Sahih Muslimصحیح مسلم

All 7,570 hadiths in order · Page 215 of 379

4288Sahih Muslimصحیح

قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ هَمَّامٍ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأُطِيفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی سَبْعِينَ امْرَأَةً تَلِدُ کُلُّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ غُلَامًا يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقِيلَ لَهُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ فَأَطَافَ بِهِنَّ فَلَمْ تَلِدْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ نِصْفَ إِنْسَانٍ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَمْ يَحْنَثْ وَکَانَ دَرَکًا لِحَاجَتِهِ

عبد بن حمید، عبدالرزاق بن ہمام، معمر، ابن طاو س، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا میں آج رات ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت لڑکا جنم دے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ان سے عرض کی گئی انشاء اللہ کہہ لیں لیکن انہوں نے نہ کہا وہ ان کے پاس گئے لیکن ان میں سے ایک عورت کے سوا کسی عورت نے کچھ بھی جنم نہ دیا اور اس نے بھی آدھا لڑکا جنا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو قسم توڑنے والے نہ ہوتے اور اپنے مقصد کو پہنچ جاتے۔

Abu Hurairah (RA) reported that Sulaiman bin Dawud said: I will certainly have intercourse with seventy wives during the night, and every wife amongst them will give birth to a child, who will fight in the cause of Allah. It was said to him: Say: "Insha Allah" (God willing), but he did not say so and forgot it. He went round them but none of them give birth to a child except one woman and that too was an incomplete person. Upon this Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: If he had said "Insha Allah" he would not have failed, and his desire must have been fulfilled.

4289Sahih Muslimصحیح

قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا شَبَابَةُ حَدَّثَنِي وَرْقَائُ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ لَأَطُوفَنَّ اللَّيْلَةَ عَلَی تِسْعِينَ امْرَأَةً کُلُّهَا تَأْتِي بِفَارِسٍ يُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَقَالَ لَهُ صَاحِبُهُ قُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَلَمْ يَقُلْ إِنْ شَائَ اللَّهُ فَطَافَ عَلَيْهِنَّ جَمِيعًا فَلَمْ تَحْمِلْ مِنْهُنَّ إِلَّا امْرَأَةٌ وَاحِدَةٌ فَجَائَتْ بِشِقِّ رَجُلٍ وَايْمُ الَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَوْ قَالَ إِنْ شَائَ اللَّهُ لَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُرْسَانًا أَجْمَعُونَ

زہیر بن حرب، شبابہ، ورقاء، ابی الزناد، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا حضرت سلیمان بن داؤد علیہما السلام نے فرمایا کہ آج کی رات میں نوے عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر ایک شہسوار کو جنم دے گی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرے گا ان سے ان کے ساتھی نے کہا آپ انشاء اللہ کہہ لیں لیکن انہوں نے انشاء اللہ نہ کہا اور وہ ان سب کے پاس گئے لیکن ان میں سے ایک عورت کے سواء کوئی بھی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی آدھے لڑکے کو جنم دیا اور قسم اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے اگر وہ انشاء اللہ کہہ لیتے تو وہ سارے کے سارے اللہ کے راستہ میں سوار ہو کر جہاد کرتے۔

Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying that Sulaiman bin Dawud (once) said: I will go round in the night to my ninety wives, and every one of them will give birth to a child (who will grow up) as a horseman and fight in the cause of Allah His companions said to him: Say "Insha Allah." but he did not say Insha Allah. He went round all of them but none of them became pregnant but one, and she gave birth to a premature child. And by Him in Whose hand is the life of Muhammad, if he had said Insha Allah (his wives would have given birth to the children who would all have grown up into horsemen and fought in the way of Allah).

4290Sahih Muslimصحیح

قسم و غیرہ میں شاء اللہ کہنے کا بیان

و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ عَنْ مُوسَی بْنِ عُقْبَةَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ کُلُّهَا تَحْمِلُ غُلَامًا يُجَاهِدُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ

سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، حضرت ابوالزاناد کے واسطہ سے بھی یہ حدیث اسی طرح مروی ہے اس میں یہ ہے کہ ان میں ایک لڑکے سے حاملہ ہوتی جو اللہ کے راستہ میں جہاد کرتا۔

This hadith has been narrated on the authority of Abu Zinad with the same chain of transmitters with a variation of (these words): "Every one of them giving birth to a child, who would have fought in the cause of Allah."

4291Sahih Muslimصحیح

جس قسم سے قسم اٹھا نے والے کے اہل کا نقصان ہو اسے قسم اٹھا نے پر اصرار کرنے سے ممانعت کے بیان میں اس شرط پر کہ عمل حرام نہ ہو۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ هَذَا مَا حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ أَحَادِيثَ مِنْهَا وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاللَّهِ لَأَنْ يَلَجَّ أَحَدُکُمْ بِيَمِينِهِ فِي أَهْلِهِ آثَمُ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ أَنْ يُعْطِيَ کَفَّارَتَهُ الَّتِي فَرَضَ اللَّهُ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ہمام بن منبہ، حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت کردہ احادیث میں سے ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں کسی قسم پر اصرار کرنا اس کے لئے زیادہ گناہ کی بات ہے کہ اللہ کے ہاں اس قسم کا کفارہ کرنے سے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔

Hammam bin Munabbih reported: This is what Abu Hurairah (RA) reported to us from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and he narrated a hadith and (one) of them is that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: I swear by Allah, it is more sinful in Allahs sight for one of you to persist in an oath regarding his family than payment of its expiation which Allah has imposed upon him (for breaking the oath).

4292Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ الْمُقَدَّمِيُّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا يَحْيَی وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ عُمَرَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَکِفَ لَيْلَةً فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ قَالَ فَأَوْفِ بِنَذْرِکَ

محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن مثنی، زہیر بن حرب، یحیی، ابن سعید قطان، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں نے جاہلیت میں نذر مانی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا تو اپنی نذر پوری کر۔

Book 015, Number 4072: Ibn Umar reported that Umar (b. Khattab) said: Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance (Jahiliyya) that I would observe Itikaf for a night in the Sacred Mosque. He (the Holy Prophet) said: Fulfil your vow.

4293Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ يَعْنِي الثَّقَفِيَّ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ جَمِيعًا عَنْ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ و قَالَ حَفْصٌ مِنْ بَيْنِهِمْ عَنْ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ أَمَّا أَبُو أُسَامَةَ وَالثَّقَفِيُّ فَفِي حَدِيثِهِمَا اعْتِکَافُ لَيْلَةٍ وَأَمَّا فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ فَقَالَ جَعَلَ عَلَيْهِ يَوْمًا يَعْتَکِفُهُ وَلَيْسَ فِي حَدِيثِ حَفْصٍ ذِکْرُ يَوْمٍ وَلَا لَيْلَةٍ

ابوسعید اشج، ابواسامہ، محمد بن مثنی، عبدالوہاب ثقفی، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن علاء، اسحاق بن ابراہیم، حفص بن غیاث، محمد بن عمرو بن جبلہ بن رواد، محمد بن جعفر، شعبہ، عبیداللہ بن نافع، ابن عمر، اسی حدیث کی مزید اسناد الفاظ کے تغیر و تبدل کے ساتھ ذکر کی ہیں۔ معنی و مفہوم وہی ہے۔

This hadith is transmitted on the authority of Ibn Umar (RA) with a slight variation of words.

4294Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ أَنَّ أَيُّوبَ حَدَّثَهُ أَنَّ نَافِعًا حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ حَدَّثَهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ بَعْدَ أَنْ رَجَعَ مِنْ الطَّائِفِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي نَذَرْتُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ أَنْ أَعْتَکِفَ يَوْمًا فِي الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ فَکَيْفَ تَرَی قَالَ اذْهَبْ فَاعْتَکِفْ يَوْمًا قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَعْطَاهُ جَارِيَةً مِنْ الْخُمْسِ فَلَمَّا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ سَمِعَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ أَصْوَاتَهُمْ يَقُولُونَ أَعْتَقَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا هَذَا فَقَالُوا أَعْتَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبَايَا النَّاسِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَبْدَ اللَّهِ اذْهَبْ إِلَی تِلْکَ الْجَارِيَةِ فَخَلِّ سَبِيلَهَا

ابوطاہر، عبداللہ بن وہب، جریر بن حازم، ایوب، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے جعرانہ میں سوال کیا۔ آپ ﷺ کے طائف سے لوٹنے کے بعد کہ اے اللہ کے رسول ! ﷺ میں نے جاہلیت میں نذر مانی کہ مسجد حرام میں ایک دن اعتکاف کروں گا آپ ﷺ اس بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو اور رسول اللہ ﷺ نے انہیں خمس سے ایک لونڈی عطا کی تھی۔ جب رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کردیا تو حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ان کی آوازیں سنیں۔ وہ کہتے تھے ہمیں رسول اللہ ﷺ نے آزاد کیا تو حضرت عمر (رض) نے کہا یہ کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کردیا ہے۔ تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اے عبداللہ اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے بھی چھوڑ دو ۔

Abdullah bin Umar reported that Umar bin Khattab asked the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as he was at jirana (a town near Makkah) on his way back from Taif: Messenger of Allah, I had taken a vow during the days of Ignorance that I would observe Itikaf for one day in the Sacred Mosque. So what is your opinion? He said: Go and observe Itikaf for a day. And Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) gave him a slave girl out of the one-fifth (of the spoils of war meant for the Holy Prophet). And when Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) set the war prisoners free, Umar bin Khattab heard their voice as they were saying: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has set us free. He (Hadrat Umar) said: What is this? They said: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) has set free the prisoners of war (which had fallen to the lot of people). Thereupon he (Hadrat Umar) said:Abdullah, go to that slave-girl and set her free.

4295Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ لَمَّا قَفَلَ النَّبِيُّ مِنْ حُنَيْنٍ سَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نَذْرٍ کَانَ نَذَرَهُ فِي الْجَاهِلِيَّةِ اعْتِکَافِ يَوْمٍ ثُمَّ ذَکَرَ بِمَعْنَی حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ

عبد بن حمید، عبدالرزاق، معمر، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب حنین سے لوٹے تو حضرت عمر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی ایک دن کے نذر اعتکاف کے بارے میں سوال کیا جو دور جاہلیت کی تھی۔ پھر حضرت جریربن حازم جیسی حدیث ذکر کی۔

ibn Umar reported: When Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) came back from the Battle of Hunain, Umar asked Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) about the vow he had taken during the days of Ignorance that he would observe Itikaf for a day. The rest of the hadith is the same.

4296Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ نَافِعٍ قَالَ ذُکِرَ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ عُمْرَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْجِعْرَانَةِ فَقَالَ لَمْ يَعْتَمِرْ مِنْهَا قَالَ وَکَانَ عُمَرُ نَذَرَ اعْتِکَافَ لَيْلَةٍ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ثُمَّ ذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ وَمَعْمَرٍ عَنْ أَيُّوبَ

احمد بن عبدہ ضبی، حماد بن زید، ایوب، حضرت نافع (رض) سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) کے پاس رسول اللہ ﷺ جعرانہ سے عمرہ کا ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ ﷺ نے اس سے عمرہ نہیں کیا۔ فرمایا کہ عمر (رض) نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی۔

Nafi reported: A mention of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) observing Umrah from jarina was made before Ibn Umar. He said: He did not enter into the state of Ihram from that (place), and Umar had taken a vow of observing Itikaf for a night during the days of Ignorance. The rest of the hadith is the same.

4297Sahih Muslimصحیح

کافر کی نذر کے حکم کے بیان میں جب وہ مسلمان ہو جائے

و حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ أَيُّوبَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَی عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ کِلَاهُمَا عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ بِهَذَا الْحَدِيثِ فِي النَّذْرِ وَفِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا اعْتِکَافُ يَوْمٍ

عبداللہ بن عبدالرحمن دارمی، حجاج بن منہال، حماد، ایوب، یحییٰ بن خلف، عبدالاعلی، محمد بن اسحاق، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے اس حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔ ان سب کی احادیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے۔

This hadith has been transmitted on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters but with a slight variation of words.

4298Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنِي أَبُو کَامِلٍ فُضَيْلُ بْنُ حُسَيْنٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ فِرَاسٍ عَنْ ذَکْوَانَ أَبِي صَالِحٍ عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ أَتَيْتُ ابْنَ عُمَرَ وَقَدْ أَعْتَقَ مَمْلُوکًا قَالَ فَأَخَذَ مِنْ الْأَرْضِ عُودًا أَوْ شَيْئًا فَقَالَ مَا فِيهِ مِنْ الْأَجْرِ مَا يَسْوَی هَذَا إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ لَطَمَ مَمْلُوکَهُ أَوْ ضَرَبَهُ فَکَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ

ابوکامل فضیل بن حسین حجدری، ابوعوانہ، فراس، ذکوان ابی صالح، حضرت زاذان ابی عمر (رض) سے روایت ہے کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس آیا اور آپ ﷺ نے غلام آزاد کیا تو انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا کہ اس میں اس کے برابر بھی اجر وثواب نہیں ہے۔ ہاں ! یہ کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا پیٹا تو اس کا کفارہ اسے آزاد کرنا ہے۔

Zadhan Abl Umar reported: I came to Ibn Umar as he had granted freedom to a slave. He (the narrator further) said: He took hold of a wood or something like it from the earth and said: It (freedom of a slave) has not the reward evert equal to it, but the fact that I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) say: He who slaps his slave or beats him, the expiation for it is that he should set him free.

4299Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ الْمُثَنَّی قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ فِرَاسٍ قَالَ سَمِعْتُ ذَکْوَانَ يُحَدِّثُ عَنْ زَاذَانَ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ دَعَا بِغُلَامٍ لَهُ فَرَأَی بِظَهْرِهِ أَثَرًا فَقَالَ لَهُ أَوْجَعْتُکَ قَالَ لَا قَالَ فَأَنْتَ عَتِيقٌ قَالَ ثُمَّ أَخَذَ شَيْئًا مِنْ الْأَرْضِ فَقَالَ مَا لِي فِيهِ مِنْ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ضَرَبَ غُلَامًا لَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ أَوْ لَطَمَهُ فَإِنَّ کَفَّارَتَهُ أَنْ يُعْتِقَهُ

محمد بن مثنی، ابن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، فراس، ذکوان، حضرت زاذان سے روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے اپنے غلام کو بلوایا اور اس کی پیٹھ پر نشان دیکھے تو اس سے کہا کہ میں نے تجھے تکلیف پہنچائی ہے ؟ اس نے کہا نہیں تو ابن عمر (رض) نے کہا تو آزاد ہے پھر ابن عمر (رض) نے زمین سے کوئی چیز اٹھائی اور فرمایا میرے لئے اس (غلام) کے آزاد کرنے اس کے وزن کے برابر بھی اجر ثواب نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے کہ جس نے اپنے غلام کو بغیر قصور کے مارا یا اسے تھپڑ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔

Zadhan reported that Ibn Umar (RA) called his slave and he found the marks (of beating) upon his back. He said to him: I have caused you pain. He said: No. But he ( Ibn Umar (RA) ) said: You are free. He then took hold of something from the earth and said: There is no reward for me even to the weight equal to it. I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who beats a slave without cognizable offence of his or slaps him (without any serious fault), then expiation for it is that he should set him free.

4300Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ کِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ فِرَاسٍ بِإِسْنَادِ شُعْبَةَ وَأَبِي عَوَانَةَ أَمَّا حَدِيثُ ابْنِ مَهْدِيٍّ فَذَکَرَ فِيهِ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ وَفِي حَدِيثِ وَکِيعٍ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْحَدَّ

ابوبکر بن ابی شیبہ، وکیع، محمد بن مثنی، عبدالرحمن، سفیان، فراس، حضرت شعبہ اور ابوعوانہ کی اسناد سے یہ حدیث مروی ہے ابن مہدی کی حدیث میں حد کو ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا اور حد ذکر نہیں کی۔

This hadith has been narrated through another chain of transmitters with a slight variation of words.

4301Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ سُوَيْدٍ قَالَ لَطَمْتُ مَوْلًی لَنَا فَهَرَبْتُ ثُمَّ جِئْتُ قُبَيْلَ الظُّهْرِ فَصَلَّيْتُ خَلْفَ أَبِي فَدَعَاهُ وَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ امْتَثِلْ مِنْهُ فَعَفَا ثُمَّ قَالَ کُنَّا بَنِي مُقَرِّنٍ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ لَنَا إِلَّا خَادِمٌ وَاحِدَةٌ فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَعْتِقُوهَا قَالُوا لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرُهَا قَالَ فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا عَنْهَا فَلْيُخَلُّوا سَبِيلَهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، عبداللہ بن نمیر، ابن نمیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، حضرت معاویہ بن سوید (رض) سے روایت ہے کہ میں نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا پھر بھاگ گیا پھر ظہر کے قریب آیا اور ظہر کی نماز میں نے اپنے باپ کے پیچھے ادا کی تو انہوں نے غلام کو اور مجھے بلایا پھر فرمایا اس سے بدلہ لے لو اس نے معاف کردیا پھر فرمایا ہم بنی مقرن کے پاس زمانہ رسول اللہ ﷺ میں صرف ایک ہی خادم تھا ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا یہ بات جب نبی کریم ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا اسے آزاد کردو انہوں نے عرض کیا کہ ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی خادم نہیں ہے آپ ﷺ نے فرمایا اس سے خدمت حاصل کرو جب وہ اس سے مستغنی ہوجائیں تو چائیے کہ اسے آزاد کردو۔

Muawiyah bin Suwaid reported: I slapped a slave belonging to us and then fled away. I came back just before noon and offered prayer behind my father. He called him (the slave) and me and said: Do as he has done to you. He granted pardon. He (my father) then said: We belonged to the family of Muqarrin during the lifetime of Allahs Messenger (may peace be upon him, and had only one slave-girl and one of us slapped her. This news reached Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he said: Set her free. They (the members of the family) said: There is no other servant except she. Thereupon he said: Then employ her and when you can afford to dispense with her services, then set her free.

4302Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِأَبِي بَکْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ عَجِلَ شَيْخٌ فَلَطَمَ خَادِمًا لَهُ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ عَجَزَ عَلَيْکَ إِلَّا حُرُّ وَجْهِهَا لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ مِنْ بَنِي مُقَرِّنٍ مَا لَنَا خَادِمٌ إِلَّا وَاحِدَةٌ لَطَمَهَا أَصْغَرُنَا فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهَا

ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، ابی بکر، ابن ادریس، حصین، حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ ایک شیخ نے جلدی کی کہ اپنے خادم کو طمانچہ مار دیا تو اسے سو ید بن مقرن نے کہا تجھے اس کے چہرے کے علاوہ کوئی جگہ نہ ملی تھی تحقیق میں نے اپنے آپ کو بنی مقرن کا سا تو اں فرد پایا اور ہمارے لئے سوائے ایک خادم کے کوئی دوسرا نہ تھا کہ ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اس کے آزاد کرنے کا حکم فرمایا۔

Hilal bin Yasaf reported that a person got angry and slapped his slave-girl. Thereupon Suwaid bin Muqarrin said to him: You could find no other part (to slap) but the prominent part of her face. See I was one of the seven sons of Muqarrin, and we had but only one slave-girl. The youngest of us slapped her, and Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded us to set her free. 2097

4303Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ حُصَيْنٍ عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ قَالَ کُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَخِي النُّعْمَانِ بْنِ مُقَرِّنٍ فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ مِنَّا کَلِمَةً فَلَطَمَهَا فَغَضِبَ سُوَيْدٌ فَذَکَرَ نَحْوَ حَدِيثِ ابْنِ إِدْرِيسَ

محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن ابی عدی، شعبہ، حصین، حضرت ہلال بن یساف سے روایت ہے کہ ہم نعمان بن مقرن کے بھائی سوید بن مقرن کے گھر میں کپڑا فروخت کیا کرتے تھے تو ایک لونڈی نکلی اور اس نے ہم سے کسی آدمی کو کوئی بات کہی تو اس آدمی نے اسے طمانچہ مار دیا تو سوید ناراض ہوئے پھر ابن ادریس کی طرح حدیث ذکر کی۔

Hilal bin Yasaf reported: We used to sell cloth in the house of Suwaid bin Muqarrin, the brother of Numan bin Muqarrin. There came out a slave-girl, and she said something to a person amongst us, and he slapped her. Suwaid was enraged-the rest of the hadlth is the same.

4304Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ مَا اسْمُکَ قُلْتُ شُعْبَةُ فَقَالَ مُحَمَّدٌ حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ الْعِرَاقِيُّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ أَنَّ جَارِيَةً لَهُ لَطَمَهَا إِنْسَانٌ فَقَالَ لَهُ سُوَيْدٌ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ فَقَالَ لَقَدْ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي لَسَابِعُ إِخْوَةٍ لِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا لَنَا خَادِمٌ غَيْرُ وَاحِدٍ فَعَمَدَ أَحَدُنَا فَلَطَمَهُ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ

عبدالوارث بن عبدالصمد، شعبہ، محمد بن منکدر، شعبہ، محمد، ابوشعبہ عراقی، حضرت سوید بن مقران سے روایت ہے کہ اس کی باندی کو کسی انسان نے طمانچہ مارا تو اسے سوید نے کہا کیا تو جانتا کہ چہرہ حرام کیا گیا ہے کہا میں نے اپنے آپ کو اپنے بھائیوں میں سے سا تو اں پایا رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں اور ہمارے لئے ایک کے علاوہ کوئی خادم نہ تھا ہم میں سے کسی ایک نے اسے تھپڑ مار دیا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کردیں۔

Suwaid bin Muqarrin reported that he had a slave-girl and a person (one of the members of the family) slapped her, whereupon Suwaid said to him: Dont you know that it is forbidden to strike the face. He said: You see I was the seventh one amongst my brothers during the lifetime of Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) , and we had but only one servant. One of us got enraged and slapped him. Thereupon Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) commanded us to set him free.

4305Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی عَنْ وَهْبِ بْنِ جَرِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْکَدِرِ مَا اسْمُکَ فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عَبْدِ الصَّمَدِ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن مثنی، وہب بن جریر، شعبہ، محمد بن منکدر، اسے حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

Wahb bin Jarir reported: Shubah informed that Muhammad bin Munkadir said to me: What is your name? The rest of the hadith is the same.

4306Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

حَدَّثَنَا أَبُو کَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ يَعْنِي ابْنَ زِيَادٍ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ الْبَدْرِيُّ کُنْتُ أَضْرِبُ غُلَامًا لِي بِالسَّوْطِ فَسَمِعْتُ صَوْتًا مِنْ خَلْفِي اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ فَلَمْ أَفْهَمْ الصَّوْتَ مِنْ الْغَضَبِ قَالَ فَلَمَّا دَنَا مِنِّي إِذَا هُوَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هُوَ يَقُولُ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ قَالَ فَأَلْقَيْتُ السَّوْطَ مِنْ يَدِي فَقَالَ اعْلَمْ أَبَا مَسْعُودٍ أَنَّ اللَّهَ أَقْدَرُ عَلَيْکَ مِنْکَ عَلَی هَذَا الْغُلَامِ قَالَ فَقُلْتُ لَا أَضْرِبُ مَمْلُوکًا بَعْدَهُ أَبَدًا

ابوکامل جحدری، عبدالواحد یعنی ابن زیاد، اعمش، ابراہیم تیمی، حضرت ابومسعود بدری (رض) سے روایت ہے کہ میں اپنے غلام کو کوڑے کے ساتھ مار رہا تھا کہ میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی اے ابومسعود جان لے اور میں غصہ کی وجہ سے آواز سمجھ نہ سکا جب وہ میرے قریب ہوئے تو وہ رسول اللہ ﷺ تھے اور آپ ﷺ فرما رہے تھے جان لے ابومسعود ! جان لے ابومسعود ! کہتے ہیں میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا ڈال دیا تو آپ ﷺ نے فرمایا جان لے ابومسعود اللہ تجھ پر زیادہ قدرت رکھتا ہے تیری اس غلام پر قدرت سے کہتے ہیں میں نے عرض کیا میں اس کے بعد کبھی غلام کو نہ ماروں گا۔

Abu Masud al-Badri reported: I was beating my slave with a whip when I heard a voice behind me: Understand, Abu Masud; but I did not recognise the voice due to intense anger. He (Abu Masud) reported: As he came near me (I found) that he was the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) and he was saying: Bear in mind, Abu Masud; bear in mind, Abu Masud. He (Abu Masud) said: I threw the whip from my hand. Thereupon he (the Holy Prophet) said: Bear in mind, Abu Masud; verily Allah has more dominance upon you than you have upon your slave. I (then) said: I would never beat my servant in future.

4307Sahih Muslimصحیح

غلاموں کے ساتھ برتاؤ کرنے کے بیان میں۔

و حَدَّثَنَاه إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ح و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَهُوَ الْمَعْمَرِيُّ عَنْ سُفْيَانَ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ کُلُّهُمْ عَنْ الْأَعْمَشِ بِإِسْنَادِ عَبْدِ الْوَاحِدِ نَحْوَ حَدِيثِهِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ جَرِيرٍ فَسَقَطَ مِنْ يَدِي السَّوْطُ مِنْ هَيْبَتِهِ

اسحاق بن ابراہیم، جریر، زہیر بن حرب، محمد بن حمید، معمری، سفیان، محمد بن رافع، عبدالرزاق، سفیان، ابوبکر بن ابی شیبہ، عفان، ابوعوانہ، اعمش، عبدالواحد اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں حضرت جریر (رض) کی حدیث میں ہے۔ آپ ﷺ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گرگیا۔

This hadith has been narrated on the authority of Amash but with this variation of words: "There fell from my hand the whip on account of his (the Prophets) awe."