حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ عَبَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَاتِمٌ وَهُوَ ابْنُ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ مَوْلَی سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَکْوَعِ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی خَيْبَرَ فَتَسَيَّرْنَا لَيْلًا فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ لِعَامِرِ بْنِ الْأَکْوَعِ أَلَا تُسْمِعُنَا مِنْ هُنَيْهَاتِکَ وَکَانَ عَامِرٌ رَجُلًا شَاعِرًا فَنَزَلَ يَحْدُو بِالْقَوْمِ يَقُولُ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَاغْفِرْ فِدَائً لَکَ مَا اقْتَفَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَلْقِيَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّا إِذَا صِيحَ بِنَا أَتَيْنَا وَبِالصِّيَاحِ عَوَّلُوا عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا السَّائِقُ قَالُوا عَامِرٌ قَالَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ وَجَبَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْلَا أَمْتَعْتَنَا بِهِ قَالَ فَأَتَيْنَا خَيْبَرَ فَحَاصَرْنَاهُمْ حَتَّی أَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ شَدِيدَةٌ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ فَتَحَهَا عَلَيْکُمْ قَالَ فَلَمَّا أَمْسَی النَّاسُ مَسَائَ الْيَوْمِ الَّذِي فُتِحَتْ عَلَيْهِمْ أَوْقَدُوا نِيرَانًا کَثِيرَةً فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذِهِ النِّيرَانُ عَلَی أَيِّ شَيْئٍ تُوقِدُونَ فَقَالُوا عَلَی لَحْمٍ قَالَ أَيُّ لَحْمٍ قَالُوا لَحْمُ حُمُرِ الْإِنْسِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْرِيقُوهَا وَاکْسِرُوهَا فَقَالَ رَجُلٌ أَوْ يُهْرِيقُوهَا وَيَغْسِلُوهَا فَقَالَ أَوْ ذَاکَ قَالَ فَلَمَّا تَصَافَّ الْقَوْمُ کَانَ سَيْفُ عَامِرٍ فِيهِ قِصَرٌ فَتَنَاوَلَ بِهِ سَاقَ يَهُودِيٍّ لِيَضْرِبَهُ وَيَرْجِعُ ذُبَابُ سَيْفِهِ فَأَصَابَ رُکْبَةَ عَامِرٍ فَمَاتَ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا قَفَلُوا قَالَ سَلَمَةُ وَهُوَ آخِذٌ بِيَدِي قَالَ فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاکِتًا قَالَ مَا لَکَ قُلْتُ لَهُ فَدَاکَ أَبِي وَأُمِّي زَعَمُوا أَنَّ عَامِرًا حَبِطَ عَمَلُهُ قَالَ مَنْ قَالَهُ قُلْتُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ وَأُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ الْأَنْصَارِيُّ فَقَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَهُ إِنَّ لَهُ لَأَجْرَيْنِ وَجَمَعَ بَيْنَ إِصْبَعَيْهِ إِنَّهُ لَجَاهِدٌ مُجَاهِدٌ قَلَّ عَرَبِيٌّ مَشَی بِهَا مِثْلَهُ وَخَالَفَ قُتَيْبَةُ مُحَمَّدًا فِي الْحَدِيثِ فِي حَرْفَيْنِ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ عَبَّادٍ وَأَلْقِ سَکِينَةً عَلَيْنَا
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید مولیٰ حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ خیبر کی طرف نکلے اور رات کے وقت سفر کیا قوم میں سے ایک آدمی نے عامر بن اکوع (رض) سے کہا آپ ﷺ ہمیں اپنے اشعار میں سے کچھ شعر نہ سنائیں گے اور عامر (رض) شاعر تھے عامر قوم کے ساتھ اترے اور یہ شعر کہے۔ اے اللہ اگر تو ہماری مدد نہ کرتا تو ہمیں ہدایت نہ ملتی نہ ہم زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے پس تو ہمیں معاف کر دے یہی ہماری طلب ہے اور ہم تجھ پر فدا ہوں اور ہمارے قدموں کو مضبوط کر دے اگر ہم دشمنوں سے مقابلہ کریں اور ہم پر تسلی نازل فرما جب ہم کو آواز دی جاتی ہے تو ہم پہنچ جاتے ہیں اور آواز دینے کے ساتھ ہی لوگ ہم پر بھروسہ کرلیتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ہنکانے والا کون ہے صحابہ نے عرض کیا عامر ہے آپ ﷺ نے فرمایا اللہ اس پر رحم فرمائے قوم میں سے ایک آدمی نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اس پر رحمت واجب ہوگئی کاش آپ ﷺ ہمیں بھی اس سے مستفید کرتے ہم خبیر میں پہنچے اور ان کا محاصرہ کرلیا یہاں تک کہ ہمیں سخت بھوک لگی پھر آپ ﷺ نے فرمایا بیشک اللہ نے خبیر تمہارے لئے فتح کردیا ہے جب لوگوں نے شام کی اس دن جس دن خبیر ان کے لئے فتح کیا گیا تو لوگوں نے بہت زیادہ آگ جلائی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ آگ کیسی ہے اور کس چیز پر تم جلا رہے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا گوشت، آپ ﷺ نے فرمایا کونسا گوشت صحابہ نے عرض کیا گھریلو گدھے کا گوشت۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسے انڈیل دو اور ہانڈیوں کو توڑ ڈالو ایک صحابی نے عرض کیا کیا ہم اسے انڈیل دیں اور ہانڈیوں کو دھولیں آپ ﷺ نے فرمایا ایسا کرلو جب لوگوں نے صف بندی کی تو عامر کی تلوار چھوٹی تھی انہوں نے یہودی کی پنڈلی پر وہ تلوار ماری لیکن تلوار کی دھار واپس آ کر عامر کے زانوں پر لگی پس وہ اس سے فوت ہوگئے پس جب صحابہ واپس لوٹے تو حضرت سلمہ (رض) نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے خاموش دیکھا تو فرمایا تجھے کیا ہے ؟ میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، لوگوں نے گمان کیا ہے کہ عامر کے تمام اعمال برباد ہوگئے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کس نے یہ بات کہی ہے ؟ میں نے عرض کیا فلاں فلاں اور اسید بن حضیر انصاری نے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے یہ بات کہی جھوٹ کہا ہے اس کے لئے دوہرا اجر ہے اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں کو جمع کیا اور فرمایا کہ اس نے اس طرح جہاد کیا جس کی مثال عرب میں بہت کم ہے جو اس راستہ میں اسی طرح چلا ہو۔
It has been narrated on the authority of Salama bin al-Akwa who said: We marched upon Khaibar with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . We journeyed during the night. One of the people said to (my brother) Amir bin al-Akwa: Wont you recite to us some of your verses? Amir was a poet. So he began to chant his verses to urge the camels, reciting:
O God, if Thou hadst not guided us
We would have neither been guided rightly nor practised charity,
Nor offered prayers.
We wish to lay down our lives for Thee; so forgive Thou our lapses,
And keep us steadfast when we encounter (our enemies).
Bestow upon us peace and tranquillity.
Behold, when with a cry they called upon us to help.
The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who is this driver (of the camels)? They said: It is Amir. He said: God will show mercy to him. A man said: Martyrdom is reserved for him. Messenger of Allah, would that you had allowed us to benefit ourselves from his life. (The narrator says): We reached Khaibar and besieged them, and (we continued the siege) until extreme hunger afflicted us. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Behold, God has conquered it for you. When it was evening of the day on which the city was conquered. the Muslims lit many fires. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What are these fires? And what are they cooking? They said: They are cooking meat. He asked. Which meat? They said: That of domestic asses. He said: Let them throw it away and break the pots (in which it is being cooked). A man said: Or should they throw it away and wash the pots? He said: They may do that. When the people drew themselves up in battle array Amir caught hold of his sword that was rather short He drove a Jew before him to strike him with it. (As he struck him), his sword recoiled and struck his own knee, and Amir died of the wound. When the people returned (after the conquest of Kliaibar) and he (Salama) had caught hold of my hand, and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw that I was silent (and dejected); he said: Whats the matter with thee? I said to him: My father and my mother be thy ransom, people presume that Amirs sacrifice has been in vain. He asked: Who has said that? I said: So and so and Usaid bin Hudair al-Ansari. He said: Who has said that has lied. For him (for Amir) there is a double reward. (He indicated this by putting two of his fingers together.) He was a devotee of God and a warrior fighting for His cause. There will be hardly any Arab who can fight as bravely as he did. Qutaiba has differed in a few words.
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَنَسَبَهُ غَيْرُ ابْنِ وَهْبٍ فَقَالَ ابْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ خَيْبَرَ قَاتَلَ أَخِي قِتَالًا شَدِيدًا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَارْتَدَّ عَلَيْهِ سَيْفُهُ فَقَتَلَهُ فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِکَ وَشَکُّوا فِيهِ رَجُلٌ مَاتَ فِي سِلَاحِهِ وَشَکُّوا فِي بَعْضِ أَمْرِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَقَفَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ائْذَنْ لِي أَنْ أَرْجُزَ لَکَ فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَعْلَمُ مَا تَقُولُ قَالَ فَقُلْتُ وَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقْتَ وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَالْمُشْرِکُونَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا قَالَ فَلَمَّا قَضَيْتُ رَجَزِي قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ هَذَا قُلْتُ قَالَهُ أَخِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْحَمُهُ اللَّهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ نَاسًا لَيَهَابُونَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ يَقُولُونَ رَجُلٌ مَاتَ بِسِلَاحِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ جَاهِدًا مُجَاهِدًا قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ثُمَّ سَأَلْتُ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عبدالرحمن، ابن وہب، ابن عبداللہ بن کعب بن مالک، سلمہ بن اکوع، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ خبیر کے دن میرے بھائی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ سخت جنگ کی پس اس کی اپنی تلوار لوٹ کر اس کو لگی جس سے وہ شہید ہوگئے تو اصحاب رسول اللہ ﷺ نے اس کے بارے میں گفتگو کی اور ایسے آدمی کی شہادت میں شک کیا جو اپنے اسلحہ سے وفات پا جائے اور اسی طرح اس کے بعض حالات میں شک کیا سلمہ نے کہا جب رسول اللہ ﷺ خبیر سے لوٹے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ ﷺ کو کچھ رجزیہ اشعار سناؤں تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اجازت دے دی حضرت عمر (رض) بن خطاب نے کہا جو کچھ کہو سوچ سمجھ کر کہو تو میں نے یہ شعر کہا اللہ کی قسم اگر اللہ ہمیں ہدایت عطا نہ فرماتا تو ہم نہ زکوٰۃ ادا کرتے اور نہ نماز پڑھتے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا اور ہم پر رحمت نازل فرما اور اگر ہم مقابلہ کریں تو ہمیں ثابت قدم رکھو اور مشرکین نے تحقیق ہم پر زیادتی کی ہوئی ہے جب میں اپنے اشعار پورے کرچکا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان اشعار کا کہنے والا کون ہے ؟ میں نے عرض کیا انہیں میرے بھائی نے کہا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ بعض لوگ اس کی نماز جنارہ ادا کرنے میں ہچکچاتے رہے تھے اور کہتے تھے کہ یہ ایسا شخص ہے جو اپنے اسلحہ سے شہید ہوا ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا وہ اللہ کی اطاعت اور جہاد میں کوشش کرتے ہوئے شہید ہوا ہے ابن شہاب نے کہا پھر میں نے سلمہ بن اکوع کے بیٹے سے پوچھا تو انہوں نے یہ حدیث اپنے باپ سے مجھے بیان کی اور اس میں یہ کہا جب میں نے عرض کیا کہ بعض لوگ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے میں ہچکچا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انہوں نے جھوٹ کہا ہے بلکہ وہ جہاد کرتے ہوئے مجاہد شہید ہوا ہے اور اس کے لئے دوہرا اجر وثواب ہوگا اور آپ ﷺ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ فرمایا۔
It has been reported on the authority of Salama bin Akwa who said: On the day of the Battle of Khaibar my brother fought a fierce fight by the side of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . His sword rebounded and killed him. The Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) talked about his death and doubted (whether it was martyrdom). (They said): (He is) a man killed by his own weapon, and expressed doubt about his affair. Salama said: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) returned from Khaibar, I said: Messenger of Allah, permit me that I may recite to you some rajaz verses. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) permitted him. Umar bin Khattab said: I know what you will recite. I recited:
By God, if God had guided us not,
We would have neither been guided aright nor practised charity,
Nor offered prayers.
The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What you have said is true, I (continued):
And descend on us peace and tranquillity
And keep us steadfast if we encounter (with our enemies)
And the polytheists have rebelled against us.
When I finished my rajaz, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who composed these verses? I said: They were composed by my brother. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: May God show mercy to him! I said: By God, some people are reluctant to invoke Gods mercy on him (because) they say he is a man who died by his own sword. (Hearing this) the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He died as Gods devotee and warrior. Ibn Shihab has said: I asked one of the sons of Salama bin Akwa about (the death of Amir). He related to me a similar tradition except that he said: When I said some people were reluctant invoke Gods blessings on him, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: They lied. (Amir) died as Gods devotee and warrior (in the cause of Allah). For him there is a double reward, and he pointed out this by putting his two fingers together.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْأَحْزَابِ يَنْقُلُ مَعَنَا التُّرَابَ وَلَقَدْ وَارَی التُّرَابُ بَيَاضَ بَطْنِهِ وَهُوَ يَقُولُ وَاللَّهِ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا إِنَّ الْأُلَی قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا قَالَ وَرُبَّمَا قَالَ إِنَّ الْمَلَا قَدْ أَبَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا وَيَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابواسحاق، حضرت براء فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احزاب کے دن ہمارے ساتھ مٹی اٹھا رہے تھے اور مٹی کی وجہ سے آپ ﷺ کی پیٹ کی سفیدی اٹی ہوئی تھی اور آپ ﷺ فرما رہے تھے۔
It has been reported on the authority of Barra who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was carrying the earth with us on the Day of Ahzab and the whiteness of his belly had been covered with earth. (While engaged in this toil) he was reciting:
By God, if Thou hadst not guided us
We would have neither been guided aright nor practised charity,
Nor offered prayers.
Descend on us peace and tranquillity.
Behold I these people (the Makkahns) refused to follow us.
According to another version, he recited:
The chieftains (of the tribes) refused to follow us
When they contemplated mischief, we rejected it.
And with this (verse) he would raise his voice.
Book 019, Number 4443:
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said: I heard from Bara a similar tradition except that he said: "These people (the Makkahns) rebelled against us."
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ الْبَرَائَ فَذَکَرَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ إِنَّ الْأُلَی قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا
محمد بن مثنی، عبدالرحمن بن مہدی، شعبہ، ابواسحاق، اس سند کے ساتھ حضرت براء (رض) سے بھی اسی طرح روایت ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Ishaq who said: I heard from Bara a similar tradition except that he said: "These people (the Makkahns) rebelled against us."
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ جَائَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نَحْفِرُ الْخَنْدَقَ وَنَنْقُلُ التُّرَابَ عَلَی أَکْتَافِنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی، عبدالعزیز بن ابی حازم، حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور حال یہ کہ ہم خندق کھود رہے تھے اور کندھوں پر مٹی اٹھا رہے تھے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو مہاجرین اور انصار کی مغفرت فرما۔
It has been reported on the authority of Sahl bin Sad who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came to us while we were digging the ditch and were carrying the earth on our shoulders. (Seeing our condition), he said:
O God, there is no life but the life of the Hereafter.
So forgive Thou the Muhajirs and the Ansar.
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، معاویہ، ابن قرہ، حضرت انس (رض) بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said:
O God, there is no life, but the life of the Hereafter,
So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْعَيْشَ عَيْشُ الْآخِرَةِ قَالَ شُعْبَةُ أَوْ قَالَ اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشُ الْآخِرَهْ فَأَکْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا اے اللہ زندگی تو صرف آخرت کی زندگی ہے پس تو انصار اور مہاجرین پر کرم فرما
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said:
O God, there is no life, but the life of the Hereafter,
So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَشَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ شَيْبَانُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ کَانُوا يَرْتَجِزُونَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ وَهُمْ يَقُولُونَ اللَّهُمَّ لَا خَيْرَ إِلَّا خَيْرُ الْآخِرَهْ فَانْصُرْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ وَفِي حَدِيثِ شَيْبَانَ بَدَلَ فَانْصُرْ فَاغْفِرْ
یحییٰ بن یحیی، شیبان بن فروخ، یحیی، شیبان، عبدالوارث، ابوتیاح، حضرت انس بن مالک (رض) فرماتے ہیں کہ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے ساتھ رجزیہ اشعار کہتے تھے اور فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مدد فرما اور شیبان کی حدیث میں فانصر کی جگہ فاغفر ہے۔
According to still another version of the tradition narrated by the same authority, and handed down through a different chain of transmitters, it has been reported that they (the Companions of the Holy Prophet) were reciting rajaz verses and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was (reciting) with them. And they were chanting:
O God, there is no good but the good of the Hereafter.
So help Thou the Ansar and the Muhajirs.
Shaiban substituted "So forgive Thou"for "So help Thou".
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانُوا يَقُولُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ نَحْنُ الَّذِينَ بَايَعُوا مُحَمَّدًا عَلَی الْإِسْلَامِ مَا بَقِينَا أَبَدًا أَوْ قَالَ عَلَی الْجِهَادِ شَکَّ حَمَّادٌ وَالنَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اللَّهُمَّ إِنَّ الْخَيْرَ خَيْرُ الْآخِرَهْ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالمُهَاجِرَهْ
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، ثابت، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ محمد ﷺ کے صحابہ (رض) خندق کے دن کہہ رہے تھے جب تک ہماری زندگی باقی ہے ہم نے محمد ﷺ سے اسلام پر بیعت کی ہے اور نبی ﷺ فرماتے تھے اے اللہ بھلائی تو صرف آخرت کی بھلائی ہے پس تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما
It has been narrated (through a still difterent chain of transmitters) by Anas that the Companions of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were chanting on the day of the Battle of the Ditch:
We are those who have sworn allegiance to Muhammad
(And made a covenant with him) to follow Islam as long as we live.
Hammad is not sure whether Anas said:" Alal-Islam" or," Alal-Jihad". And the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) was chanting:
O God, the real good is the good of the Hereafter,
So forgive Thou the Ansar and the Muhajirs.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَعِيلَ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ سَلَمَةَ بْنَ الْأَکْوَعِ يَقُولُا خَرَجْتُ قَبْلَ أَنْ يُؤَذَّنَ بِالْأُولَی وَکَانَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرْعَی بِذِي قَرَدٍ قَالَ فَلَقِيَنِي غُلَامٌ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ فَقَالَ أُخِذَتْ لِقَاحُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ مَنْ أَخَذَهَا قَالَ غَطَفَانُ قَالَ فَصَرَخْتُ ثَلَاثَ صَرَخَاتٍ يَا صَبَاحَاهْ قَالَ فَأَسْمَعْتُ مَا بَيْنَ لَابَتَيِ الْمَدِينَةِ ثُمَّ انْدَفَعْتُ عَلَی وَجْهِي حَتَّی أَدْرَکْتُهُمْ بِذِي قَرَدٍ وَقَدْ أَخَذُوا يَسْقُونَ مِنْ الْمَائِ فَجَعَلْتُ أَرْمِيهِمْ بِنَبْلِي وَکُنْتُ رَامِيًا وَأَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَرْتَجِزُ حَتَّی اسْتَنْقَذْتُ اللِّقَاحَ مِنْهُمْ وَاسْتَلَبْتُ مِنْهُمْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً قَالَ وَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ فَقُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنِّي قَدْ حَمَيْتُ الْقَوْمَ الْمَائَ وَهُمْ عِطَاشٌ فَابْعَثْ إِلَيْهِمْ السَّاعَةَ فَقَالَ يَا ابْنَ الْأَکْوَعِ مَلَکْتَ فَأَسْجِحْ قَالَ ثُمَّ رَجَعْنَا وَيُرْدِفُنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی نَاقَتِهِ حَتَّی دَخَلْنَا الْمَدِينَةَ
قتیبہ بن سعید، حاتم بن اسماعیل، یزید بن ابی عبید، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں پہلی اذان سے قبل باہر نکلا کہ ذی قرد میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیاں چر رہیں تھیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ مجھے عبدالرحمن بن عوف کا غلام ملا اور اس نے کہا رسول اللہ ﷺ کی اونٹنیوں کو پکڑ لیا گیا ہے تو میں نے اس غلام سے پوچھا کس نے پکڑی ہیں غلام نے کہا غطفان نے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں نے چیخ چیخ کر تین مرتبہ یاصباحاہ کہا مدینہ کے دونوں کناروں تک میری آواز سنی گئی پھر میں سامنے کی طرف چلا یہاں تک کہ میں نے ذی قرد میں غطفان کے لوگوں کو پکڑ لیا وہ لوگ اونٹنیوں کو پانی پلا رہے تھے میں نے اپنے تیروں سے انہیں مارنا شروع کردیا اور میں تیر مارتے ہوئے کہہ رہا تھا۔ میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن تو کمی لوگوں کی ہلاکت کا دن ہے۔ تو میں یہ رجز پڑھتا رہا یہاں تک کہ میں نے ان سے اونٹنیوں کو چھڑا لیا اور ان سے تین چادریں بھی لے لیں راوی کہتے ہیں نبی ﷺ اور صحابہ تشریف لے آئے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ میں نے اس قوم کے لوگوں کو پانی سے روک رکھا ہے حالانکہ یہ لوگ پیاسے ہیں آپ ﷺ ان کی طرف ابھی لوگ بھیجیں آپ ﷺ نے فرمایا اے ابن اکوع تم نے اپنی چیزیں تو لے لیں ہیں اب انہیں چھوڑ دو راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم واپس لوٹے اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنی اونٹنی پر اپنے پیچھے سوار کیا یہاں تک کہ ہم مدینہ میں داخل ہوگئے۔
It has been narrated on the authority of Yazid bin Abu Ubaid who said that he heard Salama bin al-Akwa say: I went out before the Adhan for the morning prayer had been delivered. The milch she-camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) were grazing at Dhu Qarad. Abdul Rahman bin Aufs slave met me and said: The milch she-camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had been taken away. I said: Who has taken them away? He said: (the people belonging to the tribe of) Ghatafan. I cried thrice: Help! I made the whole city between the two lavas hear my cry. Then I ran straight in their pursuit until I overtook them at Dhu Qarad where they were just going to water their animals. I, being an archer, began to shoot them with my arrows and was saying: I am the son of al-Akwa. And today is the day when the cowards will meet their doom. I continued to chant until I rescued the milch she-camels from them, and snatched from them thirty mantles. Now, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and some other people came along. I said: Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah, I have prevented them from water while they were thirsty. So you should send a force (to punish them). He (the Holy Prophet) said: Ibn al-Akwa, you have taken (what, you have taken). Now let them go. Then we returned and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made me mount behind him on his she-camel until we entered Madinah.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ کِلَاهُمَا عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ وَهَذَا حَدِيثُهُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ وَهُوَ ابْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ قَدِمْنَا الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ مِائَةً وَعَلَيْهَا خَمْسُونَ شَاةً لَا تُرْوِيهَا قَالَ فَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی جَبَا الرَّکِيَّةِ فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ فِيهَا قَالَ فَجَاشَتْ فَسَقَيْنَا وَاسْتَقَيْنَا قَالَ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَانَا لِلْبَيْعَةِ فِي أَصْلِ الشَّجَرَةِ قَالَ فَبَايَعْتُهُ أَوَّلَ النَّاسِ ثُمَّ بَايَعَ وَبَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي وَسَطٍ مِنْ النَّاسِ قَالَ بَايِعْ يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ وَرَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَزِلًا يَعْنِي لَيْسَ مَعَهُ سِلَاحٌ قَالَ فَأَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَفَةً أَوْ دَرَقَةً ثُمَّ بَايَعَ حَتَّی إِذَا کَانَ فِي آخِرِ النَّاسِ قَالَ أَلَا تُبَايِعُنِي يَا سَلَمَةُ قَالَ قُلْتُ قَدْ بَايَعْتُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي أَوَّلِ النَّاسِ وَفِي أَوْسَطِ النَّاسِ قَالَ وَأَيْضًا قَالَ فَبَايَعْتُهُ الثَّالِثَةَ ثُمَّ قَالَ لِي يَا سَلَمَةُ أَيْنَ حَجَفَتُکَ أَوْ دَرَقَتُکَ الَّتِي أَعْطَيْتُکَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقِيَنِي عَمِّي عَامِرٌ عَزِلًا فَأَعْطَيْتُهُ إِيَّاهَا قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنَّکَ کَالَّذِي قَالَ الْأَوَّلُ اللَّهُمَّ أَبْغِنِي حَبِيبًا هُوَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي ثُمَّ إِنَّ الْمُشْرِکِينَ رَاسَلُونَا الصُّلْحَ حَتَّی مَشَی بَعْضُنَا فِي بَعْضٍ وَاصْطَلَحْنَا قَالَ وَکُنْتُ تَبِيعًا لِطَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ أَسْقِي فَرَسَهُ وَأَحُسُّهُ وَأَخْدِمُهُ وَآکُلُ مِنْ طَعَامِهِ وَتَرَکْتُ أَهْلِي وَمَالِي مُهَاجِرًا إِلَی اللَّهِ وَرَسُولِهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَلَمَّا اصْطَلَحْنَا نَحْنُ وَأَهْلُ مَکَّةَ وَاخْتَلَطَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَکَسَحْتُ شَوْکَهَا فَاضْطَجَعْتُ فِي أَصْلِهَا قَالَ فَأَتَانِي أَرْبَعَةٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ فَجَعَلُوا يَقَعُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبْغَضْتُهُمْ فَتَحَوَّلْتُ إِلَی شَجَرَةٍ أُخْرَی وَعَلَّقُوا سِلَاحَهُمْ وَاضْطَجَعُوا فَبَيْنَمَا هُمْ کَذَلِکَ إِذْ نَادَی مُنَادٍ مِنْ أَسْفَلِ الْوَادِي يَا لِلْمُهَاجِرِينَ قُتِلَ ابْنُ زُنَيْمٍ قَالَ فَاخْتَرَطْتُ سَيْفِي ثُمَّ شَدَدْتُ عَلَی أُولَئِکَ الْأَرْبَعَةِ وَهُمْ رُقُودٌ فَأَخَذْتُ سِلَاحَهُمْ فَجَعَلْتُهُ ضِغْثًا فِي يَدِي قَالَ ثُمَّ قُلْتُ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ لَا يَرْفَعُ أَحَدٌ مِنْکُمْ رَأْسَهُ إِلَّا ضَرَبْتُ الَّذِي فِيهِ عَيْنَاهُ قَالَ ثُمَّ جِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَجَائَ عَمِّي عَامِرٌ بِرَجُلٍ مِنْ الْعَبَلَاتِ يُقَالُ لَهُ مِکْرَزٌ يَقُودُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی فَرَسٍ مُجَفَّفٍ فِي سَبْعِينَ مِنْ الْمُشْرِکِينَ فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ دَعُوهُمْ يَکُنْ لَهُمْ بَدْئُ الْفُجُورِ وَثِنَاهُ فَعَفَا عَنْهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْزَلَ اللَّهُ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ الْآيَةَ کُلَّهَا قَالَ ثُمَّ خَرَجْنَا رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَنَزَلْنَا مَنْزِلًا بَيْنَنَا وَبَيْنَ بَنِي لَحْيَانَ جَبَلٌ وَهُمْ الْمُشْرِکُونَ فَاسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَنْ رَقِيَ هَذَا الْجَبَلَ اللَّيْلَةَ کَأَنَّهُ طَلِيعَةٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ قَالَ سَلَمَةُ فَرَقِيتُ تِلْکَ اللَّيْلَةَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا ثُمَّ قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِهِ مَعَ رَبَاحٍ غُلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ وَخَرَجْتُ مَعَهُ بِفَرَسِ طَلْحَةَ أُنَدِّيهِ مَعَ الظَّهْرِ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا إِذَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الْفَزَارِيُّ قَدْ أَغَارَ عَلَی ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَاقَهُ أَجْمَعَ وَقَتَلَ رَاعِيَهُ قَالَ فَقُلْتُ يَا رَبَاحُ خُذْ هَذَا الْفَرَسَ فَأَبْلِغْهُ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ وَأَخْبِرْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ الْمُشْرِکِينَ قَدْ أَغَارُوا عَلَی سَرْحِهِ قَالَ ثُمَّ قُمْتُ عَلَی أَکَمَةٍ فَاسْتَقْبَلْتُ الْمَدِينَةَ فَنَادَيْتُ ثَلَاثًا يَا صَبَاحَاهْ ثُمَّ خَرَجْتُ فِي آثَارِ الْقَوْمِ أَرْمِيهِمْ بِالنَّبْلِ وَأَرْتَجِزُ أَقُولُ أَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّ سَهْمًا فِي رَحْلِهِ حَتَّی خَلَصَ نَصْلُ السَّهْمِ إِلَی کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا زِلْتُ أَرْمِيهِمْ وَأَعْقِرُ بِهِمْ فَإِذَا رَجَعَ إِلَيَّ فَارِسٌ أَتَيْتُ شَجَرَةً فَجَلَسْتُ فِي أَصْلِهَا ثُمَّ رَمَيْتُهُ فَعَقَرْتُ بِهِ حَتَّی إِذَا تَضَايَقَ الْجَبَلُ فَدَخَلُوا فِي تَضَايُقِهِ عَلَوْتُ الْجَبَلَ فَجَعَلْتُ أُرَدِّيهِمْ بِالْحِجَارَةِ قَالَ فَمَا زِلْتُ کَذَلِکَ أَتْبَعُهُمْ حَتَّی مَا خَلَقَ اللَّهُ مِنْ بَعِيرٍ مِنْ ظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا خَلَّفْتُهُ وَرَائَ ظَهْرِي وَخَلَّوْا بَيْنِي وَبَيْنَهُ ثُمَّ اتَّبَعْتُهُمْ أَرْمِيهِمْ حَتَّی أَلْقَوْا أَکْثَرَ مِنْ ثَلَاثِينَ بُرْدَةً وَثَلَاثِينَ رُمْحًا يَسْتَخِفُّونَ وَلَا يَطْرَحُونَ شَيْئًا إِلَّا جَعَلْتُ عَلَيْهِ آرَامًا مِنْ الْحِجَارَةِ يَعْرِفُهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ حَتَّی أَتَوْا مُتَضَايِقًا مِنْ ثَنِيَّةٍ فَإِذَا هُمْ قَدْ أَتَاهُمْ فُلَانُ بْنُ بَدْرٍ الْفَزَارِيُّ فَجَلَسُوا يَتَضَحَّوْنَ يَعْنِي يَتَغَدَّوْنَ وَجَلَسْتُ عَلَی رَأْسِ قَرْنٍ قَالَ الْفَزَارِيُّ مَا هَذَا الَّذِي أَرَی قَالُوا لَقِينَا مِنْ هَذَا الْبَرْحَ وَاللَّهِ مَا فَارَقَنَا مُنْذُ غَلَسٍ يَرْمِينَا حَتَّی انْتَزَعَ کُلَّ شَيْئٍ فِي أَيْدِينَا قَالَ فَلْيَقُمْ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْکُمْ أَرْبَعَةٌ قَالَ فَصَعِدَ إِلَيَّ مِنْهُمْ أَرْبَعَةٌ فِي الْجَبَلِ قَالَ فَلَمَّا أَمْکَنُونِي مِنْ الْکَلَامِ قَالَ قُلْتُ هَلْ تَعْرِفُونِي قَالُوا لَا وَمَنْ أَنْتَ قَالَ قُلْتُ أَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ وَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا أَطْلُبُ رَجُلًا مِنْکُمْ إِلَّا أَدْرَکْتُهُ وَلَا يَطْلُبُنِي رَجُلٌ مِنْکُمْ فَيُدْرِکَنِي قَالَ أَحَدُهُمْ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَرَجَعُوا فَمَا بَرِحْتُ مَکَانِي حَتَّی رَأَيْتُ فَوَارِسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَخَلَّلُونَ الشَّجَرَ قَالَ فَإِذَا أَوَّلُهُمْ الْأَخْرَمُ الْأَسَدِيُّ عَلَی إِثْرِهِ أَبُو قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيُّ وَعَلَی إِثْرِهِ الْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ الْکِنْدِيُّ قَالَ فَأَخَذْتُ بِعِنَانِ الْأَخْرَمِ قَالَ فَوَلَّوْا مُدْبِرِينَ قُلْتُ يَا أَخْرَمُ احْذَرْهُمْ لَا يَقْتَطِعُوکَ حَتَّی يَلْحَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ قَالَ يَا سَلَمَةُ إِنْ کُنْتَ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَتَعْلَمُ أَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ فَلَا تَحُلْ بَيْنِي وَبَيْنَ الشَّهَادَةِ قَالَ فَخَلَّيْتُهُ فَالْتَقَی هُوَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ قَالَ فَعَقَرَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَرَسَهُ وَطَعَنَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَتَلَهُ وَتَحَوَّلَ عَلَی فَرَسِهِ وَلَحِقَ أَبُو قَتَادَةَ فَارِسُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ فَطَعَنَهُ فَقَتَلَهُ فَوَالَّذِي کَرَّمَ وَجْهَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَتَبِعْتُهُمْ أَعْدُو عَلَی رِجْلَيَّ حَتَّی مَا أَرَی وَرَائِي مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا غُبَارِهِمْ شَيْئًا حَتَّی يَعْدِلُوا قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَی شِعْبٍ فِيهِ مَائٌ يُقَالُ لَهُ ذَو قَرَدٍ لِيَشْرَبُوا مِنْهُ وَهُمْ عِطَاشٌ قَالَ فَنَظَرُوا إِلَيَّ أَعْدُو وَرَائَهُمْ فَخَلَّيْتُهُمْ عَنْهُ يَعْنِي أَجْلَيْتُهُمْ عَنْهُ فَمَا ذَاقُوا مِنْهُ قَطْرَةً قَالَ وَيَخْرُجُونَ فَيَشْتَدُّونَ فِي ثَنِيَّةٍ قَالَ فَأَعْدُو فَأَلْحَقُ رَجُلًا مِنْهُمْ فَأَصُکُّهُ بِسَهْمٍ فِي نُغْضِ کَتِفِهِ قَالَ قُلْتُ خُذْهَا وَأَنَا ابْنُ الْأَکْوَعِ وَالْيَوْمُ يَوْمُ الرُّضَّعِ قَالَ يَا ثَکِلَتْهُ أُمُّهُ أَکْوَعُهُ بُکْرَةَ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ يَا عَدُوَّ نَفْسِهِ أَکْوَعُکَ بُکْرَةَ قَالَ وَأَرْدَوْا فَرَسَيْنِ عَلَی ثَنِيَّةٍ قَالَ فَجِئْتُ بِهِمَا أَسُوقُهُمَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَلَحِقَنِي عَامِرٌ بِسَطِيحَةٍ فِيهَا مَذْقَةٌ مِنْ لَبَنٍ وَسَطِيحَةٍ فِيهَا مَائٌ فَتَوَضَّأْتُ وَشَرِبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَی الْمَائِ الَّذِي حَلَّأْتُهُمْ عَنْهُ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَخَذَ تِلْکَ الْإِبِلَ وَکُلَّ شَيْئٍ اسْتَنْقَذْتُهُ مِنْ الْمُشْرِکِينَ وَکُلَّ رُمْحٍ وَبُرْدَةٍ وَإِذَا بِلَالٌ نَحَرَ نَاقَةً مِنْ الْإِبِلِ الَّذِي اسْتَنْقَذْتُ مِنْ الْقَوْمِ وَإِذَا هُوَ يَشْوِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ کَبِدِهَا وَسَنَامِهَا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ خَلِّنِي فَأَنْتَخِبُ مِنْ الْقَوْمِ مِائَةَ رَجُلٍ فَأَتَّبِعُ الْقَوْمَ فَلَا يَبْقَی مِنْهُمْ مُخْبِرٌ إِلَّا قَتَلْتُهُ قَالَ فَضَحِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی بَدَتْ نَوَاجِذُهُ فِي ضَوْئِ النَّارِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ أَتُرَاکَ کُنْتَ فَاعِلًا قُلْتُ نَعَمْ وَالَّذِي أَکْرَمَکَ فَقَالَ إِنَّهُمْ الْآنَ لَيُقْرَوْنَ فِي أَرْضِ غَطَفَانَ قَالَ فَجَائَ رَجُلٌ مِنْ غَطَفَانَ فَقَالَ نَحَرَ لَهُمْ فُلَانٌ جَزُورًا فَلَمَّا کَشَفُوا جِلْدَهَا رَأَوْا غُبَارًا فَقَالُوا أَتَاکُمْ الْقَوْمُ فَخَرَجُوا هَارِبِينَ فَلَمَّا أَصْبَحْنَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ خَيْرَ فُرْسَانِنَا الْيَوْمَ أَبُو قَتَادَةَ وَخَيْرَ رَجَّالَتِنَا سَلَمَةُ قَالَ ثُمَّ أَعْطَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَيْنِ سَهْمَ الْفَارِسِ وَسَهْمَ الرَّاجِلِ فَجَمَعَهُمَا لِي جَمِيعًا ثُمَّ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَائَهُ عَلَی الْعَضْبَائِ رَاجِعِينَ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَبَيْنَمَا نَحْنُ نَسِيرُ قَالَ وَکَانَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ لَا يُسْبَقُ شَدًّا قَالَ فَجَعَلَ يَقُولُ أَلَا مُسَابِقٌ إِلَی الْمَدِينَةِ هَلْ مِنْ مُسَابِقٍ فَجَعَلَ يُعِيدُ ذَلِکَ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ کَلَامَهُ قُلْتُ أَمَا تُکْرِمُ کَرِيمًا وَلَا تَهَابُ شَرِيفًا قَالَ لَا إِلَّا أَنْ يَکُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي وَأُمِّي ذَرْنِي فَلِأُسَابِقَ الرَّجُلَ قَالَ إِنْ شِئْتَ قَالَ قُلْتُ اذْهَبْ إِلَيْکَ وَثَنَيْتُ رِجْلَيَّ فَطَفَرْتُ فَعَدَوْتُ قَالَ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ أَسْتَبْقِي نَفَسِي ثُمَّ عَدَوْتُ فِي إِثْرِهِ فَرَبَطْتُ عَلَيْهِ شَرَفًا أَوْ شَرَفَيْنِ ثُمَّ إِنِّي رَفَعْتُ حَتَّی أَلْحَقَهُ قَالَ فَأَصُکُّهُ بَيْنَ کَتِفَيْهِ قَالَ قُلْتُ قَدْ سُبِقْتَ وَاللَّهِ قَالَ أَنَا أَظُنُّ قَالَ فَسَبَقْتُهُ إِلَی الْمَدِينَةِ قَالَ فَوَاللَّهِ مَا لَبِثْنَا إِلَّا ثَلَاثَ لَيَالٍ حَتَّی خَرَجْنَا إِلَی خَيْبَرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَعَلَ عَمِّي عَامِرٌ يَرْتَجِزُ بِالْقَوْمِ تَاللَّهِ لَوْلَا اللَّهُ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا وَنَحْنُ عَنْ فَضْلِکَ مَا اسْتَغْنَيْنَا فَثَبِّتْ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا وَأَنْزِلَنْ سَکِينَةً عَلَيْنَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ هَذَا قَالَ أَنَا عَامِرٌ قَالَ غَفَرَ لَکَ رَبُّکَ قَالَ وَمَا اسْتَغْفَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِإِنْسَانٍ يَخُصُّهُ إِلَّا اسْتُشْهِدَ قَالَ فَنَادَی عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ عَلَی جَمَلٍ لَهُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوْلَا مَا مَتَّعْتَنَا بِعَامِرٍ قَالَ فَلَمَّا قَدِمْنَا خَيْبَرَ قَالَ خَرَجَ مَلِکُهُمْ مَرْحَبٌ يَخْطِرُ بِسَيْفِهِ وَيَقُولُ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ قَالَ وَبَرَزَ لَهُ عَمِّي عَامِرٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي عَامِرٌ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُغَامِرٌ قَالَ فَاخْتَلَفَا ضَرْبَتَيْنِ فَوَقَعَ سَيْفُ مَرْحَبٍ فِي تُرْسِ عَامِرٍ وَذَهَبَ عَامِرٌ يَسْفُلُ لَهُ فَرَجَعَ سَيْفُهُ عَلَی نَفْسِهِ فَقَطَعَ أَکْحَلَهُ فَکَانَتْ فِيهَا نَفْسُهُ قَالَ سَلَمَةُ فَخَرَجْتُ فَإِذَا نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُونَ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَتَلَ نَفْسَهُ قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا أَبْکِي فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بَطَلَ عَمَلُ عَامِرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ قَالَ قُلْتُ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِکَ قَالَ کَذَبَ مَنْ قَالَ ذَلِکَ بَلْ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ أَرْسَلَنِي إِلَی عَلِيٍّ وَهُوَ أَرْمَدُ فَقَالَ لَأُعْطِيَنَّ الرَّايَةَ رَجُلًا يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أَوْ يُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ قَالَ فَأَتَيْتُ عَلِيًّا فَجِئْتُ بِهِ أَقُودُهُ وَهُوَ أَرْمَدُ حَتَّی أَتَيْتُ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَسَقَ فِي عَيْنَيْهِ فَبَرَأَ وَأَعْطَاهُ الرَّايَةَ وَخَرَجَ مَرْحَبٌ فَقَالَ قَدْ عَلِمَتْ خَيْبَرُ أَنِّي مَرْحَبُ شَاکِي السِّلَاحِ بَطَلٌ مُجَرَّبُ إِذَا الْحُرُوبُ أَقْبَلَتْ تَلَهَّبُ فَقَالَ عَلِيٌّ أَنَا الَّذِي سَمَّتْنِي أُمِّي حَيْدَرَهْ کَلَيْثِ غَابَاتٍ کَرِيهِ الْمَنْظَرَهْ أُوفِيهِمُ بِالصَّاعِ کَيْلَ السَّنْدَرَهْ قَالَ فَضَرَبَ رَأْسَ مَرْحَبٍ فَقَتَلَهُ ثُمَّ کَانَ الْفَتْحُ عَلَی يَدَيْهِ قَالَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْدِيُّ السُّلَمِيُّ حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ عِکْرِمَةَ بْنِ عَمَّارٍ بِهَذَا
ابوبکر بن ابی شیبہ، ہاشم بن قاسم، اسحاق بن ابراہیم، ابوعامر عقدی، عکرمہ بن عمار، عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، ابوعلی حنفی، عبیداللہ بن عبدالمجید، عکرمہ، ابن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حدیبیہ کے مقام پر آئے اور ہم چودہ سو کی تعداد میں تھے اور ہمارے پاس پچاس بکریاں تھیں وہ سیراب نہیں ہو رہی تھیں راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کنوئیں کے کنارے بیٹھ گئے یا تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی اور یا اس میں آپ ﷺ نے اپنا لعاب دہن ڈالا راوی کہتے ہیں کہ پھر اس کنوئیں میں جوش آگیا پھر ہم نے اپنے جانوروں کو بھی سیراب کیا اور خود ہم بھی سیراب ہوگئے پھر رسول اللہ ﷺ نے ہمیں درخت کی جڑ میں بیٹھ کر بیعت کے لئے بلایا راوی کہتے ہیں کہ لوگوں میں سے سب سے پہلے میں نے بیعت کی پھر اور لوگوں نے بیعت کی یہاں تک کہ جب آدھے لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا ابوسلمہ بیعت کرو میں نے عرض کیا اللہ کے رسول میں تو سب سے پہلے بیعت کرچکا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا پھر دوبارہ کرلو اور رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا کہ میرے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں ہے تو رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک ڈھال عطا فرمائی (اس کے بعد) پھر بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا جب سب لوگوں نے بیعت کرلی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ کیا تو نے بیعت نہیں کی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ لوگوں میں سب سے پہلے تو میں نے بیعت کی اور لوگوں کے درمیان میں بھی میں نے بیعت کی آپ ﷺ نے فرمایا پھر کرلو حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے تیسری مرتبہ بیعت کی پھر آپ ﷺ نے مجھے فرمایا ! اے سلمہ (رض) وہ ڈھال کہاں ہے جو میں نے تجھے دی تھی میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے چچا عامر کے پاس کوئی اسلحہ وغیرہ نہیں تھا وہ ڈھال میں نے ان کو دے دی حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسکرا پڑے اور فرمایا کہ تو بھی اس آدمی کی طرح ہے کہ جس نے سب سے پہلے دعا کی تھی اے اللہ مجھے وہ دوست عطا فرما جو مجھے میری جان سے زیادہ پیارا ہو پھر مشرکوں نے ہمیں صلح کا پیغام بھیجا یہاں تک کہ ہر ایک جانب کا آدمی دوسری جانب جانے لگا اور ہم نے صلح کرلی حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں حضرت طلحہ بن عبیداللہ کی خدمت میں تھا اور میں ان کے گھوڑے کو پانی پلاتا تھا اور اسے چرایا کرتا اور ان کی خدمت کرتا اور کھانا بھی ان کے ساتھ ہی کھاتا کیونکہ میں اپنے گھر والوں اور اپنے مال و اسباب کو چھوڑ کر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف ہجرت کر آیا تھا پھر جب ہماری اور مکہ والوں کی صلح ہوگئی اور ایک دوسرے سے میل جول ہونے لگا تو میں ایک درخت کے پاس آیا اور اس کے نیچے سے کانٹے وغیرہ صاف کر کے اس کی جڑ میں لیٹ گیا اور اسی دوران مکہ کے مشرکوں میں سے چار آدمی آئے اور رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہنے لگے مجھے ان مشرکوں پر بڑا غصہ آیا پھر میں دوسرے درخت کی طرف آگیا اور انہوں نے اپنا اسلحہ لٹکایا اور لیٹ گئے وہ لوگ اس حال میں تھے کہ اسی دوران وادی کے نشیب میں سے ایک پکارنے والے نے پکارا اے مہاجرین ابن زقیم شہید کر دئے گئے میں نے یہ سنتے ہی اپنی تلوار سیدھی کی اور پھر میں نے ان چاروں پر اس حال میں حملہ کیا کہ وہ سو رہے تھے اور ان کا اسلحہ میں نے پکڑ لیا اور ان کا ایک گٹھا بنا کر اپنے ہاتھ میں رکھا پھر میں نے کہا قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو عزت عطا فرمائی تم میں سے کوئی اپنا سر نہ اٹھائے ورنہ میں تمہارے اس حصہ میں ماروں گا کہ جس میں دونوں آنکھیں ہیں راوی کہتے ہیں کہ پھر میں ان کو کھینچتا ہوا رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے کر حاضر ہوا اور میرے چچا حضرت عامر (رض) بھی قبیلہ عبلات کے آدمی کو جسے مکرز کہا جاتا ہے اس کے ساتھ مشرکوں کے ستر آدمیوں کو گھسیٹ کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لائے حضرت عامر (رض) جھول پوش گھوڑے پر سوار تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا ان کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑے کی ابتداء بھی انہی کی طرف سے ہوئی اور تکرار بھی انہی کی طرف سے، الغرض رسول اللہ ﷺ نے ان کو معاف فرما دیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی اور وہ اللہ کہ جس نے ان کے ہاتھوں کو تم سے روکا اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے روکا مکہ کی وادی میں بعداس کے کہ تم کو ان پر فتح اور کامیابی دے دی تھی "۔ پھر ہم مدینہ منورہ کی طرف نکلے راستہ میں ہم ایک جگہ اترے جس جگہ ہمارے اور بنی لحیان کے مشر کون کے درمیان ایک پہاڑ حائل تھا رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے لئے مغفرت کی دعا فرمائی جو آدمی اس پہاڑ پر چڑھ کر نبی ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے لئے پہرہ دے حضرت سلمہ فرماتے ہیں کہ میں اس پہاڑ پر دو یا تین مرتبہ چڑھا پھر ہم مدینہ منورہ پہنچ گئے رسول اللہ ﷺ نے اپنے اونٹ رباح کے ساتھ بھیج دیئے جو کہ رسول اللہ ﷺ کا غلام تھا میں بھی ان اونٹوں کے ساتھ حضرت ابوطلحہ کے گھوڑے پر سوار ہو کر نکلا جب صبح ہوئی تو عبدالرحمن فراری نے رسول اللہ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا اور ان سب اونٹوں کو ہانک کرلے گیا اور اس نے آپ ﷺ کے چرواہے کو قتل کردیا حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا اے رباح یہ گھوڑا پکڑ اور اسے حضرت طلحہ بن عبیداللہ کو پہنچا دے اور رسول اللہ کو خبر دے کہ مشرکوں نے آپ ﷺ کے اونٹوں کو لوٹ لیا ہے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ پھر میں ایک ٹیلے پھر کھڑا ہوا اور میں نے اپنا رخ مدینہ منورہ کی طرف کر کے بہت بلند آواز سے پکارا یا صباحاہ پھر میں ان لٹیروں کے پیچھے ان کو تیر مارتا ہوا اور رجز پڑھتے ہوئے نکلا میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ میں ان میں سے ایک ایک آدمی سے ملتا اور اسے تیر مارتا یہاں تک کہ تیر ان کے کندھے سے نکل جاتا اور میں کہتا کہ یہ وار پکڑ، میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن ان ذلیلوں کی بربادی کا دن ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم میں ان کو لگاتار تیر مارتا رہا اور ان کو زخمی کرتا رہا تو جب ان میں سے کوئی سوار میری طرف لوٹتا تو میں درخت کے نیچے آ کر اس درخت کی جڑ میں بیٹھ جاتا پھر میں اس کو ایک تیر مارتا جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوجاتا یہاں تک کہ وہ لوگ پہاڑ کے تنگ راستہ میں گھسے اور میں پہاڑ پر چڑھ گیا اور وہاں سے میں نے ان کو پتھر مارنے شروع کر دئے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں لگاتار ان کا پیچھا کرتا رہا یہاں تک کہ کوئی اونٹ جو اللہ نے پیدا کیا ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ کی سواری کا ہو ایسا نہیں ہوا کہ اسے میں نے اپنی پشت کے پیچھے نہ چھوڑ دیا ہو حضرت سلمہ کہتے ہیں پھر میں نے ان کے پیچھے تیر پھینکے یہاں تک کہ ان لوگوں نے ہلکا ہونے کی خاطر تیس چادریں اور تیس نیزوں سے زیادہ پھینک دیئے سوائے اس کے کہ وہ لوگ جو چیز بھی پھینکتے میں پتھروں سے میل کی طرح اس پر نشان ڈال دیتا کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ پہچان لیں یہاں تک کہ وہ ایک تنگ گھاٹی پر آگئے اور فلاں بن بدر فرازی بھی ان کے پاس آگیا سب لوگ دوپہر کا کھانا کھانے کے لئے بیٹھ گئے اور میں پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ کر بیٹھ گیا فرازی کہنے لگا کہ یہ کون سا آدمی ہمیں دیکھ رہا ہے لوگوں نے کہا اس آدمی نے ہمیں بڑا تنگ کر رکھا ہے اللہ کی قسم اندھیری رات سے ہمارے ساتھ ہے اور لگاتار ہمیں تیر مار رہا ہے یہاں تک کہ ہمارے پاس جو کچھ بھی تھا اس نے سب کچھ چھین لیا ہے فرازی کہنے لگا کہ تم میں سے چار آدمی اس کی طرف کھڑے ہوں اور اسے مار دیں حضرت سلمہ کہتے ہیں ان میں سے چار آدمی میری طرف پہاڑ پر چڑھے تو جب وہ اتنی دور تک پہنچ گئے جہاں میری بات سن سکیں حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کیا تم مجھے پہچانتے ہو انہوں نے کہا نہیں اور تم کون ہو میں نے جواب میں کہا میں سلمہ بن اکوع ہوں اور قسم ہے اس ذات کی جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں تم میں سے جسے چاہوں مار دوں اور تم میں سے کوئی مجھے نہیں مار سکتا۔ ان میں سے ایک آدمی کہنے لگا کہ ہاں لگتا تو ایسے ہی ہے پھر وہ سب وہاں سے لوٹ پڑے اور میں ابھی تک اپنی جگہ سے چلا ہی نہیں تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے سواروں کو دیکھ لیا جو کہ درختوں میں گھس گئے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ ان میں سب سے آگے حضرت اخرم اسدی (رض) تھے اور ان کے پیچھے حضرت ابوقتادہ (رض) تھے اور ان کے پیچھے حضرت مقداد بن اسور کندی تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے جا کر اخرم کے گھوڑے کی لگام پکڑی وہ لٹیرے بھاگ پڑے میں نے کہا اے اخرم ان سے ذرا بچ کے رہنا ایسا نہ ہو کہ وہ تمہیں مار ڈالیں جب تک کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ نہ آجائیں۔ اخرم کہنے لگے اے ابوسلمہ اگر تم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہو اور اس بات کا یقین رکھتے ہو کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے تو تم میرے اور میری شہادت کے درمیان رکاوٹ نہ ڈالو۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ان کو چھوڑ دیا اور پھر اخرم کا مقابلہ عبدالرحمن فرازی سے ہوا۔ اخرم نے عبدالرحمن کے گھوڑے کو زخمی کردیا اور پھر عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ کر بیٹھ گیا اسی دوران میں رسول اللہ ﷺ کے شہسوار حضرت ابوقتادہ آگئے (جب انہوں نے یہ منظر دیکھا) تو حضرت ابوقتادہ نے عبدالرحمن فرازی کو بھی برچھی مار کر قتل کردیا ( اور پھر فرمایا) قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے حضرت محمد ﷺ کے چہرہ اقدس کو بزرگی عطا فرمائی ہے میں ان کے تعاقب میں لگا رہا اور میں اپنے پاؤں سے ایسے بھاگ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت محمد ﷺ کا کوئی صحابی بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ان کا گرد و غبار یہاں تک کہ وہ لیٹرے سورج غروب ہونے سے پہلے ایک گھاٹی کی طرف آئے جس میں پانی تھا جس گھاٹی کو ذی قرد کہا جاتا تھا تاکہ وہ لوگ اسی گھاٹی سے پانی پئیں کیونکہ وہ پیاسے تھے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا ہوا چلا آ رہا تھا بالآخر میں نے ان کو پانی سے ہٹایا وہ اس سے ایک قطرہ بھی نہ پی سکے۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ اب وہ کسی اور گھاٹٰ کی طرف نکلے میں بھی ان کے پیچھے بھاگا اور ان میں سے ایک آدمی کو پا کر میں نے اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر مارا، میں نے کہا پکڑ اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور آج کا دن کمینوں کی بربادی کا دن ہے۔ وہ کہنے لگا اس کی ماں اس پر روئے کیا یہ وہی اکوع تو نہیں جو صبح کو میرے ساتھ تھا میں نے کہا ہاں اے اپنی جان کے دشمن جو صبح کے وقت تیرے ساتھ تھا۔ حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ انہوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دیئے تو میں ان دونوں گھوڑوں کو ہنکا کر رسول اللہ ﷺ کی طرف لے آیا حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ وہاں عامر سے میری ملاقات ہوئی ان کے پاس ایک چھاگل تھا جس میں دودھ تھا اور ایک مشکیزے میں پانی تھا۔ پانی سے میں نے وضو کیا اور دودھ پی لیا پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ اسی پانی والی جگہ پر تھے جہاں سے میں نے لیٹروں کو بھگا دیا تھا اور میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ نے وہ اور تمام چیزیں جو میں نے مشرکوں سے چھین لی تھیں اور سب نیزے اور چادریں لے لیں اور حضرت بلال نے ان اونٹوں میں جو میں نے لٹیروں سے چھینے تھے ایک اونٹ کو ذبح کیا اور اس کی کلیجی اور کوہان کو رسول اللہ ﷺ کے لئے بھونا۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اجازت مرحمت فرمائیں تاکہ میں لشکر میں سے سو آدمیوں کا انتخاب کروں اور پھر میں ان لیٹروں کا مقابلہ کروں اور جب تک میں ان کو قتل نہ کر ڈالوں اس وقت تک نہ چھوڑوں کہ وہ جا کر اپنی قوم کو خبر دیں حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آگ کی روشنی میں آپ ﷺ کی داڑھیں مبارک ظاہر ہوگئیں آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ اب تو وہ غطفان کے علاقہ میں ہوں گے اسی دوران علاقہ غطفان سے ایک آدمی آیا اور وہ کہنے لگا کہ فلاں آدمی نے ان کے لئے ایک اونٹ ذبح کیا تھا اور ابھی اس اونٹ کی کھال ہی اتار پائے تھے کہ انہوں نے کچھ غبار دیکھا تو وہ کہنے لگے کہ لوگ آگئے وہ لوگ وہاں سے بھی بھاگ کھڑے ہوئے تو جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آج کے دن ہمارے بہترین سواروں میں سے بہتر سوار حضرت قتادہ ہیں اور پیادوں میں سب سے بہتر حضرت سلمہ ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے مجھے دو حصے عطا فرمائے اور ایک سوار کا حصہ اور ایک پیادہ کا حصہ اور دونوں حصے اکٹھے مجھے ہی عطا فرمائے پھر رسول اللہ ﷺ نے غضباء اونٹنی پر مجھے اپنے پیچھے بٹھایا اور ہم سب مدینہ منورہ واپس آگئے دوران سفر انصار کا ایک آدمی جس سے دوڑنے میں کوئی آگے نہیں بڑھ سکتا تھا وہ کہنے لگا کیا کوئی مدینہ تک میرے ساتھ دوڑ لگانے والا ہے اور وہ بار بار یہی کہتا رہا۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں جب میں نے اس کا چیلنچ سنا تو میں نے کہا کیا تجھے کسی بزرگ کی بزرگی کا لحاظ نہیں اور کیا تو کسی بزرگ سے ڈرتا نہیں اس انصاری شخص نے کہا نہیں، سوائے رسول اللہ ﷺ کے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان مجھے اجازت عطا فرمائیں تاکہ میں اس آدمی سے دوڑ لگاؤں آپ ﷺ نے فرمایا اگر تو چاہتا ہے تو حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے اس انصاری سے کہا کہ میں تیری طرف آتا ہوں اور میں نے اپنا پاؤں ٹیڑھا کیا پھر میں کود پڑا اور دوڑنے لگا اور پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو میں نے سانس لیا پھر میں اس کے پیچھے دوڑا پھر جب ایک یا دو چڑھائی باقی رہ گئی تو پھر میں نے سانس لیا پھر میں دوڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے دونوں شانوں کے درمیان میں ایک گھونسا مارا اور میں نے کہا اللہ کی قسم میں آگے بڑھ گیا اور پھر اس سے پہلے مدینہ منورہ پہنچ گیا حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ابھی ہم مدینہ منورہ میں صرف تین راتیں ہی ٹھہرے تھے کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ خیبر کی طرف نکل پڑے حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ میرے چچا حضرت عامر (رض) نے رجزیہ اشعار پڑھنے شروع کردیے۔ اللہ کی قسم اگر اللہ کی مدد نہ ہوتی تو ہمیں ہدایت نہ ملتی اور نہ ہم صدقہ کرتے اور نہ ہی ہم نماز پڑھتے اور ہم تیرے فضل سے مستغنی نہیں ہیں اور تو ہمیں ثابت قدم رکھ جب ہم دشمن سے ملیں اور اے اللہ ہم پر سکینت نازل فرما۔ جب یہ رجزیہ اشعار سنے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کون ہے انہوں نے عرض کیا میں عامر ہوں آپ ﷺ نے فرمایا تیرا رب تیری مغفرت فرمائے۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی انسان کے لئے خاص طور پر مغفرت کی دعا فرماتے تو وہ ضرور شہادت کا درجہ حاصل کرتا۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب جب اپنے اونٹ پر تھے کہ بلند آواز سے پکارا اے اللہ کے نبی آپ ﷺ نے ہمیں عامر سے کیوں نہ فائدہ حاصل کرنے دیا آپ ﷺ نے فرمایا جب ہم خیبر آئے تو ان کا بادشاہ مرحب اپنی تلوار لہراتا ہوا نکلا اور کہتا ہے، خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جس وقت جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ یہ میرے چچا عامر اس کے مقابلے کے لئے نکلے اور انہوں نے بھی یہ رجزیہ اشعار پڑھے خیبر جانتا ہے کہ میں عامر ہوں اسلحہ سے مسلح اور بےخوف جنگ میں گھسنے والا ہوں۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں کہ عامر اور مرحب دونوں کی ضربیں مختلف طور پر پڑنے لگیں مرحب کی تلوار عامر کی ڈھال پر لگی اور عامر (رض) نے نیچے سے مرحب کو تلوار ماری تو حضرت عامر کی اپنی تلوار خود اپنے ہی لگ گئی جس سے ان کہ شہ رگ کٹ گئی اور اسی نتیجہ میں وہ شہید ہوگئے۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نکلا تو میں نے نبی ﷺ کے چند صحابہ (رض) کو دیکھا وہ کہنے لگے حضرت عامر کا عمل ضائع ہوگیا انہوں نے اپنے آپ کو خود مار ڈالا ہے۔ حضرت سلمہ کہتے ہیں نبی ﷺ کی خدمت میں روتا ہوا آیا اور میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ عامر کا عمل ضائع ہوگیا ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ کس نے کہا ہے۔ میں نے عرض کیا آپ ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگوں نے کہا ہے آپ ﷺ نے فرمایا جس نے بھی کہا ہے جھوٹ کہا ہے بلکہ عامر کے لئے دگنا اجر ہے پھر آپ ﷺ نے مجھے حضرت علی (رض) کی طرف بھیجا ان کی آنکھ دکھ رہی تھی آپ ﷺ نے فرمایا میں جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا کہ جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہو یا اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت رکھتے ہوں حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے علی کو پکڑ کر آپ ﷺ کی خدمت میں لے کر آیا کیونکہ علی (رض) کی آنکھیں دکھ رہی تھیں آپ ﷺ نے حضرت علی (رض) کی آنکھوں میں اپنا لعاب دہن لگایا تو ان کی آنکھیں اسی وقت ٹھیک ہوگئیں۔ آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا اور مرحب یہ کہتا ہوا نکلا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں اسلحہ سے مسلح، بہادر تجربہ کار ہوں جب جنگ کی آگ بھڑکنے لگتی ہے۔ تو پھر حضرت علی (رض) نے بھی جواب میں کہا کہ میں وہ ہوں کہ میری ماں نے میرا نام حیدر رکھا ہے اس شیر کی طرح جو جنگلوں میں ڈراؤنی صورت ہوتا ہے۔ میں لوگوں کو ایک صاع کے بدلہ اس سے بڑا پیمانہ دیتا ہوں۔ حضرت سلمہ (رض) کہتے ہیں کہ پھر حضرت علی (رض) نے مرحب کے سر پر ایک ضرب لگائی تو وہ قتل ہوگیا پھر خیبر حضرت علی (رض) کے ہاتھوں پر فتح ہوگیا۔ ایک دوسری سند کے ساتھ حضرت عکرمہ بن عمار نے یہ حدیث اس حدیث سے بھی زیادہ لمبی نقل کی ہے دوسری سند کے ساتھ عکرمہ بن عمار سے اسی طرح روایت منقول ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Salama. He heard the tradition from his father who said: We arrived at Hudaibiya with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and we were fourteen hundred in number. There were fifty goats for them which could not be watered (by the small quantity of water in the local well). So, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sat on the brink of the well. Either he prayed or spat into the well The water welled up. We drank and watered (the beasts as well). Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called us to take the vow of allegiance, as he was sitting at the base of a tree. I was the first man to take the vow. Then other people took the vow. When half the number of people had done so, he said to me: You take the vow, Salama. I said: I was one of those who took the vow in the first instance. He said: (You may do) again. Then the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw that I was without weapons. He gave me a big or a small shield. Then he continued to administer vows to the people until it was the last batch of them. He said (to me): Wont you swear allegiance, Salama? I said: Messenger of Allah, I took the oath with the first batch of the people and then again when you were in the middle of the people. He said: (Doesnt matter), you may (do so) again. So I took the oath of allegiance thrice. Then he said to me: Salama, where is the shield which I gave to thee? I said: Messenger of Allah, my uncle Amir met me and he was without any weapons. So I gave the shield to him. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laughed and said: You are like a person of the days gone by who said: O God. I seek a friend who is dearer to me than myself. (When all Companions had sworn allegiance to the Holy Prophet), the polytheists sent messages of peace, until people could move from our camp to that of the Makkahns and vice versa. Finally, the peace treaty was concluded.
I was a dependant of Talha bin Ubaidullah (RA) . I watered his horse, rubbed its back. I served Talha (doing odd jobs for him) and partook from his food. I had left my family and my property as an emigrant in the cause of Allah and His Messenger (may peace be uron him). When we and the people of Makkah had concluded a peace treaty and the people of one side began to mix with those of the other, I came to a tree, swept away its thorns and lay down (for rest) at its base; (while I lay there), four of the polytheists from the Makkahns came to me and began to talk ill of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I got enraged with them and moved to another tree. They hung their weapons (to the branches of the tree) and lay down (for rest). (While they lay there), somebody from the lower part of the valley cried out: Run up, O Muhajirs! Ibn Zunaim has been murdered. I drew my sword and attacked these four while they were asleep. I seized their arms and collected them up in my hand, and said: By the Being Who has conferred honour upon Muhammad, none of you shall raise his head, else I will smite his face. (Then) I came driving them along to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (At the same time) my uncle Amir came (to him) with a man from Abalat called Mikraz. Amir was dragging him on a horse with a thick covering on its back along with seventy polytheists. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) cast a glance at them and said: Let them go (so that) they may prove guilty of breach of trust more than once (before we take action against them). So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forgave them. On this occasion. God revealed the Quranic verse: "It is He Who restrained their hands from you and your hands from them in the valley of Makkah after He had granted you a victory over them" (xlviii. 24). Then we moved returning to Madinah, and halted at a place where there was a mountain between us and Banu Lihyan who were polytheists. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked Gods forgiveness for one who ascended the mountain at night to act as a scout for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions. I ascended (that mountain) twice or thrice that night. (At last) we reached Madinah. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent his camels with his slave, Rabah, and I was with him. I (also) went to the pasture with the horse of Talha along with the camels.
When the day dawned, Abdul Rahman al-Fazari made a raid and drove away all the camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and killed the man who looked after them. I said: Rabah, ride this horse, take it to Talha bin Ubaidullah and inform the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that the polytheists have made away with his camels. Then I stood upon a hillock and turning my face to Madinah, shouted thrice: Come to our help. Then I set out in pursuit of the raiders, shooting at them with arrows and chanting a (self-eulogatory) verse in the Iambic metre:
I am the son of al-Akwa
And today is the day of defeat for the mean.
I would overtake a man from them, shoot at him an arrow which, piercing through the saddle, would reach his shoulder. and I would say: Take it, chanting at the same time the verse
And I am the son of al-Akwa
And tody is the day of defeat for the mean.
By God, I continued shooting at them and hamstringing their animals. Whenever a horseman turned upon me, I would come to a tree and (hide myself) sitting at its base. Then I would shoot at him and hamstring his horse. (At last) they entered a narrow mountain gorge. I ascended that mountain and held them at bay throwing stones at them. I continued to chase them in this way until I got all the camels of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) released and no camel was left with them. They left me; then I followed them shooting at them (continually) until they dropped more than thirty mantles and thirty lances, lightening their burden. On everything they dropped, I put a mark with the help of (a piece of) stone so that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions might recognise them (that it was booty left by the enemy). (They went on) until they came to a narrow valley when so and so, son of Badr al-Fazari joined them. They (now) sat down to take their breakfast and I sat on the top of a tapering rock. Al-Fazari said: Who is that fellow I am seeing? They said: This fellow has harassed us. By God, he has not left us since dusk and has been (continually) shooting at us until he has snatched everything from our hands. He said: Four of you should make a dash at him (and kill him). (Accordingly), four of them ascended the mountain coming towards me. When it became possible for me to talk to them, I said: Do you recognise me? They said: No. Who are thou? I said: I am Salama, son of al-Akwa. By the Being Who has honoured the countenance of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) I can kill any of you I like but none of you will be able to kill me. One of them said: I think (he is right). So they returned. I did not move from my place until I saw the horsemen of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who came riding through the trees. Lo! the foremost among them was Akhram al-Asadi.
Behind him was Abu Qatadah (RA) al-Ansari and behind him was al-Miqdad bin al-Aswad al-Kindi. I caught hold of the rein of Akhrams horse. Seeing this they (the raiders) fled. I said (to Akhram): Akhram, guard yourself against them until Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions join you. He said: O Salama, if you believe In Allah and the Day of Judgment and (if) you kaow that Paradise is a reality and Hell is a reality, you should not stand between me and martyrdom, so I let him go. Akhram and Abdul Rahman (Fazari) met in combat. Akhram hamstrung Abdul Rahmans horse and the latter struck him with his lance and killed him. Abdul Rabman turned about riding Akhrams horse. Abu Qatadah (RA), a horse-man of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , met Abdul Rahman (in combat), smote him with his lance and killed him. By the Being Who honoured the countenance of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , I followed them running on my feet (so fast) that I couldnt see behind me the Companions of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , nor any dust raised by their horses. (I followed them) until before sunset they reached a valley which had a spring of water, which was called Dhu Qarad, so that they could have a drink, for they were thirsty. They saw me running towards them. I turned them out of the valley before they could drink a drop of its water. They left the valley and ran down a slope. I ran (behind them), overtook a man from them, shot him with an arrow through the shoulder blade and said: Take this. I am the son of al-Akwa; and today is the day of annihilation for the people who are mean. The fellow (who was wounded) said: May his mother weep over him! Are you the Akwa who has been chasing us since morning? I said: Yes, O enemy of thyself, the same Akwa. They left two horses dead tired on the hillock and I came dragging them along to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I met Amir who had with him a container having milk diluted with water and a container having water. I performed ablution with the water and drank the milk. Then I came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) while he was at (the spring of) water from which I had driven them away. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had captured those camels and everything else I had captured and all the lances and mantles I had snatched from the polytheists and Bilal (RA) had slaughtered a she-camel from the camels I had seized from the people, and was roasting its liver and hump for the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I said: Messenger of Allah, let me select from our people one hundred men and I will follow the marauders and I will finish them all so that nobody is left to convey the news (of their destruction to their people). (At these words of mine), the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) laughed so much that his molar teeth could be seen in the light of the fire, and he said: Salama, do you think you can do this? I said: Yes, by the Being Who has honoured you. He said: Now they have reached the land of Ghatafan where they are being feted. (At this time) a man from the Ghatafan came along and said: So and so slaughtered a camel for them. When they were exposing its skin, they saw dust (being raised far off). They said: They (Akwa and his companions) have come. So they went away fleeing.
When it was morning, the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Our best horseman today is Abu Qatadah (RA) and our best footman today is Salama. Then he gave me two shares of the booty-the share meant for the horseman and the share meant for the footman, and combined both of them for me. Intending to return to Madinah, he made me mount behind him on his she-camel named al-Adba. While we were travelling, a man from the Ansar who could not be beaten in a race said: Is there anyone who could compete (with me) in race to Madinah? Is there any competitor? He continued repeating this. When I heard his talk, I said: Dont you show consideration to a dignified person and dont you have awe for a noble man? He said: No, unless he be the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . I said: Messenger of Allah, may my father and mother be thy ransom, let me get down so that I may beat this man (in the race). He said: It you wish, (you may). I said (to the man): I am coming to thee, I then turned my feet. sprang up and ran and gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again followed his heel and again gasped (for a while) when one or two elevated places were left and again dashed until I joined him and gave a blow between his shoulders. I said: You have been overtaken, by God. He said: I think so. Thus, I reached Madinah ahead of him. By God, we had stayed there only three nights when we set out to Khaibar with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (On the way) my uncle, Amir, began to recite the following rajaz verses for the people:
By God, if Thou hadst not guided us aright,
We would have neither practised charity nor offered prayers.
(O God!) We cannot do without Thy favours;
Keep us steadfast when we encounter the enemy,
And descend tranquillity upon us.
The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who is this? Amir said: it is Amir. He said: May thy God forgive thee! The narrator said: Whenever the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked forgiveness for a particular person, he was sure to embrace martyrdom. Umar bin Khattab who was riding on his camel called out: Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah, I wish you had allowed us to benefit from Amir. Salama continued: When we reached Khaibar, its king named Marhab advanced brandishing his sword and chanting:
Khaibar knows that I am Marhab (who behaves like)
A fully armed, and well-tried warrior.
When the war comes spreading its flames.
My uncle, Amir, came out to combat with him, saying:
Khaibar certainly knows that I am Amir,
A fully armed veteran who plunges into battles.
They exchanged blows. Marbabs sword struck the shield of Amir who bent forward to attack his opponent from below, but his sword recoiled upon him and cut the main artery in his forearm which caused his death. Salama said: I came out and heard some people among the Companions of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Amirs deed has gone waste; he has killed himself. So I came to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) weeping and I said: Messenger of Allah. Amirs deed has gone waste. The Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Who passed this remark? I said: Some of your Companions. He said: He who has passed that remark has told a lie, for Amir there is a double reward. Then he sent me to Ali who had sore eyes, and said: I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger or whom Allah and His Messenger love. So I went to Ali, brought him leading him along and he had sore eyes, and I took him to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , who applied his saliva to his eyes and he got well. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave him the banner (and Ali went to meet Marhab in a single combat). The latter advanced chanting:
Khaibar knows certainly that I am Marhab,
A fully armed and well-tried valorous warrior (hero)
When war comes spreading its flames.
Ali chanted in reply:
I am the one whose mother named him Haidar, (And am) like a lion of the forest with a terror-striking countenance. I give my opponents the measure of sandara in exchange for sa (i. e. return thir attack with one that is much more fierce).
The narrator said: Ali struck at the head of Mirhab and killed him, so the victory (capture of Khaibar) was due to him. This long tradition has also been handed down through a different chain of transmitters.
حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ هَبَطُوا عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ جَبَلِ التَّنْعِيمِ مُتَسَلِّحِينَ يُرِيدُونَ غِرَّةَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ فَأَخَذَهُمْ سِلْمًا فَاسْتَحْيَاهُمْ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَيْهِمْ
عمرو بن محمد ناقد، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ تنعیم کے پہاڑ سے مکہ والوں کے اسی آدمی جو کہ اسلحہ سے مسلح تھے رسول اللہ ﷺ پر اترے وہ لوگ نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ (رض) کو غفلت میں رکھ کر آپ ﷺ پر حملہ کرنا چاہتے تھے آپ ﷺ نے ان لوگوں کو پکڑ کر پھر چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے آیت کریمہ نازل فرمائی اور وہی ہے جس نے وادی مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے اس کے بعد کہ اس نے تمہیں ان پر غالب کردیا تھا۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) that eighty Persons from the inhabitants of Makkah swooped down upon the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from the mountain of Tanim. They were armed and wanted to attack the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and his Companions unawares. He (the Holy Prophet) captured them but spared their lives. So, God, the Exalted and Glorious, revealed the verses: "It is He Who restrained your hands from them and their hands from you in the valley of Makkah after He had given you a victory over them."
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ أُمَّ سُلَيْمٍ اتَّخَذَتْ يَوْمَ حُنَيْنٍ خِنْجَرًا فَکَانَ مَعَهَا فَرَآهَا أَبُو طَلْحَةَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ أُمُّ سُلَيْمٍ مَعَهَا خِنْجَرٌ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا هَذَا الْخِنْجَرُ قَالَتْ اتَّخَذْتُهُ إِنْ دَنَا مِنِّي أَحَدٌ مِنْ الْمُشْرِکِينَ بَقَرْتُ بِهِ بَطْنَهُ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضْحَکُ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْتُلْ مَنْ بَعْدَنَا مِنْ الطُّلَقَائِ انْهَزَمُوا بِکَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ إِنَّ اللَّهَ قَدْ کَفَی وَأَحْسَنَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، یزید بن ہارون، حماد بن سلمہ، ثابت انس، حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ام سلمہ (رض) نے غزوہ حنین کے دن ان کے پاس جو خنجر تھا وہ لیا۔ حضرت ابوطلحہ (ام سلیم کے ہاتھ میں خنجر) دیکھا تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ یہ ام سلیم ہیں جن کے پاس ایک خنجر ہے تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت ام سلیم (رض) سے فرمایا یہ خنجر کیسا ہے حضرت ام سلیم (رض) نے عرض کیا اگر مشرکوں میں سے کوئی مشرک میرے پاس آئے گا تو میں اس کے ذریعہ سے اس کا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی یہ سن کر رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے ام سلیم (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے طلقاء میں سے وہ لوگ کہ جنہوں نے آپ ﷺ سے شکست کھائی ہے کیا میں ان کو قتل کردوں یعنی جو فتح مکہ کے موقع پر مکہ والوں میں سے مسلمان ہوئے ان کے شکست کھا جانے کے وجہ سے ام سلیم نے ان کو منافق سمجھا اس لئے ان کو قتل کرنے کا عرض کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ام سلیم بیشک اللہ کافی ہے اور اللہ نے ہم پر احسان کیا ہے۔
It has been narrated on the authority of Anas that, on the Day of Hunain, Umm Sulaim took out a dagger she had in her possession. Abu Talha saw her and said: Messenger of Allah, this is Umm Sulaim. She is holding a dagger. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked (her): What for are you holding this dagger? She said: I took it up so that I may tear open the belly of a polytheist who comes near me. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) began to smile (at these words). She said: Messenger of Allah, kill all those people-other than us-whom thou hast declared to be free (on the day of the Conquest of Makkah). (They embraced Islam because) they were defeated at your hands (and as such their Islam is not dependable). The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Umm Sulaim. God is sufficient (against the mischief of the polytheists) and He will be kind to us (so you need not carry this dagger).
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فِي قِصَّةِ أُمِّ سُلَيْمٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ حَدِيثِ ثَابِتٍ
محمد بن حاتم، بہز، حماد بن سلمہ، اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ، انس بن مالک، اس سند کے ساتھ حضرت انس بن مالک (رض) نے ام سلیم (رض) کا یہ واقعہ نبی ﷺ سے روایت کیا ثابت کی حدیث کی طرح۔
Same as Hadees 4680
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِأُمِّ سُلَيْمٍ وَنِسْوَةٍ مِنْ الْأَنْصَارِ مَعَهُ إِذَا غَزَا فَيَسْقِينَ الْمَائَ وَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی
یحییٰ بن یحیی، جعفر بن سلیمان، ثابت، انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جہاد کرتے تو ام سلیم اور انصار کی کچھ عورتیں آپ ﷺ کے ساتھ ہوتیں وہ پانی پلاتیں اور زخمیوں کو دوا دیتیں۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) allowed Umm Sulaim and some other women of the Ansar to accompany him when he went to war; they would give water (to the soldiers) and would treat the wounded.
عورتوں کا مردوں کے ساتھ جہاد کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو وَهُوَ أَبُو مَعْمَرٍ الْمِنْقَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ صُهَيْبٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ لَمَّا کَانَ يَوْمُ أُحُدٍ انْهَزَمَ نَاسٌ مِنْ النَّاسِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو طَلْحَةَ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُجَوِّبٌ عَلَيْهِ بِحَجَفَةٍ قَالَ وَکَانَ أَبُو طَلْحَةَ رَجُلًا رَامِيًا شَدِيدَ النَّزْعِ وَکَسَرَ يَوْمَئِذٍ قَوْسَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَکَانَ الرَّجُلُ يَمُرُّ مَعَهُ الْجَعْبَةُ مِنْ النَّبْلِ فَيَقُولُ انْثُرْهَا لِأَبِي طَلْحَةَ قَالَ وَيُشْرِفُ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْظُرُ إِلَی الْقَوْمِ فَيَقُولُ أَبُو طَلْحَةَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي لَا تُشْرِفْ لَا يُصِبْکَ سَهْمٌ مِنْ سِهَامِ الْقَوْمِ نَحْرِي دُونَ نَحْرِکَ قَالَ وَلَقَدْ رَأَيْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ أَبِي بَکْرٍ وَأُمَّ سُلَيْمٍ وَإِنَّهُمَا لَمُشَمِّرَتَانِ أَرَی خَدَمَ سُوقِهِمَا تَنْقُلَانِ الْقِرَبَ عَلَی مُتُونِهِمَا ثُمَّ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِهِمْ ثُمَّ تَرْجِعَانِ فَتَمْلَآَنِهَا ثُمَّ تَجِيئَانِ تُفْرِغَانِهِ فِي أَفْوَاهِ الْقَوْمِ وَلَقَدْ وَقَعَ السَّيْفُ مِنْ يَدَيْ أَبِي طَلْحَةَ إِمَّا مَرَّتَيْنِ وَإِمَّا ثَلَاثًا مِنْ النُّعَاسِ
عبداللہ بن عبدالرحمن دار می، عبداللہ بن عمر، ابومعمر منقری، عبدالوارث، عبدالعزیز، ابن صہیب، انس، حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ غزوہ احد کے دن صحابہ (رض) میں سے بعض صحابہ (رض) شکست کھا کر نبی ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور ابوطلحہ (رض) نبی ﷺ کے سامنے ڈھال سے آپ ﷺ پر پردہ کئے ہوئے تھے اور ابوطلحہ بہت زبردست تیر انداز تھے اور اس دن انہوں نے دو یا تین کمانیں توڑیں تھیں اور جب کوئی آدمی آپ ﷺ کے پاس سے تیروں کا ترکش لئے گزرتا تو آپ ﷺ فرماتے انہیں ابوطلحہ کے لئے بکھیر دو اور اللہ کے نبی ﷺ گردن اٹھا اٹھا کر قوم کو دیکھ رہے تھے تو ابوطلحہ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ﷺ آپ ﷺ پر میرے ماں باپ قربان آپ ﷺ گردن نہ اٹھائیں کہیں دشمنوں کے تیروں میں سے کوئی آپ ﷺ کو نہ لگ جائے اور میرا سینہ آپ کے سینہ کے سامنے رہے انس (رض) کہتے ہیں تحقیق ! میں نے حضرت عائشہ (رض) بنت ابوبکر (رض) اور ام سلیم (رض) کو دیکھا کہ وہ اپنے دامن اٹھائے تھیں کہ میں نے ان کی پنڈلیوں کی پازیبوں کو دیکھا اور وہ دونوں اپنی پشتوں پر مشکیزے بھر کر لا رہی تھیں اور صحابہ (رض) کے منہ میں ڈال کر لوٹ آتیں پھر بھرتیں پھر آتیں اور صحابہ (رض) کے منہ میں ڈال دیتی تھیں اور اس دن ابوطلحہ (رض) کے ہاتھ سے دو یا تین مرتبہ نیند کی وجہ سے تلوار گرگئی تھی۔
It has been narrated on the authority of Anas bin Malik (RA) who said: On the Day of Uhud some of the people, being defeated, left the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him), but Abu Talha stood before him covering him with a shield. Abu Talha was a powerful archer who broke two or three bows that day. When a man would pass by carrying a quiver containing arrows, he would say: Spare them for Abu Talha. Whenever the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) raised his head to look at the people, Abd Talba would say: Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah, may my father and my mother be thy ransom, do not raise your head lest you be struck by an arrow shot by the enemy. My neck is before your neck. The narrator said: I saw Aisha bint Abu Bakr (RA) and Umm Sulaim, both of them had tucked up their garments, so I could see the anklets on their feet. They were carrying water-skins on their backs and would pour water into the mouths of the people. They would then go back (to the well), would fill them again and would return to pour water into the mouths of the soldiers. (On this day) Abu Talhas sword dropped down from his hands twice or thrice because of drowsiness.
جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خَمْسِ خِلَالٍ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَوْلَا أَنْ أَکْتُمَ عِلْمًا مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ کَتَبَ إِلَيْهِ نَجْدَةُ أَمَّا بَعْدُ فَأَخْبِرْنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَهَلْ کَانَ يَضْرِبُ لَهُنَّ بِسَهْمٍ وَهَلْ کَانَ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ وَمَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ وَعَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ فَکَتَبَ إِلَيْهِ ابْنُ عَبَّاسٍ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي هَلْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْزُو بِالنِّسَائِ وَقَدْ کَانَ يَغْزُو بِهِنَّ فَيُدَاوِينَ الْجَرْحَی وَيُحْذَيْنَ مِنْ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا بِسَهْمٍ فَلَمْ يَضْرِبْ لَهُنَّ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي مَتَی يَنْقَضِي يُتْمُ الْيَتِيمِ فَلَعَمْرِي إِنَّ الرَّجُلَ لَتَنْبُتُ لِحْيَتُهُ وَإِنَّهُ لَضَعِيفُ الْأَخْذِ لِنَفْسِهِ ضَعِيفُ الْعَطَائِ مِنْهَا فَإِذَا أَخَذَ لِنَفْسِهِ مِنْ صَالِحِ مَا يَأْخُذُ النَّاسُ فَقَدْ ذَهَبَ عَنْهُ الْيُتْمُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْخُمْسِ لِمَنْ هُوَ وَإِنَّا کُنَّا نَقُولُ هُوَ لَنَا فَأَبَی عَلَيْنَا قَوْمُنَا ذَاکَ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، سلیمان بن بلال، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز (رض) سے روایت ہے کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس (رض) سے پانچ باتوں کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو ابن عباس (رض) نے کہا اگر مجھے علم چھپانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نہ لکھتا، ان کی طرف نجدہ نے لکھا کہ آپ مجھے خبر دیں کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے اور کیا آپ ﷺ ان کے لئے حصہ مقرر فرماتے تھے اور کیا آپ بچوں کو قتل کرتے تھے اور یتیم کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور مال غنیمت کا پانچواں حصہ کس کا حق ہے۔ ابن عباس (رض) نے اس کی طرف (جواباً ) تحریر فرمایا تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا، کیا رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ عورتوں کو جہاد میں شریک کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ انہیں جہاد میں ساتھ لے جاتے تھے اور وہ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں اور انہیں مال غنیمت میں سے کچھ عطا بھی کیا جاتا تھا بہرحال مال غنیمت میں سے ان کے لئے حصہ مقرر نہ کیا جاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کرنا اور تو نے مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ یتیم کی یتیمی کب ختم ہوجاتی ہے، تو میری عمر کی قسم بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی داڑھی نکل آتی ہے لیکن وہ اپنے لینے اور دینے میں کمزور ہوتے ہیں پس جب وہ باسلیقہ لوگوں کی طرح اپنا فائدہ حاصل کرنے کے قابل ہوجائیں تو اس کی مدت یتیمی ختم ہوجائے گی اور تو نے مجھ سے مال غنیمت میں پانچواں حصہ کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا ہے کہ اس کا حقدار کون ہے ہم کہا کرتے تھے کہ وہ ہمارا حق ہے لیکن قوم نے ہمیں یہ حق دینے سے انکار کردیا۔
It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz that Najda wrote to Ibn Abbas (RA) inquiring of him five things. Ibn Abbas (RA) said: If I had not the fear of committing (sin) for concealing the knowledge I would not have written to him. Najda wrote to him saying (after praising the Almighty and invoking blessings on the Prophet): Tell me whether the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took women to participate with him in Jihad; (if he did), whether he allotted them a regular share from the booty; whether he killed the children of (the enemy in the war how long an orphan would be entitled to consideration as such and for whom the Kbums (fifth part of the booty) was booty. Ibn Abbas (RA) wrote to him: You have written asking me whether the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) took women with him to participate in Jihad. He did take them to the battle and sometimes he fought along with them. They would treat the wounded and were given a reward from the booty, but he did not assign any regular share for them. And the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not kill the children of the enemy, so thou shouldst not kill the children. Also you have written to me asking me when the orphanhood of an orphan comes to an end. By my life, if a man has become bearded but is still incapable of getting his due from others as well as meeting his obligation towards them, (he is yet an orphan to be treated you such), but when he can look after his interests like grown-up people, he is no longer an orphan. And you have written to me inquiring about Khums as to whom it is meant for. (In this connection) we (the kinsmen of the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to say: It is for us, but those people (i. e. Banu Umayya) have denied it to us.
جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ کِلَاهُمَا عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَعِيلَ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ کَتَبَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ خِلَالٍ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ حَاتِمٍ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ فَلَا تَقْتُلْ الصِّبْيَانَ إِلَّا أَنْ تَکُونَ تَعْلَمُ مَا عَلِمَ الْخَضِرُ مِنْ الصَّبِيِّ الَّذِي قَتَلَ وَزَادَ إِسْحَقُ فِي حَدِيثِهِ عَنْ حَاتِمٍ وَتُمَيِّزَ الْمُؤْمِنَ فَتَقْتُلَ الْکَافِرَ وَتَدَعَ الْمُؤْمِنَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، حاتم بن اسماعیل، جعفر بن محمد، یزید بن ہرمز، اس سند سے یہ حدیث مروی ہے حضرت یزید بن ہرمز سے ہے کہ نجدہ نے ابن عباس (رض) کی طرف لکھا اور اس نے چند باتوں کے بارے میں پوچھا باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ بچوں کو قتل نہ کیا کرتے تھے پس تو بھی بچوں کو قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے بھی وہ علم حاصل ہوجائے جو حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں عطا ہوا تھا جسے انہوں نے قتل کردیا دوسری روایت میں یہ اضافہ بھی ہے کہ تو مومن کی تمیز کر کافر کو قتل کر دے اور جو مومن ہو اسے چھوڑ دے۔
This tradition has been narrated by the game authority (Yazid bin Hurmus) through a different chain of transmitters with the following difference in the elucidation of one of the points raised by Najda in his letter to Ibn Abbas (RA) : The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used not to kill the children, so thou shouldst not kill them unless you could know what Khadir had known about the child he killed, or you could distinguish between a child who would grow up to be a believer (and a child who would grow up to be a non-believer), so that you killed the (prospective) non-believer and left the (prospective) believer aside.
جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ بْنُ عَامِرٍ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَةِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا وَعَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَعَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ الْيُتْمُ وَعَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ فَقَالَ لِيَزِيدَ اکْتُبْ إِلَيْهِ فَلَوْلَا أَنْ يَقَعَ فِي أُحْمُوقَةٍ مَا کَتَبْتُ إِلَيْهِ اکْتُبْ إِنَّکَ کَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْمَرْأَةِ وَالْعَبْدِ يَحْضُرَانِ الْمَغْنَمَ هَلْ يُقْسَمُ لَهُمَا شَيْئٌ وَإِنَّهُ لَيْسَ لَهُمَا شَيْئٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ قَتْلِ الْوِلْدَانِ وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقْتُلْهُمْ وَأَنْتَ فَلَا تَقْتُلْهُمْ إِلَّا أَنْ تَعْلَمَ مِنْهُمْ مَا عَلِمَ صَاحِبُ مُوسَی مِنْ الْغُلَامِ الَّذِي قَتَلَهُ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ الْيَتِيمِ مَتَی يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ وَإِنَّهُ لَا يَنْقَطِعُ عَنْهُ اسْمُ الْيُتْمِ حَتَّی يَبْلُغَ وَيُؤْنَسَ مِنْهُ رُشْدٌ وَکَتَبْتَ تَسْأَلُنِي عَنْ ذَوِي الْقُرْبَی مَنْ هُمْ وَإِنَّا زَعَمْنَا أَنَّا هُمْ فَأَبَی ذَلِکَ عَلَيْنَا قَوْمُنَا
ابن ابی عمر، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید مقبری، یزید بن ہرمز، حضرت یزید بن ہرمز (رض) سے روایت ہے کہ نجدہ بن عامر حروری نے حضرت ابن عباس (رض) سے غلام اور عورت کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ دونوں مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں حصہ دیا جائے گا اور بچوں کے قتل کے بارے میں اور یتیم کے بارے میں پوچھا کہ اس کی یتیمی کب ختم ہوتی ہے اور ذوی القربی کے بارے میں کہ وہ کون ہے تو ابن عباس (رض) نے یزید سے کہا اس کی طرف لکھو اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ وہ حماقت میں واقع ہوجائے گا تو اس کا جواب نہ لکھتا لکھو تو نے عورت اور غلام کے بارے میں مجھ سے پوچھنے کے لئے لکھا کہ اگر وہ مال غنیمت کی تقسیم کے وقت موجود ہوں تو کیا انہیں بھی کچھ ملے گا ان کے لئے سوائے عطیہ کے کوئی حصہ نہیں ہے اور تو نے مجھ سے بچوں کے قتل کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں قتل نہیں کیا اور تو بھی انہیں قتل نہ کر سوائے اس کے کہ تجھے وہ علم ہوجائے جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی (حضرت خضر (علیہ السلام) کو اس بچے کے بارے میں علم ہوگیا تھا جنہیں انہوں نے قتل کیا اور تو نے مجھ سے یتیم کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ یتیم سے یتیمی کب ختم ہوتی ہے یتیم سے یتیمی کا نام اس کے بالغ ہونے تک ختم نہیں ہوتا اور سمجھ کے آثار کے نمودار ہونے تک اور تو نے مجھ سے ذوالقربی کے بارے میں پوچھنے کے لئے لکھا کہ وہ کون ہیں ہمارا خیال تھا کہ وہ ہم ہیں لیکن ہماری قوم نے ہمارے بارے میں اس بات کا انکار کردیا۔
It has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz who said: Najda bin Amir al-Haruri wrote to Ibn Abbas (RA) asking him about the slave and the woman as to whether they would get a share from the booty (it they participated in Jihad); about the killing of (enemy) children (in war); about the orphan as to when his orphanhood comes to an end; about kinsmen (of the Holy Prophet) as to who they are. He said to Yazid: Write to him. (If he were not likely to fall into folly, I would not have written to him.) Write: You have written asking about the woman and the slave whether they would get a share of the booty if they participated in Jihad. (You should know that) there is nothing of the sort for them except that they will be given a prize. And you have written asking me about the killing of the enemy children in war. (You should understand that) the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peare be upon him) did not kill them. and thou shouldst not kill them unless thou knew what the companion of Moses (علیہ السلام) (i. e. Khadir) knew about the boy he had killed. And you have written asking me about the orphan as to when the period of his orphanhood comes to an end, so that the sobriquet of "orphan" is dropped from him. (In this regard, you should know that) the sobriquet "orphan" will not be dropped from him until he attains maturity of body and mind. And you have written asking me about the close relatives (of the Holy Prophet) as to who they are. We think that it is we, but our people have denied us this (position and its concomitant privileges).
جہاد کرنے والی عورتوں کو بطور عطیہ دینے اور غنیمت میں حصہ مقرر نہ کرنے کا حکم اور اہل حرب کے بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ يَزِيدَ بْنِ هُرْمُزَ قَالَ کَتَبَ نَجْدَةُ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِهِ قَالَ أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بِهَذَا الْحَدِيثِ بِطُولِهِ
عبدالرحمن بن بشر عبدی، سفیان، اسماعیل بن امیہ، سعید بن ابوسعید، یزید بن ہرمز، یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ نجدہ نے حضرت ابن عباس کو لکھا اور پھر آگے اسی طرح حدیث بیان کی۔
This hadith has been narrated on the authority of Yazid bin Hurmuz through another chain of transmitters.