Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 235 of 379

4688Sahih Muslimصحیح

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ سَمِعْتُ قَيْسًا يُحَدِّثُ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ فَشَهِدْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ حِينَ قَرَأَ کِتَابَهُ وَحِينَ کَتَبَ جَوَابَهُ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْ أَرُدَّهُ عَنْ نَتْنٍ يَقَعُ فِيهِ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ وَلَا نُعْمَةَ عَيْنٍ قَالَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ إِنَّکَ سَأَلْتَ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی الَّذِي ذَکَرَ اللَّهُ مَنْ هُمْ وَإِنَّا کُنَّا نَرَی أَنَّ قَرَابَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُمْ نَحْنُ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا وَسَأَلْتَ عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُهُ وَإِنَّهُ إِذَا بَلَغَ النِّکَاحَ وَأُونِسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَدُفِعَ إِلَيْهِ مَالُهُ فَقَدْ انْقَضَی يُتْمُهُ وَسَأَلْتَ هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْتُلُ مِنْ صِبْيَانِ الْمُشْرِکِينَ أَحَدًا فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ مِنْهُمْ أَحَدًا وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْ مِنْهُمْ أَحَدًا إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الْغُلَامِ حِينَ قَتَلَهُ وَسَأَلْتَ عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ هَلْ کَانَ لَهُمَا سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِذَا حَضَرُوا الْبَأْسَ فَإِنَّهُمْ لَمْ يَکُنْ لَهُمْ سَهْمٌ مَعْلُومٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا مِنْ غَنَائِمِ الْقَوْمِ

اسحاق بن ابراہیم، وہب، ابن جریر، ابن حازم، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر (رض) نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور اس میں حضرت ابن عباس (رض) کی خدمت میں حاضر تھا جب انہوں نے اس کے خط کو پڑھا اور اس کا جواب لکھا ابن عباس (رض) نے کہا اللہ کی قسم اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ بدبو یعنی کسی برے کام میں پڑجائے گا تو میں اس کی طرف جواب نہ لکھتا اور نہ اس کی آنکھیں خوش ہوتیں پس ابن عباس نے نجدہ کی طرف لکھا کہ تو نے ان ذوی القربی کے حصہ کے بارے میں پوچھا (جن کا اللہ نے ذکر فرمایا) کہ وہ کون ہیں ہم نے خیال کیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے ہم لوگ ہی مراد ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے اس خیال کو ماننے سے انکار کردیا اور تو نے یتیم کے بارے میں پوچھا ہے کہ اس کی مدت یتیمی کب ختم ہوتی ہے ؟ جب وہ نکاح کے قابل ہوجائے اور اس سے سمجھداری محسوس ہونے لگے تو اس کا مال اس کے حوالے کردیا جائے تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجاتی ہے اور تو نے پوچھا ہے کیا رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے کسی کو بھی قتل نہیں کیا اور تو بھی ان میں سے کسی کو بھی قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے ان کے بارے میں وہی علم ہوجائے جو خضر (علیہ السلام) کو بچے کے بارے میں اس کے قتل کے وقت ہوا تھا اور تو نے عورت اور غلام کے بارے میں پوچھا کیا ان کا حصہ مقرر شدہ ہے جب وہ جنگ میں شریک ہوں تو ان کے لئے کوئی مقرر شدہ حصہ مال غنیمت میں سے نہیں سوائے اس کے کہ لوگوں کے مال غنیمت میں سے انہیں کچھ بطور ہدیہ وعطیہ دید یا جائے۔

It has been narrated on the anthority of Yazid bin Hurmuz who said: Najda wrote to Ibn Abbas (RA) . I was sitting in the company of Ibn Abbas when he read his letter and wrote its reply. Ibn Abbas (RA) said: Were it not for preventing him from falling into wickedness, I would not have replied to his letter, may he never be joyful. He wrote in reply to him referring to the share of the close relatives (of the Holy Prophet) (from the booty) whom God has mentioned. (I have to tell you that) we thought we were the close relatives of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , but our people have refused to recognise us as such. You have asked about the orphan as to when his orphanhood comes to an end. (I have to say that) when he reaches the age of marriage, attains maturity of mind, and his property is returned to him, then he is no longer an orphan. You have inquired whether the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upo him) used to kill anyone from the children of the polytheists in the war. (You should know that) the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used not to kill any one of their children, and you (too) should not kill any one of them, except when you knew about them what Khadir had known about the boy whom he killed. And you have inquired whether there is a fixed share of the booty for women and slaves when they participate in a battle. (I have to tell you that) there is no fixed share for them except that they will be given some reward from the spoils of war.

4689Sahih Muslimصحیح

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا زَائِدَةُ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ صَيْفِيٍّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرَ بَعْضَ الْحَدِيثِ وَلَمْ يُتِمَّ الْقِصَّةَ کَإِتْمَامِ مَنْ ذَکَرْنَا حَدِيثَهُمْ

ابوکریب، ابواسامہ، زائدہ، سلیمان، اعمش، مختار بن صیفی، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) کو لکھا اور پھر کچھ حدیث ذکر کی اور پورا قصہ ذکر نہیں کیا جیسا کہ دوسری حدیثوں میں ذکر کیا گیا۔

This hadith has been transmitted on the authority of Yazid bin Hurmuz. but not complete (as we find in the above mentioned ahadith).

4690Sahih Muslimصحیح

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ قَالَتْ غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ أَخْلُفُهُمْ فِي رِحَالِهِمْ فَأَصْنَعُ لَهُمْ الطَّعَامَ وَأُدَاوِي الْجَرْحَی وَأَقُومُ عَلَی الْمَرْضَی

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ہشام، حفصہ بنت سیرین، حضرت ام عطیہ انصاریہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں گئی میں مجاہدین کے پیچھے والے خیموں میں رہتی تھی اور ان کے لئے کھانا بناتی اور زخمیوں کو دوا دیتی اور بیماروں کی عیادت کرتی تھی۔

It has been narrated on the authority of Umm Atiyya, the Ansarite, who said: I took part with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in seven battles. I would stay behind in the camp of men, cook their food, treat the wounded and nurse the sick.

4691Sahih Muslimصحیح

جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

عمرو ناقد، یزید بن ہارون، ہشام بن حسان، حضرت ہشام بن حسان نے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے۔

A similar tradition has been narrated on the authority of Hisham bin Hassan through a different chain of transmitters.

4692Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ خَرَجَ يَسْتَسْقِي بِالنَّاسِ فَصَلَّی رَکْعَتَيْنِ ثُمَّ اسْتَسْقَی قَالَ فَلَقِيتُ يَوْمَئِذٍ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ وَقَالَ لَيْسَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ غَيْرُ رَجُلٍ أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ رَجُلٌ قَالَ فَقُلْتُ لَهُ کَمْ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تِسْعَ عَشْرَةَ فَقُلْتُ کَمْ غَزَوْتَ أَنْتَ مَعَهُ قَالَ سَبْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ فَقُلْتُ فَمَا أَوَّلُ غَزْوَةٍ غَزَاهَا قَالَ ذَاتُ الْعُسَيْرِ أَوْ الْعُشَيْرِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، عبداللہ بن یزید، حضرت ابواسحاق (رض) سے روایت ہے کہ عبداللہ بن یزید (رض) لوگوں کو استسقاء کی نماز پڑھانے نکلے تو انہوں نے دو رکعتیں پڑھائیں پھر بارش کی دعا مانگی راوی کہتے ہیں کہ اس دن میری ملاقات حضرت زید بن ارقم (رض) سے ہوئی اور میرے اور ان کے درمیان ایک آدمی کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا تو میں نے ان سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کتنے غزوات میں شرکت کی انہوں نے کہا انیس غزوات میں آپ ﷺ شریک ہوئے تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کتنے غزوات میں ان کے ساتھ تھے تو انہوں نے کہا سترہ غزوات میں، میں نے پوچھا کہ آپ ﷺ کا سب سے پہلا غزوہ کونسا تھا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُسَيْرِ یا انہوں نے کہا ذَاتُ الْعُشَيْرِ ۔

It has been narrated on the authority of Abu Ishaq that Abdullah bin Yazid went (out of the city) with people for offering "Istisqa" prayer (for rainfall). He offered two rakahs. Then he prayed for rain. That day I met Zaid bin Arqam. There was only one man between me and him (at that time). I asked him: How many military expeditions did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) undertake? He said: Nineteen expeditions. I asked him: On how many expeditions did you accompany him? He said: On seventeen expeditions. I asked: Which was the first expedition he led? He answered: Dhat-ul-Usair or Ushair.

4693Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ سَمِعَهُ مِنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً وَحَجَّ بَعْدَ مَا هَاجَرَ حَجَّةً لَمْ يَحُجَّ غَيْرَهَا حَجَّةَ الْوَدَاعِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، یحییٰ بن آدم، زہیر، ابواسحاق، زید بن ارقم، حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے تیئس غزوات میں شرکت کی اور آپ ﷺ نے ہجرت کے بعد ایک حج کیا حجہ الوداع کے علاوہ آپ ﷺ نے اور کوئی حج نہیں کیا۔

It has been narrated on the authority of Zaid bin Arqam that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) fought nineteen battles and after the Migration performed only one Pilgrimage called Hajjat-ul-Wada.

4694Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَالَ جَابِرٌ لَمْ أَشْهَدْ بَدْرًا وَلَا أُحُدًا مَنَعَنِي أَبِي فَلَمَّا قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ يَوْمَ أُحُدٍ لَمْ أَتَخَلَّفْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ قَطُّ

زہیر بن حرب، روح بن عبادہ، زکریا، ابوزبیر، جابر بن عبداللہ، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ انیس غزوات میں شریک تھا حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ میں بدر اور احد کے غزو وں میں شریک نہیں ہوا کیونکہ مجھے میرے باپ نے روک دیا تھا تو جب حضرت عبداللہ (رض) غزوہ احد میں شہید ہوگئے تو پھر میں کسی بھی غزوہ میں رسول اللہ ﷺ سے پیچھے نہیں رہا۔

It has been reported on the authority of Abu Zubair who heard Jabir binAbdullah (RA) say: I fought in the company of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) nineteen battles. Jabir said: I did not participate in the Battle of Badr and the Battle of Uhud. My father prevented me (from participating in these battles as my age was tender). After Abdullah (my father) was killed on the Day of Ubud, I never lagged behind the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and joined every battle (he fought).

4695Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَرْمِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو تُمَيْلَةَ قَالَا جَمِيعًا حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ وَاقِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ غَزَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَ عَشْرَةَ غَزْوَةً قَاتَلَ فِي ثَمَانٍ مِنْهُنَّ وَلَمْ يَقُلْ أَبُو بَکْرٍ مِنْهُنَّ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ

ابوبکر بن ابی شیبہ، زید بن حباب، سعید بن محمد حرمی، ابوتمیلہ، حسین بن واقد، حضرت عبداللہ بن بریدہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ انیس غزوات میں شریک ہوئے آپ ﷺ نے ان انیس غزوات میں سے آٹھ غزوات میں قتال کیا ابوبکر نے مِنْهُنَّ کا لفظ نہیں کہا اور انہوں نے اپنی حدیث میں عن کی جگہ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ کہا۔

It has been narrated on the authority of Buraida (who heard the tradition from his father) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) conducted nineteen military campaigns and he (actually) fought in eight of them.

4696Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ کَهْمَسٍ عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ غَزَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّ عَشْرَةَ غَزْوَةً

احمد بن حنبل، معتمر، ابن سلیمان، کہمس، ابن بریدہ، حضرت ابن بریرہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سولہ غزوات میں شرکت کی۔

It has been narrated by Buraida who heard it from his father that he joined the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in sixteen military campaigns

4697Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ وَهُوَ ابْنُ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ يَقُولُا غَزَوْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعَ غَزَوَاتٍ وَخَرَجْتُ فِيمَا يَبْعَثُ مِنْ الْبُعُوثِ تِسْعَ غَزَوَاتٍ مَرَّةً عَلَيْنَا أَبُو بَکْرٍ وَمَرَّةً عَلَيْنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ

محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سات غزوات میں شریک ہوا اور جو لشکر آپ ﷺ بھیجتے ان میں میں نو مرتبہ نکلا ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت ابوبکر (رض) تھے اور ایک مرتبہ ہمارے سپہ سالار حضرت اسامہ بن زید (رض) تھے۔

It has been narrated on the authority of Salama who said: I joined seven military expeditions led by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and nine expeditions which he sent out once under Abu Bakr (RA) and once under Usama bin Zaid.

4698Sahih Muslimصحیح

نبی ﷺ کے غزوات کی تعداد کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي کِلْتَيْهِمَا سَبْعَ غَزَوَاتٍ

قتیبہ بن سعید، حاتم، اس سند کے ساتھ بھی یہ حدیث اسی طرح نقل کی گئی ہے سوائے اس کے کہ ان دونوں حدیثوں میں بھی غزوات کا ذکر ہے۔

The (foregoing) tradition has also been narrated on the authority of Hatim through the same chain of transmitters with the difference that according to this version both these types of expeditions were seven in number.

4699Sahih Muslimصحیح

غزوئہ ذات الرقاع کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَرَّادٍ الْأَشْعَرِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ الْهَمْدَانِيُّ وَاللَّفْظُ لِأَبِي عَامِرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مُوسَی قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ قَالَ فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا فَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي فَکُنَّا نَلُفُّ عَلَی أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا کُنَّا نُعَصِّبُ عَلَی أَرْجُلِنَا مِنْ الْخِرَقِ قَالَ أَبُو بُرْدَةَ فَحَدَّثَ أَبُو مُوسَی بِهَذَا الْحَدِيثِ ثُمَّ کَرِهَ ذَلِکَ قَالَ کَأَنَّهُ کَرِهَ أَنْ يَکُونَ شَيْئًا مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَزَادَنِي غَيْرُ بُرَيْدٍ وَاللَّهُ يُجْزِي بِهِ

ابوعامر، عبداللہ بن براد اشعری، محمد بن علاء ہمدانی، ابی عامر، ابواسامہ، برید، ابوبردہ، حضرت ابوموسی (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک غزوہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نکلے اور ہم چھ چھ آدمیوں کے حصہ میں ایک اونٹ تھا جس پر ہم باری باری سوار ہوتے تھے جس سے ہمارے پاؤں زخمی ہوگئے میرے پاؤں زخمی ہوگئے اور میرے (پاؤں کے) ناخن گرگئے اور ہم اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپٹتے تھے جس کی وجہ سے اس غزوہ کا نام ذات الرقاع (چیتھڑوں والا) رکھ دیا گیا ابوبردہ نے کہا ابوموسی نے یہ حدیث بیان کی پھر اس کی روایت کو اس طرح ناپسند کیا گویا کہ وہ اپنے عمل میں سے کسی عمل کو ظاہر کرنے کو ناپسند کرتے ہوں۔ ابواسامہ نے کہا برید کے علاوہ باقی راویوں نے یہ اضافہ بھی کیا ہے کہ اللہ اس محنت کا اجر وثواب عطا کرے گا۔

It has been narrated on the authority of Abu Musa (Ashari) who said: We set out on an expedition with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We were six in number and had (with us) only one camel which we rode turn by turn. Our feet were injured. My feet were so badly injured that my nails dropped off. We covered our feet with rags, so this expedition was called Dhat-ur-Riqa (i. e. the expedition of rags) because we bandaged our feet with rags (on that day). Abu Burda said: Abu Musa narrated this tradition, and then disliked repeating it as he did not want to give any publicity to what he did in a noble cause Abu Usama said: Narrators other than Abu Buraida have added to the version of the words: "God will reward it."

4700Sahih Muslimصحیح

جنگ میں کافر سے مدد طلب کرنے کی کراہت کے بیان میں

حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مَالِکٍ ح و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ الْفُضَيْلِ بْنِ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ الْأَسْلَمِيِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِبَلَ بَدْرٍ فَلَمَّا کَانَ بِحَرَّةِ الْوَبَرَةِ أَدْرَکَهُ رَجُلٌ قَدْ کَانَ يُذْکَرُ مِنْهُ جُرْأَةٌ وَنَجْدَةٌ فَفَرِحَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ رَأَوْهُ فَلَمَّا أَدْرَکَهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جِئْتُ لِأَتَّبِعَکَ وَأُصِيبَ مَعَکَ قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ لَا قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ قَالَتْ ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کُنَّا بِالشَّجَرَةِ أَدْرَکَهُ الرَّجُلُ فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ قَالَ فَارْجِعْ فَلَنْ أَسْتَعِينَ بِمُشْرِکٍ قَالَ ثُمَّ رَجَعَ فَأَدْرَکَهُ بِالْبَيْدَائِ فَقَالَ لَهُ کَمَا قَالَ أَوَّلَ مَرَّةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ قَالَ نَعَمْ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَانْطَلِقْ

زہیر بن حرب، عبدالرحمن بن مہدی، مالک، ابوطاہر، سیدہ عائشہ صدیقہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ بدر کی طرف نکلے جب آپ ﷺ حرہ الوبرہ (مدینہ سے چار میل کے فاصلہ پر) پہنچے تو آپ ﷺ کو ایک آدمی ملا جس کی اجرت وبہادری کا تذکرہ کیا جاتا تھا رسول اللہ ﷺ کے صحابہ رضی للہ عنہم نے اسے دیکھا تو خوش ہوئے جب وہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا میں آپ ﷺ کے پاس اس لئے آیا ہوں تاکہ آپ ﷺ کے ساتھ دشمن سے لڑوں اور آپ ﷺ کے ساتھ مال غنیمت میں مجھے بھی کچھ حصہ دیا جائے رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر ایمان رکھتا ہے اس نے کہا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا لوٹ جا میں مشرک سے ہرگز مدد نہیں مانگوں گا سیدہ (رض) فرماتی ہیں آپ ﷺ آگے چلے یہاں تک کہ ہم مقام شجرہ پہنچے تو وہی شخص پھر حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے وہی بات کہی جو اس نے پہلی مرتبہ کہی تھی اور نبی ﷺ نے بھی اسے وہی فرمایا جو پہلی مرتبہ فرمایا تھا آپ ﷺ نے فرمایا لوٹ جا میں ہرگز کسی مشرک سے مدد طلب نہیں کروں گا وہ پھر لوٹ گیا اور پھر مقام بیداء پر آپ ﷺ سے ملا آپ ﷺ نے وہی بات کہی جو پہلی مرتبہ کہہ چکا تھا آپ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے اس نے عرض کیا جی ہاں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چلو۔

It has been narrated on the authority of Aisha, wife of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set out for Badr. When he reached Harrat-ul-Wabara (a place four miles from Madinah) a man met him who was known for his valour and courage. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were pleased to see him. He said: I have come so that I may follow you and get a share from the booty. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Do you believe in Allah and His Apostle? He said: No. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Go back, I will not seek help from a Mushrik (polytheist). He went on until we reached Shajara, where the man met him again. He asked him the same question again and the man gave him the same answer. He said: Go back. I will not seek help from a Mushrik. The man returned and overtook him at Baida? He asked him as he had asked previously: Do you believe in Allah and His Apostle? The man said: Yes. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Then come along with us.

4701Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَا حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِيَانِ الْحِزَامِيَّ ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِي حَدِيثِ زُهَيْرٍ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ عَمْرٌو رِوَايَةً النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ لِمُسْلِمِهِمْ وَکَافِرُهُمْ لِکَافِرِهِمْ

عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، قتیبہ بن سعید، مغیر ہ، حزامی، زہیر بن حرب، عمرو، سفیان بن عیینہ، ابی زناد، اعرج، ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ اس معاملہ یعنی خلافت یا حکومت میں قریش کے تابع ہیں مسلمان قریشی مسلمانوں کے اور کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔

It has been narrarted on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: People are subservient to the Quraish: the Muslims among them being subservient to the Muslims among them, and the disbelievers among the people being subservient to the disbelievers among them.

4702Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي هَذَا الشَّأْنِ مُسْلِمُهُمْ تَبَعٌ لِمُسْلِمِهِمْ وَکَافِرُهُمْ تَبَعٌ لِکَافِرِهِمْ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، ابوہریرہ (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے کئی احادیث ذکر کیں ان میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگ اس معاملہ میں یعنی خلافت و حکومت میں قریش کے تابع ہیں مسلمان قریشی مسلمانوں کے تابع ہیں اور کافر قریشی کافروں کے تابع ہیں۔

It has been narrated on the authority of Hammam bin Munabbih who said: This is one of the traditions narrated by Abu Hurairah (RA) from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) who said: People are subservient to the Quraish: the Muslims among them being subservient to the Muslims among them, and the disbelievers among them being subservient to the disbelievers among them.

4703Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ حَدَّثَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسُ تَبَعٌ لِقُرَيْشٍ فِي الْخَيْرِ وَالشَّرِّ

یحییٰ بن حبیب حارثی، روح، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر (رض) بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا لوگ بھلائی اور برائی میں قریش کی پیروی کرنے والے ہیں۔

It has been narrated on the authority of Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: People are the followers of Quraish in good as well as evil (i. e. in the customs of Islamic as well as pre-Islamic times).

4704Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَزَالُ هَذَا الْأَمْرُ فِي قُرَيْشٍ مَا بَقِيَ مِنْ النَّاسِ اثْنَانِ

احمد بن عبداللہ بن یونس، عاصم بن محمد بن زید، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ معاملہ یعنی خلافت وسرداری ہمیشہ قریش میں ہی رہے گی اگرچہ لوگوں میں دو افراد ہی باقی ہوں

It has been narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The Caliphate will remain among the Quraish even if only two persons are left (on the earth),

4705Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ح و حَدَّثَنَا رِفَاعَةُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْوَاسِطِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا خَالِدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ اللَّهِ الطَّحَّانَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ إِنَّ هَذَا الْأَمْرَ لَا يَنْقَضِي حَتَّی يَمْضِيَ فِيهِمْ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً قَالَ ثُمَّ تَکَلَّمَ بِکَلَامٍ خَفِيَ عَلَيَّ قَالَ فَقُلْتُ لِأَبِي مَا قَالَ قَالَ کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

قتیبہ بن سعید، جریر، حصین، جابر بن سمرہ، حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنے والد کے ساتھ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا یہ امر یعنی خلافت اس وقت تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ ان میں بارہ خلفاء گزر جائیں پھر آپ نے آہستہ آواز سے گفتگو کی جو مجھ پر پوشیدہ رہی تو میں نے اپنے باپ سے پوچھا کہ آپ ﷺ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے فرمایا وہ سب (خلفاء) قریش سے ہوں گے۔

It has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth who said: I joined the company of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) with my father and I heard him say: This Caliphate will not end until there have been twelve Caliphs among them. The narrator said: Then he (the Holy Prophet) said something that I could not follow. I said to my father: What did he say? He said: He has said: All of them will be from the Quraish.

4706Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عُمَيْرٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا مَا وَلِيَهُمْ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا ثُمَّ تَکَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِکَلِمَةٍ خَفِيَتْ عَلَيَّ فَسَأَلْتُ أَبِي مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ کُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ

ابن ابی عمر، سفیان، عبدالملک بن عمیر، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے لوگوں کا معاملہ یعنی خلافت اس وقت تک باقی رہے گی جب تک ان میں بارہ خلفاء ان کے حاکم رہیں گے پھر نبی ﷺ نے کوئی ایسی بات فرمائی جو مجھ پر مخفی و پوشیدہ رہی تو میں نے اپنے والد سے پوچھا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا فرمایا تو انہوں نے کہا کہ یہ سب خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔

It has been reported on the authority of Jabir bin ahadeeth who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: The affairs of the people will continue to be conducted (well) as long as they are governed by twelve men. Then the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said words which were obscure to me. I asked my father: What did the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say? He said: All of the (twelve men) will be from the Quraish.

4707Sahih Muslimصحیح

لوگ قریش کے تابع ہیں اور خلافت قریش میں ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَمْ يَذْکُرْ لَا يَزَالُ أَمْرُ النَّاسِ مَاضِيًا

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سماک، حضرت جابر (رض) نبی ﷺ سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں لیکن اس میں یہ نہیں کہ لوگوں کا معاملہ خلافت ہمیشہ جاری رہے گا۔

This hadith has been narrated on the authority of Jabir bin ahadeeth through another chain of transmitters.