و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ کُلَيْبٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْهُدَی وَالسَّدَادَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِهِ
ابن نمیر، عبداللہ ابن ادریس عاصم بن کلیب اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُکَ الْهُدَی وَالسَّدَادَ اے اللہ میں تجھ سے ہدایت اور سیدھے راستے کا سوال کرتا ہوں دعا مانگا کرو باقی حدیث اسی طرح ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Asim bin Kulaib with the same chain of transmitters that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: Say: "O Allah, I beg of Thee righteousness and adhering to the straight path."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي عُمَرَ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مَوْلَی آلِ طَلْحَةَ عَنْ کُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ عِنْدِهَا بُکْرَةً حِينَ صَلَّی الصُّبْحَ وَهِيَ فِي مَسْجِدِهَا ثُمَّ رَجَعَ بَعْدَ أَنْ أَضْحَی وَهِيَ جَالِسَةٌ فَقَالَ مَا زِلْتِ عَلَی الْحَالِ الَّتِي فَارَقْتُکِ عَلَيْهَا قَالَتْ نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ قُلْتُ بَعْدَکِ أَرْبَعَ کَلِمَاتٍ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ لَوْ وُزِنَتْ بِمَا قُلْتِ مُنْذُ الْيَوْمِ لَوَزَنَتْهُنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ وَرِضَا نَفْسِهِ وَزِنَةَ عَرْشِهِ وَمِدَادَ کَلِمَاتِهِ
قتیبہ بن سعید، عمرو ناقد ابن ابی عمرو ابن ابی عمر سفیان، محمد بن عبدالرحمن مولیٰ ابن طلحہ کریب ابن عباس (رض) حضرت جویریہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ صبح کے وقت ہی نماز ادا کرنے کے بعد ان کے پاس سے چلے گئے اور وہ اپنی جائے نماز پر ہی بیٹھی ہوئی تھیں پھر دن چڑھے آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو وہ وہیں بیٹھی ہوئی تھیں آپ ﷺ نے فرمایا جس وقت میں تمہارے پاس سے گیا ہوں تم اسی طرح بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے عرض کیا جی ہاں نبی ﷺ نے فرمایا میں نے تیرے بعد ایسے چار کلمات تین مرتبہ کہے ہیں کہ اگر تیرے آج کے وظیفہ کو ان کے ساتھ وزن کیا جائے تو ان کلمات کا وزن زیادہ ہوگا سُبْحَانَ اللَّهِ وبحمدہ اللہ کی تعریف اور اسی کی پاکی ہے اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اور اس کی رضا اور اس کے عرش کے وزن اور اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
Juwairiya reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came out from (her apartment) in the morning as she was busy in observing her dawn prayer in her place of worship. He came back in the forenoon and she was still sitting there. He (the Holy Prophet) said to her: You have been in the same seat since I left you. She said: Yes. Thereupon Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I recited four words three times after I left you and if these are to be weighed against what you have recited since morning these would outweigh them and (these words) are: "Hallowed be Allah and praise is due to Him according to the number of His creation and according to the pleasure of His Self and according to the weight of His Throne and according to the ink (used in recording) words (for His Praise)."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ وَإِسْحَقُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ عَنْ مِسْعَرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي رِشْدِينَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ جُوَيْرِيَةَ قَالَتْ مَرَّ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ صَلَّی صَلَاةَ الْغَدَاةِ أَوْ بَعْدَ مَا صَلَّی الْغَدَاةَ فَذَکَرَ نَحْوَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب اسحاق محمد بن بشر مسعر محمد بن عبدالرحمن ابی رشدین ابن عباس (رض) حضرت جویریہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز کے وقت یا نماز فجر کے بعد اس کے پاس سے گزرے پھر مذکورہ حدیث کی طرح حدیث روایت کی لیکن اس میں دعا کے الفاظ اسطرح ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ عَدَدَ خَلْقِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ رِضَا نَفْسِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ زِنَةَ عَرْشِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ مِدَادَ کَلِمَاتِهِ اللہ کی پاکی اس کی مخلوق کی تعداد کے برابر اللہ کی پاکی اس کی رضا کے برابر اللہ کی پاکی اس کے عرش کے وزن کے برابر اللہ کی پاکی اس کے کلمات کی سیاہی کے برابر۔
Juwairiya reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) happened to pass by her as she was observing her dawn prayer; or after she had observed her dawn prayer. The rest of the hadith is the same but with this variation that he said: "Hallowed be Allah according to the number of His creation, hallowed be Allah according to the pleasure of His Self, hallowed be Allah according to the weight of His Throne, hallowed be Allah according to the ink used in recording His words."
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي لَيْلَی حَدَّثَنَا عَلِيٌّ أَنَّ فَاطِمَةَ اشْتَکَتْ مَا تَلْقَی مِنْ الرَّحَی فِي يَدِهَا وَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْيٌ فَانْطَلَقَتْ فَلَمْ تَجِدْهُ وَلَقِيَتْ عَائِشَةَ فَأَخْبَرَتْهَا فَلَمَّا جَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ عَائِشَةُ بِمَجِيئِ فَاطِمَةَ إِلَيْهَا فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَيْنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْنَا نَقُومُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی مَکَانِکُمَا فَقَعَدَ بَيْنَنَا حَتَّی وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمِهِ عَلَی صَدْرِي ثُمَّ قَالَ أَلَا أُعَلِّمُکُمَا خَيْرًا مِمَّا سَأَلْتُمَا إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَکُمَا أَنْ تُکَبِّرَا اللَّهَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ وَتُسَبِّحَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدَاهُ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ فَهْوَ خَيْرٌ لَکُمَا مِنْ خَادِمٍ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی محمد بن جعفر، شعبہ، حکم ابن ابی لیلی علی (رض) حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ کو چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھوں میں نشانات پڑجانے کی وجہ سے تکلیف ہوئی اور نبی ﷺ کے پاس کچھ قیدی تھے وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں لیکن آپ ﷺ سے ملاقات نہ ہوسکی اور سیدہ عائشہ (رض) سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں خبر دی جب نبی ﷺ تشریف لائے تو سیدہ عائشہ نے آپ ﷺ کو سیدہ فاطمہ کے آنے کی خبر دی نبی ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے ہم اپنے بستروں پر پہنچ چکے تھے ہم نے اٹھنا شروع کیا تو نبی ﷺ نے فرمایا اپنی جگہ پر ہی رہو پھر آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے یہاں تک کہ میں نے اپنے آپ میں آپ ﷺ کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی پھر فرمایا کیا میں تمہیں تمہارے سوال سے بہتر چیز کی تعلیم نہ دوں جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو چونتیس بار اَللَّهُ أَکْبَرُ تینتیس بار سُبْحَانَ اللَّهِ اور تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلَّهِ کہہ لیا کرو تو یہ تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے۔
It is reported on the authority of Ali that Fatima had corns in her hand because of working at the hand-mill. There had fallen to the lot of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) some prisoners of war. She (Fatima) came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) but she did not find him (in the house). She met Aisha and informed her (about her hardship). When Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came, she ( Aisha) informed him about the visit of Fatima. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to them (Fatima and her family). They had gone to their beds. Ali further (reported): We tried to stand up (as a mark of respect) but Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Keep to your beds, and he sat amongst us and I felt coldness of his feet upon my chest. He then said: May I not direct you to something better than what you have asked for? When you go to your bed, you should recite Takbir (Allah-o-Akbar) thirty-four times and Tasbih (Subhdn Allah) thirty-three times and Tahmid (al-Hamdu li-Allah) thirty-three times, and that is better than the servant for you.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ مُعَاذٍ أَخَذْتُمَا مَضْجَعَکُمَا مِنْ اللَّيْلِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، عبیداللہ بن معاذ ابن مثنی ابن ابی عدی، شعبہ، اس سند سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے البتہ اس سند میں ہے جب تم دونوں رات کے وقت اپنے بستروں پر جاؤ۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but. with a slight variation of wording.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَعُبَيْدُ بْنُ يَعِيشَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ عَلِيٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِ الْحَکَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَلِيٌّ مَا تَرَکْتُهُ مُنْذُ سَمِعْتُهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ قَالَ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ وَفِي حَدِيثِ عَطَائٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَی قَالَ قُلْتُ لَهُ وَلَا لَيْلَةَ صِفِّينَ
زہیر بن حرب، سفیان بن عیینہ، عبیداللہ بن ابی یزید علی بن ابی طالب محمد بن عبداللہ ابن نمیر، عبیداللہ بن یعیش عبدالملک عطاء، بن ابی رباح مجاہد ابن ابی لیلی ان اسناد سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ اضافہ بھی ہے کہ میں نے جب سے نبی ﷺ سے سنا ہے میں نے ان کلمات کو نہیں چھوڑا آپ سے عرض کیا گیا کہ آپ نے صفین کی رات میں بھی انہیں نہیں چھوڑا فرمایا صفین کی رات میں بھی نہ چھوڑا ابن ابی لیلی نے کہا میں نے آپ سے کہا صفین کی رات کو بھی نہیں ؟
This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Abi Laili but with this addition: "Ali said: Ever since I heard this (supplication) from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , I never abandoned it. It was said to him, Not even in the night of Siffin (battle of Siffin)? He sad: Yes, not even in the night of Siffin,"
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَهُوَ ابْنُ الْقَاسِمِ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ أَتَتْ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا وَشَکَتْ الْعَمَلَ فَقَالَ مَا أَلْفَيْتِيهِ عِنْدَنَا قَالَ أَلَا أَدُلُّکِ عَلَی مَا هُوَ خَيْرٌ لَکِ مِنْ خَادِمٍ تُسَبِّحِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتَحْمَدِينَ ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَتُکَبِّرِينَ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ حِينَ تَأْخُذِينَ مَضْجَعَکِ
امیہ بن بسطام عیشی یزید بن زریع روح ابن قاسم سہل حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ نبی ﷺ کی خدمت میں خادم مانگنے اور کام کی شکایت کرنے کی غرض سے حاضر ہوئیں تو آپ ﷺ نے فرمایا تمہیں خادم تو ہمارے پاس سے نہیں ملے گا ایک عمل میں تمہیں بتائے دیتا ہوں جو تمہارے لئے خادم سے بہتر ہے تم جب بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سُبْحَانَ اللَّهِ تینتیس مرتبہ اَلْحَمْدُ لِلَّهِ اور چونتیس مرتبہ اَللَّهُ أَکْبَرُ کہو۔
Abu Hurairah (RA) reported that Fatima came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and asked for a servant and told him of the hardship of household work. He said: You would not be able to get a servant from us. May I not direct you to what is better than the servant for you? Recite Subhaana Allah thirty-three times, al- Hamdu li-Allah thirty-three times and Allah-o-Akbar thirty-four times as you go to bed.
صبح اور سوتے وقت کی تسبیح کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سُهَيْلٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابن نمیر، اسحاق بن ابراہیم، ابو سعید اشج حفص بن غیاث عاصم، اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.
مرغ کی اذان کے وقت دعا کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنِي قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا سَمِعْتُمْ صِيَاحَ الدِّيَکَةِ فَاسْأَلُوا اللَّهَ مِنْ فَضْلِهِ فَإِنَّهَا رَأَتْ مَلَکًا وَإِذَا سَمِعْتُمْ نَهِيقَ الْحِمَارِ فَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ الشَّيْطَانِ فَإِنَّهَا رَأَتْ شَيْطَانًا
قتیبہ بن سعید، لیث، جعفر ابن ربیعہ اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کی اذان سنو تو اللہ سے اس کے فضل کا سوال کیا کرو کیونکہ وہ فرشتہ کو دیکھتا ہے اور جب تم گدھے کی ہینگ سنو تو شیطان سے اللہ کی پناہ مانگو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying. When you listen to the crowing of the cock, ask Allah for His favour as it sees Angels and when you listen to the braying of the donkey, seek refuge in Allah from the Satan for it sees Satan.
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ سَعِيدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ عِنْدَ الْکَرْبِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ
محمد بن مثنی ابن بشر عبیداللہ بن سعدی ابن سعید معاذ بن ہشام ابوقتادہ، ابی عالیہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ مصیبت کے وقت (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ الْعَظِيمُ الْحَلِيمُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَرَبُّ الْأَرْضِ وَرَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ ) ، عظمت والے اور بردباری والے اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں عرش عظیم کے پروردگار کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں آسمانوں کے رب زمین کے رب اور عزت والے عرش کے رب اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، پڑھتے۔
Ibn Abbas reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to supplicate during the time of trouble (in these words): "There is no god but Allah, the Great, the Tolerant, there is no god but Allah, the Lord of the Magnificent Throne There is no god but Allah, the Lord of the Heaven and the earth, the Lord of the Edifying Throne."
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَحَدِيثُ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ أَتَمُّ
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، ہشام معاذ بن ہشام یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Hisham with the same chain of transmitters.
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا الْعَالِيَةِ الرِّيَاحِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَدْعُو بِهِنَّ وَيَقُولُهُنَّ عِنْدَ الْکَرْبِ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ قَتَادَةَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ
عبد بن حمید محمد بن بشر عبدی سعید بن ابی عروبہ قتادہ، ابوعالیہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ مصیبت کے وقت ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے جو اس سے پہلے مذکور ہوئے حضرت قتادہ کی روایت میں آسمانوں اور زمین کے رب مذکور ہے۔
Ibn Abbas (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to supplicate (with these words) and he (uttered these words) at the time of trouble; the rest of the hadith is the same except with this difference that insted of saying: "The Lord of heaven and the earth," he said: "The Lord of the heaven and that of the earth."
مصیبت کے وقت کی دعا کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ إِذَا حَزَبَهُ أَمْرٌ قَالَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مُعَاذٍ عَنْ أَبِيهِ وَزَادَ مَعَهُنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ
محمد بن حاتم، بہز حماد بن سلمہ یوسف بن عبداللہ بن حارث ابی عالیہ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ کو جب کوئی اہم کام درپیش ہوتا تو انہی کلمات سے دعا مانگا کرتے تھے لیکن اس روایت میں ان کلمات کے ساتھ یہ اضافہ بھی ہے (لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ رَبُّ الْعَرْشِ الْکَرِيمِ ) عزت والے عرش کے رب اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔
Ibn Abbas reported this hadith through another chain of transmitters with a sliglit variation of wording.
سبحان اللہ وبحمدہ کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ عَنْ ابْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ أَيُّ الْکَلَامِ أَفْضَلُ قَالَ مَا اصْطَفَی اللَّهُ لِمَلَائِکَتِهِ أَوْ لِعِبَادِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
زہیر بن حرب، حبان بن ہلال وہیب سعید جریر، ابی عبداللہ جسری ابن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ کونسا کلام افضل ہے آپ ﷺ نے فرمایا جسے اللہ نے اپنے فرشتوں یا بندوں کے لئے چن لیا ہے یعنی (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ) ۔
Abu Dharr (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was asked as to which words were the best. He said: Those for which Allah made a choice for His Angels and His servants (and the words are): "Hallowed be Allah and praise is due to Him."
سبحان اللہ وبحمدہ کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي بُکَيْرٍ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْجُرَيْرِيِّ عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجِسْرِيِّ مِنْ عَنَزَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلَا أُخْبِرُکَ بِأَحَبِّ الْکَلَامِ إِلَی اللَّهِ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي بِأَحَبِّ الْکَلَامِ إِلَی اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ أَحَبَّ الْکَلَامِ إِلَی اللَّهِ سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن ابی بکر شعبہ، جریری عبداللہ جسری عمر عبداللہ بن صامت حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ کلام کی خبر نہ دوں میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول آپ ﷺ مجھے اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام کی خبر دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کے نزدیک سب سے پسندیدہ کلام (سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ) ہے۔
Abu Dharr (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Should I not inform you about the words liked most by Allah? I said: Allahs Messenger, do inform me about the words liked most by Allah. He said: Verily, the words liked most by Allah are: "Hallowed be Allah and praise is due to Him."
مسلمانو کے لئے پس پشت دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں۔
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ حَفْصٍ الْوَکِيعِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ عَنْ أُمِّ الدَّرْدَائِ عَنْ أَبِي الدَّرْدَائِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ عَبْدٍ مُسْلِمٍ يَدْعُو لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ إِلَّا قَالَ الْمَلَکُ وَلَکَ بِمِثْلٍ
احمد بن عمر ابن حفص وکیع، محمد بن فضیل ابی طلحہ بن عبیداللہ بن کریز ام درداء ابودرداء حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے پس پشت اس کے لئے دعا مانگتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اسی کی طرح ہو۔
Abu Dharr (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is no believing servant who supplicates for his brother behind his back (in his absence) that the Angels do say: The same be for you too.
مسلمانو کے لئے پس پشت دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ سَرْوَانَ الْمُعَلِّمُ حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ کَرِيزٍ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَائِ قَالَتْ حَدَّثَنِي سَيِّدِي أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ دَعَا لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَکَ بِمِثْلٍ
اسحاق بن ابراہیم، نضر بن شمیل موسیٰ ابن سروان طلحہ بن عبیداللہ ابن کریز حضرت ام درداء سے روایت ہے کہ میرے آقا (شوہر) نے مجھ سے حدیث بیان کی کہ اس نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس نے اپنے بھائی کے لئے اس کے پاس پشت دعا کی تو اس کے سر کے پاس موجود موکل فرشتہ آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اسی کی مثال ہو۔
Umm Darda reported: My husband reported that he heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who supplicates for his brother behind his back (in his absence), the Angel commissioned (for carrying supplication to his Lord) says: Amen, and it is for you also.
مسلمانو کے لئے پس پشت دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ صَفْوَانَ وَهُوَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ وَکَانَتْ تَحْتَهُ الدَّرْدَائُ قَالَ قَدِمْتُ الشَّامَ فَأَتَيْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فِي مَنْزِلِهِ فَلَمْ أَجِدْهُ وَوَجَدْتُ أُمَّ الدَّرْدَائِ فَقَالَتْ أَتُرِيدُ الْحَجَّ الْعَامَ فَقُلْتُ نَعَمْ قَالَتْ فَادْعُ اللَّهَ لَنَا بِخَيْرٍ فَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ دَعْوَةُ الْمَرْئِ الْمُسْلِمِ لِأَخِيهِ بِظَهْرِ الْغَيْبِ مُسْتَجَابَةٌ عِنْدَ رَأْسِهِ مَلَکٌ مُوَکَّلٌ کُلَّمَا دَعَا لِأَخِيهِ بِخَيْرٍ قَالَ الْمَلَکُ الْمُوَکَّلُ بِهِ آمِينَ وَلَکَ بِمِثْلٍ
اسحاق بن ابراہیم، عیسیٰ بن یونس، عبدالملک بن ابی سلیمان ابی زبیر حضرت صفوان بن عبداللہ بن صفوان سے روایت ہے کہ ام درداء ان کی بیوی تھی میں ملک شام گیا تو میں ابودرداء کے پاس مکان پر حاضر ہوا اور وہ گھر پر موجود نہ تھے جبکہ ام درداء موجود تھیں تو انہوں نے کہا کیا تو اس سال حج کا ارادہ رکھتا ہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے کہا اللہ سے ہمارے لئے بھلائی کی دعا کرو کیونکہ نبی ﷺ فرمایا کرتے تھے مسلمان مرد کی اپنے بھائی کے لئے پس پشت دعا قبول ہوتی ہے اس کے سر کے پاس موکل فرشتہ موجود ہے جب یہ اپنے بھائی کے لئے بھلائی کی دعا کرتا ہے تو موکل فرشتہ اس پر آمین کہتا ہے اور کہتا ہے کہ تیرے لئے بھی اس کی مثل ہو۔
Safwan (and he was Ibn Abdullah bin Safwan, and he had been married to Umm Darda) reported: I visited Abu Dardas house in Syria. I did not find him there but Umm Darda (was present at the house). She said: Do you intend to perform Hajj during this year? I said: Yes. She said: Do supplicate Allah for blessings upon us, for Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upon hiin) used to say: The supplication of a Muslim for his brother at his back (in his absence) is responded so long as he makes a supplication for blessings for his brother and the commissioned Angel says: Amen, and says: May it be for you too. I went to the bazar and met Abfi Dardi and he narrated like this from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
مسلمانو کے لئے پس پشت دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں۔
قَالَ فَخَرَجْتُ إِلَی السُّوقِ فَلَقِيتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِکَ يَرْوِيهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت صفوان بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ میں بازار کی طرف نکلا میری ابودرداء سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بھی نبی ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہوئے دعا کرنے کے لئے کہا۔
This hadith has been narrated on the authority of Safwan bin Abdullah bin Safwan with the same chain of transmitters.
مسلمانو کے لئے پس پشت دعا مانگنے کی فضلیت کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، عبدالملک بن ابی سلیمان صفوان بن عبداللہ بن صفوان اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Safwan b. Abdullah b. Safwan with the same chain of transmitters.