Sahih Muslim

All 7,570 hadiths in order · Page 184 of 379

3668Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ ح و حَدَّثَنِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ قَالَا حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِهِمَا لِيَرْجِعْهَا وَفِي حَدِيثِهِمَا قَالَ قُلْتُ لَهُ أَتَحْتَسِبُ بِهَا قَالَ فَمَهْ

یحییٰ بن حبیب، خالد بن حارث، عبدالرحمن بن بشر، بہز، شعبہ اسی حدیث کی دوسری اسناد ذکر کی ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ راوی کہتا ہے میں نے ان سے کہا کی تم نے وہ طلاق شمار کی تھی تو انہوں نے کہا کیوں نہیں

This hadith has been narrated on the authority of Shubah with the same chain of transmitters but with a slight variation in wording.

3669Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ يُسْأَلُ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَذَهَبَ عُمَرُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا قَالَ لَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَی ذَلِکَ لِأَبِيهِ

اسحاق بن ابراہیم، عبدالرزاق، ابن جریج، ابن طاؤس نے اپنے باپ سے روایت کی ہے انہوں نے سنا کہ ابن عمر سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا گیا جس نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو انہوں نے فرمایا کیا تو ابن عمر ؓ کو پہچانتا ہے؟ اس نے کہا جی ہاں تو کہا اس نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دی اور عمر ؓ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اس بات کی خبر دی آپ ﷺ نے اسے رجوع کرنے کا حکم دیا ابن طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے یہ حدیث اپنے باپ سے نہیں سنی۔

Ibn Tawus narrated on the authority of his father that Ibn Umar (RA) was asked about the person who divorced his wife in the state of menses, whereupon he said: Do you know Abdullah bin Umar (RA) ? He said: Yes. He said: It was he who divorced his wife in the state of menses and Umar went to Allahs Apostle ﷺ and gave him this information, and he commanded him that he should take her back; and he (Abu Tawus) said: I did not hear any addition to this (hadith) from my father.

3670Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَی عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ ذَلِکَ کَيْفَ تَرَی فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَقَالَ طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيُرَاجِعْهَا فَرَدَّهَا وَقَالَ إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِکْ قَالَ ابْنُ عُمَرَ وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمْ النِّسَائَ فَطَلِّقُوهُنَّ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ

ہارون بن عبداللہ، حجاج بن محمد، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن عزہ کے مولیٰ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا اور ابوالزبیر سن رہے تھے کہ جس آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی آپ اس کے بارے میں کیا حکم بیان کرتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا کہ ابن عمر ؓ نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دیدی تھی رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عمر ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تو کہا کہ ابن عمرنے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ہے تو انہیں نبی کریم ﷺ نے رجوع کرنے کا فرمایا اور کہا کہ جب وہ پاک ہوجائے تو چاہے طلاق دے دے چاہے روک لے ابن عمر ؓ نے کہا اور نبی کریم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَا ءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ) 65۔ الطلاق: 1) اے نبی جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کی ابتداء میں طلاق دو۔

Abu Zubair reported that he heard Abdul Rahman bin Aiman (the freed slave of Azza) say that he asked Ibn Umar (RA) and Abu Zubair heard: What is your opinion about the person who divorced his wife in the state of menses? Thereupon he said: Ibn Umar (RA) divorced his wife during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ while she was in the state of menses. Upon this Allahs Messenger ﷺ told him to take her back and so he took her back and he (further) said: When she is pure, then either divorce her or retain her. Ibn Umar (RA) said that Allahs Apostle ﷺ then recited this verse: "O Apostle, when you divorce women, divorce them at the commencement of their prescribed period" (Ixv 1).

3671Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِي هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوَ هَذِهِ الْقِصَّةِ

ہارون بن عبداللہ، ابوعاصم، ابن جریج، ابی زبیر، ابن عمراسی حدیث کی دوسری سند ذکر کی ہے۔

The story in the above hadith has likewise been narrated through another chain.

3672Sahih Muslim

حائضہ عورت کو اس کی رضا مندی کے بغیر طلاق دنیے کی حرمت اور اگر کوئی طلاق دے دے تو طلاق واقع نہ ہوئی اور مرد کو رجوع کرنے کا حکم دینے کے بیان میں

و حَدَّثَنِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَی عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ بِمِثْلِ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَفِيهِ بَعْضُ الزِّيَادَةِ قَالَ مُسْلِم أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةَ إِنَّمَا هُوَ مَوْلَی عَزَّةَ

محمد بن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت عبدالرحمن بن ایمن مولیٰ عروہ سے روایت ہے کہ ابن عمر ؓ سے پوچھا گیا جبکہ ابوالزبیر سن رہے تھے باقی حدیث حجاج کی طرح ہے اور اس میں بعض اضافہ بھی ہے مسلم نے کہا کہ راوی نے مولیٰ عروہ کہنے میں غلطی کی ہے حقیقتا یہ مولیٰ عزہ ہے۔

A hadith like this is reported on the same authority (but with this difference that the narrator) Abdul Rahman bin Aiman (was mentioned) as the freed slave of Urwa (Imam Muslim said: He made a mistake who said that it was Urwa; it was in fact the freed slave of Azza.)

3673Sahih Muslim

تین طلاقوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لِابْنِ رَافِعٍ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کَانَ الطَّلَاقُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَسَنَتَيْنِ مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ طَلَاقُ الثَّلَاثِ وَاحِدَةً فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ اسْتَعْجَلُوا فِي أَمْرٍ قَدْ کَانَتْ لَهُمْ فِيهِ أَنَاةٌ فَلَوْ أَمْضَيْنَاهُ عَلَيْهِمْ فَأَمْضَاهُ عَلَيْهِمْ

اسحاق بن ابراہیم، محمد بن رافع، عبدالرزاق، معمر، ابن طاو س، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر ؓ اور دور خلافت عمر ؓ کے دو سال تک تین طلاق ایک ہی شمار کی جاتی تھیں سو عمر بن خطاب ؓ نے کہا اس حکم میں جو انہیں مہلت دی گئی تھی جلدی شروع کردی ہے پس اگر ہم تین ہی نافذ کردیں تو مناسب ہوگا چناچہ انہوں نے تین طلاق ہی واقعہ ہوجانے کا حکم دے دیا۔

Ibn Abbas (RA) reported that the (pronouncement) of three divorces during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and that of Abu Bakr (RA) and two years of the caliphate of Umar (RA) (was treated) as one. But Umar bin Khattab (RA) said: Verily the people have begun to hasten in the matter in which they are required to observe respite. So if we had imposed this upon them, and he imposed it upon them.

3674Sahih Muslim

تین طلاقوں کے بیان میں

حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ رَافِعٍ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ أَتَعْلَمُ أَنَّمَا کَانَتْ الثَّلَاثُ تُجْعَلُ وَاحِدَةً عَلَی عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَثَلَاثًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ نَعَمْ

اسحاق بن ابراہیم، روح بن عبادہ، ابن جریج، ابن رافع، عبدالرزاق، ابن جریج، حضرت ابن طاؤس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ابوالصہباء نے ابن عباس ؓ سے کہا کیا آپ ﷺ جانتے ہیں کہ تین طلاق رسالت مآب ﷺ اور ابوبکر ؓ وعمر ؓ کی خلافت کے تین سال تک ایک ہی کردی جاتی تھی تو ابن عباس ؓ نے کہا جی ہاں۔

Abu Sahba said toIbn Abbas (RA) : Do you know that three (divorces) were treated as one during the lifetime of Allahs Apostle ﷺ , and that of Abu Bakr, and during three (years) of the caliphate of Umar (RA) ? Ibn Abbas (RA) said: Yes.

3675Sahih Muslim

تین طلاقوں کے بیان میں

و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَيْسَرَةَ عَنْ طَاوُسٍ أَنَّ أَبَا الصَّهْبَائِ قَالَ لِابْنِ عَبَّاسٍ هَاتِ مِنْ هَنَاتِکَ أَلَمْ يَکُنْ الطَّلَاقُ الثَّلَاثُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَکْرٍ وَاحِدَةً فَقَالَ قَدْ کَانَ ذَلِکَ فَلَمَّا کَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ تَتَايَعَ النَّاسُ فِي الطَّلَاقِ فَأَجَازَهُ عَلَيْهِمْ

اسحاق بن ابراہیم، سلیمان بن حرب، حماد بن زید، ایوب سختیانی، ابراہیم بن میسرہ، حضرت طاؤس سے روایت ہے کہ ابوالصہباء نے ابن عباس ؓ سے کہا اپنے دل سے یاد کر کے بتاؤ کیا تین طلاق رسول اللہ ﷺ کے زمانہ اور ابوبکر ؓ کے دور میں ایک نہ ہوتی تھیں؟ انہوں نے کہا ایسے ہی تھا جب زمانہ عمر میں لوگوں نے پے درپے طلاقیں دینا شروع کردیں تو آپ نے ان پر تین طلاق نافذ ہونے کا حکم دے دیا۔

Abu al-Sahba said to Ibn Abbas (RA) : Enlighten us with your information whether the three divorces (pronounced at one and the same time) were not treated as one during the lifetime of Allahs Messenger ﷺ and Abu Bakr. He said: It was in fact so, but when during the caliphate of Umar (RA) people began to pronounce divorce frequently, he allowed them to do so (to treat pronouncements of three divorces in a single breath as one).

3676Sahih Muslim

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتَوَائِيَّ قَالَ کَتَبَ إِلَيَّ يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ يُحَدِّثُ عَنْ يَعْلَی بْنِ حَکِيمٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ کَانَ يَقُولُ فِي الْحَرَامِ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

زہیر بن حرب، اسماعیل بن ابراہیم، ہشام دستوائی، یحییٰ بن کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب کوئی اپنی بیوی سے قسم کے ساتھ کہے کہ مجھ پر حرام ہے تو اس کا کفارہ ہے ابن عباس ؓ نے کہا لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ تحقیق تمہارے لئے رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بہتریں نمونہ ہے۔

Ibn Abbas (RA) reported about (declaring of ones woman) unlawful as an oath which must be atoned, and Ibn Abbas said: Verily, there is in the Messenger of Allah ﷺ a model pattern for you.

3677Sahih Muslim

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ بِشْرٍ الْحَرِيرِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ عَنْ يَحْيَی بْنِ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ يَعْلَی بْنَ حَکِيمٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ قَالَ إِذَا حَرَّمَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ امْرَأَتَهُ فَهِيَ يَمِينٌ يُکَفِّرُهَا وَقَالَ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

یحییٰ بن بشرالحریری، معاویہ بن سلام، یحییٰ بن ابی کثیر، یعلی بن حکیم، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہے اور اس کا کفارہ لازم ہوگا اور کہا (لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ)

Ibn Abbas (RA) reported: When a man declares his wife unlawful for himself that is an oath which must be atoned, and he said: There is in the Messenger of Allah ﷺ a noble pattern for you.

3678Sahih Muslim

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ أَنَّهُ سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ يُخْبِرُ أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کَانَ يَمْکُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ فَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا قَالَتْ فَتَوَاطَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْکَ رِيحَ مَغَافِيرَ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَدَخَلَ عَلَی إِحْدَاهُمَا فَقَالَتْ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ فَنَزَلَ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَکَ إِلَی قَوْلِهِ إِنْ تَتُوبَا لِعَائِشَةَ وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا لِقَوْلِهِ بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا

محمد بن حاتم، حجاج بن محمد، ابن جریج، عطاء، عبید بن عمر، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ زینب بنت جحش ؓ کے پاس ٹھہرتے اور ان کے پاس شہد پیتے تھے پس میں نے اور حفصہ ؓ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جب ہم میں سے کسی کے پاس بھی نبی کریم ﷺ تشریف لائیں تو وہ یہ کہے کہ میں آپ ﷺ سے مغافیر (پیاز کی ایک قسم) کی بو پاتی ہوں کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے آپ ﷺ ان میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس نے آپ ﷺ سے یہی کہا تو آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے تو زینب بنت جحش ؓ کے پاس شہد پیا ہے اور آئندہ ہرگز نہ پیوں گا تو یہ آیت (يٰ اَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِه حَدِيْثًا فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِه وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيْهِ عَرَّفَ بَعْضَه وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِه قَالَتْ مَنْ اَنْ بَاَكَ هٰذَا قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ ) 66۔ التحریم: 1) اے نبی ﷺ آپ ﷺ اپنے اوپر اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہیں جسے اللہ نے آپ ﷺ کے لئے حلال رکھا ہے اور فرمایا یہ دونوں عائشہ وحفصہ اگر توبہ کرلیں تو ان کے دل جھک گئے اور یہ جو فرمایا (وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَی بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا) نبی کریم ﷺ نے ایک بات اپنی بعض ازواج سے چپکے سے کہا اس سے مقصود یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا بلکہ میں نے شہد پیا ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) narrated that Allahs Apostle ﷺ used to spend time with Zainab daughter of Jahsh and drank honey at her house. She (Aisha further) said: I and Hafsa agreed that one whom Allahs Apostle ﷺ would visit first should say: I notice that you have an odour of the Maghafir (gum of mimosa). He (the Holy Prophet) visited one of them and she said to him like this, whereupon he said: I have taken honey in the house of Zainab bint Jabsh and I will never do it again. It was at this (that the following verse was revealed): Why do you hold to be forbidden what Allah has made lawful for you... (up to). If you both (Aisha and Hafsa) turn to Allah" up to: "And when the Holy Prophet ﷺ confided an information to one of his wives" (lxvi. 3). This refers to his saying: But I have taken honey.

3679Sahih Muslim

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

حَدَّثَنَا أَبُو کُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَائِ وَهَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الْحَلْوَائَ وَالْعَسَلَ فَکَانَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ دَارَ عَلَی نِسَائِهِ فَيَدْنُو مِنْهُنَّ فَدَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَهَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ يَحْتَبِسُ فَسَأَلْتُ عَنْ ذَلِکَ فَقِيلَ لِي أَهْدَتْ لَهَا امْرَأَةٌ مِنْ قَوْمِهَا عُکَّةً مِنْ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُ شَرْبَةً فَقُلْتُ أَمَا وَاللَّهِ لَنَحْتَالَنَّ لَهُ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِسَوْدَةَ وَقُلْتُ إِذَا دَخَلَ عَلَيْکِ فَإِنَّهُ سَيَدْنُو مِنْکِ فَقُولِي لَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ لَا فَقُولِي لَهُ مَا هَذِهِ الرِّيحُ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْتَدُّ عَلَيْهِ أَنْ يُوجَدَ مِنْهُ الرِّيحُ فَإِنَّهُ سَيَقُولُ لَکِ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ فَقُولِي لَهُ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ وَسَأَقُولُ ذَلِکِ لَهُ وَقُولِيهِ أَنْتِ يَا صَفِيَّةُ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی سَوْدَةَ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَقَدْ کِدْتُ أَنْ أُبَادِئَهُ بِالَّذِي قُلْتِ لِي وَإِنَّهُ لَعَلَی الْبَابِ فَرَقًا مِنْکِ فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَکَلْتَ مَغَافِيرَ قَالَ لَا قَالَتْ فَمَا هَذِهِ الرِّيحُ قَالَ سَقَتْنِي حَفْصَةُ شَرْبَةَ عَسَلٍ قَالَتْ جَرَسَتْ نَحْلُهُ الْعُرْفُطَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيَّ قُلْتُ لَهُ مِثْلَ ذَلِکَ ثُمَّ دَخَلَ عَلَی صَفِيَّةَ فَقَالَتْ بِمِثْلِ ذَلِکَ فَلَمَّا دَخَلَ عَلَی حَفْصَةَ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا أَسْقِيکَ مِنْهُ قَالَ لَا حَاجَةَ لِي بِهِ قَالَتْ تَقُولُ سَوْدَةُ سُبْحَانَ اللَّهِ وَاللَّهِ لَقَدْ حَرَمْنَاهُ قَالَتْ قُلْتُ لَهَا اسْکُتِي قَالَ أَبُو إِسْحَقَ إِبْرَاهِيمُ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرِ بْنِ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ بِهَذَا سَوَائً

ابوکریب، محمد بن العلاء، ہارون بن عبداللہ، ابواسامہ، ہشام، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میٹھی چیز پسند کرتے تھے آپ ﷺ جب عصر کی نماز ادا کرلیتے تو اپنی ازواج کے پاس چکر لگاتے اور ان کے پاس تشریف لایا کرتے ایک دن حفصہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور معمول سے زیادہ دیر تک ان کے پاس ٹھہرے رہے میں نے اس بارے میں پوچھا تو معلوم ہوا کہ ازواج مطہرات میں سے ایک بیوی کے پاس اس کی قوم نے شہد کی ایک کپی ہدیہ بھیجی تھی جو انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو پلایا ہے میں نے کہا اللہ کی قسم! میں آپ ﷺ سے ایک حیلہ کروں گی اور میں نے اس کا سودہ ؓ سے ذکر کیا اور میں نے کہا کہ جب آپ ﷺ تمہارے پاس تشریف لائیں اور تمہارے قریب ہوں تو تم آپ ﷺ سے کہنا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے پس اگر آپ ﷺ تجھ سے کہیں کہ نہیں تو تم آپ ﷺ سے کہنا یہ بدبو کیسی ہے؟ اور رسول اللہ ﷺ کو اپنے آپ سے بدبو آنا سخت ناپسند تھا، پس اگر آپ ﷺ تجھے یہ کہیں کہ مجھے حفصہ ؓ نے شہد کا شربت پلایا ہے تو تم آپ ﷺ کو یہ کہو کہ شہد کی مکھی نے عرفط درخت کا رس چوسا ہے اسی درخت سے مغافیر بنتی ہے میں بھی آپ ﷺ کو یہی کہوں گی اور تم بھی اے صفیہ یہی کہنا پس جب آپ ﷺ سودہ ؓ کے پاس آئے فرماتی ہیں کہ سودہ نے کہا اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی معبود نہیں تحقیق ارادہ کیا کہ میں آپ ﷺ کو وہی بات کہوں جو تم نے مجھے کہی تھی اس حال میں کہ آپ ﷺ دروازہ پر ہی ہوں تجھ سے ڈرتے ہوئے پس رسول اللہ ﷺ قریب تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں انہوں نے عرض کیا یہ بدبو کیسی ہے آپ ﷺ نے فرمایا حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے انہوں نے کہا کہ شہد کی مکھیوں نے عرفط کے درخت سے رس لیا ہوگا پس جب آپ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے بھی آپ ﷺ سے اسی طرح کہا پھر آپ ﷺ صفیہ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی آپ ﷺ کو اسی طرح کہا جب حفصہ کے ہاں تشریف لائے تو اس نے کہا اے اللہ کے رسول کیا ﷺ میں آپ ﷺ کو اس شہد سے پلاؤں آپ ﷺ نے فرمایا مجھے اس کی ضرورت و حاجت نہیں ہے سیدہ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ سودہ نے سُبْحَانَ اللَّهِ کہا اللہ کی قسم ہم نے آپ ﷺ کو شہد سے روک دیا ہے میں نے ان سے کہا خاموش رہو آگے ایک اور سند ذکر کی ہے۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported Allahs Messenger ﷺ liked sweet (dish) and honey. After saying the afternoon prayer he used to visit his wives going close to them. So he went to Hafsa and stayed with her more than what was his usual stay. I (Aisha) asked about that. It was said to me: A woman of her family had sent her a small vessel of honey as a gift, and she gave to Allahs Messenger ﷺ from that a drink. I said: By Allah, we would also contrive a device for him. I mentioned that to Sauda, and said: When he (Allahs Apostle) ﷺ would visit you and draw close to you, say to him: Allahs Messenger, have you taken maghafir? And he wouldsay to you: No. Then say to him: What is this odour? And Allahs Messenger ﷺ felt it very much that unpleasant odour should emit from him. So he would say to you: Hafsa has given me a drink of honey. Then you should say to him: The honey-bees might have sucked Urfut, and I would also say the same to him and. Safiyya, you should also say this. So when he (the Holy Prophet) came to Sauda, she said: By Him besides whom there is no god, it was under compulsion that I had decided to state that which you told me when he would be at a little distance at the door. So when Allahs Messenger ﷺ came near, she said: Messenger of Allah, did you eat Maghafir? He said: No. She (again) said: Then what is this odour? He said: Hafsa gave me honey to drink. She said: The honey-bee might have sucked Urfut. When he came to me I told him like this. He then visited Safiyya and she also said to him like this. When he (again) visited Hafsa, she said: Messenger of Allah, should I not give you that (drink)? He said: I do not need that. Sauda said: Hallowed be Allah, by Him we have (contrived) to make that (honey) unlawful for him. I said to her: Keep quiet.

3680Sahih Muslim

اس آدمی پر کفارہ کے وجوب کے بیان میں جس نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا اور طلاق کی نیت نہیں کی

و حَدَّثَنِيهِ سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

سوید بن سعید، علی بن مسہر، ہشام بن عروہ ان اسناد سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔

This hadith has been narrated on the authority of Urwa with the same chain of transmitters.

3681Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

و حَدَّثَنِي أَبُو الطَّاهِرِ حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ح و حَدَّثَنِي حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی التُّجِيبِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ بَدَأَ بِي فَقَالَ إِنِّي ذَاکِرٌ لَکِ أَمْرًا فَلَا عَلَيْکِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّی تَسْتَأْمِرِي أَبَوَيْکِ قَالَتْ قَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَکُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ قَالَتْ ثُمَّ قَالَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِکَ إِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْکُنَّ وَأُسَرِّحْکُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا وَإِنْ کُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْکُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا قَالَتْ فَقُلْتُ فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ فَإِنِّي أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ قَالَتْ ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَا فَعَلْتُ

ابوطاہر، ابن وہب، حرملہ بن یحیی، عبداللہ بن وہب، یونس بن یزید، ابن شہاب، ابوسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو آپ ﷺ کی ازواج کے بارے میں اختیار دینے کا حکم دیا گیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے شروع کیا اور فرمایا کہ میں تجھے ایک معاملہ ذکر کرنے والا ہوں پس تم پر لازم ہے کہ جلدی نہ کر یہاں تک کہ تو اپنے والدین سے مشورہ کرلے اور آپ ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین مجھے کبھی بھی آپ ﷺ سے جدائی کا مشورہ نہیں دیں گے کہتی ہیں پھر آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے فرمایا اے نبی اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی آرائش کا ارادہ رکھتی ہو تو آؤ میں تمہیں آرام کی چیزیں اور عمدہ سامان دے دوں اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور قیامت کی عافیت کی طلبگار ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک عورتوں کے لئے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے میں نے عرض کیا کہ اس میں کونسی بات ہے جس کے بارے میں میں اپنے والدین سے مشورہ کروں میں تو اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور آخرت کے گھر کی عافیت کی طلبگار ہوں فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی باقی ازواج نے بھی اسی طرح کہا جو میں نے کہا تھا۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: When the Messenger of Allah ﷺ was commanded to give option to his wives, he started it from me saying: I am going to mention to you a matter which you should not (decide) in haste until you have consulted your parents. She said that he already knew that my parents would never allow me to seek separation from him. She said: Then he said: Allah, the Exalted and Glorious, said: Prophet, say to thy wives: If you desire this worlds life and its adornment, then come, I will give you a provision and allow you to depart a goodly departing; and if you desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter, then Allah has prepared for the doers of good among you a great reward. She is reported to have said: About what should I consult my parents, for I desire Allah and His Messenger and the abode of the Hereafter? She (Aisha) said: Then all the wives of Allahs Messenger ﷺ did as I had done.

3682Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُعَاذَةَ الْعَدَوِيَّةِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا کَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَ مَا نَزَلَتْ تُرْجِي مَنْ تَشَائُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَائُ فَقَالَتْ لَهَا مُعَاذَةُ فَمَا کُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اسْتَأْذَنَکِ قَالَتْ کُنْتُ أَقُولُ إِنْ کَانَ ذَاکَ إِلَيَّ لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَی نَفْسِي

سریج بن یونس، عباد بن عباد، عاصم، معاذہ عدویہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ہم سے اجازت لیتے تھے جب ہم میں سے کسی عورت کا دن ہوتا ( تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْکَ مَنْ تَشَاءُ ) کے نازل ہونے کے بعد۔ تو ان سے معاذہ نے کہا۔ تم رسول اللہ ﷺ کو کیا کہتی تھیں جب آپ ﷺ تجھ سے اجازت طلب کرتے تھے کہا میں کہتی تھی اگر یہ معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں اپنی ذات پر کسی کو ترجیح نہ دیتی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ sought our permission when he had a (turn to spend) a day with (one of his wives) amongst us (whereas he wanted to visit his other wives too). It was after this that this verse was revealed: "Thou mayest put off whom thou pleasest of them, and take for thee whom thou pleasest" (xxxiii. 5). Muadha said to her: What did you say to Allahs Messenger ﷺ when he sought your permission? She said: I used to say: If I had the option in this I would not have (allowed anyone) to have precedence over me.

3683Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

و حَدَّثَنَاه الْحَسَنُ بْنُ عِيسَی أَخْبَرَنَا ابْنُ الْمُبَارَکِ أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ

حسن بن عیسی، ابن مبارک، عاصم اس اسناد سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

The above hadith has likewise been narrated through another chain.

3684Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی التَّمِيمِيُّ أَخْبَرَنَا عَبْثَرٌ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا

یحییٰ بن یحییٰ تمیمی، عبثر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے اختیار دیا تو ہم نے اس اختیار کو طلاق شمار نہیں کیا۔

Aisha reported: Allahs Messenger ﷺ gave us the option (to get divorce) but we did not deem it as divorce.

3685Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

و حَدَّثَنَاه أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ مَا أُبَالِي خَيَّرْتُ امْرَأَتِي وَاحِدَةً أَوْ مِائَةً أَوْ أَلْفًا بَعْدَ أَنْ تَخْتَارَنِي وَلَقَدْ سَأَلْتُ عَائِشَةَ فَقَالَتْ قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفَکَانَ طَلَاقًا

ابوبکر بن ابی شیبہ، علی بن مسہر، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، حضرت مسروق سے روایت ہے کہ مجھے اس بات سے پرواہ نہیں ہے کہ میں اپنی بیوی کو ایک یا سو یا ہزار مرتبہ اختیار دوں جبکہ وہ مجھے پسند کرچکی ہو اور میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو کیا یہ طلاق ہوگئی تھی اظہار تعجب کیا یعنی نہیں ہوئی تھی۔

Masruq reported: I do not mind if I give option to my wife (to get divorce) once, hundred times, or thousand times after (knowing it) that she has chosen me (and would never seek divorce). I asked Aisha (Allah be pleased with her) (about it) and she said: Allahs Messenger ﷺ gave us the option, but did it imply divorce? (It was in fact not a divorce; it is effective when women actually avail themselves of it.)

3686Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ نِسَائَهُ فَلَمْ يَکُنْ طَلَاقًا

محمد بن بشار، محمد بن جعفر، شعبہ، عاصم، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج کو اختیار دیا جو کہ طلاق نہ شمار ہوئی۔

Aisha reported that Allahs Messenger ﷺ gave option to his wives, but it was not a divorce.

3687Sahih Muslim

اپنی بیوی کو اختیار دینے کے بیان میں اور یہ کہ اس سے طلاق نہیں واقع ہوتی جب تک نیت نہ ہو

و حَدَّثَنِي إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ عَنْ سُفْيَانَ عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ وَإِسْمَعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ فَلَمْ يَعُدَّهُ طَلَاقًا

اسحاق بن منصور، عبدالرحمن، سفیان، عاصم، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، مسروق، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ ﷺ کو ہی پسند کیا تو یہ طلاق شمار نہ کی گئی۔

Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ gave us the option (to get divorce) and we chose him and he did not count it a divorce.