مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ يَعْنِي ابْنَ عُلَيَّةَ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أُمَيَّةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ عَنْ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ح و حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أُسَامَةُ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِهِمْ وَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ فَقَدْ عَتَقَ مِنْهُ مَا عَتَقَ إِلَّا فِي حَدِيثِ أَيُّوبَ وَيَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ فَإِنَّهُمَا ذَکَرَا هَذَا الْحَرْفَ فِي الْحَدِيثِ وَقَالَا لَا نَدْرِي أَهُوَ شَيْئٌ فِي الْحَدِيثِ أَوْ قَالَهُ نَافِعٌ مِنْ قِبَلِهِ وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ أَحَدٍ مِنْهُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي حَدِيثِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، یحییٰ بن سعید، ابوربیع، ابوکامل، حماد ابن زید، زہیر بن حرب، اسماعیل یعنی ابن علیہ، ایوب، اسحاق بن منصور، عبدالرزاق، ابن جریج، اسماعیل بن امیہ، محمد بن رافع، ابن ابی فدیک، ابن ابی ذئب، ہارون بن سعید ایلی، ابن وہب، اسامہ یعنی ابن زید، نافع، ابن عمر اسی حدیث کی مزید سات اسناد ذکر کی ہیں۔ حضرت ابن عمر (رض) نبی کریم ﷺ سے یہی حدیث روایت کرتے ہیں ان کی حدیث میں یہ نہیں ہے کہ اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اتنا ہی آزاد ہوگا جتنا اس نے آزاد کیا۔ ایوب اور یحییٰ بن سعید نے اپنی اپنی حدیث میں یہ حرف ذکر کیا ہے کہا کہ ہم نہیں جانتے کہ وہ حدیث میں سے ہے یا نافع نے اپنے پاس سے کہا ہے اور لیث بن سعد کے علاوہ کسی کی بھی روایت میں یہ نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے سنا۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ کِلَاهُمَا عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ عَبْدًا بَيْنَهُ وَبَيْنَ آخَرَ قُوِّمَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ قِيمَةَ عَدْلٍ لَا وَکْسَ وَلَا شَطَطَ ثُمَّ عَتَقَ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ مُوسِرًا
عمرو ناقد، ابن ابی عمر، ابن عیینہ، ابن ابی عمر، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت سالم بن عبداللہ (رض) اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ایسے غلام کو آزاد کیا جو اس کے اور دوسرے آدمی کے درمیان مشترک تھا تو اس غلام کی درمیانی قیمت لگائی جائے گی نہ کم اور نہ زیادہ پھر اس پر اپنے مال میں سے آزاد کرنا لازم ہوگا اگر وہ مالدار ہو۔
Salim bin Abdullah reported on the authority of his father that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who emancipates a slave (shared) by him and another one, his full price may be justly assessed from his wealth, neither less nor more, and he (the slave) would be emancipated if he (the partner) would be solvent enough (to forgo the amount of his share).
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَالِمٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شِرْکًا لَهُ فِي عَبْدٍ عَتَقَ مَا بَقِيَ فِي مَالِهِ إِذَا کَانَ لَهُ مَالٌ يَبْلُغُ ثَمَنَ الْعَبْدِ
عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، زہری، سالم، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی بھی اس کے مال میں سے ہی آزاد ہوگا جب اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے
Ibn Umar reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who gives up his share in a slave, the remaining (share) will be paid out of his riches if his riches are enough to meet the price of the slave.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي الْمَمْلُوکِ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ فَيُعْتِقُ أَحَدُهُمَا قَالَ يَضْمَنُ
محمد بن مثنی، محمد بن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیر بن نہیک، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے اس غلام کے بارے میں ارشاد فرمایا جو دو آدمیوں کے درمیان ہو اور ان میں سے ایک آزاد کر دے تو دوسرا اس کا ضامن ہوگا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: In case the slave is owned by two persons, and one of them emancipates him, he will guarantee (his full freedom).
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا مِنْ مَمْلُوکٍ فَهُوَ حُرٌّ مِنْ مَالِهِ
عبیداللہ بن معاذ، حضرت شعبہ سے روایت ہے کہ جس نے غلام میں سے اپنے حصے کو آزاد کیا تو باقی بھی اسی مال سے آزاد ہوگا۔
This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters (and the words are): "He who emancipates a portion in a slave, he should (secure full) freedom for him from his property."
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيکٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ شَقِيصًا لَهُ فِي عَبْدٍ فَخَلَاصُهُ فِي مَالِهِ إِنْ کَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ اسْتُسْعِيَ الْعَبْدُ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
عمرو ناقد، اسماعیل بن ابراہیم، ابن ابی عروبہ، قتادہ، نضر بن انس، بشیربن نہیک، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس نے غلام میں اپنے حصے کو آزاد کیا تو اس کا پورا آزاد کرنا اسی کے مال میں سے ہوگا اگر اس کے پاس مال ہو اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو محنت طلب کی جائے گی مشقت ڈالے بغیر
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who emancipates his portion in a slave, full emancipation may be secured for him out of his property (if he has money) if he has enough property to meet (the required expenses), but if he has not enough property, the slave should be put to extra labour (in order to earn money for buying his freedom), but he should not be overburdened.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَعَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ قَالَا أَخْبَرَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ جَمِيعًا عَنْ ابْنِ أَبِي عَرُوبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَفِي حَدِيثِ عِيسَی ثُمَّ يُسْتَسْعَی فِي نَصِيبِ الَّذِي لَمْ يُعْتِقْ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، محمد بن بشر، اسحاق بن ابراہیم، علی بن خشرم، عیسیٰ بن یونس، ابی عروبہ یہی حدیث ان دو اسناد سے بھی مروی ہے اور حضرت عیسیٰ کی حدیث میں ہے بھر اس کے غلام سے اس کے حصے میں محنت کروائی جائے گی جس نے آزاد نہیں کیا مشقت ڈالے بغیر۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters (and the words are): "He will be required to work (in order to secure freedom) for that portion in which he has not been emancipated, without overburdening him."
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ أَنَّ رَجُلًا أَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوکِينَ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ فَدَعَا بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَزَّأَهُمْ أَثْلَاثًا ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً وَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا
علی بن حجر سعدی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن علیہ، ایوب، ابی قلابہ، ابی المہلب، حضرت عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کا ان کے علاوہ کوئی مال نہ تھا تو انہیں رسول اللہ ﷺ نے بلایا اور انہیں تین حصوں میں تقسم کردیا پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور دو کو آزاد کردیا اور چار کو غلام رکھا اور آپ ﷺ نے اسے سخت الفاظ کہے۔
Imran bin Husain reported that a person who had no other property emancipated six slaves of his at the time of his death. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) called for them and divided them into three sections, cast lots amongst them, and set two free and kept four in slavery; and he (the Holy Prophet) spoke severely of him.
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ عَنْ الثَّقَفِيِّ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ أَمَّا حَمَّادٌ فَحَدِيثُهُ کَرِوَايَةِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَأَمَّا الثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَوْصَی عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمْلُوکِينَ
قتیبہ بن سعید، حماد، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ثقفی، ایوب، حماد اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں بہرحال حماد کی حدیث میں ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلاموں کو آزاد کیا۔
This hadith has been narrated through another chain of transmitters (and the words are): "A person from among the Ansar willed away the freedom of six slaves of his at the time of his death."
مشتر کہ غلام کو آزاد کرنے والے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِنْهَالٍ الضَّرِيرُ وَأَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ قَالَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ حَدِيثِ ابْنِ عُلَيَّةَ وَحَمَّادٍ
محمد بن منہال ضریر، احمد بن عبدہ، یزید بن زریع، ہشام بن حسان، محمد بن سیرین، حضرت عمران بن حصین (رض) نے نبی کریم ﷺ سے ابن علیۃ اور حماد کی حدیث روایت کی ہے۔
This hadith has been reported on the authority of Imran bin Husain through another chain of narrators.
مدبر کی بیع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَکِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ غُلَامًا لَهُ عَنْ دُبُرٍ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَنْ يَشْتَرِيهِ مِنِّي فَاشْتَرَاهُ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بِثَمَانِ مِائَةِ دِرْهَمٍ فَدَفَعَهَا إِلَيْهِ قَالَ عَمْرٌو سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ
ابوربیع، سلیمان بن داود عتکی، حماد یعنی ابن زید، عمرو بن دینار، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ مال نہ تھا یہ بات نبی کریم ﷺ کو پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے مجھ سے کون خریدے گا تو نعیم بن عبداللہ نے یہ غلام آٹھ سو درہم میں خرید لیا اور آپ ﷺ نے وہ غلام اسے دے دیا عمرو نے کہا میں نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ غلام قبطی تھا اور (حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی خلافت کے) پہلے سال میں فوت ہوا۔
Jabir bin Abdullah said that a person among the Ansar declared his slave free after his death, as he had no other property. This news reached the Apostle of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said: Who will buy him from me? And Nuaim bin al-Nahham bought him for eight hundred dirhams and he handed them over to him. Amr (one of the narrators) said: I heard Jabir bin Abdullah as saying: He was a Coptic slave, and he died in the first year (of the Caliphate of Abdullah bin Zubair).
مدبر کی بیع کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ ابْنِ عُيَيْنَةَ قَالَ أَبُو بَکْرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ سَمِعَ عَمْرٌو جَابِرًا يَقُولُا دَبَّرَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ غُلَامًا لَهُ لَمْ يَکُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ فَبَاعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ جَابِرٌ فَاشْتَرَاهُ ابْنُ النَّحَّامِ عَبْدًا قِبْطِيًّا مَاتَ عَامَ أَوَّلَ فِي إِمَارَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، اسحاق بن ابراہیم، ابن عیینہ، ابوبکر، سفیان بن عیینہ، عمرو، حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنے غلام کو مدبر بنا لیا اور اس کے پاس اس کے علاوہ کوئی مال نہ تھا رسول اللہ ﷺ نے اسے فروخت کردیا حضرت جابر بن نحام نے خریدا اور وہ قبطی غلام تھا جو ابن زبیر (رض) کی امارت کے پہلے سال میں فوت ہوا۔
Jabir is reported to have said: A person amongst the Ansar who had no other property declared a slave free after his death. Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) sold him, and Ibn al-Nahham bought him and he was a Coptic slave (who) died in the first year of the Caliphate of Ibn Zubair.
مدبر کی بیع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَابْنُ رُمْحٍ عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمُدَبَّرِ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ
قتیبہ بن سعید، ابن رمح، لیث بن سعد، ابی زبیر، حضرت جابر (رض) سے اسی روایت کی دوسری سند مذکور ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Jabir through another chain of transmitters.
مدبر کی بیع کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا الْمُغِيرَةُ يَعْنِي الْحِزَامِيَّ عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ الْحُسَيْنِ بْنِ ذَکْوَانَ الْمُعَلِّمِ حَدَّثَنِي عَطَائٌ عَنْ جَابِرٍ ح و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَأَبِي الزُّبَيْرِ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ فِي بَيْعِ الْمُدَبَّرِ کُلُّ هَؤُلَائِ قَالَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَی حَدِيثِ حَمَّادٍ وَابْنِ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ جَابِرٍ
قتیبہ بن سعید، مغیرہ یعنی حزامی، عبدالمجید بن سہیل، عطاء بن ابی رباح، جابر بن عبداللہ، عبداللہ بن ہاشم، یحییٰ یعنی ابن سعید، حسین بن ذکوان، عطاء، جابر، ابوغسان مسمعی، معاذ، مطر، عطاء بن ابی رباح، ابی زبیر، عمرو دینار، جابر بن عبداللہ تین مختلف اسناد کے ساتھ حدیث مدبر کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے مروی ہے۔
This hadith has been narrated from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) through other chains of transmitters.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ يَحْيَی وَحَسِبْتُ قَالَ وَعَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّهُمَا قَالَا خَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ حَتَّی إِذَا کَانَا بِخَيْبَرَ تَفَرَّقَا فِي بَعْضِ مَا هُنَالِکَ ثُمَّ إِذَا مُحَيِّصَةُ يَجِدُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هُوَ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَکَانَ أَصْغَرَ الْقَوْمِ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَکَلَّمَ قَبْلَ صَاحِبَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبِّرْ الْکُبْرَ فِي السِّنِّ فَصَمَتَ فَتَکَلَّمَ صَاحِبَاهُ وَتَکَلَّمَ مَعَهُمَا فَذَکَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ فَقَالَ لَهُمْ أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا فَتَسْتَحِقُّونَ صَاحِبَکُمْ أَوْ قَاتِلَکُمْ قَالُوا وَکَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ قَالَ فَتُبْرِئُکُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا قَالُوا وَکَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ کُفَّارٍ فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَی عَقْلَهُ
قتیبہ بن سعید، لیث، یحیی، ابن سعید، بشیر بن یسار، سہل بن ابی حثمہ، یحیی، رافع بن خدیج، عبداللہ بن سہل بن زید، محیصہ ابن مسعود ابن زید، حضرت سہل بن ابی حثمہ سے روایت ہے اور یحییٰ نے کہا میں گمان کرتا ہوں کہ بشیر نے رافع بن خدیج (رض) کا بھی ذکر کیا وہ دونوں فرماتے ہیں یہاں تک کہ عبداللہ بن سہل بن زید اور محیصہ ابن مسعود بن زید نکلے یہاں تک کہ جب وہ دونوں خیبر پہنچے تو بعض وجوہات کی بناء پر ایک دوسرے سے جدا ہوگئے پھر حضرت محیصہ نے عبداللہ بن سہل کو مقتول پایا تو اسے دفن کردیا پھر محیصہ اور حویصہ بن مسعود اور عبدالرحمن بن سہل رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عبدالرحمن بن سہل نے سب سے پہلے بولنا شروع کیا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا جو عمر میں بڑا ہے اس کی عظمت کا خیال رکھو تو وہ خاموش ہوگیا اس کے ساتھیوں نے گفتگو کی اور اس نے بھی ان کے ساتھ گفتگو کی تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ بن سہل کے قتل کی جگہ کا ذکر کیا تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کیا تم اپنے قتل کو ثابت کرلو گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم کیسے قسمیں اٹھائیں حالانکہ ہم وہاں موجود نہ تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا پھر یہود پچاس قسموں کے ساتھ اپنی برأت ثابت کرلیں گے۔ انہوں نے عرض کیا کہ ہم کافر قوم کی قسموں کو کیسے قبول کرسکتے ہیں۔ جب یہ صورت حال رسول اللہ ﷺ نے دیکھی تو اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کردی۔
Sahl bin Abu Hathma and Rafi bin Khadij reported that Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayyisa bin Masud bin Zaid went out and as they reached Khaibar they were separated. Then Muhayyisa found Abdullah bin Sahl having been killed. He buried him, and then came to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . They were Huwayyisa bin Masud and Abdul Rahman bin Sahl, and he (the latter one) was the youngest of the people (those three who had come to seek an interview with the Holy Prophet) began to talk before his Companions (had spoken). Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: The eldest one (eldest in regard to age should speak). So he kept quiet, and his companions (Muhayyisa and Huwayyisa) began to speak, and he (Abd al Rahman) spoke along with them and they narrated to Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the murder of Abdullah bin Sahl. Thereupon he said to them: Are you prepared to take fifty oaths so that you may be entitled (to blood-wit) of your companion (or your man who has murdered)? They said: How can we take an oath on a matter which we have not witnessed? He (the Holy Prophet) said: Then the Jews will exonerate themselves by fifty oaths. They said: How can we accept the oaths of people who are unbelievers? When Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saw that, he himself paid his blood-wit.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ وَرَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ أَنَّ مُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ وَعَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلٍ انْطَلَقَا قِبَلَ خَيْبَرَ فَتَفَرَّقَا فِي النَّخْلِ فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَاتَّهَمُوا الْيَهُودَ فَجَائَ أَخُوهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَابْنَا عَمِّهِ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَکَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فِي أَمْرِ أَخِيهِ وَهُوَ أَصْغَرُ مِنْهُمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَبِّرْ الْکُبْرَ أَوْ قَالَ لِيَبْدَأْ الْأَکْبَرُ فَتَکَلَّمَا فِي أَمْرِ صَاحِبِهِمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ خَمْسُونَ مِنْکُمْ عَلَی رَجُلٍ مِنْهُمْ فَيُدْفَعُ بِرُمَّتِهِ قَالُوا أَمْرٌ لَمْ نَشْهَدْهُ کَيْفَ نَحْلِفُ قَالَ فَتُبْرِئُکُمْ يَهُودُ بِأَيْمَانِ خَمْسِينَ مِنْهُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَوْمٌ کُفَّارٌ قَالَ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ قِبَلِهِ قَالَ سَهْلٌ فَدَخَلْتُ مِرْبَدًا لَهُمْ يَوْمًا فَرَکَضَتْنِي نَاقَةٌ مِنْ تِلْکَ الْإِبِلِ رَکْضَةً بِرِجْلِهَا قَالَ حَمَّادٌ هَذَا أَوْ نَحْوَهُ
عبیداللہ بن عمر قواریری، حماد بن زید، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، سہل بن ابی حثمہ، رافع بن خدیج، محیصہ بن مسعود، عبداللہ بن سہل، حضرت سہل بن ابی حثمہ اور رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے کہ محیصہ بن مسعود (رض) اور عبداللہ بن سہل (رض) خبیر کی طرف چلے اور ایک باغ میں جدا ہوگئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دئیے گئے۔ یہود کو متہم کیا گیا تو اس کا بھائی عبدالرحمن اور اس کے چچا کے بیٹے حویصہ اور محیصہ نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے۔ عبدالرحمن نے اپنے بھائی کے معاملہ میں بات کرنا شروع کی اور وہ ان میں سب سے چھوٹا تھا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑے کی عظمت کرو یا فرمایا چاہیے کہ سب سے بڑا (بات) شروع کرے۔ تو حویصہ و محیصہ نے اپنے ساتھی کے معاملہ میں گفتگو کی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے پچاس آدمی ان (یہودیوں) میں سے کسی آدمی پر قسم کھائیں تو وہ اپنے گلے کی رسی کے ساتھ حوالہ کردیا جائے گا (یعنی اسے بھی قصاصا قتل کیا جائے گا) ۔ تو انہوں نے عرض کیا یہ ایسا معاملہ ہے کہ ہم اس وقت موجود نہ تھے ہم کیسے قسم اٹھا سکتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا یہود اپنے میں سے پچاس آدمیوں کی قسموں کے ساتھ تم سے بری ہوجائیں گے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ وہ تو کافر قوم ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے پاس سے اس کی دیت ادا کی۔ سہل نے کہا میں ایک دن اونٹوں کے باندھنے کی جگہ داخل ہوا تو ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے اپنے پاوں کے ساتھ مجھے مارا۔
Sahl. bin Abu Hathma and Rafi bin Khadij reported that Muhayyisa bin Masud and Abdullah bin Sahl went towards Khaibar and they separated near the palm-trees. Abdullah bin Sahl was killed. They accused the Jews (for this act). And there came to Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) his brother (the brother of the slain person) Abdul Rahman and his cousins Huwayyisa and Muhayyisa; and Abdul Rahman talked to him about the matter pertaining to (the murder of) his brother, and he was the youngest among them. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Show regard for the greatness of the old, or he said: Let the eldest begin speaking. Then they (Huwayyisa and Muhayyisa) spoke about the matter of their companion (murder of their cousin, Abdullah bin Sahl). Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Let fifty (persons) among you take oath for levelling the charge (of murder) against a person amongst them, and he would be surrendered to you. They said: We have not witnessed this matter ourselves. How can we then take oath? He (the Holy Prophet) said: The Jews will exonerate themselves by the oaths of fifty of them. They said: Messenger of Allah, they are non-believing people. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) paid the blood wit for him. Sahl said: As one day I entered the fold a she-camel amongst those camels hit me with its leg.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِي حَدِيثِهِ فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ وَلَمْ يَقُلْ فِي حَدِيثِهِ فَرَکَضَتْنِي نَاقَةٌ
قواریری، بشر بن مفصل، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابی حثمہ (رض) نے نبی کریم ﷺ سے اسی طرح حدیث روایت کی ہے اور اپنی حدیث میں انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا کردی اور اس میں نے یہ نہیں کہا کہ اونٹنی نے مجھے لات مار دی تھی۔
Sahl bin Abu Hathma has narrated this hadith through another chain of transmitters with a slight variation of words, but no mention has been made of the hitting by the she-camel.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ جَمِيعًا عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ
عمرو ناقد، سفیان بن عیینہ، محمد بن مثنی، عبدالوہاب یعنی ثقفی، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابی حثمہ (رض) سے ان کی حدیث کی مثل حدیث کی سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Sahl bin Abu Hathma through another chain of transmitters.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ الْأَنْصَارِيَّيْنِ ثُمَّ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا يَهُودُ فَتَفَرَّقَا لِحَاجَتِهِمَا فَقُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ فَوُجِدَ فِي شَرَبَةٍ مَقْتُولًا فَدَفَنَهُ صَاحِبُهُ ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَی الْمَدِينَةِ فَمَشَی أَخُو الْمَقْتُولِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ فَذَکَرُوا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَأْنَ عَبْدِ اللَّهِ وَحَيْثُ قُتِلَ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ وَهُوَ يُحَدِّثُ عَمَّنْ أَدْرَکَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهُمْ تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَکُمْ أَوْ صَاحِبَکُمْ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا شَهِدْنَا وَلَا حَضَرْنَا فَزَعَمَ أَنَّهُ قَالَ فَتُبْرِئُکُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ کَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ کُفَّارٍ فَزَعَمَ بُشَيْرٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلَهُ مِنْ عِنْدِهِ
عبداللہ بن مسلمہ، قعنب، سلیمان بن بلال، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، عبداللہ بن سہل بن زید، محیصہ بن مسعود بن زیدالانصاری، حضرت بشیر بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ بنوحارثہ میں سے عبداللہ بن سہل زید اور محیصہ بن مسعود بن زید انصاری رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایام صلح میں خیبر کی طرف نکلے اور وہاں کے رہنے والے یہود تھے۔ انہیں ان کی کسی حاجت نے الگ الگ کردیا تو عبداللہ بن سہل قتل کر دئیے گئے اور ایک حوض میں مقتول پائے گے۔ اس کے ساتھی نے اسے دفن کردیا۔ پھر مدینہ کی طرف آیا تو مقتول کا بھائی عبدالرحمن بن سہل محیصہ اور حویصہ چلے اور رسول اللہ ﷺ سے عبداللہ اور اس جگہ کا جہاں وہ قتل کیا گیا تھا کا حال ذکر کیا اور بشیر کا گمان ہے کہ وہ ان لوگوں سے روایت کرتا ہے جنہیں اس نے اصحاب رسول ﷺ میں سے پایا ہے کہ آپ ﷺ نے ان سے فرمایا پچاس قسمیں کھاؤ اور اپنے قاتل یا مدعی علیہ پر خون ثابت کرو۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ ہم نہ اس وقت موجود تھے نہ ہم نے قاتل کو دیکھا۔ بشیر کا گمان ہے، آپ نے فرمایا پھر یہود تم سے پچاس قسموں کے ساتھ بری ہوئیں گے۔ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ ہم کافر قوم کی قسمیں کیسے قبول کرسکتے ہیں ؟ بشیر کا گمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا کی۔
Bushair bin Yasar reported that Abdullah bin Sahl bin Zaid and Muhayyisa bin Masud bin Zaid, both of them were Ansar belonging to the tribe of Banu Haritha, set out to Khaibar during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) . There was peace during those days and (this place) was inhabited by the Jews. They parted company for their (respective) needs. Abdullah B.Sahl was killed, and his dead body was found in a tank. His companion (Muhayyisa) buried him and came to Madinah, and the brothers of the slain Abdul Rahman bin Sahl. and Muhayyisa and Huwayyisa told Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) the case of Abdullah and the place where he had been murdered. Bushair reported on the authority of one who had seen Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) that he had said to them: You take fifty oaths and you are entitled to blood-wit of (one) slain among you (or your companion). They said: Messenger of Allah, we neither saw (with our own eyes this murder) nor were we present there. Thereupon (Allahs Messenger is reported to have said: Then the Jews will exonerate themselves by taking fifty oaths. They said: Allahs Messenger, how can we accept the oath of unbelieving people? Bushair said that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) paid the blood-wit himself.
ثبوت قتل کے لئے قسمیں اٹھا نے کے بیان میں۔
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ يُقَالُ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ انْطَلَقَ هُوَ وَابْنُ عَمٍّ لَهُ يُقَالُ لَهُ مُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَی قَوْلِهِ فَوَدَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ قَالَ يَحْيَی فَحَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ قَالَ أَخْبَرَنِي سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ لَقَدْ رَکَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْکَ الْفَرَائِضِ بِالْمِرْبَدِ
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، عبداللہ بن سہل بن زید، حضرت بشیر بن یسار (رض) سے روایت ہے کہ انصار میں سے بنی حارثہ کا ایک آدمی جسے عبداللہ بن سہل بن زید کہا جاتا ہے چلے۔ باقی حدیث لیث کی حدیث کی طرح گزر چکی۔ اس کے قول کہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی دیت اپنے پاس سے ادا کی۔ یحییٰ نے کہا مجھے بشیر بن سہل نے بیان کیا کہ مجھے سہل بن ابی حثمہ (رض) نے خبر دی کہ مجھے ان اونٹنیوں کے باڑے میں سے ایک اونٹنی نے لات مار دی تھی
Bushair bin Yasar reported that a person from the Ansar belonging to the tribe of Banu Haritha who was called Abdullah bin Sahl bin Zaid set out and the son of his uncle called Muhayyisa bin Masud bin Zaid, the rest of the hadith is the same up to the words: "Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) paid the blood-wit himself." Bushair bin Yasar reported that Sahl bin Abu Hathma said: One camel amongst the camels paid as blood-wit kicked me while I was in the (camel) enclosure.