احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا و قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا نَرَی إِلَّا أَنَّهُ الْحَجُّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ تَطَوَّفْنَا بِالْبَيْتِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ أَنْ يَحِلَّ قَالَتْ فَحَلَّ مَنْ لَمْ يَکُنْ سَاقَ الْهَدْيَ وَنِسَاؤُهُ لَمْ يَسُقْنَ الْهَدْيَ فَأَحْلَلْنَ قَالَتْ عَائِشَةُ فَحِضْتُ فَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ فَلَمَّا کَانَتْ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ يَرْجِعُ النَّاسُ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ أَنَا بِحَجَّةٍ قَالَ أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ لَيَالِيَ قَدِمْنَا مَکَّةَ قَالَتْ قُلْتُ لَا قَالَ فَاذْهَبِي مَعَ أَخِيکِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَأَهِلِّي بِعُمْرَةٍ ثُمَّ مَوْعِدُکِ مَکَانَ کَذَا وَکَذَا قَالَتْ صَفِيَّةُ مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَکُمْ قَالَ عَقْرَی حَلْقَی أَوْ مَا کُنْتِ طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ قَالَتْ بَلَی قَالَ لَا بَأْسَ انْفِرِي قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُصْعِدٌ مِنْ مَکَّةَ وَأَنَا مُنْهَبِطَةٌ عَلَيْهَا أَوْ أَنَا مُصْعِدَةٌ وَهُوَ مُنْهَبِطٌ مِنْهَا و قَالَ إِسْحَقُ مُتَهَبِّطَةٌ وَمُتَهَبِّطٌ
زہیر بن حرب، اسحاق بن ابراہیم، جریر، منصور، ابراہیم، اسود، ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے اور حج کے علاوہ ہمارا اور کوئی ارادہ نہیں تھا تو جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا کہ جو آدمی ہدی (قربانی کا جانور) لے کر نہ آیا ہو تو وہ حلال ہوجائے احرام کھول دے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جو لوگ ہدی ساتھ نہیں لائے تھے وہ تو حلال ہوگئے اور آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ بھی ہدی ساتھ نہیں لائی تھیں اس لئے انہوں نے بھی احرام کھول دئیے حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں حائضہ ہوگئی اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کرسکی تو جب حصبہ کی رات ہوئی تو حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا اللہ کے رسول ﷺ لوگ تو عمرہ اور حج کر کے واپس لوٹیں گے اور میں صرف حج کے ساتھ واپس لوٹوں گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا اے عائشہ! کیا جن راتوں میں ہم مکہ آئے تھے اس وقت تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا نہیں آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے بھائی کے ساتھ تنعیم کی طرف جاؤ اور وہاں سے عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرلو اور پھر فلاں فلاں جگہ ہم سے آکر مل جانا حضرت صفیہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں تمہیں روکنے والی ہوں آپ ﷺ نے (پیار سے) فرمایا زخمی اور سر منڈی کیا تو نے قربانی کے دن (یوم نحر) طواف نہیں کیا تھا؟ حضرت صفیہ ؓ نے عرض کی جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کوئی حرج نہیں اب چلو حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے میں اس حال میں ملی کہ آپ ﷺ مکہ سے بلندی پر چڑھ رہے تھے اور میں اتر رہی تھی یا میں بلندی پر چڑھ رہی تھی اور آپ ﷺ اتر رہے تھے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported: We went with the Messenger of Allah ﷺ and we did not see but that he (intended to perform) Hajj (only), but when we reached Makkah we circumambulated the House; and the Messenger of Allah ﷺ commanded that he who did not have with him a sacrificial animal should put off Ihram. She (Aisha) said: (And consequently) those who did not bring the sacrificial animals with them put off Ihram; and among his wives (too) who had not brought the sacrificial animals with them put off Ihram. Aisha said: I entered in the monthly period and could not (therefore) circumambulate the House. When it was the night of Hasba she said: Messenger of Allah, people are coming back (after having performed both) Hajj andUmrah, whereas I am coming back only with Hajj, whereupon he said: Did you not circumambulate (the Ka’bah) that very night we entered Makkah? She (Aisha) said: No, whereupon he said: Go along with your brother to Tanim and put on the Ihram for Umrah, and it is at such and such a place that you can meet (us). (In the meanwhile) Safiyya (the wife of the Holy Prophet) said: I think, I will detain you (since I have entered in the monthly) period and you shall have to wait for me for the farewell circuit. Thereupon he (the Holy Prophet) said: May you be wounded and your head shorn did you not circumambulate on the Day of Sacrifice (10th of DhuI-Hijja)? She said: Yes. The Holy Prophet ﷺ said: There is no harm. You should go forward. Aisha said: The Messenger of Allah ﷺ was going upwards to the side of Makkah, whereas I was coming down from it, or I was going upward, whereas he was coming down. Ishaq said: She was climbing down, and he was climbing down.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُلَبِّي لَا نَذْکُرُ حَجًّا وَلَا عُمْرَةً وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ مَنْصُورٍ
سوید بن سعید، علی بن مسہر، اعمش، ابراہیم، اسود، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے نکلے نہ ہم نے حج کا ذکر کیا اور نہ ہی عمرہ کا ذکر کیا۔
Aisha (Allah be pleased, with her) reported: We went out with the Messenger of Allah ﷺ pronouncing Talbiya having no explicit intention of Pilgrimage or Umrah. The rest of the hadith is the same.
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ جَمِيعًا عَنْ غُنْدَرٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلَی عَائِشَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ أَوْ خَمْسٍ فَدَخَلَ عَلَيَّ وَهُوَ غَضْبَانُ فَقُلْتُ مَنْ أَغْضَبَکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ قَالَ أَوَمَا شَعَرْتِ أَنِّي أَمَرْتُ النَّاسَ بِأَمْرٍ فَإِذَا هُمْ يَتَرَدَّدُونَ قَالَ الْحَکَمُ کَأَنَّهُمْ يَتَرَدَّدُونَ أَحْسِبُ وَلَوْ أَنِّي اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ مَعِي حَتَّی أَشْتَرِيَهُ ثُمَّ أَحِلُّ کَمَا حَلُّوا
ابوبکر بن ابی شیبہ، محمد بن مثنی، ابن بشار، غندر، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان مولیٰ عائشہ، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ذی الحجہ کے چار یا پانچ دن گزرے تھے کہ غصہ حالت میں میرے پاس تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ کو کس نے ناراض کیا ہے؟ اللہ اس کو دوزخ میں داخل کرے آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم نہیں جانتیں کہ میں نے لوگوں کو ایک کام کے کرنے کا حکم دیا تھا جبکہ لوگ اس میں تردد کر رہے ہیں حکم راوی کہتے ہیں گویا کہ وہ لوگ تردد میں ہیں اور میں گمان کرتا ہوں کہ اگر مجھے میرے معاملہ کا پہلے علم ہوجاتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لاتا یہاں تک کہ میں قربانی کا جانور خریدتا پھر میں حلال ہوتا جس طرح کہ وہ حلال ہوئے احرام کھولا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Messenger of Allah ﷺ came out on the 4th or 5th of DhulI-Hijja (for Pilgrimage to Makkah) and came to me, and he was very angry. I said: Messenger of Allah, who has annoyed you? May Allah cast him in fire. He said: Dont you know that I commanded the people to do an act, but they are hesitant. (Hakam said: I think that he said: They seem to be hesitant.) And if I were to know my affair before what I had to do subsequently, I would not have brought with me the sacrificial animals, and would have bought them (at Makkah) and would have put off Ihram as others have done.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنَاه عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَکَمِ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ الْحُسَيْنِ عَنْ ذَکْوَانَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَرْبَعٍ أَوْ خَمْسٍ مَضَيْنَ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ بِمِثْلِ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَلَمْ يَذْکُرْ الشَّکَّ مِنْ الْحَکَمِ فِي قَوْلِهِ يَتَرَدَّدُونَ
عبیداللہ بن معاذ، شعبہ، حکم، علی بن حسین، ذکوان، سیدہ عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ ذی الحجہ کے چار پانچ دن گزرے ہوں گے کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے حدیث اسی طرح سے ہے۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that the Apostle of Allah ﷺ came out (for Pilgrimage) on the 4th or 5th of Dhul Hijja. The rest of the hadith is the same, but he (the narrator) made no mention of the doubt of Hakam about his (the Prophets) words: "They were reluctant."
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا بَهْزٌ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ فَقَدِمَتْ وَلَمْ تَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَاضَتْ فَنَسَکَتْ الْمَنَاسِکَ کُلَّهَا وَقَدْ أَهَلَّتْ بِالْحَجِّ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ النَّفْرِ يَسَعُکِ طَوَافُکِ لِحَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ فَأَبَتْ فَبَعَثَ بِهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ إِلَی التَّنْعِيمِ فَاعْتَمَرَتْ بَعْدَ الْحَجِّ
محمد بن حاتم، بہز، وہیب، عبیداللہ بن طاؤس، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عمرہ کا احرام باندھا اور مکہ آگئیں اور ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ وہ حائضہ ہوگئیں تو پھر انہوں نے حج کا احرام باندھ کر حج کے تمام مناسک ادا کئے تو نبی ﷺ نے واپسی والے دن حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا کہ تیرا طواف تیرے حج اور عمرہ کے لئے کافی ہوجائے گا تو حضرت عائشہ ؓ نے انکار کیا اس کو مناسب نہ سمجھا تو آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حضرت عبدالرحمن ؓ کے ساتھ تنعیم کی طرف بھیجا پھر انہوں نے حج کے بعد عمرہ ادا کیا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that she put on Ihram for, Umrah and arrived at Makkah, but did not circumambulate the House as she had entered in the period of menses, and then put on Ihram for Hajj and performed all the rituals concerning it (except circumambulating the House). The Apostle of Allah ﷺ said to her on the day of march (when pilgrims come to Mina): Your circumambulation would suffice both Hajj and Umrah. She, however, felt reluctant. Thereupon the Holy Prophet ﷺ sent her with Abdul Rahman to Tanim and she performed Umrah (with separate rituals) after Hajj.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ نَافِعٍ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا حَاضَتْ بِسَرِفَ فَتَطَهَّرَتْ بِعَرَفَةَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْزِئُ عَنْکِ طَوَافُکِ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ عَنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ
حسن بن علی حلوانی، زید بن حباب، ابراہیم بن نافع، عبداللہ بن ابی نجیح، مجاہد، سیدہ عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ وہ سرف کے مقام پر حائضہ ہوگئیں اور عرفہ کے دن حیض سے پاک ہوئیں تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے فرمایا کہ صفا اور مروہ کا طواف تیرے حج اور تیرے عمرہ کے طواف سے کفایت کر جائے گا۔
Aisha (Allah be pleased with her) reported that she entered in the monthly period at Sarif, and took bath at Arafa (after the period was over). The Messenger of Allah ﷺ said to her: Your circumambulation between al Safa and al-Marwah is enough for your Hajj and Umrah.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبٍ الْحَارِثِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ حَدَّثَنَا قُرَّةُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ شَيْبَةَ حَدَّثَتْنَا صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ قَالَتْ قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيَرْجِعُ النَّاسُ بِأَجْرَيْنِ وَأَرْجِعُ بِأَجْرٍ فَأَمَرَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَکْرٍ أَنْ يَنْطَلِقَ بِهَا إِلَی التَّنْعِيمِ قَالَتْ فَأَرْدَفَنِي خَلْفَهُ عَلَی جَمَلٍ لَهُ قَالَتْ فَجَعَلْتُ أَرْفَعُ خِمَارِي أَحْسُرُهُ عَنْ عُنُقِي فَيَضْرِبُ رِجْلِي بِعِلَّةِ الرَّاحِلَةِ قُلْتُ لَهُ وَهَلْ تَرَی مِنْ أَحَدٍ قَالَتْ فَأَهْلَلْتُ بِعُمْرَةٍ ثُمَّ أَقْبَلْنَا حَتَّی انْتَهَيْنَا إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْحَصْبَةِ
یحییٰ بن حبیب حارثی، خالد بن حارث، قرہ، عبدالحمید بن جبیر بن شیبہ، صفیہ، بنت شیبہ، حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول کیا لوگ دو اجر لے کر واپس لوٹیں گے اور میں ایک اجر لے کر واپس لوٹوں گی تو آپ ﷺ نے حضرت عبدالرحمن بن ابی ابکر ؓ کو حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ ؓ کو تنعیم لے کر چلیں حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ انہوں نے مجھے اپنے پیچھے اپنے اونٹ پر بٹھا لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں اپنے دو پٹے کو اپنی گردن سے ہٹاتی تو وہ سواری کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے میں نے ان سے کہا کہ کیا تم کسی کو دیکھ رہے ہو؟ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے عمرہ کا احرام باندھا پھر ہم واپس آئے یہاں تک کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس وادی حصبہ میں پہنچ گئے۔
Safiyya bint Shaiba reported that Aisha (Allah be pleased with her) said: Messenger of Allah, lo! the people are returning with two rewards whereas I am returning with one reward. Thereupon he commanded Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) to take her to al-Tanim. She (Aisha) said: He seated me behind him on his camel. She (further) stated: I lifted my head covering and took it off from my neck. He struck my foot as if he was striking the camel. I said to him: Do you find anyone here? She (further) said: I entered into the state of Ihram for Umrah till we reached the Messenger of Allah ﷺ and he was at Hasba.
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرٍو أَخْبَرَهُ عَمْرُو بْنُ أَوْسٍ أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَکْرٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يُرْدِفَ عَائِشَةَ فَيُعْمِرَهَا مِنْ التَّنْعِيمِ
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابن نمیر، سفیان، عمرو، عمرو بن اوس، حضرت عبدالرحمن بن ابی بکرہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے انہیں حکم فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کو تنعیم سے عمرہ کروا لائیں
Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ ordered him to mount Aisha behind him and enable her to (enter into the state of Ihram for Umrah) at Tanim.
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ جَمِيعًا عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مُهِلِّينَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحَجٍّ مُفْرَدٍ وَأَقْبَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِعُمْرَةٍ حَتَّی إِذَا کُنَّا بِسَرِفَ عَرَکَتْ حَتَّی إِذَا قَدِمْنَا طُفْنَا بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحِلَّ مِنَّا مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ قَالَ فَقُلْنَا حِلُّ مَاذَا قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ فَوَاقَعْنَا النِّسَائَ وَتَطَيَّبْنَا بِالطِّيبِ وَلَبِسْنَا ثِيَابَنَا وَلَيْسَ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا أَرْبَعُ لَيَالٍ ثُمَّ أَهْلَلْنَا يَوْمَ التَّرْوِيَةِ ثُمَّ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَوَجَدَهَا تَبْکِي فَقَالَ مَا شَأْنُکِ قَالَتْ شَأْنِي أَنِّي قَدْ حِضْتُ وَقَدْ حَلَّ النَّاسُ وَلَمْ أَحْلِلْ وَلَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ وَالنَّاسُ يَذْهَبُونَ إِلَی الْحَجِّ الْآنَ فَقَالَ إِنَّ هَذَا أَمْرٌ کَتَبَهُ اللَّهُ عَلَی بَنَاتِ آدَمَ فَاغْتَسِلِي ثُمَّ أَهِلِّي بِالْحَجِّ فَفَعَلَتْ وَوَقَفَتْ الْمَوَاقِفَ حَتَّی إِذَا طَهَرَتْ طَافَتْ بِالْکَعْبَةِ وَالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ قَالَ قَدْ حَلَلْتِ مِنْ حَجِّکِ وَعُمْرَتِکِ جَمِيعًا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَجِدُ فِي نَفْسِي أَنِّي لَمْ أَطُفْ بِالْبَيْتِ حَتَّی حَجَجْتُ قَالَ فَاذْهَبْ بِهَا يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَأَعْمِرْهَا مِنْ التَّنْعِيمِ وَذَلِکَ لَيْلَةَ الْحَصْبَةِ
قتیبہ بن سعید، محمد بن رمح، لیث بن سعد، قتیبہ، ابوزبیر، حضرت جابر ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج افراد کا احرام باندھا اور حضرت عائشہ ؓ عمرہ کا احرام باندھ کر گئیں یہاں تک کہ جب ہم مقام سرف پر پہنچے تو حضرت عائشہ ؓ حیض میں مبتلا ہوگئیں تو جب ہم مکہ آگئے اور ہم نے کعبۃ اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم میں سے جس آدمی کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے یعنی احرام کھول دے ہم نے عرض کیا کہ حلال ہونے کا کیا مطلب؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ سارا حلال ہوجائے تو ہم اپنی عورتوں سے ہمبستر ہوئے اور ہم نے خوشبو لگائی اور ہم نے سلے ہوئے کپڑے پہنے اور ہمارے اور عرفہ کے درمیان صرف چار راتیں باقی تھیں پھر ہم نے یوم ترویہ یعنی آٹھ ذی الحجہ کے حج کا احرام باندھ لیا پھر رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے تو ان کو روتا ہوا پایا تو آپ ﷺ نے فرمایا کیا ہوا؟ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ میں حائضہ ہوگئی ہوں اور لوگ حلال ہوگئے اور میں حلال نہیں ہوئی اور نہ ہی میں نے بیت اللہ کا طواف کیا ہے اور لوگ اب حج کی طرف جا رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایک ایسا امر ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی بیٹیوں کے لئے لکھ دیا ہے غسل کر پھر حج کا احرام باندھ تو حضرت عائشہ ؓ نے اسی طرح کیا اور تمام ٹھہرنے کی جگہوں پر ٹھہریں یہاں تک کہ جب وہ پاک ہوگئیں تو حضرت عائشہ ؓ نے کعبہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کی سعی کی پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم اپنے حج اور عمرہ سے حلال ہوگئی ہو۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کی کہ میں اپنے جی میں یہ بات محسوس کرتی ہوں کہ میں نے حج سے پہلے بیت اللہ کا طواف نہیں کیا آپ ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن عائشہ ؓ کو لے جاؤ اور ان کو تنعیم سے عمرہ کراؤ اور یہ وادی محصب کی رات کی بات ہے۔
Jabir (RA) said: We, in the state of Ihram, came with the Messenger of Allah ﷺ for Hajj Mufrad (with the aim of Hajj only), and Aisha set out for Umrah, and when we reached Sarif, she (Hadrat Aisha) entered in the state of monthly period; we proceeded on till we reached (Makkah) and circumambulated the Ka’bah and ran between (al-Safa) and al-Marwah; and the Messenger of Allah ﷺ commanded that one who amongst us had no sacrificial animal with him should put off Ihram. We said: What does this "Putting off" imply? He said: Getting out completely from the state of Ihram, (so we put off Ihram), and we turned to our wives and applied perfume and put on our clothes, and we were at a four nights distance from Arafa. And we again put on Ihram on the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja). The Messenger of Allah ﷺ came to Aisha (Allah be pleased with her) and found her weeping, and said: What is the matter with you? She said: The matter is that I have entered in the monthly period, and the people had put off Ihram, but I did not and I did not circumambulate the House, and the people are going for Hajj now (but I cant go), whereupon he said: It is the matter which Allah has ordained for the daughters of Adam, so now take a bath and put on Ihram for Hajj. She (Aisha) did accordingly, and stayed at the places of staying till the monthly period was over. She then circumambulated the House, and (ran between) al-Safa and al-Marwah. He (the Holy Prophet) then said: Now both your Hajj and Umrah are complete, whereupon she said: I feel in my mind that I did not circumambulate the House till I performed Hajj (I missed the circumambulation of Umrah). Thereupon he (Allahs Apostle) ﷺ said: Abdul Rahman, take her to Tanim (so as to enable her) to perform Umrah (separately), and it was the night at Hasba.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ قَالَ ابْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا وَقَالَ عَبْدٌ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَقُولُا دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَی عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَهِيَ تَبْکِي فَذَکَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ اللَّيْثِ إِلَی آخِرِهِ وَلَمْ يَذْکُرْ مَا قَبْلَ هَذَا مِنْ حَدِيثِ اللَّيْثِ
محمد بن حاتم، عبد بن حمید، ابن حاتم، عبد، محمد بن بکر، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے پاس اس حال میں تشریف لے گئے کہ وہ رو رہی تھیں پھر اس سے آگے آخر تک اسی طرح حدیث ذکر فرمائی۔
Jabir binAbdullah (RA) is reported to have said that the Apostle of Allah ﷺ came to Aisha (Allah be pleased with her) and she was weeping. The rest of the hadith is the same.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ حَدَّثَنَا مُعَاذٌ يَعْنِي ابْنَ هِشَامٍ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ مَطَرٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي حَجَّةِ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَی حَدِيثِ اللَّيْثِ وَزَادَ فِي الْحَدِيثِ قَالَ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا سَهْلًا إِذَا هَوِيَتْ الشَّيْئَ تَابَعَهَا عَلَيْهِ فَأَرْسَلَهَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ فَأَهَلَّتْ بِعُمْرَةٍ مِنْ التَّنْعِيمِ قَالَ مَطَرٌ قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ فَکَانَتْ عَائِشَةُ إِذَا حَجَّتْ صَنَعَتْ کَمَا صَنَعَتْ مَعَ نَبِيِّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ابوغسان مسمعی، معاذ ابن ہشام، مطر، ابی زبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے نبی ﷺ کے ساتھ حج وعمرہ کا احرام باندھا پھر اس کے بعد لیث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس حدیث میں یہ زائد ہے راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نرم دل آدمی تھے حضرت عائشہ ؓ جب بھی آپ ﷺ سے کسی چیز کا مطالبہ کرتیں تو آپ ﷺ اسے پورا فرما دیتے آپ ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر ؓ کے ساتھ بھیجا تو انہوں نے آپ کو تنعیم سے احرام بندھوا کر عمرہ کرایا ایک روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ ؓ جب حج کرتیں تو اسی طرح کرتیں جس طرح انہوں نے نبی ﷺ کے ساتھ حج کیا۔
Jabir bin Abdullah reported that Aisha (Allah be pleased with her) entered into the state of Ihram (separately) for Umrah while the Prophet ﷺ was performing Hajj. The rest of the hadith is the same, but with this addition: The Messenger of Allah ﷺ was a person of gentle disposition, so when she (Aisha) wished for a thing, he accepted it (provided it did not contravene the teachings of Islam). So he (in pursuance of her desire for a separate Ihram for Umrah) sent her with Abdul Rahman bin Abu Bakr (RA) and she put on Ihram for Umrah at al-Tanim. Matar and Abu Zubair (the two narrators amongst the chain of transmitters) said: Whenever Aisha performed Hajj she did as she had done along with Allahs Apostle ﷺ .
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ح و حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی وَاللَّفْظُ لَهُ أَخْبَرَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ مَعَنَا النِّسَائُ وَالْوِلْدَانُ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ طُفْنَا بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالمَرْوَةِ فَقَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ لَمْ يَکُنْ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيَحْلِلْ قَالَ قُلْنَا أَيُّ الْحِلِّ قَالَ الْحِلُّ کُلُّهُ قَالَ فَأَتَيْنَا النِّسَائَ وَلَبِسْنَا الثِّيَابَ وَمَسِسْنَا الطِّيبَ فَلَمَّا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ وَکَفَانَا الطَّوَافُ الْأَوَّلُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَشْتَرِکَ فِي الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ کُلُّ سَبْعَةٍ مِنَّا فِي بَدَنَةٍ
احمد بن یونس، زہیر، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے تھے جبکہ عورتیں اور بچے بھی ہمارے ساتھ تھے جب ہم مکہ آگئے تو ہم نے بیت اللہ کا طواف کیا اور صفا ومروہ کے درمیان سعی کی تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں فرمایا کہ جس آدمی کے پاس ہدی قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا کہ حلال کیسے ہوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کلی طور پر حلال ہوجاؤ راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے اپنی عورتوں سے مقاربت کی اور سلے ہوئے کپڑے پہنے اور خوشبو لگائی پھر جب ترویہ کا دن ہوا تو ہم نے حج کا احرام باندھا اور ہمیں صفا مروہ کا پہلا طواف ہی کافی ہوگیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ اونٹ اور گائے کی قربانی میں ہم میں سے سات آدمی شریک ہوجائیں یعنی سات آدمی مل کر ایک اونٹ یا ایک گائے کی قربانی کریں۔
Jabir (RA) said: We went with Allahs Messenger ﷺ in a state of Ihram for the Hajj. There were women and children with us. When we reached Makkah we circumambulated the House and (ran) between al-Safa and al-Marwah. The Messenger of Allah ﷺ said: He who has no sacrificial animal with him should put off Ihram. We said: What kind of putting off? He said: Getting out of Ihram completely. So we came to our wives, and put on our clothes and applied perfume. When it was the day of Tarwiya, we put on Ihram for Hajj. and the first circumambulation and (running) between al-Safa and al-Marwah sufficed us. Allahs Messenger ﷺ commanded us to become seven partners (in the sacrifice) of a camel and a cow.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَحْلَلْنَا أَنْ نُحْرِمَ إِذَا تَوَجَّهْنَا إِلَی مِنًی قَالَ فَأَهْلَلْنَا مِنْ الْأَبْطَحِ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، ابوزبیر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ جب ہم حلال ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم احرام باندھ کر منیٰ جائیں حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں جبکہ ہم نے ابطح کے مقام سے احرام باندھا۔
Jabir binAbdullah (RA) reported that the Apostle of Allah ﷺ ordered us to put on Ihram (again) as we proceeded towards Mina after we had put it off (i. e. on the 8th of Dhul-Hijja). So we pronounced Talbiya at al-Abtah.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ح و حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُا لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا زَادَ فِي حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ بَکْرٍ طَوَافَهُ الْأَوَّلَ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید، ابن جریج، عبد بن حمید، محمد بن بکر، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے طواف کیا اور نہ ہی آپ ﷺ نے صفا اور مروہ کے درمیان طواف (سعی) کیا مگر ایک ہی طواف کیا محمد بن بکر کی حدیث میں یہ زائد ہے کہ پہلے والا طواف کیا۔
Jabir binAbdullah (RA) is reported to have said: Neither Allahs Apostle ﷺ nor his Companions circumambulated the Ka’bah and ran between al-Safa and al-Marwah but once (sufficing both for Hajj and Umrah). But in the hadith transmitted by Muhammad bin Bakr there is an addition: "That is first circumambulation."
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي عَطَائٌ قَالَ سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي نَاسٍ مَعِي قَالَ أَهْلَلْنَا أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ خَالِصًا وَحْدَهُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُبْحَ رَابِعَةٍ مَضَتْ مِنْ ذِي الْحِجَّةِ فَأَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ قَالَ عَطَائٌ قَالَ حِلُّوا وَأَصِيبُوا النِّسَائَ قَالَ عَطَائٌ وَلَمْ يَعْزِمْ عَلَيْهِمْ وَلَکِنْ أَحَلَّهُنَّ لَهُمْ فَقُلْنَا لَمَّا لَمْ يَکُنْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ عَرَفَةَ إِلَّا خَمْسٌ أَمَرَنَا أَنْ نُفْضِيَ إِلَی نِسَائِنَا فَنَأْتِيَ عرَفَةَ تَقْطُرُ مَذَاکِيرُنَا الْمَنِيَّ قَالَ يَقُولُ جَابِرٌ بِيَدِهِ کَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَی قَوْلِهِ بِيَدِهِ يُحَرِّکُهَا قَالَ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فَقَالَ قَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَتْقَاکُمْ لِلَّهِ وَأَصْدَقُکُمْ وَأَبَرُّکُمْ وَلَوْلَا هَدْيِي لَحَلَلْتُ کَمَا تَحِلُّونَ وَلَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ لَمْ أَسُقْ الْهَدْيَ فَحِلُّوا فَحَلَلْنَا وَسَمِعْنَا وَأَطَعْنَا قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ فَقَدِمَ عَلِيٌّ مِنْ سِعَايَتِهِ فَقَالَ بِمَ أَهْلَلْتَ قَالَ بِمَا أَهَلَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَهْدِ وَامْکُثْ حَرَامًا قَالَ وَأَهْدَی لَهُ عَلِيٌّ هَدْيًا فَقَالَ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلِعَامِنَا هَذَا أَمْ لِأَبَدٍ فَقَالَ لِأَبَدٍ
محمد بن حاتم، یحییٰ بن سعید قطان، ابن جریج، عطاء، حضرت جابر فرماتے ہیں کہ ذی الحجہ کی چار تاریخ کی صبح کو نبی ﷺ تشریف لائے اور ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں احرام کھول دیں عطاء کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم حلال ہوجاؤ اور اپنی بیویوں کے پاس جاؤ عطاء کہتے ہیں کہ یہ حکم ان پر ضروری نہ تھا لیکن ان کی بیویاں ان کے لئے حلال ہوگئی تھیں ہم نے کہا کہ اب عرفہ میں صرف پانچ دن رہ گئے ہیں اور آپ ﷺ نے ہمیں اپنی بیویوں سے مقاربت کا حکم فرمایا تو کیا ہم اس حال میں عرفہ میں آئیں گے کہ ہم سے مقاربت کے اثرات ظاہر ہو رہے ہوں گے عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ یہ کہتے ہوئے اٹھے ہاتھوں کو ہلا رہے تھے راوی کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ سچا ہوں اور تم میں سے سب سے زیادہ نیک ہوں اور اگر میں نے ہدی نہ بھیجی ہوتی تو میں بھی حلال ہوجاتا جیسا کہ تم حلال ہوئے ہو۔ اور اگر میں اس معاملہ کی طرف پہلے متوجہ ہوجاتا جس طرف بعد میں متوجہ ہوا تو میں ہدی ہی نہ بھیجتا اب تم حلال ہوجاؤ تو ہم نے اطاعت کی عطاء کہتے ہیں کہ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ حضرت علی صدقات وغیرہ وصول کر کے آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تو نے احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ اپنی ہدی بھیج دو اور احرام کی حالت میں ٹھہرے رہو راوی کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ آپ ﷺ کے لئے ہدی لائے سراقہ بن مالک بن جعثم نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم صرف اس سال کے لئے ہے یا ہمیشہ کے لئے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہمیشہ کے لئے۔
Atareported: I, along with some people, heard Jabir bin Abdullah saying: We, the Companions of Muhammad ﷺ put on Ihram for Hajj only. Ata further said that Jabir stated: Allahs Apostle ﷺ came on the 4th of Dhul-Hijja and he commanded us to put off Ihram. Atasaid that he (Allahs Apostle) ﷺ commanded them to put off Ihram and to go to their wives (for intercourse). Ata said: It was not obligatory for them, but (intercourse) with them had become permissible. We said: When only five days had been left to reach Arafa, he (the Holy Prophet) commanded us to have intercourse with our wives. And we reached Arafa in a state as if we had just intercoursed (with tbem). He (Ata) said: Jabir pointed with his hand and I (perceive) as if I am seeing his hand as it moved. In the (meantime) the Apostle of Allah ﷺ stood amongst us and said: You are well aware that I am the most God-fearing, most truthful and most pious amongst you. And if there were not sacrificial animals with me, I would also have put off Ihram as you have put off. And if I were to know this matter of mine what I have come to know later on. I would not have brought sacrificial animals with me. So they (the Companions) put off Ihram and we also put off and listened to (the Holy Prophet) and obeyed (his command). Jabir said: All came with the revenue of the taxes (from Yemen). He (the Holy Prophet) said: For what (purpose) have you entered into the state of Ihram (whether you entered into the state purely for Hajj and Umrah jointly or Hajj and Umrah separately)? He said: For the purpose for which the Apostle of Allah ﷺ had entered. (The Holy Prophet ﷺ had entered as a Qiran, i. e. Ihram covering both Umrah and Hajj simultaneously.) Thereupon Allahs Messenger ﷺ said: Offer a sacrifice of animal, and retain Ihram. And Ali brought a sacrificial animal for him (for the Holy Prophet). Suraqa bin Malik bin Jushum said: Messenger of Allah, is it (this concession putting off Ihram of Hajj or Umrah) meant for this year or is it for ever?. He said: It is for ever.
احرام کی اقسام کے بیان میں
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَهْلَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ فَلَمَّا قَدِمْنَا مَکَّةَ أَمَرَنَا أَنْ نَحِلَّ وَنَجْعَلَهَا عُمْرَةً فَکَبُرَ ذَلِکَ عَلَيْنَا وَضَاقَتْ بِهِ صُدُورُنَا فَبَلَغَ ذَلِکَ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَمَا نَدْرِي أَشَيْئٌ بَلَغَهُ مِنْ السَّمَائِ أَمْ شَيْئٌ مِنْ قِبَلِ النَّاسِ فَقَالَ أَيُّهَا النَّاسُ أَحِلُّوا فَلَوْلَا الْهَدْيُ الَّذِي مَعِي فَعَلْتُ کَمَا فَعَلْتُمْ قَالَ فَأَحْلَلْنَا حَتَّی وَطِئْنَا النِّسَائَ وَفَعَلْنَا مَا يَفْعَلُ الْحَلَالُ حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ وَجَعَلْنَا مَکَّةَ بِظَهْرٍ أَهْلَلْنَا بِالْحَجِّ
ابن نمیر، عبدالملک بن ابی سلیمان، عطاء، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہم نے حج کا احرام باندھا تو جب ہم مکہ میں آگئے تو آپ ﷺ نے ہمیں حکم فرمایا کہ ہم حلال ہوجائیں اور اس احرام کو عمرہ کے احرام میں بدل لیں تو یہ بات ہم کو دشوار لگی اور ہم نے اپنے سینوں میں تنگی محسوس کی یہ بات نبی ﷺ تک پہنچ گئی ہم نہیں جانتے کہ آپ ﷺ تک یہ بات کیسے پہنچی؟ آسمان سے یا لوگوں میں سے کسی نے آپ ﷺ تک یہ بات پہنچائی تو آپ ﷺ نے فرمایا اے لوگو! تم حلال ہوجاؤ احرام کھول دو اور اگر میرے ساتھ ہدی نہ ہوتی تو میں بھی اسی طرح کرتا جس طرح کہ تم نے کیا راوی کہتے ہیں کہ پھر ہم نے احرام کھول دیا اور ہم نے اپنی بیویوں سے جماع کیا اور وہ سارے کام کئے جو ایک حلال کرتا ہے یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آیا یعنی ذی الحجہ کی آٹھ تاریخ ہوئی تو ہم نے مکہ سے پشت پھیری اور ہم نے حج کا احرام باندھا۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We entered with the Messenger of Allah ﷺ in the state of Ihram for Hajj. When we came to Makkah he commanded us to put off Ihram and make it for Umrah. We felt it (the command) hard for us, and our hearts were anguished on account of this and it (this reaction of the people) reached the Apostle of Allah ﷺ . We do not know whether he received (this news) from the Heaven (through revelation) or from the people. (Whatever the case might be) he said; O people, put off Ihram. If there were not the sacrificial animals with me, I would have done as you do. So we put off the Ihram (after performing Umrah), and we had intercourse with our wives and did everything which a non-Muhrim does (applying perfume, putting on clothes, etc.), and when it was the day of Tarwiya (8th of Dhul-Hijja) we turned our back to Makkah (in order to go to Mina, Arafat) and we put on Ihram for Hajj.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ نَافِعٍ قَالَ قَدِمْتُ مَکَّةَ مُتَمَتِّعًا بِعُمْرَةٍ قَبْلَ التَّرْوِيَةِ بِأَرْبَعَةِ أَيَّامٍ فَقَالَ النَّاسُ تَصِيرُ حَجَّتُکَ الْآنَ مَکِّيَّةً فَدَخَلْتُ عَلَی عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَاسْتَفْتَيْتُهُ فَقَالَ عَطَائٌ حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ حَجَّ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ سَاقَ الْهَدْيَ مَعَهُ وَقَدْ أَهَلُّوا بِالْحَجِّ مُفْرَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحِلُّوا مِنْ إِحْرَامِکُمْ فَطُوفُوا بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَقَصِّرُوا وَأَقِيمُوا حَلَالًا حَتَّی إِذَا کَانَ يَوْمُ التَّرْوِيَةِ فَأَهِلُّوا بِالْحَجِّ وَاجْعَلُوا الَّتِي قَدِمْتُمْ بِهَا مُتْعَةً قَالُوا کَيْفَ نَجْعَلُهَا مُتْعَةً وَقَدْ سَمَّيْنَا الْحَجَّ قَالَ افْعَلُوا مَا آمُرُکُمْ بِهِ فَإِنِّي لَوْلَا أَنِّي سُقْتُ الْهَدْيَ لَفَعَلْتُ مِثْلَ الَّذِي أَمَرْتُکُمْ بِهِ وَلَکِنْ لَا يَحِلُّ مِنِّي حَرَامٌ حَتَّی يَبْلُغَ الْهَدْيُ مَحِلَّهُ فَفَعَلُوا
ابن نمیر، ابونعیم، حضرت موسیٰ بن نافع کہتے ہیں کہ میں عمرہ کے احرام سے تمتع کا احرام کر کے ذی الحجہ کی آٹھ یوم ترویہ سے چار دن پہلے مکہ آگیا تو لوگوں نے کہا کہ اب تمہارا حج مکہ والوں کے حج کی طرح ہوجائے گا میں عطاء بن ابی رباح کے پاس گیا اور ان سے اس بارے میں پوچھا تو عطاء نے کہا کہ مجھے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری ؓ نے یہ حدیث بیان کی کہ انہوں نے جس سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کیا تھا اسی سال آپ ﷺ کی ہدی آپ ﷺ کے ساتھ تھی اور کچھ صحابہ نے حج افراد کا احرام باندھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم ایسے احرام سے حلال ہوجاؤ اور تم بیت اللہ کا طواف کرو اور صفا مروہ کے درمیان سعی کرو اور بال کٹواؤ اور حلال ہو کر رہو یہاں تک کہ جب ترویہ کا دن آٹھ ذی الحجہ ہوگا تو تم حج کا احرام باندھ لینا اور اپنے پہلے والے احرام کو تمتع کرلو لوگوں نے عرض کیا کہ ہم اسے تمتع کیسے کریں اور ہم نے تو حج کی نیت کی تھی آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس کا میں تمہیں حکم دے رہا ہوں اور میں اپنے احرام سے اس وقت تک حلال نہیں ہوسکتا جب تک کہ ہدی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے تب انہوں نے اسی طرح کرلیا۔
Musa bin Nafi reported: I came to Makkah as a Mutamatti for Umrah (performing Umrah first and then putting off Ihram and again entering into the state of Ihram for Hajj) four days before the day of Tarwiya (i. e. on the 4th of Dhul-Hijja). Thereupon the people said: Now yours is the Hajj of the Makkahns. I went to Ata bin Abi Rabah and asked his religious verdict. Ata said: Jabir bin Abdullah alAns-ari (RA) narrated to me that he peirforfned Hajj with the Messenger of Allah ﷺ in the year when he took sacrificial animals with him (i. e. during the 10th year of Hijra known as the Farewell Pilgrimage) and they had put on Ihram for Hajj only (as Mufrid). The Messenger of Allah ﷺ said: Put off Ihram and circumambulate the House, and (run) between al-Safa and al-Marwah and get your hair cut and stay as non-Muhrims. When it was the day of Tarwiya, then put on Ihram for Hajj and make Ihram for Muta (you had put on Ihram for Hajj, but take it off after performing Umrah and then again put on Ihram for Hajj). They said: How should we make it Muta although we entered upon Ihram in the name of Hajj? He said: Do whatever I command you to do. Had I not brought sacrificial animals with me, I would have done as I have commanded you to do. But it is not permissible for me to put off Ihram till the sacrifice is offered. Then they also did accordingly.
احرام کی اقسام کے بیان میں
و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الْمُغِيرَةُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَدِمْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُهِلِّينَ بِالْحَجِّ فَأَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَهَا عُمْرَةً وَنَحِلَّ قَالَ وَکَانَ مَعَهُ الْهَدْيُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يَجْعَلَهَا عُمْرَةً
محمد بن معمر بن ربعی قیسی، ابوہشام مغیرہ، ابن سلمہ مخزومی، ابی عوانہ، ابی بشر، عطاء بن ابی رباح، حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے فرمایا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج کا احرام باندھے ہوئے آئے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ہم اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام کردیں اور ہم حلال ہوجائیں عمرہ کرکے احرام کھولتے ہیں راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے ساتھ قربانی کا جانور تھا اس لئے آپ ﷺ اپنے اس حج کے احرام کو عمرہ کا احرام نہ کرسکے۔
Jabir bin Abdullah (RA) reported: We set out with Allahs Messenger ﷺ as Muhrim for Hajj. The Messenger of Allah ﷺ commanded us to make this Ihram for Umrah, and some put it off (after performing Umrah), but the Prophet ﷺ had sacrificial animals with him, so he could not make it (this Ihram) as that of Umrah.
حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی وَابْنُ بَشَّارٍ قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَأْمُرُ بِالْمُتْعَةِ وَکَانَ ابْنُ الزُّبَيْرِ يَنْهَی عَنْهَا قَالَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ عَلَی يَدَيَّ دَارَ الْحَدِيثُ تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ قَالَ إِنَّ اللَّهَ کَانَ يُحِلُّ لِرَسُولِهِ مَا شَائَ بِمَا شَائَ وَإِنَّ الْقُرْآنَ قَدْ نَزَلَ مَنَازِلَهُ فَ أَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّهِ کَمَا أَمَرَکُمْ اللَّهُ وَأَبِتُّوا نِکَاحَ هَذِهِ النِّسَائِ فَلَنْ أُوتَی بِرَجُلٍ نَکَحَ امْرَأَةً إِلَی أَجَلٍ إِلَّا رَجَمْتُهُ بِالْحِجَارَةِ
محمد بن مثنی، ابن بشار، ابن مثنی، محمد بن جعفر، شعبہ، قتادہ، حضرت ابونضرہ ؓ سے روایت ہے کہ فرمایا کہ حضرت ابن عباس ؓ ہمیں حج تمتع کرنے کا حکم فرماتے تھے اور حضرت ابن زیبر حج تمتع سے منع فرماتے تھے راوی کہتے ہیں کہ میں نے اس کا ذکر حضرت جابر بن عبداللہ ؓ سے کیا تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حدیث تو میرے ہی ہاتھوں سے لوگوں میں پھیلی ہے ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حج تمتع کیا ہے تو جب حضرت عمر ؓ کھڑے ہوئے خلیفہ بنے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لئے جو چاہتا ہے جس طرح چاہتا ہے حلال کرتا ہے اور قرآن مجید نے اس کے احکام نازل فرمائے ہیں کہ تم حج اور عمرہ پورا کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے اور ان عورتوں سے نکاح کرو تو کوئی آدمی ایسا نہ لایا جائے جس نے ایک عورت سے مقررہ مدت تک نکاح کیا ہو (متعہ) ورنہ میں پتھروں کے ساتھ مار مار کر اس کو رجم کر دوں گا۔
Abu Nadra reported: IbnAbbas commanded the performance of Tamattu putting Ihram for Umrah during the montnhs of DhuI-Hijja and after completing it, then putting on Ihram for Hajj), but Ibn Zubair forbade to do it. I made a mention of it to Jabir binAbdullah (RA) and he said: It is through me that this hadith has been circulated. We entered into the state of Ihram as Tamattu with the Messenger of Allah ﷺ . When Umar was installed as Caliph, he said: Verily Allah made permissible for His Messenger ﷺ whatever He liked and as He liked. And (every command) of the Holy Quran has been revealed for every occasion. So accomplish Hajj and Umrah for Allah as Allah has commanded you; and confirm by (proper conditions) the marriage of those women (with whom you have performed Muta). And any person would come to me with a marriage of appointed duration (Muta), I would stone him (to death).
حج اور عمرہ میں تمتع کے بیان میں
و حَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ فَافْصِلُوا حَجَّکُمْ مِنْ عُمْرَتِکُمْ فَإِنَّهُ أَتَمُّ لِحَجِّکُمْ وَأَتَمُّ لِعُمْرَتِکُمْ
زہیر بن حرب، عفان، ہمام، قتادہ، حضرت قتادہ ؓ نے اس سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ہے جس میں ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ تم اپنے حج کو اپنے عمرہ سے علیحدہ کرو کیونکہ اس سے تمہارا حج بھی پورا ہوجائے گا اور تمہارا عمرہ بھی پورا ہوگا۔
Qatada narrated this hadith with the same chain of transmitters saying: (That Umar also said): Separate your Hajj from Umrah, for that is the most complete Hajj, and complete your Umrah.