Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 323 of 379

6452Sahih Muslimصحیح

قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ لَا أَزَالُ أُحِبُّ بَنِي تَمِيمٍ بَعْدَ ثَلَاثٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُهَا فِيهِمْ فَذَکَرَ مِثْلَهُ

زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابی زرعہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنی تمیم کے بارے میں تین باتیں سنی ہیں جس کے بعد سے میں ہمیشہ بنی تمیم سے محبت کرنے لگا ہوں پھر اس کے بعد مذکورہ حدیث کی طرح روایت ذکر کی۔

The other hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording.

6453Sahih Muslimصحیح

قبیلہ غفار، اسلم، جہنیہ، اشجع، مزنیہ، تمیم، دوس اور قبیلہ طئی کے فضائل کے بیان میں

و حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ الْبَکْرَاوِيُّ حَدَّثَنَا مَسْلَمَةُ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَازِنِيُّ إِمَامُ مَسْجِدِ دَاوُدَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ثَلَاثُ خِصَالٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَنِي تَمِيمٍ لَا أَزَالُ أُحِبُّهُمْ بَعْدُ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِهَذَا الْمَعْنَی غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ هُمْ أَشَدُّ النَّاسِ قِتَالًا فِي الْمَلَاحِمِ وَلَمْ يَذْکُرْ الدَّجَّالَ

حامد بن عمر بکراوی مسلمہ بن علقمہ مازنی امام مسجد داؤد شعبی، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے بنی تمیم کے بارے میں سنا (کہ) تین خصلتیں جن کی وجہ سے میں ان سے ہمیشہ محبت کرنے لگا ہوں۔

Abu Hurairah (RA) reported: There are some distinguishing features of Banu Tamim which I heard from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and my love for them is never on the decline after that and the words are: They are the bravest amongst people in the battlefield and there is no mention of (the word)" Dajjal".

6454Sahih Muslimصحیح

بہترین لوگوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ فَخِيَارُهُمْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ خِيَارُهُمْ فِي الْإِسْلَامِ إِذَا فَقِهُوا وَتَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الْأَمْرِ أَکْرَهُهُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ فِيهِ وَتَجِدُونَ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ ذَا الْوَجْهَيْنِ الَّذِي يَأْتِي هَؤُلَائِ بِوَجْهٍ وَهَؤُلَائِ بِوَجْهٍ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم لوگوں کو معدنیات جیسا پاؤ گے زمانہ جاہلیت میں جو لوگ بہترین تھے زمانہ اسلام میں بھی وہ لوگ بہترین ہوں گے جبکہ وہ دین میں سمجھ حاصل کریں اور تم اسلام کے معاملے میں لوگوں میں سے بہتر اس آدمی کو پاؤ گے جو اسلام لانے سے پہلے اس سے زیادہ نفرت کرتا ہو اور تم لوگوں میں سے بد ترین اس آدمی کو پاؤ گے جو دو رخا آدمی ہوں جو ان کے پاس ایک رخ لے کر آتا ہے اور ان کے پاس دوسرا رخ لے کر آتا ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: You would find people like those of mine, the good amongst you in the Days of Ignorance would be good amongst you in the days of Islam, provided they have an understanding of it and you will find good amongst people the persons who would be averse to position of authority until it is thrust upon them, and you will find the worst amongst persons one who has double face. He comes with one face to them and with the other face to the others.

6455Sahih Muslimصحیح

بہترین لوگوں کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عُمَارَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَجِدُونَ النَّاسَ مَعَادِنَ بِمِثْلِ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ أَبِي زُرْعَةَ وَالْأَعْرَجِ تَجِدُونَ مِنْ خَيْرِ النَّاسِ فِي هَذَا الشَّأْنِ أَشَدَّهُمْ لَهُ کَرَاهِيَةً حَتَّی يَقَعَ فِيهِ

زہیر بن حرب، جریر، عمارہ ابوزرعہ ابوہریرہ، قتیبہ بن سعید، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی ابوزناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا تم لوگوں کو معدنیات جیسا پاؤ گے زہری کی حدیث کی طرح ہے سوائے اس کے کہ ابوزرعہ اور اعرج کی روایت میں ہے کہ تم لوگوں میں سے اسلام لانے کے معاملہ میں لوگوں میں سے بہترین اس آدمی کو پاؤ گے جو اسلام لانے سے پہلے اس سے زیادہ نفرت کرتا ہو۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Zura with a slight variation of wording.

6456Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح وَعَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ قَالَ أَحَدُهُمَا صَالِحُ نِسَائِ قُرَيْشٍ و قَالَ الْآخَرُ نِسَائُ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَی يَتِيمٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ

ابن ابی عمر سفیان بن عیینہ، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین عورتیں اونٹوں پر سوار ہونے والی ہیں راویوں میں سے ایک راوی نے کہا کہ وہ قریش کی نیک عورتیں ہیں اور دوسرے راوی نے کہ قریش کی وہ عورتیں جو اپنے چھوٹے بچوں پر سب سے زیادہ مہربان ہیں اور اپنے خاوندوں کے مال کی زیادہ حفاظت کرنے والی ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Good amongst the women are those who ride camels. One of them said: They are pious women of the Quraish, and the other one said: The women of the Quraish are kind to the orphans in their childhood and look after the wealth of their spouses.

6457Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَرْعَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَلَمْ يَقُلْ يَتِيمٍ

عمرو ناقد سفیان، ابی زناد اعرج حضرت ابوہریرہ (رض) نبی ﷺ سے اور ابن طاؤس اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کرتے ہوئے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی لیکن اس روایت میں یتیم کا لفظ نہیں۔

This hadith has been transmitted on the authority of Abu Hurairah (RA) with a slight variation of wording and there is no word" orphan".

6458Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ نِسَائُ قُرَيْشٍ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ أَحْنَاهُ عَلَی طِفْلٍ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ قَالَ يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ عَلَی إِثْرِ ذَلِکَ وَلَمْ تَرْکَبْ مَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ بَعِيرًا قَطُّ

حرملہ بن یحییٰ ابن وہب، یونس ابن شہاب سعید بن مسیب ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ قریشی عورتیں اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہترین ہیں اور بچوں پر سب سے زیادہ مہربان اور اپنے خاوندوں کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں اس روایت کے بیان کرنے کے بعد حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے تھے کہ حضرت مریم بنت عمران (علیہ السلام) اونٹ پر کبھی سوار نہیں ہوئیں۔

Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The women of the Quraish are good amongst the womenfolk. They ride camels and show affection to their children and zealously guard the wealth of their husbands. Abu Hurairah (RA) said at the end of this narration that Mary, the daughter of Imran, never rode the camel.

6459Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ هَانِئٍ بِنْتَ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي قَدْ کَبِرْتُ وَلِي عِيَالٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ ثُمَّ ذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ يُونُسَ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ أَحْنَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ

محمد بن رافع عبد بن حمید عبد ابن رافع عبدالرزاق، معمر، زہری، ابن مسیب، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے حضرت ام ہانی بنت ابی طالب کو نکاح کا پیغام بھجوایا تو حضرت ام ہانی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں تو بوڑھی ہوچکی ہوں اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بہترین عورتین سوار ہونے والی ہیں اور پھر یونس کی روایت کی طرح حدیث ذکر کی صرف لفظی فرق ہے ترجمہ وہی ہے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave a proposal of marriage to Umm Hani, the daughter of Abu Talib, whereupon she said: Allahs Messenger, I am of an advanced age with a (large) family. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The best women are those who ride (the camels) ; the rest of the hadith is the same but with this difference that, instead of the word Ara the word Ahna has been used (and the complete sentence is like this): That they treat children in their childhood with affection.

6460Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ح و حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ نِسَائٍ رَکِبْنَ الْإِبِلَ صَالِحُ نِسَائِ قُرَيْشٍ أَحْنَاهُ عَلَی وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَی زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ

محمد بن رافع عبد بن حمید ابن رافع عبد عبدالرزاق، معمر، ابن طاؤس ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سب سے بہترین عورتیں قریشی عورتیں ہیں جو کہ چھوٹے بچوں پر مہربان اور اپنے خاوندوں کے مال کی حفاظت کرنے والی ہیں۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The best women who ride the camels are the pious women of the Quraish; they treat with affection children in their childhood and keep a strict watch on the wealth of their spouses.

6461Sahih Muslimصحیح

قریشی عورتوں کے فضائل کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَکِيمٍ الْأَوْدِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ مَخْلَدٍ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ مَعْمَرٍ هَذَا سَوَائً

احمد بن عثمان بن حکیم اودی خالد ابن مخلد سلیمان ابن بلال سہیل ابوہریرہ (رض) نے نبی ﷺ سے مذکورہ حدیث کی طرح اس طریقے سے روایت نقل کی ہے۔

This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) with the same chain of transmitters.

6462Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَی بَيْنَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ وَبَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ

حجاج بن شاعر، عبدالصمد حماد ابن سلمہ ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ (رض) بن جراح اور حضرت ابوطلحہ (رض) کے درمیان آپس میں بھائی چارہ قائم کرایا تھا۔

Anas reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) established fraternity between Abu Ubaida bin Jarrah and Abu Talha.

6463Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

حَدَّثَنِي أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ قِيلَ لِأَنَسِ بْنِ مَالِکٍ بَلَغَکَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ فَقَالَ أَنَسٌ قَدْ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ

ابوجعفر محمد بن صباح حفص بن غیاث حضرت عاصم بن احول (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلام میں حلف نہیں ہے۔ تو حضرت انس (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے خود اپنے گھر میں قریش اور انصار کے درمیان حلف کروایا تھا۔

It was said to Anas bin Malik (RA): You must have heard this that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There is no alliance (hilf) of brotherhood in Islam. Anas said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) established the bond of fraternity between the Quraish and the Ansar in his home.

6464Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ أَنَسٍ قَالَ حَالَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ قُرَيْشٍ وَالْأَنْصَارِ فِي دَارِهِ الَّتِي بِالْمَدِينَةِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، عبدہ بن سلیمان عاصم، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر میں جو کہ مدینہ منورہ میں تھا قریش اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کرایا تھا۔

Anas reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) established fraternity between the Quraish and the Ansar in his house at Madinah.

6465Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کا اپنے صحابہ کرام (رض) کے درمیان بھائی چارہ قائم کرانے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ عَنْ زَکَرِيَّائَ عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا حِلْفَ فِي الْإِسْلَامِ وَأَيُّمَا حِلْفٍ کَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لَمْ يَزِدْهُ الْإِسْلَامُ إِلَّا شِدَّةً

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر ابواسامہ زکریا، سعد بن ابراہیم، حضرت جبیر بن مطعم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جائیداد کا وارث بنانے والے حلف (قسم) کا اسلام میں کوئی اعتبار نہیں اور زمانہ جاہلیت میں جو حلف نیکی کے لئے تھا وہ اب اسلام میں اور زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔

Jubair bin Mutim reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There is no alliance (hilf) in Islam but (the hilf) established in the pre-Islamic days (for good). Islam intensifies and strengthens it.

6466Sahih Muslimصحیح

اس بات کے بیان میں کہ نبی ﷺ اپنے صحابہ (رض) کے لئے امن کا باعث تھے اور آپ کے صحابہ (رض) امت کے لئے امن کا باعث ہیں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ کُلُّهُمْ عَنْ حُسَيْنٍ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ مُجَمَّعِ بْنِ يَحْيَی عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّيْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قُلْنَا لَوْ جَلَسْنَا حَتَّی نُصَلِّيَ مَعَهُ الْعِشَائَ قَالَ فَجَلَسْنَا فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ مَا زِلْتُمْ هَاهُنَا قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّيْنَا مَعَکَ الْمَغْرِبَ ثُمَّ قُلْنَا نَجْلِسُ حَتَّی نُصَلِّيَ مَعَکَ الْعِشَائَ قَالَ أَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ قَالَ فَرَفَعَ رَأْسَهُ إِلَی السَّمَائِ وَکَانَ کَثِيرًا مِمَّا يَرْفَعُ رَأْسَهُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ النُّجُومُ أَمَنَةٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَهَبَتْ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَةٌ لِأَصْحَابِي فَإِذَا ذَهَبْتُ أَتَی أَصْحَابِي مَا يُوعَدُونَ وَأَصْحَابِي أَمَنَةٌ لِأُمَّتِي فَإِذَا ذَهَبَ أَصْحَابِي أَتَی أُمَّتِي مَا يُوعَدُونَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عمر بن ابان حسین ابوبکر حسین بن علی جعفی مجمع بن یحییٰ سعید بن حضرت ابوبردہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی پھر ہم نے کہا کہ اگر ہم آپ کی خدمت میں بیٹھے رہیں یہاں تک کہ ہم آپ ﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز بھی پڑھ لیں۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم بیٹھے رہے اور آپ ﷺ باہر تشریف لائے تو آپ نے فرمایا کیا تم یہیں ہو ؟ ہم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ہم نے آپ کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی پھر ہم نے سوچا کہ ہم بیٹھے رہیں یہاں تک کہ عشاء کی نماز بھی آپ کے ساتھ پڑھ لیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم نے اچھا کیا یا آپ نے فرمایا تم نے درست کیا۔ راوی کہتے ہیں کہ پھر آپ ﷺ نے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ بہت کثرت سے اپنا سر مبارک آسمان کی طرف اٹھاتے تھے پھر آپ ﷺ نے فرمایا ستارے آسمان کے لئے امان ہیں جب ستاروں کا نکلنا بند ہوجائے گا تو پھر آسمان پر وہی آجائے گا جس کا وعدہ کیا گیا (یعنی قیامت) ۔ تو میں اپنے صحابہ کے لئے امان ہوں اور میرے صحابہ میری امت کے لئے امان ہیں پھر جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ فتنے آئیں گے جن سے ڈرایا گیا ہے اور میرے صحابہ (رض) میری امت کے لئے امان ہیں تو جب صحابہ کرام (رض) چلے جائیں گے تو ان پر وہ فتنے آن پڑیں گے کہ جن سے ڈرایا جاتا ہے۔

Abu Burda reported on the authority of his father: We offered the sunset prayer along with Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We then said: If we sit (along with Allahs Messenger) and observe night prayer with him it would be very good, so we sat down and he came to us and said: You are still sitting here. I said: Allahs Messenger, we observed evening prayer with you, then we said: Let us sit down and observe night prayer along with you, whereupon he said: You have done well or you have done right. He then lifted his head towards the sky and it often happened that as he lifted his head towards the sky, he said: The stars are a source of security for the sky and when the stars disappear there comes to the sky, i. e. (it meets the same fate) as it has been promised (it would plunge into darkness). And I am a source of safety and security to my Companions and when I would go away there would fall to the lot (of my Companions) as they have been promised with and my Companions are a source of security for the Umma and as they would go there would fall to the lot of my Umma as (its people) have been promised.

6467Sahih Muslimصحیح

صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يُخْبِرُ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ ثُمَّ يَغْزُو فِئَامٌ مِنْ النَّاسِ فَيُقَالُ لَهُمْ هَلْ فِيکُمْ مَنْ رَأَی مَنْ صَحِبَ مَنْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيَقُولُونَ نَعَمْ فَيُفْتَحُ لَهُمْ

ابوخیثمہ زہیر بن حرب، احمد بن عبدہ ضبی زہیر سفیان بن عیینہ، عمرو جابر، حضرت ابوسعید خدری (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ کچھ لوگ جہاد کے لئے نکلیں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہو وہ کہیں گے جی ہاں ہے تو پھر ان کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں لوگ جہاد کریں گے تو ان سے پوچھا جائے گا کہ کیا تم میں کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کے صحابی کے ساتھ (تابعی) کو دیکھا ہو تو وہ کہیں گے کہ جی ہاں ہے تو پھر انہیں فتح حاصل ہوگی۔

Abu Said Khudri reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A time would come for the people when groups of people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? And they would say: Yes, and they would be victorious. Then the people would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw those (who have had the privilege of sitting in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? And they would say: Yes, and victory would be granted to them. Then a group of persons would set out for fighting in the cause of Allah and it would be said to them: Is there one amongst you who saw one of those who saw those who (had the privilege) of sitting in the company of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? And they would say: Yes, and the Victory would be granted to them.

6468Sahih Muslimصحیح

صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ زَعَمَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ يُبْعَثُ مِنْهُمْ الْبَعْثُ فَيَقُولُونَ انْظُرُوا هَلْ تَجِدُونَ فِيکُمْ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّانِي فَيَقُولُونَ هَلْ فِيهِمْ مَنْ رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ ثُمَّ يُبْعَثُ الْبَعْثُ الثَّالِثُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ مَنْ رَأَی مَنْ رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَکُونُ الْبَعْثُ الرَّابِعُ فَيُقَالُ انْظُرُوا هَلْ تَرَوْنَ فِيهِمْ أَحَدًا رَأَی مَنْ رَأَی أَحَدًا رَأَی أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُوجَدُ الرَّجُلُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ بِهِ

سعید بن یحییٰ بن سعید اموی، ابن جریح، ابوزبیر، جابر، حضرت ابوسعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے کہ دیکھو کیا تمہارے اندر نبی ﷺ کے صحابہ میں سے کوئی صحابی ہے تو ایک صحابی پایا جائے گا جس کی وجہ سے ان لوگوں کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک دوسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو لوگ کہیں گے کیا ان میں کوئی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھا ہو تو پھر اس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہوگی پھر ایک تیسری جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو کہا جائے گا کہ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والوں (یعنی تبع تابعین) کو دیکھا ہے اور ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ جس میں ایک چوتھی جماعت جہاد پر بھیجی جائے گی تو ان سے کہا جائے گا کہ دیکھو کیا تمہارے اندر کوئی ایسا آدمی بھی ہے کہ جس نے نبی ﷺ کے صحابہ کو دیکھنے والوں کے دیکھنے والوں (یعنی تبع تابعی کو دیکھنے والا) کو دیکھا ہے تو ان میں سے ایک ایسا آدمی بھی ہوگا جس کی وجہ سے ان کو فتح حاصل ہوگی۔

Abu Said Khudri reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: There would come to the people a time when a detachment would be sent for fighting in the cause of Allah and they would say: See, if you can find amongst them someone from amongst the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . They would find a person and they would be granted victory because of him. Then a second detachment would be sent to them and they would say: Do you find amongst them one who had had the privilege of seeing the Companions of the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? -and the victory would be granted to them because of him. Then the third detachment would be sent and it would be said to them: See, if you find amongst them (who had had the honour of seeing one) who saw those who saw the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then the fourth detachment would be sent and it would be said to them: See it you find amongst them one who had the privilege (of seeing) one who saw those who saw those who saw the Companions of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and a person would be found and they would be granted victory because of him.

6469Sahih Muslimصحیح

صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ يَلُونِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ لَمْ يَذْکُرْ هَنَّادٌ الْقَرْنَ فِي حَدِيثِهِ و قَالَ قُتَيْبَةُ ثُمَّ يَجِيئُ أَقْوَامٌ

قتیبہ بن سعید، ہناد بن سری ابوالاحوص منصور ابراہیم، بن یزید عبیدہ سلیمانی حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہوں گے جو مجھ سے متصل بعد میں آئیں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ کے جو ان کے بعد آئیں گے پر ایک ایسی قوم آئے گی کہ جن کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی نہاد نے اپنی روایت میں قرن یعنی زمانے کا ذکر نہیں کیا قتیبہ نے " اقوام " کا لفظ کہا ہے۔

Abdullah reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The best of my Umma would be those of the generation nearest to mine. Then those nearest to them, then those nearest to them, then people would come whose witness would precede the oath and the oath will precede the witness. Hannad has not made the mention of Qarn in his narration. Qutaiba said that, instead of the word Qaum, the word Aqwam has been used.

6470Sahih Muslimصحیح

صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ عُثْمَانُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ يَجِيئُ قَوْمٌ تَبْدُرُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَتَبْدُرُ يَمِينُهُ شَهَادَتَهُ قَالَ إِبْرَاهِيمُ کَانُوا يَنْهَوْنَنَا وَنَحْنُ غِلْمَانٌ عَنْ الْعَهْدِ وَالشَّهَادَاتِ

عثمان بن ابی شیبہ اسحاق بن ابراہیم، حنظلی اسحاق عثمان جریر، منصور ابراہیم، عبیدہ حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ لوگوں میں سے بہترین لوگ کون سے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا میرے زمانے کے لوگ اور پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر وہ لوگ کہ جو ان کے بعد آئیں گے اور پھر ایک ایسی قوم آئے گی جن میں سے کچھ کی گواہی قسم سے پہلے اور قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔

Abdullah reported: It was asked from Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who amongst the people were the best. He said: (People) of my generation, then those next to them, then those next to them, then there would come a people whose evidence would precede their oath and their oath would precede their evidence. Ibrahim said: They forbade us to make vows and bear witness when we were too young.

6471Sahih Muslimصحیح

صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کِلَاهُمَا عَنْ مَنْصُورٍ بِإِسْنَادِ أَبِي الْأَحْوَصِ وَجَرِيرٍ بِمَعْنَی حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمَا سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن مثنی، ابن بشار محمد بن جعفر، شعبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار عبدالرحمن بن مہدی، سفیان، حضرت منصور ابوالاحوص اور جریر کی سند کے ساتھ روایت نقل کرتے ہیں لیکن ان دونوں روایتوں میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا۔

This hadith has been transmitted by Mansur on the authority of Abu al-Ahwas and Jarir with a slight variation of wording.