مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ قَالَ سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ عَنْ أَبِي قَتَادَةَ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتْ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ قَالَ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنْ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ فَاسْتَدَرْتُ إِلَيْهِ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ وَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَقَالَ مَا لِلنَّاسِ فَقُلْتُ أَمْرُ اللَّهِ ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا وَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ قَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ فَقَالَ فَقُمْتُ فَقُلْتُ مَنْ يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ ثُمَّ قَالَ ذَلِكَ الثَّالِثَةَ فَقُمْتُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ فَقَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي فَأَرْضِهِ مِنْ حَقِّهِ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ لَا هَا اللَّهِ إِذًا لَا يَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسُدِ اللَّهِ يُقَاتِلُ عَنْ اللَّهِ وَعَنْ رَسُولِهِ فَيُعْطِيكَ سَلَبَهُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَدَقَ فَأَعْطِهِ إِيَّاهُ فَأَعْطَانِي قَالَ فَبِعْتُ الدِّرْعَ فَابْتَعْتُ بِهِ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلِمَةَ فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَالٍ تَأَثَّلْتُهُ فِي الْإِسْلَامِ وَفِي حَدِيثِ اللَّيْثِ فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ كَلَّا لَا يُعْطِيهِ أُضَيْبِعَ مِنْ قُرَيْشٍ وَيَدَعُ أَسَدًا مِنْ أُسُدِ اللَّهِ
ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، مالک بن انس، یحییٰ بن سعید، عمر بن کثیر، ابن افلح، ابومحمد مولیٰ حضرت ابوقتادہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین کے لئے نکلے تو جب ہمارا مقابلہ ہوا تو مسلمانوں کو کچھ شکست ہوئی حضرت قتادہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ مشرکوں میں سے ایک آدمی مسلمانوں میں سے ایک آدمی پر چڑھائی کئے ہوئے ہے میں اس کی طرف گھوما یہاں تک کہ اس کے پیچھے سے آکر اس کی شہ رگ پر تلوار ماری اور وہ میری طرف بڑھا اور اس نے مجھے پکڑ لیا اور اس نے مجھے اتنا دبایا کہ اس سے موت کا ذائقہ محسوس کرنے لگا لیکن اس نے مجھے فورا ہی چھوڑ دیا اور وہ خود مرگیا میں حضرت عمر بن خطاب (رض) سے مل گیا تو انہوں نے فرمایا لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ کا حکم۔ پھر (کچھ دیر بعد) لوگ واپس لوٹ آئے اور رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور فرمایا کہ جو آدمی کسی کافر کو قتل کرے اور اس قتل پر اس کے پاس گواہ بھی موجود ہوں سامان اسی کا ہے حضرت قتادہ (رض) کہتے ہیں کہ میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا کون ہے جو میری گواہی دے پھر میں بیٹھ گیا آپ ﷺ نے پھر اسی طرح فرمایا میں پھر کھڑا ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوقتادہ تجھے کیا ہوگیا ہے میں نے آپ ﷺ کی خدمت میں پورا واقعہ بیان کردیا لوگوں میں سے ایک آدمی کہنے لگا اے اللہ کے رسول ﷺ اس نے سچ کہا ہے اور مقتول کا سامان میرے پاس ہے اب آپ ﷺ اسے منا لیں کہ یہ اپنے حق سے دستبرار ہوجائے حضرت ابوبکر صدیق (رض) فرمانے لگے نہیں اللہ کی قسم ہرگز نہیں ایک اللہ کا شیر اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے لڑے اور مقتول سے چھینا ہوا مال تجھے دے دے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ابوبکر سچ کہہ رہے ہیں تو ان کو دے دے اس نے وہ مال مجھے دے دیا میں نے زرہ بیچ کر اس کی قیمت سے بنی سلمہ کے محلہ میں ایک باغ خریدا اور میرا یہ پہلا مال تھا جو اسلام کی برکت سے مجھے ملا اور لیث کی حدیث میں ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا ہرگز نہیں آپ ﷺ یہ مال قریش کی ایک لومڑی کو نہیں دیں گے اور اللہ تعالیٰ کے شیروں میں سے ایک شیر کو نہیں چھوڑیں گے۔
Abu Qatadah (RA) reported: We accompanied the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) on an expedition in the year of the Battle of Hunain. When we encountered the enemy, some of the Muslims turned back (in fear). I saw that a man from the polytheists overpowered one of the Muslims. I turned round and attacked him from behind giving a blow between his neck and shoulder. He turned towards me and grappled with me in such a way that I began to see death staring me in the face. Then death overtook him and left me alone. I joined Umar bin al-Khattab who was saying: What has happened to the people (that they are retreating)? I said: It is the Decree of Allah. Then the people returned. The battle ended in a victory for the Muslims and the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sat down to distribute the spoils of war. He said: One who has killed an enemy and can bring evidence to prove it will get his belongings. So I stood up and said: Who will give evidence for me? Then I sat down. Then he (the Holy Prophet) said like this. I stood up again and said: Who will bear witness for me? He (the Holy Prophet) made the same observation the third time, and I stood up once again. Now the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: What has happened to you, O Abu Qatadah (RA)? Then I related the whole story, to him. At this, one of the people said: He has told the truth. Messenger of Allah. The belongings of the enemy killed by him are with me. Persuade him to forgo his right (in my favour). Objecting to this proposal Abu Bakr (RA) said: BY Allah, this will not happen. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will not like to deprive one of the lions from among the lions of Allah who fight in the cause of Allah and His Messenger and give thee his share of the booty. So the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him) said: He (Abu Bakr) has told us: "The first property I acquired."
مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ قَالَ بَيْنَا أَنَا وَاقِفٌ فِي الصَّفِّ يَوْمَ بَدْرٍ نَظَرْتُ عَنْ يَمِينِي وَشِمَالِي فَإِذَا أَنَا بَيْنَ غُلَامَيْنِ مِنْ الْأَنْصَارِ حَدِيثَةٍ أَسْنَانُهُمَا تَمَنَّيْتُ لَوْ کُنْتُ بَيْنَ أَضْلَعَ مِنْهُمَا فَغَمَزَنِي أَحَدُهُمَا فَقَالَ يَا عَمِّ هَلْ تَعْرِفُ أَبَا جَهْلٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَمَا حَاجَتُکَ إِلَيْهِ يَا ابْنَ أَخِي قَالَ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ يَسُبُّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَئِنْ رَأَيْتُهُ لَا يُفَارِقُ سَوَادِي سَوَادَهُ حَتَّی يَمُوتَ الْأَعْجَلُ مِنَّا قَالَ فَتَعَجَّبْتُ لِذَلِکَ فَغَمَزَنِي الْآخَرُ فَقَالَ مِثْلَهَا قَالَ فَلَمْ أَنْشَبْ أَنْ نَظَرْتُ إِلَی أَبِي جَهْلٍ يَزُولُ فِي النَّاسِ فَقُلْتُ أَلَا تَرَيَانِ هَذَا صَاحِبُکُمَا الَّذِي تَسْأَلَانِ عَنْهُ قَالَ فَابْتَدَرَاهُ فَضَرَبَاهُ بِسَيْفَيْهِمَا حَتَّی قَتَلَاهُ ثُمَّ انْصَرَفَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَاهُ فَقَالَ أَيُّکُمَا قَتَلَهُ فَقَالَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنَا قَتَلْتُ فَقَالَ هَلْ مَسَحْتُمَا سَيْفَيْکُمَا قَالَا لَا فَنَظَرَ فِي السَّيْفَيْنِ فَقَالَ کِلَاکُمَا قَتَلَهُ وَقَضَی بِسَلَبِهِ لِمُعَاذِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَالرَّجُلَانِ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ وَمُعَاذُ بْنُ عَفْرَائَ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، یوسف بن ماجشون، صالح بن ابراہیم، حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے دن میں صف میں کھڑا تھا میں اپنے دائیں اور بائیں کیا دیکھتا ہوں کہ انصار کے دو نوجوان لڑکے کھڑے ہیں میں نے گمان کیا کہ کاش کہ میں طاقتور آدمیوں کے درمیان کھڑا ہوتا تو زیادہ بہتر تھا اسی دوران ان میں سے ایک لڑکے نے میری طرف اشارہ کر کے کہا اے چچا جان ! کیا آپ ابوجہل کو جانتے ہیں میں نے کہا ہاں اور اے بھیجتے تجھے اس سے کیا کام اس نے کہا کہ مجھے خبر ملی ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ وقدرت میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں میرا جسم اس کے جسم سے علیحدہ نہیں ہوسکتا یہاں تک کہ وہ مرجائے حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ مجھے اس کی بات سے تعجب ہوا اسی دوران میں دوسرے لڑکے نے مجھے اشارہ کر کے اسی طرح کہا حضرت عبدالرحمن نے کہا کہ ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ میری نظر ابوجہل کی طرف پڑی وہ لوگوں میں گھوم رہا تھا میں نے ان لڑکوں سے کہا کیا تم دیکھ نہیں رہے کہ یہ وہی ابوجہل ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھ رہے تھے وہ فورا اس کی طرف جھپٹے اور تلواریں مار مار کر اسے قتل کر ڈالا پھر وہ دونوں لڑکے رسول اللہ ﷺ کی طرف لوٹے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم دونوں نے اپنی اپنی تلوار سے اس کا خون صاف کردیا ہے انہوں نے کہا نہیں آپ ﷺ نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا تم دونوں نے ابوجہل کو قتل کیا ہے اور آپ ﷺ نے حضرت معاذ بن عمرو بن جموع کو ابوجہل سے چھینا ہوا مال ان دونوں لڑکوں معاذ بن عمرو بن جموع اور معاذ بن عفراء (رض) کو دینے کا حکم فرمایا۔
It has been narrated on the authority of Abdul Rahman bin Auf who said: While I was standing in the battle array on the Day of Badr, I looked towards my right and my left, and found myself between two boys from the Ansar quite young in age. I wished I were between stronger persons. One of them made a sign to me and said: Uncle, do you recognise Abu Jahl? I said: Yes. What do you want to do with him, O my nephew? He said: I have been told that he abuses the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . By Allah, in Whose Hand is my life, if I see him (I will grapple with him) and will not leave him until one of us who is destined to die earlier is killed. The narrator said: I wondered at this. Then the other made a sign to me and said similar words. Soon after I saw Abu Jahl. He was moving about among men. I said to the two boys: Dont you see? He is the man you were inquiring about. (As soon as they heard this), they dashed towards him, struck him with their swords until he was killed. Then they returned to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him (to this effect). He asked: Which of you has killed him? Each one of them said: I have killed him. He said: Have you wiped your swords? They said: No. He examined their swords and said: Both of you have killed him. He then decided that the belongings of Abu Jahl he handed over to Muadh bin Amr bin al-Jamuh. And the two boys were Muadh bin Amr bin Jawth and Muadh bin Afra.
مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَرْحٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ حِمْيَرَ رَجُلًا مِنْ الْعَدُوِّ فَأَرَادَ سَلَبَهُ فَمَنَعَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَکَانَ وَالِيًا عَلَيْهِمْ فَأَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَوْفُ بْنُ مَالِکٍ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ لِخَالِدٍ مَا مَنَعَکَ أَنْ تُعْطِيَهُ سَلَبَهُ قَالَ اسْتَکْثَرْتُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ادْفَعْهُ إِلَيْهِ فَمَرَّ خَالِدٌ بِعَوْفٍ فَجَرَّ بِرِدَائِهِ ثُمَّ قَالَ هَلْ أَنْجَزْتُ لَکَ مَا ذَکَرْتُ لَکَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتُغْضِبَ فَقَالَ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ لَا تُعْطِهِ يَا خَالِدُ هَلْ أَنْتُمْ تَارِکُونَ لِي أُمَرَائِي إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُهُمْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتُرْعِيَ إِبِلًا أَوْ غَنَمًا فَرَعَاهَا ثُمَّ تَحَيَّنَ سَقْيَهَا فَأَوْرَدَهَا حَوْضًا فَشَرَعَتْ فِيهِ فَشَرِبَتْ صَفْوَهُ وَتَرَکَتْ کَدْرَهُ فَصَفْوُهُ لَکُمْ وَکَدْرُهُ عَلَيْهِمْ
ابوطاہر، احمد بن عمرو بن سرح، عبداللہ بن وہب، معاویہ بن صالح، عبدالرحمن بن جبیر، حضرت عوف بن مالک (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ قبیلہ حمیر کے ایک آدمی نے دشمنوں کے ایک آدمی کو قتل کردیا اور جب اس نے اس کا سامان لینے کا ارادہ کیا تو حضرت خالد بن ولید (رض) نے اس سامان کو روک لیا وہ ان پر نگران تھے پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے اور آپ ﷺ کو اس کی خبر دی تو آپ ﷺ نے حضرت خالد سے فرمایا کہ تجھے کس نے اس کو سامان دینے سے منع کیا حضرت خالد نے عرض کیا اے اللہ کے رسول میں نے (اس سامان کو) بہت زیادہ سمجھا آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے سامان دے دو پھر حضرت خالد، حضرت عوف کے پاس سے گزرے تو انہوں نے حضرت خالد کی چادر کھینچی پھر فرمایا کیا میں نے جو رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تھا وہی ہوا ہے نا ؟ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات سن لی آپ ﷺ ناراض ہوگئے پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے ابوخالد تو اسے نہ دے اے خالد تو اسے نہ دے کیا تم میرے نگرانوں کو چھوڑنے والے ہو کیونکہ تمہاری اور ان کی مثال ایسی ہے جیسے کسی آدمی نے اونٹ یا بکریاں چرانے کے لئے لیں پھر ان جانوروں کے پانی پینے کا وقت دیکھ کر ان کو حوض پر لایا اور انہوں نے پانی پینا شروع کردیا تو صاف صاف پانی انہوں نے پی لیا اور تلچھٹ چھوڑ دیا تو صاف یعنی عمدہ چیزیں تمہارے لئے ہیں اور بری چیز نگرانوں کے لئے ہیں۔
Auf bin Malik (RA) has narrated that a man from the Himyar tribe killed an enemy and wanted to take the booty. Khalid bin Walid, who was the commander over them, forbade, him. Auf b Malik (the narrator) came to the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and informed him (to this effect). The latter asked Khalid: What prevented you from giving the booty to him? Khalid said: I thought it was too much. He (the Holy Prophet) said: Hand it over to him. Now when Khalid by Auf, the latter pulled him by his cloak and said (by way of chafing him): Hasnt the same thing happened what I reported to you from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him)? When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) heard it, he was angry (and said): Khalid, dont give him, Khalid, dont give him. Are you going to desert the commanders appointed by me? Your similitude and theirs is like a person who took camels and sheep for grazing. He grazed them and when it was time for them to have a drink, he brought them to a pool. So they drank from it, drinking away its clear water and leaving the turbid water below. So the clear water (i. e. the best reward) is for you and the turbid water (i e. blame) is for them.
مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِکٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ خَرَجْتُ مَعَ مَنْ خَرَجَ مَعَ زَيْدِ بْنِ حَارِثَةَ فِي غَزْوَةِ مُؤْتَةَ وَرَافَقَنِي مَدَدِيٌّ مِنْ الْيَمَنِ وَسَاقَ الْحَدِيثَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ عَوْفٌ فَقُلْتُ يَا خَالِدُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَی بِالسَّلَبِ لِلْقَاتِلِ قَالَ بَلَی وَلَکِنِّي اسْتَکْثَرْتُهُ
زہیر بن حرب، ولید بن مسلم، صفوان بن عمرو، عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر، نفیر، عوف بن مالک اشجعی سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نکلا کہ جو حضرت زید بن حارثہ کے ساتھ غزوہ موتہ میں نکلے اور یمن سے مجھے مدد ملی اور پھر اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ سے روایت کرتے ہوئے حدیث نقل کی اور اس حدیث میں ہے کہ حضرت عوف فرماتے ہیں کہ میں نے کہا اے خالد کیا تم جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے قاتل کو مقتول کا سلب دلوایا ہے ؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں لیکن میں اسے زیادہ سمجھتا ہوں۔
It has been narrated on the authority of Auf bin Malik al-Ashja (RA) i who said: I joined the expedition that marched under Zaid bin Haritha to Muta, and I received reinformcement from the Yemen. (After this introduction), the narrator narrated the tradition that had gone before except that in his version Auf was reported to have said (to Khalid): Khalid, didnt you know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (way peace be upon him) had decided In favour of giving the booty (sized from an enemy) to one who killed him? He (Khalid) said: Yes. but I thought it was too much.
مقتول کو سلب کرنے پر قاتل کے استحقاق کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي سَلَمَةُ بْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَوَازِنَ فَبَيْنَا نَحْنُ نَتَضَحَّی مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ جَائَ رَجُلٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ فَأَنَاخَهُ ثُمَّ انْتَزَعَ طَلَقًا مِنْ حَقَبِهِ فَقَيَّدَ بِهِ الْجَمَلَ ثُمَّ تَقَدَّمَ يَتَغَدَّی مَعَ الْقَوْمِ وَجَعَلَ يَنْظُرُ وَفِينَا ضَعْفَةٌ وَرِقَّةٌ فِي الظَّهْرِ وَبَعْضُنَا مُشَاةٌ إِذْ خَرَجَ يَشْتَدُّ فَأَتَی جَمَلَهُ فَأَطْلَقَ قَيْدَهُ ثُمَّ أَنَاخَهُ وَقَعَدَ عَلَيْهِ فَأَثَارَهُ فَاشْتَدَّ بِهِ الْجَمَلُ فَاتَّبَعَهُ رَجُلٌ عَلَی نَاقَةٍ وَرْقَائَ قَالَ سَلَمَةُ وَخَرَجْتُ أَشْتَدُّ فَکُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ النَّاقَةِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی کُنْتُ عِنْدَ وَرِکِ الْجَمَلِ ثُمَّ تَقَدَّمْتُ حَتَّی أَخَذْتُ بِخِطَامِ الْجَمَلِ فَأَنَخْتُهُ فَلَمَّا وَضَعَ رُکْبَتَهُ فِي الْأَرْضِ اخْتَرَطْتُ سَيْفِي فَضَرَبْتُ رَأْسَ الرَّجُلِ فَنَدَرَ ثُمَّ جِئْتُ بِالْجَمَلِ أَقُودُهُ عَلَيْهِ رَحْلُهُ وَسِلَاحُهُ فَاسْتَقْبَلَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ مَعَهُ فَقَالَ مَنْ قَتَلَ الرَّجُلَ قَالُوا ابْنُ الْأَکْوَعِ قَالَ لَهُ سَلَبُهُ أَجْمَعُ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس حنفی، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت سلمہ بن اکوع (رض) فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ صبح کا ناشتہ کر رہے تھے کہ ایک آدمی سرخ اونٹ پر سوار ہو کر آیا پھر اس آدمی نے اس اونٹ کو بٹھایا پھر ایک تسمہ اس کی کمر میں سے نکالا اور اسے باندھ دیا پھر وہ آگے بڑھا اور ہمارے ساتھ کھانا کھانے لگا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا اور ہم لوگ کمزور اور سواریوں سے خالی تھے اور کچھ ہم میں سے پیدل بھی تھے اتنے میں وہ جلدی سے نکلا اور اپنے اونٹ کے پاس آیا اور اس کا تسمہ کھولا پھر اس اونٹ کو بٹھایا اور اس پر بیٹھا اور اونٹ کو کھڑا کیا اور پھر اسے لے کے بھاگ پڑا ایک آدمی نے خاکی رنگ کی اونٹنی پر اس کا پیچھا کیا حضرت سلمہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں بھی جلدی میں نکلا میں اس اونٹنی کی سرین کے پاس ہوگیا پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ میں اونٹ کی سرین کے بالکل پاس پہنچ گیا پھر میں اور آگے بڑھا یہاں تک کہ میں نے اس اونٹ کی نکیل پکڑ لی اور میں نے اسے بٹھایا اور جیسے ہی اس نے اپنا گھٹنا زمین پر ٹیکا میں نے اپنی تلوار کھینچ لی اور اس آدمی کے سر پر ماری وہ مرگیا پھر میں اونٹ اس کے کجاوے اور اسلحہ سمیت لے کر آیا تو رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھ لوگوں نے میرا استقبال کیا اور فرمایا کس نے اس آدمی کو قتل کیا ہے تو سب نے عرض کیا حضرت سلمہ بن اکوع (رض) نے تو آپ ﷺ نے فرمایا اس کا سارا سامان حضرت سلمہ بن اکوع کا ہے۔
It has been reported by Salama bin al-Akwa: We fought the Battle of Hawazin along with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (One day) when we were having our breakfast with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him), a man came riding a red camel. He made it kneel down, extracted a strip of leather from its girth and tethered the camel with it. Then he began to take food with the people and look (curiously around). We were in a poor condition as some of us were on foot (being without any riding animals). All of a sudden, he left us hurriedy, came to his camel, untethered it, made it kneel down, mounted it and urged the beast which ran off with him. A man on a brown rhe-camel chased him (taking him for a spy). Salama (the narrator) said: I followed on foot. I ran on until I was near the thigh of the she-camel. I advanced further until I was near the haunches of the camel. I advanced still further until I caught hold of the nosestring of the camel. I made it kneel down. As soon as it placed its knee on the ground, I drew my sword and struck at the head, of the rider who fell down. I brought the camel driving it along with the mans baggage and weapons. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came forward to meet me and the people were with him. He asked: Who has killed the man? The people said: Ibn Akwa. He said: Everything of the man is for him (Ibn Akwa).
انعام دے کر مسلمان قیدیوں کو چھڑانے کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عِکْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ حَدَّثَنِي إِيَاسُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ غَزَوْنَا فَزَارَةَ وَعَلَيْنَا أَبُو بَکْرٍ أَمَّرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْنَا فَلَمَّا کَانَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمَائِ سَاعَةٌ أَمَرَنَا أَبُو بَکْرٍ فَعَرَّسْنَا ثُمَّ شَنَّ الْغَارَةَ فَوَرَدَ الْمَائَ فَقَتَلَ مَنْ قَتَلَ عَلَيْهِ وَسَبَی وَأَنْظُرُ إِلَی عُنُقٍ مِنْ النَّاسِ فِيهِمْ الذَّرَارِيُّ فَخَشِيتُ أَنْ يَسْبِقُونِي إِلَی الْجَبَلِ فَرَمَيْتُ بِسَهْمٍ بَيْنهُمْ وَبَيْنَ الْجَبَلِ فَلَمَّا رَأَوْا السَّهْمَ وَقَفُوا فَجِئْتُ بِهِمْ أَسُوقُهُمْ وَفِيهِمْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي فَزَارَةَ عَلَيْهَا قَشْعٌ مِنْ أَدَمٍ قَالَ الْقَشْعُ النِّطَعُ مَعَهَا ابْنَةٌ لَهَا مِنْ أَحْسَنِ الْعَرَبِ فَسُقْتُهُمْ حَتَّی أَتَيْتُ بِهِمْ أَبَا بَکْرٍ فَنَفَّلَنِي أَبُو بَکْرٍ ابْنَتَهَا فَقَدِمْنَا الْمَدِينَةَ وَمَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السُّوقِ فَقَالَ يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ أَعْجَبَتْنِي وَمَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا ثُمَّ لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَدِ فِي السُّوقِ فَقَالَ لِي يَا سَلَمَةُ هَبْ لِي الْمَرْأَةَ لِلَّهِ أَبُوکَ فَقُلْتُ هِيَ لَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَوَاللَّهِ مَا کَشَفْتُ لَهَا ثَوْبًا فَبَعَثَ بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أَهْلِ مَکَّةَ فَفَدَی بِهَا نَاسًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ کَانُوا أُسِرُوا بِمَکَّةَ
زہیر بن حرب، عمر بن یونس، عکرمہ بن عمار، ایاس بن سلمہ، حضرت ایاس (رض) بن سلمہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے میرے باپ نے بیان کیا کہ ہم نے قبیلہ خزارہ کے ساتھ حضرت ابوبکر (رض) کی سر براہی میں جہاد کیا حضرت ابوبکر (رض) کو رسول اللہ ﷺ نے ہم پر امیر بنایا تھا تو جب ہمارے اور پانی کے درمیان ایک گھڑی کا فاصلہ باقی رہ گیا تو حضرت ابوبکر (رض) نے ہمیں حکم فرمایا ہم رات کے آخری حصہ میں اتر پڑے اور پھر ہمیں ہر طرف سے حملہ کرنے کا حکم فرمایا پانی پر پہنچے پس وہاں جو قتل ہوگیا سو وہ قتل ہوگیا اور کچھ لوگ قید ہوئے اور میں ان لوگوں کے ایک حصہ میں دیکھ رہا تھا کہ جس میں کافروں کے بچے اور عورتیں تھیں مجھے ڈر لگا کہ کہیں وہ مجھ سے پہلے ہی پہاڑ تک نہ پہنچ جائیں تو میں نے ان کے اور پہاڑ کے درمیان ایک تیر پھینکا جب انہوں نے تیر دیکھا تو سب ٹھہر گئے میں ان سب کو گھیر کرلے آیا ان لوگوں میں قبیلہ فزارہ کی عورت تھی جو چمڑے کے کپڑے پہنے ہوئے تھی اور اس کے ساتھ عرب کی حسین ترین ایک لڑکی تھی میں ان سب کو لے کر حضرت ابوبکر (رض) کے پاس آگیا حضرت ابوبکر (رض) نے وہ لڑکی انعام کے طور پر مجھے عنایت فرما دی جب ہم مدینہ منورہ آگئے اور میں نے ابھی تک اس لڑکی کا کپڑا نہیں کھولا تھا کہ بازار میں رسول اللہ ﷺ نے میری ملاقات ہوگئی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے سلمہ یہ لڑکی مجھے دے دو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول اللہ کی قسم یہ لڑکی مجھے بڑی اچھی لگی ہے اور میں نے اس کا ابھی تک کپڑا نہیں کھولا پھر اگلے دن میری ملاقات رسول اللہ ﷺ سے بازار میں ہوگئی تو آپ نے فرمایا اے سلمہ وہ لڑکی مجھے دے دو تیرا باپ بہت اچھا تھا میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول وہ لڑکی آپ ﷺ کے لئے ہے اور اللہ کی قسم میں نے تو ابھی اس کا کپڑا تک نہیں کھولا پھر (اس کے بعد) رسول اللہ ﷺ نے وہ لڑکی مکہ والوں کو بھیج دی اور اس کے بدلہ میں بہت سے مسلمانوں کو چھڑایا جو کہ مکہ میں قید کردیئے گئے تھے۔
It has been narrated on the authority of Salama (b. al-Akwa) who said: We fought against the Fazara and Abu Bakr (RA) was the commander over us. He had been appointed by the Messenger oi Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . When we were only at an hours distance from the water of the enemy, Abu Bakr (RA) ordered us to attack. We made a halt during the last part of the night to rest and then we attacked from all sides and reached their watering-place where a battle was fought. Some of the enemies were killed and some were taken prisoners. I saw a group of persons that consisted of women and children. I was afraid lest they should reach the mountain before me, so I shot an arrow between them and the mountain. When they saw the arrow, they stopped. So I brought them, driving them along. Among them was a woman from Banu Fazara. She was wearing a leather coat. With her was her daughter who was one of the prettiest girls in Arabia. I drove them along until I brought them to Abu Bakr (RA) who bestowed that girl upon me as a prize. So we arrived in Madinah. I had not yet disrobed her when the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) met me in the street and said: Give me that girl, O Salama. I said: Messenger of Allah, she has fascinated me. I had not yet disrobed her. When on the next day the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) again met me in the street, he said: O Salama, give me that girl, may God bless your father. I said: She is for you. Messenger of Allah! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) By Allah, I have not yet disrobed her. The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sent her to the people of Makkah, and surrendered her as ransom for a number of Muslims who had been kept as prisoners at Makkah.
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا قَرْيَةٍ أَتَيْتُمُوهَا وَأَقَمْتُمْ فِيهَا فَسَهْمُکُمْ فِيهَا وَأَيُّمَا قَرْيَةٍ عَصَتْ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ خُمُسَهَا لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ ثُمَّ هِيَ لَکُمْ
احمد بن حنبل، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تم جس گاؤں میں بھی آؤ اور اس میں ٹھہرو تو اس میں تمہارا حصہ بھی ہوگا اور جس گاؤں کے لوگوں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی تو اس کا خمس اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لئے ہے پھر باقی تمہارے لئے ہے۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If you come to a township (which has surrendered without a formal war) and stay therein, you have a share (that will be in the form of an award) in (the properties obtained from) it. If a township disobeys Allah and His Messenger (and actually fights against the Muslims) one-fifth of the booty seized therefrom is for Allah and His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and the rest is for you.
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَاللَّفْظُ لِابْنِ أَبِي شَيْبَةَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسٍ عَنْ عُمَرَ قَالَ کَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِکَابٍ فَکَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً فَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ وَمَا بَقِيَ يَجْعَلُهُ فِي الْکُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ
قتیبہ بن سعید، محمد بن عباد، ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی شیبہ، اسحاق، سفیان، عمرو، زہری، مالک بن اوس، حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ بنو نضیر کے اموال ان اموال میں سے تھے کہ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول اللہ ﷺ پر لوٹا دیا تھا مسلمانوں نے ان کو حاصل کرنے کے لئے نہ گھوڑے دوڑائے اور نہ ہی اونٹ اور یہ مال نبی ﷺ کے لئے مخصوص تھا آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچ اس میں سے نکال لیتے تھے اور جو باقی بچ جاتا تھا اسے اللہ کے راستے میں جہاد کی سواریوں اور ہتھیاروں کی تیاری وغیرہ میں خرچ کرتے تھے۔
It has been narrated on the authority of Umar, who said: The properties abandoned by Banu Nadir were the ones which Allah bestowed upon His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) for which no expedition was undertaken either with cavalry or camelry. These properties were particularly meant for the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He would meet the annual expenditure of his family from the income thereof, and would spend what remained for purchasing horses and weapons as preparation for Jihad.
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ مَعْمَرٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
یحییٰ بن یحیی، سفیان بن عیینہ، معمر، حضرت زہری (رض) سے اس سند کے ساتھ اسی طرح حدیث منقول ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Zuhri.
و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَائَ الضُّبَعِيُّ حَدَّثَنَا جُوَيْرِيَةُ عَنْ مَالِکٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ أَنَّ مَالِکَ بْنَ أَوْسٍ حَدَّثَهُ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَجِئْتُهُ حِينَ تَعَالَی النَّهَارُ قَالَ فَوَجَدْتُهُ فِي بَيْتِهِ جَالِسًا عَلَی سَرِيرٍ مُفْضِيًا إِلَی رُمَالِهِ مُتَّکِئًا عَلَی وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ لِي يَا مَالُ إِنَّهُ قَدْ دَفَّ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ وَقَدْ أَمَرْتُ فِيهِمْ بِرَضْخٍ فَخُذْهُ فَاقْسِمْهُ بَيْنَهُمْ قَالَ قُلْتُ لَوْ أَمَرْتَ بِهَذَا غَيْرِي قَالَ خُذْهُ يَا مَالُ قَالَ فَجَائَ يَرْفَا فَقَالَ هَلْ لَکَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فِي عُثْمَانَ وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ وَالزُّبَيْرِ وَسَعْدٍ فَقَالَ عُمَرُ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمْ فَدَخَلُوا ثُمَّ جَائَ فَقَالَ هَلْ لَکَ فِي عَبَّاسٍ وَعَلِيٍّ قَالَ نَعَمْ فَأَذِنَ لَهُمَا فَقَالَ عَبَّاسٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ اقْضِ بَيْنِي وَبَيْنَ هَذَا الْکَاذِبِ الْآثِمِ الْغَادِرِ الْخَائِنِ فَقَالَ الْقَوْمُ أَجَلْ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ فَاقْضِ بَيْنَهُمْ وَأَرِحْهُمْ فَقَالَ مَالِکُ بْنُ أَوْسٍ يُخَيَّلُ إِلَيَّ أَنَّهُمْ قَدْ کَانُوا قَدَّمُوهُمْ لِذَلِکَ فَقَالَ عُمَرُ اتَّئِدَا أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَی الْعَبَّاسِ وَعَلِيٍّ فَقَالَ أَنْشُدُکُمَا بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمَانِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَاهُ صَدَقَةٌ قَالَا نَعَمْ فَقَالَ عُمَرُ إِنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَزَّ کَانَ خَصَّ رَسُولَهُ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِخَاصَّةٍ لَمْ يُخَصِّصْ بِهَا أَحَدًا غَيْرَهُ قَالَ مَا أَفَائَ اللَّهُ عَلَی رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَی فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ مَا أَدْرِي هَلْ قَرَأَ الْآيَةَ الَّتِي قَبْلَهَا أَمْ لَا قَالَ فَقَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَکُمْ أَمْوَالَ بَنِي النَّضِيرِ فَوَاللَّهِ مَا اسْتَأْثَرَ عَلَيْکُمْ وَلَا أَخَذَهَا دُونَکُمْ حَتَّی بَقِيَ هَذَا الْمَالُ فَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْخُذُ مِنْهُ نَفَقَةَ سَنَةٍ ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ أُسْوَةَ الْمَالِ ثُمَّ قَالَ أَنْشُدُکُمْ بِاللَّهِ الَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَائُ وَالْأَرْضُ أَتَعْلَمُونَ ذَلِکَ قَالُوا نَعَمْ ثُمَّ نَشَدَ عَبَّاسًا وَعَلِيًّا بِمِثْلِ مَا نَشَدَ بِهِ الْقَوْمَ أَتَعْلَمَانِ ذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ أَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُمَا تَطْلُبُ مِيرَاثَکَ مِنْ ابْنِ أَخِيکَ وَيَطْلُبُ هَذَا مِيرَاثَ امْرَأَتِهِ مِنْ أَبِيهَا فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَاهُ صَدَقَةٌ فَرَأَيْتُمَاهُ کَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنَّهُ لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ ثُمَّ تُوُفِّيَ أَبُو بَکْرٍ وَأَنَا وَلِيُّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَلِيُّ أَبِي بَکْرٍ فَرَأَيْتُمَانِي کَاذِبًا آثِمًا غَادِرًا خَائِنًا وَاللَّهُ يَعْلَمُ إِنِّي لَصَادِقٌ بَارٌّ رَاشِدٌ تَابِعٌ لِلْحَقِّ فَوَلِيتُهَا ثُمَّ جِئْتَنِي أَنْتَ وَهَذَا وَأَنْتُمَا جَمِيعٌ وَأَمْرُکُمَا وَاحِدٌ فَقُلْتُمَا ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَقُلْتُ إِنْ شِئْتُمْ دَفَعْتُهَا إِلَيْکُمَا عَلَی أَنَّ عَلَيْکُمَا عَهْدَ اللَّهِ أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِالَّذِي کَانَ يَعْمَلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُمَاهَا بِذَلِکَ قَالَ أَکَذَلِکَ قَالَا نَعَمْ قَالَ ثُمَّ جِئْتُمَانِي لِأَقْضِيَ بَيْنَکُمَا وَلَا وَاللَّهِ لَا أَقْضِي بَيْنَکُمَا بِغَيْرِ ذَلِکَ حَتَّی تَقُومَ السَّاعَةُ فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَرُدَّاهَا إِلَيَّ
عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی، جویریہ، مالک، حضرت زہری (رض) سے روایت ہے کہ حضرت مالک بن اوس (رض) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) بن خطاب نے مجھے پیغام بھیج کر بلوایا میں دن چڑھے آپ کی خدمت میں آگیا حضرت مالک فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آپ گھر میں خالی تخت پر چمڑے کا تکیہ لگائے بیٹھے ہیں (فرمایا کہ اے مالک) تیری قوم کے کچھ آدمی جلدی جلدی میں آئے تھے میں نے ان کو کچھ سامان دینے کا حکم کردیا ہے اب تم وہ مال لے کر ان کے درمیان تقسیم کردو میں نے عرض کیا اے امیر المومنین ! آپ میرے علاوہ کسی اور کو اس کام پر مقرر فرما دیں آپ نے فرمایا اے مالک تم ہی لے لو اسی دوران (آپ کا غلام) یرفاء اندر آیا اور اس نے عرض کیا اے امیر المومنین ! حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت زبیر اور حضرت سعد رضوان اللہ علیھم اجمعین حاضر خدمت ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا ان کے لئے اجازت ہے وہ اندر تشریف لائے پھر وہ غلام آیا اور عرض کیا کہ حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) تشریف لائے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا اچھا انہیں بھی اجازت دے دو حضرت عباس کہنے لگے اے امیر المومنین میرے اور اس جھوٹے گناہ گار دھوکے باز خائن کے درمیان فیصلہ کر دیجئے لوگوں نے کہا ہاں اے امیر المومنین ان کے درمیان فیصلہ کردیں اور ان کو ان سے راحت دلائیں حضرت مالک بن اوس کہنے لگے کہ میرا خیال ہے کہ ان دونوں حضرات یعنی عباس اور حضرت علی (رض) نے ان حضرت کو اسی لئے پہلے بھیجا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تمہیں اس ذات کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم (پیغمبروں) کے مال میں سے ان کے وارثوں کو کچھ نہیں ملتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے سب کہنے لگے کہ جی ہاں پھر حضرت عمر (رض) ، حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہو کر فرمانے لگے کہ میں تم دونوں کو قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم دونوں جانتے ہو کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم پیغمبروں کا کوئی وارث نہیں بنایا جاتا جو ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے ایک خاص بات کی تھی کہ جو آپ ﷺ کے علاوہ کسی سے نہیں کی حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو جو دیہات والوں کے مال سے عطا فرمایا وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا ہی حصہ ہے مجھے نہیں معلوم کہ اس سے پہلے کی آیت بھی انہوں نے پڑھی ہے یا نہیں پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تم لوگوں کے درمیان بنی نضیر کا مال تقسیم کردیا ہے اور اللہ کی قسم آپ ﷺ نے مال کو تم سے زیادہ نہیں سمجھا اور ایسے بھی نہیں کیا کہ وہ مال خود لے لیا ہو اور تم کو نہ دیا ہو یہاں تک کہ یہ مال باقی رہ گیا تو رسول اللہ ﷺ اس مال میں سے اپنے ایک سال کا خرچ نکال لیتے پھر جو باقی بچ جاتا وہ بیت المال میں جمع ہوجاتا پھر حضرت عمر (رض) نے فرمایا میں تم کو اس اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں کیا تم کو یہ معلوم ہے انہوں نے کہا جی ہاں پھر اسی طرح حضرت عباس (رض) اور حضرت علی (رض) کو قسم دی انہوں نے بھی اسی طرح جواب دیا لوگوں نے کہا کیا تم دونوں کو اس کا علم ہے انہوں نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا جب رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا میں رسول اللہ ﷺ کا والی ہوں اور تم دونوں اپنی وراثت لینے آئے ہو حضرت عباس (رض) تو اپنے بھتیجے کا حصہ اور حضرت علی (رض) اپنی بیوی کا حصہ ان کے باپ کے مال سے مانگتے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہمارے مال کا کوئی وراث نہیں ہوتا جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے اور تم ان کو جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز اور خائن سمجھتے ہو ؟ اور اللہ جانتا ہے کہ وہ سچے نیک اور ہدایت یافتہ تھے اور حق کے تابع تھے پھر حضرت ابوبکر (رض) کی وفات ہوئی اور میں رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کا ولی بنا اور تم نے مجھے بھی جھوٹا، گناہ گار، دھوکے باز اور خائن خیال کیا اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ میں سچا، نیک، ہدایت یافتہ ہوں اور میں اس مال کا بھی والی ہوں اور پھر تم میرے پاس آئے تم بھی ایک ہو اور تمہارا معاملہ بھی ایک ہے تم نے کہا کہ یہ مال ہمارے حوالے کردیں میں نے کہا کہ میں اس شرط پر مال تمہارے حوالے کر دوں گا کہ اس مال میں تم وہی کچھ کرو گے جو رسول اللہ ﷺ کیا کرتے تھے اور تم نے یہ مال اسی شرط سے مجھ سے لیا پھر حضرت عمر (رض) نے ان سے فرمایا کیا ایسا ہی ہے ان دونوں حضرات نے کہا جی ہاں حضرت عمر (رض) نے فرمایا تم دونوں اپنے درمیان فیصلہ کرانے کے لئے میرے پاس آئے ہو اللہ کی قسم میں قیامت تک اس کے علاوہ اور کوئی فیصلہ نہیں کروں گا اگر تم سے اس کا انتظار نہیں ہوسکتا تو پھر یہ مال مجھے لوٹا دو ۔
It is reported by Zuhri that this tradition was narrated to him by Malik bin Aus who said: Umar bin al-Khattab sent for me and I came to him when the day had advanced. I found him in his house sitting on his bare bed-stead, reclining on a leather pillow. He said (to me): Malik, some people of your tribe have hastened to me (with a request for help). I have ordered a little money for them. Take it and distribute it among them. I said: I wish you had ordered somebody else to do this job. He said: Malik, take it (and do what you have been told). At this moment (his man-servant) Yarfa came in and said: Commander of the Faithful, what do you say about Uthman, Abdul Rabman bin Auf, Zubair and Sad (who have come to seek an audience with you)? He said: Yes, and permitted them, so they entered. Then he (Yarfa) came again and said: What do you say about Ali and Abbas (who are present at the door)? He said: Yes, and permitted them to enter. Abbas said: Commander of the Faithful, decide (the dispute) between me and this sinful, treacherous, dishonest liar. The people (who were present) also said: Yes. Commander of the Faithful, do decide (the dispute) and have mercy on them. Malik bin Aus said: I could well imagine that they had sent them in advance for this purpose (by Ali and Abbas). Umar said: Wait and be patient. I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained, dont you know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"? They said: Yes. Then he turned to Abbas and Ali and said: I adjure you both by Allah by Whose order the heavens and earth are sustained, dont you know that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"? They (too) said: Yes. (Then) Umar said: Allah, the Glorious and Exalted, had done to His Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a special favour that He has not done to anyone else except him. He quoted the Quranic verse: "What Allah has bestowed upon His Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from (the properties) of the people of township is for Allah and His Messenger". The narrator said: I do not know whether he also recited the previous verse or not. Umar continued: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) distrbuted among you the properties abandoned by Banu Nadir. By Allah, he never preferred himself over you and never appropriated anything to your exclusion. (After a fair distribution in this way) this property was left over.
The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would meet from its income his annual expenditure, and what remained would be deposited in the Bait-ul-Mal. (Continuing further) he said: I adjure you by Allah by Whose order the heavens and the earth are sustained. Do you know this? They said: Yes. Then he adjured Abbas and Ali as he had adjured the other persons and asked: Do you both know this? They said: Yes. He said: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) passed away, Abu Bakr (RA) said: "I am the successor of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ." Both of you came to demand your shares from the property (left behind by the Messenger of Allah) (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (Referring to Hadrat Abbas), he said: You demanded your share from the property of your nephew, and he (referring to Ali) demanded a share on behalf of his wife from the property of her father. Abu Bakr (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had said: "We do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity." So both of you thought him to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that he was true, virtuous, well-guided and a follower of truth. When Abu Bakr (RA) passed away and (I have become) the successor of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and Abu Bakr (RA) , you thought me to be a liar, sinful, treacherous and dishonest. And Allah knows that I am true, virtuous, well-guided and a follower of truth. I became the guardian of this property. Then you as well as he came to me. Both of you have come and your purpose is identical. You said: Entrust the property to us. I said: If you wish that I should entrust it to you, it will be on the condition that both of you will undertake to abide by a pledge made with Allah that you will use it in the same way as the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used it. So both of you got it. He said: Wasnt it like this? They said: Yes. He said: Then you have (again) come to me with the request that I should adjudge between you. No, by Allah. I will not give any other judgment except this until the arrival of the Doomsday. If you are unable to hold the property on this condition, return it to me.
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ مَالِکِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ أَرْسَلَ إِلَيَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ إِنَّهُ قَدْ حَضَرَ أَهْلُ أَبْيَاتٍ مِنْ قَوْمِکَ بِنَحْوِ حَدِيثِ مَالِکٍ غَيْرَ أَنَّ فِيهِ فَکَانَ يُنْفِقُ عَلَی أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً وَرُبَّمَا قَالَ مَعْمَرٌ يَحْبِسُ قُوتَ أَهْلِهِ مِنْهُ سَنَةً ثُمَّ يَجْعَلُ مَا بَقِيَ مِنْهُ مَجْعَلَ مَالِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
اسحاق، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، حضرت مالک (رض) بن اوس (رض) بن حدثان سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے میری طرف پیغام بھیجا اور فرمایا کہ تمہاری قوم کے کچھ لوگ میرے پاس آئے اس سے آگے اسی طرح حدیث بیان کی سوائے اس کے کہ اس میں ہے آپ ﷺ ان مالوں میں سے اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کا خرچ نکال لیتے تھے معمر راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ اپنے گھر والوں کے لئے ایک سال کی خوارک رکھتے تھے پھر جو مال بچتا اسے اللہ کے راستے میں خرچ کرنے کے لئے رکھتے تھے
The same hadith has been narrated by a different chain of transmitters with a slight variation in wording: Umar bin al-Khattab sent for me and said: Some families from your tribe have come to me (then follows the foregoing hadith) by Malik with the difference that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) would spend on his family for a year. And sometimes Mamar said: He would retain sustenance for his family for a year, and what was left of that he spent in the cause of Allah, the Majestic and Exalted.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يَبْعَثْنَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَيَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ عَائِشَةُ لَهُنَّ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا فَهُوَ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابن شہاب، عروہ، حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ جس وقت رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی تو نبی ﷺ کی ازواج مطہرات نے ارادہ کیا کہ حضرت عثمان بن عفان (رض) کو حضرت ابوبکر (رض) کی طرف بھجیں اور ان سے نبی ﷺ کی میراث میں سے اپنا حصہ مانگیں حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے۔
It is narrated on the authority of Aisha who said: When the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) passed away, his wives made up their minds to send Uthman bin Affan (as their spokesman) to Abu Bakr (RA) to demand from him their share from the legacy of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . (At this), Aisha said to them: Hasnt the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "We (Prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity"?
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ أَخْبَرَنَا حُجَيْنٌ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْسَلَتْ إِلَی أَبِي بَکْرٍ الصِّدِّيقِ تَسْأَلُهُ مِيرَاثَهَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالْمَدِينَةِ وَفَدَکٍ وَمَا بَقِيَ مِنْ خُمْسِ خَيْبَرَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ إِنَّمَا يَأْکُلُ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَالِ وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أُغَيِّرُ شَيْئًا مِنْ صَدَقَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ حَالِهَا الَّتِي کَانَتْ عَلَيْهَا فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَعْمَلَنَّ فِيهَا بِمَا عَمِلَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ أَنْ يَدْفَعَ إِلَی فَاطِمَةَ شَيْئًا فَوَجَدَتْ فَاطِمَةُ عَلَی أَبِي بَکْرٍ فِي ذَلِکَ قَالَ فَهَجَرَتْهُ فَلَمْ تُکَلِّمْهُ حَتَّی تُوُفِّيَتْ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ دَفَنَهَا زَوْجُهَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ لَيْلًا وَلَمْ يُؤْذِنْ بِهَا أَبَا بَکْرٍ وَصَلَّی عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَکَانَ لِعَلِيٍّ مِنْ النَّاسِ وِجْهَةٌ حَيَاةَ فَاطِمَةَ فَلَمَّا تُوُفِّيَتْ اسْتَنْکَرَ عَلِيٌّ وُجُوهَ النَّاسِ فَالْتَمَسَ مُصَالَحَةَ أَبِي بَکْرٍ وَمُبَايَعَتَهُ وَلَمْ يَکُنْ بَايَعَ تِلْکَ الْأَشْهُرَ فَأَرْسَلَ إِلَی أَبِي بَکْرٍ أَنْ ائْتِنَا وَلَا يَأْتِنَا مَعَکَ أَحَدٌ کَرَاهِيَةَ مَحْضَرِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَکْرٍ وَاللَّهِ لَا تَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَحْدَکَ فَقَالَ أَبُو بَکْرٍ وَمَا عَسَاهُمْ أَنْ يَفْعَلُوا بِي إِنِّي وَاللَّهِ لَآتِيَنَّهُمْ فَدَخَلَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَکْرٍ فَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا يَا أَبَا بَکْرٍ فَضِيلَتَکَ وَمَا أَعْطَاکَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْکَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْکَ وَلَکِنَّکَ اسْتَبْدَدْتَ عَلَيْنَا بِالْأَمْرِ وَکُنَّا نَحْنُ نَرَی لَنَا حَقًّا لِقَرَابَتِنَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَزَلْ يُکَلِّمُ أَبَا بَکْرٍ حَتَّی فَاضَتْ عَيْنَا أَبِي بَکْرٍ فَلَمَّا تَکَلَّمَ أَبُو بَکْرٍ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَرَابَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ أَصِلَ مِنْ قَرَابَتِي وَأَمَّا الَّذِي شَجَرَ بَيْنِي وَبَيْنَکُمْ مِنْ هَذِهِ الْأَمْوَالِ فَإِنِّي لَمْ آلُ فِيهَا عَنْ الْحَقِّ وَلَمْ أَتْرُکْ أَمْرًا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُهُ فِيهَا إِلَّا صَنَعْتُهُ فَقَالَ عَلِيٌّ لِأَبِي بَکْرٍ مَوْعِدُکَ الْعَشِيَّةُ لِلْبَيْعَةِ فَلَمَّا صَلَّی أَبُو بَکْرٍ صَلَاةَ الظُّهْرِ رَقِيَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَتَشَهَّدَ وَذَکَرَ شَأْنَ عَلِيٍّ وَتَخَلُّفَهُ عَنْ الْبَيْعَةِ وَعُذْرَهُ بِالَّذِي اعْتَذَرَ إِلَيْهِ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ وَتَشَهَّدَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَعَظَّمَ حَقَّ أَبِي بَکْرٍ وَأَنَّهُ لَمْ يَحْمِلْهُ عَلَی الَّذِي صَنَعَ نَفَاسَةً عَلَی أَبِي بَکْرٍ وَلَا إِنْکَارًا لِلَّذِي فَضَّلَهُ اللَّهُ بِهِ وَلَکِنَّا کُنَّا نَرَی لَنَا فِي الْأَمْرِ نَصِيبًا فَاسْتُبِدَّ عَلَيْنَا بِهِ فَوَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا فَسُرَّ بِذَلِکَ الْمُسْلِمُونَ وَقَالُوا أَصَبْتَ فَکَانَ الْمُسْلِمُونَ إِلَی عَلِيٍّ قَرِيبًا حِينَ رَاجَعَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
محمد بن رافع، حجین، لیث، عقیل، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی میراث کے بارے میں پوچھنے کے لئے پیغام بھیجا جو آپ ﷺ کو مدینہ اور فدک کے فئی اور خبیر کے خمس سے حصہ میں ملا تھا حضرت ابوبکر (رض) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہم کسی کو وارث نہیں چھوڑتے اور ہم جو چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے البتہ آل محمد ﷺ اس مال سے کھاتے رہیں گے اور میں اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے صدقہ میں کسی چیز کی بھی تبدیلی نہیں کرسکتا اس صورت سے جس میں وہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں تھی اور میں اس میں وہی معاملہ کروں گا جو رسول اللہ ﷺ اس کے بارے میں فرمایا کرتے تھے حضرت ابوبکر (رض) نے اس میں سے کوئی بھی چیز حضرت فاطمہ کو دینے سے انکار کردیا حضرت فاطمہ (رض) کو حضرت ابوبکر (رض) سے اس وجہ سے ناراضگی ہوئی پس انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) سے بولنا ترک کردیا اور ان سے بات نہ کی یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئیں اور وہ رسول اللہ ﷺ کے بعد چھ ماہ تک زندہ رہیں جب وہ فوت ہوگئیں تو انہیں ان کے خاوند حضرت علی (رض) بن ابوطالب نے رات کو ہی دفن کردیا اور ابوبکر (رض) کو اس کی اطلاع نہ دی اور ان کا جنازہ حضرت علی (رض) نے پڑھایا اور حضرت علی (رض) کے لئے لوگوں کا فاطمہ کی زندگی میں کچھ میلان تھا جب وہ فوت ہوگئیں تو علی (رض) نے لوگوں کے رویہ میں کچھ تبدیلی محسوس کی تو انہوں نے ابوبکر (رض) کے ساتھ صلح اور بیعت کا راستہ ہموار کرنا چاہا کیونکہ علی (رض) نے ان مہینوں تک بیعت نہ کی تھی اور انہوں نے ابوبکر (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمارے پاس آؤ اور تمہارے سوا کوئی اور نہ آئے عمر (رض) بن خطاب کے آنے کا ناپسند کرنے کی وجہ سے حضرت عمر (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا اللہ کی قسم آپ ان کے پاس اکیلے نہ جائیں حضرت ابوبکر (رض) نے کہا مجھے ان سے یہ امید نہیں کہ وہ میرے ساتھ کوئی ناروا سلوک کریں گے میں اللہ کی قسم ان کے پاس ضرور جاؤں گا پس حضرت ابوبکر (رض) ان کے پاس تشریف لے گئے تو علی بن ابوطالب (رضی اللہ عنہ) نے کلمہ شہادت پڑھا پھر کہا اے ابوبکر تحقیق ہم آپ کی فضیلت پہچان چکے ہیں جو اللہ نے آپ کو عطا کی ہے ہم اسے جانتے ہیں اور جو بھلائی آپ کو عطا کی گئی ہے ہم اس کی رغبت نہیں کرتے اللہ نے آپ ہی کے سپرد کی ہے لیکن آپ نے خود ہی یہ خلافت حاصل کرلی اور ہم اپنے لئے رسول اللہ ﷺ کی قرابت داری کی وجہ سے (خلافت) کا حق سمجھتے تھے پس اسی طرح وہ (حضرت علی (رض) حضرت ابوبکر (رض) سے گفتگو کرتے رہے یہاں تک کہ ابوبکر (رض) کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے (جب حضرت علی (رض) حضرت ابوبکر (رض) نے گفتگو کی تو کہا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میرے نزدیک رسول اللہ ﷺ کی قرابت کے ساتھ حسن سلوک کرنا اپنی قرابت سے زیادہ محبوب ہے بہرحال ان اموال کا معاملہ جو میرے اور تمہارے درمیان واقعہ ہوا ہے اس میں بھی میں نے کسی کے حق کو ترک نہیں کیا اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو جس معاملہ میں جس طرح کرتے دیکھا میں نے بھی اس معاملہ کو اسی طرح سر انجام دیا حضرت علی (رض) نے حضرت ابوبکر (رض) سے کہا آج سہ پہر کے وقت آپ سے بیعت کرنے کا وقت ہے حضرت ابوبکر نے ظہر کی نماز ادا کی منبر پر چڑھے اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت علی (رض) کے معاملہ اور بیعت سے رہ جانے کا قصہ اور وہ عذر بیان کیا جو حضرت علی بن ابوطالب نے ان کے سامنے پیش کیا پھر علی (رض) نے استغفار کیا اور کلمہ شہادت پڑھا اور حضرت ابوبکر (رض) کے حق کی عظمت کا اقرار کیا اور بتایا کہ میں نے جو کچھ کیا وہ اس وجہ سے نہیں کیا کہ مجھے حضرت ابوبکر (رض) کی خلافت پر شک تھا اور نہ اس فضیلت سے انکار کی وجہ سے جو انہیں اللہ نے عطا کی ہے بلکہ ہم اس امر (خلافت) میں اپنا حصہ خیال کرتے تھے اور ہمارے مشورہ کے بغیر ہی حکومت بنا لی گئی جس کی وجہ سے ہمارے دلوں میں رنج پہنچا مسلمان یہ سن کو خوش ہوئے اور انہوں نے کہا آپ نے درست کیا ہے اور مسلمان پھر حضرت علی (رض) کے قریب ہونے لگے جب انہوں نے اس معروف راستہ کو اختیار کرلیا۔
It is narrated on the authority of Urwa bin Zubair who narrated from Aisha that she informed him that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , sent someone to Abu Bakr (RA) to demand from him her share of the legacy left by the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from what Allah had bestowed upon him at Madinah and Fadak and what was left from one-fifth of the income (annually received) from Khaibar. Abu Bakr (RA) said: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "We (prophets) do not have any heirs; what we leave behind is (to be given in) charity." The household of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) will live on the income from these properties, but, by Allah, I will not change the charity of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from the condition in which it was in his own time. I will do the same with it as the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) himself used to do. So Abu Bakr (RA) refused to hand over anything from it to Fatima who got angry with Abu Bakr (RA) for this reason. She forsook him and did not talk to him until the end of her life. She lived for six months after the death of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . When she died, her husband Ali bin Abu Talib, buried her at night. He did not inform Abu Bakr (RA) about her death and offered the funeral prayer over her himself. During the lifetime of Fatima, Ali received (special) regard from the people. After she had died, he felt estrangement in the faces of the people towards him. So he sought to make peace with Abu Bakr (RA) and offer his allegiance to him. He had not yet owed allegiance to him as Caliph during these months. He sent a person to Abu Bakr (RA) requesting him to visit him unaccompanied by anyone (disapproving the presence of Umar). Umar said to Abu Bakr (RA) : By Allah, you will not visit them alone. Abu Bakr (RA) said: What will they do to me? By Allah, I will visit them. And he did pay them a visit alone. Ali recited Tashahhud (as it is done in the beginning of a religious sermon); then said: We recognise your moral excellence and what Allah has bestowed upon you. We do not envy the favour (i. e. the Caliphate) which Allah nas conferred upon you; but you have done it (assumed the position of Caliph) alone (without consulting us), and we thought we had a right (to be consulted) on account of our kinship with the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . He continued to talk to Abu Bakr (RA) (in this vein) until the latters eyes welled up with tears. Then Abu Bakr (RA) spoke and said: By Allah, in Whose Hand is my life, the kinship of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) is dearer to me than the kinship of my own people. As regards the dispute that has arisen between you and me about these properties, I have not deviated from the right course and I have not given up doing about them what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to do. So Ali said to Abu Bakr (RA) : This afternoon is (fixed) for (swearing) allegiance (to you). So when Abu Bakr (RA) had finished his Zuhr prayer, he ascended the pulpit and recited Tashahhud, and described the status of Ali, his delay in swearing allegiance and the excuse which he had offered to him (for this delay). (After this) he asked for Gods forgiveness. Then Ali bin Abu Talib recited the Tashahhud, extolled the merits of Abu Bakr (RA) and said that his action was not prompted by any jealousy of Abu Bakr (RA) on his part or his refusal to accept the high position which Allah had conferred upon him, (adding:) But we were of the opinion that we should have a share in the government, but the matter had been decided without taking us into confidence, and this displeased us. (Hence the delay in offering allegiance. The Muslims were pleased with this (explanation) and they said: You have done the right thing. The Muslims were (again) favourably inclined to Ali since he adopted the proper course of action.
Book 019, Number 4353:
It has been narrated on the authority of Aisha that Fatima and Abbas approached Abu Bakr, soliciting transfer of the legacy of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to them. At that time, they were demanding his (Holy Prophets) lands at Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr (RA) said to them: I have heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then he quoted the hadith having nearly the same meaning as the one which has been narrated by Uqail on the authority of al-Zuhri (and which his gone before) except that in his version he said: Then Ali stood up, extolled the merits of Abu Bakr (RA) mentioned his superiority, and his earlier acceptance of Islam. Then he walked to Abu Bakr (RA) and swore allegiance to him. (At this) people turned towards Ali and said: you have done the right thing. And they became favourably inclined to Ali after he had adopted the proper course of action.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ فَاطِمَةَ وَالْعَبَّاسَ أَتَيَا أَبَا بَکْرٍ يَلْتَمِسَانِ مِيرَاثَهُمَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُمَا حِينَئِذٍ يَطْلُبَانِ أَرْضَهُ مِنْ فَدَکٍ وَسَهْمَهُ مِنْ خَيْبَرَ فَقَالَ لَهُمَا أَبُو بَکْرٍ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمِثْلِ مَعْنَی حَدِيثِ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ ثُمَّ قَامَ عَلِيٌّ فَعَظَّمَ مِنْ حَقِّ أَبِي بَکْرٍ وَذَکَرَ فَضِيلَتَهُ وَسَابِقَتَهُ ثُمَّ مَضَی إِلَی أَبِي بَکْرٍ فَبَايَعَهُ فَأَقْبَلَ النَّاسُ إِلَی عَلِيٍّ فَقَالُوا أَصَبْتَ وَأَحْسَنْتَ فَکَانَ النَّاسُ قَرِيبًا إِلَی عَلِيٍّ حِينَ قَارَبَ الْأَمْرَ الْمَعْرُوفَ
اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبدالرزاق، معمر، زہری، عروہ، حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ فاطمہ اور عباس (رض) دونوں حضرات ابوبکر (رض) کے پاس آئے اور انہوں نے ان سے رسول اللہ ﷺ کی میراث میں سے اپنے حصہ کا مطالبہ کیا اور وہ دونوں اس وقت فدک اور خبیر کے حصہ میں اپنے حصہ کا مطالبہ کر رہے تھے تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان دونوں سے فرمایا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا پھر مزکورہ حدیث کی طرح حدیث بیان کی اس حدیث میں یہ ہے کہ پھر حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور انہوں نے حضرت ابوبکر (رض) کے حق پر ہونے کی عظمت اور ان کی فضیلت اور ان کی دین میں سبقت کا ذکر کیا پھر وہ حضرت ابوبکر (رض) کی طرف گئے اور ان کی بیعت کی پھر لوگ حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے کہ آپ نے صحیح اور اچھا کام کیا ہے تو لوگ علی (رض) کے قریب ہوگئے جس وقت کہ انہوں نے یہ نیک کام کیا۔
It has been narrated on the authority of Aisha that Fatima and Abbas approached Abu Bakr, soliciting transfer of the legacy of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to them. At that time, they were demanding his (Holy Prophets) lands at Fadak and his share from Khaibar. Abu Bakr (RA) said to them: I have heard from the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . Then he quoted the hadith having nearly the same meaning as the one which has been narrated by Uqail on the authority of al-Zuhri (and which his gone before) except that in his version he said: Then Ali stood up, extolled the merits of Abu Bakr (RA) mentioned his superiority, and his earlier acceptance of Islam. Then he walked to Abu Bakr (RA) and swore allegiance to him. (At this) people turned towards Ali and said: you have done the right thing. And they became favourably inclined to Ali after he had adopted the proper course of action.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَکْرٍ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَائَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَکْرٍ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ وَکَانَتْ فَاطِمَةُ تَسْأَلُ أَبَا بَکْرٍ نَصِيبَهَا مِمَّا تَرَکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خَيْبَرَ وَفَدَکٍ وَصَدَقَتِهِ بِالْمَدِينَةِ فَأَبَی أَبُو بَکْرٍ عَلَيْهَا ذَلِکَ وَقَالَ لَسْتُ تَارِکًا شَيْئًا کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ بِهِ إِلَّا عَمِلْتُ بِهِ إِنِّي أَخْشَی إِنْ تَرَکْتُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِهِ أَنْ أَزِيغَ فَأَمَّا صَدَقَتُهُ بِالْمَدِينَةِ فَدَفَعَهَا عُمَرُ إِلَی عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ فَغَلَبَهُ عَلَيْهَا عَلِيٌّ وَأَمَّا خَيْبَرُ وَفَدَکُ فَأَمْسَکَهُمَا عُمَرُ وَقَالَ هُمَا صَدَقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَتَا لِحُقُوقِهِ الَّتِي تَعْرُوهُ وَنَوَائِبِهِ وَأَمْرُهُمَا إِلَی مَنْ وَلِيَ الْأَمْرَ قَالَ فَهُمَا عَلَی ذَلِکَ إِلَی الْيَوْمِ
ابن نمیر، یعقوب بن ابراہیم، زہیر بن حرب، حسن بن علی حلوانی، یعقوب بن ابراہیم، صالح، ابن شہاب، عروہ بن زبیر، حضرت عائشہ (رض) نبی ﷺ کی زوجہ مطہرہ خبر دیتی ہیں کہ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی بیٹی نے رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر (رض) سے پوچھا کہ کیا رسول اللہ ﷺ کے ترکہ میں سے جو اللہ نے آپ ﷺ کو بطور فئی دیا تھا اس میراث کو آپ نے تقسیم کیا تو حضرت ابوبکر نے حضرت فاطمہ سے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہم (نبیوں اور رسولوں) کا کوئی وارث نہیں ہوتا ہم جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے راوی کہتا ہے کہ حضرت فاطمہ (رض) رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہیں اور حضرت فاطمہ نے رسول اللہ ﷺ کے اس ترکہ میں سے جو آپ ﷺ نے خبیر فدک اور مدینہ کے صدقہ میں سے چھوڑا تھا اس میں سے اپنے حصہ کا حضرت ابوبکر (رض) سے سوال کرتی رہیں تو حضرت ابوبکر (رض) نے ان کو یہ دینے سے انکار کیا اور حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا کہ میں کوئی وہ عمل نہیں چھوڑوں گا کہ جو رسول اللہ ﷺ نے کیا تھا سوائے اس کے کہ میں اسی پر عمل کروں گا کیونکہ میں ڈرتا ہوں کہ اگر میں نے آپ ﷺ کے کئے ہوئے کسی عمل کو چھوڑا تو میں گمراہ ہوجاؤں گا اور جو مدینہ کے صدقات ہیں تو انہیں حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) اور حضرت عباس (رض) کو دیئے دیئے ہیں اور ان پر حضرت علی (رض) کا غلبہ ہے اور خبیر اور فدک کے مال کو حضرت عمر (رض) نے اپنے پاس رکھا اور فرمایا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے صدقات ہیں جن کو آپ ﷺ اپنے حقوق اور ملکی ضروریات میں خرچ کرتے تھے اور یہ اس کی تولیت (یعنی نگرانی) میں رہیں گے کہ جو مسلمانوں کا خلیفہ ہوگا تو آج تک ان کے ساتھ یہی معاملہ ہے۔
It has been narrated by Urwa b Zubair on the authority of Aisha, wife of the Holy Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , that Fatima, daughter of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , requested Abu Bakr, after the death of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace he upon him), that he should set apart her share from what the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) had left from the properties that God had bestowed upon him. Abu Bakr (RA) said to her: The Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (may peace be npon him) said: "We do not have any heirs; what we leave behind is Sadaqa (charity)." The narrator said: She (Fatima) lived six months after the death of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and she used to demand from Abu Bakr (RA) her share from the legacy of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) from Khaibar, Fadak and his charitable endowments at Madinah. Abu Bakr (RA) refused to give her this, and said: I am not going to give up doing anything which the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) used to do. I am afraid that if I go against his instructions in any matter I shall deviate from the right course. So far as the charitable endowments at Madinah were concerned, Umar handed them over to Ali and Abbas, but Ali got the better of him (and kept the property under his exclusive possession). And as far as Khaibar and Fadak were concerned Umar kept them with him, and said: These are the endowments of the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) to the Umma. Their income was spent on the discharge of the responsibilities that devolved upon him on the emergencies he had to meet. And their management was to be in the hands of one who managed the affairs (of the Islamic State). The narrator said: They have been managed as such up to this day.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقْتَسِمُ وَرَثَتِي دِينَارًا مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَةِ نِسَائِي وَمَئُونَةِ عَامِلِي فَهُوَ صَدَقَةٌ
یحییٰ بن یحیی، مالک، ابی زناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری وراثت میں سے ایک دینار بھی کسی کو نہیں دے سکتے اور میری ازواج مطہرات اور میرے عامل کے اخراجات کے بعد میرے مال میں سے جو کچھ بچے گا تو وہ صدقہ ہوگا۔
It has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: My heirs cannot share even a dinar (from my legacy); what I leave behind after paying maintenance allowance to my wives and remuneration to my manager is (to go in) charity
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَی بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَکِّيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
محمد بن یحیی، ابن ابی عمر مکی، سفیان، ابوالزناد سے ان سندوں کے ساتھ اسی طرح روایت ہے۔
A similar hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad through a different chain of transmitters.
نبی ﷺ کا فرمان ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا جو ہم چھوڑیں وہ صدقہ ہے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي خَلَفٍ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ عَنْ يُونُسَ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا نُورَثُ مَا تَرَکْنَا صَدَقَةٌ
ابن ابی خلف زکریا، ابن عدی، ابن المبارک، یونس، زہری، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا اور جو کچھ ہم چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔
It his been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: "We do not have any heirs; what we leave behind is a charitable endowment."
حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ کِلَاهُمَا عَنْ سُلَيْمٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا سُلَيْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حَدَّثَنَا نَافِعٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَ فِي النَّفَلِ لِلْفَرَسِ سَهْمَيْنِ وَلِلرَّجُلِ سَهْمًا
یحییٰ بن یحیی، ابوکامل، فضیل بن حسین، سلیم، یحیی، سلیم بن اخضر، عبیداللہ بن عمر، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مال غنیمت میں سے گھوڑے کے لئے دو حصے اور آدمی کے لئے ایک حصہ تقسیم فرمایا۔
It has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) allowed two shares from the spoils to the horseman and one share to the footman.
حاضرین کے درمیان مال غنیمت کو تقسیم کرنے کے طریقہ کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ فِي النَّفَلِ
ابن نمیر، حضرت عبیداللہ (رض) نے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی ہے اور اس روایت میں " نفل " یعنی مال غنیمت کا ذکر نہیں۔
The same tradition has been narrated on the authority of Ubaidullah by a different chain of transmitters who do not mention the words: "from the booty".