صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ فَلَا أَدْرِي فِي الثَّالِثَةِ أَوْ فِي الرَّابِعَةِ قَالَ ثُمَّ يَتَخَلَّفُ مِنْ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ تَسْبِقُ شَهَادَةُ أَحَدِهِمْ يَمِينَهُ وَيَمِينُهُ شَهَادَتَهُ
حسن بن علی حلوانی، ازہر بن سعد سمان، ابن عون، ابراہیم، عبیدہ، عبداللہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ بہترین لوگ میرے زمانے کے ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے تیسری یا چوتھی مرتبہ فرمایا کہ پھر ان لوگوں کے بعد ایسے لوگ ہوں گے جن میں سے کچھ کی گواہی قسم سے پہلے اور کچھ کی قسم گواہی سے پہلے ہوگی۔
Abdullah (b. Masud) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The best among people are of my generation, then those next to them. (The narrator said): I do not know whether (he said) it three times or four times. Then there would fellow after them such persons whose evidence would precede the oath, and in case of some others, the oath (would precede) the evidence.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ أَبِي بِشْرٍ ح و حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ سَالِمٍ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْرُ أُمَّتِي الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا قَالَ ثُمَّ يَخْلُفُ قَوْمٌ يُحِبُّونَ السَّمَانَةَ يَشْهَدُونَ قَبْلَ أَنْ يُسْتَشْهَدُوا
یعقوب بن ابراہیم، ہشیم ابی بشر اسماعیل بن سالم ہشیم ابوبشر عبداللہ بن شقیق حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے لوگ ہیں کہ جن میں میں بھیجا گیا ہوں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے اور اللہ زیادہ جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے لوگوں کا ذکر کیا یا نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر ایسے لوگ باقی رہ جائیں گے کہ جو موٹا ہونے کو پسند کریں گے اور بغیر گواہی مانگے گواہی دیں گے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (may, peace be upon him) as saying: The best age of my Umma is one in which I was sent (by Allah as an Apostle), then the one next to that. (The narrator said): And Allah knows best whether he stated this third (time) or not. Then there would come people who would love (to look) bulky and they would hasten to the witness box before they are asked to bear witness.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو بَکْرِ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ ح و حَدَّثَنِي حَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي بِشْرٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَلَا أَدْرِي مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً
محمد بن بشار، محمد بن جعفر، ابوبکر بن نافع غندر شعبہ، حجاج بن شاعر، ابو ولید ابوعوانہ، حضرت ابوبشر (رض) سے اسی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ حضرت شعبہ (رض) کی روایت میں ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے دوسرے نمبر پر فرمایا یا تیسرے نمبر پر فرمایا۔
This hadith has been reported on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters (but with this variation) that Abu Hurairah (RA) said: I do not know whether he (the Holy Prophet) said (these words:" Then next") twice or thrice.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ سَمِعْتُ أَبَا جَمْرَةَ حَدَّثَنِي زَهْدَمُ بْنُ مُضَرِّبٍ سَمِعْتُ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ خَيْرَكُمْ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ قَالَ عِمْرَانُ فَلَا أَدْرِي أَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ قَرْنِهِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً ثُمَّ يَكُونُ بَعْدَهُمْ قَوْمٌ يَشْهَدُونَ وَلَا يُسْتَشْهَدُونَ وَيَخُونُونَ وَلَا يُؤْتَمَنُونَ وَيَنْذِرُونَ وَلَا يُوفُونَ وَيَظْهَرُ فِيهِمْ السِّمَنُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار غندر شعبہ، حضرت عمران بن حصین بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہترین لوگ میرے زمانے کے لوگ ہیں پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے۔ حضرت عمران (رض) فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے زمانہ کے لوگوں کے بعد دو نمبر ذکر فرمائے یا تین نمبر پھر کہ ان کے بعد ایک ایسی قوم کے لوگ آئیں گے جو بغیر گواہی مانگے کے گواہی دیں گے اور خیانت کریں گے اور انہیں امانت دار نہیں سمجھا جائے گا اور منتیں مانیں گے لیکن ان کو پورا نہیں کریں گے اور ان لوگوں میں موٹاپا ظاہر ہوگا۔
Imran bin Husain reported Allahs-Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: The best among you (are) the people (who belong to) my age. Then those next to them, then those next to them, then those next to them. Imran said: I do not know whether Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said twice or thrice (the words:" Then next") after (saying) about his (own age but he then said): Then after them (after successors or those who would succeed them) would come a people who would give evidence before they are asked for it, and would be dishonest and not trustworthy, who would make vows but would not fulfil them, and would be significant in being bulky.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا بَهْزٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ کُلُّهُمْ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِهِمْ قَالَ لَا أَدْرِي أَذَکَرَ بَعْدَ قَرْنِهِ قَرْنَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً وَفِي حَدِيثِ شَبَابَةَ قَالَ سَمِعْتُ زَهْدَمَ بْنَ مُضَرِّبٍ وَجَائَنِي فِي حَاجَةٍ عَلَی فَرَسٍ فَحَدَّثَنِي أَنَّهُ سَمِعَ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ وَفِي حَدِيثِ يَحْيَی وَشَبَابَةَ يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ وَفِي حَدِيثِ بَهْزٍ يُوفُونَ کَمَا قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید عبدالرحمن بن بشر عبدی بہز محمد بن رافع شبابہ، حضرت شعبہ (رض) سے اس سند کے ساتھ روایت نقل کی گئی ہے اور ان ساری روایات میں یہ ہے کہ میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے اپنے زمانے کے بعد دو زمانوں یا تین زمانوں کا ذکر فرمایا اور شبابہ کی روایت میں ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے زہدم بن مضرب سے سنا اور وہ میرے پاس گھوڑے پر اپنی کسی ضرورت کے لئے آئے تھے انہوں نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت عمران بن حصین (رض) سے سنا اور یحییٰ اور شبابہ کی روایت میں (يَنْذُرُونَ وَلَا يَفُونَ ) کے الفاظ ہیں اور بہز کی روایت میں يُوفُونَ ہے جیسا کہ ابن جعفر نے کہا۔
This hadith has been reported on the authority of Shubah with the same chain of transmitters (and the words are): I do not know whether he made a mention of two generations after his generation or of the third one too. Shababa said: I heard this from Zahdam bin Mudarrib as he came to me riding a horse for some need and he narrated it to me that he had heard it from Imran bin Husain, and in the hadith transmitted on the authority of Yahya and Shababa (the words are): They take an oath but they do not fulfil it, and in the hadith transmitted on the authority of Bahz there the word is Yafun as transmitted on the authority of Ibn Jafar.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ الْأُمَوِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنَا أَبِي کِلَاهُمَا عَنْ قَتَادَةَ عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَی عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ خَيْرُ هَذِهِ الْأُمَّةِ الْقَرْنُ الَّذِينَ بُعِثْتُ فِيهِمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ زَادَ فِي حَدِيثِ أَبِي عَوَانَةَ قَالَ وَاللَّهُ أَعْلَمُ أَذَکَرَ الثَّالِثَ أَمْ لَا بِمِثْلِ حَدِيثِ زَهْدَمٍ عَنْ عِمْرَانَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ هِشَامٍ عَنْ قَتَادَةَ وَيَحْلِفُونَ وَلَا يُسْتَحْلَفُونَ
قتیبہ بن سعید، محمد بن عبدالملک اموی ابوعوانہ، محمد بن مثنی، ابن بشار معاذ بن ہشام ابوقتادہ، زرارہ بن اوفی حضرت عمران بن حصین نبی ﷺ سے یہی حدیث نقل کرتے ہیں اس امت کے بہترین لوگ اس زمانے کے ہیں جس زمانے میں مجھے بھیجا گیا ہے پھر وہ لوگ جو ان کے بعد ہوں گے ابوعوانہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ نے تیسرے زمانے کا بھی ذکر فرمایا نہیں اور حضرت ہشام عن قتادہ کی روایت میں یہ الفاظ زائد ہیں کہ وہ لوگ قسمیں کھائیں گے حالانکہ ان سے قسم نہیں مانگی جائے گی۔
This hadith has been narrated on the authority of Imran bin Husain through another chain of transmitters (and the words are): The best generation of this Umma is the generation to which I have been sent, then the next one, and there is an addition in the hadith transmitted on the authority of Abu Awana (and the words are): And Allah knows best whether he made a mention of the third (generation) or not; the rest of the hadith is the same as transmitted by Zahdam on the authority of Imran. And in the hadith transmitted by Hisham on the authority of Qatada there is an addition of these words: They take an oath whereas they are not asked to take.
صحابہ کرام (رض)، پھر تابعین اور تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم کے فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَشُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ وَهُوَ ابْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ السُّدِّيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَهِيِّ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ قَالَ الْقَرْنُ الَّذِي أَنَا فِيهِ ثُمَّ الثَّانِي ثُمَّ الثَّالِثُ
ابوبکر بن ابی شبیہ شجاع بن مخلد ابوبکر حسین بن علی جعفی زئدہ سدی عبداللہ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ ایک آدمی نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ لوگوں میں سے سب سے بہترین لوگ کون سے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا اس زمانے کے لوگ کہ جس میں میں ہوں پھر دوسرے زمانے کے لوگ پھر تیسرے زمانے کے لوگ۔
Aisha reported that a person asked Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as to who amongst the people were the best. He said: Of the generation to which I belong, then of the second generation (generation adjacent to my generation), then of the third generation (generation adjacent to the second generation).
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ سُلَيْمَانَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّی بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ صَلَاةَ الْعِشَائِ فِي آخِرِ حَيَاتِهِ فَلَمَّا سَلَّمَ قَامَ فَقَالَ أَرَأَيْتَکُمْ لَيْلَتَکُمْ هَذِهِ فَإِنَّ عَلَی رَأْسِ مِائَةِ سَنَةٍ مِنْهَا لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ قَالَ ابْنُ عُمَرَ فَوَهَلَ النَّاسُ فِي مَقَالَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِلْکَ فِيمَا يَتَحَدَّثُونَ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ عَنْ مِائَةِ سَنَةٍ وَإِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَبْقَی مِمَّنْ هُوَ الْيَوْمَ عَلَی ظَهْرِ الْأَرْضِ أَحَدٌ يُرِيدُ بِذَلِکَ أَنْ يَنْخَرِمَ ذَلِکَ الْقَرْنُ
محمد بن رافع عبد بن حمید، محمد بن رافع عبد عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم بن عبداللہ ابوبکر بن سلیمان حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی حیات مبارک کے آخر میں ایک رات ہمیں عشاء کی نماز پڑھائی تو جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے اپنی اس رات کو دیکھا ہے کیونکہ اب سے سو سال کے بعد زمین والوں میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان مبارک سمجھنے میں لغزش ہوگئی ہے حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے فرمان مبارک کا مطلب یہ تھا کہ اس روئے زمین پر آج کے دن تک جو انسان موجود ہے ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا اور یہ زمانہ ختم ہوجائے گا۔
Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) led us Isha prayer at the latter part of the night and when he had concluded it by salutations he stood up and said: Have you seen this night of yours? At the end of one hundred years after this none would survive on the surface of the earth (from amount my Companions). Ibn Umar (RA) said: People were (not understanding) these words of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) which had been uttered pertaining to one hundred years. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in fact meant (by these words) that on that day none from amongst those who had been living upon the earth (from amongst his Companions) would survive (after one hundred years) and that would be the end of this generation.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ أَخْبَرَنَا أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ وَرَوَاهُ اللَّيْثُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَالِدِ بْنِ مُسَافِرٍ کِلَاهُمَا عَنْ الزُّهْرِيِّ بِإِسْنَادِ مَعْمَرٍ کَمِثْلِ حَدِيثِهِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابویمان شعیب و لیث، عبدالرحمن بن خالد بن مسافر، حضرت زہری (رض) سے معمر کی سند کے ساتھ مذکورہ حدیث مبارکہ کی طرح روایت نقل کی ہے۔
This hadith has been transmitted by Zuhri on the authority of Mamar.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحَجَّاجُ بْنُ الشَّاعِرِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ قَبْلَ أَنْ يَمُوتَ بِشَهْرٍ تَسْأَلُونِي عَنْ السَّاعَةِ وَإِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللَّهِ وَأُقْسِمُ بِاللَّهِ مَا عَلَی الْأَرْضِ مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ
ہارون بن عبداللہ حجاج بن شاعر، حجاج ابن محمد ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ اپنی وفات سے ایک ماہ پہلے فرما رہے تھے کہ تم لوگ مجھ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہو لیکن قیامت کا علم تو صرف اللہ عزوجل کے پاس ہے اور ہاں میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اس زمانے میں زمین پر کوئی جاندار ایسا نہیں ہے کہ اس پر سو سال کا عرضہ گزر جائے اور پھر وہ زندہ رہے (یعنی سرزمین عرب پر آج موجود کوئی جاندار سو سال بعد باقی نہیں رہے گا) ۔
Jabir bin Abdullah reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying this one month before his death: You asked me about the Last Hour whereas its knowledge is with Allah. I, however, take an oath and say that none upon the earth, the created beings (from amongst my Companions), would survive at the end of one hundred years.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْکُرْ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، حضرت ابن جریج (رض) اس سند کے ساتھ روایت بیان کرتے ہیں لیکن اس روایت میں آپ ﷺ کی وفات سے ایک ماہ پہلے کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Juraij with the same chain of transmitters, but there is no mention of the words:" one month before his death".
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَی کِلَاهُمَا عَنْ الْمُعْتَمِرِ قَالَ ابْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ذَلِکَ قَبْلَ مَوْتِهِ بِشَهْرٍ أَوْ نَحْوِ ذَلِکَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ الْيَوْمَ تَأْتِي عَلَيْهَا مِائَةُ سَنَةٍ وَهِيَ حَيَّةٌ يَوْمَئِذٍ وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ صَاحِبِ السِّقَايَةِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ ذَلِکَ وَفَسَّرَهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ نَقْصُ الْعُمُرِ
یحییٰ بن حبیب، محمد بن عبد اعلی معتمر ابن حبیب معتمر بن سلیمان ابونضرہ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اپنی وفات سے تقریبا ایک ماہ قبل فرمایا اس وقت کوئی انسان بھی ایسا نہیں ہے کہ ایک سو سال گزر جانے کے بعد بھی وہ زندہ رہے صاحب السقایہ حضرت عبدالرحمن نے اور حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے نبی ﷺ سے اسی طرح حدیث مبارکہ نقل کی ہے اور حضرت عبدالرحمن (رض) نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ عمریں بہت کم ہوجائیں گی۔
Jabir bin Abdullah reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying one mouth before his death (or something like it): None amongst the created beings who had been living by that time (during the lifetime of Allahs Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .... Abdul Rahman has interpreted these words of Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as: The ages (of the people) would be diminished.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ بِالْإِسْنَادَيْنِ جَمِيعًا مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حضرت سلیمان تیمی (رض) سے دونوں سندوں کے ساتھ مذکورہ حدیث کی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Sulaiman Taimi through other chains of transmitters.
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ عَنْ دَاوُدَ وَاللَّفْظُ لَهُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ لَمَّا رَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ تَبُوکَ سَأَلُوهُ عَنْ السَّاعَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَأْتِي مِائَةُ سَنَةٍ وَعَلَی الْأَرْضِ نَفْسٌ مَنْفُوسَةٌ الْيَوْمَ
ابن نمیر، ابوخالد داؤد ابوبکر بن ابی شیبہ، سلیمان بن حیان داؤد ابی نضرہ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ جب نبی ﷺ تبوک سے واپس تشریف لائے تو لوگوں نے آپ ﷺ سے قیامت کے بارے میں پوچھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا روئے زمین پر آج جتنے بھی انسان موجود ہیں ان میں سے کسی پر بھی سو سال نہیں گزریں گے۔
Abu Said reported that when Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back from Tabuk they (his Companions) asked about the Last Hour. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: There would be none amongst the created beings living on the earth (who would survive this century).
نبی ﷺ کے اس فرمان مبارک کے بیان میں کہ جو صحابہ (رض) اب موجود ہیں سو سال کے بعد ان میں سے کوئی بھی باقی نہیں رہے گا۔
حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الْوَلِيدِ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ نَفْسٍ مَنْفُوسَةٍ تَبْلُغُ مِائَةَ سَنَةٍ فَقَالَ سَالِمٌ تَذَاکَرْنَا ذَلِکَ عِنْدَهُ إِنَّمَا هِيَ کُلُّ نَفْسٍ مَخْلُوقَةٍ يَوْمَئِذٍ
اسحاق بن منصور ابو ولید ابوعوانہ، حصین سالم، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا کوئی بھی انسان ایسا نہیں ہے کہ وہ سو سال تک کو پہنچ جائے حضرت سالم (رض) کہتے ہیں کہ ہم نے اس چیز کا ذکر حضرت جابر (رض) کے سامنے کیا تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہر وہ انسان ہے کہ جو اس دن پیدا ہوا۔
Jabir bin Abdullah reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: None amongst the created beings (from my Companions) would survive after one hundred years. Salim said: We made a mention of it to him (Jabir), whereupon he said: It means those who had been living on that day.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَکُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، یحییٰ ابومعاویہ اعمش ابوصالح حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے صحابہ (رض) کو برا نہ کہو میرے صحابہ کو برا نہ کہو اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر تم میں سے کوئی آدمی احد پہاڑ کے برابر سونا خیرات کرے گا تو وہ صحابہ کے ایک مد خیرات کو بھی نہیں پہنچ سکے گا اور نہ ہی صحابہ کے آدھے مد کا صدقہ کرنے کو پہنچ سکتا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Do not revile my Companions, do not revile my Companions. By Him in Whose Hand is my life, if one amongst you would have spent as much gold as Uhud it would not amount to as much as one much on behalf of one of them or half of it.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ کَانَ بَيْنَ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ وَبَيْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ شَيْئٌ فَسَبَّهُ خَالِدٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوا أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِي فَإِنَّ أَحَدَکُمْ لَوْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَکَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ
عثمان بن ابی شیبہ جریر، اعمش، ابوصالح حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کے درمیان کچھ جھگڑا ہوگیا حضرت خالد نے حضرت عبدالرحمن کو برا بھلا کہا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے کسی صحابی کو برا نہ کہو کیونکہ تم میں سے کوئی آدمی اگر احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو وہ میرے صحابی کو دو مد یا آدھے مد کا مقابلہ بھی نہیں کرسکتا۔
Abu Said reported there was some altercation between Khalid bin Walid and Abdul Rahman bin Auf and Khalid reviled him. Thereupon Allahs Messwger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: None should revile my Companions. for if one amongst you were to spend as much gold as Uhud, it would not amount to as much as one mudd of one of them or half of it.
صحابہ کرام (رض) کی شان میں گستاخی کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ جَمِيعًا عَنْ شُعْبَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ جَرِيرٍ وَأَبِي مُعَاوِيَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمَا وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ وَوَکِيعٍ ذِکْرُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ
ابوسعید اشج ابوکریب وکیع، اعمش، عبیداللہ بن معاذ ابی ابن مثنی ابن بشار ابن ابی عدی، شعبہ، حضرت اعمش (رض) جریر اور ابومعاویہ (رض) کی سند کے ساتھ مذکورہ دونوں حدیثوں کی طرح روایت نقل کی گئی ہے اور شعبہ اور وکیع کی روایت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف اور حضرت خالد بن ولید (رض) کا ذکر نہیں ہے۔
This hadith has been transmitted on the authority of al-Amash and there is no mention by Shubah and Waki of Abdul Rahman bin Auf and Khalid.
حضرت اویس قرنی (رح) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنِي سَعِيدٌ الْجُرَيْرِيُّ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ أَنَّ أَهْلَ الْکُوفَةِ وَفَدُوا إِلَی عُمَرَ وَفِيهِمْ رَجُلٌ مِمَّنْ کَانَ يَسْخَرُ بِأُوَيْسٍ فَقَالَ عُمَرُ هَلْ هَاهُنَا أَحَدٌ مِنْ الْقَرَنِيِّينَ فَجَائَ ذَلِکَ الرَّجُلُ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ قَالَ إِنَّ رَجُلًا يَأْتِيکُمْ مِنْ الْيَمَنِ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ لَا يَدَعُ بِالْيَمَنِ غَيْرَ أُمٍّ لَهُ قَدْ کَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَدَعَا اللَّهَ فَأَذْهَبَهُ عَنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ الدِّينَارِ أَوْ الدِّرْهَمِ فَمَنْ لَقِيَهُ مِنْکُمْ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَکُمْ
زہیر بن حرب، ہاشم بن قاسم سلیمان بن مغیرہ سعید جریر، ابی نضرہ، حضرت اسیر بن جابر (رض) سے روایت ہے کہ کوفہ کے لوگ ایک وفد لے کر حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئے اس وفد میں ایک ایسا آدمی بھی تھا کہ جو حضرت اویس قرنی (رح) کے ساتھ تمسخر کیا کرتا تھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا یہاں کوئی قرنی ہے تو وہی آدمی (حضرت اویس قرنی (رح) ) آئے تو حضرت عمر (رض) فرمانے لگے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ تمہارے پاس یمن سے ایک آدمی آئے گا جسے اویس کہا جاتا ہے۔ وہ یمن کو اپنی والدہ کے سوا نہیں چھوڑے گا اسے برص کی بیماری ہوگی۔ وہ اللہ سے دعا کرے گا تو اللہ اس سے اس بیماری کو دور فرمادے گا سوائے ایک دینار یا ایک درہم کے ( یعنی دینار یا درہم کے بقدر برص کی بیماری کے نشان باقی رہ جائے گا) تو تم میں سے جو کوئی بھی اس سے ملاقات کرے تو وہ اپنے لئے ان سے مغفرت کی دعا کرائے۔
Usair bin Jabir reported that a delegation from Kufa came to Umar and there was a person amongst them who jeered at Uwais. Thereupon Umar said: Is there amongst us one from Qaran? That person came and Umar said: Verily Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has said: There would come to you a person from Yemen who would be called Uwais and he would leave none in Yemen (behind him) except his mother, and he would have the whiteness (due to leprosy) and he supplicated Allah and it was cured except for the size of a dinar or dirham. He who amongst you meets him should ask him to supplicate for forgiveness (from Allah) for you.
حضرت اویس قرنی (رح) کے فضائل کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ سَلَمَةَ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ خَيْرَ التَّابِعِينَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ أُوَيْسٌ وَلَهُ وَالِدَةٌ وَکَانَ بِهِ بَيَاضٌ فَمُرُوهُ فَلْيَسْتَغْفِرْ لَکُمْ
زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، عفان بن مسلم حماد بن سلمہ حضرت سعید بن جریری (رض) سے اس سند کے ساتھ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں کہ تابعین میں سے سب سے بہترین وہ آدمی ہوگا جسے اویس کہا جائے گا اس کی ایک والدہ ہوگی اور اس کے جسم پر سفیدی کا ایک نشان ہوگا تو تمہیں چاہئے کہ اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کروانا۔
Umar bin Khattab reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Worthy amongst the successors would be a person who would be called Uwais. He would have his mother (living with him) and he would have (a small) sign of leprosy. Ask him to beg pardon for you (from Allah).