طب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 141 · 97 hadiths · Page 3 of 5

4447Mishkaat-al-Masabih

پچھنے لگوانے کے دن

وعنه مرسلا قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من احتجم أو اطلى يوم السبت أو الأربعاء فلا يلومن إلا نفسه في الوضح . رواه في شرح السنة . ( حسن )

اور حضرت زہری ؓ بطریق ارسال کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہفتہ یا بدھ کے دن بھری ہوئی سینگی کھنچوائے یا (اپنے بدن کے کسی عضو پر) لیپ کرے تو وہ کوڑھ میں مبتلا ہوجانے کی صورت میں اپنے آپ کو ملامت کرے۔ (شرح السنۃ،

4448Mishkaat-al-Masabih

ٹوٹکہ کی ممانعت

وعن زينب امرأة عبد الله بن مسعود أن عبد الله رأى في عنقي خيطا فقال ما هذا ؟ فقلت خيط رقي لي فيه قالت فأخذه فقطعه ثم قال أنتم آل عبد الله لأغنياء عن الشرك سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن الرقى والتمائم والتولة شرك فقلت لم تقول هكذا ؟ لقد كانت عيني تقذف وكنت أختلف إلى فلان اليهودي فإذا رقاها سكنت فقال عبد الله إنما ذلك عمل الشيطان كان ينخسها بيده فإذا رقي كف عنها إنما كان يكفيك أن تقولي كما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شفاء إلا شفاؤك شفاء لا يغادر سقما . رواه أبو داود .

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی بیوی زینب ؓ کہتی ہیں کہ ایک دن حضرت عبداللہ نے میرے گردن میں دھاگا پڑا ہوا دیکھا تو پوچھا یہ کیا ہے؟ میں نے کہا یہ دھاگا ہے جس پر میرے لئے منتر پڑھا گیا ہے (یعنی منتروں کے ذریعہ اس دھاگے کا گنڈہ بنوا کر میں نے اپنے گلے میں ڈال لیا ہے) زینب ؓ کہتی ہیں کہ حضرت عبداللہ نے (یہ سن کر) اس دھاگے کو (میری گردن سے) نکال لیا اور اس کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا اور پھر کہا کہ اے عبداللہ کے گھر والو، تم شرک سے بےپرواہ ہو، میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بلا شبہ منتر منکے اور ٹوٹکے شرک ہیں۔ میں نے کہا آپ یہ بات کس طرح کہہ رہے ہیں (یعنی آپ گویا منتر سے اجتناب کرنے اور توکل کو اختیار کرنے کی تلقین کر رہے ہیں جب کہ مجھ کو منتر سے بہت فائدہ ہوا ہے) چناچہ میری آنکھ (درد کے سبب) نکلی پڑی تھی اور میں فلاں یہودی کے ہاں آیا جایا کرتی تھی اس یہودی نے جب منتر پڑھ کر آنکھ کو دم کیا تو آنکھ کو آرام مل گیا۔ حضرت عبداللہ نے کہا کہ (یہ تمہاری نادانی و غفلت ہے) اور وہ درد اس کا اچھا ہوجانا منتر کے سبب سے نہیں تھا بلکہ (حقیقت میں) وہ شیطان کا کام تھا، شیطان تمہاری آنکھ کو کو نچتا تھا (جس سے تمہیں درد محسوس ہوتا تھا) پھر جس منتر کو پڑھا گیا تو (چونکہ وہ ایک شیطان کا کام تھا اس لئے) شیطان نے کونچنا چھوڑ دیا، تمہارے لئے وہ دعا بالکل کافی تھی جو رسول کریم ﷺ پڑھا کرتے تھے کہ۔ اذھب الباس رب الناس واشف انت الشافی لاشفاء الا شفائک شفاء لا یغادر سقما (یعنی اے لوگوں کے پروردگار تو ہماری بیماری کو کھودے اور شفا عطا فرما (کیونکہ) تو ہی شفا دینے والا ہے، تیری شفا کے علاوہ شفا نہیں ہے، ایسی شفا جو بیماری کو باقی نہ چھوڑے!۔ (ابوداؤد) تشریح تم شرک سے بےپرواہ ہو کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں ایمان و اسلام کی دولت دے کر کفر شرک سے دور کردیا ہے، لہٰذا تمہیں اس چیز کی حاجت نہیں ہے کہ تم اپنی بیماریوں اور مضرتوں کو ختم کرنے کے لئے ایسے افعال و ذرئع اختیار کرو جو شرک میں مبتلا کردیتے ہیں اور شرک کی حاجت نہیں ہے کہ تم اپنی بیماریوں اور مضرتوں کو ختم کرنے کے لئے ایسے افعال و ذرئع اختیار کرو جو شرک میں مبتلا کردیتے ہیں اور شرک کو متضمن ہیں، حضرت عبداللہ نے یہ باب یہ بات اس بناء پر فرمائی کہ اس زمانہ میں جھاڑ پھونک اور تعویز گنڈے کے لئے منتر و افسوں کئے جاتے تھے وہ مشرکانہ مضامین پر مشتمل ہوتے تھے، ملا علی قاری نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ یہاں شرک سے مراد یہ اعتقاد رکھنا ہے کہ یہ عمل یعنی جھاڑ پھونک وغیرہ بیماری و مضرت کو دفع کرنے کا ایک قوی سبب ہے اور خود اس میں تاثیری طاقت ہے اس صورت میں یہ شرک خفی ہوگا اور یہ اعتقاد ہو کہ یہ چیز بذات خود مؤثر حقیقی ہے تو یہ شرک جلی کہلائے گا۔ جس منتر کو شرک کہا گیا ہے اس سے وہ منتر اور جھاڑ پھونک مراد ہے جس میں بتوں، دیویوں اور شیاطین کے نام لئے گئے ہوں جو کفریہ کلمات اور ایسی چیزوں پر مشتمل ہو جس کو شریعت نے جائز قرار نہ دیا ہو، نیز اس حکم میں ایسے منتر و افسوں بھی داخل ہیں جن کے معنی معلوم نہ ہوں۔ تمائم تمیمہ کی جمع ہے اور تمیمہ اس تعویذ کو کہتے ہیں جو گلے میں لٹکایا جاتا ہے۔ یہاں وہ تعویز مراد ہے جس میں اسماء الہٰی، قرآنی آیات اور منقول دعائیں نہ ہوں! اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ تمیمہ منکے کو کہتے ہیں یعنی عرب میں عورتیں چتکبرے مہروں کو جوڑ کر بچوں کے گلے میں ڈال دیتی تھیں اور یہ عقیدہ رکھتی تھیں اس کی وجہ سے بچوں کو نظر نہیں لگتی، اسی کو تمیمہ کہتے ہیں۔ تولۃ ایک قسم کے ٹوٹکے کو کہتے ہیں جو مرد و عورت کے درمیان محبت قائم کرنے کے لئے دھاگے یا کاغذ تعویذ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ منتر منکے اور ٹوٹکے شرک ہیں۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب عملیات اور کام وہ ہیں جو اہل شرک کرتے ہیں اور یہ چیزیں شرک خفی یا شرک جلی کے ضمن میں آتی ہیں جیسا کہ اوپر واضح کیا گیا۔ بلکہ شیطان کا کام تھا۔ یعنی تمہاری آنکھ میں جو درد تھا، وہ حقیقۃً درد نہیں تھا۔ بلکہ شیطان کی ان ایذاء رسانیوں میں سے ایک ایذاء رسانی تھی جس میں وہ انسان کو مبتلا کرتا رہتا ہے۔

4449Mishkaat-al-Masabih

|" نشرہ |" شیطان کا کام ہے

وعن جابر قال سئل النبي صلى الله عليه وسلم عن النشرة فقال هو من عمل الشيطان . رواه أبو داود .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سے نشرہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ وہ شیطانی کام ہے۔ (ابو داؤد) تشریح نشرہ ایک قسم کا سفلی عمل ہے جو آسیب کے دفعیہ کے لئے کیا جاتا ہے۔ اور قاموس میں ہے کہ نشرہ ایک رقیہ یعنی منتر ہے جس کے ذریعہ مجنون و مریض کا علاج کیا جاتا ہے۔ حاصل یہ کہ نشرہ کے لفظی معنی منتر یا تعویز کے ہیں، لہٰذا جس نشرہ کو شیطان کا کام فرمایا گیا ہے اس سے مراد وہ منتر ہوگا جو اسماء الہٰی، قرآن اور منقول دعاؤں پر مشتمل نہیں ہوتا تھا، بلکہ وہ زمانہ جاہلیت کے ان عملیات میں سے ایک عمل تھا جو بتوں اور شیاطین کے اسماء اور ان سے اعانت پر مشتمل ہوتے تھے، یا اس منتر کے الفاظ عبرانی زبان کے ہوں گے کہ جن کے معنی معلوم نہ ہوں گے۔

4450Mishkaat-al-Masabih

لاپرواہ لوگوں کے کام

وعن عبد الله بن عمر قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما أبالي ما أتيت إن أنا شربت ترياقا أو تعلقت تميمة أو قلت الشعر من قبل نفسي . رواه أبو داود .

اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میں ہر عمل سے لاپرواہ ہوں اگر میں تریاق پیؤں یا گلے میں منکا ڈالوں اور یا میں اپنے دل سے اور اپنے قصد و ارادہ سے شعر لکھوں (یعنی اشعار بناؤں )۔ (ابو داؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر ان چیزوں میں سے کوئی بھی چیز مجھ سے سرزد ہوجائے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ میرا شمار ان لوگوں میں سے ہو جو ہر عمل سے لاپرواہ ہوتے ہیں یعنی وہ کسی بھی کام کو کرتے وقت یہ نہیں دیکھتے کہ آیا ان کو یہ کام کرنا چاہئے یا نہیں، نتیجۃ وہ نامشروع افعال و حرکات سے پرہیز نہیں کرتے۔ گویا اس ارشاد گرامی سے یہ واضح کرنا مقصود ہے کہ ان چیزوں کو اختیار کرنا اسی شخص کا کام ہوسکتا ہے جو مناسب چیزوں اور غیر مشروع اعمال کو اختیار کرنے کے غیر پابند اور لاپرواہ ہوتے ہیں۔ مذکورہ چیزوں کے استعمال کو آنحضرت ﷺ نے اس لئے مذموم سمجھا کہ تریاق میں تو سانپ کا گوشت اور شراب پڑتی تھی اور یہ چیزیں حرام ہیں اس سے معلوم ہوا کہ جس تریاق کے اجزاء ترکیبی حرام چیزوں پر مشتمل نہ ہوں اس کے استعمال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اگرچہ بعض حضرات نے حدیث کے مطلق مفہوم پر عمل کرنے کے پیش نظر اس کے ترک کو بھی اولیٰ قرار دیا ہے، اسی طرح تمیمہ یعنی منکے اور گنڈے سے وہ چیزیں مراد ہیں جن کو زمانہ جاہلیت کے لوگ جھاڑ پھونک اور عملیات کے ضمن میں استعمال کرتے تھے، لہٰذا ایسے تعویز اور گنڈے وغیرہ جو اسماء الہٰی اور آیات قرآنی وغیرہ پر مشتمل ہوں وہ حکم سے خارج ہیں۔ بلکہ ان کا مستحب ہونا ثابت ہے اور ان کی برکت سے حصول مقصد کی ایک امید کی جاسکتی ہے جہاں تک شعر و شاعری کا تعلق ہے تو آپ ﷺ کے نزدیک اس کا مذموم ہونا اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد آیت (وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ) کی بناء پر تھا، چناچہ آنحضرت ﷺ خود کوئی شعر نہیں کہتے تھے بلکہ حق تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شعر گوئی سے پاک و منزہ رکھا تھا، اسی لئے آپ ﷺ شعر کہنے پر قادر ہی نہیں تھے اور یہ بات ہے کہ آپ ﷺ کی زبان مبارک سے بےساختہ اور بلا قصد و ارادہ جو موزوں و مقفٰی جملے ادا ہوتے تھے اور آپ ﷺ کا کلام جس فصاحت و بلاغت سے بھرپور ہوتا تھا وہ بذات خود وصف شعر گوئی سے کہیں اعلی معیار کی چیز ہوتی تھی، مگر ظاہر ہے کہ یہ چیز نہ تو شعر کہنے کے زمرے میں آتی ہے اور نہ یہ مذموم ہے اور ویسے بھی اہل فن و اصطلاح اس پر بےساختہ اپنے کلام میں دوسروں کے اشعار استعمال کرنے کے باوصف آپ ﷺ کا خود شعر کہنے پر قادر نہ ہونا آپ ﷺ کے علاوہ دوسرے لوگوں کے حق میں اشعار اور شعر گوئی کی حیثیت دوسرے اصناف سخن و کلام کی طرح ہے کہ اچھے مضامین کو اشعار کا جامہ پہنانا اور صالح و پاکیزہ خیالات کو شعر گوئی کے ذریعہ ظاہر کرنا اچھا ہے اور برے مضامین اور گندے خیالات پر مشتمل شعر گوئی کرنا برا ہے تاہم اتنی بات ضرور ہے کہ اس صورت میں بھی اپنے باطن کو شعر گوئی ہی کی طرف متوجہ کرلینا، اسی میں عمر کو ضائع کرنا اور اس میں اتنا زیادہ انہماک و تفکر اختیار کرنا کہ ان دینی امور میں رکاوٹ اور نقصان پیدا ہو جو ضروری اور واجب ہیں یقینا مذموم ہوگا۔ ابن مالک نے اس حدیث کی وضاحت میں کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ شعر کہنا، تریاق پینا اور گلے میں تعویز و گنڈے لٹکانا میرے لئے حرام ہے البتہ امت کے حق میں نہ تو شعر گوئی حرام ہے اور نہ گلے میں تعویذ و گنڈے لٹکانا حرام ہے، بشرطیکہ اس شعر گوئی کے ذریعہ کسی مسلمان کی ہجو نہ کی گئی اور نہ وہ اشعار جھوٹ اور بری باتوں پر مشتمل ہوں اور نہ ہی وہ تعویذ و گنڈے غیر مشروع عملیات سے متعلق ہوں اسی طرح امت کے حق میں وہ تریاق بھی حرام نہیں ہے جس میں کوئی حرام چیز جیسے سانپ کا گوشت وغیرہ شامل نہ ہو،۔

4451Mishkaat-al-Masabih

جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی

وعن المغيرة بن شعبة قال قال النبي صلى الله عليه وسلم من اكتوى أو استرقى فقد برئ من التوكل . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه .

اور حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے داغ دلوایا یا منتر پڑھوایا تو وہ توکل سے بری ہوا ( احمد ترمذی ابن ماجہ ) تشریح مطلب یہ ہے کہ کسی مرض کے لئے جسم کے کسی حصہ پر داغ لینا یا کسی ضرورت و حاجب کی صورت میں جھاڑ پھونک اور تعویز گنڈے کرانا اگرچہ مباح ہے لیکن توکل اور اعتماد علی اللہ کا جو مرتبہ و مقام ہے وہ اس سے بلند وبالا ہے حق تعالیٰ نے فرمایا ہے آیت (وعلی اللہ فلیتوکل المومنین)۔ لہٰذا اسباب و ذرائع کے اختیار کرنے میں زیادہ انہماک ورغبت گویا رب الارباب سے غافل ہوجانے کی دلیل ہے اسی لئے امام غزالی نے فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص کہیں جانے کے لئے اپنے مکان کے دروازوں کو دو تالوں سے مقفل کرے یا ایک تالا ڈالے اور پھر اپنے پڑوسی سے بھی مکان کی حفاظت و نگرانی کے لئے کہے تو وہ توکل کے دائرے سے نکل گیا

4452Mishkaat-al-Masabih

جھاڑ پھونک وغیرہ توکل کے منافی

وعن عيسى بن حمزة قال دخلت على عبد الله بن عكيم وبه حمرة فقلت ألا تعلق تميمة ؟ فقال نعوذ بالله من ذلك قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من تعلق شيئا وكل إليه . رواه أبو داود .

اور حضرت عیسیٰ بن حمزہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن میں حضرت عبداللہ بن عکیم کے پاس گیا تو دیکھا کہ ان کا بدن سرخی کی بیماری میں مبتلا تھا میں نے کہا کہ آپ تعویذ کیوں نہیں باندھ لیتے؟ انہوں نے کہا کہ میں اس کام سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں۔ کیونکہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص کوئی چیز لٹکاتا ہے یا (باندھتا ہے) تو اسی چیز کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح طیبی کے قول کے مطابق بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ نے تعویذ باندھنے سے اللہ کی پناہ چاہی تھی کیونکہ وہ مقام توکل و رضا پر فائز تھے اور انہوں نے تعویذ باندھنے کو مرتبہ کو توکل کے منافی سمجھا۔ اگرچہ دوسروں کے لئے یہ جائز ہے آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص تعویذ باندھتا ہے یا گنڈا ڈالتا ہے اور جھاڑ پھونک وغیر جیسے عملیات کا سہارا لیتا ہے اور یہ اعتقاد رکھتا ہے کہ یہ چیزیں فائدہ مند ہیں اور ضرر کو دفع کرتی ہیں تو اس کو اس حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور انہی چیزوں کے سپرد کردیا جاتا ہے یعنی اس کو حق تعالیٰ کی مدد اعانت سے محروم کردیا جاتا ہے اور وہ شفا نہیں پاتا کیونکہ ذات حق تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی چیز فائدہ دیتی ہے اور نہ نقصان پہنچاتی ہے، گویا اس ارشاد گرامی ﷺ کا مقصد تفویض و توکل کی طرف راغب کرنا ہے۔

4453Mishkaat-al-Masabih

جھاڑ پھونک کے اثر کا ذکر

وعن عمران بن حصين أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا رقية إلا من عين أو حمة . رواه أحمد والترمذي وأبو داود . ورواه ابن ماجه عن بريدة .

اور حضرت عمران بن حصین ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا منتر یعنی جھاڑ پھونگ کا اثر تو بس نظر یا زہر دار جانور (جیسے بچھو وغیرہ کے) ڈنگ ہی پر ہوتا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ) اور ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت بریدہ ؓ سے نقل کیا ہے۔

4454Mishkaat-al-Masabih

جھاڑ پھونک کے اثر کا ذکر

وعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا رقية إلا من عين أو حمة أو دم . رواه أبو داود .

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا منتر تو بس نظر یا زہریلے ڈنک اور خون پر اثر کرتا ہے۔ (ابوداؤد ) تشریح اس سے پہلی حدیث میں دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے اور اس حدیث میں تین چیزوں کا ذکر ہے گویا اس حدیث میں خون کا لفظ مزید نقل کیا گیا ہے۔ علماء نے خون سے نکسیر کا خون مراد لیا ہے اور اگر لفظ خون کو اس کے عمومی مفہوم پر محمول کیا جائے یعنی یوں کہا جائے کہ خون سے وہ تمام امراض مراد ہیں جو خون کے سبب سے لاحق ہوتے ہیں کہ خواہ ان کا تعلق، خون کی روانی، دباؤ اور غلبہ سے ہو اور خواہ فساد خون سے تو یہ بھی صحیح ہوگا۔ ابوداؤد کی ایک روایت میں۔ الافی عین کے بجائے الافی نفس کے الفاظ منقول ہیں، لیکن علماء نے کہا ہے کہ نفس سے مراد عین یعنی نظر ہی ہے اسی طرح اودم کے بجائے اولدغۃ کے الفاظ منقول ہیں۔ جن کے معنی دانتوں سے کاٹنے کے ہیں جیسا کہ سانپ اور اس طرح کے دوسرے جانور دانتوں کے ذریعہ ڈستے ہیں اور کاٹتے ہیں۔ واضح رہے کہ جھاڑ پھونک اور عملیات کے ذریعہ علاج معالجہ کرنا اور درد سر دانتوں کے درد جیسی تقریبا ہر بیماری کے لئے فائدہ مند ہے جس کا ثبوت احادیث سے ملتا ہے، نیز بخاری ومسلم کی روایت میں منقول ہے کہ جب آنحضرت ﷺ بیمار تھے تو حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ بسم اللہ ارقیک من کل داء یوذیک۔ لہٰذا مذکورہ بالا حدیثوں میں جھاڑ پھونک کے اثر کو محض تین چیزوں میں منحصر کرنا دراصل مبالغہ کے طور پر ہے اور مراد یہ ہے کہ دوسری چیزوں کی بہ نسبت ان تین چیزوں میں جھاڑ پھونک زیادہ فائدہ مند اور بہتر ہے جیسا کہ عام طور پر لوگ انہی چیزوں میں عملیات کا سہارا زیادہ لیتے ہیں۔

4455Mishkaat-al-Masabih

تیز نظر کا ذکر

وعن أسماء بنت عميس قالت يا رسول الله إن ولد جعفر تسرع إليهم العين أفأسترقي لهم ؟ قال نعم فإنه لو كان شيء سابق القدر لسبقته العين . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه .

اور حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! جعفر طیار کی اولاد (چونکہ خوبصورت و خوب سیرت ہے اس لئے ان) کو نظر بہت جلدی لگتی ہے تو کیا ان کے لئے کوئی منتر پڑھوائیں؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہاں کیونکہ اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جاسکتی تو وہ نظر ہوتی (یعنی نظر کا اثر یقینا ایک سخت ترین چیز ہے۔ لہٰذا اس کے دفعیہ کے لئے جھاڑ پھونک کرانا جائز ہے۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ، ) تشریح عطاء نے لکھا ہے کہ جس طرح بعض نظر بسبب حسد اور خبث طبع کے نقصان و ضرر پہنچاتی ہے اسی طرح اس کے مقابلہ میں عارفین اور اہل اللہ کی نظر اکسیر کی مانند فائدہ مند ہوتی ہے کہ ان کی ایک نگاہ ہدایت کافر کو مؤمن فاسق کو صالح اور جاہل کو عالم بنا دیتی ہے۔

4456Mishkaat-al-Masabih

نملہ کا منتر

وعن الشفاء بنت عبد الله قالت دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا عند حفصة فقال ألا تعلمين هذه رقية النملة كما علمتيها الكتابة ؟ . رواه أبو داود .

اور حضرت شفاء بنت عبداللہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) میں ام المؤمنین حضرت حفصہ ؓ کے پاس بیٹھی تھی کہ رسول کریم ﷺ اندر تشریف لائے اور مجھ کو (دیکھ کر) فرمایا کہ کیا تم ان کو (یعنی حفصہ کو) نملہ کا منتر نہیں سکھا دیتیں جس طرح کہ تم نے ان کو لکھنا سکھایا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح شفاء۔ عبداللہ بن شمس کی بیٹی اور قریشی عدوی ہیں ان کا اصلی نام لیلی تھا اور شفاء لقب تھا جو اتنا مشہور ہوا کہ اصل نام پر غالب آگیا، انہوں نے ہجرت سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا اونچے درجہ کی عاقلہ فاضلہ عورتوں میں سے تھیں، نبی کریم ﷺ دوپہر کو قیلولہ کے لئے ان کے یہاں تشریف لے جاتے اور وہاں آرام فرماتے انہوں نے آنحضرت ﷺ کے لئے بستر اور لنگی کا انتظام کر رکھا تھا تاکہ آرام کے وقت یہ دونوں چیزیں آپ ﷺ کی خدمت میں آئیں۔ نملہ کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ ان پھنسیوں کو نملہ کہتے ہیں جو پسلیوں پر نکلتی ہیں اور بہت تکلیف پہنچاتی ہیں، جو شخص ان پھنسیوں میں مبتلا ہوتا ہے، اس کو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان پھنسیوں کی جگہ چیونٹیاں رینگ رہی ہوں اور غالباً اسی مناسبت سے ان پھنسیوں کو نملہ چیونٹی کہا جاتا ہے۔ حضرت شفاء ؓ مکہ میں ان نملہ کے دفعیہ کے لئے منتر پڑھ کر جھاڑ پھونک کرتی تھیں، جب انہوں نے اسلام قبول کیا اور آنحضرت ﷺ ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لے آئے اور یہ بھی وہاں پہنچیں تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے زمانہ جاہلیت میں نملہ کے دفعیہ کے لئے ایک منتر پڑھا کرتی تھیں، اب چاہتی ہوں کہ وہ منتر پڑھ کر آپ ﷺ کو سناؤں تاکہ آپ ﷺ اس کے بارے میں حکم دیں کہ اس منتر کا پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟ چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس منتر کو سن کر اس کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دیدی اور پھر فرمایا کہ یہ منتر حفصہ ؓ کو بھی سکھا دو۔ رقیہ نملہ سے مراد وہ چند کلمات ہیں جو عرب کی عورتوں میں مشہور تھے، جن کو وہ رقیہ نملہ کہتی تھیں ورنہ نملہ کا جو منتر حقیقی منتر تھا وہ تو دراصل خرافات کا مجموعہ تھا جس کو پڑھنے سے آنحضرت ﷺ نے منع فرما دیا تھا ظاہر ہے کہ آپ ﷺ اس منتر کے سکھانے کا حکم کیوں فرماتے وہ مشہور کلمات جن کو عرب کو عورتیں رقیہ نملہ کہتی تھیں یہ ہیں الغروس تنتعل وتختضب وتکعل وکل شیء تفتعل غیر انہا والا نقصی الرجل یعنی دلہن کو چاہئے کہ مانگ چوٹی اور زیب وزینت کرے، ہاتھ پاؤں رنگے، سرمہ لگائے ہر بات کرے مگر مرد کی نافرمانی نہ کرے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا شفاء سے یہ فرمانا کہ حفصہ ؓ کو نملہ کا منتر سکھا دو حقیقت میں تعریض کے طور پر تھا اور اس کا ایک خاص پس منظر تھا اور وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی زوجہ مطہرہ حضرت حفصہ ؓ کو ایک راز کی بات سنائی تھی، لیکن حفصہ ؓ نے اس کو فاش کردیا اس کا ذکر قرآن کریم کی سورت تحریم میں بھی کیا گیا ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے شفاء سے مذکورہ ارشاد فرما کر گویا حضرت حفصہ ؓ کو نصیحت کی اور ان کو متنبہ کیا کہ تم نے میرے بتائے ہوئے راز کو ظاہر کر کے شوہر کی نافرمانی کی ہے جو نہ صرف تمہارے مقام و مرتبہ کے منافی بات ہے بلکہ وفا شعار عورت کی اس خصوصیت کے بھی منافی ہے کہ وہ شوہر کی نافرمانی کرنا گوارا نہیں ہوتی۔ ایک حدیث میں عورتوں کو لکھنا سکھانے کی ممانعت منقول ہے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا لاتعلم الکتابۃ اس کے برخلاف اس حدیث میں اس کا جواز ثابت ہوتا ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کا تعلق اس وقت سے ہو جب کہ آنحضرت ﷺ نے یہ ممانعت ارشاد نہیں فرمائی تھی گویا ممانعت والی حدیث بعد کی ہے اور یہاں جو حدیث نقل کی گئی ہے وہ پہلے کی ہے۔ بعض حضرات اس بارے میں کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات کی ایک خاص حیثیت تھی اس بنا پر بعض احکام و فضائل میں بھی ان کو مخصوص رکھا گیا ہے لہٰذا ممانعت کا تعلق اور تمام عورتوں سے ہے کہ ان کا اس فتنہ و برائی میں مبتلا ہوجانا عین ممکن ہے جو مذکورہ ممانعت کی بنیاد ہے۔ جب کہ ازواج مطہرات کے بارے میں اس طرح کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ہے اس لئے ان کو لکھنا سیکھنے کی اجازت تھی۔ خطابی کہتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ عورتوں کو لکھنا سکھانا مکروہ ہے اور ملا علی قاری نے کہا ہے کہ یہ احتمال ہے کہ اس وقت یعنی زمانہ رسالت میں عورتوں کو لکھنا سکھانا جائز ہو لیکن فتنہ و فساد میں مبتلا ہوجانے کے خوف کے سبب سے بعد کی عورتوں کے لئے جائز نہ ہو بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ لکھنا سکھانے کا مذکورہ حکم صرف حضرت حفصہ ؓ کے لئے تھا دوسری عورتوں کے لئے نہیں۔

4457Mishkaat-al-Masabih

نظر لگنے کا ایک واقعہ

وعن أبي أمامة بن سهل بن حنيف قال رأى عامر بن ربيعة سهل بن حنيف يغتسل فقال والله ما رأيت كاليوم ولا جلد مخبأة قال فلبط سهل فأتي رسول الله صلى الله عليه وسلم فقيل له يا رسول الله هل لك في سهل بن حنيف ؟ والله ما يرفع رأسه فقال هل تتهمون له أحدا ؟ فقالوا نتهم عامر بن ربيعة قال فدعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عامرا فتغلظ عليه وقال علام يقتل أحدكم أخاه ؟ ألا بركت ؟ اغتسل له . فغسل له عامر وجهه ويديه ومرفقيه وركبتيه وأطراف رجليه وداخلة إزاره في قدح ثم صب عليه فراح مع الناس ليس له بأس . رواه في شرح السنة ورواه مالك وفي روايته قال إن العين حق توضأ له .

اور حضرت ابوامامہ ؓ بن سہل ابن حنیف کہتے ہیں کہ (ایک دن) عامر بن ربیعہ ؓ نے (میرے والد) سہل بن حنیف ؓ کو نہاتے ہوئے دیکھا۔ تو کہنے لگا کہ اللہ کی قسم (سہل کے جسم اور ان کے رنگ و روپ کے کیا کہنے) میں نے تو آج کے دن کی طرح (کوئی خوبصورت بدن کبھی) نہیں دیکھا۔ اور پردہ نشین (خوبصورت عورت) کی بھی کھال (سہل کی کھال جیسی نازک وخوش رنگ) نہیں دیکھی۔ ابوامامہ کہتے ہیں کہ (عامر کا) یہ کہنا تھا کہ ایسا محسوس ہوا (جیسے) سہل کو گرا دیا گیا (یعنی ان کو عامر کی ایسی نظر لگی کہ وہ فوراً غش کھا کر گرپڑے) چناچہ ان کو اٹھا کر رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لایا گیا اور عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ سہل کے علاج کے لئے کیا تجویز کرتے ہیں! اللہ کی قسم یہ تو اپنا سر بھی اٹھانے کی قدرت نہیں رکھتے۔ آنحضرت ﷺ نے سہل کی حالت دیکھ کر فرمایا کہ کیا کسی شخص کے بارے میں تمہارا خیال ہے کہ اس نے ان کو نظر لگائی ہے؟ لوگوں نے عرض کیا کہ ( جی ہاں) عامر بن ربیعہ ؓ کے بارے میں ہمارا گمان ہے کہ انہوں نے نظر لگائی ہے راوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ( یہ سن کر) عامر کو بلایا اور ان کو سخت سست کہا اور فرمایا کہ تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کیوں مار ڈالنے کے درپے ہوتا ہے تم نے سہل کو برکت کی دعا کیوں نہیں دی ( یعنی اگر تمہاری نظر میں سہل کا بدن اور رنگ و روپ بھا گیا تھا تو تم نے یہ الفاظ کیوں نہ کہے بارک اللہ علیک تاکہ ان پر تمہاری نظر کا اثر نہ ہوتا) پھر آپ ﷺ نے عامر کو حکم دیا کہ ( تم سہل کے لئے اپنے اعضاء کو) دھوؤ اور اس پانی کو اس پر ڈال دو چناچہ عامر نے ایک برتن میں اپنا منہ ہاتھ کہنیاں گھٹنے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے پورے اور زیر ناف جسم ( یعنی ستر اور کو لھوں) کو دھویا اور پھر وہ پانی جس سے عامر نے یہ تمام اعضاء دھوئے تھے سہل پر ڈالا گیا اس کا اثر یہ ہوا کہ سہل فورا اچھے ہوگئے اور اٹھ کر لوگوں کے ساتھ اس طرح چل پڑے جیسے ان کو کچھ ہوا ہی نہیں تھا ( شرح السنتہ مؤطا امام مالک) اور امام مالک کی ایک روایت میں یہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ٹوکنے والے سے فرمایا کہ نظر بد حق ہے تم نظر زدہ کے لئے وضو کرو چناچہ اس نے نظر زدہ کے لئے وضو کیا تشریح نووی کہتے ہیں کہ علماء کے نزدیک نظر لگانے والے کے وضو کی صورت یہ ہے کہ جس شخص کے بارے میں یہ تحیقق ہو کہ اس نے نظر لگائی ہے کہ اس کے سامنے کسی برتن یعنی پیالہ وغیرہ میں پانی لایا جائے اس برتن کو زمین پر نہ رکھا جائے پھر نظر لگانے والا اس برتن میں سے ایک چلو پانی لے کر کلی کرے اور اس کلی کو اسی برتن میں ڈالے پھر اس سے پانی لے کر اپنا منہ دھوئے پھر بائیں ہاتھ میں پانی لے کر دائیں کہنی اور دائیں کہنی اور دائیں ہاتھ میں پانی لے کر بائیں ہاتھ میں پانی لے کر بائیں کہنی دھوئے اور ہتھیلی و کہنی کے درمیان جو جگہ ہے اس کو نہ دھوئے پھر داہنا پیر اور پھر اس کے بعد بایاں پیر دھوئے پھر اسی طرح پہلے داہنا گھٹنا اور بعد میں بایاں گھٹنا دھوئے اور پھر آخر میں تہبند کے اندر زیر ناف جسم کو دھوئے اور ان سب اعضاء کو اسی برتن میں دھویا جائے ان سب کو دھونے کے بعد اس پانی کو نظر زدہ کے اوپر اس کی پشت کی طرف سے سر پر ڈال کر بہا دے واضح رہے کہ اس طرح کا علاج اسرار و حکم سے تعلق رکھتا ہے جو عقل وسمجھ کی رسائی سے باہر کی چیز ہے لہذا اس بارے میں عقلی بحث کرنا لا حاصل ہے مارزی نے کہا ہے کہ مذکورہ اعضاء جسم کو دھونے کا حکم وجوب کے طور پر ہے لہذا نظر لگانے والے کو اس بات پر طاقت کے ذریعہ مجبور کیا جاسکتا ہے کہ وہ نظر زدہ کے لئے مذکورہ وضو کرے نیز انہوں نے کہا ہے کہ اس حکم کی خلاف ورزی کرنا انسانیت سے بعید ہے خاص طور سے اس صورت میں جب کہ نظر زدہ کے ہلاک ہوجانے کا خوف ہو قاضی عیاض فرماتے ہیں کہ جو شخص نظر لگانے کے بارے میں مشہور و معروف ہوجائے تو اس سے اجتناب کرنا اور اس کے سامنے آنے میں احتیاط کرنا لازم ہے اور امام سربراہ حکومت کے لئے مناسب ہے کہ وہ ایسے شخص کو لوگوں میں آنے جانے اور بیٹھنے اٹھنے سے روک دے اور اس پر یہ پابندی عائد کر دے کہ وہ اپنے گھر میں ہی رہا کرے گھر سے باہر نہ نکلا کرے اور اگر وہ شخص محتاج و فقیر ہو کہ اپنی گزر و بسر کرنے کے لئے لوگوں کے پاس آنے جانے پر مجبور ہو تو بیت المال سرکاری خزانے سے اس کے لئے بقدر کفایت وظیفہ مقرر کر دے تاکہ وہ گزر اوقات کرسکے حاصل یہ کہ ایسے شخص کا ضرر جذامی کے ضرر سے بھی سخت و شدید ہے لہذا اس بارے میں احتیاط لازم ہے امام نووی نے اس قول کی تائید کی ہے اور کہا کہ یہ جو کچھ بیان کیا گیا ہے بالکل صحیح اور ناقابل بردید ہے کیونکہ اس کے متعلق علماء میں سے کسی کا بھی کوئی اختلافی قول ہمارے علم میں نہیں ہے

4458Mishkaat-al-Masabih

پناہ مانگنے کا ذکر

وعن أبي سعيد الخدري قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتعوذ من الجان وعين الإنسان حتى نزلت المعوذتان فلما نزلت أخذ بهما وترك سواهما . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب .

اور حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جنات سے اور انسان کا نظر بد سے پناہ مانگا کرتے تھے یہاں تک کہ معوذات یعنی سورت قل اعوذ برب الناس اور سورت قل اعوذبرب الفلق نازل ہوئیں جب یہ سورتیں نازل ہوئیں تو آپ ان سورتوں کے ذریعہ دعا مانگنے لگے اور ان کے علاوہ دوسری چیزوں سے پناہ مانگنی چھوڑ دی ( ترمذی ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔

4459Mishkaat-al-Masabih

پناہ مانگنے کا ذکر

وعن عائشة قالت قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم هل رئي فيكم المغربون ؟ قلت وما المغربون ؟ قال الذين يشترك فيهم الجن . رواه أبو داود . وذكر حديث ابن عباس خير ما تداويتم في باب الترجل .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا تمہارے اندر (یعنی انسانوں میں) میں مغربون دکھائی دیتے ہیں؟ میں نے عرض کیا مغربون کون ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔ مغربون وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ جنات یعنی شیاطین شریک ہوتے ہیں؟ (ابوداؤد) اور حضرت ابن عباس ؓ کی روایت خیر ما تداویتم الخ الترجل میں نقل کی جا چکی ہے۔ تشریح حدیث میں آیا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے جماع کرتے وقت اللہ کا ذکر نہ کرے یعنی یہ دعا نہ پڑھے بسم اللہ اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقنا تو اس پر شیطان اثر انداز ہوتا ہے بایں طور پر شیطان اس شخص کے نطفہ اور اس کے ہونے والی اور اس کے ستر سے اپنا ملا لیتا ہے اور اس کے ساتھ عورت سے جماع کرتا ہے اس طرح شیطان اس شخص کے نطفہ اور اس کے ہونے والی اولاد میں شریک ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں بھی فرمایا گیا ہے کہ آیت (وشارکہم فی الاموال والاولاد) اس سے معلوم ہوا کہ مغربون کے معنی ہیں وہ لوگ جو جماع کے وقت الٰہی سے روگردانی کرتے ہیں اور اپنے نفس کو ذکر حق سے دور کردیتے ہیں۔ یا وہ جماع کے وقت الٰہی سے غفلت اختیار کر کے اور گویا وظیفہ زوجیت میں شیطان کو اپنا شریک بنا کر اپنی پیدا ہونے والی اولاد کو اپنی جنس سے دور کردیتے ہیں اور اپنی نسل اور اپنے نسب میں گویا اجنبی خون کو شامل کرتے ہیں لہذا جماع کا وقت چونکہ سر شاری و غلفت کا وقت ہوتا ہے اس لئے اس موقع پر اختیاط و ہوشیاری اختیار کر کے ذکر الٰہی یعنی مذکورہ دعا پڑھنے سے چوکنا نہ چاہئے تاکہ اس بلاء و فتنہ سے محفوظ رہے۔ واضح رہے کہ آج کے ابناء روز گار (افراد انسانی میں) جو عام بےراہ روی، فتنہ و فساد اور مختلف قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں ان کا سبب اس حدیث کی روشنی میں بالکل ظاہر ہے کہ لوگوں نے عام طور پر مذکورہ ہدایت کو فراموش کر کے ذکر الٰہی کو ترک کردیا ہے جس کے نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ پیدا ہونے والی نسل پوری طرح شیطانی اثرات لئے ہوئے دنیا میں آتی ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں، شیطان کی شرکت کا مطلب یہ ہے کہ شیطان ان لوگوں کو زنا کی طرف راغب کرتا ہے اور ان کی نظر میں بدکاری کو اچھے سے اچھے روپ میں پیش کرتا ہے جس کی بنا پر وہ اس برائی میں مبتلا ہو کر نالائق اور غیر صالح او لاد کی پیدائش کا ذریعہ بنتے ہیں یا یہ شیطان ان لوگوں کی عورتوں و بیویوں کو زنا کی طرف مائل کرتا ہے اور ان کو غیر مردوں کے ساتھ ملوث کراتا ہے اور اس کے نتیجہ میں نالائق اولاد پیدا ہوتی ہے۔

4460Mishkaat-al-Masabih

معدے کی مثال

عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم المعدة حوض البدن والعروق إليها واردة فإذا صحت المعدة صدرت العروق بالصحة وإذا فسدت المعدة صدرت العروق بالسقم .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (آدمی کا) معدہ بدن کا حوض ہے اور پیٹ کی رگیں (جو اعضاء جسم سے پیوستہ ہیں) معدہ کی طرف (پانی پینے والے کی طرح) آتی ہیں جب معدہ درست ہوتا ہے تو یہ رگیں معدہ سے صحت بخش رطوبات کے ساتھ اعضاء کی طرف جاتی ہیں (جس سے بدن کو صحت و طاقت حاصل ہوتی ہے) اور جب معدہ خراب ہوتا ہے تو یہ رگیں فاسد رطوبات کے ساتھ اعضاء کی طرف جاتی ہیں (جس سے بدن کو بیماری اور ضعف لاحق ہوجاتا ہے )۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ انسان کے بدن اور اس کے معدہ کے درمیان وہی نسبت ہے جو پانی کے تالاب وغیرہ اور درخت کے درمیان ہے کہ جس طرح کسی تالاب کے کنارے یا پانی میں کھڑا ہوا درخت اپنے رگ و ریشہ کے ذریعہ پانی سے حیات بخش رطوبات حاصل کرتا ہے اسی طرح جسم انسانی مختلف رگوں کے ذریعہ اپنے معدہ سے صحت و طاقت کی رطوبات حاصل کرتا ہے چناچہ اگر پانی صاف و شیریں ہوتا ہے تو وہ درخت کی تازگی اور نشو و نما کا سبب بنتا ہے اور اگر پانی گدلا اور کھارا ہوتا ہے تو وہ درخت کی پژمزدگی وخش کی کا باعث بن جاتا ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حدیث کو طب نبوی پر محمول کیا جائے اس صورت میں مذکورہ بالا ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہوگا کہ انسان کے اقوال و افعال، کردار و عادات اور اخلاق واطوار اس کی غذا و خوراک کے مطابق ہوتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے پیٹ میں حرام غذا داخل ہوتی ہے تو اس کے اعضاء جسم سے حرام افعال و اقوال صادر ہوتے ہیں اسی طرح اگر کسی شخص کے پیٹ میں کھانے پینے کی فضول وغیرہ مناسب چیزیں جاتی ہیں تو اس کے جسم کے ہر چھوٹے بڑے عضو سے فضول و غیر مناسب افعال وغیرہ صادر ہوتے ہیں اس کے برخلاف جس شخص کے پیٹ میں حلال و پاک غذائیں جاتی ہیں اس کے اعضاء وجسم سے صالح و پاکیزہ افعال صادر ہوتے ہیں گویا انسان کی غذا اس کے افعال کا تخم ہے اور افعال بمنزلہ روئیدگی کے ہیں اور اس کے پیٹ میں جس طرح کی غذا جائے گی اس کے اعضاء سے اسی طرح کے افعال ظاہر ہوں گے جیسا کہ کہا گیا ہے۔ اناء یترشح بما فیہ یعنی ہر برتن سے وہی چیز ٹپکتی اور نکلتی ہے جو اس کے اندر ہوتی ہے۔ اسی لئے حق تعالیٰ فرماتا ہے۔ آیت (کلوا من الطبیت واعملوا صالحا)۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے من نبت لحمہ من سحت فالنار اولی بہ۔ بعض محدثین نے اس حدیث کے بارے میں کلام کیا ہے اور بعض نے تو اس کو موضوع من گھڑت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ لااصل لہ (یعنی اس حدیث کو کوئی اصل نہیں ہے) لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس حدیث کے بارے میں یہ کہنا کہ باطل ہے اور اس کی کوئی اصل نہیں ہے غیر صحیح بات کیونکہ تعدد طرق کے سبب اور طبرانی وبہیقی کی روایت کی بنا پر اس کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس بنا پر اس حدیث کو بلا شک و شبہ حسن یا ضعیف کہا جاسکتا ہے۔

4461Mishkaat-al-Masabih

بچھو کے کاٹے کا علاج

وعن علي قال بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات ليلة يصلي فوضع يده على الأرض فلدغته عقرب فناولها رسول الله صلى الله عليه وسلم بنعله فقتلها فلما انصرف قال لعن الله العقرب ما تدع مصليا ولا غيره أو نبيا وغيره ثم دعا بملح وماء فجعله في إناء ثم جعل يصبه على إصبعه حيث لدغته ويمسحها ويعوذها بالمعوذتين . رواهما البيهقي في شعب الإيمان .

اور حضرت علی ؓ کہتے ہیں کہ ایک روز رات میں رسول کریم ﷺ نے نماز پڑھتے ہوئے اپنا ہاتھ زمین پر رکھا تھا کہ اس (ہاتھ) کی انگلی میں بچھو نے کاٹ لیا، آپ ﷺ نے اپنی پاپوش مبارک کے ذریعہ اس بچھو کو مار ڈالا اور جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا کہ بچھو پر اللہ کی لعنت ہو، نہ نمازی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نمازی کو یا یہ فرمایا کہ نبی کو چھوڑتا ہے نہ غیر نبی کو اس کے بعد آپ ﷺ نے نمک اور پانی منگوایا اور دونوں کو ایک برتن میں گھول دیا اور پھر آپ ﷺ اس چیز کو (جو برتن میں تھی یعنی پانی اور نمک) کو انگلی کے اس حصے پر ڈالتے جاتے تھے جہاں بچھو نے کاٹا تھا اور انگلی کو ملتے جاتے تھے، نیز قل اعوذ برب الفلق اور قل اعوذ برب الناس پڑھتے جاتے تھے، ان دونوں روایتوں کو بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے۔

4462Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ کے موئے مبارک کی برکت

وعن عثمان بن عبد الله بن موهب قال أرسلني أهلي إلى أم سلمة بقدح من ماء وكان إذا أصاب الإنسان عين أو شيء بعث إليها مخضبه فأخرجت من شعر رسول الله صلى الله عليه وسلم وكانت تمسكه في جلجل من فضة فخضخضته له فشرب منه قال فاطلعت في الجلجل فرأيت شعرات حمراء . رواه البخاري .

اور حضرت عثمان بن عبداللہ بن موہب کہتے ہیں کہ ایک دن میرے گھر والوں نے مجھ کو پانی کا ایک پیالہ دے کر ام المؤمنین حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس بھیجا۔ معمول یہ تھا کہ جب کسی کو نظر لگتی یا اور کوئی بیماری ہوتی تو ام سلمہ ؓ کے پاس ایک پیالہ بھیجا جاتا اور ام سلمہ ؓ رسول پاک ﷺ کا موئے مبارک نکالتیں جس کو وہ چاندی کی ایک نلکی میں رکھتی تھیں اور اس موئے مبارک کو پانی میں ڈال کر ہلاتیں اور پھر مریض اس پانی کو پی لیتا جس کی برکت سے اللہ تعالیٰ اس کو شفا عطا فرما دیتا راوی کہتے ہیں کہ میں نے چاندی کی اس نلکی میں جھانک کر دیکھا تو مجھ کو آنحضرت ﷺ کے کئی سرخ بال نظر آئے۔! (بخاری) تشریح طیبی کہتے ہیں کہ اس موقع پر چاندی کا استعمال موئے مبارک کی تعظیم و توقیر کے پیش نظر تھا، جیسا کہ کعبہ مکرمہ پر ریشمی کپڑے کا پردہ ڈالا جاتا ہے۔ جہاں تک ان بالوں کی سرخی کا تعلق ہے تو ہوسکتا ہے کہ موئے مبارک خلقی طور پر سرخ ہی تھے۔ یا تھے تو بھورے مگر دیکھنے میں سرخ معلوم ہوتے تھے، یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ان پر مہندی کا خضاب ہوگا جس کی وجہ سے وہ سرخ تھے۔ یا چونکہ ان کو خوشبوؤں میں رکھا جاتا تھا اس لئے ان خوشبوؤں کی وجہ سے ان کا رنگ متغیر ہوگیا تھا۔ اور وہ سرخ نظر آنے لگتے تھے۔

4463Mishkaat-al-Masabih

کھنبی کے خواص

وعن أبي هريرة أن ناسا من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم قالوا لرسول الله الكمأة جدري الأرض ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الكمأة من المن وماؤها شفاء للعين والعجوة من الجنة وهي شفاء من السم . قال أبو هريرة فأخذت ثلاثة أكمؤ أو خمسا أو سبعا فعصرتهن وجعلت ماءهن في قارورة وكحلت به جارية لي عمشاء فبرأت . رواه الترمذي وقال هذا حديث حسن .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ کے صحابہ میں سے کئی حضرات نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کھنبی زمین کی چیچک ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (نہیں) بلکہ کھنبی من کی قسم سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے اور عجوہ (جو کھجور کی سب سے نفیس اور عمدہ قسم ہے) جنت کی کھجور ہے اور اس میں زہر سے شفا کی خاصیت ہے حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ (آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) میں نے تین یا پانچ یا سات کھنبیاں لیں اور ان کو نچوڑ لیا (یعنی کوٹ کر ان کا عرق نکال لیا) اور اس پانی (عرق) کو ایک شیشی میں بھر کر رکھ لیا پھر میں نے اس پانی کو اپنی ایک چندھی لونڈی کی آنکھوں میں ڈالنے لگا تو وہ اچھی ہوگئی۔ اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔ تشریح کھنبی زمین کی چیچک ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح چیچک کے دانے دراصل جسم میں پیدا ہوجانے والے ناقص، فضلات ہوتے ہیں جو جلد میں سے باہر نکل آتے ہیں، اسی طرح یہ کھنبی بھی زمین کا فضلہ ہے۔ جو زمین سے باہر نکل آتی ہے۔ صحابہ نے یہ بات گویا کھنبی کی مذمت کے طور پر کہی، لیکن آنحضرت ﷺ نے ان کے خیال کو رد کرنے کے لئے کھنبی کی فضیلت و تعریف اور اس کی منفعت بیان فرمائی کہ کھنبی من کی قسم سے ہے یعنی یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے جو اس نے اپنے بندوں کو بطور احسان عطا فرمائی ہے اس کو حاصل کرنے کے لئے نہ زمین کو کھودنے بونے کی مشقت کرنا پڑتی ہے اور نہ پانی دینے کے لئے محنت کرنی پڑتی ہے بلکہ یہ خود بخود زمین کے اندر سے پیدا ہوتی ہے اور بہت سے لوگوں کے کھانے اور پیٹ بھرنے کی ضرورت پوری کرتی ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ کھنبی کو اس من کے ساتھ مشابہت دی جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر اتری تھی، اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم پر ان کی محنت و مشقت کے بغیر من اترتی تھی اسی طرح یہ کھنبی بھی تخم ریزی کی محنت ومشقت کے بغیر زمین سے نکلتی ہے یہ قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ ایک روایت میں یہ فرمایا گیا ہے کہ الکمأۃ من المن والمن من الجنۃ یعنی کھنبی من کی قسم سے ہے اور من جنت کی نعمتوں میں سے ایک نعمت ہے۔ اور اس کا پانی آنکھ کے لئے شفا ہے کے بارے میں نووی لکھتے ہیں کہ بعض علماء کے نزدیک محض کھنبی کا پانی آنکھ کو شفا بخشتا ہے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس کا پانی اس صورت میں شفا دیتا ہے جب کہ اس میں آنکھ کے امراض کے مطابق دوسری دوائیں بھی ملائی جائیں، نیز بعضوں کے نزدیک یہ تفصیل ہے کہ اگر آنکھ کو گرمی سے ٹھنڈک پہنچانا مقصود ہو (یعنی آنکھ گرمی کی وجہ سے دکھتی ہو) تو صرف اس کا پانی ہی مفید ہے ورنہ دوسری صورتوں میں اس کے پانی کو دوسری دواؤں میں ملا کر آنکھ میں ڈالنا مفید ہوگا۔ لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ ہر صورت میں کہ آنکھ خواہ گرمی کی وجہ سے دکھتی ہو یا کسی اور وجہ سے محض اس کا پانی شفا بخش ہے، چناچہ بعض مشائخ کے بارے میں منقول ہے کہ اس کی بنیائی بالکل جاتی رہی تھی اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی ﷺ پر مکمل اعتقاد رکھتے ہوئے اور اس کو متبرک جانتے ہوئے اپنی آنکھوں میں محض کھنبی کا پانی ڈالنا شروع کیا، چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے حسن اعتقاد اور آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کی برکت کی بناء پر ان کی آنکھوں کو شفائے کامل عطا فرمائی۔

4464Mishkaat-al-Masabih

شہد کی فضیلت

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من لعق العسل ثلاث غدوات في كل شهر لم يصبه عظيم البلاء .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہر مہینے میں تین دن صبح کے وقت شہد چاٹ لیا کرے تو وہ کسی بڑی مصیبت میں مبتلا نہیں ہوتا۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ شہد کی برکت و خاصیت سے بڑی مصیبت و بلا تک دفع ہوجاتی ہے خواہ وہ کسی سخت بیماری کی صورت میں ہو یا کسی اور صورت میں چہ جائیکہ کوئی چھوٹی مصیبت و بلا ہو۔ سفر السعادۃ کے مصنف نے لکھا ہے کہ نبی کریم ﷺ روزانہ ایک پیالہ میں شہد کو پانی میں ملا کر گھونٹ گھونٹ نوش فرماتے تھے، علماء نے لکھا ہے کہ شہد کو پانی میں ملا کر پینے سے حفظان صحت وہ نعمت حاصل ہوتی ہے جس کی معرفت کی راہ عارفین ہی جان سکتے ہیں چناچہ شہد کے جو بیشمار فوائد و خواص ہیں ان کی بناء پر ارباب طب و تحقیق کا یہ فیصلہ ہے کہ شہد بلا شبہ ایک ایسی نعمت الہٰی ہے جس کا کوئی بدل نہیں ہوسکتا، جالینوس کا کہنا ہے کہ خالص طور پر بیماریوں کے لئے شہد بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ اطباء لکھتے ہیں کہ نہار منہ شہد کو پینا یا چاٹنا بلغم کو چھانٹتا ہے۔ معدے کو صاف کرتا ہے لزوجت اور فصلات کو دور کرتا ہے، معدے کو اعتدال کے ساتھ گرمی پہنچاتا ہے اور سدوں کو کھولتا ہے، علاوہ ازیں یہ جلندر، استرخاء اور ہر قسم کے ریاح کو زائل کرتا ہے، پیشاب، حیض اور دودھ کو جاری کرتا ہے مثانہ و گردہ کی پتھری کو توڑتا ہے اور رطوبت ردیہ کو دفع کرتا ہے۔

4465Mishkaat-al-Masabih

شہد کی فضیلت

وعن عبد الله بن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عليكم بالشفاءين العسل والقرآن . رواهما ابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان وقال والصحيح أن الأخير موقوف على ابن مسعود .

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ شفا دینے والی دونوں چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرلو، ایک تو شہد دوسرے قرآن۔ ان دونوں روایتوں کو ابن ماجہ اور بہیقی نے شعب الایمان میں نقل کیا ہے نیز بہیقی نے کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ دوسری حدیث (یعنی علیکم بالشائین) مرفوع (آنحضرت ﷺ کا ارشاد) نہیں ہے بلکہ ابن مسعود ؓ پر موقوف ہے یعنی ان کا اپنا قول ہے۔ تشریح شہد کی یہ فضیلت اس لئے ہے کہ اس میں شفا کا ہونا قرآن کریم سے ثابت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فیہ شفاء للناس۔ یعنی اس میں لوگوں کے لئے شفا ہے اور خود قرآن مجید بھی کائنات انسانی کے لئے شفاء و رحمت ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت (ھدی و شفاء الما فی الصدور) (یعنی یہ قرآن دلوں کی بیماریوں کے لئے ہدایت اور شفا ہے) لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ شہد تو محض ظاہری جسمانی بیماریوں کے لئے شفا ہے جب کہ قرآن کریم ظاہر و باطن یعنی جسم و روح دونوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے اسی لئے قرآن کریم کے حق میں ہدی وشفآء فرمایا گیا ہے۔

4466Mishkaat-al-Masabih

بلا ضروت سر پر پچھنے لگوانا قوت حافظہ کے لئے نقصان دہ ہے

وعن أبي كبشة الأنماري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم احتجم على هامته من الشاة المسمومة قال معمر فاحتجمت أنا من غير سم كذلك في يافوخي فذهب حسن الحفظ عني حتى كنت ألقن فاتحة الكتاب في الصلاة . رواه رزين .

اور حضرت ابوکبشہ انماری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس بیماری کے سبب کہ جو بکری کا زہر آلود گوشت کھا لینے کی وجہ سے لاحق ہوگئی تھی اپنے پر سینگی کھنچوائی۔ (حدیث کے ایک راوی) معمر کا بیان ہے کہ میں نے کوئی زہر آلود چیز کھائے بغیر اس طرح اپنے سر پر سینگی کھنچوائی، تو میں اپنے حافظہ کی خوبی سے محروم ہوگیا۔ یہاں تک کہ مجھ کو نماز میں الحمد سیکھنے کی ضرورت پیش آتی تھی!۔ (رزین ) تشریح اس سے معلوم ہوا کہ کسی علت و سبب کے بغیر کہ جو سر میں سے خون نکلوانے کو ضروری قرار دے، سر پر سینگی کھنچوانا اور خون نکلوانا قوت حافظہ کو نقصان پہنچانے کا باعث ہے۔