نظر بد کا لگنا ایک حقیقت ہے
وعن ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال العين حق فلو كان شيء سابق القدر سبقته العين وإذا استغسلتم فاغسلوا . رواه مسلم .
اور حضرت ابن عباس ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نظر بد حق ہے یعنی نظر لگنا ایک حقیقت ہے اگر تقدیر پر سبقت لے جانے والی کوئی چیز ہوتی تو وہ نظر ہی ہوتی اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے تو تم دھو دو۔ (مسلم )
تشریح
نظر حق ہے کا مطلب یہ ہے کہ دیکھنے والے کی نظر میں کسی چیز کا کھب جانا اور اچھا لگنا خواہ وہ چیز جاندار یعنی انسان و حیوان ہو، یا غیر جاندار جیسے مال و اسباب ہو اور پھر اس چیز پر دیکھنے والے کی نظر کا اثر انداز ہوجانا ایک ایسی ثابت شدہ حقیقت ہے جو تقدیر الہٰی سے متعلق ہے، چناچہ حق تعالیٰ نے سحر و جادو کی طرح بعضوں کی نظر میں یہ خاصیت رکھی ہے کہ جس چیز کو لگ جاتی ہے اس کی ہلاکت و تباہی اور نقصان کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اگر تقدیر الہٰی بر سبقت لے جانے والی کوئی چیز ہوتی کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی ہر چھوٹی بڑی چیز کا مرکز اور۔۔۔۔۔ و منبع، تقدیر الہٰی ہے کہ بڑی سے بڑی طاقت کا اثر و نفوذ بھی تقدیر الہٰی سے پابستہ ہے اور چھوٹے سے چھوٹے تک کی حرکت و سکون بھی تقدیر الہٰی کے بغیر ممکن نہیں، گویا کوئی چیز بھی تقدیر کے دائرہ سے باہر نکلنے کی طاقت نہیں رکھتی۔ اگر بالفرض کوئی چیز ایسی طاقت رکھ سکتی کہ وہ تقدیر کے دائرہ کو توڑ کر نکل جائے تو وہ نظر بد ہوتی کہ وہ تقدیر کو بھی پلٹ دیتی اور اس پر غالب آجاتی، گویا یہ بات اشیاء میں تاثیر نظر کی شدت اور اس کے سرعت نفوذ کو زیادہ سے زیادہ کے ساتھ بیان کرنے کے لئے فرمائی گئی ہے۔ اور جب تم سے دھونے کا مطالبہ کیا جائے۔ اس وقت عرب میں یہ دستور تھا کہ جس شخص کو نظر لگتی تھی اس کے ہاتھ پاؤں اور زیر ناف حصے کو دھو کر وہ پانی اس شخص پر ڈالتے تھے جس کو نظر لگتی تھی اور اس چیز کو شفا کا ذریعہ سمجھتے تھے اس کا سب سے ادنیٰ فائدہ یہ ہوتا تھا کہ اس ذریعہ سے مریض کا وہم دور ہوجاتا تھا۔ چناچہ رسول کریم ﷺ نے اس کی اجازت دی اور فرمایا کہ اگر تمہاری نظر کسی کو لگ جائے اور تم سے تمہارے اعضاء دھو کر مریض پر ڈالنے کا مطالبہ کیا جائے تو اس کو منظور کرلو اعضاء جسم کو اس مقصد کے لئے دھونے کا طریقہ دوسری فصل کے اخیر میں ذکر ہوگا۔۔ واضح رہے کہ جمہور علماء اہل حق کا مسلک تو یہی ہے کہ جاندار خواہ وہ انسان ہو یا حیوان اور اموال میں جائیداد وغیرہ میں نظر کی تاثیر یعنی نظر لگنے سے نقصان پہنچنا ثابت ہے جب کہ بعض لوگ جیسے معتزلہ وغیرہ اس کے منکر ہیں جیسا کہ وہ اموال وغیرہ میں دوا اور صدقہ و خیرات کی تاثیر کے قائل نہیں ہیں ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جس چیز کا وقوع پذیر ہونا مقدر میں لکھ دیا گیا ہو اس میں کسی اور چیز کا دخل نہیں ہے اور اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ تقدیر کے لکھے کو کوئی چیز متغیر نہیں کرسکتی۔ لیکن وہ لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ تقدیر عالم اسباب کے ساتھ کوئی تضاد و منافات نہیں رکھتی، چناچہ نظر کی تاثیر اور سببیت اس بناء پر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں اس طرح کی خاصیت رکھ دی ہے کہ وہ ہلاکت و نقصان کا سبب بن جائے علاوہ ازیں علماء اہل حق کے مسلک کی دلیل کے یہ ارشاد گرامی ﷺ العین الحق ہے کہ جب شارع (علیہ السلام) نے اس حقیقت کو واضح کردیا ہے کہ نظر کی تاثیر برحق ہے تو اس کا اعتقاد رکھنا واجب اور ضروری ہے۔ رہی بات یہ کہ نظر لگنے کی کیفیت و صورت کیا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے نظر زدہ کو نقصان و ضرر کیسے پہنچتا ہے تو اس سلسلے میں علماء نے مفصل بحث کی ہے اور لکھا ہے کہ اس سلسلے میں بعض ایسے لوگوں نے جن کی نظر عام طور پر کسی نہ کسی کو لگتی رہتی ہے بیان کیا کہ جب ہمیں کوئی چیز اچھی لگتی ہے اور ہم اس پر نظر ڈالتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہماری آنکھوں سے حرارت نکل رہی ہو، بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ نظر لگانے والے کی آنکھ سے ایک خاص قسم کی حرارت سمیہ نکلتی ہے جو ہوا میں مخلوط ہوجاتی ہے اور وہ ہوا پھر نظر زدہ تک پہنچتی ہے تو اس کے نقصان و ہلاکت کا باعث بن جاتی ہے جیسا کہ بعض قدیم محققین کے مطابق اس سانپ کی زہر کی کیفیت ہوتی ہے جو محض اپنی نظر کے ذریعہ زہر کو منتقل کرتا ہے کہ اس کی نظر جس پر بھی پڑجاتی ہے اس تک اس کا اثر پہنچ جاتا ہے اور وہ ہلاک ہوجاتا ہے حاصل یہ کہ دکھائی نہ دینے والی کوئی شئے نظر لگانے والے کی نظر سے تیر کی طرح روانہ ہوتی ہے اور اگر کوئی ایسی چیز درمیان میں نہ ہوتی ہے جیسے حرز و تعویز اور دوا وغیرہ تو وہ شئے نظر زدہ تک نہیں پہنچتی اور اس میں اثر و نفوذ نہیں کرتی بلکہ اگر وہ حرز و تعویز قوی و مضبوط قسم کا ہوتا ہے تو وہ شئے نظر لگانے والے ہی کی طرف پلٹ آتی ہے جیسا کہ اگر مقابل کے پاس سخت و مضبوط سپر ہوتا ہے تو تیر مارنے والے کا تیر سپر سے ٹکرا کر الٹا مارنے والے کو آ کر لگتا ہے، چناچہ حق تعالیٰ نے جس طرح بعض لوگوں کی نظر میں مذکورہ خاصیت و تاثیر پیدا کی ہے اسی طرح نفوس کاملہ یعنی اہل اللہ اور کاملین کو بھی اس نظر بد کے دفعیہ کی قوت اور اس میں تصرف کی طاقت عطا فرما دی ہے تاکہ وہ عوام کو دعا و تعویز کے ذریعہ نظر بد کے اثرات سے محفوظ رکھنے میں مدد دیں۔
حق تعالیٰ نے ہر مرض کا علاج پیدا کیا ہے
عن اسامۃ بن شریک قال قالوا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)افنتداوی قال رعم یا عباد اللہ تداورا فان اللہ لم یضع داء الا وضع لہ شفاء غیر داء واحد الھرم (رواہ احمد والترمذی و ابوداؤد)
حضرت اسامہ بن شریک ؓ کہتے ہیں کہ بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ہم بیماری میں دوا و علاج کریں؟ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اے اللہ کے بندوں دوا وعلاج کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری پیدا نہیں کی ہے جس کی شفا نہ رکھی ہو، علاوہ ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، )
تشریح
اے اللہ کے بندو! آنحضرت ﷺ نے صحابہ کو ان الفاظ سے مخاطب کر کے گویا اس طرف اشارہ کیا ہے کہ علاج معالجہ کرنا اور بیماری کو دور کرنے کے ذرائع اختیار کرنا عبودیت و توکل کے منافی نہیں ہے بشرطیکہ محض علاج پر ہی اعتماد بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ دوا علاج کو شفا کا صرف ایک ضروری سبب و ذریعہ سمجھو اور شافی حقیقی اللہ تعالیٰ ہی کو جانا جائے
مریض کو زبر دستی نہ کھلاؤ پلاؤ
وعن عقبة بن عامر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تكرهوا مرضاكم على الطعام فإن الله يطعمهم ويسقيهم . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث غريب .
اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے مریضوں کو زبردستی نہ کھلاؤ کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کھلاتا پلاتا ہے۔ (ترمذی، ابن ماجہ اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مریض کسی چیز کے کھانے پینے پر راضی نہ ہو تو اس کو وہ چیز زبردستی نہ کھلاؤ پلاؤ اور وہ چیز خواہ از قسم طعام ہو یا از قسم دوا۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہے جو جسم انسان کو طاقت بخشتی ہے اور اصل میں اس کی مدد کھانے پینے جیسی چیزوں کے فائدے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے گویا کسی بھی جاندار کا زندہ رہنا اور اس کو قوت و طاقت کا حاصل ہونا کھانے پینے پر منحصر نہیں ہے بلکہ قدرت الہٰی پر موقوف ہے۔ لہٰذا نفس کے کسی چیز میں مبتلا و مشغول ہونے کی وجہ سے اگر طبیعت کھانے پینے پر آمادہ نہ ہو تو کھانے پینے کے معاملہ میں زبر دستی نہ کرنی چاہئے۔ کیونکہ طبیعت و خواہش کے علی الرغم کھانا پینا فائدہ مند ہونے کی بجائے نقصان دہ ہوجاتا ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جسم و جان کی بقا کے لئے نظام قدرت و عادت انسانی کے تحت کوئی نہ کوئی ظاہری سبب ذریعہ ہونا چاہئے تو اس مقصد کے لئے وہ رطوبت بدن کافی ہوتی ہے جس کو فقدان غذا کی صورت میں حرارت غزیزی تحلیل کر کے بقاء جسم و جان کا ذریعہ بنا دیتی ہے۔
وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كوى أسعد بن زرارة من الشوكة . رواه الترمذي وقال هذا حديث غريب .
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے سعد ابن زرارہ کے جسم پر سرخ بادہ (کی بیماری کے علاج) کے لئے داغ دیا۔ اور اس روایت کو ترمذی نے نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
داغ دیا یعنی آپ ﷺ نے خود اپنے دست مبارک سے داغا یا کسی کو داغنے کا حکم دیا۔ یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ مذکورہ بیماری کے علاج کے لئے حضرت سعد ؓ کے جسم کے کس حصے پر داغ دیا گیا تھا۔
وعن زيد بن أرقم قال أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نتداوى من ذات الجنب بالقسط البحري والزيت . رواه الترمذي .
اور حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں ہدایت فرمائی کہ ہم ذات الجنب کی بیماری میں قسط بحری اور زیتون کے تیل کے ذریعہ علاج کریں۔ (ترمذی )
وعنه قال كان النبي صلى الله عليه وسلم ينعت الزيت والورس من ذات الجنب . رواه الترمذي .
اور حضرت زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ذات الجنب کے علاج کے لئے زیتون کے تیل اور ورس کی تعریف کیا کرتے تھے۔ (ترمذی)
تشریح
ورس ایک قسم کی گھاس کو کہتے ہیں جس کا رنگ زرد مائل بہ سرخ ہوتا ہے اور اس کے ریشے زعفران کی مانند ہوتے ہیں اور زعفران ہی کی طرح یہ گھاس بھی رنگنے کے کام آتی ہے ویسے اطباء نے مختلف بیماریوں کے لئے اس کے بہت فوائد بیان کئے ہیں۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ ذات الجنب کے علاج کے لئے ان دونوں چیزوں کا استعمال بطریق لدود یعنی منہ میں ٹپکانے کے ذریعہ ہوگا۔
وعن أسماء بنت عميس أن النبي صلى الله عليه وسلم سألها بم تستمشين ؟ قالت بالشبرم قال حار حار . قالت ثم استمشيت بالسنا فقال النبي صلى الله عليه وسلم لو أن شيئا كان فيه الشفاء من الموت لكان في السنا . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب . وشطره الأول
اور حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم کس چیز سے جلاب (مسہل) لیتی ہو، انہوں نے کہا شبرم سے آپ ﷺ نے فرمایا شبرم تو گرم ہے گرم۔ اسماء ؓ کہتی ہیں کہ پھر میں نے ثناء سے جلاب لیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی چیز میں موت سے شفاء ہوتی یعنی موت کا علاج کسی دوا میں ہوتا تو وہ ثناء ہوتی۔ (ترمذی، ابن ماجہ) اور ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
شبرم ایک گھاس ہے جو دست آور ہے، بعض حضرات نے کہا ہے کہ شبرم سے اس گھاس کے دانے مراد ہیں دو مسور کے برابر ہوتے ہیں اور اسہال کے لئے ان دانوں کو پانی میں جوش دے کر اس کو پیا جاتا ہے دونوں لفظ حار حار کے زبر اور راہ کی تشدید کے ساتھ ہیں، جیسا کہ مشکوٰۃ کے اکثر صحیح نسخوں اور اصل کتاب یعنی ترمذی وابن ماجہ میں نقل کیا گیا ہے، لیکن بعض حضرات نے دوسرے لفظ کو جیم کے ساتھ یعنی (جار) کو پہلے لفظ (حار) کا تابع مہمل قرار دیا ہے، جیسا کہ جب کسی لفظ کو زیادہ اہمیت و تاکید کے ساتھ بیان کرنا ہوتا ہے تو اس اصل لفظ کے بعد اس کے مناسب و ہم وزن کوئی دوسرا مہمل لفظ بول دیتے ہیں۔ جیسے پادر وادر اور پانی وانی وغیرہ، بہر صورت آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ گویا یہ واضح فرمایا کہ شبرم نہایت گرم ہے اور دست لانے کے لئے اس کو استعمال کرنا مناسب نہیں ہے چناچہ اطباء لکھتے ہیں کہ شبرم حار درجہ چار ہے اور چونکہ اس کا استعمال بہت زیادہ دست لاتا ہے اس لئے اس میں احتیاط شرط ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کے ذریعہ سناء کی فضیلت و تعریف کو بطور مبالغہ بیان فرمایا گیا ہے اور یہ واقعہ ہے کہ سناء اور خاص طور پر سناء مکی (جو زیادہ بہتر ہے) بڑی عجیب و غریب دوا ہے جس کے فوائد مشہور ہیں اور اطباء اس کو اکثر امراض میں شفا کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ اس میں کسی ضرر و نقصان کا خوف نہیں ہوتا یہ باعتدال ہے اور حار درجہ ایک ہے، صفرا، سودا اور بلغم کے اسہال و تنقیہ کے لئے بہترین چیز ہے اور جرم قلب کو بہت زیادہ طاقت و قوت بخشتی ہے، نیز اس کی جملہ خاصیتوں میں سے ایک بڑی خاصیت یہ بھی ہے کہ واسو اس سوداوی کے لئے فائدہ مند ہے۔
حرام چیزوں کے ذریعہ علاج معالجہ نہ کرو
وعن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله أنزل الداء والدواء وجعل لكل داء دواء فتداووا ولا تداووا بحرام . رواه أبو داود .
اور حضرت ابودرداء ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے بیماری بھی اتاری ہے اور دوا بھی اور ہر بیماری کے لئے دوا بھی اور ہر بیماری کے لئے دوا مقرر کی ہے لہٰذا تم دوا سے بیماری کا علاج کرو، لیکن حرام چیز سے دوا علاج نہ کرو۔ (ابوداؤد)
تشریح
حرام چیز سے مراد وہ شراب، خنزیر اور ان جیسی وہ چیزیں ہیں جن کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ (علاج معالجہ کے طور پر مطلق کسی بھی حرام چیز اور خاص طور پر شراب کو اختیار کرنے کی حرمت و کراہت کے سلسلے میں متعدد احادیث منقول ہیں۔ جن سے حرام چیزوں کے ذریعہ علاج معالجہ کرنے کی ممانعت ہی ثابت نہیں ہوتی بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایسی چیزوں کا استعمال قطعا لاحاصل رہے گا۔ کیونکہ ان کے ذریعہ حصول شفا ممکن نہیں، چناچہ حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری شفا ان چیزوں میں نہیں رکھی جن کو تمہارے لئے حرام قرار دیا گیا ہے، اسی طرح منقول ہے کہ ایک صحابی حضرت طارق جعفی ؓ نے نبی کریم ﷺ سے شراب بنانے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور جب انہوں نے کہا کہ میں دوا کے طور پر شراب استعمال کرنے کے لئے بناتا ہوں آنحضرت ﷺ نے فرمایا شراب دوا نہیں ہے بلکہ وہ درد و مرض ہے نیز آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ آیت (من تداوی بالخمر فلاشفاء اللہ)۔ یعنی جو شخص شراب کے ذریعہ علاج معالجہ کرے گا اللہ تعالیٰ اس کو شفاء نہیں دے گا۔ تاہم بعض فقہی روایت میں یہ اجازت دی گئی ہے کہ اگر کسی مرض کے بارے میں قابل اعتماد اور حاذق اطباء معالجین کا اس پر اتفاق ہو کہ اس کا علاج شراب کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے تو اس مرض میں شراب کے بطور دوا استعمال کرنا جائز ہے لیکن یہ بات بجائے خود تقریبا ناممکن ہوگی کیونکہ اول تو قابل اعتماد اور حاذق اطباء کا پایا جانا اور دوسرے ان اطباء کا اس بات پر اتفاق کرلینا کہ اس مرض کا علاج صرف شراب پر منحصر ہے کچھ آسان نہیں ہے۔
جس دوا کو طبیعت قبول نہ کرے وہ زیادہ کارگر نہیں ہوتی
وعن أبي هريرة قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الدواء الخبيث . رواه أحمد وأبو داود والترمذي وابن ماجه .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خبیث دوا سے منع فرمایا۔ (احمد، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ، )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایسی دوا استعمال کرنے سے منع فرمایا جو نجس و ناپاک یا حرام ہو یا خبیث سے وہ دوا مراد ہے جو بدمزہ اور بد بودار ہو کہ جس کے استعمال سے طبیعت نفرت کرتی ہے، چناچہ ایسی دوا ابھی بہتر نہیں سمجھی جاتی کیونکہ جس دوا کو طبیعت قبول نہیں کرتی اس کی افادیت کم ہوجاتی ہے اس اعتبار سے حدیث میں مذکورہ نفرت کا تعلق نہی تنزیہی سے ہوگا۔
سر اور پاؤں کے درد کا علاج
وعن سلمى خادمة النبي صلى الله عليه وسلم قالت ما كان أحد يشتكي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وجعا في رأسه إلا قال احتجم ولا وجعا في رجليه إلا قال اختضبهما . رواه أبو داود .
اور حضرت سلمی ؓ جو نبی کریم ﷺ کی خادمہ تھیں کہتی ہیں کہ جب ہم میں سے کوئی شخص نبی کریم ﷺ سے سر کی (ایسی) بیماری کی شکایت کرتا ( جس کا تعلق خون کی زیادتی و دباؤ سے ہوتا) تو آپ ﷺ فرماتے کھجری ہوئی سینگی گچواؤ اور جو شخص پاؤں کے درد کی شکایت کرتا یعنی ایسا درد جو گرمی حرارت کی بنا پر ہوتا تو آپ ﷺ فرماتے کہ پیروں پر مہندی لگا لو۔ (ابوداؤد)
تشریح
ویسے تو یہ حدیث مطلق ہے کہ اس کے حکم میں مرد عورت، دونوں شامل ہیں، لیکن بہتر یہ ہے کہ مرد صرف تلوؤں پر مہندی لگا لینے پر اکتفا کرے۔ اور ناخونوں پر لگانے سے اجتناب کرے تاکہ عورتوں کی مشابہت سے حتی الامکان اختراز ہونا چاہئے۔
وعنها قالت ما كان يكون رسول الله صلى الله عليه وسلم قرحة ولا نكبة إلا أمرني أن أضع عليها الحناء . رواه الترمذي .
اور حضرت سلمی ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے جسم کے کسی حصہ پر) جب بھی زخم آجاتا (خواہ وہ تلوار، چھری، یا اور کسی چیز کے کٹ جانے کی صورت میں ہوتا) یا پتھر اور کانٹے سے آپ ﷺ زخمی ہوجاتے تو مجھ کو حکم دیتے کہ میں اس زخم پر مہندی (کی چھٹس) رکھ دوں۔ (ترمذی)
تشریح
مہندی کی تاثیر چونکہ سرد ہے اور جلدی امراض کو نافع ہے اس لئے اس کی برودت زخم کی گرمی اور سوزش کو ختم کردیتی ہے۔
وعن أبي كبشة الأنماري أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحتجم على هامته وبين كفيه وهو يقول من أهراق من هذه الدماء فلا يضره أن لا يتداوى بشيء لشيء . رواه أبو داود وابن ماجه .
اور حضرت کبشہ انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنے سر مبارک پر اور اپنے دونوں مونڈہوں کے درمیان بھری ہوئی سینگیاں کھنچواتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ان خونوں میں سے کچھ نکال دیا کرے اور پھر وہ کسی بیماری کا علاج نہ کرے تو اس کو کوئی نقصان و ضرر نہیں پہنچے گا۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
احتمال ہے آپ ﷺ کبھی تو سر مبارک پر سینگی کھنچواتے ہوں گے اور کبھی دونوں مونڈہوں کے درمیان۔ اور یہ بھی احتمال ہے کہ ایک ساتھ دونوں جگہ سینگی کھنچواتے ہوں۔ ان خونوں میں سے کچھ نکال دیا کرے۔ سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خون سے مراد مذکورہ دونوں عضو کا خون ہے لیکن یہ بھی احتمال ہے کہ مطلق فاسد خون مراد ہو، یعنی جسم کے جس حصہ میں بھی فاسد خون جمع ہوگیا ہو اس کو نکلوا دینا چاہئے۔
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم احتجم على وركه من وثء كان به . رواه أبو داود .
اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے کو ل ہے پر بھری ہوئی سینگی کھنچوائی کیونکہ آپ ﷺ کے پائے مبارک پر موچ آگئی تھی۔ (ابوداؤد)
تشریح
وثاء واؤ کے زبر اور ثاء کے جزم کے ساتھ، اس درد اور چوٹ کو کہتے ہیں جو کسی عضو کو اس ہڈی ٹوٹے بغیر پہنچے جس کو ہماری زبان میں موچ کہا جاتا ہے۔
وعن ابن مسعود قال حدث رسول الله صلى الله عليه وسلم علن ليلة أسري به أنه لم يمر على ملأ من الملائكة إلا أمروه مر أمتك بالحجامة . رواه الترمذي وابن ماجه وقال الترمذي هذا حديث حسن غريب .
اور حضرت ابن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شب معراج کے واقعات بتاتے ہوئے یہ بھی بتایا کہ آپ ﷺ ملائکہ کی جس جماعت کے پاس سے گزرے اس نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ حکم دیا کہ آپ ﷺ اپنی امت کو پچھنے لگوانے کا حکم دیں۔ (ترمذی، ابن ماجہ)
تشریح
پچھنے کی یہ اہمیت و فضیلت اس بنا پر ہے کہ فساد خون کی وجہ سے بہت زیادہ امراض پیدا ہوتے ہیں جن کو امراض دموی کہتے ہیں، امراض دموی کا سب سے بڑا علاج خون نکلوانا ہے، نیز خون نکلوانے کے دوسرے طریقوں کی بہ نسبت پچھنے کو زیادہ پسند اس لئے بھی کیا گیا ہے کہ وہ خون کو نواحی جلد سے خارج کرتا ہے چناچہ تمام اطباء اس کے قائل ہیں کہ گرم آب و ہوا میں رہنے والوں کو فصد کے مقابلہ پر پچھنے لگوانا زیادہ مفید رہتا ہے کیونکہ ان لوگوں کا خون رقیق اور پختہ ہوتا ہے جو سطح بدن پر آجاتا ہے اور ظاہر ہے کہ اس خون کو پچھنے ہی کے ذریعہ سے نکالا جاسکتا ہے۔ نہ کہ فصد کے ذریعہ۔ امت سے مراد اہل عرب ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے یا امت سے آنحضرت ﷺ کی قوم و وطن کے لوگ مراد ہوسکتے ہیں، نیز یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہاں امت کا عام مفہوم مراد ہے، یعنی آنحضرت ﷺ کی پوری امت میں سے ہر وہ شخص مراد ہے جس کو خون نکلوانے کی ضرورت لاحق ہو۔
مینڈک کی دوا بنانے کی ممانعت
وعن عبد الرحمن بن عثمان أن طبيبا سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن ضفدع يجعلها في دواء فنهاه النبي صلى الله عليه وسلم عن قتلها . رواه أبو داود .
اور حضرت عبداللہ بن عثمان ؓ سے روایت ہے کہ کہ ایک طبیب نے نبی کریم ﷺ سے مینڈک کو دوا میں شامل کرنے کے بارے میں پوچھا کہ یہ درست ہے یا نہیں؟ تو نبی کریم ﷺ نے اس کو مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا۔ (ابو داؤد)
تشریح
مینڈک کے مارنے سے منع فرمایا کا مطلب یہ ہے کہ مینڈک کو مار ڈالنے اور پھر اس کو دوا میں شامل کرنے سے منع فرمایا اس وضاحت سے سوال و جواب کے درمیان مطابقت ہوجاتی ہے اس بات کی تائید اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو جامع میں منقول ہے کہ نھی عن القتل الصفدع للدواء یعنی آنحضرت ﷺ نے دوا بنانے کے لئے مینڈک مارنے سے منع فرمایا۔ قاضی کہتے کہ آنحضرت ﷺ کا مینڈک کے مارنے سے منع کرنا شاید اس بناء پر تھا کہ آپ ﷺ نے مینڈک کی دوا بنانے کو مناسب نہیں سمجھا یا تو مینڈک کے نجس و حرام ہونے کی وجہ سے تھا کہ نجس و حرام چیزوں کے ذریعہ علاج کرنا جائز نہیں ہے یا اس لئے مناسب نہیں سمجھا کہ مینڈک سے طبیعت کراہت و تنفر محسوس کرتی ہے اور جس چیز سے طبیعت نفرت کرے اس کو دوا کے طور پر استعمال کرنا لاحاصل ہے اور یہ کہ طبیب نے مینڈک میں جو فوائد سمجھے ہوں گے اس کے مقابلہ پر آنحضرت ﷺ نے اس کی مضرت زیادہ دیکھی ہوگی اس لئے آپ ﷺ نے اس کی دوا بنانے کو مناسب نہیں سمجھا۔
آنحضرت ﷺ کے پچھنے لگوانے کا ذکر
وعن أنس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يحتجم في الأخدعين والكاهل . رواه أبو داود وزاد الترمذي وابن ماجه وكان يحتجم سبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين .
اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ گردن کی دونوں رگوں میں مونڈھوں کے درمیان بھری ہوئی سینگی کھنچواتے تھے (ابو داؤد )۔ ترمذی اور ابن ماجہ نے یہ عبارت بھی نقل کی ہے کہ اور آنحضرت ﷺ سترھویں انیسوی اور اکیسویں تاریخ کو سینگی کھنچواتے تھے۔
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يستحب الحجامة لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين . رواه في شرح السنة . ( حسن )
اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سترھویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو سینگی کھنچوانا ناپسند فرماتے تھے۔ (شرح السنۃ )
وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من احتجم لسبع عشرة وتسع عشرة وإحدى وعشرين كان شفاء له من كل داء . رواه أبو داود .
اور حضرت ابوہریرہ ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص سترھویں، انیسویں اور اکیسویں تاریخ کو سینگی کھنچوائے گا اس کو ہر بیماری سے شفا ہوتی ہے۔ (ابو داؤد )
وعن كبشة بنت أبي بكرة أن أباها كان ينهى أهله عن الحجامة يوم الثلاثاء ويزعم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يوم الثلاثاء يوم الدم وفيه ساعة لا يرقأ . رواه أبو داود .
اور حضرت کبشہ بنت ابی بکرہ ؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ اپنے گھر والوں کو منگل کے دن سینگی لگوانے سے منع کرتے تھے اور رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے تھے کہ منگل کا دن خون کے غلبہ کا دن ہے اور اس دن ایسی گھڑی آتی ہے خون بند نہیں ہوتا (لہٰذا اس دن خون نکلوانے کی صورت میں یہ ہوسکتا ہے کہ وہی گھڑی پڑجائے اور خون رکنے کا نام نہ لے جس سے ہلاکت بھی واقع ہوسکتی ہے )۔ (ابو داؤد )
وعن الزهري مرسلا عن النبي صلى الله عليه وسلم من احتجم يوم الأربعاء أو يوم السبت فأصابه وضح فلا يلومن إلا نفسه . رواه أحمد وأبو داود وقال وقد أسند ولا يصح .
اور حضرت زہری تابعی نبی کریم ﷺ سے بطریق ارسال نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص ہفتہ کے دن یا بدھ کے دن سینگی کھنچوائے اور پھر اس کو کوڑھ کی بیماری لگ جائے تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے (ابوداؤد، احمد) ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ حدیث (ایک روایت میں) مسند بیان کی گئی ہے، (یعنی وہ روایت راویوں کے اعتبار سے متصل ہے اور وہ اسناد صحیح نہیں ہے )۔
تشریح
اگرچہ اس دوسری روایت مسند کو صحیح نہیں کہا گیا ہے لیکن اس کے ذریعہ اس مرسل حدیث کو تقویت و تائید حاصل ہوتی ہے اور ویسے بھی مرسل حدیث حنفیہ اور دیگر اصحاب جرح تعدیل کے نزدیک حجت (یعنی قابل عمل ہوتی ہے )۔