حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي عَمِّي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي رَجُلٌ سَمَّاهُ وَعَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ عَنْ بُکَيْرٍ عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ حَدَّثَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْمَعْنَی
احمد بن عبدالرحمن، ابن وہب، عبداللہ بن وہب، عمرو بن حارث، بکیر، بسر بن سعید، عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر (رض) کی روایت نبی ﷺ سے اس طرح اس سند سے بھی مروی ہے۔
A hadith having the same meaning has been transmitted on the authority of Abdullah bin Umar.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَشْهَبِ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ عَادَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ الْمُزَنِيَّ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ فَقَالَ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ عَلِمْتُ أَنَّ لِي حَيَاةً مَا حَدَّثْتُکَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ عَبْدٍ يَسْتَرْعِيهِ اللَّهُ رَعِيَّةً يَمُوتُ يَوْمَ يَمُوتُ وَهُوَ غَاشٌّ لِرَعِيَّتِهِ إِلَّا حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ
شیبان بن فروخ، ابواشہب، حسن، عبیداللہ بن زیاد، معقل بن یسار مزنی، حضرت حسن (رض) سے مروی ہے کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار مزنی (رض) کی مرض وفات میں عیادت کے لئے گئے تو حضرت معقل نے کہا میں تجھ سے ایسی حدیث بیان کرتا ہوں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے اگر میں جانتا کہ میری زندگی باقی ہے تو میں بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے تھے جس بندہ کو اللہ نے رعیت پر ذمہ دار بنایا ہو اور جس دن وہ مرے خیانت کرنے والا ہو اپنی رعایا کے ساتھ تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی ہے۔
It has been narrated on the authority of Hasan who said: Ubaidullah b Ziyad visited Maqil bin Yasir al-Muzani in his last iliness. Maqil said (to him): I am narrating to you a tradition I heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . If I knew that I am to survive this illness. I would, not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: If God appointed anyone ruler over a people and he died while he was still treacherous to his people, God would forbid his entry into Paradize.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الْحَسَنِ قَالَ دَخَلَ ابْنُ زِيَادٍ عَلَی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ وَهُوَ وَجِعٌ بِمِثْلِ حَدِيثِ أَبِي الْأَشْهَبِ وَزَادَ قَالَ أَلَّا کُنْتَ حَدَّثْتَنِي هَذَا قَبْلَ الْيَوْمِ قَالَ مَا حَدَّثْتُکَ أَوْ لَمْ أَکُنْ لِأُحَدِّثَکَ
یحییٰ بن یحیی، یزید بن زریع، یونس، حسن بن زیاد، معقل بن یسار، حضرت حسن (رض) سے روایت ہے کہ ابن زیاد معقل بن یسار (رض) کے پاس حاضر ہوا اور وہ تکلیف میں تھے باقی حدیث اسی طرح ہے اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن زیاد نے کہا آپ نے یہ حدیث آج سے پہلے کیوں نہ بیان کی ؟ معقل نے فرمایا میں نے تیرے لئے بیان نہ کی یا فرمایا میں تجھے یہ بیان نہ کرتا۔
It has been narrated through a different chain of transmitters on the authority of Hasan who said: Ibn, Ziyad paid a visit to Maqil bin Yasir who was seriously ill. Here follows the same tradition as has gone before with the addition that Ibn Ziyad asked: Why didnt you narrate this tradition to me before this day? Maqil reprimanded him and said: I did not narrate it to you or I was not going to narrate it to you.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَی مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ إِنِّي مُحَدِّثُکَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْکَ بِهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمْ الْجَنَّةَ
ابوغسان سمعی، اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، اسحاق، معاذ بن ہشام، قتادہ، ابوملیح، عبیداللہ بن زیاد، حضرت ابوالملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد حضرت معقل بن یسار کی بیماری میں ان کے پاس آیا تو اس سے حضرت معقل نے فرمایا میں تجھے ایک حدیث بیان کرنے والا ہوں اور اگر میں مرض موت میں مبتلا نہ ہوتا تو میں یہ حدیث تجھے بیان نہ کرتا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس آدمی کو مسلمانوں کے کسی معاملہ کا حاکم بنایا جائے پھر وہ ان کی خیرخواہی اور بھلائی کے لئے جدوجہد نہ کرے تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہ ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Malik that Ubaidullah bin Ziyad visited Maqil bin Yaser in the latters illness. Maqil said to him: I am narrating to you a tradition. If I were not at deaths door, I would not narrate it to you. I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: A ruler who, having obtained control over the affairs of the Muslims, does not strive for their betterment and does not serve them sincerely shall not enter Paradise with them.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُکْرَمٍ الْعَمِّيُّ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَقَ أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ عَنْ مَعْقِلٍ
عقبہ بن مکرم، یعقوب بن اسحاق، سوادہ بن ابی اسود، ابومعقل بن یسار، عبیداللہ بن زیاد، حضرت ابواسود سے روایت ہے کہ حضرت معقل بن یسار بیمار ہوئے تو ان کے پاس عبیداللہ بن زیادہ ان کی عیادت کے لئے آیا باقی حدیث حسن کی حدیث کی طرح ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu al-Aswad who said: My father related to me that Maqil bin Yasir fell ill. Ubaidullah bin Ziyad called on him to inquire after his health. Here follows the tradition as narrated by Hasan from Maqil.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَی عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ فَقَالَ أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ شَرَّ الرِّعَائِ الْحُطَمَةُ فَإِيَّاکَ أَنْ تَکُونَ مِنْهُمْ فَقَالَ لَهُ اجْلِسْ فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ وَهَلْ کَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ إِنَّمَا کَانَتْ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ
شیبان بن فروخ، جریر بن حازم، حسن، عائذ بن عمرو، حضرت حسن (رض) سے روایت ہے کہ اصحاب رسول میں سے حضرت عائذ بن عمرو (رض) عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے تو فرمایا اے بیٹے میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے برے ذمہ داروں میں سے ظالم بادشاہ ہے تو اس بات سے پچنا کہ تو ان میں سے ہو تو ابن زیاد نے ان سے کہا تشریف رکھیں۔ تم تو اصحاب محمد کا تلچھٹ ہو، تو عائذ (رض) نے کہا : کیا اصحاب رسول ﷺ میں بھی تلچھٹ ہے بیشک تلچھٹ تو ان کے بعد یا ان کے غیر میں ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Hasan that Aidh bin Amr who was one of the Companions of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called on Ubaidullah bin Ziyad and said (to him): O my son, I have heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: The worst of guardians is the cruel ruler. Beware of being one of them. Ubaidullah said (to him out of arrogance): Sit you down. You are from the chaff of the Companions of Muhammad (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Aidh said: Was there worthless chaff among them? Such worthless chaff appeared after them and among other people.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ فَذَکَرَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَعَظَّمَ أَمْرَهُ ثُمَّ قَالَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَائٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ فَرَسٌ لَهُ حَمْحَمَةٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ شَاةٌ لَهَا ثُغَائٌ يَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ نَفْسٌ لَهَا صِيَاحٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ رِقَاعٌ تَخْفِقُ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ لَا أُلْفِيَنَّ أَحَدَکُمْ يَجِيئُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَی رَقَبَتِهِ صَامِتٌ فَيَقُولُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَغِثْنِي فَأَقُولُ لَا أَمْلِکُ لَکَ شَيْئًا قَدْ أَبْلَغْتُکَ
زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ابوحیان، ابی زرعہ، ابوہریرہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور مال غنیمت میں خیانت کا ذکر فرمایا اور اس کی مذمت بیان کی اور اس کو بڑا معاملہ قرار دیا پھر فرمایا میں تم میں سے کسی کو قیامت کے دن اس حال میں آتا ہوا نہ پاؤں کہ اس کی گردن پر اونٹ سوار ہوگا جو بڑبڑا رہا ہوگا اور وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں تو میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق ! میں تجھے پہنچا چکا میں تم میں کسی کو اس حال میں نہ پاؤں گا کہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کی گردن پر سوار گھوڑا ہنہناتا ہوگا وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں تجھ تک پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر سوار بکری منمنا رہی ہو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا کہ میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں تجھے پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر چیخنے والی کوئی جان ہو تو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے معاملہ میں کسی چیز کا مالک نہیں ہوں تحقیق میں پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئے کہ اس کی گردن پر لدے ہوئے کپڑے حرکت کر رہے ہوں تو وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے پیغام حق پہنچا چکا ہوں میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ قیامت کے دن آئے اور اس کی گردن پر سونا چاندی لدا ہوا ہوگا وہ کہے گا اے اللہ کے رسول میری مدد کریں میں کہوں گا میں تیرے لئے کسی چیز کا مالک نہیں ہوں میں تجھے اللہ کے احکام پہنچا چکا ہوں۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) who said: One day the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) stood among us (to deliver a sermon). He talked about the misappropriation of booty, and declared it to be a serious matter and a grave sin. Then he said: I shouldnt find that any of you should come on the Day of Judgment with a growling camel mounted on his neck, and should appeal to me for help saying:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already communicated to you. I shouldnt find that any of you should come on the Day of Judgment with a bleating ewe mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldnt find that one of you should come on the Day of Judgment with a Person crying loudly mounted on his neck, and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldnt find that any one of you should come on the Day of Judgment with fluttering clothes wrapped round his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me," and I should say: I have no authority to help you; I conveyed to you. I shouldnt find that any of you should come on the Day of Judgment with a heap of gold and silver placed on his neck and he should say to me:" Messenger of Allah, help me." and I should say: I have no authority to help you; I already conveyed to you (the warning from the Almighty).
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ أَبِي حَيَّانَ وَعُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ جَمِيعًا عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ بِمِثْلِ حَدِيثِ إِسْمَعِيلَ عَنْ أَبِي حَيَّانَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ابوحیان، زہیر بن حرب، جریر، ابوحیان، عمارہ بن قعقاع، ابوزرعہ، ابوہریرہ، اسی حدیث کی مزید اسناد ذکر کی ہیں۔
The above tradition has been narrated on the same authority through different chains of transmitters.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغُلُولَ فَعَظَّمَهُ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ قَالَ حَمَّادٌ ثُمَّ سَمِعْتُ يَحْيَی بَعْدَ ذَلِکَ يُحَدِّثُهُ فَحَدَّثَنَا بِنَحْوِ مَا حَدَّثَنَا عَنْهُ أَيُّوبُ
احمد بن سعید بن صخردارمی، سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب، یحییٰ بن سعید، ابوزرعہبن عمرو بن جریر، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں خیانت کرنے کا ذکر فرمایا تو اس کی سزا کی سختی کو بیان فرمایا باقی حدیث گزر چکی۔
Abu Hurairah (RA) has narrated this hadith with a slight variation of words.
حاکم عادل کی فضیلت اور ظالم حاکم کی سزا کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خِرَاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَيَّانَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
احمد بن حسن، ابن خراش، ابومعمر، عبدالوارث، ایوب، یحییٰ بن سعید بن حیان، ابوزرعہ، ابوہریرہ (رض) ، اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) has narrated this hadith similar to the above mentioned hadith.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَسْدِ يُقَالُ لَهُ ابْنُ اللُّتْبِيَّةِ قَالَ عَمْرٌو وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَلَی الصَّدَقَةِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا لِي أُهْدِيَ لِي قَالَ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ وَقَالَ مَا بَالُ عَامِلٍ أَبْعَثُهُ فَيَقُولُ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ لِي أَفَلَا قَعَدَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ أَوْ فِي بَيْتِ أُمِّهِ حَتَّی يَنْظُرَ أَيُهْدَی إِلَيْهِ أَمْ لَا وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا يَنَالُ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْهَا شَيْئًا إِلَّا جَائَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَحْمِلُهُ عَلَی عُنُقِهِ بَعِيرٌ لَهُ رُغَائٌ أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةٌ تَيْعِرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی رَأَيْنَا عُفْرَتَيْ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ مَرَّتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، زہری، عروہ، ابوحمید ساعدی، حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنواسد میں سے ایک آدمی کو زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے عامل مقرر فرمایا جسے ابن تبیہ کہا جاتا تھا جب وہ واپس آیا تو اس نے کہا یہ تمہارے لئے اور یہ میرے لئے ہے جو مجھے ہدیہ دیا گیا ہے رسول اللہ ﷺ منبر پر تشریف فرما ہوئے اللہ کی حمدوثنا بیان کی اور فرمایا عامل کا کیا حال ہے جسے میں نے بھیجا (صدقہ وصول کرنے کے لئے) وہ آکر کہتا ہے کہ یہ تمہارے لئے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے اس نے اپنے باپ یا ماں کے گھر میں بیٹھے ہوئے کا انتظار کیوں نہ کیا کہ اس کو ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے تم میں سے جس نے بھی اس مال میں سے کوئی چیز لی تو وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے مال کو اپنی گردن پر اٹھاتا ہوگا اونٹ بڑبڑاتا ہوگا یا گائے ڈکار رہی ہوگی یا بکری منمناتی ہوگی پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھوں کو اتنا بلند کیا کہ ہم نے آپ ﷺ کے بغلوں کی سفیدی دیکھی پھر دو مرتبہ فرمایا اے اللہ میں نے پیغام پہنچا دیا۔
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Saidi who said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed a man from the Asad tribe who was called Ibn Lutbiyya in charge of Sadaqa (i. e. authorised hign to receive Sadaqa from the people on behalf of the State. When he returned (with the collictions), he said: This is for you and (this is mine as) it was presented to me as a gift. The narrator said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upod him) stood on the pulpit and praised God and extolled Him. Then he said: What about a State official whom I give an assignment and who (comes and) says: This is for you and this has been presented to me as a gift? Why didnt he remain in the house of his father or the house of his mother so that he could observe whether gifts were presented to him or not. By the Being in Whose Hand is the life of Muhammad, any one of you will not take anything from it but will bring it on the Day of Judgment, carrying on his neck a camel that will be growling, or a cow that will be bellowing or an ewe that will be bleating. Then he raised his hands so that we could see the whiteness of his armpits. Then he said twice: O God, I have conveyed (Thy Commandments).
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ اللُّتْبِيَّةِ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ عَلَی الصَّدَقَةِ فَجَائَ بِالْمَالِ فَدَفَعَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَذَا مَالُکُمْ وَهَذِهِ هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَلَا قَعَدْتَ فِي بَيْتِ أَبِيکَ وَأُمِّکَ فَتَنْظُرَ أَيُهْدَی إِلَيْکَ أَمْ لَا ثُمَّ قَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ سُفْيَانَ
اسحاق بن ابراہیم، عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت ابوحمید ساعدی (رض) سے روایت ہے کہ قبیلہ ازد کے ایک آدمی ابن تبیہ کو نبی کریم ﷺ نے زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے عامل مقرر فرمایا اس نے مال لا کر نبی ﷺ کی خدمت میں پیش کیا اور کہا یہ تمہارا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے دیا گیا تو اسے نبی ﷺ نے فرمایا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا پھر ہم دیکھتے کہ تجھے ہدیہ دیا جاتا ہے یا نہیں پھر نبی ﷺ خطبہ کے لئے کھڑے ہوئے باقی حدیث گزر چکی۔
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Saidi who said: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorising him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collectio, gave it to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Why didnt you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ قَالَ اسْتَعْمَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا مِنْ الْأَزْدِ عَلَی صَدَقَاتِ بَنِي سُلَيْمٍ يُدْعَی ابْنَ الْأُتْبِيَّةِ فَلَمَّا جَائَ حَاسَبَهُ قَالَ هَذَا مَالُکُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَهَلَّا جَلَسْتَ فِي بَيْتِ أَبِيکَ وَأُمِّکَ حَتَّی تَأْتِيَکَ هَدِيَّتُکَ إِنْ کُنْتَ صَادِقًا ثُمَّ خَطَبَنَا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَی عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْکُمْ عَلَی الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ فَيَأْتِي فَيَقُولُ هَذَا مَالُکُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّی تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ کَانَ صَادِقًا وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْکُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَی يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْکُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَائٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّی رُئِيَ بَيَاضُ إِبْطَيْهِ ثُمَّ قَالَ اللَّهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنِي
ابوکریب، محمد بن علاء، ابواسامہ، ہشام، ابوحمید ساعدی، حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ ازد کے ایک آدمی جسے تبیہ کہا جاتا تھا کہ بنو سلیم کی زکوٰۃ وصول کرنے کے لئے عامل مقرر فرمایا جب وہ آیا تو اس نے مال کا حساب کیا اور کہا یہ تمہارا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تو اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا یہاں تک کہ تیرے پاس تیرا ہدیہ لایا جاتا اگر تو سچا ہے پھر آپ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا پس اللہ کی حمد وثناء بیان فرمائی پھر فرمایا امابعد میں تم سے ایک آدمی کو کسی کام کے لئے عامل مقرر کرتا ہوں جس کا انتظام اللہ نے میرے سپرد کیا ہے وہ آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ مال تمہارا ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا وہ اپنے باپ یا ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا یہاں تک کہ اس کے پاس اس کا ہدیہ لایا جائے اگر وہ سچا ہے اللہ کی قسم مال زکوٰۃ میں سے تم میں سے جو بھی بغیر حق کے کچھ بھی لیتا ہے تو قیامت کے دن اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ وہی مال اس پر لادا ہوا ہوگا پس تم میں سے اس شخص کو میں ضرور پہچان لوں گا کہ وہ اونٹ بڑبڑاتا ہوا یا گائے ڈکراتی ہوئی یا بکری منمناتی ہوئی اس کی گردن پر سوار ہوں گے پھر آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ بلند کئے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی دیکھی گئی پھر فرمایا اے اللہ کیا میں نے پیغام حق پہنچا نہ دیا ہے جسے میری آنکھوں نے دیکھا اور کانوں نے سنا ہے۔
It has been reported on the authority of Abu Humaid as-Saidi who said: The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed Ibn Lutbiyya, a man from the Azd tribe, in charge of Sadaqa (authorising him to receive gifts from the people on behalf of the State). He came with the collectio, gave it to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . and said: This wealth is for you and this is a gift presented to me. The Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Why didnt you remain in the house of your father and your mother to see whether gifts were presented to you or not. Then he stood up to deliver a sermon. Here follows the tradition like the tradition of Sufyan.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ کُلُّهُمْ عَنْ هِشَامٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ عَبْدَةَ وَابْنِ نُمَيْرٍ فَلَمَّا جَائَ حَاسَبَهُ کَمَا قَالَ أَبُو أُسَامَةَ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ نُمَيْرٍ تَعْلَمُنَّ وَاللَّهِ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدُکُمْ مِنْهَا شَيْئًا وَزَادَ فِي حَدِيثِ سُفْيَانَ قَالَ بَصُرَ عَيْنِي وَسَمِعَ أُذُنَايَ وَسَلُوا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ فَإِنَّهُ کَانَ حَاضِرًا مَعِي
ابوکریب، عبدہ، ابن نمیر، ابومعاویہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، عبدالرحیم بن سلیمان، ابن ابی عمر، سفیان، ہشام، عبدہ، ابن نمیر، حضرت عبدہ اور بن نمیر سے ہی روایت ہے کہ اسی طرح منقول ہے کہ جب وہ آدمی آیا اور اس نے حساب کیا اور ابن نمیر کی حدیث میں یہ ہے کہ تم جان لوگے اللہ کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے تم میں سے کوئی کچھ بھی نہیں لیتا سفیان کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ میری آنکھوں نے دیکھا اور میرے کانوں نے سنا اور تم حضرت زید بن ثابت سے پوچھ لو کیونکہ وہ بھی میرے ساتھ موجود تھے۔
This tradition has been hanoed down through a different chain of transmitters on the authority of Hisham with aslight variation in the wording.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ذَکْوَانَ وَهُوَ أَبُو الزِّنَادِ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَی الصَّدَقَةِ فَجَائَ بِسَوَادٍ کَثِيرٍ فَجَعَلَ يَقُولُ هَذَا لَکُمْ وَهَذَا أُهْدِيَ إِلَيَّ فَذَکَرَ نَحْوَهُ قَالَ عُرْوَةُ فَقُلْتُ لِأَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَسَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مِنْ فِيهِ إِلَی أُذُنِي
اسحاق بن ابراہیم، جریر، شیبانی، عبداللہ بن ذکوان، ابوزناد، عروہ بن زبیر، ابوحمید ساعدی، حضرت ابوحمید ساعدی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی کو صدقہ کی وصولی کے لئے عامل مقرر فرمایا وہ کثیر مال لے کر حاضر ہوا اور کہنے لگا یہ تمہارے لئے ہے اور یہ مجھے ہدیہ دیا گیا ہے پھر اسی طرح حدیث ذکر فرمائی عروہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوحمید ساعدی سے پوچھا کیا تم نے رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث سنی تو انہوں نے کہا آپ ﷺ کے منہ مبارک سے میرے کانوں نے سنا۔
It has been narrated on the authority of Abu Humaid as-Saidi that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) appointed a man in charge of Sadaqa (authorising him to receive charity from the people on behalf of the State). He came (back to the Holy prophet) with a large number of things and started saying: This is for you and this has been presented to me as a gift. Here follows the tradition that has gone before except that Urwa (one of the narrators in the chain of transmitters) asked Abu Humaid: Did you hear it from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (himself) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ? He replied: My ears heard it from his mouth.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ عَمِيرَةَ الْکِنْدِيِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَکَتَمْنَا مِخْيَطًا فَمَا فَوْقَهُ کَانَ غُلُولًا يَأْتِي بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ فَقَامَ إِلَيْهِ رَجُلٌ أَسْوَدُ مِنْ الْأَنْصَارِ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اقْبَلْ عَنِّي عَمَلَکَ قَالَ وَمَا لَکَ قَالَ سَمِعْتُکَ تَقُولُ کَذَا وَکَذَا قَالَ وَأَنَا أَقُولُهُ الْآنَ مَنْ اسْتَعْمَلْنَاهُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَلْيَجِئْ بِقَلِيلِهِ وَکَثِيرِهِ فَمَا أُوتِيَ مِنْهُ أَخَذَ وَمَا نُهِيَ عَنْهُ انْتَهَی
ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع بن جراح، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، عدی بن عمیرہ کندی، حضرت عدی بن عمیر کندی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جس آدمی کو ہم کسی پر عامل مقرر کریں اور اس نے ہم سے ایک سوئی یا اس سے بھی کسی کم چیز کو چھپالیا تو یہ خیانت ہوگی اور وہ قیامت کے دن اسے لے کر حاضر ہوگا تو آپ ﷺ کے سامنے ایک سیاہ رنگ کا آدمی انصار میں سے کھڑا ہوا گویا میں اسے ابھی دیکھ رہا ہوں تو اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! آپ ﷺ مجھ سے اپنا کام واپس لے لیں آپ ﷺ نے فرمایا تجھے کیا ہے اس نے عرض کیا میں نے آپ ﷺ کو اس اس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے آپ ﷺ نے فرمایا میں اب بھی یہی کہتا ہوں کہ تم میں سے جس کو ہم کسی کا عامل مقرر کریں تو اسے چاہئے کہ وہ ہر کم اور زیادہ چیز لے کر آئے پس اس کے بعد اسے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس چیز سے اسے منع کیا جائے اس سے رک جائے۔
It has been reported on the authority of Adi bin Amira al-Kindi who said: I heard the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: Whoso from you is appointed by us to a position of authority and he conceals from us a needle or something smaller than that, it would be misappropriation (of public funds) and will (have to) produce it on the Day of Judgment. The narrator says: A dark-complexioned man from the Ansar stood up-I can visualise him still-and said: Messenger of Allah, take back from me your assignment. He said: What has happened to you? The man said: I have heard you say so and so. He said: I say that (even) now: Whoso from you is appointed by as to a position of authority, he should bring everything, big of small, and whatever he is given therefrom he should take, and he should restrain himself from taking that which is forbidden.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
و حَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ بِمِثْلِهِ
محمد بن عبداللہ، ابن نمیر، محمد بن بشر، محمد بن رافع، ابواسامہ، اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ismail with the same chain of transmitters.
سرکاری ملازمین کے لئے تحائف وصول کرنے کی حرمت کے بیان
و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحَنْظَلِيُّ أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ أَخْبَرَنَا قَيْسُ بْنُ أَبِي حَازِمٍ قَالَ سَمِعْتُ عَدِيَّ بْنَ عَمِيرَةَ الْکِنْدِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ
اسحاق بن ابراہیم حنظلی، فضل بن موسی، اسماعیل بن ابی خالد، قیس بن ابی حازم، عدی بن عمیرہ کندی سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اس کے بعد وہی حدیث روایت کی۔
Adi bin Amira al-Kindi heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying (as) was narrated in the (above-mentioned) hadith.
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا حَجَّاحُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ نَزَلَ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْکُمْ فِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُذَافَةَ بْنِ قَيْسِ بْنِ عَدِيٍّ السَّهْمِيِّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ أَخْبَرَنِيهِ يَعْلَی بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ
زہیر بن حرب، ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، حضرت ابن جریج (رض) سے روایت ہے کہ قرآن مجید کی آیت (يٰ اَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْ ا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ ) 4 ۔ النساء : 59) حضرت عبداللہ بن حذافہ بن قیس بن عدی شعبی کے بارے میں نازل ہوئی جنہیں نبی ﷺ نے ایک سریہ میں بھیجا تھا ابن جریج نے یہ حدیث حضرت ابن عباس (رض) سے روایت کی ہے۔
It has been narrated on the authority of Ibn Juraij that the Quranic injunction:" O you who believe, obey Allah, His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and those in authority from amongst You" (iv. 59) -was revealed in respect of Abdullah bin Hudhafa bin Qais bin Adi al-Shabi who was despatched by the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as leader of a military campaign. The narrator said: He was informed of this fact by Yala bin Muslim who was informed by Said bin Jubair who in turn was informed by Ibn Abbas (RA) .
غیر معصیت میں حاکموں کی اطاعت کے وجوب اور گناہ کے امور میں اطاعت کرنے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِزَامِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَطَاعَنِي فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ وَمَنْ يَعْصِنِي فَقَدْ عَصَی اللَّهَ وَمَنْ يُطِعْ الْأَمِيرَ فَقَدْ أَطَاعَنِي وَمَنْ يَعْصِ الْأَمِيرَ فَقَدْ عَصَانِي
یحییٰ بن یحیی، مغیرہ بن عبدالرحمن حزامی، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے میری اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی اس نے اللہ کی نافرمانی کی اور جو امیر کی اطاعت کرتا ہے اس نے میری اطاعت کی اور جو امیر کی نافرمانی کرتا ہے اس نے میری نافرمانی کی۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Holy prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whoso obeys me obeys God, and whoso disobeys me disobeys God. Whoso obeys the commander (appointed by me) obeys me, and whoso disobeys the commander disobeys me.