اللہ تعالیٰ کے فرمان اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ جَمِيعًا عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ کَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُبَيٍّ ابْنُ سَلُولَ يَقُولُ لِجَارِيَةٍ لَهُ اذْهَبِي فَابْغِينَا شَيْئًا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا تُکْرِهُوا فَتَيَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِتَبْتَغُوا عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَمَنْ يُکْرِهْهُنَّ فَإِنَّ اللَّهَ مِنْ بَعْدِ إِکْرَاهِهِنَّ لَهُنَّ غَفُورٌ رَحِيمٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، ابی سفیان، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی سلول اپنی باندی سے کہتا کہ جا اور بدفعلی کروا کر ہمارے لئے کچھ کما کر لا، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ ) 24 ۔ النور : 33) اپنی باندیوں کو زنا کرنے پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ زنا کرنے سے بچنا چاہیں تاکہ تم دنیا کا مال حاصل کرو اور جو کوئی باندیوں پر اس کام کے لئے زبردستی کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کی بےبسی کے بعد بخشنے والا مہربان ہے۔
Jabir reported that Abdullah bin Ubayy bin Salul used to say to his slave-girl: Go and fetch something for us by committing prostitution. It was in this connection that Allah, the Exalted and Glorious, revealed this verse: "And compel not your slave-girls to prostitution when they desire to keep chaste in order to seek the frail goods of this worlds life, and whoever compels them, then surely after their compulsion Allah is Forgiving, Merciful" (xxiv. 33).
اللہ تعالیٰ کے فرمان اور نہ زبردستی کرو اپنی باندیوں پر بدکاری کے واسطے۔
و حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ جَارِيَةً لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ ابْنِ سَلُولَ يُقَالُ لَهَا مُسَيْکَةُ وَأُخْرَی يُقَالُ لَهَا أُمَيْمَةُ فَکَانَ يُکْرِهُهُمَا عَلَی الزِّنَی فَشَکَتَا ذَلِکَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ وَلَا تُکْرِهُوا فَتَيَاتِکُمْ عَلَی الْبِغَائِ إِلَی قَوْلِهِ غَفُورٌ رَحِيمٌ
ابوکامل جحدری، ابوعوانہ، اعمش، ابوسفیان (رض) ، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ابی سلول کے پاس دو باندیاں تھیں ایک باندی کا نام مسیکہ اور دوسری باندی کا نام امیمہ تھا وہ منافق ان دونوں باندیوں کو زنا پر مجبور کیا کرتا تھا تو ان دونوں باندیوں نے نبی ﷺ سے اس بات کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ ) 24 ۔ النور : 33) ترجمہ گزر چکا ہے۔
Jabir reported that Abdullah bin Ubayy bin Salul had two slave-girls; one was called Musaika and the other one was called Umaima and he compelled them to prostitution (for which Abdullah bin Ubayy bin Salul compelled them). They made a complaint about this to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and it was upon this that this verse was revealed: "And compel not your slave-girls to prostitute" up to the words: "Allah is Forgiving, Merciful."
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ قَالَ کَانَ نَفَرٌ مِنْ الْجِنِّ أَسْلَمُوا وَکَانُوا يُعْبَدُونَ فَبَقِيَ الَّذِينَ کَانُوا يَعْبُدُونَ عَلَی عِبَادَتِهِمْ وَقَدْ أَسْلَمَ النَّفَرُ مِنْ الْجِنِّ
ابوبکر بن ابی شبیہ، عبداللہ بن ادریس، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ (رض) اللہ عزوجل کے اس فرمان (ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ اَيُّهُمْ اَقْرَبُ ) 17 ۔ الاسراء : 57) یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ کہ کون ان میں سے زیادہ قریب ہے (سورۂ بنی اسرائیل) کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی (یہ وہ جن تھے کہ جن کی پوجا کی جاتی تھی، ان کے مسلمان ہونے کے بعد بھی) لوگ ان کی پوجا کرتے رہے حالانکہ جنوں کی یہ جماعت مسلمان ہوگئی تھی (یہ آیت کریمہ ان کے بارے میں نازل ہوئی) ۔
Abdullah bin Masud reported in connection with the words of Allah, the Exalted and Glorious:" Those to whom they call upon, themselves seek the means or access to their Lord as to whoever of them becomes nearest" (xvii. 57) that it related to a party of Jinn who were being worshipped and they embraced Islam but those who worshipped them kept on worshipping them (though the Jinn whom the misguided people worshipped had become Muslims). It was then that this verse was revealed.
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ
حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ قَالَ کَانَ نَفَرٌ مِنْ الْإِنْسِ يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ النَّفَرُ مِنْ الْجِنِّ وَاسْتَمْسَکَ الْإِنْسُ بِعِبَادَتِهِمْ فَنَزَلَتْ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ
ابوبکر بن نافع عبدی، عبدالرحمن، سفیان، اعمش، ابراہیم، ابی معمر، حضرت عبداللہ سے روایت ہے کہ یہ آیت (ااُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ ) 17 ۔ الاسراء : 57) اس وقت نازل ہوئی کہ جب کچھ لوگ جنوں کی پوجا کرتے تھے وہ جن مسلمان ہوگئے اور ان کے پوجنے والوں کو پتہ نہ چلا اور وہ لوگ ان جنوں کو ہی پوجتے رہے تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Abdullah bin Masud reported in connection with the verse: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that it related to a group of people who worshipped a party amongst the Jinn. The group from amongst the Jinn embraced Islam, but the people kept worshipping them as they did before, and it was (on this occasion) that the verse was revealed: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord.
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ
و حَدَّثَنِيهِ بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
بشر بن خالد، محمد ابن جعفر، شعبہ، حضرت سلیمان سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے۔
" This hadith has been narrated on the authority of Sulaiman with the same chain of transmitters.
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان یہ لوگ جنہیں وہ پکارتے ہیں تلاش کرتے ہیں اپنے رب کی طرف سے وسیلہ
و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدٍ الزِّمَّانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ قَالَ نَزَلَتْ فِي نَفَرٍ مِنْ الْعَرَبِ کَانُوا يَعْبُدُونَ نَفَرًا مِنْ الْجِنِّ فَأَسْلَمَ الْجِنِّيُّونَ وَالْإِنْسُ الَّذِينَ کَانُوا يَعْبُدُونَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ فَنَزَلَتْ أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ
حجاج بن شاعر، عبدالصمد بن عبدالوارث، ابی حسین، قتادہ، عبداللہ بن معبد رمانی، عبداللہ بن عتبہ، حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ (اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ يَبْتَغُوْنَ اِلٰى رَبِّهِمُ الْوَسِ يْلَةَ ) 17 ۔ الاسراء : 57) کے بارے میں فرمایا کہ یہ آیت کریمہ عرب کی ایک جماعت کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جو جنوں کی ایک جماعت کی پوجا کرتے تھے یہ جن مسلمان ہوگئے توہ عرب لوگ لاعلمی میں ان جنوں کی پوجا کرتے رہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی (أُولَئِکَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَی رَبِّهِمْ الْوَسِيلَةَ ) 17 ۔ الاسراء : 57) ۔
Abdullah bin Masud said in connection with the verse: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord," that that verse was revealed in connection with a party of Arabs who used to worship a group amongst the jinn; the jinn embraced Islam but the people kept worshipping them without being conscious of it. Then this verse was revealed: "Those whom they call upon, themselves seek the means of access to their Lord."
سورت البراءة سورت الانفال سورت الحشر کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ سُورَةُ التَّوْبَةِ قَالَ آلتَّوْبَةِ قَالَ بَلْ هِيَ الْفَاضِحَةُ مَا زَالَتْ تَنْزِلُ وَمِنْهُمْ وَمِنْهُمْ حَتَّی ظَنُّوا أَنْ لَا يَبْقَی مِنَّا أَحَدٌ إِلَّا ذُکِرَ فِيهَا قَالَ قُلْتُ سُورَةُ الْأَنْفَالِ قَالَ تِلْکَ سُورَةُ بَدْرٍ قَالَ قُلْتُ فَالْحَشْرُ قَالَ نَزَلَتْ فِي بَنِي النَّضِيرِ
عبداللہ بن مطیع ہشیم، ابی بشر، ابن عباس (رض) حضرت سعید بن جبیر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابن عباس (رض) سے کہا سورت توبہ، انہوں نے فرمایا کیا توبہ ؟ نہیں، بلکہ وہ سورت تو کافروں اور منافقوں کو ذلیل کرنے والی ہے اس سورت میں تو برابر کچھ کا حال یہ ہے کچھ کا حال یہ ہے نازل ہوتا رہا یہاں تک کہ انہوں نے خیال کیا کہ اس سورت میں ہر منافق کا ذکر کردیا جائے گا حضرت سعید (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ انہوں نے فرمایا سورت الانفال انہوں نے فرمایا یہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں نازل ہوئی ہے میں نے کہا سورت الحشر انہوں نے فرمایا یہ سورت بنی نضیر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Said bin Jubair reported: I said to Ibn Abbas about Sura Tauba, whereupon he said: As for Sura Tauba, it is meant to humiliate (the non-believers and the hypocrites). There is constantly revealed in it (the pronoun) minhum (of them) and minhum (of them), i. e. such is the condition of some of them) till they (the Muslims) thought that none would be left unmentioned out of them who would not be blamed (for one fault or the other). I again said: What about Sura Anfal? He said: It pertains to the Battle of Badr. I again asked him about Sura al-Hashr. He said: It was revealed in connection with (the tribe) of Banu Nadir.
شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ خَطَبَ عُمَرُ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ أَلَا وَإِنَّ الْخَمْرَ نَزَلَ تَحْرِيمُهَا يَوْمَ نَزَلَ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةِ أَشْيَائَ مِنْ الْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِيبِ وَالْعَسَلِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلَاثَةُ أَشْيَائَ وَدِدْتُ أَيُّهَا النَّاسُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهَا الْجَدُّ وَالْکَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، ابوحیان، شعبی، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر خطبہ ارشاد فرمایا تو پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد ثناء بیان فرمائی پھر فرمایا اما بعد آگاہ رہو کہ جس وقت شراب حرام ہوئی تو شراب پانچ چیزوں سے تیار ہوا کرتی تھی گندم، جو، کھجور، انگور اور شہد سے اور شراب اس چیز کو کہتے ہیں کہ جو عقل میں فتور ڈال دے اور تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں تفصیل سے ان کے بارے میں بتا دیتے دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے کچھ ابواب۔
Ibn Umar reported that Umar delivered a sermon on the pulpit of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he praised Allah and lauded Him and then said: Now coming to the point. Behold, when the command pertaining to the prohibition of wine was revealed, it was prepared from five things: from wheat, barley, date, grape, honey; and wine is that which clouds the intellect; and O people, I wish Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) could have explained to us in (more) detail the laws pertaining to the inheritance of the grandfather, about one who dies leaving no issue, and some of the problems pertaining to interest.
شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ حَدَّثَنَا أَبُو حَيَّانَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَی مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولَ أَمَّا بَعْدُ أَيُّهَا النَّاسُ فَإِنَّهُ نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ وَهِيَ مِنْ خَمْسَةٍ مِنْ الْعِنَبِ وَالتَّمْرِ وَالْعَسَلِ وَالْحِنْطَةِ وَالشَّعِيرِ وَالْخَمْرُ مَا خَامَرَ الْعَقْلَ وَثَلَاثٌ أَيُّهَا النَّاسُ وَدِدْتُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ عَهِدَ إِلَيْنَا فِيهِنَّ عَهْدًا نَنْتَهِي إِلَيْهِ الْجَدُّ وَالْکَلَالَةُ وَأَبْوَابٌ مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا
ابوکریب، ابن ادریس، ابوحیان، شعبی، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے رسول اللہ ﷺ کے منبر پر سنا وہ فرما رہے تھے اما بعد اے لوگو اللہ تعالیٰ نے شراب کی حرمت نازل فرمائی ہے اور وہ شراب پانچ چیزوں سے تیار ہوتی ہے انگور، کھجور، شہد، گندم اور جو سے اور شراب وہ ہے جو کہ عقل میں فتور ڈال دے اور اے لوگو تین چیزیں ایسی ہیں کہ جن کے بارے میں میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے آخری مرتبہ بیان فرما دیتے دادا، کلالہ کی میراث اور سود کے کچھ ابواب۔
Ibn Umar reported: I heard Umar bin Khattab delivering sermon on the pulpit ol Allahs messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and saying: Now, coming to the point, O people, there was revealed (the command pertaining to the prohibition of wine) and it was prepared (at that time) out of five things: grape, date, honey, wheat, barley, and wine is that which clouds the intellect, and, O people, I wish Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had explained to us in greater detail three things: the inheritance of the grandfather, of one who dies without leaving any issue, and some of the problems of interest.
شراب کی حرمت کے حکم کے نزول کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي حَيَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا غَيْرَ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ فِي حَدِيثِهِ الْعِنَبِ کَمَا قَالَ ابْنُ إِدْرِيسَ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی الزَّبِيبِ کَمَا قَالَ ابْنُ مُسْهِرٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسماعیل بن علیہ، اسحاق بن ابرا ہیم، عیسیٰ بن یونس، حضرت ابوحیان (رض) سے اس سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ابن علیہ نے اپنی روایت میں عنب کا لفظ کہا ہے جیسا کہ ابن اویس نے کہا اور عیسیٰ کی روایت میں زبیب کا لفظ ہے جیسا کہ ابن مسہر نے کہا مطلب دونوں لفظوں کا ایک ہی ہے۔
This hadith has been transmitted on the same authority but with a slight variation of wording.
اللہ تعالیٰ کے فرمان یہ دو جھگڑا کرنے والے ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اپنے رب کے بارے میں
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ زُرَارَةَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ قَسَمًا إِنَّ هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ إِنَّهَا نَزَلَتْ فِي الَّذِينَ بَرَزُوا يَوْمَ بَدْرٍ حَمْزَةُ وَعَلِيٌّ وَعُبَيْدَةُ بْنُ الْحَارِثِ وَعُتْبَةُ وَشَيْبَةُ ابْنَا رَبِيعَةَ وَالْوَلِيدُ بْنُ عُتْبَةَ
عمرو بن زرارہ، ہشیم، ابی ہاشم، ابومجلز، حضرت قیس بن عباد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے سنا وہ قسم کھا کر بیان فرما رہے تھے کہ (ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ) 22 ۔ الحج : 19 یہ دو جھگڑا کرنے والے ہیں جنہوں نے اپنے رب کے بارے میں جھگڑا کیا ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جنہوں نے غزوہ بدر کے دن (جنگ کے میدان میں) مبارزت یعنی سبقت کی حضرت حمزہ، حضرت علی (رض) ، حضرت عبیدہ بن حارث مسلمانوں کی طرف سے اور عتبہ، شیبہ، ربیعہ کے بیٹے اور ولید بن عتبہ کافروں کی طرف سے تھے) یعنی دونوں گرہوں کے طرف سے ان ان لوگوں نے جنگ میں مبارزت کی) ۔
Abu Dharr (RA) took an oath that this verse: "These two adversaries who dispute about their Lord" (xxii. 19) was revealed in connection with those who on the Day of Badr came out (of rows to fight against the non-believers and they were) Hamza, Ali, Ubaida bin Harith (from the side of the Muslims) and Utba and Shaiba, both of them the sons of Rabiah and Walid bin Utba (from the side of the non-believers of Makkah).
اللہ تعالیٰ کے فرمان یہ دو جھگڑا کرنے والے ہیں جنہوں نے جھگڑا کیا اپنے رب کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَمِيعًا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي هَاشِمٍ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يُقْسِمُ لَنَزَلَتْ هَذَانِ خَصْمَانِ بِمِثْلِ حَدِيثِ هُشَيْمٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، ابی ہاشم، ابومجلز، حضرت قیس بن عباد (رض) سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوذر (رض) سے سنا کہ وہ قسم کھا کر بیان فرما رہے تھے کہ یہ آیت کریمہ (ھٰذٰنِ خَصْمٰنِ اخْتَصَمُوْا فِيْ رَبِّهِمْ ) 22 ۔ الحج : 19) نازل ہوئی۔ (اور پھر) ہشیم کی روایت کی طرح اس آیت کریمہ کی تفسیر بیان کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Abu Dharr (RA) through another chain of transmitters.
ضعیف لوگوں سے روایت کرنے کی ممانعت اور روایت کے تحمل میں احتیاط کے بیان میں
وحَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ سُلَيْمَانُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْغَيْلَانِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ يَعْنِي الْعَقَدِيَّ، حَدَّثَنَا رَبَاحٌ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: جَاءَ بُشَيْرٌ الْعَدَوِيُّ إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، فَجَعَلَ يُحَدِّثُ، وَيَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَا يَأْذَنُ لِحَدِيثِهِ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، مَالِي لَا أَرَاكَ تَسْمَعُ لِحَدِيثِي، أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا تَسْمَعُ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّا كُنَّا مَرَّةً إِذَا سَمِعْنَا رَجُلًا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ابْتَدَرَتْهُ أَبْصَارُنَا، وَأَصْغَيْنَا إِلَيْهِ بِآذَانِنَا، فَلَمَّا رَكِبَ النَّاسُ الصَّعْبَ، وَالذَّلُولَ، لَمْ نَأْخُذْ مِنَ النَّاسِ إِلَّا مَا نَعْرِفُ
مجاہد سے روایت ہے کہ بشیر بن کعب عدوی حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے پاس آیا اور اس نے احادیث بیان کرتے ہوئے کہنا شروع کر دیا : رسول اللہﷺ نے فرمایا ، رسول اللہﷺ نے فرمایا ۔ حضرت ابن عباسؓ ( نے یہ رویہ رکھا کہ ) نہ اس کو دھیان سے سنتے تھے نہ اس کی طرف دیکھتے تھے ۔ وہ کہنے لگا : اے ابن عباس! میرے ساتھ کیا ( معاملہ ) ہے ، مجھے نظر نہیں آتا کہ آپ میری ( بیان کردہ ) حدیث سن رہے ہیں؟ میں آپ کو رسول اللہﷺ سے حدیث سنا رہا ہوں اور آپ سنتے ہی نہیں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک وقت ایسا تھا کہ جب ہم کسی کو یہ کہتے سنتے : رسول اللہﷺ نے فرمایا تو ہماری نظریں فوراً اس کی طرف اٹھ جاتیں اور ہم کان لگا کر غور سے اس کی بات سنتے ، پھر جب لوگوں نے ( بلا تمیز ) ہر مشکل اور آسان پر سواری ( شروع ) کر دی تو ہم لوگوں سے کوئی حدیث قبول نہ کی سوائے اس ( حدیث ) کے جسے ہم جانتے تھے
Abū Ayyūb Sulaymān bin Ubayd Allah al-Ghaylānī narrated to us, Abū Āmir, meaning al-Aqadī, narrated to us, Rabāh narrated to us, on authority of Qays bin Sa’d, on authority of Mujāhid, he said Bushayr ul-Adawī came to Ibn Abbās then he set about narrating to him, saying: ‘The Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’, ‘the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’. Then it seemed that Ibn Abbās was not listening to his Ḥadīth and not reflecting on them, so [Bushayr] said: ‘Oh Ibn Abbās, why is it that I see you not listening to my Ḥadīth? I narrate to you on authority of the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, however you are not listening’. Ibn Abbās said: ‘Indeed once upon a time we would listen to a man saying, ‘the Messenger of Allah, peace and blessings of Allah upon him, said…’ rushing towards him with our eyes and harkening towards him with our ears; then when the people took the difficult and the docile we no longer took from people except those whom we knew’.
ایمان کی شاخوں کے بیان میں کہ ایمان کی کونسی شاخ افضل اور کونسی ادنی؟ اور حیاء کی فضیلت اور اس کا ایمان میں داخل ہونے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ، وَقَالَ: مَرَّ بِرَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يَعِظُ أَخَاهُ
سفیان بن عیینہ کے بجائے معمر نے زہری سے مذکورہ بالاسند کےساتھ خبر دی اور کہا کہ آپ ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو نصیحت کر رہا تھا
Zuhri has narrated this hadith with the addition of these words: He (the Holy Prophet) happened to pass by a mass of Ansar who was instructing his brother (about modesty).
طاعات کی کمی سے ایمان میں کمی واقع ہونا اور ناشکری اور کفران نعمت پر کفر کے اطلاق کے بیان میں
وَحَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وَحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، وَقُتَيْبَةُ، وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ وَهُوَ ابْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
عیاض بن عبد اللہ نےحضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے اورانہوں نے نبی اکرمﷺ سے اور ( سعید ) مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت کی جس طرح حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ۔ باب : 35 ۔ نماز چھوڑنے والے پر لفظ کفر کا اطلاق کرنا نمازاسلام کا رکن ہے ۔ اس کا ترک پچھلی احادیث میں ذکر کیے گئے متعدد گناہوں سے زیادہ سنگین ہے ۔ اس پر جس کفر کا اطلاق کیا گیا وہ ان کے کفر سے بڑا کفر ہے ، پھر بھی اس سے توبہ اور آیندہ نماز کی پابندی سے انسان اچھا مسلمان بن جاتا ہے ، اسے دوبارہ اسلام لانے کی ضرورت نہیں ہوتی ۔ جو نماز کا منکر ہے اسے ازسرنو اسلام لانے کی ضرورت ہے
A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Sa'id al-Khudri. A hadith like this as narrated by Ibn 'Umar has also been transmitted by Abu Huraira.
اس بات کے بیان میں کہ جو اس حال میں مرا کہ اس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کیا تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے ہوئے مرا وہ دوزخ میں داخل ہوگا۔
وَحَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا مُعَاذٌ وَهُوَ ابْنُ هِشَامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ بِمِثْلِهِ
( قرہ کے بجائے ) ہشام نے ابوزبیر کے واسطے سے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سنائی : بے شک اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا ...... ( آگے ) سابقہ روایت کے مانند ہے
The same hadith has been narrated by Ishaq b. Mansur on the authority of Jabir with another chain of transmitters.
شیر خوار بچے کے پیشاب کا حکم اور اس کو دھونے کے طریقہ کے بیان میں
وَحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا عِيسَى، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَ حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ
ہشام کے ایک او رشاگرد عیسیٰ نے ہشام کی اسی سند سے ابن نمیر کی روایت ( : 662 ) کے مطابق روایت بیان
Hisham narrated the hadith like one transmitted by Ibn Numair (the above mentioned one) with the same chain of transmitters.
مستحاضہ اور اس کے غسل اور نماز کے بیان میں
وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ ابْنَةَ جَحْشٍ كَانَتْ تُسْتَحَاضُ سَبْعَ سِنِينَ. بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ بنت جحش سات سال تک استحاضے میں مبتلا رہیں ( آگے باقی ) دوسرے راویوں کی حدیث کی طرح
The hadith has been narrated by 'A'isha through another chain of transmitters (in these words): I The daughter of jahsh had been mustabida for seven years, and the rest of the hadith is the same (as mentioned above).
مردار کی کھال رنگ دینے سے پاک ہوجانے کے بیان میں
وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، ح، وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُحَمَّدٍ، ح، وَحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سُفْيَانَ، كُلُّهُمْ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ يَعْنِي حَدِيثَ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى
سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn 'Abbas by another chain of transmitters.
ایک مسجد کے لئے دو موذن رکھنے کے استح کے بیان میں
وَحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللهِ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
حضرت عائشہؓ سے بھی اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی گئی ہے
This hadith has been narrated on the authority of 'A'isha by another chain of transmitters.