Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 228 of 379

4548Sahih Muslimصحیح

دشمن سے ملاقات (جنگ) کے وقت نصرت کی دعا کرنے کے استح کے بیان میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ قَالَا حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ وُجِدَتْ امْرَأَةٌ مَقْتُولَةً فِي بَعْضِ تِلْکَ الْمَغَازِي فَنَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ قَتْلِ النِّسَائِ وَالصِّبْيَانِ

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، ابواسامہ، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ کسی غزوہ میں ایک عورت مقتولہ پائی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔

It is narrated by Ibn Umar that a woman was found killed in one of these battles; so the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade the killing of women and children.

4549Sahih Muslimصحیح

شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الذَّرَارِيِّ مِنْ الْمُشْرِکِينَ يُبَيَّتُونَ فَيُصِيبُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وَذَرَارِيِّهِمْ فَقَالَ هُمْ مِنْهُمْ

یحییٰ بن یحیی، سعید بن منصور، عمرو ناقد، ابن عیینہ، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری، عبیداللہ، ابن عباس، حضرت صعب (رض) بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ نبی ﷺ سے شب خون میں مشرکوں کے بچوں کے بارے میں پوچھا گیا کہ ان کا کیا حکم ہے تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ بھی انہی میں سے ہیں۔

It is reported on the authority of Sab bin Jaththama that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , when asked about the women and children of the polytheists being killed during the night raid, said: They are from them.

4550Sahih Muslimصحیح

شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نُصِيبُ فِي الْبَيَاتِ مِنْ ذَرَارِيِّ الْمُشْرِکِينَ قَالَ هُمْ مِنْهُمْ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، عبیداللہ بن عبداللہ بن عقبہ، ابن عباس، حضرت صعب (رض) بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ہمارے شب خون مارنے میں مشرکوں کے بچے بھی مارے جاتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا وہ انہی میں سے ہیں۔

It is narrated by Sab bin Jaththama that he said (to the Holy Prophet): Messenger of Allah, we kill the children of the polytheists during the night raids. He said: They are from them.

4551Sahih Muslimصحیح

شب خون میں بلا ارادہ عورتوں اور بچوں کے مارے جانے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ الصَّعْبِ بْنِ جَثَّامَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِيلَ لَهُ لَوْ أَنَّ خَيْلًا أَغَارَتْ مِنْ اللَّيْلِ فَأَصَابَتْ مِنْ أَبْنَائِ الْمُشْرِکِينَ قَالَ هُمْ مِنْ آبَائِهِمْ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، ابن شہاب، عبیدللہ بن عبداللہ بن عتبہ، ابن عباس، حضرت صعب بن جثامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ اگر فوج کا کوئی لشکر شب خون مارے اور ان کے ہاتھوں مشرکوں کے بچے بھی مارے جائیں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا وہ بھی اپنے باپ دادا میں سے ہیں۔

Sab bin Jaththama has narrated that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) asked: What about the children of polytheists killed by the cavalry during the night raid? He said: They are from them.

4552Sahih Muslimصحیح

کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ زَادَ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بویرہ میں بنو نضیر کے درختوں کو جلا دیا اور کاٹ ڈالا قتیبہ اور ابن رمح کی حدیثوں میں یہ اضافہ ہے اللہ نے آیت نازل فرمائی تم نے جن درختوں کو کاٹا یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ اللہ کی اجازت سے تھا تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کر دے (الحشر : ٥)

It is narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added: So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse: "Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers" (lix. 5).

4553Sahih Muslimصحیح

کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَهَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطَعَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَحَرَّقَ وَلَهَا يَقُولُ حَسَّانُ وَهَانَ عَلَی سَرَاةِ بَنِي لُؤَيٍّ حَرِيقٌ بِالْبُوَيْرَةِ مُسْتَطِيرُ وَفِي ذَلِکَ نَزَلَتْ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا الْآيَةَ

سعید بن منصور، ہناد بن سری، ابن مبارک، موسیٰ بن عقبہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درختوں کو کاٹ دیا اور ان کو جلا ڈالا اور ان کے لئے حضرت حسان (رض) فرماتے ہیں بنی لوئی کے سرداروں کے ہاں بویرہ میں آگ لگا دینا معمولی بات ہے اور اس بارے میں آیت نازل ہوئی تم نے جن درختوں کو کاٹا جن کو تم نے ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا۔

It is narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) caused the date-palms of Banu Nadir to be cut down and burnt. It is in this connection that Hassan (the poet) said: It was easy for the nobles of Quraish to burn Buwaira whose sparks were flying in all directions. in the same connection was revealed the Quranic verse: "Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks."

4554Sahih Muslimصحیح

کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ عُثْمَانَ أَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّکُونِيُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ حَرَّقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ

سہل بن عثمان، عقبہ بن خالد سکونی، عبیداللہ بن نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درختوں کو جلوا ڈالا۔

Abdullah bin Umar (RA) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) burnt the date-palms of Banu Nadir.

4555Sahih Muslimصحیح

خاص اس امت محمدیہ کے لئے غنیمت کا مال حلال ہونے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ مَعْمَرٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَزَا نَبِيٌّ مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَقَالَ لِقَوْمِهِ لَا يَتْبَعْنِي رَجُلٌ قَدْ مَلَکَ بُضْعَ امْرَأَةٍ وَهُوَ يُرِيدُ أَنْ يَبْنِيَ بِهَا وَلَمَّا يَبْنِ وَلَا آخَرُ قَدْ بَنَی بُنْيَانًا وَلَمَّا يَرْفَعْ سُقُفَهَا وَلَا آخَرُ قَدْ اشْتَرَی غَنَمًا أَوْ خَلِفَاتٍ وَهُوَ مُنْتَظِرٌ وِلَادَهَا قَالَ فَغَزَا فَأَدْنَی لِلْقَرْيَةِ حِينَ صَلَاةِ الْعَصْرِ أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِکَ فَقَالَ لِلشَّمْسِ أَنْتِ مَأْمُورَةٌ وَأَنَا مَأْمُورٌ اللَّهُمَّ احْبِسْهَا عَلَيَّ شَيْئًا فَحُبِسَتْ عَلَيْهِ حَتَّی فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْهِ قَالَ فَجَمَعُوا مَا غَنِمُوا فَأَقْبَلَتْ النَّارُ لِتَأْکُلَهُ فَأَبَتْ أَنْ تَطْعَمَهُ فَقَالَ فِيکُمْ غُلُولٌ فَلْيُبَايِعْنِي مِنْ کُلِّ قَبِيلَةٍ رَجُلٌ فَبَايَعُوهُ فَلَصِقَتْ يَدُ رَجُلٍ بِيَدِهِ فَقَالَ فِيکُمْ الْغُلُولُ فَلْتُبَايِعْنِي قَبِيلَتُکَ فَبَايَعَتْهُ قَالَ فَلَصِقَتْ بِيَدِ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فَقَالَ فِيکُمْ الْغُلُولُ أَنْتُمْ غَلَلْتُمْ قَالَ فَأَخْرَجُوا لَهُ مِثْلَ رَأْسِ بَقَرَةٍ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَوَضَعُوهُ فِي الْمَالِ وَهُوَ بِالصَّعِيدِ فَأَقْبَلَتْ النَّارُ فَأَکَلَتْهُ فَلَمْ تَحِلَّ الْغَنَائِمُ لِأَحَدٍ مِنْ قَبْلِنَا ذَلِکَ بِأَنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی رَأَی ضَعْفَنَا وَعَجْزَنَا فَطَيَّبَهَا لَنَا

ابوکریب، محمد بن علاء، ابن مبارک، معمر، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی احادیث میں سے ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) میں سے ایک نبی نے جہاد کیا اور اپنی قوم سے انہوں نے فرمایا جس آدمی نے ابھی شادی کی ہو اور اس نے ابھی تک شب زفاف نہ گزاری ہو اور وہ یہ چاہتا ہو کہ اپنی بیوی کے ساتھ رات گزارے تو وہ آدمی میرے ساتھ نہ چلے اور نہ ہی وہ آدمی میرے ساتھ چلے کہ جس نے مکان بنایا ہو اور ابھی تک اس کی چھت نہ ڈالی ہو اور میرے ساتھ وہ بھی نہ جائے جس نے بکریاں اور گابھن اونٹیاں خریدی ہوں اور وہ ان کے بچہ جننے کا انتظار میں ہو راوی کہتے ہیں کہ اس نبی ﷺ نے جہاد کیا وہ عصر کی نماز یا اس کے قریب وقت میں ایک گاؤں کے قریب آئے تو انہوں نے سورج سے کہا تو بھی مامور ہے اور میں بھی مامور ہوں اے اللہ اس سورج کو کچھ دیر مجھ پر روک دے پھر سورج کو ان پر روک دیا گیا یہاں تک کہ اللہ نے ان کو فتح عطا فرمائی پھر انہوں نے غنیمت کا مال جمع فرمایا پھر اس مال غنیمت کو کھانے کے لئے آگ آئی تو اس آگ نے اسے کھانے سے انکار کردیا یعنی نہ کھایا انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کسی نے اس کی خیانت کی ہے تو ہر قبیلہ کا ایک آدمی مجھ سے بیعت کرے پھر سب قبیلوں کے آدمیوں نے بیعت کی تو ایک شخص کا ہاتھ نبی کی ہاتھ کے ساتھ چپک گیا اللہ کے نبی ﷺ نے اس آدمی سے فرمایا اس مال میں خیانت کرنے والا آدمی تمہارے قبیلہ میں ہے تو اب پورا قبیلہ میرے ہاتھ پر بیعت کرے انہوں نے بیعت کی تو پھر دو یا تین آدمیوں کا ہاتھ ان کے ہاتھ سے چپک کیا تو اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا تم نے خیانت کی ہے پھر وہ گائے کے سر کے برابر سونا نکال کر لائے نبی نے فرمایا کہ تم اسے مال غنیمت میں اونچی جگہ میں رکھ دو تو آگ نے اسے قبول کیا اور کھالیا آپ (علیہ السلام) نے فرمایا ہم سے پہلے کسی کے لئے مال غنیمت حلال نہیں تھا اللہ تعالیٰ نے ہماری کمزوری اور عاجزی دیکھی تو ہماری لئے مال غنیمت کو حلال فرما دیا۔

It has been narrated by Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: One of the Prophets made a holy war. He said to his followers: One who has married a woman and wants to consummate to his marriage but has not yet done so; another who has built a house but has not yet erected its roof; and another who has bought goats and pregnant she-camels and is waiting for their offspring-will not accommpany me. So he marched on and approached a village at or about the time of the Asr prayers. He said to the sun: Thou art subserviant (to Allah) and so am I. O Allah, stop it for me a little. It was stopped for him until Allah granted him victory. The people gathered the spoils of war (at one place). A fire approached the spoils to devour them, but it did not devour them. He (the Holy Prophet) said: Some of you have been guilty of misappropriation. So one man from each tribe should swear fealty to me. They did so (putting their hands into his). The hand of one man stuck to his hand and the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Your tribe is guilty of misappropriation. Let all the members of your tribe swear fealty to me one by one. They did so, when the hands of two or three persons got stuck with his hand. He said: You have misappropriated. So they took out gold equal in volume to the head of a cow. They-placed it among the spoils on the earth. Then the fire approached the spoils and devoured them. The spoils of war were not made lawful for any people before us, This is because Allah saw our weakness and humility and made them lawful for us.

4556Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ سِمَاکٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ أَخَذَ أَبِي مِنْ الْخُمْسِ سَيْفًا فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ هَبْ لِي هَذَا فَأَبَی فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ

قتیبہ بن سعید، ابوعوانہ، سماک، حضرت مصعب بن سعد (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے باپ نے خمس کے مال میں سے ایک تلوار لے لی اور اسے نبی ﷺ کے پاس لے کر آئے اور عرض کیا کہ یہ تلوار مجھے ہبہ فرما دیں تو آپ ﷺ نے انکار فرمایا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی لوگ آپ ﷺ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول اللہ ﷺ کے لئے ہیں۔

A hadith has been narrated by Musab bin Sad who heard it from his father as saying: My father took a sword from Khums and brought it to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and said: Grant it to me. He refused. At this Allah revealed (the Quranic verse): "They ask thee concerning the spoils of war. Say: The spoils of war are for Allah and the Apostle" (viii. 1).

4557Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سِمَاکِ بْنِ حَرْبٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَزَلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ أَصَبْتُ سَيْفًا فَأَتَی بِهِ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ فَقَالَ ضَعْهُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ ثُمَّ قَامَ فَقَالَ نَفِّلْنِيهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ضَعْهُ فَقَامَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَفِّلْنِيهِ أَؤُجْعَلُ کَمَنْ لَا غَنَائَ لَهُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَعْهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ قَالَ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ سماک بن حرب، حضرت مصعب (رض) بن سعد اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ میرے بارے میں چار آیتیں نازل ہوئیں ایک دفعہ میں نے تلوار لی اور اسے لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں آیا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے رکھ دو پھر جب میں کھڑا ہوا تو مجھے نبی ﷺ نے فرمایا یہ تلوار تم نے جہاں سے لی اسے وہیں رکھ دو تو میں کھڑا ہوا اور پھر عرض کیا اے اللہ کے رسول یہ تلوار مجھے عطا فرما دیں کیا میں اس آدمی کی طرح ہوجاؤں گا کہ جس کا اس کے بغیر گزارہ نہیں تو نبی ﷺ نے اس سے فرمایا جہاں سے تم نے یہ تلوار لی ہے اسے وہیں رکھ دو پھر یہ آیت نازل ہوئی کہ لوگ آپ ﷺ سے انفال کے بارے میں سوال کرتے ہیں آپ ﷺ فرما دیجئے کہ انفال اللہ اور رسول ﷺ کے لئے ہے۔

A hadith has been narrated by Musab bin Sad who heard it from his father as saying: "Four verses of the Quran have been revealed about me. I found a sword (among the spoils of war). It was brought to the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He (my father) said: Messenger of Allah, bestow it upon me. The Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Place it there. Then he (my father) stood up and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said to him: Place it from where you got it. (At this) he (my father) said again: Messenger of Allah, bestow it upon me. Shall I be treated like one who has no share in (the booty)? The Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be upon him said: Place it from where you got it. At this was revealed the verse: "They ask thee about the spoils of war.... Say: The spoils of war are for Allah and the Messenger"

4558Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً وَأَنَا فِيهِمْ قِبَلَ نَجْدٍ فَغَنِمُوا إِبِلًا کَثِيرَةً فَکَانَتْ سُهْمَانُهُمْ اثْنَا عَشَرَ بَعِيرًا أَوْ أَحَدَ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا بَعِيرًا بَعِيرًا

یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک لشکر بھیجا اور ان میں میں بھی تھا تو وہاں ہم نے غنیمت کے بہت سے اونٹ پائے تو ان سب کے حصہ میں بارہ بارہ یا گیارہ گیارہ اونٹ آئے اور ایک اونٹ زائد بھی ملا۔

It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent an expedition to Najd and I was among the troops. They got a large number of camels as a booty. Eleven or twelve camels fell to the lot of every fighter and each of them also got one extra camel.

4559Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَرِيَّةً قِبَلَ نَجْدٍ وَفِيهِمْ ابْنُ عُمَرَ وَأَنَّ سُهْمَانَهُمْ بَلَغَتْ اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنُفِّلُوا سِوَی ذَلِکَ بَعِيرًا فَلَمْ يُغَيِّرْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا اور ان میں حضرت ابن عمر (رض) بھی تھے تو ان کے حصہ میں بارہ اونٹ آئے اور اس کے علاوہ ایک اونٹ زیادہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے اس تقسیم میں کوئی تبدیلی نہیں فرمائی۔

Ibn Umar reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent an expedition to Najd and Ibn Umar (RA) was also among the troops, and their share (of the spoils) came to twelve camels and they were given one camel over and above that and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) did not make any change in it.

4560Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَعَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً إِلَی نَجْدٍ فَخَرَجْتُ فِيهَا فَأَصَبْنَا إِبِلًا وَغَنَمًا فَبَلَغَتْ سُهْمَانُنَا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا اثْنَيْ عَشَرَ بَعِيرًا وَنَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا بَعِيرًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالرحیم بن سلیمان، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے قبیلہ نجد کی طرف ایک سریہ بھیجا تو میں بھی ان میں مل کر نکل گیا تو وہاں ہمیں بہت سے اونٹ اور بکریاں ملیں ہمارے حصہ میں بارہ بارہ اونٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایک ایک اونٹ زیادہ عطا فرمایا۔

It has been narrated by Ibn Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent an expedition to Najd, and I (also) went with the troops. We got camels and goats as spoils of war, and our share amounted to twelve camels per head, and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave an extra camel to each of us.

4561Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ

زہیر بن حرب، محمد بن مثنی، یحیی، قطاب، حضرت عبیداللہ سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث روایت کی گئی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters.

4562Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ قَالَ کَتَبْتُ إِلَی نَافِعٍ أَسْأَلُهُ عَنْ النَّفَلِ فَکَتَبَ إِلَيَّ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ کَانَ فِي سَرِيَّةٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي مُوسَی ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ

ابوربیع، ابوکامل، ایوب، ابن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، ابن عمر، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، موسی، ہارون ایلی، ابن وہب، اسامہ، حضرت نافع سے ان سندوں کے ساتھ انہی حدیثوں کی طرح یہ حدیث نقل کی گئی ہے۔

Ibn Aun said: I wrote to Nafi asking him about Nafl (spoils of war) and he wrote to me that Ibn Umar was among that expedition. (The rest of the hadith is the same.)

4563Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ وَعَمْرٌو النَّاقِدُ وَاللَّفْظُ لِسُرَيْجٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَائٍ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ نَفَّلَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفَلًا سِوَی نَصِيبِنَا مِنْ الْخُمْسِ فَأَصَابَنِي شَارِفٌ وَالشَّارِفُ الْمُسِنُّ الْکَبِيرُ

سریج بن یونس، عمرو ناقد، عبداللہ بن رجاء، یونس، زہری، حضرت سالم (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خمس میں سے ہمارا جو حصہ بنتا تھا اس کے علاوہ بھی آپ ﷺ نے ہمیں عطا فرمایا تو مجھے شارف ملا اور شارف بڑی عمر کا اونٹ ہوتا ہے۔

A hadith has been narrated by Salim who learnt it from his father and said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave us an extra (camel) besides our share of Khums; (and in this extra share) I got a Sharif (and a Sharif is a big old camel).

4564Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ کِلَاهُمَا عَنْ يُونُسَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ بَلَغَنِي عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَفَّلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيَّةً بِنَحْوِ حَدِيثِ ابْنِ رَجَائٍ

ہناد بن سری، ابن مبارک، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس ابن شہاب، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ کو غنیمت کا مال عطا فرمایا آگے ابن رجاء کی حدیث کی طرح حدیث مبارکہ منقول ہے۔

Ibn Shihab reported: It reached me through Ibn Umar (RA) that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave a share of spoils to the troop. The rest of the hadith is the same.

4565Sahih Muslimصحیح

غنیمت کے بیان میں

و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ جَدِّي قَالَ حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ يُنَفِّلُ بَعْضَ مَنْ يَبْعَثُ مِنْ السَّرَايَا لِأَنْفُسِهِمْ خَاصَّةً سِوَی قَسْمِ عَامَّةِ الْجَيْشِ وَالْخُمْسُ فِي ذَلِکَ وَاجِبٌ کُلِّهِ

عبدالملک بن شعیب بن لیث جدی، عقیل بن خالد، ابن شہاب، سالم، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سرایہ میں جن کو بھیجتے ان میں سے کچھ کو ان کے مال غنیمت میں حصہ کے علاوہ کچھ خاص طور پر بھی عطا فرماتے اور خمس پورے لشکر کے لئے واجب تھا۔

It has been narrated on the authority ofAbdullah bin Umar that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to give (from the spoils of war) to small troops sent on expeditions something more than the due share of each fighter in a large force. And Khums (one-fifth of the total spoils) was to be reserved (for Allah and His Apostle) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) in all cases.

4566Sahih Muslimصحیح

مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ الْأَنْصَارِيِّ وَکَانَ جَلِيسًا لِأَبِي قَتَادَةَ قَالَ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، ہشیم، یحییٰ بن سعید، عمر بن کثیر، افلح، حضرت ابومحمد انصاری (رض) سے روایت ہے کہ وہ حضرت ابوقتادہ کے ساتھ تھے انہوں نے کہا کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا اور پھر حدیث بیان کی۔

Abu Muammad al-Ansari, who was the close companion of Abu Qatadah (RA) narrated the hadith (which follows).

4567Sahih Muslimصحیح

مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں

و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ کَثِيرٍ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی أَبِي قَتَادَةَ أَنَّ أَبَا قَتَادَةَ قَالَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ

قتیبہ بن سعید، لیث، یحیی، عمر بن کثیر بن افلح، حضرت ابومحمد (رض) حضرت ابوقتادہ (رض) کے مولیٰ سے روایت ہے کہ حضرت ابوقتادہ نے فرمایا اور گزشتہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی۔

Abu Muhammad, the freed slave of Abu Qatadah (RA) reported on the authority of Abu Qatda and narrated the hadith.