Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 236 of 379

4708Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا هَدَّابُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْدِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ سَمُرَةَ يَقُولُا سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ الْإِسْلَامُ عَزِيزًا إِلَی اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً ثُمَّ قَالَ کَلِمَةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ فَقَالَ کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

ہداب بن خالد ازدی، حماد بن سلمہ، سماک بن حرب، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ اسلام بارہ خلفاء کے پورے ہونے تک غالب رہے گا پھر آپ ﷺ نے ایسا کلمہ ارشاد فرمایا جسے میں نہ سمجھ سکا تو میں نے اپنے باپ سے کہا آپ ﷺ نے کیا فرمایا انہوں نے کہا سب خلفاء قریش سے ہوں گے۔

It has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Islam will continue to be triumphant until there have been twelve Caliphs. Then the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said something which I could not understand. I asked my father: What did he say? He said: He has said that all of them (twelve Caliphs) will be from the Quraish.

4709Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ عَزِيزًا إِلَی اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً قَالَ ثُمَّ تَکَلَّمَ بِشَيْئٍ لَمْ أَفْهَمْهُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ فَقَالَ کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، ابومعاویہ، داد، شعبی، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا اسلام کا معاملہ بارہ خلفاء کے پورا ہونے تک غالب رہے گا پھر آپ ﷺ نے ایسی بات فرمائی جسے میں سمجھ نہ سکا تو میں نے اپنے باپ سے کہا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا سب خلفاء قریشی خاندان سے ہوں گے۔

It has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: This order will continue to be dominant until there have been twelve Caliphs. The narrator says: Then he said something which I could not understand, and I said to my father: What did he say? My father told me that he said that all of them (Caliphs) would be from the Quraish.

4710Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ح و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ النَّوْفَلِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَزْهَرُ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ انْطَلَقْتُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي أَبِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ عَزِيزًا مَنِيعًا إِلَی اثْنَيْ عَشَرَ خَلِيفَةً فَقَالَ کَلِمَةً صَمَّنِيهَا النَّاسُ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ قَالَ کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

نصر بن علی جہضمی، یزید بن زریع، ابن عون، احمد بن عثمان نوفلی، ازہر، ابن عون، شعبی، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے چلا اور میرے ساتھ میرے والد تھے تو میں نے آپ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا یہ دین ہمیشہ بارہ خلفاء کے پورا ہونے تک غالب وبلند رہے گا پھر آپ ﷺ نے کوئی کلمہ ارشاد فرمایا لیکن لوگوں نے مجھے سننے نہ دیا تو میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا سب خلفاء قریش کے خاندان سے ہوں گے۔

It has been reported on the authority of Jabir bin ahadeeth who said: I went with my father to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peeace be upon him) and I heard him say: This religion would continue to remain powerful and dominant until there have been twelve Caliphs. Then he added something which I couldnt catch on account of the noise of the people. I asked my father: What did he say? My father said: He has said that all of them will be from the Quraish.

4711Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ الْمُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ مَعَ غُلَامِي نَافِعٍ أَنْ أَخْبِرْنِي بِشَيْئٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيَّ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جُمُعَةٍ عَشِيَّةَ رُجِمَ الْأَسْلَمِيُّ يَقُولُ لَا يَزَالُ الدِّينُ قَائِمًا حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ أَوْ يَکُونَ عَلَيْکُمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ عُصَيْبَةٌ مِنْ الْمُسْلِمِينَ يَفْتَتِحُونَ الْبَيْتَ الْأَبْيَضَ بَيْتَ کِسْرَی أَوْ آلِ کِسْرَی وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ کَذَّابِينَ فَاحْذَرُوهُمْ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِذَا أَعْطَی اللَّهُ أَحَدَکُمْ خَيْرًا فَلْيَبْدَأْ بِنَفْسِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ أَنَا الْفَرَطُ عَلَی الْحَوْضِ

قتیبہ بن سعید، ابوبکر بن ابی شیبہ، حاتم بن اسماعیل، مسمار، حضرت عامر بن سعد ابی وقاص (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اپنے غلام نافع کی ذریعہ جابر بن سمرہ (رض) کو لکھا کہ آپ مجھے خبر دیں کسی ایسی حدیث کی جو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہو تو مجھے جوابا لکھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے جمعہ کی شام کو جس دن ماعز اسلمی کو رجم کیا گیا سنا، دین ہمیشہ قائم و باقی رہے گا یہاں تک کہ قیامت قائم ہوجائے یا تم پر بارہ خلفاء حاکم ہوجائیں اور وہ سب کے سب قریش سے ہوں اور میں نے آپ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت کسری یا اولاد کسری کے سفید محل کو فتح کرے گی اور مزید میں نے آپ ﷺ سے سنا کہ قیامت کے قریب کذاب ظاہر ہوں گے پس تم ان سے بچتے رہنا اور مزید سنا کہ جب اللہ تم میں سے کسی کو کوئی بھلائی عطا کرے تو اپنے اوپر اور اپنے گھر والوں پر خرچ کرنے کی ابتدا کرو اور یہ بھی سنا کہ میں حوض پر آگے بڑھنے والا ہوں گا۔

It has been narrated on the authority of Amir bin Sad bin Abu Waqqas who said: I wrote (a letter) to Jabir bin ahadeeth and sent it to him through my servant Nafi, asking him to inform me of something he had heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He wrote to me (in reply): I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say on Friday evening, the day on which al-Aslami was stoned to death (for committing adultery): The Islamic religion will continue until the Hour has been established, or you have been ruled over by twelve Caliphs, all of them being from the Quraish. also heard him say: A small force of the Muslims will capture the white palace, the police of the Persian Emperor or his descendants. I also heard him say: Before the Day of Judgment there will appear (a number of) impostors. You are to guard against them. I also heard him say: When God grants wealth to any one of you, he should first spend it on himself and his family (and then give it in charity to the poor). I heard him (also) say: I will be your forerunner at the Cistern (expecting your arrival).

4712Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ عَنْ مُهَاجِرِ بْنِ مِسْمَارٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ سَمُرَةَ الْعَدَوِيِّ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ حَاتِمٍ

محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، مسمار، عامربن سعد، حضرت عامر (رض) سے روایت ہے کہ اس نے ابن سمرہ عدسی کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ﷺ ہمیں رسول اللہ ﷺ سے سنی ہوئی احادیث بیان کریں تو انہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا پھر اوپر حاتم کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی۔

Ibn ahadeeth al-Adawi reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say, and he then narrated (the above-mentioned hadith).

4713Sahih Muslimصحیح

خلیفہ مقرر کرنے اور اس کو چھوڑنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ حَضَرْتُ أَبِي حِينَ أُصِيبَ فَأَثْنَوْا عَلَيْهِ وَقَالُوا جَزَاکَ اللَّهُ خَيْرًا فَقَالَ رَاغِبٌ وَرَاهِبٌ قَالُوا اسْتَخْلِفْ فَقَالَ أَتَحَمَّلُ أَمْرَکُمْ حَيًّا وَمَيِّتًا لَوَدِدْتُ أَنَّ حَظِّي مِنْهَا الْکَفَافُ لَا عَلَيَّ وَلَا لِي فَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَقَدْ اسْتَخْلَفَ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي يَعْنِي أَبَا بَکْرٍ وَإِنْ أَتْرُکْکُمْ فَقَدْ تَرَکَکُمْ مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ فَعَرَفْتُ أَنَّهُ حِينَ ذَکَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ

ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، ابن عروہ، ابن عمر (رض) ، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ جب میرا باپ یعنی حضرت عمر (رض) کو زخمی کیا گیا تو میں اس وقت موجود تھا لوگوں نے ان کی تعریف کی اور کہنے لگے اللہ تعالیٰ آپ کو بہتر بدلہ عطا فرمائے تو حضرت عمر (رض) نے کہا اللہ کی رحمت کی امید کرنے والا ہوں اور اس سے ڈرنے والا ہوں لوگوں نے عرض کیا آپ خلیفہ مقرر فرما دیں تو آپ نے کہا کیا میں تمہارے معاملات کا بوجھ زندہ اور مرنے دونوں صورتوں میں برداشت کروں میں اس بات کو پسند کرتا ہوں کہ اس معاملہ خلافت سے میرا حصہ برابر ہوجائے نہ یہ مجھ پر بوجھ ہو اور نہ میرے لئے نفع اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو تحقیق ابوبکر (رض) مجھ سے بہتر و افضل تھے جنہوں نے خلیفہ نامزد کیا اور اگر میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دوں تو تمہیں اس حال میں مجھ سے بہتر و افضل اشرف رسول اللہ ﷺ نے چھوڑا تھا عبداللہ نے کہا جب آپ نے رسول اللہ ﷺ کا ذکر کیا تو میں جان گیا کہ آپ کسی کو خلیفہ نامزد نہیں فرمائیں گے۔

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Umar who said: I was present with my father when he was wounded. People praised him and said: May God give you a noble recompense! He said: I am hopeful (of Gods mercy) as well as afraid (of His wrath) People said: Appoint anyone as your successor. He said: Should I carry the burden of conducting your affairs in my life as well as in my death? (So far as Caliphate is concerned) I wish I could acquit myself (before the Almighty) in a way that there is neither anything to my credit nor anything to my discredit. If I would appoint my successor, (I would because) one better than me did so. (He meant Abu Bakr.) If I would leave You alone, (I would do so because) one better than me, i. e. the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , did so. Abdullah says: When he mentioned the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I understood that he would not appoint anyone as Caliph.

4714Sahih Muslimصحیح

خلیفہ مقرر کرنے اور اس کو چھوڑنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ إِسْحَقُ وَعَبْدٌ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَخْبَرَنِي سَالِمٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی حَفْصَةَ فَقَالَتْ أَعَلِمْتَ أَنَّ أَبَاکَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ قَالَ قُلْتُ مَا کَانَ لِيَفْعَلَ قَالَتْ إِنَّهُ فَاعِلٌ قَالَ فَحَلَفْتُ أَنِّي أُکَلِّمُهُ فِي ذَلِکَ فَسَکَتُّ حَتَّی غَدَوْتُ وَلَمْ أُکَلِّمْهُ قَالَ فَکُنْتُ کَأَنَّمَا أَحْمِلُ بِيَمِينِي جَبَلًا حَتَّی رَجَعْتُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ فَسَأَلَنِي عَنْ حَالِ النَّاسِ وَأَنَا أُخْبِرُهُ قَالَ ثُمَّ قُلْتُ لَهُ إِنِّي سَمِعْتُ النَّاسَ يَقُولُونَ مَقَالَةً فَآلَيْتُ أَنْ أَقُولَهَا لَکَ زَعَمُوا أَنَّکَ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ وَإِنَّهُ لَوْ کَانَ لَکَ رَاعِي إِبِلٍ أَوْ رَاعِي غَنَمٍ ثُمَّ جَائَکَ وَتَرَکَهَا رَأَيْتَ أَنْ قَدْ ضَيَّعَ فَرِعَايَةُ النَّاسِ أَشَدُّ قَالَ فَوَافَقَهُ قَوْلِي فَوَضَعَ رَأْسَهُ سَاعَةً ثُمَّ رَفَعَهُ إِلَيَّ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَحْفَظُ دِينَهُ وَإِنِّي لَئِنْ لَا أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَسْتَخْلِفْ وَإِنْ أَسْتَخْلِفْ فَإِنَّ أَبَا بَکْرٍ قَدْ اسْتَخْلَفَ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا هُوَ إِلَّا أَنْ ذَکَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَکْرٍ فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَمْ يَکُنْ لِيَعْدِلَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا وَأَنَّهُ غَيْرُ مُسْتَخْلِفٍ

اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، محمد بن رافع، عبد بن حمید، اسحاق، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں حضرت حفصہ (رض) کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے کہا کہ کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرے باپ کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرما رہے میں نے کہا وہ اس طرح نہیں کریں گے حضرت حفصہ نے کہا وہ اسی طرح کرنے والے ہیں پس میں نے قسم اٹھالی کہ میں آپ سے اس بارے میں گفتگو کروں گا پھر میں خاموش رہا یہاں تک کہ میں نے صبح کی اس حال میں کہ آپ سے گفتگو نہ کی اور میں قسم اٹھانے کی وجہ سے اس طرح ہوگیا تھا کہ میں اپنے ہاتھ پر پہاڑ اٹھاتا ہوں یہاں تک کہ میں لوٹا اور حضرت عمر (رض) کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے مجھ سے لوگوں کے بارے میں پوچھا اور میں نے آپ کو بتایا پھر میں نے عرض کیا میں نے لوگوں کو بات کرتے ہوئے سنا تو میں نے قسم اٹھا لی کہ وہ بات میں آپ کے سامنے عرض کروں گا کہ انہوں نے گمان کرلیا ہے کہ آپ خلیفہ نامزد نہیں کرنے والے ہیں اور اگر آپ کے اونٹوں یا بکریوں کے لئے کوئی چرواہا ہو پھر وہ انہیں چھوڑ کر آپ کے پاس آجائے تو آپ یہی خیال کریں گے کہ اس نے ضائع کردیا ہے اور لوگوں کی نگہداشت اس سے زیادہ ضروری ہے تو حضرت عمر (رض) نے میری بات کی موافقت کی اور کچھ دیر تک سر جھکائے ہوئے سوچتے رہے پھر میری طرف سر اٹھا کر فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت فرمائے گا اور اگر میں کسی کو خلیفہ مقرر نہ کروں تو رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی کو خلیفہ نامزد نہیں کیا تھا اور اگر میں خلیفہ مقرر کروں تو ابوبکر (رض) مقرر فرما چکے ہیں حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں اللہ کی قسم جب انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر (رض) کا ذکر کیا تو میں نے معلوم کرلیا کہ وہ ایسے نہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے طریقہ سے تجاوز کر جائیں اور وہ کسی کو خلیفہ مقرر نہیں فرمائیں گے۔

It has been reported on the authority of Ibn Umar who said: I entered the apartment of (my sister) Hafsa. She said: Do yoa know that your father is not going to nominate his successor? I said: He wont do that (i. e. he would nominate). She said: He is going to do that. The narrator said: I took an oath that I will talk to him about the matter. I kept quiet until the next morning, still I did not talk to him, and I felt as if I were carryint, a mountain on my right hand. At last I came to him and entered his apartment. (Seeing me) he began to ask me about the condition of the people, and I informed him (about them). Then I said to him: I heard something from the people and took an oath that I will communicate it to you. They presume that you are not going to nominate a successor. If a grazer of camels and sheep that you had appointed comes back to you leaving the cattle, you will (certainly) think that the cattle are lost. To look after the people is more serious and grave. (The dying Caliph) was moved at my words. He bent his head in a thoughtful mood for some time and raised it to me and said: God will doubtlessly protect His religion. If I do not nominate a successor (I have a precedent before me), for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not nominate his successor. And if I nominate one (I have a precedent), for Abu Bakr (RA) did nominate. The narrator ( Ibn Umar (RA) ) said: By God. when he mentioned the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abu Bakr, I (at once) understood that he would not place anyone at a par with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and would not nominate anyone.

4715Sahih Muslimصحیح

امارت کے طلب کرنے اور اس کی حرص کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ لَا تَسْأَلْ الْإِمَارَةَ فَإِنَّکَ إِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ مَسْأَلَةٍ أُکِلْتَ إِلَيْهَا وَإِنْ أُعْطِيتَهَا عَنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ أُعِنْتَ عَلَيْهَا

شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، حسن، حضرت عبدالرحمن بن سمرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا اے عبدالرحمن ! امارت کا سوال مت کرنا کیونکہ اگر تجھے تیرے سوال کے بعد یہ عطا کردی گئی تو تم اس کے سپرد کردیئے جاؤ گے اور اگر یہ تجھے مانگے بغیر عطا کی گئی تو تیری اس معاملہ میں مدد کی جائے گی۔

It has been reported on the authority of Abdul Rahman bin ahadeeth who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to me: Abdul Rahman, do not ask for a position of authority, for if you are granted this position as a result of your asking for it, you will be left alone (without Gods help to discharge the responsibilities attendant thereon), and it you are granted it without making any request for it, you will be helped (by God in the discharge of your duties).

4716Sahih Muslimصحیح

امارت کے طلب کرنے اور اس کی حرص کرنے سے روکنے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ ح و حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يُونُسَ وَمَنْصُورٍ وَحُمَيْدٍ ح و حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سِمَاکِ بْنِ عَطِيَّةَ وَيُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ وَهِشَامِ بْنِ حَسَّانَ کُلُّهُمْ عَنْ الْحَسَنِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ جَرِيرٍ

یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، یونس، علی بن حجر سعدی، ہشیم، یونس، منصور، حمید، ابواکامل جحدری، حماد بن زید، سماک بن عطیہ، یونس بن عبید، ہشام بن حسان، حسن، عبدالرحمن بن سمرہ، مختلف اسناد سے یہی حدیث حضرت عبدالرحمن بن سمرہ نے نبی ﷺ سے جریر کی حدیث ہی طرح روایت کی ہے۔

The same tradition has been narrated through a different chain of transmitters.

4717Sahih Muslimصحیح

امارت کے طلب کرنے اور اس کی حرص کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ دَخَلْتُ عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَرَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَمِّي فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمِّرْنَا عَلَی بَعْضِ مَا وَلَّاکَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَقَالَ الْآخَرُ مِثْلَ ذَلِکَ فَقَالَ إِنَّا وَاللَّهِ لَا نُوَلِّي عَلَی هَذَا الْعَمَلِ أَحَدًا سَأَلَهُ وَلَا أَحَدًا حَرَصَ عَلَيْهِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، ابواسامہ، برید بن عبداللہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ میں اور دو آدمی میرے چچا کے بیٹوں میں سے نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو ان دو آدمیوں میں سے ایک نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ جو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ملک عطا کئے ہیں ان میں سے کسی ملک کے معاملات ہمارے سپرد کردیں اور دوسرے نے بھی اسی طرح کہا آپ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ہم اس کام پر اس کو مامور نہیں کرتے جو اس کا سوال کرتا ہو یا اس کی حرص کرتا ہو۔

It has been narrated by Abu Musa who said: Two of my cousins and I entered the apartment of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . One of them said: Messenger of Allah, appoint us rulers of some lands that the Almighty and Glorious God has entrusted to thy care. The other also said something similar. He said: We do not appoint to this position one who asks for it nor anyone who is covetous for the same.

4718Sahih Muslimصحیح

امارت کے طلب کرنے اور اس کی حرص کرنے سے روکنے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ حَاتِمٍ قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ هِلَالٍ حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ قَالَ قَالَ أَبُو مُوسَی أَقْبَلْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعِي رَجُلَانِ مِنْ الْأَشْعَرِيِّينَ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي وَالْآخَرُ عَنْ يَسَارِي فَکِلَاهُمَا سَأَلَ الْعَمَلَ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاکُ فَقَالَ مَا تَقُولُ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ قَالَ فَقُلْتُ وَالَّذِي بَعَثَکَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَی مَا فِي أَنْفُسِهِمَا وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ قَالَ وَکَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی سِوَاکِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ وَقَدْ قَلَصَتْ فَقَالَ لَنْ أَوْ لَا نَسْتَعْمِلُ عَلَی عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ وَلَکِنْ اذْهَبْ أَنْتَ يَا أَبَا مُوسَی أَوْ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ قَيْسٍ فَبَعَثَهُ عَلَی الْيَمَنِ ثُمَّ أَتْبَعَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ فَلَمَّا قَدِمَ عَلَيْهِ قَالَ انْزِلْ وَأَلْقَی لَهُ وِسَادَةً وَإِذَا رَجُلٌ عِنْدَهُ مُوثَقٌ قَالَ مَا هَذَا قَالَ هَذَا کَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ ثُمَّ رَاجَعَ دِينَهُ دِينَ السَّوْئِ فَتَهَوَّدَ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّی يُقْتَلَ قَضَائُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ فَقَالَ اجْلِسْ نَعَمْ قَالَ لَا أَجْلِسُ حَتَّی يُقْتَلَ قَضَائُ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَأَمَرَ بِهِ فَقُتِلَ ثُمَّ تَذَاکَرَا الْقِيَامَ مِنْ اللَّيْلِ فَقَالَ أَحَدُهُمَا مُعَاذٌ أَمَّا أَنَا فَأَنَامُ وَأَقُومُ وَأَرْجُو فِي نَوْمَتِي مَا أَرْجُو فِي قَوْمَتِي

عبیداللہ بن سعید، محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان، قرہ بن خالد، حمید بن ہلال، ابوبردہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی ﷺ کی طرف آیا اور میرے ساتھ اشعریوں میں سے دو آدمی تھے ان میں سے ایک میری دائیں طرف اور دوسرا میری بائیں طرف اور ان دونوں نے آپ ﷺ سے کسی عہدے کا سوال کیا اور نبی ﷺ مسواک فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوموسی ! یا فرمایا اے عبداللہ بن قیس ! تم کیا کہتے ہو ؟ میں نے عرض کیا اس ذات کی قسم جس نے آپ ﷺ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے کہ ان دونوں نے اپنے دل کی بات پر مجھے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ میں جان سکا کہ یہ منصب وعہدہ طلب کریں گے ابوموسی (رض) کہتے ہیں کہ گویا میں دیکھتا ہوں آپ ﷺ مسواک کو جو ہونٹ کے نیچے گھس چکی ہے کہ ہم اسے کسی منصب وعہدہ پر عامل مقرر نہیں کریں گے جو اس کا ارادہ رکھنے والا ہوگا لیکن اے ابوموسی یا فرمایا اے عبداللہ بن قیس تو جا اور انہیں یمن بھیج دیا پھر ان کے پیچھے حضرت معاذ بن جبل کو بھیجا پس جب یہ ابوموسی کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا اترئے اور ان کے لئے ایک گدا بچھا دیا اور ان کے پاس اس وقت آدمی بندھا ہوا تھا حضرت معاذ (رض) نے پوچھا یہ کون ہے انہوں نے کہا یہ یہودی تھا پھر مسلمان ہوگیا پھر اپنے پرانے دین کی طرف لوٹ گیا اور یہودی ہوگیا حضرت معاذ (رض) نے کہا میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق قتل نہ کردیا جائے حضرت ابوموسی (رض) نے عرض کیا آپ تشریف رکھیں ہم اسے قتل کرتے ہیں حضرت معاذ (رض) نے تین مرتبہ فرمایا میں اس وقت تک نہ بیٹھوں گا جب تک اسے اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے مطابق قتل نہ کردیا جائے آپ نے حکم دیا اور اسے قتل کیا گیا پھر ان دونوں اصحاب میں رات کے قیام کے بارے میں مذاکرہ ہوا تو حضرت معاذ (رض) نے فرمایا میں سوتا بھی ہوں اور قیام بھی کرتا ہوں اور میں اپنی نیند میں بھی اسی اجر وثواب کی امید رکھتا ہوں جو اپنے قیام میں ثواب کی امید رکھتا ہوں۔

It has been reported on the authority of Abu Musa who said: I went to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and with me were two men from the Ashari tribe. One of them was on my right hand and the other on my left. Both of them made a request for a position (of authority) while the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was brushing his teeth with a tooth-stick. He said (to me): Abu Musa (or Abdullah bin Qais (RA) ), what do you say (about the request they have made)? I said: By God Who sent thee on thy mission with truth, they did not disclose to me what they had in their minds, and I did not know that they would ask for a position. The narrator says (while recalling this hadith): I visualise as if I were looking at the miswak of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) between his lips. He (the Holy Prophet) said: We shall not or shall never appoint to the public offices (in our State) those who with to have them, but you may go, Abu Musa (orAbdullah bin Qais (RA) ) (to take up your assignment). He sent him to Yemen as governor. then he sent Muadh bin jabal in his wake (to help him in the discharge of duties). When Muadh reached the camp of Abu Musa, the latter (received him and) said: Please get yourself down; and he spread for him a mattress, while there was a man bound hand and foot as a prisoner. Muadh said: Who is this? Abu Musa said: He was a Jew. He embraced Islam. Then he reverted to his false religion and became a Jew. Muadh said: I wont sit until he is killed according to the decree of Allah and His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (in this case). Abu Musa said: Be seated. It will be done. He said: I wont sit unless he is killed in accordance with the decree of Allah and His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He repeated these words thrice. Then Abu Musa ordered him (to be killed) and he was kilied. Then the two talked of standing in prayer at night. One of them, i. e. Muadh, said: I sleep (for a part of the night) and stand in prayer (for a part) and I hope that I shall get the same reward for steeping as I shall get for standing (in prayer).

4719Sahih Muslimصحیح

بلا ضرورت امارت کے طلب کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيِْ حَدَّثَنِي أَبِي شُعَيْبُ بْنُ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَکْبَرِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَسْتَعْمِلُنِي قَالَ فَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَی مَنْکِبِي ثُمَّ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنَّکَ ضَعِيفٌ وَإِنَّهَا أَمَانَةُ وَإِنَّهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ خِزْيٌ وَنَدَامَةٌ إِلَّا مَنْ أَخَذَهَا بِحَقِّهَا وَأَدَّی الَّذِي عَلَيْهِ فِيهَا

عبدالملک بن شعیب بن لیث، ابوشعیب، ابن لیث، لیث بن سعد، یزید بن ابی حبیب، بکر بن عمر، حارث بن یزید حضرمی، ابن حجیرہ، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ مجھے عامل نہ بنائیں گے تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ مبارک میرے کندھے پر مار کر فرمایا اے ابوذر تو کمزور ہے اور یہ امارت امانت ہے اور یہ قیامت کے دن کی رسوائی اور شرمندگی ہے سوائے اس کے جس نے اس کے حقوق پورے کئے اور اس بارے میں جو اس کی ذمہ داری تھی اس کو ادا کیا۔

It has been narrated on the authority of Abu Dharr (RA) who said: I said to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Messenger of Allah, will you not appoint me to a public office? He stroked my shoulder with his hand and said: Abu Dharr, thou art weak and authority is a trust. and on the Day of Judgment it is a cause of humiliation and repentance except for one who fulfils its obligations and (properly) discharges the duties attendant thereon.

4720Sahih Muslimصحیح

بلا ضرورت امارت کے طلب کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ الْمُقْرِئِ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَعْفَرٍ الْقُرَشِيِّ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا أَبَا ذَرٍّ إِنِّي أَرَاکَ ضَعِيفًا وَإِنِّي أُحِبُّ لَکَ مَا أُحِبُّ لِنَفْسِي لَا تَأَمَّرَنَّ عَلَی اثْنَيْنِ وَلَا تَوَلَّيَنَّ مَالَ يَتِيمٍ

زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، زہیر، عبداللہ بن یزید سعدی، ابن ابی ایوب، عبیداللہ بن ابی جعفر قرشی، سالم بن ابی سالم جیشانی، حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے ابوذر (رض) میں تجھے ضعیف ونا تو اں خیال کرتا ہوں اور میں تیرے لئے وہی پسند کرتا ہوں جو اپنے لئے پسند کرتا ہوں تم دو آدمیوں پر بھی حاکم نہ بننا اور نہ مال یتیم کا والی بننا۔

It has been reported on the authority of Abu Dharr (RA) that the Messenger of of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Abu Dharr, I find that thou art weak and I like for thee what I like for myself. Do not rule over (even) two persons and do not manage the property of an orphan.

4721Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ دِينَارٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو بَکْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمُقْسِطِينَ عِنْدَ اللَّهِ عَلَی مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ عَنْ يَمِينِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ وَکِلْتَا يَدَيْهِ يَمِينٌ الَّذِينَ يَعْدِلُونَ فِي حُکْمِهِمْ وَأَهْلِيهِمْ وَمَا وَلُوا

ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، عمرو، ابن دینار، ابن نمیر، ابوبکر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انصاف کرنے والے رحمن کے دائیں جانب اور اللہ کے نزدیک نور کے منبروں پر ہوں گے اور اللہ کے دونوں دائیں ہاتھ ہیں یہ وہ لوگ ہوں گے جو اپنی رعایا اور اہل و عیال میں عدل و انصاف کرتے ہوں گے۔

It has been narrated on the authority of Abdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Behold! the Dispensers of justice will be seated on the pulpits of light beside God, on the right side of the Merciful, Exalted and Glorious. Either side of the Being is the right side both being equally mrneritorious. (The Dispensers of justice are) those who do justice in their rules, in matters relating to their families and in all that they undertake to do.

4722Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ قَالَ أَتَيْتُ عَائِشَةَ أَسْأَلُهَا عَنْ شَيْئٍ فَقَالَتْ مِمَّنْ أَنْتَ فَقُلْتُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ مِصْرَ فَقَالَتْ کَيْفَ کَانَ صَاحِبُکُمْ لَکُمْ فِي غَزَاتِکُمْ هَذِهِ فَقَالَ مَا نَقَمْنَا مِنْهُ شَيْئًا إِنْ کَانَ لَيَمُوتُ لِلرَّجُلِ مِنَّا الْبَعِيرُ فَيُعْطِيهِ الْبَعِيرَ وَالْعَبْدُ فَيُعْطِيهِ الْعَبْدَ وَيَحْتَاجُ إِلَی النَّفَقَةِ فَيُعْطِيهِ النَّفَقَةَ فَقَالَتْ أَمَا إِنَّهُ لَا يَمْنَعُنِي الَّذِي فَعَلَ فِي مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ أَخِي أَنْ أُخْبِرَکَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي بَيْتِي هَذَا اللَّهُمَّ مَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَشَقَّ عَلَيْهِمْ فَاشْقُقْ عَلَيْهِ وَمَنْ وَلِيَ مِنْ أَمْرِ أُمَّتِي شَيْئًا فَرَفَقَ بِهِمْ فَارْفُقْ بِهِ

ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، حرملہ، عبدالرحمن بن شماسہ، حضرت عائشہ (رض) ، حضرت عبدالرحمن بن شماسہ سے روایت ہے کہ میں سیدہ عائشہ (رض) کے پاس کچھ پوچھنے کے لئے حاضر ہوا تو سیدہ نے فرمایا تم کن لوگوں میں سے ہو میں نے عرض کیا اہل مصر میں سے ایک آدمی ہوں تو سیدہ نے فرمایا تمہارا ساتھی تمہارے ساتھ غزوہ میں کیسے پیش آتا ہے میں نے عرض کیا ہم نے اس میں کوئی ناگوار بات نہیں پائی اگر ہم میں سے کسی آدمی کا اونٹ مرجائے تو وہ اسے اونٹ عطا کرتا ہے اور غلام کے بدلے غلام عطا کرتا ہے اور جو خرچ کا محتاج ہو اسے خرچہ عطا کرتا ہے سیدہ نے فرمایا مجھے وہ معاملہ اس حدیث کے بیان کرنے سے نہیں روک سکتا جو اس نے میرے بھائی محمد بن ابوبکر سے کیا رسول اللہ ﷺ سے میں نے سنا کہ آپ ﷺ نے میرے اس گھر میں فرمایا اے اللہ میری اس امت میں سے جس کو ولایت دی جائے اور وہ ان پر سختی کرے تو تو اس پر سختی کر اور میری امت میں سے جس کو کسی معاملہ کو والی بنایا جائے وہ ان سے نرمی کرے تو تو بھی اس پر نرمی کر۔

It has been reported on the authority of Abdul Rahman bin Shumasa who said: I came to Aisha to inquire something from her. She said: From which people art thou? I said: I am from the people of Egypt. She said: What was the behaviour of your governor towards you in this war of yours? I said: We did not experience anything bad from him. If the camel of a man from us died, he would bestow on him a camel. If any one of us lost his slave, he would give him a slave. If anybody was in need of the basic necessities of life, he would provide them with provisions. She said: Behold! the treatment that was meted out to my brother, Muhammad bin Abu Bakr, does not prevent me from telling you what I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He said in this house of mine: O God, who (happens to) acquire some kind of control over the affairs of my people and is hard upon them-be Thou hard upon him, and who (happens to) acquire some kind of control over the affairs of my people and is kind to them-be Thou kind to him.

4723Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا ابْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ حَرْمَلَةَ الْمِصْرِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِمَاسَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ

محمد بن حاتم، ابن مہدی، جریج، ابن حازم، حرملہ مصری، عبدالرحمن بن شماسہ، حضرت عائشہ (رض) کی نبی ﷺ سے اسی طرح کی حدیث دوسری سند سے نقل کی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Shumasa with another chain of transmitters.

4724Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ أَلَا کُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ فَالْأَمِيرُ الَّذِي عَلَی النَّاسِ رَاعٍ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ وَالرَّجُلُ رَاعٍ عَلَی أَهْلِ بَيْتِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُمْ وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ عَلَی بَيْتِ بَعْلِهَا وَوَلَدِهِ وَهِيَ مَسْئُولَةٌ عَنْهُمْ وَالْعَبْدُ رَاعٍ عَلَی مَالِ سَيِّدِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْهُ أَلَا فَکُلُّکُمْ رَاعٍ وَکُلُّکُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور تم سب سے ان کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا پس وہ امیر جو لوگوں کا ذمہ دار ہے اس سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گا اور جو آدمی اپنے گھر والوں کا ذمہ دار ہے اس سے ان کے بارے میں سوال کیا جائے اور عورت اپنے خاوند کے گھر اور اس کی اولاد کی ذمہ دار ہے اس سے ان کے بارے میں پوچھا جائے گا اور غلام اپنے آقا کے مال کا ذمہ دار ہے اس سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا آگاہ رہو تم میں سے ہر ایک ذمہ دار ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

It has been narrated on the authority of Ibn Umar that the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (May peace be upon him) said: Beware. every one of you is a shepherd and every one is answerable with regard to his flock. The Caliph is a shepherd over the people and shall be questioned about his subjects (as to how he conducted their affairs). A man is a guardian over the members of his family and shal be questioned about them (as to how he looked after their physical and moral well-being). A woman is a guardian over the household of her husband and his children and shall be questioned about them (as to how she managed the household and brought up the children). A slave is a guardian over the property of his master and shall be questioned about it (as to how he safeguarded his trust). Beware, every one of you is a guardian and every one of you shall be questioned with regard to his trust.

4725Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي الْقَطَّانَ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ جَمِيعًا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي أُسَامَةُ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ابن نمیر، ابن مثنی، خالد بن حارث، عبیداللہ بن سعید، یحییٰ قطان، عبیداللہ بن عمر، ابوربیع، ابوکامل، حماد بن زید، زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک بن عثمان، ہارن بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ، نافع، ابن عمر، لیث، نافع، اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں۔

This tradition has been narrated through more; than one chain of transmitters.

4726Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

قَالَ أَبُو إِسْحَقَ وَحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا مِثْلَ حَدِيثِ اللَّيْثِ عَنْ نَافِعٍ

ابو اسحاق، حسن بن بشر، عبداللہ بن نمیر، عبیداللہ، نافع، ابن عمر، اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

This Arabic text is part of previous Hadeeth and not translated there.

4727Sahih Muslimصحیح

حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَيَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ حُجْرٍ کُلُّهُمْ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ جَعْفَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمَعْنَی حَدِيثِ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ وَزَادَ فِي حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ قَالَ وَحَسِبْتُ أَنَّهُ قَدْ قَالَ الرَّجُلُ رَاعٍ فِي مَالِ أَبِيهِ وَمَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ

یحییٰ بن یحیی، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ بن سعید، ابن حجر، اسماعیل بن جعفر، عبداللہ بن دینار، ابن عمر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا آدمی اپنے باپ کے مال کا ذمہ دار ہے اور اس سے اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar, but there is (a slight change of wording) in the hadith transmitted through Zuhri that he said:" I think that he (the narrator) said: The man is a custodian of the wealth of his father, and he would be answerable for what is in his custody.