment). He would say: My Lord, have you not guaranteed me protection against injustice? He would say: Yes. Then the servant would say: I do not deem valid any witness against me but my own self, and He would say: Well, enough would be the witness of your self against you and that of the two angels who had been appointed to record your deeds. Then the seal would be set upon his mouth and it would be said to his hands and feet to speak and they would speak of his deeds. Then the mouth would be made free to talk, he would say (to the hands and feet): Be away, let there be curse of Allah upon you. It was for your safety that I contended.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا
زہیر بن حرب، محمد بن فضیل، عمارہ بن قعقاع، ابن زرعہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ محمد کی آل کو بقدر کفایت رزق عطا فرما۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, make for the family of Muhammad the provision which is a bare subsistence.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا وَفِي رِوَايَةِ عَمْرٍو اللَّهُمَّ ارْزُقْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، زہیر بن حرب، ابوکریب، وکیع، اعمش، عمارہ ابن قعقاع، ابی، زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ محمد کی آل کو بقدر کفایت رزق عطا فرما دے عمرو کی روایت میں اللَّهُمَّ اجْعَلْ کی بجائے اللَّهُمَّ رِزْقَ ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: O Allah, provide for the family of Muhammad their subsistence, and in the narration transmitted on the authority of Amr (the words are): "O Allah, provide us subsistence"
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ ذَکَرَ عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ کَفَافًا
ابوسعید اشج، ابواسامہ، اعمش، حضرت عمارہ بن قعقاع سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور اس روایت میں آپ ﷺ نے قُوتًا کی بجائے کَفَافًا کا لفظ فرمایا ہے۔
Umara bin al-Qaqa reported this hadith with the same chain of transmitters but instead of the word "qut" (bare subsistence) there has been used the word "Kafaf" (adequate means to meet the needs).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ قَدِمَ الْمَدِينَةَ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ ثَلَاثَ لَيَالٍ تِبَاعًا حَتَّی قُبِضَ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، منصور، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ جس وقت سے آل محمد مدینہ منورہ آئے کبھی بھی لگاتار تین راتیں گیہوں کی روٹی سے پیٹ بھر کر کھانا نہیں کھایا یہاں تک کہ آپ ﷺ اس فانی دنیا سے رخصت فرما گئے۔
Aisha reported: Never had the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) eaten to the fill since their arrival in Madinah with the bread of wheat for three successive nights until his (Holy Prophets) death.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، اسحاق بن ابراہیم، اسحاق، ابومعاویہ، اعمش (رض) ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی بھی لگاتار تین دن تک گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ آپ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Never did Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) eat to his fill the bread of wheat for three successive days until he had run the course of his life.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ يَوْمَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ حَتَّی قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عبدالرحمن بن یزید، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد کبھی لگاتار دو دن جو کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ رسول اللہ ﷺ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported: Never did the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) eat to the fill the bread of barley for two successive days until Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ فَوْقَ ثَلَاثٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، سفیان، عبدالرحمن ابن عباس (رض) سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد کبھی بھی تین دن سے زیادہ گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (afford to eat to the fill) the bread of wheat beyond three days (successively).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ الْبُرِّ ثَلَاثًا حَتَّی مَضَی لِسَبِيلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، ہشام بن عروہ (رض) ، سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ آل محمد تین دن تک لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے یہاں تک کہ اس فانی دنیا سے رحلت فرما گئے۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (afford to) eat the bread of wheat for three (successive) days until he ran the course of his life.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ حُمَيْدٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَيْنِ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ إِلَّا وَأَحَدُهُمَا تَمْرٌ
ابوکریب، وکیع، حفص بن غیاث، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ آل محمد دو دنوں تک گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے سوائے اس کے کہ صرف ایک کھجور ہی ہوتی تھی۔
Aisha reported: Never could the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (afford to eat) the bread of wheat for two days successively. Even (out of these two days) one was such wherein he could get only a date.
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ وَيَحْيَی بْنُ يَمَانٍ حَدَّثَنَا عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ إِنْ کُنَّا آلَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَنَمْکُثُ شَهْرًا مَا نَسْتَوْقِدُ بِنَارٍ إِنْ هُوَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَائُ
عمرو ناقد، عبدہ بن سلیمان، یحییٰ بن یمان، ہشام بن عروہ، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ہم آل محمد کا یہ حال تھا کہ ہمارے ہاں مہینہ مہینہ بھر تک آگ نہیں جلتی تھی بلکہ صرف کھجور اور پانی پر ہی گزر بسر ہوتی تھی۔
Aisha reported: We the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to spend the whole month in which we did not need to kindle the fire as (we had nothing to cook); we had only dates and water (to fill our bellies).
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِنْ کُنَّا لَنَمْکُثُ وَلَمْ يَذْکُرْ آلَ مُحَمَّدٍ وَزَادَ أَبُو کُرَيْبٍ فِي حَدِيثِهِ عَنْ ابْنِ نُمَيْرٍ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَنَا اللُّحَيْمُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابواسامہ، ابن نمیر، حضرت ہشام بن عروہ سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے لیکن اس روایت میں آل محمد کا ذکر نہیں ہے اور ابوکریب نے اپنی روایت میں یہ زیادتی بیان کی ہے کہ ابن نمیر سے روایت ہے کہ سوائے اس کے کہ کہیں سے ہمارے لئے گوشت آجاتا۔
This hadith has been narrated on the authority of Urwa with the same chain of transmitters (and the words are): "We used to spend" And he did not make a mention of the family of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and Abu Kuraib made this addition to his hadith which was transmitted on the authority of Ibn Numair (and the words are): "But this that there was brought to us some meat."
دونوں نفخوں کے درمیانی وقفہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ بْنِ کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ شَيْئٍ يَأْکُلُهُ ذُو کَبِدٍ إِلَّا شَطْرُ شَعِيرٍ فِي رَفٍّ لِي فَأَکَلْتُ مِنْهُ حَتَّی طَالَ عَلَيَّ فَکِلْتُهُ فَفَنِيَ
ابوکریب محمد بن علاء بن کریب، ابواسامہ، ہشام، سیدہ عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو میرے برتن میں سوائے تھوڑے سے جو کے کھانے کے لئے اور کچھ نہیں تھا میں اسی برتن میں بہت دنوں تک کھاتی رہی میں نے اس برتن کو ناپا تو اس میں سے جو ختم ہوگئے۔
Aisha reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) died (in such a state) that there had been nothing in my wooden tub which a living being could afford to eat but a handful of barley therein. I had been eating out of that for a fairly long duration when I thought of measuring it and it was almost finished.