عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَالُوا رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْعِ الْعَرِيَّةِ بِخَرْصِهَا تَمْرًا
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، یحییٰ بن سعید، حضرت بشیربن یسار نے اصحاب رسول ﷺ سے روایت کیا ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عریہ کی رخصت دی کہ ان کے اندازے کے بدلے خشک کھجوریں دی جائیں۔
Bushair bin Yasar reported on the authority of some of the Companions of Allahs Messenger (may peace be upon hinn) from among the members of his family that he forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place ot Riba and Ibn Abu Umar used the word Riba (interest).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا عَنْ الثَّقَفِيِّ قَالَ سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ يَقُولُ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ عَنْ يَحْيَی غَيْرَ أَنَّ إِسْحَقَ وَابْنَ الْمُثَنَّی جَعَلَا مَکَانَ الرِّبَا الزَّبْنَ و قَالَ ابْنُ أَبِي عُمَرَ الرِّبَا
محمد بن مثنی، اسحاق بن ابراہیم، ابن ابی عمر، ثقفی، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار اصحاب رسول اللہ ﷺ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے منع فرمایا باقی حدیث پہلی کی طرح ہے ابن ابی عمر نے فرمایا کہ یہ سود ہی ہے۔
Bushair bin Yasir reported on the authority of some of the Companions of Allahs Messenger (may peace be upon hinn) from among the members of his family that he forbade (the direct exchange of a commodity having different qualities) but with the change that Ishaq and Ibn al-Muthanna used the word Zabn in place ot Riba and Ibn Abu Umar used the word Riba (interest).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
عمرو ناقد، ابن نمیر، سفیان بن عیینہ، یحییٰ بن سعید، بشیر بن یسار، حضرت سہل بن ابی حثمہ (رض) نے بھی نبی کریم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Sahl bin Abu Hathma.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَحَسَنٌ الْحُلْوَانِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا أَصْحَابَ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ قَدْ أَذِنَ لَهُمْ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسن، حلوانی، ابواسامہ، ولید بن کثیر، بشیربن یسار، مولیٰ بنی حارثہ، حضرت رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اصحاب عرایا کے علاوہ بیع مزابنہ (کھجور کے بدلے کھجور کی بیع) سے منع فرمایا کیونکہ عریہ میں ان کو اجازت دے دی گئی۔
Sahl bin Abu Hathma reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having forbidden Muzabana, i. e. exchange of fresh dates with dry dates. except in case of those to whom donations of some trees have been made. It is for them that concession has been given.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ قَالَ قُلْتُ لِمَالِکٍ حَدَّثَکَ دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ عَنْ أَبِي سُفْيَانَ مَوْلَی ابْنِ أَبِي أَحْمَدَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَخَّصَ فِي بَيْعِ الْعَرَايَا بِخَرْصِهَا فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسُقٍ أَوْ فِي خَمْسَةِ يَشُکُّ دَاوُدُ قَالَ خَمْسَةٌ أَوْ دُونَ خَمْسَةٍ قَالَ نَعَمْ
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، مالک، یحییٰ بن یحیی، داؤد بن حصین، ابی سفیان، مولیٰ ابن ابی احمد، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع عرایہ کی اندازے کے ساتھ پانچ اوسق کی بیع کی اجازت دی داؤد راوی کو شک ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having given exemption of ariyya transactions measuring less than five wasqs or up to five wasqs (the narrator Dawud is in doubt whether it was five or less than five).
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الْکَرْمِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے پھل کے بدلے خشک کھجور وزن کر کے اور کشمش انگور کے ساتھ وزن کرکے بیع کرنا۔
Ibn Umar (RA) (Allah be pleased them) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of fresh dates for dry dates by measuring them out and the selling of raisins by measure for grapes.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ بَيْعِ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ کَيْلًا وَبَيْعِ الزَّرْعِ بِالْحِنْطَةِ کَيْلًا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن بشر، عبیداللہ، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کو خشک وزن کر کے کھجور کے بدلے وزن کر کے اور کشمش کو انگور کے ساتھ اور کھڑی فضل کو گندم کے بدلے وزن کر کے بیع کرنا۔
Abdullah (b. Umar) reported that Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade Muzabana, i. e. buying of fresh dates (on) the trees for dry dates by measure, and the buying of grapes for raisins by measure and the selling of field of corn for corn by measure.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن ابی زائدہ، عبیداللہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Ubaidullah with the same chain of transmitters.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي يَحْيَی بْنُ مَعِينٍ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ وَحُسَيْنُ بْنُ عِيسَی قَالُوا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ بَيْعُ ثَمَرِ النَّخْلِ بِالتَّمْرِ کَيْلًا وَبَيْعُ الزَّبِيبِ بِالْعِنَبِ کَيْلًا وَعَنْ کُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِهِ
یحییٰ بن معین، ہارون بن عبداللہ، حسین بن عیسی، ابواسامہ، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ کھجور کے پھل کو خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے بیع کرنے اور کشمش کی انگور کے ساتھ وزن کر کے بیع کرنے کو کہتے ہیں اور اسی طرح ہر پھل کو اندازے کے ساتھ بیع کرنے سے منع فرمایا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having forbidden Muzabana, and Muzabana is the selling of dry dates by measure for fresh dates and the selling of raisins by measure for grapes and selling of all Ports of fruits on the basis of calculation.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُزَابَنَةِ وَالْمُزَابَنَةُ أَنْ يُبَاعَ مَا فِي رُئُوسِ النَّخْلِ بِتَمْرٍ بِکَيْلٍ مُسَمَّی إِنْ زَادَ فَلِي وَإِنْ نَقَصَ فَعَلَيَّ
علی بن حجر، زہیر بن حرب، اسماعیل، ابن ابراہیم، ایوب، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع کیا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے درختوں پر لگی کھجوروں کے بدلے خشک کھجور کے متعین وزن کو فروخت کیا جائے اور اگر یہ زیادہ ہو تو میرا نفع اور اگر کم ہوگئیں تو نقصان مجھ پر ہوگا۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having forbidden Muzabana, and Muzabana implies the selling of dry dates for fresh dates on the tree with a definite measure (making it clear) that in case it increases, it belongs to me and if it is less, it is my responsibility.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، ابوکامل، حماد، ایوب اسی حدیث کی ایک اور سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ayyub.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الْمُزَابَنَةِ أَنْ يَبِيعَ ثَمَرَ حَائِطِهِ إِنْ کَانَتْ نَخْلًا بِتَمْرٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ کَرْمًا أَنْ يَبِيعَهُ بِزَبِيبٍ کَيْلًا وَإِنْ کَانَ زَرْعًا أَنْ يَبِيعَهُ بِکَيْلِ طَعَامٍ نَهَی عَنْ ذَلِکَ کُلِّهِ وَفِي رِوَايَةِ قُتَيْبَةَ أَوْ کَانَ زَرْعًا
قتیبہ بن سعید، لیث، محمد بن رمح، لیث، نافع، حضرت عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا کہ اپنے باغ کے پھل اگر وہ کھجور کے درخت ہوں تو خشک کھجور کے ساتھ وزن کر کے اور اگر انگور ہوں تو کشمش کے ساتھ وزن کر کے بیچے اور اگر کھیتی ہو تو اس کو اناج کے ساتھ وزن کر کے بیچے آپ ﷺ نے ان سب سے منع فرمایا اور قتیبہ کی روایت میں (أَوْ کَانَ زَرْعًا) ہے۔
Abdullah (b. Umar) (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) having forbidden Mazabana, and it implies that one should sell the fresh fruits of his orchard (for dry fruits) or, if it is fresh dates, for dry dates with a measure, or if it is grapes for raisins or if it is corn in the field for dry corn with a measure He (the Holy Prophet) in fact forbade all such transactions. Qutaiba has narrated it with a slight variation of words.
عرایا کے علاوہ تر کھجوروں کی خشک کھجوروں کے ساتھ بیع کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ حَدَّثَنِي يُونُسُ ح و حَدَّثَنِي ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنِي الضَّحَّاکُ ح و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ حَدَّثَنِي مُوسَی بْنُ عُقْبَةَ کُلُّهُمْ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ
ابوطاہر، ابن وہب، یونس، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک، سوید بن سعید، حفص بن میسرہ، موسیٰ بن عقبہ، نافع اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔
This hadith has been narrated on the authority of Nafi with another chain of transmitters.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَاعَ نَخْلًا قَدْ أُبِّرَتْ فَثَمَرَتُهَا لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے کھجور کا پیوند لگا درخت فروخت کیا تو اس کے پھل بائع (بچنے والا) کے لئے ہیں سوائے اس کے کہ خریدار ان کی شرط لگالے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If anyone buys palm-trees after they have been fecundated the fruit belongs to the seller unless the buyer makes a proviso.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي جَمِيعًا عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا نَخْلٍ اشْتُرِيَ أُصُولُهَا وَقَدْ أُبِّرَتْ فَإِنَّ ثَمَرَهَا لِلَّذِي أَبَّرَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الَّذِي اشْتَرَاهَا
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، ابن نمیر، عبیداللہ، ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن بشر، عبیداللہ، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کھجور کا درخت جڑوں سے خریدا گیا حالانکہ اس کو پیوند کیا گیا تو اس کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے پیوند کیا سوائے اس کے کہ خریدنے والا اس کی شرط لگا لے۔
Nafi reported on the authority of Ibn Umar (RA) that the Messenger of Allah (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: Whichever tree is bought with its roots, and if it is fecundatedits fruit would belong to one who has grafted it except when the provision is laid down by the buyer.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَيُّمَا امْرِئٍ أَبَّرَ نَخْلًا ثُمَّ بَاعَ أَصْلَهَا فَلِلَّذِي أَبَّرَ ثَمَرُ النَّخْلِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن رمح، لیث، نافع، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے کھجور کو پیوند لگایا پھر اس کی جڑیں بیچ دیں تو کھجور کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے پیوند لگایا سوائے اس کے کہ خریدنے والا شرط لگالے۔
Ibn Umar (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: Whosoever grafts the tree and then sells its roots, its fruit will belong to one who grafts it except when provision is laid down by the buyer.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه أَبُو الرَّبِيعِ وَأَبُو کَامِلٍ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ کِلَاهُمَا عَنْ أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ
ابوربیع، ابوکامل، حماد، زہیر بن حرب، اسماعیل، ایوب، نافع اسی حدیث کی اور سند ذکر کی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Nafi, with the same chain of transmitters.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ ابْتَاعَ نَخْلًا بَعْدَ أَنْ تُؤَبَّرَ فَثَمَرَتُهَا لِلَّذِي بَاعَهَا إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ وَمَنْ ابْتَاعَ عَبْدًا فَمَالُهُ لِلَّذِي بَاعَهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ
یحییٰ بن یحیی، محمد بن رمح، لیث، قتیبہ بن سعید، لیث، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے پیوند لگانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا تو اس کا پھل اسی کے لئے ہے جس نے اس کو بیچا سوائے اس کے کہ خریدار شرط باندھ لے اور جس نے کوئی غلام خریدا تو اس کا مال بائع (بچنے والا) کے لئے ہے سوائے اس کے کہ خریدار شرط لگا لے۔
Abdullah bin Umar (RA) reported Allahs Massenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who buys a tree after it has been fecundated, its fruit belongs to one who sells it except when the provision has been laid down by the buyer (that it will belong to him), and he who buys a slave, his property belongs to one who sells him except when a provision has been laid down by the buyer (that it will be transferred to him with the slave).
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا وَقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، یحیی، سفیان بن عیینہ، زہری اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of al Zuhri.
جو شخص درخت پر کھجور بیچے اس حال میں کہ اس پر کھجور لگی ہوئی ہو اس کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ أَبَاهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، سالم بن عبداللہ بن عمر، حضرت ابن عمر (رض) نے رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح سنا جو اس سے پہلے بیان ہوا۔
Ibn Umar (RA) reported on the authority of his father as Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) saying so.