ولا کی بیع اور ہبہ کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ بَيْعِ الْوَلَائِ وَعَنْ هِبَتِهِ قَالَ مُسْلِم النَّاسُ کُلُّهُمْ عِيَالٌ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
یحییٰ بن یحیی، تمیمی، سلیمان بن بلال، عبداللہ بن دینار، حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ہے۔
Ibn Umar (RA) reported that Allahs Messenger (may peace he upon him) forbade the selling and making a gift of the right of inheritance of a slave. Imam Muslim said: All the persons depend uponAbdullah bin Dinar in regard to this hadith.
ولا کی بیع اور ہبہ کرنے سے روکنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَيُّوبَ وَقُتَيْبَةُ وَابْنُ حُجْرٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّی قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْکٍ أَخْبَرَنَا الضَّحَّاکُ يَعْنِي ابْنَ عُثْمَانَ کُلُّ هَؤُلَائِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ غَيْرَ أَنَّ الثَّقَفِيَّ لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ إِلَّا الْبَيْعُ وَلَمْ يَذْکُرْ الْهِبَةَ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، ابن عیینہ، یحییٰ بن ایوب، قتیبہ، ابن جریر، اسماعیل بن جعفر، ابن نمیر، سفیان بن سعید، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، ابن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ، ابن رافع، ابن ابی فدیک، ضحاک ابن عثمان، عبداللہ بن دینار، ابن عمر اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں لیکن ثقفی کی حدیث میں بیع کا ذکر ہے ہبہ کا ذکر نہیں کیا۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Umar (RA) through another chain of transmitters but with this change that in tbe hadith narrated by al-Thaqafi from Ubaidullah there is only a mention of selling (or right of inheritance, al-Wala) but not that of making a gift.
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا کَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی کُلِّ بَطْنٍ عُقُولَهُ ثُمَّ کَتَبَ أَنَّهُ لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يُتَوَالَی مَوْلَی رَجُلٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِ ثُمَّ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ لَعَنَ فِي صَحِيفَتِهِ مَنْ فَعَلَ ذَلِکَ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے لکھا کہ ہر قبیلہ پر اس کی دیت واجب ہوگی پھر تحریر فرمایا کہ کسی مسلمان کے لئے حلال و جائز نہیں کہ دوسرے مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے آزاد کردہ غلام کا مولیٰ بن جائے راوی کہتے ہیں کہ پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ ﷺ نے اپنی کتاب میں ایسا کرنے والوں پر لعنت فرمائی۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that sAllahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) made it obligatory for every tribe (the payment) of blood-wit; he then also made it explicit that it is not permissible for a Muslim to make himself the ally (of the slave emancipated by another) Muslim without his permission. He (the narrator further added): I was informed that he (the Holy Prophet) cursed the one who did that (and it was recorded) in his Sahifa (in a document).
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْقَارِيَّ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
قتیبہ بن سعید، یعقوب بن عبدالرحمن قاری، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی کسی قوم کی اجازت کے بغیر اس کے غلام کا مولیٰ بن جائے تو اس پر اللہ اور فرشتوں کی لعنت ہے اس کا نفل قبول ہوگا نہ فرض۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) said: He who takes anyone as his ally without the consent of his previous master, there will be the curse of Allah and that of His angels upon him, and neither, any obligatory act of his nor the supererogatory one will be accepted (by Allah).
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ عَنْ زَائِدَةَ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ تَوَلَّی قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يُقْبَلُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَدْلٌ وَلَا صَرْفٌ
ابوبکر بن ابی شیبہ، حسین بن علی جعفی، زائدہ، سلیمان، ابی صالح، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جو کسی قول کی اجازت کے بغیر ان کے آزاد کردہ غلام کا مولیٰ بن جائے اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس کا قیامت کے دن نہ کوئی نفل قبول ہوگا نہ فرض
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Apostle (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who took the freed slave as his ally without the consent of his previous master, there is upon him the curse of Allah and that of His angels and that of the whole mankind, and there will not be accepted from him his obligatory acts or supererogatory acts on the Day of Resurrection.
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ دِينَارٍ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ وَمَنْ وَالَی غَيْرَ مَوَالِيهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ
ابراہیم بن دینار، عبیداللہ بن موسی، شیبان، حضرت اعمش (رض) سے بھی اسی سند کے ساتھ یہی حدیث مروی ہے لیکن اس میں مَنْ تَوَلّٰی کی بجائے مَنْ وَالَی کے الفاظ ہیں۔
This hadith is narrated through the same chain of transmitters, but with a slight change of words.
اپنے مولی کے علاوہ کے لئے کسی دوسرے کو مولی بنانے کی حرمت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ أَبِيهِ قَالَ خَطَبَنَا عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ فَقَالَ مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَيْئًا نَقْرَؤُهُ إِلَّا کِتَابَ اللَّهِ وَهَذِهِ الصَّحِيفَةَ قَالَ وَصَحِيفَةٌ مُعَلَّقَةٌ فِي قِرَابِ سَيْفِهِ فَقَدْ کَذَبَ فِيهَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْيَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ وَفِيهَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةُ حَرَمٌ مَا بَيْنَ عَيْرٍ إِلَی ثَوْرٍ فَمَنْ أَحْدَثَ فِيهَا حَدَثًا أَوْ آوَی مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا وَذِمَّةُ الْمُسْلِمِينَ وَاحِدَةٌ يَسْعَی بِهَا أَدْنَاهُمْ وَمَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ انْتَمَی إِلَی غَيْرِ مَوَالِيهِ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلَائِکَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ لَا يَقْبَلُ اللَّهُ مِنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا
ابوکریب، ابومعاویہ، اعمش، حضرت ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ہمیں علی (رض) بن ابی طالب نے خطبہ دیا تو فرمایا جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کوئی کتاب اللہ کی اس کتاب کے علاوہ ہے جس کو ہم پڑھتے ہیں اور وہ کتاب ان کی تلوار کی میان میں لٹکی ہوئی تھی تو اس نے جھوٹ کہا اس میں اونٹوں کی عمروں اور زخموں کی دیات کا ذکر ہے اور مزید اس میں یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مدینہ مقام عیر سے لے کر ثور حرم تک ہے پس جو مدینہ میں کوئی بدعت نکالے یا کسی بدعتی کو ٹھکانہ دے تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس کی طرف سے قیامت کے دن نہ کوئی فرض قبول ہوگا نہ کوئی نفل اور مسلمانوں کا ذمہ ایک ہے ایک ان میں سے ادنیٰ مسلمان بھی ذمہ لے سکتا ہے اور جس نے اپنی نسبت اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف کی یا اپنے مولیٰ کے کسی اور کی طرف نسبت کی تو اس پر اللہ، فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اللہ تعالیٰ اس کا قیامت کے دن نہ کوئی فرض قبول کرے گا نہ نفل۔
Ibrahim al-Taimi reported on the authority of his father: Ali bin Abu Talib (RA) addressed us and said: He who thinks that we (the members os the Prophets family) read anything else besides the Book of Allah and this Sahifa (and he said that Sahifa was tied to the scabbard of the sword) tells a lie. (This Sahifa) contains (problems) pertaining to the ages of the camels and (the recompense) of the injuries, and it also records the words of the Prophet (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) : Madinah is a sacred territory from Ayr to Thaur (it is most probably Uhud). He who innovates (an act or practice) or gives protection to an innovator, there is a curse of Allah and that of His angels and that of the whole humanity upon him. Allah will not accept from him (as a recompense) any obligatory act or supererogatory act, and the responsibility of the Muslims is a joint responsibility; even the lowest in rank can undertake the responsibility (on behalf of others), and he who claims anyone else as his father besides his own father or makes one his ally other than the one (who freed him), there is a curse of Allah. that of His angels and that of the wholemankind upon him. Allah will not accept the obligatory act of the supererogatery act (as a recompense) from him.
غلام آزاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی الْعَنَزِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ وَهُوَ ابْنُ أَبِي هِنْدٍ حَدَّثَنِي إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي حَکِيمٍ عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِکُلِّ إِرْبٍ مِنْهَا إِرْبًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ
محمد بن مثنی، یحییٰ بن سعید، عبداللہ بن سعید، ابن ابی ہند، اسماعیل بن ابی حکیم، سعید بن مرجانہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے کسی مومن غلام کو آزاد کیا اللہ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: If anyone emancipates a Muslim slave, Allah will set free from Hell an organ of his body for every organ of his (slaves) body.
غلام آزاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ أَبِي غَسَّانَ الْمَدَنِيِّ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْ أَعْضَائِهِ مِنْ النَّارِ حَتَّی فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ
داود بن رشید، ولید بن مسلم، محمد بن مطرف، ابی غسان مدنی، زید بن اسلم، علی بن حسین، سعید بن مرجانہ، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے کسی مومن غلام کو آزاد کیا اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس آزاد کرنے والے کے ہر عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا یہاں تک کہ اس کی فرج اس کی فرج کے بدلہ میں۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who emancipates a slave, Allah will set free from Hell every limb (of his body) for every limb of his (slaves) body, even his private parts.
غلام آزاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ الْهَادِ عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ سَعِيدِ ابْنِ مَرْجَانَةَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً مُؤْمِنَةً أَعْتَقَ اللَّهُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْ النَّارِ حَتَّی يُعْتِقَ فَرْجَهُ بِفَرْجِهِ
قتیبہ بن سعید، لیث، ابن الہاد، عمر بن علی بن حسین، سعید بن مرجانہ، ابوہریرہ حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی مو من غلام کو آزاد کیا تو اللہ غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے عضو کو جہنم سے آزاد کر دے گا یہاں تک کہ اس کی فرج کو اس کی فرج کے بدلے آزاد کیا جائے گا۔
Abu Hurairah (RA) reported: I heard Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: He who emancipates a believing slave, Allah will set free from Fire his every limb for every limb of his (slaves), even his private parts for his.
غلام آزاد کرنے کی فضلیت کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ حَدَّثَنَا وَاقِدٌ يَعْنِي أَخَاهُ حَدَّثَنِي سَعِيدُ ابْنُ مَرْجَانَةَ صَاحِبُ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَقُولُا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّمَا امْرِئٍ مُسْلِمٍ أَعْتَقَ امْرَأً مُسْلِمًا اسْتَنْقَذَ اللَّهُ بِکُلِّ عُضْوٍ مِنْهُ عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ قَالَ فَانْطَلَقْتُ حِينَ سَمِعْتُ الْحَدِيثَ مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فَذَکَرْتُهُ لِعَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ فَأَعْتَقَ عَبْدًا لَهُ قَدْ أَعْطَاهُ بِهِ ابْنُ جَعْفَرٍ عَشْرَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ أَوْ أَلْفَ دِينَارٍ
حمید بن مسعدہ، بشربن مفضل، عاصم، ابن محمد عمری، سعید بن مرجانہ، صاحب علی بن حسین، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جس نے کسی مومن غلام کو آزاد کیا تو اللہ غلام کے ہر عضو کے بدلے آزاد کرنے والے کے عضو کو جہنم سے نجات دے گا سعید بن مرجانہ کہتے ہیں جب میں نے ابوہریرہ (رض) سے یہ حدیث سنی تو میں نے اس کا علی بن حسین (رض) سے ذکر کیا تو انہوں نے اپنے غلام کو آزاد کردیا جس کی قیمت جعفر کے بیٹے دس ہزار درہم یا دس ہزار دینار دے رہے تھے۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A Muslim who emancipates a Muslim (slave), Allah will save from Fire every limb of his for every limb (of the slave). Said bin Marjana said: When I heard this hadith from Abu Hurairah (RA) , I went away and made a mention of it to Ali bin Husain and he at once emancipated the slave for which Ibn jafar was prepared to pay ten thousand dirhams or one thousand dinars.
والد کو آزاد کرنے کی فضلیت کا بیان
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ سُهَيْلٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدًا إِلَّا أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوکًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَلَدٌ وَالِدَهُ
ابوبکر بن ابی شیبہ، زہیر بن حرب، جریر، سہیل، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی بیٹا باپ کا حق سوائے اس کے ادا نہیں کرسکتا کہ اس کو مملوک پائے تو اس کو خرید کر آزاد کر دے ابن ابی شیبہ کی حدیث میں ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
Abu Hurairah (RA) reported Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) as saying: A son does not repay what he owes his father unless he buys him (the father) in case he is a slave and then emancipates him. In the narration transmitted by Ibn Abu Shaiba there is a slight change of words.
والد کو آزاد کرنے کی فضلیت کا بیان
و حَدَّثَنَاه أَبُو کُرَيْبٍ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ کُلُّهُمْ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ سُهَيْلٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ وَقَالُوا وَلَدٌ وَالِدَهُ
ابوکریب، وکیع، ابن نمیر، عمرو ناقد، ابواحمد زبیری، سفیان، سہیل اس سند کے ساتھ یہی حدیث حضرت سہیل (رض) سے بھی مروی ہے لیکن اس میں ہے کہ کوئی بیٹا اپنے باپ کا حق ادا نہیں کرسکتا۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Suhail with the same chain of transmitters.
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَی بْنِ حَبَّانَ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَی عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، مالک، محمد بن یحییٰ ابن حبان، اعرج، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ہے۔
Abu Hurairah (RA) reported that Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade (two types of transactions) Mulamasa and Munabadha
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَا حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ عَنْ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
ابوکریب، ابن ابی عمر، وکیع، سفیان، ابی زناد، اعرج، ابی ہریرہ اسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔
Abu Hurairah (RA) (Allah be pletsed with him) reported like this from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) .
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ وَأَبُو أُسَامَةَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ کُلُّهُمْ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، ابواسامہ، محمد بن عبداللہ بن نمیر، محمد بن مثنی، عبدالوہاب، عبیداللہ بن عمر، خبیب بن عبدالرحمن، حفص بن عاصم، ابی ہریرہ اسی حدیث کی اور اسناد ذکر کی ہیں۔
Abu Hurairah (RA) reported from Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) a hadith like this through another chain of transmitters.
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ
قتیبہ بن سعید، یعقوب ابن عبدالرحمن، سہیل بن ابی صالح، ابی ہریرہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Abu Hurairah (RA) through another chain of transmitters.
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ مِينَائَ أَنَّهُ سَمِعَهُ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ قَالَ نُهِيَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ أَمَّا الْمُلَامَسَةُ فَأَنْ يَلْمِسَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَ صَاحِبِهِ بِغَيْرِ تَأَمُّلٍ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ثَوْبَهُ إِلَی الْآخَرِ وَلَمْ يَنْظُرْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا إِلَی ثَوْبِ صَاحِبِهِ
محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، عمرو بن دینار، عطاء بن میناء، حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ دو قسم کی بیع سے منع کیا گیا ہے ملامسہ اور منابذہ بہرحال ملامسہ یہ ہے کہ بائع (بچنے والا) اور مشتری (خریدنے والا اور بیچنے والا) میں سے ایک بغیر سوچے سمجھے دوسرے کے کپڑے کو ہاتھ لگا دے اور منابذہ یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے جبکہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے کپڑے کو نہ دیکھے۔
Abu Hurairah (RA) reported: Two types of transactions have been forbidden (by the Holy Prophet), al-Mlulamasa and al-Munabadha. As far as Mulamasa transaction is concerned, it is that every one of them (the parties entering into transaction) should touch the garment of the other without careful consideration, and al-Munabadha is that every one of them should throw his cloth to the other and one of them should not see the cloth of his friend.
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ وَحَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لِحَرْمَلَةَ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ بَيْعَتَيْنِ وَلِبْسَتَيْنِ نَهَی عَنْ الْمُلَامَسَةِ وَالْمُنَابَذَةِ فِي الْبَيْعِ وَالْمُلَامَسَةُ لَمْسُ الرَّجُلِ ثَوْبَ الْآخَرِ بِيَدِهِ بِاللَّيْلِ أَوْ بِالنَّهَارِ وَلَا يَقْلِبُهُ إِلَّا بِذَلِکَ وَالْمُنَابَذَةُ أَنْ يَنْبِذَ الرَّجُلُ إِلَی الرَّجُلِ بِثَوْبِهِ وَيَنْبِذَ الْآخَرُ إِلَيْهِ ثَوْبَهُ وَيَکُونُ ذَلِکَ بَيْعَهُمَا مِنْ غَيْرِ نَظَرٍ وَلَا تَرَاضٍ
ابوطاہر، حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، ابن شہاب، عامربن سعد بن ابی وقاص، حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے دو قسم کی بیع اور دو قسم کے لباس سے منع فرمایا ہے بیع میں ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا اور ملامسہ یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے کے کپڑے کو دن یا رات میں چھولے اور اس کو صرف اسی لئے ہی الٹے اور منابذہ یہ ہے کہ ایک آدمی اپنے کپڑے دوسرے کی طرف پھینکے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینک دے اور اس طرح ان دونوں کے درمیان جو بیع بن دیکھے اور بغیر رضا کے منعقد ہوجائے۔
Abu Said al-Khudri (RA) reported: Allahs Messenger (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) forbade us (from), two types of business transactions and two ways of dressing. He forbade Mulamasa and Munabadha in transactions. Mulamasa means the touching of anothers garment with his hand, whether at night or by day, without turning it over except this much. Munabadha means that a man throws his garment to another and the other throws his garment, and thus confirming their contract without the inspection of mutual agreement.
بیع ملامسہ اور منابذہ کے باطل کرنے کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ
عمر ناقد، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، ابی صالح، حضرت ابن شہاب سے بھی یہی حدیث دوسری سند سے مروی ہے۔
This hadith has been narrated on the authority of Ibn Shihab through the same chain of transmitters.