قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ اشْتَرَکْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ کُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ فَقَالَ رَجُلٌ لِجَابِرٍ أَيُشْتَرَکُ فِي الْبَدَنَةِ مَا يُشْتَرَکُ فِي الْجَزُورِ قَالَ مَا هِيَ إِلَّا مِنْ الْبُدْنِ وَحَضَرَ جَابِرٌ الْحُدَيْبِيَةَ قَالَ نَحَرْنَا يَوْمَئِذٍ سَبْعِينَ بَدَنَةً اشْتَرَکْنَا کُلُّ سَبْعَةٍ فِي بَدَنَةٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم نبی ﷺ کے ساتھ حج اور عمرے میں شریک تھے سات سات آدمی قربانی کے ایک اونٹ میں شریک ہوگئے تو ایک آدمی نے حضرت جابر ؓ سے عرض کیا جیسے قربانی کے اونٹ میں ہم شریک ہوسکتے ہیں بعد میں خریدے گئے جانوروں میں بھی شرکت درست ہے؟ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ پہلے والے اور بعد میں خریدے گئے اونٹوں کا ایک ہی حکم ہے حضرت جابر ؓ حدیبیہ میں حاضر تھے فرماتے ہیں کہ ہم نے اس طرح ستر اونٹ ذبح کئے اور ہر اونٹ میں سات سات آدمی شریک تھے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We joined Allahs Apostle ﷺ in Hajj and Umrah and seven persons shared in the sacrifice of an animal. A person said to Jabir (RA) : Can seven persons share in the sacrifice of al-Badnah (a camel) as he shares in al- Jazur (a cow)? He, (Jabir) said: It (al-Jazur) is nothing but one among the budun. Jabir was present at Hudaibiya and he said: We sacrificed on that day seventy camel, and seven men shared in each sacrifice (of camel).
قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ عَنْ حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَأَمَرَنَا إِذَا أَحْلَلْنَا أَنْ نُهْدِيَ وَيَجْتَمِعَ النَّفَرُ مِنَّا فِي الْهَدِيَّةِ وَذَلِکَ حِينَ أَمَرَهُمْ أَنْ يَحِلُّوا مِنْ حَجِّهِمْ فِي هَذَا الْحَدِيثِ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ نبی ﷺ کے حج کے بارے میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ جب ہم حلال ہوں تو قربانی کریں اور ہم میں سے چند آدمی قربانی کے جانور اونٹ یا گائے میں اکٹھے ہوجائیں اور آپ ﷺ نے ان کو یہ حکم اس وقت فرمایا جس وقت کہ وہ اپنے حج سے حلال ہوں یعنی احرام کھولیں۔
Jabir bin Abdullah (RA) , describing the Hajj of Allahs Apostle ﷺ said: He (the Holy Prophet) commanded us as we had entered into the state of Ihram to sacrifice the animals (as a rite of Hajj) and a group (of person amongst us, i. e. seven) shared in the sacrifice of one (camel or cow), and it happened at that time when he commanded them to put off Ihram for Hajj (after performing Umrah).
قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ کُنَّا نَتَمَتَّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ فَنَذْبَحُ الْبَقَرَةَ عَنْ سَبْعَةٍ نَشْتَرِکُ فِيهَا
یحییٰ بن یحیی، ہشیم، عبد الملک، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا کرتے تھے اور ہم ایک گائے ذبح کرتے تھے کہ جس میں سات حصہ دار شریک ہوتے تھے۔
Jaibir bin Abdullah (RA) reported: We performed Hajj Tamattu along with Allahs Messenger ﷺ and we slaughtered a cow on behalf of seven persons sharing in it.
قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کے جواز کے بیان میں
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ زَکَرِيَّائَ بْنِ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً يَوْمَ النَّحْرِ
عثمان بن ابی شیبہ، یحییٰ بن زکریا، ابن ابی زائدہ، جریج، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے یوم النحر قربانی کے دن ایک گائے ذبح کی۔
Jabir reported that Allahs Messenger ﷺ sacrificed a cow on behalf of Aisha on the Day of Nahr (10th of Dhul-Hijja).
قربانی کے جانوروں اونٹ اور گائے میں اشتراک کے جواز کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ يَحْيَی الْأُمَوِيُّ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يَقُولُا نَحَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ نِسَائِهِ وَفِي حَدِيثِ ابْنِ بَکْرٍ عَنْ عَائِشَةَ بَقَرَةً فِي حَجَّتِهِ
محمد بن حاتم، محمد بن بکر، ابن جریج، سعید بن یحیی، ابن جریج، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی تمام ازواج مطہرات کی طرف سے اور ابوبکر ؓ کی حدیث میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی طرف سے اپنے حج میں ایک گائے نحر کی یعنی ذبح کی۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ sacrificed (animals) on behalf of his wives, and in the hadith transmitted by Ibn Abu Bakr (RA) (the words are): "A cow on behalf of Aisha on the occasion of the Hajj."
کھڑے کھڑے اونٹ کے پاؤں باندھ کر اونٹ کو نحر کرنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ يُونُسَ عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتَی عَلَی رَجُلٍ وَهُوَ يَنْحَرُ بَدَنَتَهُ بَارِکَةً فَقَالَ ابْعَثْهَا قِيَامًا مُقَيَّدَةً سُنَّةَ نَبِيِّکُمْ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
یحییٰ بن یحیی، خالد بن عبداللہ، یونس، زیاد بن جبیر، ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ ایک آدمی کے پاس آئے کہ وہ قربانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا ہے تو حضرت ابن عمر ؓ نے اس سے فرمایا کہ اسے کھڑا کر کے اس کے پاؤں باندھ کر اسے نحر کرو تمہارے نبی ﷺ کی یہی سنت ہے۔
Ziyad bin Jubair reported that Ibn Umar came upon a person who was slaughtering (sacrificing) his camel and had made him kneel down. So he told him to make it stand up festered (and then sacrifice it) according to the Sunnah of the Holy Prophet ﷺ .
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ قَالَا أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ح و حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ وَعَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهْدِي مِنْ الْمَدِينَةِ فَأَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِهِ ثُمَّ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ
یحییٰ بن یحییٰ محمد بن رمح، لیث، قتیبہ، لیث، ابن شہاب، حضرت عروہ بن زبیر ؓ اور حضرت عمروہ بنت عبدالرحمن ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ سے قربانی کا جانور بھیجا تھا اور میں نے خود ہار بنا کر اس کے گلے میں ڈالا تھا پھر آپ ﷺ جانور کے بھیجنے کے بعد ان چیزوں میں سے کسی سے نہیں بچتے تھے کہ جن سے احرام والا بچتا تھا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that Allahs Messenger ﷺ sent the sacrificial animals from Madinah. I wove garlands for his sacrificial animals (and then he hung them round their necks), and he would not avoid doing anything which the Muhrim avoids.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَی أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ
حرملہ بن یحیی، ابن وہب، یونس، حضرت ابن شہاب سے اس سند کے ساتھ اسی طرح روایت نقل کی گئی ہے۔
A hadith like this has been transmitted on the authority of Ibn Shihab.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَخَلَفُ بْنُ هِشَامٍ وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ قَالُوا أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ
سعید بن منصور، زہیر بن حرب، سفیان، عروہ، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں گویا کہ میں دیکھ رہی ہوں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے جانور کے گلے میں ہار بنا کر ڈالا کرتی تھی۔
Aisha narrated (in another badith narrated through another chain of transmitters) these words: "As if I am seeing myself weaving the garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ ."
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ هَاتَيْنِ ثُمَّ لَا يَعْتَزِلُ شَيْئًا وَلَا يَتْرُکُهُ
سعید بن منصور، سفیان، عبدالرحمن بن قاسم، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے ہاتھوں کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے جانور کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺ نہ کسی چیز سے بچتے تھے اور نہ ہی کسی چیز کو ترک کرتے تھے۔
Abdul Rahman bin al-Qasim reported on the authority of his father that he heard Aisha (Allah be pleased with her) saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ with these hands of mine, but he (Allahs Apostle) ﷺ neither avoided anything nor gave up anything (which a Muhrim should avoid or give up).
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ بُدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ أَشْعَرَهَا وَقَلَّدَهَا ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَی الْبَيْتِ وَأَقَامَ بِالْمَدِينَةِ فَمَا حَرُمَ عَلَيْهِ شَيْئٌ کَانَ لَهُ حِلًّا
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب، افلح، قاسم، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے اونٹوں کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺ ان کے کوہان چیر کر اور ان کے گلے میں ہار ڈالتے پھر آپ ﷺ اسے بیت اللہ کی طرف بھیجتے اور آپ ﷺ مدینہ میں ٹھہرتے تو آپ ﷺ پر کوئی چیز حرام نہیں ہوئی جو آپ ﷺ کے لئے حلال تھی۔
Aisha reported: I wove the garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ with my own hands, and then he (the Holy Prophet) marked them, and garlanded them, and then sent them to the House, and stayed at Madinah and nothing was forbidden to him which was lawful for him (before).
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ قَالَ ابْنُ حُجْرٍ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ الْقَاسِمِ وَأَبِي قِلَابَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ أَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ ثُمَّ لَا يُمْسِکُ عَنْ شَيْئٍ لَا يُمْسِکُ عَنْهُ الْحَلَالُ
علی بن حجر سعدی، یعقوب بن ابراہیم، ابن حجر، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ قربانی کا جانور بھیجا کرتے تھے اور میں اپنے ہاتھوں سے ہار بنا کر اس کے گلے میں ڈالا کرتی تھی پھر آپ ﷺ کسی چیز کو نہ چھوڑتے کہ جس کو حلال نہ چھوڑتا ہو۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ sent the sacrificial animals and I wove garlands for them with my own hands, and he did not refrain from doing anything which he did not avoid in the state of non-Muhrim.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ عَنْ الْقَاسِمِ عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ أَنَا فَتَلْتُ تِلْکَ الْقَلَائِدَ مِنْ عِهْنٍ کَانَ عِنْدَنَا فَأَصْبَحَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالًا يَأْتِي مَا يَأْتِي الْحَلَالُ مِنْ أَهْلِهِ أَوْ يَأْتِي مَا يَأْتِي الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِهِ
محمد بن مثنی، حسین بن حسن، ابن عون، ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میں یہ ہار اس اون سے بناتی تھی جو ہمارے پاس تھی اور رسول اللہ ﷺ صبح کو حلال ہی تھے تو جس طرح ایک حلال آدمی اپنی اہلیہ سے متمتع ہوتا ہے تو آپ ﷺ بھی اپنی زوجہ مطہرہ کے پاس آتے۔
Al-Qasim reported the Mother of the Faithful (Hadrat Aisha Siddiqa) (Allah be pleased with her) as saying: I used to weave these garlands from the multicoloured wool which was with us. The Messenger of Allah ﷺ was in the state of non Muhrim among us, and he would do all that was lawful for a non-Muhrim with his wife.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَقَدْ رَأَيْتُنِي أَفْتِلُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ الْغَنَمِ فَيَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ فِينَا حَلَالًا
زہیر بن حرب، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ میرا خیال ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے جانوروں کے ہار بکریوں کی اون سے بنتی تھی آپ ﷺ ان کو بھیجتے تھے تو پھر بھی آپ ﷺ حلال ہی رہتے
Aisha (Allah be pleased with her) reported: I recall how I wove garlands for the sacrificial animals (the goats) of Allahs Messenger ﷺ . He sent them and then stayed with us as a non-Muhrim.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، اعمش، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانیوں کے جانوروں کے ہار زیادہ تر میں ہی بناتی تھی پھر آپ ﷺ ان جانوروں کے گلوں میں ڈال کر انہیں بھیجتے پھر آپ ﷺ ٹھہرتے اور ان چیزوں میں سے کسی چیز سے نہیں بچتے تھے کہ جن سے احرام والا بچتا ہے۔
Aisha (Allah, be pleased, with her) reported: I often wove garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ , and he garlanded his sacrificial animals, and then he sent them and stayed in the house) avoiding nothing which a Muhrim avoids.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَأَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَأَبُو کُرَيْبٍ قَالَ يَحْيَی أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ أَهْدَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّةً إِلَی الْبَيْتِ غَنَمًا فَقَلَّدَهَا
یحییٰ بن یحیی، ابوبکر بن ابی شیبہ، ابوکریب، یحیی، ابومعاویہ، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ بیت اللہ کی طرف قربانی کے جانور بھیجے تو ان کی گردنوں میں ہار ڈالے تھے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: Allahs Messenger ﷺ sent some goats as sacrificial animals to the House and He garlanded them.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ کُنَّا نُقَلِّدُ الشَّائَ فَنُرْسِلُ بِهَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَلَالٌ لَمْ يَحْرُمْ عَلَيْهِ مِنْهُ شَيْئٌ
اسحاق بن منصور، عبدالصمد، محمد بن حجادہ، حکم، ابراہیم، اسود، حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ہم بکریوں کی گردنوں میں ہار ڈال کر انہیں بھیجا کرتے تھے اور رسول اللہ ﷺ حلال ہی رہتے تھے اور کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: We used to garland the goats and send them (to Makkah), and Allahs Messenger ﷺ stayed back in Madinah as a non-Muhrim ard nothing was forbidden for him (which is forbidden for a Muhrim).
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ ابْنَ زِيَادٍ کَتَبَ إِلَی عَائِشَةَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ قَالَ مَنْ أَهْدَی هَدْيًا حَرُمَ عَلَيْهِ مَا يَحْرُمُ عَلَی الْحَاجِّ حَتَّی يُنْحَرَ الْهَدْيُ وَقَدْ بَعَثْتُ بِهَدْيِي فَاکْتُبِي إِلَيَّ بِأَمْرِکِ قَالَتْ عَمْرَةُ قَالَتْ عَائِشَةُ لَيْسَ کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ أَنَا فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ قَلَّدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا مَعَ أَبِي فَلَمْ يَحْرُمْ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئٌ أَحَلَّهُ اللَّهُ لَهُ حَتَّی نُحِرَ الْهَدْيُ
یحییٰ بن یحیی، مالک، عبداللہ بن ابی بکر، حضرت عمرہ بنت عبدالرحمن ؓ سے روایت ہے وہ خبر دیتی ہیں کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ ؓ کی طرف لکھا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جس آدمی نے قربانی کا جانور روانہ کردیا اس پر وہ سب کچھ حرام ہے کہ جو کچھ ایک حاجی پر احرام کی وجہ سے حرام ہوتا ہے جب تک کہ وہ قربانی کا جانور ذبح نہ ہوجائے تو میں نے بھی قربانی کا جانور بھیجا ہے تو آپ اس مسئلہ کے بارے میں اپنا حکم مجھے لکھ کر بھیجیں حضرت عمرہ کہتی ہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ حضرت ابن عباس کا فرمانا درست نہیں میں خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ ﷺ کے قربانی کے جانوروں کے ہار بناتی تھی پھر آپ ﷺ ان کو میرے باپ کے ساتھ مکہ بھیج دیتے تھے تو رسول اللہ ﷺ پر کوئی چیز حرام نہیں جن کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہو جب تک کہ قربانی کا جانور ذبح نہ کرلیا جاتا۔
Amra daughter of Abdul Rahman reported that Ibn Ziyad had written to Aisha (Allah be pleased with her) that Abdullah bin Abbas (RA) had said that he who sent a sacrificial animal (to Makkah) for him was forbidden what is forbidden for a pilgrim (in the state of Ihram) until the animal is sacrificed I have myself sent my sacrificial animal (to Makkah), so write to me your opinion. Amra reported Aisha (Allah be pleased with her) as saying: It is not as Ibn Abbas (RA) had asserted, for I wove the garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ with my own hands. Allahs Messenger ﷺ then garlanded them with his own hands, and then sent them with my father, and nothing was forbidden for Allahs Messenger ﷺ which had been made lawful for him by Allah until the animals were sacrificed.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَمِعْتُ عَائِشَةَ وَهِيَ مِنْ وَرَائِ الْحِجَابِ تُصَفِّقُ وَتَقُولُ کُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا وَمَا يُمْسِکُ عَنْ شَيْئٍ مِمَّا يُمْسِکُ عَنْهُ الْمُحْرِمُ حَتَّی يُنْحَرَ هَدْيُهُ
سعید بن منصور، ہشیم، اسماعیل بن ابی خالد، شعبی، حضرت مسروق ؓ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ ؓ سے سنا کہ وہ پردہ کے پیچھے سے دستک دیتے ہوئے فرما رہی تھیں کہ رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے جانوروں کے ہار میں خود اپنے ہاتھوں سے بنایا کرتی تھی پھر آپ ﷺ ان کو بھیجا کرتے اور آپ ﷺ حلال ہی رہتے تھے اور کسی چیز کو اپنے اوپر حرام نہیں کرتے تھے جب تک کہ آپ ﷺ کی قربانی کا جانور ذبح نہ ہوجاتا۔
Masruq reported: I heard Aisha (Allah be pleased with her) clapping her hands behind the curtain and saying: I used to weave garlands for the sacrificial animals of Allahs Messenger ﷺ with my own hands, and then he (the Holy Prophet) sent them (to Makkah), and he did not avoid doing anything which a Muhrim avoids until his animal was sacrificed.
بذات خود حرم نہ جانے والوں کے لئے قربانی کے جانور کے گلے میں قلادہ ڈال کر بھیجنے کے استح کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ حَدَّثَنَا دَاوُدُ ح و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ کِلَاهُمَا عَنْ الشَّعْبِيِّ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
محمد بن مثنی، عبدالوہاب، داؤد، ابن نمیر، زکریا، شعبی، مسروق، عائشہ اس سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے اسی حدیث کی طرح حدیث نقل فرمائی۔
A hadith like this has been narrated on the authority of Aisha (Allah be pleased with her) through another chain of transmitters.