اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ کُنَّا عِنْدَ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَکَرُوا الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّهُ مَکْتُوبٌ بَيْنَ عَيْنَيْهِ کَافِرٌ قَالَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَمْ أَسْمَعْهُ قَالَ ذَاکَ وَلَکِنَّهُ قَالَ أَمَّا إِبْرَاهِيمُ فَانْظُرُوا إِلَی صَاحِبِکُمْ وَأَمَّا مُوسَی فَرَجُلٌ آدَمُ جَعْدٌ عَلَی جَمَلٍ أَحْمَرَ مَخْطُومٍ بِخُلْبَةٍ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيْهِ إِذَا انْحَدَرَ فِي الْوَادِي يُلَبِّي
محمد بن مثنی، ابن ابی عدی، ابن عون، مجاہد، ابن عباس حضرت مجاہد کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس ؓ کی خدمت میں موجود تھے کہ لوگوں نے دجال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان کافر لکھا ہوا ہوگا حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میں نے تو یہ آپ ﷺ سے نہیں سنا مگر آپ ﷺ نے یہ ضرور فرمایا کہ حضرت ابراہیم جو تمہارے صاحب جیسے ہیں اور حضرت موسیٰ گندم گوں رنگ اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں اور وہ ایسے سرخ اونٹ پر سوار ہیں جس کا بدن گٹھا ہو اور اس کی نکیل کھجور کی چھال کی ہے گویا کہ میں انہیں اس طرح دیکھ رہا ہو کہ وہ وادی میں لبیک کہتے ہوئے اتر رہے ہیں۔
It is narrated on the authority of Mujahid that he said: We were with Ibn Abbas and (the people) talked about al-Dajjal. (One of them remarked. There is written between his eyes (the word) Kafir (infidel). The narrator said: Ibn Abbas remarked: I did not hear him (the Holy Prophet) say it, but he said: So far as Ibrahim is concerned. you may see your companion and so far as Moses (علیہ السلام) is concerned, he is a well-built man with wheat complexion (riding) on a red camel with its halter made of the fibre of date-palm (and I perceive) as if I am seeing towards him as he is going down in the valley saying: I am at Thy service! my Lord.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَائُ فَإِذَا مُوسَی ضَرْبٌ مِنْ الرِّجَالِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَرَأَيْتُ عِيسَی ابْنَ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دَحْيَةُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ دَحْيَةُ بْنُ خَلِيفَةَ
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، ابوزبیر، جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ انبیا کرام (علیہم السلام) میرے سامنے لائے گئے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) درمیانے انسان تھے گویا کہ وہ قبیلہ شنوء کے آدمی ہیں اور میں نے حضرت عیسیٰ بن مریم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ عروہ بن مسعود نظر آئے ہیں میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا تو ان کے سب سے زیادہ مشابہ تمہارے صاحب ( یعنی آپ ﷺ ہیں اور میں نے حضرت جبرائیل کو دیکھا تو مجھے ان میں سب سے زیادہ مشابہ حضرت دحیہ ؓ نظر آئے اور ابن رمح کی روایت میں ہے کہ دحیہ بن خلیفہ۔
It is narrated on the authority of Jabir that the Messenger of Allah ﷺ said: There appeared before me the apostles, and Moses (علیہ السلام) was among men as if he was one of the people of Shanua, and I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) and I saw nearest in resemblance with him was Urwa bin Masud, and I saw Ibrahim (blessings of Allah be upon him) and I see your companions much in resemblance with him, i. e. his personality, and I saw Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) and I saw Dihya nearest in resemblance to him; but in the narration of Ibn Rumh it is Dihya bin Khalifa.
اللہ کے رسول ﷺ کا آسمانوں پر تشریف لے جانا اور فرض نمازوں کا بیان
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَتَقَارَبَا فِي اللَّفْظِ قَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُسْرِيَ بِي لَقِيتُ مُوسَی عَلَيْهِ السَّلَام فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَجُلٌ حَسِبْتُهُ قَالَ مُضْطَرِبٌ رَجِلُ الرَّأْسِ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ قَالَ وَلَقِيتُ عِيسَی فَنَعَتَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا رَبْعَةٌ أَحْمَرُ کَأَنَّمَا خَرَجَ مِنْ دِيمَاسٍ يَعْنِي حَمَّامًا قَالَ وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ صَلَوَاتُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَأَنَا أَشْبَهُ وَلَدِهِ بِهِ قَالَ فَأُتِيتُ بِإِنَائَيْنِ فِي أَحَدِهِمَا لَبَنٌ وَفِي الْآخَرِ خَمْرٌ فَقِيلَ لِي خُذْ أَيَّهُمَا شِئْتَ فَأَخَذْتُ اللَّبَنَ فَشَرِبْتُهُ فَقَالَ هُدِيتَ الْفِطْرَةَ أَوْ أَصَبْتَ الْفِطْرَةَ أَمَّا إِنَّکَ لَوْ أَخَذْتَ الْخَمْرَ غَوَتْ أُمَّتُکَ
محمد بن رافع، عبد بن حمید، ابن رافع، عبد، عبدالرزاق، معمر، زہری، سعید بن مسیب، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ معراج کی رات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے میری ملاقات ہوئی پھر آپ ﷺ نے ان کی شکل و صورت کے بارے میں فرمایا میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس طرح فرمایا راوی کو شک ہے کہ وہ سیدھے بالوں والے قبیلہ شنوء کے آدمیوں جیسے تھے آپ ﷺ نے فرمایا میری ملاقات حضرت عیسیٰ بن مریم سے ہوئی تو وہ درمیانہ قد سرخ رنگ والے تھے گو یا کہ ابھی ابھی حمام سے نکلے ہوں اور میں نے حضرت ابراہیم کو دیکھا اور میں ان کی اولاد میں ان سے سب سے زیادہ مشابہ ہوں آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر میرے پاس دو برتن لائے گئے ان میں سے ایک میں دودھ اور دوسرے میں شراب تھی اس کے بعد مجھ سے کہا گیا کہ دونوں میں سے جس کو چاہو پسند کرلو میں نے دودھ کو پسند کرلیا اور اسے پیا جبرائیل نے کہا آپ ﷺ کو راہ فطرت نصیب ہوئی یا آپ ﷺ فطرت تک پہنچ گئے اور اگر آپ شراب پسند فرماتے تو آپ ﷺ کی امت گمراہ ہوجاتی۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Apostle of Allah ﷺ said: When I was taken for the night journey I met Moses (علیہ السلام) peace be upon him). The Apostle of Allah ﷺ gave his description thus: He was a man, I suppose-and he (the narrator) was somewhat doubtful (that the Holy Prophet ﷺ observed): ( Moses (علیہ السلام)) was a man erect in stature with straight hair on his head as it he was one of the men of the Shanua; and I met Jesus and the Apostle of Allah ﷺ described him as one having a medium stature and a red complexion as if he had (just) come out of the bath He observed: I saw Ibrahim (peace be upon him) and amongst his children I have the greatest resemblance with him. He said: There were brought to me two vessels. In one of them was milk and in the other one there was wine. And it was said to me: Select any one you like. So I selected the vessel containing milk and drank it. He (the angel) said: You have been guided on al-fitra or you have attained al-fitra. Had you selected wine, your Ummah would have been misled.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَرَانِي لَيْلَةً عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَرَأَيْتُ رَجُلًا آدَمَ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ لَهُ لِمَّةٌ کَأَحْسَنِ مَا أَنْتَ رَائٍ مِنْ اللِّمَمِ قَدْ رَجَّلَهَا فَهِيَ تَقْطُرُ مَائً مُتَّکِئًا عَلَی رَجُلَيْنِ أَوْ عَلَی عَوَاتِقِ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ جَعْدٍ قَطَطٍ أَعْوَرِ الْعَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّهَا عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقِيلَ هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
یحییٰ بن یحیی، مالک نافع، عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات دکھایا گیا کہ میں بیت اللہ کے پاس ہوں میں نے ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا جیسے تم نے کسی خوبصورت گندمی رنگ والے آدمی کو دیکھا ہو کندھوں تک اس کے بال ہوں جیسے تم نے کسی اچھے کندھوں تک بالوں والے کو دیکھا ہو اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور گویا ان کے بالوں سے پانی ٹپک رہا تھا وہ ٹیک لگائے ہوئے ہیں دو آدمیوں پر یا ان کے کندھوں پر اور بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں میں نے پوچھا یہ کون ہیں تو بتایا گیا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں اور اس کے بعد میں نے ایک آدمی کو دیکھا کہ اس کے بال زیادہ گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا اور اس کی آنکھ پھولے ہوئے انگور کی طرح تھی میں نے پوچھا یہ کون ہے تو کہا گیا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I found myself one night near the Ka’bah, and I saw a man with wheat complexion amongst the fair-complexioned men that you ever saw. He had a lock of hair the most beautiful of the locks that you ever saw. He had combed it. Water was trickling out of them. He was leaning on two men, or on the shoulders of two men, and he was circumscribing the Ka’bah. I asked, What is he? It was said: He is al-Masih son of Mary. Then I saw another person, stout and having too much curly hair, and blind in his right eye as if it was a full swollen grape. I asked Who is he? It was said: He is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ الْمُسَيَّبِيُّ حَدَّثَنَا أَنَسٌ يَعْنِي ابْنَ عِيَاضٍ عَنْ مُوسَی وَهُوَ ابْنُ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ذَکَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بَيْنَ ظَهْرَانَيْ النَّاسِ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ فَقَالَ إِنَّ اللَّهَ تَبَارَکَ وَتَعَالَی لَيْسَ بِأَعْوَرَ أَلَا إِنَّ الْمَسِيحَ الدَّجَّالَ أَعْوَرُ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَانِي اللَّيْلَةَ فِي الْمَنَامِ عِنْدَ الْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ کَأَحْسَنِ مَا تَرَی مِنْ أُدْمِ الرِّجَالِ تَضْرِبُ لِمَّتُهُ بَيْنَ مَنْکِبَيْهِ رَجِلُ الشَّعْرِ يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَائً وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ وَهُوَ بَيْنَهُمَا يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا جَعْدًا قَطَطًا أَعْوَرَ عَيْنِ الْيُمْنَی کَأَشْبَهِ مَنْ رَأَيْتُ مِنْ النَّاسِ بِابْنِ قَطَنٍ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی مَنْکِبَيْ رَجُلَيْنِ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ فَقُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
محمد بن اسحاق مسیبی، انس، ابن عیاض، موسیٰ ابن عقبہ، نافع، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن لوگوں کے سامنے مسیح دجال کے بارے میں ذکر فرمایا تو بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ کانا نہیں، آگاہ رہو کہ مسیح دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور ہے، حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے ایک رات خواب میں بیت اللہ کے پاس ایک آدمی دکھایا گیا تو وہ خوبصورت گندمی رنگ والوں جیسا گندمی رنگ کا آدمی تھا کندھوں تک اس کے بال تھے اور بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر تھے اور وہ ان دونوں آدمیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہیں لوگوں نے کہا کہ یہ حضرت مسیح بن مریم ہیں اور مجھے ان کے پیچھے ایک اور آدمی نظر آیا جس کے بال بےحد گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا میرے دیکھے ہوئے لوگوں میں بنی قطن اس سے زیادہ مشابہ ہے وہ بھی دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah bin Umar that one day the Messenger of Allah ﷺ mentioned in the presence of people about al-Masih al-Dajjal. He said: Verily Allah (hallowed be He and High) is not blind of one eye. Behold, but the Masih al-Dajjal is blind of right eye as if his eye is like a swollen grape, and the Messenger of Allah ﷺ said: I was shown in a dream in the night that near the Ka’bah there was a man fair-complexioned, fine amongst the white-complexioned men that you ever saw, his locks of hair were falling on his shoulders. He was a man whose hair were neither too curly nor too straight, and water trickled down from his head. He was placing his bands on the shoulders of two persons and amidst them was making a circuit around the Ka’bah. I said: Who is he? They replied: Al-Masih son of Mary. And I saw behind him a man with intensely curly hair, blind of right eye. Amongst the persons I have ever seen Ibn Qatan has the greatest resemblance with him. He was making a circuit around the Ka’bah by placing both his hands on the shoulders of two persons. I said: Who is he? They said; It is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا حَنْظَلَةُ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ عِنْدَ الْکَعْبَةِ رَجُلًا آدَمَ سَبِطَ الرَّأْسِ وَاضِعًا يَدَيْهِ عَلَی رَجُلَيْنِ يَسْکُبُ رَأْسُهُ أَوْ يَقْطُرُ رَأْسُهُ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ أَوْ الْمَسِيحُ ابْنُ مَرْيَمَ لَا نَدْرِي أَيَّ ذَلِکَ قَالَ وَرَأَيْتُ وَرَائَهُ رَجُلًا أَحْمَرَ جَعْدَ الرَّأْسِ أَعْوَرَ الْعَيْنِ الْيُمْنَی أَشْبَهُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ ابْنُ قَطَنٍ فَسَأَلْتُ مَنْ هَذَا فَقَالُوا الْمَسِيحُ الدَّجَّالُ
ابن نمیر، حنظلہ، سالم، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے بیت اللہ کے پاس ایک گندم گوں آدمی کو دیکھا اس کے بال نکلے ہوئے تھے اس کے دونوں ہاتھ دو آدمیوں کے کندھوں پر رکھے ہوئے تھے اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا یا اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے میں نے پوچھا یہ کون ہے تو لوگوں نے کہا کہ یہ عیسیٰ بن مریم ہیں یا اس طرح فرمایا کہ یہ مسیح بن مریم ہیں معلوم نہیں کہ ان میں سے کون سا لفظ کہا حدیث کے راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان کے پیچھے ایک دوسرا آدمی نظر آیا جس کا رنگ سرخ، بال گھنگریالے اور دائیں آنکھ سے کانا تھا میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں اس سے سب سے زیادہ مشابہ ابن قطن تھا میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ مسیح دجال ہے۔
It is narrated on the authority of Ibn Umar that the Messenger of Allah ﷺ said: I saw near the Ka’bah a man of fair complexion with straight hair, placing his hands on two persons. Water was flowing from his head or it was trickling from his head. I asked: Who is he? They said: He is Jesus son of Mary or al-Masih son of Mary. The narrator) says: I do not remember which word it was. He (the Holy Prophet) said: And I saw behind him a man with red complexion and thick curly hair, blind in the right eye. I saw in him the greatest resemblance with Ibn Qitan I asked: Who is he? They replied: It is al-Masih al-Dajjal.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ عُقَيْلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَمَّا کَذَّبَتْنِي قُرَيْشٌ قُمْتُ فِي الْحِجْرِ فَجَلَا اللَّهُ لِي بَيْتَ الْمَقْدِسِ فَطَفِقْتُ أُخْبِرُهُمْ عَنْ آيَاتِهِ وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَيْهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، عقیل، زہری، ابوسلمہ ؓ، عبدالرحمن، جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب قریش نے مجھے جھٹلایا اور میں حطیم میں کھڑا ہوا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کو میرے سامنے کردیا اور میں دیکھ کر اس کی نشانیاں بتلانے لگا۔
It is narrated on the authority of Jabir bin Abdullah that the Messenger of Allah ﷺ said: When the Quraish belied me, I was staying in Hatim and Allah lifted before me Bait-ul-Maqdis and I began to narrate to them (the Quraish of Makkah) its signs while I was in fact looking at it.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ رَأَيْتُنِي أَطُوفُ بِالْکَعْبَةِ فَإِذَا رَجُلٌ آدَمُ سَبِطُ الشَّعْرِ بَيْنَ رَجُلَيْنِ يَنْطِفُ رَأْسُهُ مَائً أَوْ يُهَرَاقُ رَأْسُهُ مَائً قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا هَذَا ابْنُ مَرْيَمَ ثُمَّ ذَهَبْتُ أَلْتَفِتُ فَإِذَا رَجُلٌ أَحْمَرُ جَسِيمٌ جَعْدُ الرَّأْسِ أَعْوَرُ الْعَيْنِ کَأَنَّ عَيْنَهُ عِنَبَةٌ طَافِيَةٌ قُلْتُ مَنْ هَذَا قَالُوا الدَّجَّالُ أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا ابْنُ قَطَنٍ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، سالم، ابن عمر بن خطاب ؓ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، اس دوران کہ میں سو رہا تھا میں نے اپنے آپ کو بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا او ایک سیدھے لمبے بالوں والے آدمی کو دو آدمیوں کے درمیان دیکھا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا یا اس کے سر سے پانی بہہ رہا تھا میں نے پوچھا یہ کون ہے لوگوں نے بتایا کہ یہ حضرت مریم کے بیٹے ہیں پھر میں جاتے ہوئے متوجہ ہوا تو ایک سرخ رنگ بھاری بھر کم آدمی کو دیکھا کہ جس کے بال گھنگریالے تھے اور وہ دائیں آنکھ سے کانا تھا گویا کہ اس کی آنکھ پھولا ہوا انگور تھی میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے لوگوں نے کہا کہ یہ دجال ہے لوگوں میں سب سے زیادہ اس کے مشابہ ابن قطن ہے۔
Abdullah reported on the authority of his father Umar bin Khattab that he heard from the Messenger of Allah ﷺ say: I was sleeping when I saw myself making circuit around the Ka’bah, and I saw there a man of fair complexion with straight hair between two men. Water was flowing from his head or water was falling from his head. I said: Who is he? They answered: He is the son of Mary. Then I moved forward and cast a glance and there was a bulky man of red complexion with thick locks of hair on his head, blind of one eye as it his eye was a swollen grape. I asked: Who is he? They said: He is Dajjal. He had close resemblance with Ibn Qatan amongst men.
مسیح بن مریم اور مسیح دجال کے ذکر کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ وَهُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي الْحِجْرِ وَقُرَيْشٌ تَسْأَلُنِي عَنْ مَسْرَايَ فَسَأَلَتْنِي عَنْ أَشْيَائَ مِنْ بَيْتِ الْمَقْدِسِ لَمْ أُثْبِتْهَا فَکُرِبْتُ کُرْبَةً مَا کُرِبْتُ مِثْلَهُ قَطُّ قَالَ فَرَفَعَهُ اللَّهُ لِي أَنْظُرُ إِلَيْهِ مَا يَسْأَلُونِي عَنْ شَيْئٍ إِلَّا أَنْبَأْتُهُمْ بِهِ وَقَدْ رَأَيْتُنِي فِي جَمَاعَةٍ مِنْ الْأَنْبِيَائِ فَإِذَا مُوسَی قَائِمٌ يُصَلِّي فَإِذَا رَجُلٌ ضَرْبٌ جَعْدٌ کَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوئَةَ وَإِذَا عِيسَی ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَقْرَبُ النَّاسِ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ الثَّقَفِيُّ وَإِذَا إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام قَائِمٌ يُصَلِّي أَشْبَهُ النَّاسِ بِهِ صَاحِبُکُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ فَحَانَتْ الصَّلَاةُ فَأَمَمْتُهُمْ فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ الصَّلَاةِ قَالَ قَائِلٌ يَا مُحَمَّدُ هَذَا مَالِکٌ صَاحِبُ النَّارِ فَسَلِّمْ عَلَيْهِ فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَبَدَأَنِي بِالسَّلَامِ
زہیر بن حرب، حجین بن مثنی، عبدالعزیز (ابن ابی سلمہ)، عبداللہ بن فضل، ابوسلمہ بن عبدالرحمن، ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے آپ کو حطیم میں دیکھا اور قریش مجھ سے میرے معراج پر جانے کے بارے میں سوال کر رہے تھے تو قریش نے مجھ سے بیت المقدس کی چند ایسی چیزوں کے بارے میں پوچھا جن کو میں دوسری اہم چیزوں میں مشغولیت کے باعث محفوظ نہ رکھ سکا تھا، مجھے اس کا اتنا زیادہ افسوس ہوا کہ اتنا اس سے پہلے کبھی نہ ہوا تھا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے بیت المقدس کے درمیان پردے اٹھا کر میرے سامنے کردیا میں نے اسے دیکھ کر جس کے بارے میں سوال کرتے وہ انہیں بتلا دیتا اور میں نے اپنے آپ کو انبیاء (علیہ السلام) کی ایک جماعت میں دیکھا اور حضرت موسیٰ کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا گویا کہ وہ گٹھے ہوئے جسم اور گھنگریالے بالوں والے آدمی ہیں گو یا کہ وہ قبیلہ شنوء کے ایک آدمی ہیں اور حضرت عیسیٰ بن مریم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا تو لوگوں میں سب سے زیادہ ان سے مشابہ عروہ بن مسعود ثقفی ؓ ہیں اور حضرت ابراہیم کو کھڑے ہوئے نماز پڑھتے دیکھا لوگوں میں سے سے زیادہ ان کے مشابہ تمہارے صاحب ہیں اس کے بعد نماز کا وقت آیا تو میں امام بنا پھر میرے نماز سے فارغ ہونے پر ایک کہنے والے نے کہا کہ اے محمد ﷺ یہ مالک، داروغہ جہنم ہے اس پر سلام کیجئے میں اس کی طرف متوجہ ہوا تو پہلے اس نے مجھے سلام کیا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the Messenger of Allah ﷺ said: I found myself in Hijr and the Quraish were asking me about my might journey. I was asked about things pertaining to Bait-ul-Maqdis which I could not preserve (in my mind). I was very much vexed, so vexed as I had never been before. Then Allah raised it (Bait-ul-Maqdis) before my eyes. I looked towards it, and I gave them the information about whatever they questioned me I also saw myself among the group of apostles. I saw Moses (علیہ السلام) saying prayer and found him to be a well-built man as if he was a man of the tribe of Shanua. I saw Jesus son of Mary (peace be upon him) offering prayer, of all of men he had the closest resemblance with Urwa bin Masud al-Thaqafi. I saw Ibrahim (peace be upon him) offering prayer; he had the closest resemblance with your companion (the Prophet ﷺ himself) amongst people. When the time of prayer came I led them. When I completed the prayer, someone said: Here is Malik, the keeper of the Hell; pay him salutations. I turned to him, but he preceded me in salutation.
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ جَمِيعًا عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَأَلْفَاظُهُمْ مُتَقَارِبَةٌ قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مَالِکُ بْنُ مِغْوَلٍ عَنْ الزُّبَيْرِ بْنِ عَدِيٍّ عَنْ طَلْحَةَ عَنْ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلَی سِدْرَةِ الْمُنْتَهَی وَهِيَ فِي السَّمَائِ السَّادِسَةِ إِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنْ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَإِلَيْهَا يَنْتَهِي مَا يُهْبَطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا قَالَ إِذْ يَغْشَی السِّدْرَةَ مَا يَغْشَی قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ قَالَ فَأُعْطِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا أُعْطِيَ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسَ وَأُعْطِيَ خَوَاتِيمَ سُورَةِ الْبَقَرَةِ وَغُفِرَ لِمَنْ لَمْ يُشْرِکْ بِاللَّهِ مِنْ أُمَّتِهِ شَيْئًا الْمُقْحِمَاتُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابواسامہ، مالک بن مغول، ابن نمیر، زہیر بن حرب، عبداللہ بن نمیر، زبیر بن عدی، طلحہ بن مصرف، مرہ، عبداللہ حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو معراج کے لئے سیر کرائی گئی تو آپ ﷺ کو سدرۃ المنتہی تک لے جایا گیا جو کہ چھٹے آسمان میں واقع ہے زمین سے اوپر چڑھنے والی چیز اور اوپر سے نیچے آنی والی چیز یہاں آکر رک جاتی ہے پھر اسے لے جایا جاتا ہے اللہ نے فرمایا (اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى) 53۔ النجم: 16) کہ ڈھانک لیتی ہے وہ چیزیں کہ جو ڈھانک لیتی ہیں حضرت عبداللہ نے فرمایا یعنی سونے کے پتنگے۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو تین چیزیں عطا کی گئیں پانچ نمازیں سورت البقرہ کی آخری آیتیں اور آپ ﷺ کی امت میں ہر ایک ایسے آدمی کو بخش دیا گیا جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے اور کبیرہ گناہوں سے بچا رہے۔
It is narrated on the authority of Abdullah (b. Umar) that when the Messenger of Allah ﷺ was taken for the Night journey, he was taken to Sidrat-ul-Muntaha, which is situated on the sixth heaven, where terminates everything that ascends from the earth and is held there, and where terminates every- thing that descends from above it and is held there. (It is with reference to this that) Allah said:" When that which covers covered the lote-tree" (al-Quran, Iiii. 16). He (the narrator) said: (It was) gold moths. He (the narrator further) said: The Messenger of Allah ﷺ was given three (things): he was given five prayers, be was given the concluding verses of Sura al-Baqarah, and remission of serious Sins for those among his Ummah who associate not anything with Allah
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادٌ وَهُوَ ابْنُ الْعَوَّامِ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَأَلْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی جِبْرِيلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
ابوربیع، زہرانی، عباد، ابن عوام، شیبانی، حضرت سلیمان شیبانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت زر بن حبیش سے اللہ کے فرمان (فَکَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنَی) کے بارے میں پوچھا تو فرمایا کہ مجھ سے حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا کہ نبی ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
Al-Shaibini reported to us: I asked Zirr bin Hubaish about the words of Allah (the Mighty and Great):" So he was (at a distance) of two bows or nearer" (al-Quran, Iiii 8). He said: Ibn Masud informed me that, verily, the Apostle of Allah ﷺ saw Gabriel (علیہ السلام) and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص بن غیاث، شیبانی، حضرت عبداللہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی میں دیکھنے سے مراد حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھنا ہے آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔
Al-Shaibani narrated on the authority of Zirr who narrated it on this authority ofAbdullah that the (words of Allah):" The heart belied not what he saw" (al Quran, Iiii. 11) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام) (peace be upon him) and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ سَمِعَ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ فِي صُورَتِهِ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ
عبیداللہ بن معاذ عبنری، شعبہ، سلیمان، شیبانی، حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں (لَقَدْ رَأَی مِنْ آيَاتِ رَبِّهِ الْکُبْرَی) یعنی آپ ﷺ نے اپنے رب کی بڑی نشانیاں دیکھیں اس دیکھنے سے مراد یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو ان کی اصل صورت میں دیکھا کہ ان کے چھ سو بازو ہیں۔
Zirr bin Hubaish narrated it on the authority of Abdullah (that the words of Allah):" Certainly he saw of the greatest signs of Allah" (al-Quran, liii. 18) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام) in his (original) form and he had six hundred wings.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَأَی جِبْرِيلَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، عبدالملک، عطاء، ابوہریرہ ؓ حضرت ابوہریرہ ؓ نے ( وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) کے بارے میں فرمایا کہ آپ ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا۔
It is narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) that the (words of Allah):" And certainly he saw him in another descent" (al-Quran, Iiii. 13) imply that he saw Gabriel (علیہ السلام).
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ رَآهُ بِقَلْبِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas that he (the Holy Prophet) saw (Allah) with, his heart.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ جَمِيعًا عَنْ وَکِيعٍ قَالَ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحُصَيْنِ أَبِي جَهْمَةَ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی قَالَ رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حفص، عبدالملک، عطاء، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان (مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَأَی وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی) سے مراد یہ ہے کہ اللہ عزوجل کے رسول ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل میں دو مرتبہ دیکھا۔
It is narrated on the authority of Ibn Abbas (RA) that the words:" The heart belied not what he saw" (al-Quran, Iiii. 11) and" Certainly he saw Him in another descent" (al-Quran, Iiii. 13) imply that he saw him twice with his heart.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ عَنْ الْأَعْمَشِ حَدَّثَنَا أَبُو جَهْمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوسعید اشج، وکیع، اعمش، زیاد بن حصین، ابی جہمہ، ابوعالیہ سے روایت ہے کہ ہم سے حضرت ابوجہمہ نے اسی سند کے ساتھ روایت نقل فرمائی۔
Abu Bakr (RA) bin Abi Shaiba narrated it on the same authorities.
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ دَاوُدَ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ کُنْتُ مُتَّکِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ يَا أَبَا عَائِشَةَ ثَلَاثٌ مَنْ تَکَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قُلْتُ مَا هُنَّ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ قَالَ وَکُنْتُ مُتَّکِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ أَنْظِرِينِي وَلَا تَعْجَلِينِي أَلَمْ يَقُلْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ وَلَقَدْ رَآهُ نَزْلَةً أُخْرَی فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيلُ لَمْ أَرَهُ عَلَی صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنْ السَّمَائِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَائِ إِلَی الْأَرْضِ فَقَالَتْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ لَا تُدْرِکُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِکُ الْأَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُولُ وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ أَنْ يُکَلِّمَهُ اللَّهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِنْ وَرَائِ حِجَابٍ أَوْ يُرْسِلَ رَسُولًا فَيُوحِيَ بِإِذْنِهِ مَا يَشَائُ إِنَّهُ عَلِيٌّ حَکِيمٌ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَتَمَ شَيْئًا مِنْ کِتَابِ اللَّهِ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ قَالَتْ وَمَنْ زَعَمَ أَنَّهُ يُخْبِرُ بِمَا يَکُونُ فِي غَدٍ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللَّهِ الْفِرْيَةَ وَاللَّهُ يَقُولُ قُلْ لَا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ
زہیر بن حرب، اسماعیل ابن ابراہیم، داود، شعبی، حضرت مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ ؓ کے پاس تکیہ لگائے بیٹھا تھا انہوں نے فرمایا اے ابوعائشہ (یہ ان کی کنیت ہے) تین باتیں ایسی ہیں کہ اگر کوئی ان کا قائل ہوجائے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا میں نے عرض کیا وہ تین باتیں کونسی ہیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا ایک تو یہ ہے کہ جس نے خیال کیا کہ محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے تو اس نے اللہ پر بڑا جھوٹ باندھا مسروق کہتے ہیں کہ میں تکیہ لگائے بیٹھا تھا میں نے یہ سنا تو اٹھ کر بیٹھ گیا میں نے عرض کیا اے ام المومنین مجھے بات کرنے دیں اور جلدی نہ کریں کیا اللہ نے نہیں فرمایا (وَلَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى) 53۔ النجم: 3) حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرمانے لگیں کہ اس امت میں سب سے پہلے میں نے ان آیات کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے پوچھا آپ ﷺ نے فرمایا ان آیتوں سے مراد جبرائیل (علیہ السلام) ہیں میں نے انہیں ان کی اصل صورت میں نہیں دیکھا سوائے دو مرتبہ کے جس کا ان آیتوں میں ذکر ہے میں نے دیکھا کہ وہ آسمان سے اتر رہے تھے اور ان کے تن وتوش کی بڑائی نے آسمان سے زمین تک کو گھیر رکھا ہے اس کے بعد حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کیا تو نے نہیں سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ ) 6۔ الانعام: 103) کیا تو نے اللہ عز وجل کا یہ ارشاد نہیں سنا (وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَا ي ِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِه مَا يَشَا ءُ اِنَّه عَلِيٌّ حَكِيْمٌ) 42۔ الشوری: 51) یعنی اس کی آنکھیں اسے نہیں دیکھ سکتیں اور وہ آنکھوں کا ادراک کرسکتا ہے اور وہی لطیف وخبیر ہے اور کسی انسان کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ اللہ سے باتیں کرے مگر وحی یا پردے کے پیچھے سے اور دوسری آیت یہ ہے کہ جو کوئی خیال کرے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی کتاب میں سے کچھ چھپالیا ہے تو اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْکَ مِنْ رَبِّکَ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ) اے رسول ﷺ جو آپ ﷺ پر آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اترا ہے اس کی تبلیغ کیجئے اگر آپ ﷺ ایسا نہ کریں گے تو آپ حق رسالت ادا نہ کریں گے اور تیسری بات یہ کہ جو آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ آئندہ ہونے والی باتوں کو جانتے تھے تو اس نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اور اللہ فرماتا ہے کہ اے محمد ﷺ آپ ﷺ فرما دیجئے کہ آسمانوں اور زمینوں میں اللہ کے سوا کوئی غیب کی باتیں نہیں جانتا۔
It is narrated on the authority of Masruq that he said: I was resting at (the house of) Aisha that she said: O Abu Aisha (kunya of Masruq), there are three things, and he who affirmed even one of them fabricated the greatest lie against Allah. I asked that they were. She said: He who presumed that Muhammad ﷺ saw his Lord (with his ocular vision) fabricated the greatest lie against Allah. I was reclining but then sat up and said: Mother of the Faithful, wait a bit and do not be in a haste. Has not Allah (Mighty and Majestic) said:" And truly he saw him on the clear horizon" (al-Quran, lxxxi. 23) and" he saw Him in another descent" (al-Quran, iiii. 13)? She said: I am the first of this Ummah who asked the Messenger of Allah ﷺ about it, and he said: Verily he is Gabriel (علیہ السلام). I have never seen him in his original form in which he was created except on those two occasions (to which these verses refer) ; I saw him descending from the heaven and filling (the space) from the sky to the earth with the greatness of his bodily structure. She said: Have you not heard Allah saying." Eyes comprehend Him not, but He comprehends (all) vision. and He is Subtle, and All-Aware" (al-Quran, v. 104)? (She, i. e. Aisha, further said): Have you not heard that, verily, Allah says:" And it is not vouchsafed to a human being that Allah should speak unto him otherwise than by revelation, or from behind a veil, or that He sendeth a messenger (angel), so that he revealth whatsoever He wills. Verily He is Exalted. Wise" (al. Quran, xii. 51) She said: He who presumes that the Messengerof Allah ﷺ concealed anything, from the Book, of Allah fabricates the greatest lie against Allah. Allah says:" O Messenger! deliver that which has been revealed to thee from thy Lord, and if thou do (it) not, thou hast not delivered His message" (al-Quran, v. 67). She said: He who presumes that he would inform about what was going to happen tomorrow fabricates the greatest lie against Allah. And Allah says" Say thou (Muhammad): None in the heavens and the earth knoweth the unseen save Allah" (al-Quran, xxvii 65).
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَزَادَ قَالَتْ وَلَوْ کَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَاتِمًا شَيْئًا مِمَّا أُنْزِلَ عَلَيْهِ لَکَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِکْ عَلَيْکَ زَوْجَکَ وَاتَّقِ اللَّهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِکَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَی النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، داؤد نے اسی سند کے ساتھ ابن علیہ کی حدیث کی طرح روایت کی ہے اور اس میں اتنا زائد ہے کہ اگر محمد ﷺ اس میں سے کچھ چھپانے والے ہوتے جو آپ پر نازل ہوا تو اس آیت کو چھپاتے ( وَاِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِيْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِ وَاَنْعَمْتَ عَلَيْهِ اَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللّٰهَ وَتُخْ فِيْ فِيْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِيْهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰ ىهُ ) 33۔ الاحزاب: 37) اور جب آپ ﷺ اس آدمی سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا اور آپ ﷺ نے بھی انعام کیا کہ اپنی زوجہ مطہرہ زینب ؓ کو اپنی زوجیت میں رہنے دے اور اللہ سے ڈر اور آپ ﷺ اپنے دل میں وہ بات بھی چھپائے ہوئے تھے جس کو اللہ آخر میں ظاہر کرنے والا تھا اور آپ ﷺ لوگوں کے طعن سے ڈر رہے تھے اور ڈرنا تو اللہ ہی سے سزاوار ہے۔
Dawud reported on the same authorities the hadith as narrated above by Ibn Uliyya and added: She (Aisha) said: If Muhammad were to conceal anything which was sent to him, he would have certainly concealed this verse:" And when thou saidst to him on whom Allah had conferred favour and thou too had conferred favour: Keep thy wife to thyself and fear Allah, and thou wast concealing in thy heart that which Allah was going to disclose, and thou wast fearing men while Allah has a better right that thou shouldst fear Him."
اللہ تعالیٰ کے فرمان ولقد راہ نزلہ اخری کے معنی اور کی نبی ﷺ کو معراج کی رات اپنے رب کا دیدار ہوا کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ رَأَی مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَبَّهُ فَقَالَتْ سُبْحَانَ اللَّهِ لَقَدْ قَفَّ شَعَرِي لِمَا قُلْتَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِقِصَّتِهِ وَحَدِيثُ دَاوُدَ أَتَمُّ وَأَطْوَلُ
ابن نمیر، اسماعیل، شعبی، مسروق کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ کیا محمد ﷺ نے اپنے رب کو دیکھا ہے حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا سُبْحَانَ اللَّهِ آپ کی یہ بات سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور پھر واقعہ اس طرح بیان کیا اور داؤد کی روایت زیادہ پوری اور لمبی ہے۔
Masruq reported: I asked Aisha if Muhammad ﷺ had seen his Lord. She replied: Hallowed be Allah, my hair stood on end when you said this, and he (Masruq) narrated the hadith as narrated above. The hadith reported by Diwud is more complete and longer.