Sahih Muslim 4552

جہاد کا بیان

4552Sahih Muslim

کافروں کے درختوں کو کاٹنے اور ان کو جلا ڈالنے کے جواز کے بیان میں

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ زَادَ قُتَيْبَةُ وَابْنُ رُمْحٍ فِي حَدِيثِهِمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ

یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، نافع، حضرت عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بویرہ میں بنو نضیر کے درختوں کو جلا دیا اور کاٹ ڈالا قتیبہ اور ابن رمح کی حدیثوں میں یہ اضافہ ہے اللہ نے آیت نازل فرمائی تم نے جن درختوں کو کاٹا یا جن کو ان کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو یہ اللہ کی اجازت سے تھا تاکہ اللہ فاسقوں کو ذلیل کر دے (الحشر: ٥)

It is narrated on the authority of Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ ordered the date-palms of Banu Nadir to be burnt and cut. These palms were at Buwaira. Qutaibah and Ibn Rumh in their versions of the tradition have added: So Allah, the Glorious and Exalted, revealed the verse: "Whatever trees you have cut down or left standing on their trunks, it was with the permission of Allah so that He may disgrace the evil-doers" (lix. 5).