طب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 141 · 97 hadiths · Page 4 of 5

4467Mishkaat-al-Masabih

سینگی کھنچوانے کے دن

وعن نافع قال قال ابن عمر يا نافع ينبغ بي الدم فأتني بحجام واجعله شابا ولا تجعله شيخا ولا صبيا . وقال ابن عمر سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول الحجامة على الريق أمثل وهي تزيد في العقل وتزيد في الحفظ وتزيد الحافظ حفظا فمن كان محتجما فيوم الخميس على اسم الله تعالى واجتنبوا الحجامة يوم الجمعة ويوم السبت ويوم الأحد فاحتجموا يوم الاثنين ويوم الثلاثاء واجتنبوا الحجامة يوم الأربعاء فإنه اليوم الذي أصيب به أيوب في البلاء . وما يبدو جذام ولا برص إلا في يوم الأربعاء أو ليلة الأربعاء . رواه ابن ماجه .

اور حضرت نافع ؓ کہتے ہیں کہ (ایک دن) حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ نافع ؓ میرے جسم میں خون جوش کھا رہا ہے۔ ذرا تم سینگی کھنچنے والے کو بلا لاؤ، لیکن جوان آدمی کو لانا، کسی بوڑھے یا بچے کو مت پکڑ لانا (کیونکہ طاقت ور آدمی زیادہ اچھی طرح سینگی کھنچے گا) نافع ؓ کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ بھری ہوئی سینگی نہار منہ کھنچوانا زیادہ بہتر ہے اس سے عقل میں زیادتی ہوتی ہے (جس شخص کے حافظہ نہیں ہوتا) اس کے حافظہ تیز ہوتا ہے اور جس شخص کے حافظہ تیز ہوتا ہے اس کے حافظہ میں زیادتی ہوتی ہے، لہٰذا جو شخص سینگیاں کھنچوانا چاہے وہ اللہ تعالیٰ کا نام لے کر جمعرات کے دن سینگی کھنچوائے اور جمعہ، ہفتہ اور اتوار کو سینگی کھنچوانے سے اجتناب کرو، پھر پیر اور منگل کے دن کھنچوائے اور بدھ کے دن سینگی کھنچوانے سے اجتناب کرو، کیونکہ بدھ کا دن وہ دن ہے جس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) مبتلائے بلاء ہوئے اور جذام یا کوڑھ کی بیماریاں بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں ظاہر ہوتی ہیں۔ (ابن ماجہ) تشریح جس میں حضرت ایوب (علیہ السلام) مبتلائے بلا ہوئے سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ایوب (علیہ السلام) کا بلاء میں مبتلا رہنا اسی سبب سے تھا کہ انہوں نے بدھ کے دن سینگی کھنچوائی تھی اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ مفسرین نے اس کے مبتلائے بلاء ہونے کے اور بھی اسباب بیان کئے ہیں۔ تو ہوسکتا ہے کہ ان اسباب میں سے ایک سبب یہ بھی ہوگا۔ علماء نے لکھا ہے کہ دوسری فصل میں حضرت کبشہ بنت ابی بکرہ ؓ کی جو روایت گزری ہے تو اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ منگل کے دن سینگی کھنچوانا مناسب نہیں ہے جب کہ یہاں اس کے برخلاف بیان کیا گیا ہے۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے درمیان اس تضاد کو اس قول کے ذریعہ دور کیا جاسکتا ہے کہ اگر حضرت کبشہ ؓ کی روایت کو صحیح مان لیا جائے تو یہاں نقل کی گئی روایت میں منگل سے مراد وہ منگل ہوگا۔ جو چاند کی سترھویں تاریخ کو واقع ہوتا ہو جیسا کہ آگے آنے والی روایت سے واضح ہوتا ہے۔ روایت کے آخری الفاظ کے ذریعہ جو حصر بیان کیا گیا ہے کہ جذام اور کوڑھ کی بیماریاں صرف بدھ کے دن یا بدھ کی رات میں پیدا ہوتی ہیں تو یہ حصر اکثر کے اعتبار سے اور از راہ مبالغہ ہے۔

4468Mishkaat-al-Masabih

سینگی کھنچوانے کے دن

وعن معقل بن يسار قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحجامة يوم الثلاثاء لسبع عشرة من الشهر دواء لداء السنة . رواه حرب بن إسماعيل الكرماني صاحب أحمد وليس إسناده بذاك هكذا في المنتقى . وروى رزين نحوه عن أبي هريرة .

اور حضرت معقل بن یسار ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ منگل کے دن سترھویں تاریخ کو سینگی کھنچوانا سال بھر کی بیماریوں کا علاج ہے اس روایت کو حرب بن اسماعیل کرمانی نے نقل کیا ہے جو امام احمد بن حنبل کے مصاحب ہیں اور روایت کی اسناد ایسی قوی نہیں ہے کہ اس پر اعتماد کیا جاسکے (ابن جارود) منتقی میں بھی اسی طرح منقول ہے، نیز اسی طرح کی روایت رزین نے بھی حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کی ہے۔ تشریح منگل کے دن سینگی کھنچوانے کے سلسلے میں چوں کہ مختلف روایتیں منقول ہیں اس لئے زیادہ بہتر اور مناسب یہی ہے کہ منگل کے دن سینگی کھنچوانے سے اجتناب کیا جائے۔ تاوقتیکہ کوئی شدید ضرورت پیش آئے۔

4469Mishkaat-al-Masabih

سحر کے احکام

اس باب میں منتر و افسوں اور جھاڑ پھونک وغیرہ کے متعلق احکام و مسائل بیان ہوئے ہیں اب جب کہ باب ختم ہو رہا ہے، ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کی مناسبت سے سحر و جادو کے احکام و اقسام کے سلسلے میں کچھ تفصیل بیان کردی جائے اس مقصد کے لئے خاص طور حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلوی کے منقولات کو منتخب کیا گیا ہے جو انہوں نے آیت کریمہ (وَاتَّبَعُوْا مَا تَتْلُوا الشَّيٰطِيْنُ ) 2۔ البقرۃ 102) کے تحت سحر کے اقسام و احکام کی وضاحت میں بیان کئے ہیں ان معقولات و فرمودات کا ترجمہ و خلاصہ اور اس کی روشنی میں چند دوسری باتیں نقل کی جاتی ہیں۔ جاننا چاہئے کہ سحر کے حکم کی مختلف صورتیں ہیں اگر سحر کرنے والے نے کوئی ایسا قول و فعل اختیار کیا جو کفر کا موجب ہو جیسے بتوں، دیوی، دیوتاؤں اور ارواح خبیثہ کا نام ایسی تعظیم وصفت کے ساتھ ذکر کیا گیا ہو جو صرف رب العزت ہی کے شایان شان ہے مثلا ان بتوں وغیرہ کے لئے عموم علم، قدرت و تصرف اور غیب دانی و مشکل کشائی وغیرہ ثابت کی گئی ہو، یا غیر اللہ کے لئے ذبح کیا گیا ہو، غیر اللہ کے لئے سجدہ کیا گیا ہو وغیرہ وغیرہ تو ایسا سحر بلا شبہ کفر ہوگا اور اس سحر کو کرنے والا مرتد قرار پائے گا اسی طرح جس شخص نے اپنے کسی مطلب کے حصول کے لئے اس طرح کا سحر دیدہ دانتسہ کرایا ہوگا تو وہ بھی کافر ہوجائے گا اور اس پر ارتداد کے احکام نافذ ہوں گے، اگر وہ مرد ہے تو پہلے اس کو تین دن کی مہلت دینی چاہئے اگر تین دن کے بعد اس نے صحیح توبہ نہ کی تو اس کو مار ڈالا جائے اور اس کی لاش کو پھینک دیا جائے نہ مسلمان میت کی طرح اس کی تجہیز وتکفین کی جائے نہ اس کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے اور نہ فاتحہ و درود و صدقات کے ذریعہ ایصال ثواب کیا جائے اور اگر وہ عورت ہے تو حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق اس کو بھی مردوں کی طرح تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیا جائے اور جب کہ حضرت امام اعظم کے نزدیک عورت کو ہمیشہ کے لئے قید میں ڈال دیا جائے جب تک کہ وہ توبہ نصوح نہ کرے۔ اور اگر سحر میں کوئی ایسا قول وفعل نہ ہو ارتداد و کفر کا موجب ہوتا ہے، لیکن سحر کرنے والا اس بات کا دعوی کرے کہ میں اپنے اس جادو کے زور سے وہ کام کرسکتا ہوں جو اللہ کرتا ہے۔ مثلا میں انسان کو جانور کی صورت میں تبدیل کرسکتا ہوں یا لکڑی کو پتھر اور پتھر کو لکڑی بنا سکتا ہوں یا ایسے کام کرسکتا ہوں جو پیغمبر کرسکتے ہیں اور ان معجزات کی طرح میں بھی معجزہ دکھا سکتا ہوں مثلاً میں ہوا میں اڑ سکتا ہوں یا ایک مہینے کی مسافت ایک لمحے میں طے کرسکتا ہوں تو اس کو بھی اس دعوے کی وجہ سے مرتد و کافر قرار دیا جاسکتا ہے نہ کہ نفس سحر کے سبب۔ اگر وہ یوں کہے کہ میرے عملیات میں ایک خاصیت ہے اور وہ یہ کہ میں اپنے عمل جادو کے ذریعہ کسی جاندار کو جان سے مار سکتا ہوں، یا کسی تندرست کو بیمار اور بیمار کو تندرست کرسکتا ہوں یا میں لوگوں کے خیالات تک کو اچھا یا برا بنا سکتا ہوں تو اس کا یہ سحر جھوٹ بولنے اور فسق اختیار کرنے کے حکم میں ہوگا اور وہ (سحر کرنے والا) فاسق و کا ذب قرار پائے گا اور وہ اپنے اس عمل (سحر) کے ذریعہ کسی بےگناہ کو ہلاک کر ڈالے تو اس کو قزاق اور قاتل کی طرح سزائے موت دے کر مار ڈالا جائے کیونکہ وہ اپنے اس عمل کے ذریعہ فتنہ و فساد پھیلانے اور بےگناہوں کو ہلاکت میں ڈالنے کا مجرم قرار پائے گا۔ اس بارے میں ساحر اور ساحرہ کے درمیان کوئی فرق نہیں کیا جائے گا۔ ایک روایت میں حضرت امام اعظم ابوحنیفہ سے یہ منقول ہے کہ جس شخض کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ وہ سحر کرتا ہے اور اقرار و تنبیہ کے ذریعہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جائے تو اس کو مار ڈالنا چاہئے اس سے توبہ کا مطالبہ کرنے یا مہلت دینے کی ضرورت نہیں ہے اگر وہ کہے کہ میں سحر کو ترک کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں تو اس کی بات کو قبول نہ کرنا چاہئے۔ ہاں اگر وہ یوں کہے کہ میں پہلے تو بیشک سحر کرتا تھا مگر ایک مدت سے اپنے فعل سے باز آگیا ہوں تو اس کے اس قول کو قبول کرلیا جائے اور اس کو معاف کردیا جائے۔ حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے سحر کیا اور اس کے سحر کی وجہ سے سحر زدہ مرگیا تو ساحر سے جواب طلب کرنا چاہئے اگر وہ اقرار کرے کہ میں نے اس شخص پر سحر کیا تھا اور میرا سحر اکثر اوقات جان لے لیتا ہے تو اس پر قصاص واجب ہوگا اور اگر یہ کہے کہ میں نے اس شخص پر سحر کیا تھا اور میرا سحر کبھی جان لے لیتا ہے اور کبھی جان نہیں لیتا ہے تو یہ قتل عمد کے حکم میں ہوگا اور اس پر شبہ عمد کے احکام نافذ ہوں گے اور اگر وہ یوں کہے کہ سحر تو میں نے کسی دوسرے شخص کے لئے سحر کیا گیا تھا اور اس وجہ سے اس کا اثر اس شخص پر ہوگیا اور یہ ہلاک ہوگیا تو یہ قتل خطاء کے حکم میں ہوگا اور اس ( ساحر) پر قتل خطاء کے احکام نافذ ہوں گے اس موقع پر ایک اشکال واقع ہوتا ہے جو اکثر ذہنوں میں خلجان پیدا کرسکتا ہے اور وہ یہ کر خرق عادت افعال کہ جو محض قدرت الٰہی سے صادر ہوتے ہیں اکثر اولیاء اللہ کے ذریعہ ظہور میں آتے ہیں جیسے تقلیب اعیان یا تبدیلی صورت یا اسی طرح کے وہ افعال جو پیغبروں کے معجزات کے مشابہ ہوتے ہیں جیسے مردہ کو زندہ کردینا یا دور دراز کے سفر کو ایک لمحہ میں طے کرلینا علاوہ ازیں اولیاء اللہ سے اسی طرح کی اور بہت سی چیزوں کا صادر ہونا ثابت جن کو ان اولیاء اللہ کے مستند سوائح نگاروں نے ان کے مناقب و کرامت کے ضمن میں لکھا ہے۔ لہٰذا اگر افعال الہٰی کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے تو ان اولیاء اللہ سے صادر ہونے والے خرق عادت افعال کی صورت میں بھی کفر لازم آنا چاہئے اور اگر یہ کہا جائے کہ اولیاء اللہ سے جو خرق عادت فعل ہونے کا ایک ظاہری سبب و ذریعہ بنتے ہیں اس لئے ان پر کفر کا اطلاق نہیں ہوتا تو پھر ساحروں کے حق میں کفر کا حکم کیوں کیا جاتا ہے کیونکہ وہ بھی ان افعال کے صادر ہونے کا ظاہری سبب و ذریعہ ہی تو ہوتے ہیں نہ کہ حقیقی فاعل بلکہ علاوہ ازیں دعا تعویذ کرنے والے اور عاملین کہ جو اپنے کہ جو اپنے عملیات اور دعاؤں کے ذریعہ ساحروں کی طرح کتنے ہی محیر العقول کارنامہ انجام دیتے ہیں اور اس طرح وہ بھی گویا پوری طرح ساحروں کے مشابہ ہوتے ہیں تو ان کے افعال پر بھی کفر کا اطلاق کیوں نہیں ہوتا اور ان کے اور ساحروں کے درمیان فرق کیوں کیا جاتا ہے؟ اس اشکال کا جواب یہ ہے کہ خرق عادت افعال خواہ وہ معجزات کے مشابہ ہوتے ہیں اور خواہ کسی اور طرح کے ہوں سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور اسی ارادہ و حکم سے اور اسی کے پیدا کرنے سے صادر و ظاہر ہوتے ہیں اس اعتبار سے اولیاء اللہ سے جو چیزیں (کرامت کی صورت میں) صادر ہوتی ہیں وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے حکم و ارادہ سے ظہور میں آتی ہیں اور جو چیزیں ساحروں سے صادر ہوتی ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے حکم و ارادہ ہی سے پیدا ہوتی ہیں، لیکن ان دونوں صورتوں میں جو فرق ہے اور جس فرق کی وجہ سے کفر اور عدم کفر کا حکم لگتا ہے وہ یہ ہے کہ اولیاء اللہ یا دعا تعویذ کرنے والے اور عاملین ان افعال کی نسبت غیر اللہ کی طرف نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کی قدرت یا اس کے اسماء پاک کے خواص کی طرف کرتے ہیں اسی لئے ان پر کفر و شرک کا اطلاق نہیں ہوتا، جب کہ ساحر ان افعال کو غیر اللہ، یعنی ارواح خبیثہ، دیوی دیوتاؤں، بتوں کے نام اور منتروں کے خواص کی طرف کرتے ہیں اسی لئے وہ ان افعال کو اپنے قبضہ و قابو اور اپنے زیر حکم جانتے ہیں اور ان افعال کے عوض اجرت لیتے ہیں، بھینٹ چاہتے ہیں، ان دیوی دیوتاؤں اور بتوں کے نام پر نذر کرنے اور قربانی دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور ظاہر ہے یہ چیزیں شرک و کفر لازم کرتی ہیں، اس کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی کو بچہ عطا ہونا، رزق میں وسعت وفراخی ملنا اور مریض کا شفایاب ہونا وغیرہ امور اللہ تعالیٰ کے افعال ہیں اور اسی کے حکم و ارادہ کے تحت ہیں لیکن گمراہ لوگ ان کی نسبت ارواح خبیثہ، دیوی، دیوتاؤں اور پیروں فقیروں وغیرہ کی طرف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے فلاں دیوی دیوتا سے بچہ مانگا تھا تو اس نے ہمیں بچہ دیا ہم نے فلاں کی روح کے نام پر بھینٹ چڑھائی تھی تو اس نے ہمیں رزق میں وسعت دی اور ہم نے فلاں بزرگ و فقیر سے درخواست کی تھی اور اس مقصد کے لئے ان کے مزار پر نذرانے چڑھائے تھے تو انہوں نے ہمیں شفا دی۔ گویا ان کے نزدیک ان چیزوں کا دینے والا اللہ تعالیٰ نہیں بلکہ غیر اللہ ہوتا ہے، لہٰذا ایسے لوگ کافر ہوجاتے ہیں اس کے برخلاف اللہ کو ماننے والے اور اس کے احکام پر عمل کرنے والے لوگ اگر ان چیزوں کے لئے جائز ذرائع و اسباب، جیسے دعا، تعویذ، جھاڑ پھونک یا علاج معالجہ کا سہارا لیتے ہیں اور ان کو اپنے مقصد میں کامیابی ہوتی ہے تو ان امور کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہیں اور یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمیں جو چیز ملی ہے وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملی ہے البتہ اس کے حصول میں اسماء الہٰی دعاؤں اور تعویذ گنڈے کی تاثیر یا دوا کے خواص ایک ظاہری سبب و ذریعہ کا درجہ رکھتے ہیں اس بناء پر ان کے ایمان میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوتا۔

4470Mishkaat-al-Masabih

سحر کی تعریف وحقیقت

اس موقع پر یہ بتادینا ضروری ہے کہ سحر کی تعریف و حقیقت کیا ہے اور یہ سحر کی کونسی قسم موجب کفر ہے کونسی موجب فسق ہے اور کونسی قسم مباح ہے یعنی شریعت میں جائز ہے؟ اس کی تفصیل اگرچہ بہت طویل ہے لیکن اجمالی طور پر اتنا سمجھ لینا چاہئے کہ سحر کی حقیقت و تعریف یہ ہے دعاؤں اور اسماء الہٰی کے عملیات وغیرہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد طاقت حاصل کرنے کی بجائے خفیہ اسباب کی مزاولت (یعنی مخفی طاقتوں کی پرستش وجہیہ سائی اور ان کی تسخیر) کے ذریعہ خوارق عادات اور افعال عجیبیہ پر قدرت حاصل کرنا اور ان خوراق عادات اور افعال عجیبیہ کی نسبت قادر مطلق پروردگار عالم کی طرف کرنے کی بجائے غیر اللہ یعنی ان مخفی طاقتوں یا اپنی ذات کی طرف کرنا۔ اور چونکہ عالم میں اسباب خفیہ کئی طرح کے ہیں اس لئے سحر کی قسمیں بھی متعدد ہیں جن کو منضبط طور پر یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ وہ خفیہ سبب یا تو روحانیت کی تاثیر ہے، یا جسمانیت کی تاثیر پھر روحانیت یا تو کلیہ مطلق ہیں جیسے کواکب و افلاک یا عناصر کی روحانیت، یا وہ روحانیت جزیہ خاصہ ہیں جیسے امراض اور جن و شیاطین کی روحانیات اور وہ ارواح جو جسم انسانی سے نکل کر جاتی ہیں اور جن کو مسخر کر کے اپنے مقصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جہاں تک جسمانیات کا تعلق ہے تو وہ جسمانیات یا تو ترکیب اور اجتماع کیفیات کے سبب سے تاثیر کرتے ہیں جس سے عجیب و غریب باتیں ظہور میں آتی ہیں یا خواص کے سبب سے تاثیر کرتے ہیں یعنی ان کی صورت نوعیہ کسی ترکیب اور اجتماع کیفیات کے توسط کے بغیر خود بخود تاثیر کرتی ہے جس طرح کہ مقناطیس لوہے کو کھینچتا ہے۔ رہی یہ بات کہ ان روحانیات یعنی ان پوشیدہ ومخفی طاقتوں سے مناسبت کیونکر حاصل ہوتی ہے اور ان کی تاثیر کو کس طرح مائل کیا جاتا ہے تو اس کے مختلف طریقے ہیں، بعض لوگ چند مخصوص شرائط کے ساتھ ان روحانیت کا نام جپتے ہیں اور حصول مقصد کے لئے ان سے ملتجی ہوتے ہیں بعض لوگ ان کی تصویر بنا کر اس کے سامنے نذر بھینٹ چڑھاتے ہیں اور وہ کام کرتے ہیں جو ان کو مرغوب ہوسکتے ہیں، یا مخصوص طریقہ اور مخصوص شرائط کے ساتھ کچھ حروف والفاظ بلالحاظ ترکیب پڑھتے ہیں جن کے ذریعہ وہ ارواح میں سے کسی روح کی بڑائی کی طرف یا ایسے عجیب و غریب فعل کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو اس سے کبھی سرزد ہوا تھا اور جس کی وجہ سے عام وخاص اس کی مدح وثناء میں رطب اللسان ہوئے تھے، غرضیکہ سحر کرنے کی مختلف عملیات اور مختلف صورتیں ہیں اور ان عملیات اور صورتوں کے نتیجہ میں سحر کی متعدد اور کثیر قسمیں سامنے آتی ہیں، لیکن جو قسمیں زیادہ مشہور ہیں وہ چند ہیں اور ان میں پہلی قسم جو سب سے بڑی قسم سمجھی جاتی ہے کلدانیوں اور بابل کا سحر ہے اور اسی کو باطل کرنے کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) مبعوث ہوئے تھے اس سحر کے علم کی اصل ہاروت وماروت سے چلی ہے کہا جاتا ہے کہ بابل کے لوگ ہاروت و ماروت سے اس سحر کا علم اور طریقہ سیکھتے تھے اور پھر اس کے ذریعہ اپنے مقصد حاصل کیا کرتے تھے، نیز انہوں اس میں مختلف تحقیق و تجربے کئے تھے اور اس کے علم کو بہت وسیع و ہمہ گیر بنایا، اسی طرح کلدانیین، جو بابل میں سکونت رکھتے تھے اس علم کے حصول کے لئے مختلف محنت و جستجو میں لگے رہتے تھے اور اس کے ذریعہ نت نئی چیزیں پیدا کرتے تھے۔ تاریخ کی معتبر کتابوں میں لکھا ہے کہ بابل کے حکماء اور اس فن کے ماہرین نے نمرود کے زمانہ میں اپنے شہر بابل میں کہ جو نمرود کا دارالسلطنت تھا اس سحر کے ذریعہ ایسے چھ ہوشربا اور محیر العقول طلسمات بنا رکھے تھے، جن کی حقیقت و کیفیت جاننے سے انسان کی عقل و ذہانت عاجز رہتی تھی۔ اول یہ کہ انہوں نے تانبے کی ایک بطخ بنار کھی تھی جو شہر میں ناپسندیدہ اور مضر افراد کے داخل ہونے کی خبر دیتی تھی، چناچہ اگر کسی دوسرے ملک سے کوئی جاسوس یا دشمن یا کوئی چور وغیرہ شہر میں داخل ہوتا تو اس بطخ میں سے مخصوص آواز نکلنے لگتی تھی، شہر کے تمام لوگ اس آواز کو سن کر اس کا مقصد جان لیتے تھے۔ اور اس طرح وہ اس جاسوس اور چور کو پکڑ لیتے تھے، دوسرے یہ کہ انہوں نے ایک نقارہ بنار کھا تھا جس کا مصرف یہ تھا کہ شہر میں جس شخص کی کوئی چیز گم ہوجاتی تو وہ اس نقارہ پر چوٹ مارتا، جس کے نتیجے میں اس سے یہ آواز نکلتی کہ تمہاری فلاں چیز فلاں جگہ ہے، چناچہ تلاش کرنے کے بعد وہ اسی جگہ سے ملتی۔ تیسرے یہ کہ انہوں نے گم شدہ لوگوں کو دریافت کرنے کے لئے ایک آئینہ بنا رکھا تھا۔ جب شہر میں کسی کے گھر کا کوئی فرد غائب ہوجاتا تو وہ اس آئینے کے پاس آتا اور اس میں اپنے گمشدہ فرد کو حال دیکھ لیتا وہ گمشدہ خواہ کسی شہر میں ہوتا، خواہ جنگل میں اور خواہ کسی کشتی وغیرہ میں سفر کرتے ہوئے یا کسی پہاڑ پر، اسی طرح خواہ وہ بیمار ہوتا یا تندرست، خواہ مفلس وقلاش ہوتا یا مال دار اور خواہ زخمی ہوتا یا مقتول، غرضیکہ وہ جس جگہ اور جس حالت میں ہوتا اسی جگہ اور اسی حالت کے ساتھ اس آئینہ میں نمودار ہوجاتا۔ چوتھا طلسم یہ تھا کہ انہوں نے ایک حوض بنایا تھا جس کے کنارے وہ سال بھر میں ایک دن جشن مناتے تھے چناچہ شہر کے تمام سردار اور معززین اپنی پسند کے مشروب لے کر اس حوض کے کنارے جمع ہوتے اور جو شخص اپنے ساتھ جو مشروب لاتا اس کو اس حوض میں ڈال دیتا، پھر جب ساقی کا فرض انجام دینے والے لوگ اس کے کنارے کھڑے ہو کر لوگوں کو پلانا شروع کرتے اور اس حوض میں سے نکال نکال کردیتے تو ہر شخص اس کو وہی پسندیدہ مشروب ملتا جو وہ اپنے ساتھ لایا تھا۔ پانچواں طلسم یہ تھا کہ انہوں نے لوگوں کے لڑائی جھگڑوں کو نمٹانے کے لئے ایک تالاب بنایا تھا اگر دو آدمیوں کا آپس میں کوئی تنازعہ ہوتا اور یہ ثابت نہ ہو پاتا کہ کون حق پر ہے اور کون ناحق پر۔ تو دونوں فریق اس تالاب کے کنارے آتے اور پھر اس میں اتر جاتے چناچہ جو شخص حق پر ہوتا اس تالاب کا پانی اس کے ناف کے نیچے رہتا اور وہ غرق نہ ہوتا اور جو شخص حق پر نہ ہوتا اس کے سر سے اوپر چلا جاتا اور اس کو ڈبو دیتا ہاں اگر وہ فریق مخالف کے حق کو مان لیتا اور اپنے دعوے کو ترک کردیتا تو پھر غرقابی سے نجات پاتا۔ اور چھٹا طلسم یہ تھا کہ انہوں نے نمرود کے محل کے میدان میں ایک درخت لگا رکھا تھا، جس کے سایہ میں درباری بیٹھتے تھے لوگوں کی تعداد جس قدر بڑھتی رہتی اسی قدر اس کا سایہ بھی بڑھتا رہتا تھا یہاں تک کہ اگر تعداد ایک لاکھ تک پہنچ جاتی تو سایہ بھی اسی اعتبار سے زیادہ ہوجاتا تھا مگر جب اس عدد سے ایک آدمی بھی زیادہ ہوجاتا تو پھر سایہ بالکل ختم ہوجاتا تھا اور تمام لوگ دھوپ میں بیٹھے رہ جاتے تھے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اس بارے میں بابل کے لوگ ہی شغف ودلچسپی نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کا بادشاہ نمرود بھی بہت زیادہ غلو رکھتا تھا اور اس علم کی پوری طرح سرپرستی کرتا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ سحر کی یہ قسم سب سے زیادہ سخت اور مشکل ہے لیکن اگر کوئی شخص سخت ترین ریاض و محنت اور مسلسل جدوجہد اس کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے اور اس فن کو جان لیتا ہے اور پھر اس کی اتنی زبردست طاقت وقدرت حاصل ہوجاتی ہے۔ کہ وہ انسانی عادت مخالف امور کو ظاہر کرنے اور انسانی عادات کے موافق امور کو روک دینے پر قادر ہوجاتا۔ جیسے وہ ان امراض کا علاج بھی کرسکتا ہے جس کے معالجہ سے دنیا بھر کے طبیب عاجز ہوگئے ہوں مثلاً برص اور جذام وغیرہ کیونکہ ایسا شخص روحانیات یعنی طاقتوں (جیسے جن و شیاطین) کے ذریعہ تدبیر وعمل کرتا ہے جب کہ طبیب جسمانیت (دواؤں) کے ذریعہ تدبیر کرتا ہے۔ جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے ان پر اجسام و ارواح کے ساری حقیقتیں منکشف کردیں اور انہوں نے ہر جسم اور ہر روح کو قادر مطلق کے دست قدرت کے تحت مجبور و بیکس دیکھا تو سب سے منہ پھیر کر ذات واحد حقیقی کی طرف متوجہ ہوگئے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی سورت انعام میں فرمایا۔ آیت (وکذلک نری ابراہیم ملکوت السمٰوٰت والا رض تا وما انامن المشرکین) یعنی ہم نے ایسے طور پر ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں تاکہ وہ عارف ہوجائیں اور کامل یقین کرنے والوں سے ہوجائیں پھر جب رات کی تاریکی ان پر چھا گئی تو انہوں نے ایک ستارہ دیکھا اور کہا کہ یہی میرا رب ہے سو جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اگر مجھ کو میرا رب ہدایت نہ کرتا رہے تو میں گمراہ لوگوں میں شامل ہوجاؤں۔ جب سورج کو چمکتا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہی میرا رب ہے یہ تو سب سے بڑا ہے سو جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اے قوم! بیشک میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ میں اپنا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں شرک کرنے والوں سے نہیں ہوں۔ واضح رہے کہ اوپر سحر کی جو قسم ذکر کی گئی ہے وہ خالص کفر اور شرک محض ہے کیونکہ اس سحر کے علم کا حصول جن، پندرہ شرائط کی پانبدی پر موقوف ہے ان میں سب سے پہلی اور بنیادی شرط یہ ہے کہ ارواح کو عالم الغیب اور احوال قلب پر مطلع مانا جائے۔ اور ان کے تئیں عجز و جہل کا گمان ہرگز نہ کیا جائے ورنہ وہ ارواح اس کا کہنا بالکل نہیں مانیں گی اور اس کے مقصد تک نہیں پہنچائیں گی۔۔ کواکب و سیارات کی روحانیات یعنی ان کی قوتوں سے استمداد کرنے اور ان کی تاثیر کو متوجہ کرنے کے لئے جو طریقہ بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ پہلے روحانیات قمر کی تاثیر کو ان الفاظ کے ورد کے ذریعہ متوجہ کرتے ہیں۔ ایہا الملک الکریم والسید الرحیم مرسل الرحمۃ ومنزل النعمۃ اور عطارد کی تاثیر کو متوجہ اور اپنے زیر اثر کے لئے ان الفاظ کا ورد کیا جاتا ہے۔ کل ماحصل لی من السحر فہو منک وکل ما یندفع من الشر منی فہو منک دیگر کواکب وسیارات سے استمداد کرنے اور ان کی تاثیر کو متوجہ کرنے کے لئے جن الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہوگا ان کو بھی انہی پر قیاس کیا جاسکتا ہے، ظاہر ہے کہ اس طرح کا عقیدہ رکھنا جو ان الفاظ سے آشکار ہوتے ہیں اور اس طرح کے الفاظ زبان سے نکالنا عقیدہ تو حید، تعلیمات اسلامی اور ملت حنفی کے سراسر منافی ہے۔ سحر کی دوسری قسم وہ ہے جس میں جنات و شیاطین کو مسخر کیا جاتا ہے اور ان سے امداد واعانت طلب کر کے مقصد حاصل کیا جاتا ہے یہ قسم سہل الحصول بھی ہے اور کثیر ارواج بھی ہے، جنات و شیاطین کی اس تسخیر میں جن چیزوں کا اختیار کرتا ضروری ہوتا ہے ان میں بعض مخصوص الفاظ و اعمال کے ذریعہ ان سے تعلق پیدا کرنے کے علاوہ ان کی جہیہ سائی کرنا ان کے نام پر نذریں چڑھانا، بھینٹ دینا، ان کی پسندیدہ خوشبو وغیرہ ان کے آنے کی جگہوں پر رکھنا اور بسانا، جس جگہ ان کے آنے کا تصور ہو وہاں ہاتھ جوڑ کر بیٹھنا اور ان کو اپنے سامنے موجود جانتے ہوئے رونا گڑگڑانا، منت خوشامد کرنا اور ان سے حاجت براری کی التجا کرنا وغیرہ وغیرہ خاص عمل ہیں اور ان سب چیزوں سے صریح کفر لازم آتا ہے۔ سحر کی تیسری قسم وہ ہے۔ جس میں ارواح کو مسخر کیا جاتا ہے جو جسم چھوڑ چکی ہوتی ہیں، اس قسم کو اختیار کرنے کے لئے سب سے پہلے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ کسی ایسے مرے ہوئے انسان کا پتہ لگایا جائے جو قوی القلب رہا ہو، پھر بعض مخصوص عملیات اور مخصوص الفاظ کے ورد کے ذریعہ کہ جو بڑے بڑے جنات و شیاطین کے ذکر اور ان کی بہت زیادہ تعظیم و توقیر کے مضامین پر مشتمل ہوتے ہیں ان ارواح کو اپنی طرف متوجہ کیا جاتا ہے۔ چناچہ ان الفاظ وعملیات کے زور سے اور نذرانے و بھینٹ چڑھانے کے ذریعہ اس روح کو اس طرح اپنے قابو واختیار میں کرلیا جاتا ہے کہ غلام و نوکر کی طرح اس کو جو کام کرنے کا حکم دیا جاتا ہے اس کو وہ انجام دیتی ہے یہ عمل بھی کفر کو لازم کرتا ہے یا کفر کے قریب پہنچا دیتا ہے، نیز اغلب یہ ہے کہ اس طرح کی ارواح کہ جو ان سفلی وشہوانی عملیات کے ذریعہ متوجہ ہوتی ہیں دراصل ان انسانوں کی ارواح ہوتی ہیں۔ جو کفر و شرک و فسق وخبث کی حالت میں مرجاتے ہیں لہٰذا اس عمل سحر میں خباثت کی مخالفت بھی لازم آتی ہے، سحر کی چوتھی قسم وہ ہے جس میں بعض جنات کی ارواح کے ذریعہ کسی شخص کے خیالات و تصورات میں خلل ڈالتے اور اس کے ذہن کو فاسد کردیتے ہیں کہ اس کو حقیقت کے خلاف کچھ کا کچھ نظر آنے لگتا ہے یا وہ اپنی ہی صورت ہائلہ متخلیہ سے ڈرنے لگتا ہے اور یا غیر واقعی چیزوں کو واقعی سمجھنے لگتا ہے، سحر کی اس قسم کو نظر بندی یا خیال بندی کہتے ہیں اور بعض مفسرین نے آیت کریمہ (يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰي) 20۔ طہ 66) کے تحت کہا ہے کہ فرعون کے ساحروں کا سحر اسی قسم کا تھا جس سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو واسطہ پڑا تھا، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خیال میں وہ سب لکڑیاں اور رسیاں سانپ بن کر نظر آنے لگی تھیں جو فرعون کے جادوگروں نے ان کو ڈرانے کے لئے ان کے سامنے ڈال دی تھیں، اس طرح کا سحر اگر نبی کریم ﷺ کے لئے اس کے مقابلہ پر ہوگا کہ اس کی نبوت کی دلیل و شہادت کو ختم کردیا جائے یا کسی ولی یا بزرگ کی حیثیت کو مجروح کرنے کے لئے اس کے مقابلہ پر پیش کیا جائے، تو حرام اور گناہ کبیرہ کے حکم میں ہوگا اور اگر اس کی نظر بندی کا مقصد کسی شخص کو دھوکا و فریب میں مبتلا کرنا یا کسی شخص کی عزت و آبرو یا اس کے مال میں خیانت کرنا ہو تو گناہ کبیرہ کے حکم میں ہوگا اس سے معلوم ہوا کہ سحر کی یہ قسم بنفسہ کفر نہیں ہے لیکن کسی شخص کے خیالات و تصورات پر اثر انداز ہونے کے لئے یا یوں کہا جائے کہ اس نظر بندی یا شعبدہ بازی کو کامیاب کرنے کے لئے چونکہ جنات کی ارواح سے استمداد کرنا یا جنات کے ارواح کو جپنا ضروری ہوتا ہے اس لئے کفر لازم آتا ہے، بشرطیکہ اس استمداد اور اسماء کو جپنے میں ان جنات کی اتنی زیادہ تعظیم و توقیر کا اظہار کیا جائے جو عقیدہ توحید کے منافی ہو۔ سحر کی پانچویں قسم وہ ہے جس میں انسان خود اپنے دھیان اور حو اس خمسہ کی قوتوں کو دماغ میں مجتمع کرتے ہوئے کمال یکسوئی پیدا کر کے ایک ایسی قوت وقدرت حاصل کرلیتا ہے اس کے ذریعہ وہ اس خیال کو جو اس کی قوت متخلیہ میں ہوتا ہے (اور جس کو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے) مشکل کر کے سامنے لے آتا ہے، جسمانی طول، عرض عمق کی حدود وقیود سے آزادی حاصل کرتے ہوئے مسمریزم کی طاقت سے شعبدے دکھلاتا ہے اور نظر ایک سے دو متصل چیزوں کو متصل کر دکھاتا ہے۔ اور دو علیحدہ علیحدہ چیزوں کو ملا کر دکھلا دیتا ہے۔ سحر کی اس قسم کا اب نام و نشان بھی موجود نہیں ہے، لیکن پچھلے زمانہ میں ہندوستان کی بعض قدیم اقوام میں یہ قسم بہت رائج تھی اس قسم کے حصول کے لئے جہاں اور بھی شرائط ہیں، انہیں میں دو سب سے زیادہ اہم اور ضروری شرط کھانے پینے میں بالکل کمی اور لوگوں سے گوشہ نشینی اختیار کرلینا ہے اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اگر اس کے ذریعہ کسی مباح چیز کا حصول مقصود ہو جیسے دو زنا کاروں کے درمیان جدائی ڈالنا یا کسی ظالم کو مار ڈالنا تو سحر کی یہ قسم جائز ہوگی اور اگر کسی ممنوع چیز کا حصول مقصود ہو جیسے میاں بیوی کے درمیان جدائی ڈالنا یا کسی معصوم انسان کو ہلاک کردینا تو پھر یہ قسم بھی حرام ہوگی۔ سحر کی چھٹی قسم وہ ہے جس میں دواؤں یا اشیاء کے مخفی خواص معلوم کر کے ان کے ذریعہ عجیب و غریب کرشمے دکھائے جاتے ہیں اور چونکہ عام لوگ اس مخفی خواص سے قطعا لاعلم ہوتے ہیں اس لئے اکثر دنیا اور پیر و فقیر اور جوگی اپنی حیلہ سازیوں سے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنا لیتے ہیں، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص یہ چاہے کہ میں لوگوں پر اپنی کرامت ظاہر کرنے کے لئے اپنی انگلیوں کو روشن کر دوں تو اس کا طریقہ اختیار کیا سکتا ہے کہ تھوڑا سا نورہ کابلی سرکہ میں بھگو کر اس میں تھوڑا سا کف دریا ملا دیا جائے اور پھر انگلی پر اس کا لیپ کیا جائے اور جس جگہ لیپ کیا جائے وہاں رال ٹپکا دی اب لوگوں کی کسی ایسی مجلس میں کہ جہاں شمع یا چراغ جلتا ہو اس انگلی کو چراغ کے سامنے کردیا وہ انگلی روشن ہوجائے گی اور جلے گی نہیں۔ سحر کی ساتویں قسم وہ ہے جس میں ایجاد کئے گئے عجیب و غریب آلات کی مدد سے بعض چیزوں کو ترکیب دے کر حیرت انگیز امور انجام دیئے جائیں! ان آلات کو ایجاد کرنا عام طور پر مختلف علوم وفنون میں تعمق اور تحقیق و جستجو پر منحصر ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ فرعون کے ساحروں کی جادو گری نظر بندی اور شعبدہ بازی کے ساتھ اس طرح کی جنی مہارت کا بھی پر تو تھی، آج کل کی سائنسی ایجادات کی بھی اس قسم میں شامل کیا جاسکتا ہے۔ سحر کی اٹھویں قسم وہ ہے جس میں ہاتھ کی صفائی کے ذریعہ مختلف شعبدے دکھلا کر لوگوں کو متحیر کیا جاتا ہے سحر کی اس قسم میں ہاتھ کا سرعت کے ساتھ چند مخصوص پوشیدہ حرکات اور تبدیل امثال کردینا ہے خفیہ سبب ہوتا ہے۔ سحر کی یہ تینوں آخری قسمیں نہ تو کفر ہیں اور نہ حرام، ہاں اگر ان کو کسی حرام چیز کے حصول یا کسی حرام کام کے اظہار کا ذریعہ بنایا جائے تو اس بنا پر ان پر حرمت کا حکم ثابت ہوجائے گا۔ واضح رہے کہ سحر کی جو آٹھ قسمیں بیان کی گئی ہیں یہ صرف لفظی اعتبار سے ہیں، کیونکہ عربی زبان میں سحر یعنی جادو ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو محیر العقول ہو اور جس کا سبب و ذریعہ نظروں سے پوشیدہ ہو اگر سحر یا جادو کے اصطلاحی وحرفی مفہوم اور اس کی مشہور و تعریف و حقیقت کا اعتبار کیا جائے تو اصولی طور پر سحر کی تین ہی قسمیں ہونی چاہئیں ایک تو وہ سحر جس میں کواکب و سیارات کی قوتوں سے استمداد کر کے ہوشربا کرشمے اور محیر العقول طلسمات ظاہر کئے جائیں۔ دوسرا وہ سحر جس میں جنات و شیاطین اور مردہ انسانوں کی ارواح کو مسخر کر کے حاجت روائی کی جائے۔ اور تیسرا وہ سحر جس میں اپنے دھیان اور خو اس خمسہ کی قوتوں کو دماغ میں مجتمع کرتے ہوئے نظر بندی اور شعبدہ بازی کا کمال حاصل کیا جائے۔

4471Mishkaat-al-Masabih

سحر کا بدل کیا ہے ؟

اس بات کو بھی جاننا ضروری ہے کہ اس امت کے اذکیاء و عارفین نے سحر کی مذکورہ بالا قسموں میں سے اکثر کی اصطلاح کر کے اور اس کی بنیاد سے کفر و شرک کی غلاظتوں کو دور کر کے ان کو عملیات کی صورت میں پیش کیا ہے جس سے مختلف قسم کے روحانی اور جسمانی فوائد حاصل کئے جاسکتے ہیں، چناچہ سحر کی پہلی قسم کی اصلاح دعوت علوی ہے یہ وہ عمل ہے جس میں ملائکہ علویہ کو اسماء الہٰی اور آیات قرآنی کی استعانت سے مسخر کیا جاتا ہے، دوسری قسم کی اصلاح عزائم اور دعوت سفلی ہے، اس عمل میں زمین کے موکلات اور جنات کو مسخر کیا جاتا ہے، لیکن اس تسخیر میں بھی کفر و شرک کی آمیزش ہوتی ہے اور غیر اللہ کی تعظیم و توقیر، بلکہ ان جنات و شیاطین کو حکم و استیلاء کے ذریعہ مسخر کیا جاتا ہے، تیسری قسم کی اصلاح وہ عملیات ہیں جن کے ذریعہ صلحاء اور اولیاء اللہ کی ارواح طیبہ سے ربط وتعلق پیدا کیا جاتا ہے اور عام طور اویسی مشرب بزرگ ان عملیات کو اختیار کر کے اپنے اور مخلوق اللہ کے مقاصد و حوائج میں فائدہ حاصل کرتے ہیں ان عملیات کی بنیاد، طہارت و پاکیزگی، تلاوت قرآن اور وظائف اور ان ارواح کو صدقات و خیرات کا ثواب پہنچانے پر ہوتی ہے پانچویں قسم کی اصلاح عقد ہمت ہے جو اونچے درجے کے مشائح اور صوفیاء کرام حل مشکلات کے لئے اختیار کرتے ہیں جس میں دنیاوی امور سے کامل بیخبر ی پیدا کر کے اور اپنے دھیان و اپنے خیالات کو یکسو کر کے اسماء الہٰی میں سے کسی اسم پاک کے غور و فکر میں استغراق کا درجہ حاصل کیا جاتا ہے اور چھٹی قسم کی اصلاح وہ عملیات ہیں جن میں آیات قرآن اور اسماء الہٰی کے خواص میں تعمق و جستجو کر کے ان کو مخصوص ترکیب و شرائط کے ساتھ یا ان کے اعداد کی صورت میں نقش و تعویذات لکھے جاتے ہیں، یا دعاؤں کے ذریعہ جھاڑ پھونک کی جاتی ہے جیسا کہ نقش و تعویذات اوراد و عملیات کی کتابوں میں اس کی تفصیل لکھی ہوتی ہے۔ حاصل یہ کہ سحر میں جو برائی ہے وہ محض اس وجہ سے کہ اس کی بنیاد کفر و شرک، نیز کواکب و سیارات، جنات و شیاطین اور ارواح خبیثہ کی تاثیر کی اعتقاد پر ہوتی ہے اور اس سے فائدہ حاصل کرنا اس پر موقوف ہوتا ہے کہ غیر اللہ سے رو واعانت کی التجا کی جائے، ان کو حاجت روا مانا جائے اور اسباب و ذرائع پر اس طرح اعتماد کیا جائے کہ سبب یعنی حق تعالیٰ کی قدرت سے بالکل صرف نظر کرلیا جائے اور جب برائی کی یہ وجہ بالکل دور ہوجائے تو پھر اصل حرمت و حلت کا مدار غرض و مقاصد پر ہوگا کہ اگر کوئی نیک و مباح مقصد پیش نظر ہے تو سحر وعملیات کی طاقت سے فائدہ اٹھانا جائز ہوگا اور اگر غرض و مقصد کسی بری چیز اور ناجائز امور سے متعلق ہو تو اس صورت میں بھی سحر کی طاقت سے فائدہ اٹھانا ناجائز ہوگا۔

4472Mishkaat-al-Masabih

جو علم نفع پہنچانے والا نہ ہو اس سے احتراز کرنا ہی دانشمندی ہے

مولانا شاہ عبد العزیز آیت کریمہ (يُخَيَّلُ اِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ اَنَّهَا تَسْعٰي) 20۔ طہ 66) کے اس ٹکڑے آیت (وَيَتَعَلَّمُوْنَ مَا يَضُرُّھُمْ وَلَا يَنْفَعُھُمْ ) 2۔ البقرۃ 102) کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہودی ان دونوں طرح کے سحر سیکھنے پر ہی اکتفا نہیں کرتے تھے۔ جو انتہائی مذموم و قبیح ہیں بلکہ وہ اپنے اوقات اور اپنی صلاحیتوں کو دوسرے ایسے علوم کے حصول میں بھی صرف کرتے تھے جو علم شریعت اور وحی الہٰی سے دور کردینے کا ذریعہ اور موجب بنتے ہیں، چناچہ وہ اس طرح کے علوم سیکھتے تھے جو ان کے لئے نقصان دہ ہوتے تھے گو دوسروں کو نقصان نہ پہنچاتے ہوں اور ان سے خود ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تھا، گو اوروں کو فائدہ پہنچتا ہو، لہٰذا عقلمندی، سمجھداری کا تقاضہ یہی ہے کہ انسان ہر اس علم وفن سے احتراز کرے جو نفع بخش ہونے کی بجائے کسی طرح کا نقصان پہنچانے والا ہو۔ مگر واضح رہے کہ کسی شخص کے حق میں کسی علم کا مذموم و معیوب ہونا ان تینوں جہتوں میں سے کسی ایک جہت کے سبب سے ہوتا ہے ایک تو یہ کہ اس علم سے خود اپنے کو یا دوسروں کو نقصان پہنچنے کا خوف ہو، جیسے سحر و طلسمات کا علم نجوم کا علم بھی اسی میں شامل ہے کیونکہ اس کے ذریعہ اکثر لوگ عقیدہ کی گمراہی میں مبتلا ہو کر اپنا اخروی نقصان کرتے ہیں، چناچہ جب وہ زمین اور کواکب سیارات کا باہم ربط دیکھتے ہیں اور علم نجوم ان کو بتاتا ہے کہ کرہ ارضی پر رونما ہونے والے تغیرات و واقعات اجرام فلکی کی حرکت و سکون اور سیارگان کی چال کے زیر اثر ہوتے ہیں تو ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ عالم میں جو بھی حادثہ و تغیر وقوع پذیر ہوا ہو وہ فلاں ستارے فلاں برج اور فلاں درجے کی تاثیر کے سبب سے ہے، اس طرح وہ اپنے مقاصد کے حصول کی امید یا مقاصد کے فوت ہوجانے کے خوف کو ستاروں اور ان کے بروج و منازل سے وابستہ کرتے ہیں۔ یعنی وہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر فلاں ستارہ فلاں برج اور فلاں منزل میں ہوگا تو ہمارا فلاں مطلب حاصل ہوگا اور اگر فلاں ستارہ فلاں برج و منتری میں داخل ہوگا تو ہمارا فلاں مطلب حاصل نہیں ہوگا گویا ان کی توجہ ذات حق جل مجدہ کی طرف سے ہٹ جاتی ہے۔ جو نفع و نقصان کا حقیقی مالک ہے اور ان کے دل پر ایسا پردہ پڑجاتا ہے جو ان کو نظر الی اللہ سے روک دیتا ہے۔ دوسرے یہ کہ وہ علم اگرچہ بذات خود نقصان پہنچانے والا نہ ہو لیکن اس کو حاصل کرنے کا دعویدار اس کے حقائق و نکات اور اس کے باریک و مخفی گوشوں تک اپنی عدم صلاحیت اور عدم استعداد کی وجہ سے نہ پہنچ سکتا ہو، ظاہر ہے کہ ایسا شخص جو علم کے حقائق و دقائق تک رسائی ہی نہ حاصل کرسکا ہو اس علم کا فاضل و ماہر تو ہونے سے رہا، البتہ جہل مرکب میں ضرور مبتلا ہوجائے گا، اسی لئے بےصلاحیت لوگوں کا اسرار و رموز الہٰیہ احکام شرعیہ کے بارے میں بحث و تمحیص کرنا، اکثر وبیشتر فلسفیانہ علوم میں جان کھپانا، قضا و قدر اور صبر و اختیار کے مسئلے میں تحقیق و جستجو کرنا مسئلہ توحید وجودی و شہودی کی راہ پر لگنا اور بعض صحابہ کے درمیان آپسی نزاعات وخصومات کی جو صورتیں پیدا ہوگئی تھیں ان کو علم و تحقیق کے نام پر اچھالنا یا ان کی کھوج کرید کرنا وغیرہ وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جن کو مذکورہ بالا علم کے زمرہ میں شمار کیا جاتا ہے، اسی طرح شعر و شاعری کے فن کو بھی کچھ اچھا علم نہیں سمجھا جاتا، کیونکہ شعر و شاعر کی بنیاد زیادہ تر حسن و عشق کے مضامین اور غیر پاکیزہ خیالات و تصورات پر ہوئی ہے اور یہ چیز عوام کے حق میں کہ جن کے دل و دماغ نفساتی خواہشات اور جنسی جذبات سے بھرے ہوئے ہوتے ہیں زہر جیسی تاثیر رکھتی ہے اور تمام امور میں تخیل پردازی و مبالغہ آرائی کا ملکہ پیدا کرتی ہے۔ اور تیسرے یہ کہ شریعت سے متعلق علوم محمودہ میں بےجا فکر اور تعمق کیا جائے اور اس میں افراط وتفریط سے کام لیا جائے، جیسے عقائد و توحید کے علوم میں فلسفیانہ موشگافیاں اور دیگر شرعی علوم و قواعد میں عقل و منطق کی غیر موزوں اور غیر ضروری نکتہ آفرینیاں کی جائیں اور فقہی احکام و مسائل میں کھوج کرید کر کے بےاصل حیلوں اور نادر روایات و اقوال کو بیان کیا جائے اسی طرح سلوک و ریاضت کے علم میں ایسے اصول و قواعد اور اعمال و اشغال داخل کرنا جو جوگیوں وغیرہ کا طریقہ ہے۔ یا دعوت اسماء الہٰی اور دوسرے عملیات دعا تعویذ اور جھاڑ پھونک میں سحر و طلسمات کے اصول و قواعد کو شامل کرنا، یا انبیاء (علیہ السلام) کے قصص و حالات میں یہود و روافض جیسے معاندین حق کے بیان کردہ جھوٹے قصے اور روایات کو سننا ان کو بیان کرنا کہ جن سے عقائد وغیرہ بھی اسی حکم میں شامل ہیں۔ غرضیکہ علم کی یہ جو قسمیں بیان کی گئی ہیں ان کے متوقع فوائد لوگوں کو نہیں پہنچتے بلکہ ان کے حق میں نقصان دہ ہوتے ہیں، یہودی عام طور پر انہی جیسے لاحاصل، بےمقصد اور غیر نفع بخش علوم میں مشغول و مصروف رہتے تھے اور اصل علوم محمودہ سے اعراض کرتے تھے۔

4473Mishkaat-al-Masabih

فال اور طیرہ کا بیان

فال اصل میں تو مطلق شگون کو کہتے ہیں، لیکن عام طور پر اس لفظ کا استعمال نیک شگون یا اچھی فال کے معنی میں ہوتا ہے۔ نیک شگون یا اچھی فال کا مطلب ہے کسی اچھی بات کو سننا یا کسی اچھی چیز کو دیکھنا جس سے اپنی مراد حاصل ہونے کی توقع پیدا ہو، مثلا کوئی شخص بیمار ہو اور اس بات کے تردد اندیشہ میں ہو کہ صحت پاؤں گا یا نہیں اور اس حالت میں وہ سنے کہ کوئی کہہ رہا ہے۔ یا سالم یا کوئی شخص میدان جنگ رہا تھا کہ ایک شخص سے ملاقات ہوگئی۔ جس کا نام ظفر خاں یا فتح علی تھا اور مثلاً کوئی شخص کسی چیز کا طالب ہو یا اس کی کوئی چیز گم ہوگئی ہو اور وہ اس کو تلاش کر رہا ہو اور اسی اثناء میں اس کے کان میں یا واجد کی آواز آئے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کبھی لفظ فال برائی کے ساتھ بھی استعمال ہوتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ فلاں چیز کا واقع ہونا بری فال ہے۔ یا زبان سے بری بات نکالنا بدفالی ہے۔۔ طیرۃ نظیر (یعنی بدفالی لینا) کا مصدر ہے جیسا کہ خیرہ تخیرہ کا مصدر ہے ان دونوں لفظوں کے سوا پر مطلق فال یعنی شگوں کے معنی میں بھی ہوتا ہے جو وہ فال اچھی ہو یا بری۔ تطیر کی اصل اور اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ زمانہ جاہلیت میں اہل عرب عام طور پر اس طرح شگون لیتے تھے کہ جب وہ کوئی کام کرتے یا کسی سفر پر جانے کا ارادہ کرتے تو کسی پرندے یا ہرن کو چھچھکار دیتے اگر وہ داہنی سمت میں اڑ جاتا یا دائیں طرف کو بھاگتا تو اس کو مبارک جانتے اور نیک فال لیتے اور پھر اس کام کو شروع کرتے یا سفر پر روانہ ہوتے اور اگر وہ پرندہ یا ہرن بائیں سمت میں اڑ جاتا یا بائیں طرف کا بھاگتا تو اس کو نجس جانتے اور اس کام سے باز رہتے۔ واضح رہے کہ شکار کے اس جانور کو سنوح یا سانع کہتے ہیں جو سامنے سے نمودار ہو کر بائیں طرف سے دائیں طرف کو جا رہا ہو اور شکار کا جو جانور دائیں طرف سے بائیں طرف کو جا رہا ہو اس کو بروح یا بارح کہتے ہیں عرب کے لوگ سنوح کو مبارک اور بروح کو منحوس سمجھتے تھے چناچہ بعض مواقع پر سوانح اور بوارح اور ان کے ذریعہ شگون لینے کا جو ذکر کیا گیا ہے اس کے یہی منعی ہیں۔ یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہئے کہ نیک فال لینا محمود و مستحسن بلکہ مستحب ہے جب کہ تطیر یعنی بری فال لینا مذموم و ممنوع ہے چناچہ نبی کریم ﷺ کثرت کے ساتھ اور خاص طور پر لوگوں کے ناموں اور جگہوں کے ذریعہ اچھی فال لیتے تھے ان دونوں میں فرق و امتیاز اس بنا پر ہے کہ نیک فال میں اول اول تو اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے دوسرے اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے اچھائی اور بھلائی کی امید آوری ہوتی ہے۔ نیز دل میں اچھائی اور بھلائی ہی کا خیال آتا ہے اور یہ آمید آوری اور یہ خیال ہر حالت میں بندے کے لئے بہتر ہے گو اس کی مراد پوری نہ ہو اور بد فالی اس لئے ممنوع و مذموم ہے کہ اس میں خواہ مخواہ رنج اور تردد پیدا ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے رحم و کرم سے قطع امید ہوتی ہے اور نا امیدی و نامرادی کا احساس اندیشہ ہائے دور دراز میں مبتلا کردیتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ چیزیں شرعا مذموم و ممنوع بھی ہیں اور عقل و دانش کے منافی بھی ہیں جب کہ بہر صورت ہوگا وہی جو اللہ تعالیٰ نے چاہا ہے۔ بہر حال اس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جو فال وطیرہ سے متعلق اور جن کی تحقیق اوپر بیان کی گئی نیز مؤلف مشکوٰۃ نے اس باب میں وہ احادیث نقل کی ہیں، جن میں عدویٰ، ہامہ اور ان جیسی دوسری اور چیزوں کا ذکر ہے اور یہ سب بھی تطیر یعنی بد فالی کے مفہوم کی حامل اور اسی کے حکم میں داخل ہیں۔

4474Mishkaat-al-Masabih

بدشگونی لینا منع ہے

عن أبي هريرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول لا طيرة وخيرها الفأل قالوا وما الفأل ؟ قال الكلمة الصالحة يسمعها أحدكم .

حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ۔ بد شگونی بےحقیقت ہے اس سے بہتر تو اچھی فال ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ اور فال کیا چیز ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ اچھا کلمہ جس کو تم میں سے کوئی شخص سنے اور اس سے اپنی مراد پانے کی توقع پیدا کرے۔ (بخاری ومسلم) تشریح بدشگونی بےحقیقت ہے کا مطلب یہ ہے کہ حصول منفعت یا دفع مضرت میں بدفالی لینے کا کوئی عمل دخل نہیں ہے اور نہ شریعت نے اس کو سبب اعتبار قرار دیا ہے۔ لہٰذا اس کا کوئی اعتقاد و اعتبار نہ کرنا چاہئے۔ چونکہ ہوگا وہی جو قادر مطلق (اللہ تعالیٰ ) کی مرضی ہوگی اس لئے بد فالی لے کر اپنے آپ کو خواہ مخواہ خوف و اندیشہ اور نامیدی میں کیوں مبتلا کیا جائے۔ طیرہ یعنی بد فالی کی نفی کرنے اور اس کی ممانعت کو ظاہر کرنے کے بعد آپ ﷺ نے فال کی تعریف کی اور یہ فرمایا کہ طیرہ کی بہترین صورت اچھی فال ہے۔ گویا حدیث میں طیرہ مطلق فال لینے کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے لیکن اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ حدیث کی عبارت سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اچھی فال لینا بہتر ہے۔ اور بدفالی لینا بھی کسی نہ کسی درجہ میں اچھی چیز ہے حالانکہ حقیقت میں بدفالی اچھی چیز نہیں ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس عبارت میں لفظ خیر اصل میں بہ کے مفہوم میں ہے نہ کہ بہتر کے معنی میں جیسا کہ یہ جملہ ہے۔ آیت (والاخرۃ خیر وابقی)۔ واصحاب الجنۃ خیر۔ ایک جواب یہ بھی ہے کہ یہ ارشاد گرامی ﷺ دراصل اہل عرب کے گمان و اعتقاد پر مبنی ہے کہ وہ بدفالی کو بھی پسندیدہ چیز سمجھتے تھے یا یہ کہ اس عبارت کی بنیاد یہ ہے کہ اگر طیرہ کا اچھا ہونا بالفرض ممکن بھی ہوتا تو فال اس سے بہتر چیز ہوتی۔ وہ اچھا کلمہ۔۔۔۔۔ کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کو کوئی ایسا جملہ سنائی دے جس سے اس کے دل میں اپنے مطلوب و مقصود کے حاصل ہوجانے کی امید پیدا ہوجائے اور وہ اس لفظ یا جملے کو اپنے حق میں گویا اچھی پیشگوئی سمجھے جیسے کوئی شخص اپنی کسی گمشدہ چیز کو تلاش کر رہا ہو کہ وہ یہ آواز سنے یا واجد یا کوئی شخص راستہ بھول گیا ہو اور اس کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹک رہا ہو کہ اس کے کان میں کسی طرف سے یہ آواز آئے۔ یا راشدا۔

4475Mishkaat-al-Masabih

چند بے اصل باتیں اور ان کا بطلان

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى ولا طيرة ولا هامة ولا صقر وفر المجذوم كما تفر من الأسد . رواه البخاري .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا بد شگونی ہامہ اور صفریہ سب چیزیں بےحقیقت ہیں (البتہ) تم جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو۔ (بخاری) تشریح یہ خیال کہ ایک شخص کی بیماری دوسرے کو لگ جاتی ہے، زمانہ جاہلیت کی یادگار ہے، چناچہ اہل عرب کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی شخص بیمار کے پہلو میں بیٹھ جائے یا اس کے ساتھ کھائے پئے تو وہ بیماری اس میں بھی سرایت کر جائے گی، علماء لکھتے ہیں کہ عام طور پر اطباء کے نزدیک سات بیماریاں ایسی ہیں جو ایک دوسرے کو لگتی ہیں (١) جذام (٢) خارش (٣) چیچک (٤) آبلے جو بدن پر پڑجاتے ہیں (٥) گندہ دہنی (٧) وبائی امراض۔ لہذا شارع (علیہ السلام) نے اس اعتقاد خیال کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ مرض کا ایک سے دوسرے میں سرایت کرنا اور اڑ کر لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا بلکہ اس کا تعلق نظام قدرت اور قادر مطلق کی مشیت سے ہے کہ جس طرح پہلا شخص بیمار ہوا ہے اسی طرح دوسرا شخص بھی اس بیماری میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ جب تمام امراض کے ہی بارے میں چھوت کے اعتقاد و نظریہ کی تردید کی گئی ہے تو پھر جذامی سے بھاگنے کا حکم کیوں دیا گیا اور اس طرح خود اس حدیث کے مفہوم میں بظاہر تضاد معلوم ہوتا ہے تو اس کا جواب انشاء اللہ فصل کے آخر میں نقل کیا جائے گا۔ بد شگونی کے بارے میں تو او پر بیان کیا جا چکا ہے! ھاما کے اصل میں معنی سر کے ہیں، لیکن یہاں اس لفظ سے ایک خاص جانور مراد ہے جو عربوں کے گمان کے مطابق میت کے استخوان سے پیدا ہو کر اڑتا ہے، زمانہ جاہلیت میں اہل عرب یہ بھی کہا کرتے تھے کہ اگر کسی شخص کو قتل کردیا جاتا ہے تو اس مقتول کے سر سے ایک جانور جس کو ہامہ کہتے ہیں باہر نکلتا ہے اور ہر وقت یہ فریاد کرتا رہتا ہے کہ مجھے پانی دو، پانی دو، یا وہ قاتل سے انتقام لینے کی کوشش کرتا ہے۔ یہاں تک کہ جب قاتل (خود اپنی موت سے یا کسی کے قتل کردینے سے) مرجاتا ہے تو وہ جانور اڑ کر غائب ہوجاتا۔ بعض لوگ یہ کہا کرتے تھے خود مقتول کی روح اس جانور کا روپ اختیار کرلیتی ہے اور فریاد کرتی ہے تاکہ قاتل سے بدلہ لے سکے جب اس کو قاتل سے بدلہ مل جاتا ہے تو اڑ کر غائب ہوجاتا ہے۔ شارع (علیہ السلام) نے اس اعتقاد کو بھی باطل قرار دیا اور فرمایا کہ اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہامہ سے مراد الو ہے کہ جب وہ کسی گھر پر بیٹھ جاتا ہے تو وہ گھر ویران ہوجاتا ہے۔ یا اس گھر کا کوئی فرد مرجاتا ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس عقیدہ کو بالکل مہمل قرار دیا اور واضح رہے فرمایا کہ تطیر یعنی پرندہ کے ذریعہ بدفالی لینے کے حکم میں ہے جو ایک ممنوع چیز ہے۔ صفر کی وضاحت میں متعدد اقوال بیان کئے جاتے ہیں، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اس سے تیرہ تیزی کا مہینہ مراد ہے جو محرم کے بعد آتا ہے اور جس کو صفر کہتے ہیں، چونکہ کمزور عقیدہ لوگ اس مہینہ کو منحوس سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس مہینے میں آفات و بلاء اور حوادث و مصائب کا نزول ہوتا ہے اس لئے اس ارشاد کے ذریعہ اس عقیدے کو باطل وبے اصل قرار دیا گیا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اہل عرب یہ کہا کرتے تھے کہ ہر انسان کے پیٹ میں ایک سانپ ہوتا ہے۔ جس کو صفر کہا جاتا ہے ان کے گمان کے مطابق جب پیٹ خالی ہوتا ہے اور بھوک لگتی ہے تو وہ سانپ کاٹتا ہے اور تکلیف پہنچاتا ہے ان کا کہنا تھا کہ بھوک کے وقت پیٹ میں جو ایک قسم کی تکلیف محسوس ہوتی ہے اور اسی سانپ کے سبب سے ہوتی ہے اور اس کے اثرات ایک دوسرے میں سرایت کرتے ہیں، نووی نے شرح مسلم میں یہ لکھا ہے کہ بعض لوگوں کے گمان کے مطابق صفر ان کیڑوں کو کہتے ہیں جو پیٹ میں ہوتے ہیں اور بھوک کے وقت کاٹتے ہیں۔ بسا اوقات ان کے سبب سے آدمی زرد رنگ کا ہوجاتا ہے۔ یہاں تک کہ ہلاک بھی ہوجاتا ہے۔ یہ سب بےاصل باتیں ہیں جن کا شریعت میں کوئی اعتبار نہیں ہے۔

4476Mishkaat-al-Masabih

کسی بیماری کا متعدی ہونا بے حقیقت بات ہے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى ولا هامة ولا صفر . فقال أعرابي يا رسول فما بال الإبل تكون في الرمل لكأنها الظباء فيخالها البعير الأجرب فيجر بها ؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فمن أعدى الأول . رواه البخاري .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی بیماری کا ایک دوسرے کو اڑ کر لگنا ہامہ اور صفر، اس سب کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (ایک دیہاتی نے کہ جو اپنے ناقص مشاہدے و تجربہ کی بنا پر خارش کو متعدی بیماری سمجھتا تھا) آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد سن کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! تو پھر ان اونٹوں کے بارے میں کہا جائے گا (جو اپنی تندرستی اور اپنی کھال کی صفائی ستھرائی کے اعتبار سے) ہرن کی مانند ریگستان میں دوڑے پھرتے ہیں، لیکن جب کوئی خارشی اونٹ ان میں مل جاتا ہے تو وہ دوسروں کو بھی خارش زدہ بنا دیتا ہے؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا (اچھا تو یہ بتاؤ) پہلے اونٹ کو کس نے خارش زدہ بنایا؟ یعنی خارش پیدا ہونے کے لئے یہی ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی سے اڑ کر لگے لہٰذا جس طرح ان تندرست اونٹوں میں آملنے والے خارش زدہ اونٹ میں خارش کا پیدا ہونا بتقدیر الہٰی ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرے اونٹوں کا خارش زدہ ہونا جانا بھی حکم الٰہی کے تحت اور نظام قدرت کے مطابق ہوتا ہے ( مسلم )

4477Mishkaat-al-Masabih

کسی بیماری کا متعدی ہونا بے حقیقت بات ہے

وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لا عدوى ولا هامة ولا نوء ولا صفر . رواه مسلم .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک دوسرے کو بیماری لگنا ہامہ نوء اور صفر کی حقیقت نہیں ہے ( مسلم) تشریح نوء کا مطلب ہے کہ ایک ستارہ کا غروب ہونا اور دوسرے کا طلوع ہونا اہل عرب کے خیال میں بارش کا ہونا یا نہ ہونا ستاروں کے اسی طلوع و غروب کے زیر اثر ہے جیسا کہ علم نجوم پر اعتقاد رکھنے والے لوگ کہا کرتے ہیں کہ بارش کا تعلق پخھتروں سے ہے کہ فلاں فلاں پنھتر اگر فلاں فلاں تاریخ میں پڑجائیں اور ان تاریخیوں میں بارش ہوجائے تو آگے چل کر برسات کے مہینوں میں فلاں فلاں تاریخوں میں بارش ہوگی نہل میں لکھا ہے کہ نوء کی جمع انواء ہے جس کے معنی قمر کے ہیں منازل یعنی نچھتروں کے ہیں اور وہ منازل اٹھائیس ہیں قرآن کریم کی آیت کریمہ (وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰهُ مَنَازِلَ ) 36۔ یس 39) میں ان ہی منازل کی طرف اشارہ کیا گیا ہے چناچہ اہل عرب نزول باراں کو انہی منازل کی طرف منسوب کرتے تھے ان کا کہنا تھا کہ جب چاند ان سے فلاں فلاں منازل میں آتا ہے تو بارش یقینا ہوتی ہے گویا ان کے نزدیک چاند کا ان منازل میں آنا بارش ہونے کی علت اور مؤثر حقیقی کا درجہ رکھتا ہے۔ چناچہ شارع (علیہ السلام) نے اس عقیدے کو باطل قرار دیا ہے اور واضح کیا کہ بارش کا ہونا محض حکم الہٰی پر منحصر ہے نہ کہ کسی سبب اور علت سے متعلق ہے لیکن واضح رہے کہ اس نفی و ابطال کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ تاثیر علت کا اعتقاد ہو ہاں منازل میں چاند کے آنے کو نزول باراں کا ایک ظاہری سبب سمجھا جائے۔ یعنی یہ عقیدہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس وقت بارش برساتا ہے جب کہ چاند اپنی اپنی فلاں منزل میں آتا ہے اور وہ وقت علت کا درجہ نہیں رکھتا بلکہ محض ایک ظاہری سبب کا درجہ رکھتا ہے کہ حق تعالیٰ اس پر قادر ہے کہ اس وقت سے پہلے یا اس کے بعد بارش برسائے اور اگر چاہے تو اس وقت بھی نہ برسائے تو یہ عقیدہ نہ کفر کے دائرے میں آئے گا اور نہ اس کو باطل کہا جائے گا۔ اگرچہ امام نووی کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ بھی کفر کا سبب ہے کیونکہ نزول باراں کو چاند اور اس کے منازل سے کسی بھی طرح متعلق کرنا اول تو اہل کفر کا شعار ہے دوسرے مذکورہ صورت (اگرچہ علیت کے عقیدہ کو ظاہر نہیں کرتی مگر موہم علیت تو یقینا ہے، اس بارے میں زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ حدیث مذکورہ ممانعت مطلق (بلا استثناء) ہے کہ اس کا تعلق علیت کے عقیدے سے بھی ہے اور اس صورت سے بھی ہے جس میں چاند اور اس کی منازل کو محض ایک ظاہری سبب سمجھا جائے، کیونکہ اول تو اس ارشاد کا مقصود عقیدے کی گمراہی و فساد کا سد باب ہے دوسری ایسی کوئی حدیث منقول نہیں ہے جس سے اس کا جواز کسی بھی صورت میں ثابت ہو۔ حاصل یہ کہ جب بارش ہو، اس طرح نہیں کہنا چاہئے کہ فلاں نچھتر سے بارش ہوئی ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے بارش ہوئی ہے۔

4478Mishkaat-al-Masabih

غول کا ذکر

وعن جابر قال سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لا عدوى ولا صفر ولا غول . رواه مسلم .

اور حضرت جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ۔ ایک سے دوسرے کو بیماری کا لگنا، صفر اور غول کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ (مسلم) تشریح غول جس کی جمع غیلان ہے جنات و شیاطین کی ایک قسم و جنس ہے، اہل عرب کا خیال تھا کہ جنگلات میں غول مختلف صورتوں اور شکلوں میں لوگوں کو دیکھائی دیتے ہیں اور ان کو راستہ بھلا دیتے ہیں اور ہلاک کر ڈالتے ہیں، چناچہ آنحضرت ﷺ نے اس خیال کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ غول کوئی چیز نہیں ہے۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ارشاد گرامی ﷺ میں غول کے وجود کی نفی مراد نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ ان (غول) کا مختلف صورتوں میں ظاہر ہونا اور لوگوں کو گمراہ و ہلاک کردینا ایک بےحقیقت بات ہے یعنی ان کو اتنی قدرت و طاقت حاصل ہی نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے بغیر مسافروں کو راستہ بھلا دیں اور ان کو ہلاک کر ڈالیں۔

4479Mishkaat-al-Masabih

جذامی کا ذکر

وعن عمرو بن الشريد عن أبيه قال كان في وفد ثقيف رجل مجذوم فأرسل إليه النبي صلى الله عليه وسلم إنا قد بايعناك فارجع . رواه مسلم .

اور حضرت عمرو بن شرید اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بیان کیا کہ قبیلہ ثقیف کے لوگوں کا جو وفد (دربار رسالت میں) آیا تھا اس میں ایک جذامی تھا ( جب اس نے بیعت کے لئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے کا ارادہ کیا) تو نبی کریم ﷺ نے اس کے پاس ایک آدمی بھیج کر کہلا دیا کہ ہم نے (تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لئے بغیر) تم سے (زبانی) بیعت لے لی ہے تم لوٹ جاؤ (گویا آپ ﷺ نے اس کو سامنے نہیں بلایا تاکہ حاضرین مجلس کو کراہت محسوس نہ ہو) (مسلم )۔ تشریح جذامی سے ملنے جلنے میں اجتناب و احتراز کے بارے میں ایک تو یہ حدیث ہے، دوسری حدیث وہ ہے جو پیچھے گزری ہے اور جس میں فرمایا گیا کہ جذامی سے اس طرح بھاگو جس طرح شیر سے بھاگتے ہو ان دونوں حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جذامی کی صحبت و مجالست سے اجتناب و پرہیز کرنا چاہئے، جب کہ وہ احادیث ان کے برعکس ہیں جن میں فرمایا گیا ہے کہ کسی بیماری کا ایک سے دوسرے کو لگنا کوئی حقیقت نہیں رکھتا ظاہر ہے کہ یہ دونوں باتیں بالکل متضاد ہیں، اس تضاد کو دور کرنے کے لئے اور ان احادیث کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء کے متعدد اقوال منقول ہیں، حضرت شیخ ابن عسقلانی نے شرح نخبہ میں لکھا ہے کہ احادیث کے اس باہمی تضاد کو دور کرنے کے لئے سب سے بہتر قول یہ ہے کہ جن احادیث میں عدویٰ یعنی چھوت کی نفی کی گئی ہے ان کا حکم اپنے عموم و اطلاق کے ساتھ قائم و باقی ہے اور ان لوگوں کی مخالطت و مجالست جو جذام جیسے امراض میں مبتلا ہوں ان کی بیماری لگنے کا سبب ہرگز نہیں ہوتا اور جہاں تک احادیث کا تعلق ہے جو جذامی سے اجتناب و پرہیز کو ظاہر کرتی ہیں تو ان کا مقصد محض ادہام و وساوس کا سد باب ہے کہ کوئی شخص شرک کے گرداب میں نہ پھنس جائے۔ اس بات کو زیادہ وضاحت کے ساتھ یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شخص نے جذامی کے ساتھ مخالطت و مجالست اختیار کی، یعنی ان کے ساتھ بیٹھا اٹھا اور اس کے ساتھ ملنا جلنا جاری رکھا اور پھر اسی دوران اللہ کا یہ حکم ہوا کہ وہ شخص بھی جذام میں مبتلا ہوگیا تو بعید نہیں کہ وہ اس وہم و اعتقاد میں مبتلا ہوجائے کہ میں اس جذامی کی مخالطت و مجالست ہی کی وجہ سے اس مرض میں گرفتار ہوا ہوں لہٰذا آپ ﷺ نے لوگوں کو اس وہم و اعتقاد سے بچانے کے لئے جو کفر و شرک کی حد تک پہنچاتا ہے، جذامی سے اجتناب و پرہیز کرنے کا حکم دیا، یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے خود اپنی ذات کو حکم سے مستثنیٰ رکھا کیونکہ آپ توکل و اعتقاد علی اللہ کے مرتبہ اعلی پر فائز تھے اس کی بنا پر مذکورہ وہم و گمان میں آپ ﷺ کے مبتلا ہونے کا تصور بھی نہیں ہوسکتا تھا، چناچہ ایک دن آپ ﷺ ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لائے اور پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا، حاصل یہ کہ جذامی سے اجتناب و پرہیز کرنے کا حکم اس شخص کے لئے ہے جو اپنے صدق و یقین کی طاقت نہ رکھے اور اس بات کا خوف ہو کہ اگر وہ کسی جذامی کی مخالطت ومجالست کے دوران خود اس مرض میں مبتلا ہوگیا تو اس وہم و اعتقاد کا شکار ہو کر شرک خفی کے گرداب میں پھنس جائے گا۔ کرمانی نے کہا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو یہ فرمایا ہے کہ بیماری کے چھوت کی کوئی حقیقت نہیں ہے تو جذام کی بیماری اس سے مستثنیٰ ہے۔ نووی کہتے ہیں کہ جذام میں ایک خاص قسم کی بدبو ہوتی ہے اگر کوئی شخص کسی جذامی کے ساتھ مخالطت و مجالست اور ہم خوری وہم بستری میں زیادتی اختیار کرے تو وہ بو اس کو متاثر کرتی ہے اور بیمار کردیتی ہے۔ جیسا کہ اگر کوئی شخص ایسا کھانا کھالے یا ایسی بو میں پھنس جائے جو اس کے مزاج و طبیعت کے موافق نہ ہو یا اس کا مضر ہونا ظاہر ہو تو اس شخص سے متاثر ہوتا ہے اور مختلف قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتا ہے اگرچہ یہ چیزیں محض ایک ظاہری ذریعہ وسبب بنتی ہے حقیقت میں وہ بیماری اللہ تعالیٰ کے حکم ہی سے لاحق ہوتی ہے اس اعتبار سے جذامی سے پرہیز طبی نقطہ نظر اور حصول حفظان صحت کی رو سے ہوگا نہ کہ اس کو چھوت سمجھنے کی وجہ سے۔

4480Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نیک فال لیتے تھے

عن ابن عباس قال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتفاءل ولا يتطير وكان يحب الاسم الحسن . رواه في شرح السنة .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ (اچھی فال لیتے تھے اور شگون بد نہیں لیتے تھے، نیز آپ ﷺ اچھے ناموں کے ذریعہ فال لینے کو) پسند فرماتے تھے۔ (شرح السنتہ )

4481Mishkaat-al-Masabih

شگون بد لینا شیطانی کام ہے

وعن قطن بن قبيصة عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال العيافة والطرق والطيرة من الجبت . رواه أبو داود .

اور حضرت قطن بن قبیصہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں، کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ عیافہ، طرق اور شگون بد لینا یہ سب چیزیں جبت میں سے ہیں۔ (ابوداؤد) تشریح عیفۃ تطیر یعنی پرندوں کے ذریعہ فال لینے کی ایک صورت ہے جس میں پرندے کو خاص طور پر اڑا کر یا اس کو خود بخود اڑنے اور اس کی آواز کے ذریعہ نیک فالی یا بدفالی لی جاتی ہے پہلے زمانہ کے عربوں میں اس کا بہت زیادہ رواج تھا اور عیافت دانی ایک باقاعدہ فن سمجھا جاتا تھا اس میں عام طور پر پرندوں کے نام کا اعتبار کیا جاتا ہے، مثلاً عقاب کے ذریعہ عقوبت، غراب کوے کے ذریعہ عربت اور ہد ہد کے ذریعہ ہدایت کی فال لی جاتی تھی۔ طیرہ اور عیافہ میں فرق یہ ہے کہ طیرہ کے مفہوم میں عمومیت ہے کہ خواہ کسی پرندے کے ذریعہ شگون بد لیا جائے یا کسی اور جانور کے ذریعے جبکہ عیافہ کا استعمال خاص طور پر کسی پرندے کی آواز کے ذریعہ نیک یا بد فالی لینے کے مفہوم میں ہوتا ہے، نہایہ میں لکھا ہے کہ عیافہ کے معنی ہیں ڈلے مار کر یا ہشکا کر کسی پرندے کو اڑانا اور اس کے نام، اس کی آواز اور اس کے اڑنے و گزرنے کے ذریعہ فال لینا۔ طرق (کنکریاں) مارنے کو کہتے ہیں، فال لینے کی یہ بھی ایک صورت تھی، چناچہ پہلے زمانہ میں خاص طور پر عرب عورتیں فال لیتے وقت کنکریاں مارتی تھیں۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ریت پر خطوط اور لکیریں کھینچنے کو طرق کہتے ہیں جیسا کہ رمل جاننے والے ریت پر مختلف طرح کے ہند سے اور خطوط وغیرہ کھینچتے ہیں اور ان کے ذریعہ غیب کی باتیں دریافت کرنے کا دعوی کرتے ہیں۔ جبت سحر و کہانت کے معنی میں ہے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ جبت کے معنی ہیں ہر وہ چیز جس میں بھلائی نہ ہو، یا وہ چیز جو اللہ کے سوا پوجی جائے، یعنی شرک اور بعض حضرات کے نزدیک جبت شیطان کے کام کو کہتے ہیں۔۔ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ یہ سب چیزیں یعنی شگون بد لینا، پرندوں کی آواز کے گزرنے کے ذریعہ اور کنکریاں مار کر فال لینا، یا رمل و زائنچہ وغیرہ کھینچ کر آئندہ کے حالات بتلانا، سحر و کہانت کے حکم میں داخل ہیں، یہ سب شرک کے کام ہیں اور زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ سب چیزیں شیطان کے کام ہیں۔

4482Mishkaat-al-Masabih

بدشگونی شرک ہے

وعن عبد الله بن مسعود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال الطيرة شرك قاله ثلاثا وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل . رواه أبو داود والترمذي وقال سمعت محمد بن إسماعيل يقول كان سليمان بن حرب يقول في هذا الحديث وما منا إلا ولكن الله يذهبه بالتوكل . هذا عندي قول ابن مسعود .

اور حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا۔ شگون بد لینا شرک ہے آپ ﷺ نے (زیادہ سے زیادہ) اہمیت ظاہر کرنے کے لئے) یہ بات تین مرتبہ فرمائی تاکہ لوگ اس سے اجتناب کریں اور ہم میں سے جو بھی شخص ایسا ہوتا ہے (کہ جس کے دل میں کبھی بدشگونی کے ذریعہ تردود و خلجان پیدا ہوجاتا ہے) تو اللہ تعالیٰ اس کو اس پر بھروسہ و اعتماد کرنے سے روک دیتا ہے یعنی یہ ایمان کا تقاضہ ہے کہ کسی کام و سفر کے قصد و ارادہ کے وقت کوئی ایسی چیز ظاہر ہوجائے جس سے بتقاضائے بشریت دل و دماغ میں کوئی وہم اور تردد پیدا ہو تو اس وہم پر قطعا بھروسہ و اعتماد نہ کیا جائے بلکہ اللہ تعالیٰ پر توکل و یقین رکھتے ہوئے اس کام کو کیا جائے یا اس سفر پر چلا جائے۔ (ابوداؤد، ترمذی، ) اور ترمذی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت امام بخاری سے سنا وہ فرماتے تھے کہ میرے استاد و شیخ حضرت سلمان بن حرب اس حدیث کے بارے میں فرماتے تھے کہ حدیث کی یہ عبارت وما منا الا والکن اللہ یذہبہ بالتوکل میرے نزدیک حضرت ابن مسعود ؓ کا قول ہے (نہ کہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے )۔ تشریح شگون بد لینا شرک ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ یہ چیز مشرکین کے طور طریقوں اور ان کی عادات میں سے ہے اور شرک خفی کی موجب ہے۔ ہاں اگر جزما یہ اعتقاد رکھا جائے کہ یونہی ہوگا تو وہ شگون بلا شک وشبہ کفر کے حکم میں ہوگا۔

4483Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نے جذامی کے ساتھ کھانا کھایا

وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم أخذ بيد مجذوم فوضعها معه في القصعة وقال كل ثقة بالله وتوكلا عليه . رواه ابن ماجه .

اور حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے ایک جذامی کا ہاتھ پکڑ کر اس کو کھانے کے پیالہ میں اپنے ساتھ شریک کیا اور فرمایا کہ کھاؤ، میرا اللہ پر اعتماد و بھروسہ ہے اور میں اسی کی ذات پر توکل کرتا ہوں۔ (ابن ماجہ) تشریح اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ توکل و یقین کا مرتبہ حاصل ہوجانے کے بعد جذامی سے بھاگنا اور اس کو اپنے سے الگ رکھنا ضروری نہیں ہے۔

4484Mishkaat-al-Masabih

بدشگونی کوئی چیز نہیں ہے

وعن سعد بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال لا هامة ولا عدوى ولا طيرة وإن تكن الطيرة في شيء ففي الدار والفرس والمرأة . رواه أبو داود .

اور حضرت سعد بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ ہامہ کوئی چیز ہے نہ ایک سے دوسرے کو بیماری کا لگنا کوئی حقیقت رکھتا ہے اور نہ شگون بد میں کوئی حقیقت ہے، اگر کسی چیز میں شگون بد ہوتا تو گھر میں گھوڑے اور عورت میں ہوتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح طیرہ یعنی بدشگونی اور نحوست کے سلسلے میں مختلف احادیث منقول ہیں، جن احادیث سے طیرہ کے اثرات کی نفی اور اس کا اعتبار کرنے یا اس پر اعتقاد رکھنے کی نہی و ممانعت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ ہیں، بعض احادیث سے طیرہ کے اثرات کی نفی اور اس کا اعتبار کرنے یا اس پر اعتقاد رکھنے کی نہی و ممانعت ثابت ہوتی ہے وہ زیادہ ہیں، بعض احادیث سے عورت، گھوڑے اور گھر میں طیرہ کا ثبوت یقینی الفاظ کے ذریعہ مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ بخاری و مسلم کی روایت ہے۔ انما الشوم فی ثلث الفرس ولمرأۃ والدار یعنی اس میں کوئی شک نہیں کہ تین چیزوں میں نحوست ہے، گھر، گھوڑے اور عورت میں ایک روایت میں وہ تین چیزیں زمین، خادم اور گھوڑا بیان کی گئی ہیں۔ بعض احادیث سے ان تین چیزوں میں طیرہ کا ثبوت الفاظ شرط کے ساتھ مفہوم ہوتا ہے جیسا کہ اوپر نقل کی گئی حدیث یا اسی طرح دوسری حدیث کے الفاظ ہیں کہ اگر بد شگونی اور نحوست کوئی چیز ہوتی تو ان چیزوں میں پائی جاتی، بعض احادیث سے دوسری تمام چیزوں کی طرح ان تین چیزوں میں بھی نحوست کے پائے جانے کا انکار مفہوم ہوتا ہے، جیسا کہ ابن ابی ملیکہ کی روایت ہے جس کو انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے اور بعض احادیث میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ان چیزوں میں نحوست کے پائے جانے کا اعتقاد زمانہ جاہلیت کے بےسروپا اعتقادات و خیالات سے ہے۔ غرض کہ اس بارے میں مختلف مفہوم کی روایتیں منقول ہیں لہٰذا ان سب کے درمیان وجہ مطابقت اور ان سب کا حاصل مقصد یہ ہے کہ تطیر یعنی شگون بد لینا اور کسی چیز کو منحوس سمجھنا بالکل بےاصل بات ہے اگر بالفرض یہ مان لیا جائے کہ کچھ چیزوں میں نحوست ہوتی ہے تو جو چیزیں ایسی ہیں جو اپنی بعض حیثیتوں اور مآل کار کے اعتبار سے اس قابل ہیں کہ ان میں نحوست کا ہونا گمان کیا جاسکتا ہے اور ان کو نحوست کا موقع ومحل قرار دیا سکتا ہے۔ یہ بات ایسی ہی ہے جیسا کہ اس روایت میں فرمایا گیا ہے۔ لوکان شی سابق القدر لسبقۃ العین یعنی اگر کوئی چیز تقدیر پر سبقت لے جانے والی ہو تو وہ نظر بد ہوتی۔ قاضی نے بھی اسی طرح کی بات کہی ہے وہ کہتے ہیں کہ حدیث میں پہلے تو طیرہ کا انکار کرنا اور اس کے بعد یہ شرطیہ جملہ (کہ اگر کسی چیز میں شگون بد ہوتا تو گھر میں گھوڑے میں ایک عورت میں ہوتا) لانا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ تطیر یعنی بدشگونی کی نحوست کا انکار اس مفہوم میں ہے اگر نحوست کا کوئی وجود ثبوت ہوتا تو ان تین چیزوں میں ہوتا کیونکہ یہی تین چیزیں نحوست کا موقع و محل ہوسکتی ہیں، لیکن جب ان چیزوں میں بھی نحوست کا کوئی وجود نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ نحوست سرے سے کوئی وجود نہیں رکھتی۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ اگر ان چیزوں میں نحوست کا کوئی وجود مفہوم ہوتا ہے تو اس معنی میں کہ اگر عورت زبان دراز، بےحیاء اور بدکار ہو یا اس کی کوکھ سے بچہ جنم نہ لیتا ہو یا اپنے شوہر کی نافرمانی کرتی ہو اور یا مکروہ صورت و بدشکل ہو تو اس اعتبار سے اس کو منحوس کہا جاتا ہے گھر میں نحوست کا ہونا اس معنی میں ہے کہ وہ گھر تنگ و تاریک ہو اس کا پڑوس برے ہمسایوں پر مشتمل ہو اور اس کی آب و ہوا ناموافق ہو، اسی طرح گھوڑے میں نحوست کا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ گھوڑا سرکش و شریر ہو، کھانے میں تو تیز ہو لیکن چلنے میں مٹھا ہو، خصوصیات کے اعتبار سے کم تر ہو لیکن قیمت کے اعتبار سے گراں ہو اور مالک کی ضرورت و مصالح کو پورا نہ کرتا ہو، گھوڑے ہی پر خادم کو قیاس کیا جاسکتا ہے، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ نحوست سے شرعی و طبعی کراہت و ناپسندیدگی مراد ہے اس اعتبار سے شوم و تطیر کی نفی تو عموم و حقیقت پر محمول ہوگی یعنی حقیقت تو یہی ہے کہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جس میں نحوست کا کوئی وجود ہو لیکن جن احادیث سے بعض چیزوں میں نحوست کا ہونا مفہوم ہوتا ہے ان میں نحوست سے مراد ان چیزوں کا طبعی طور پر یا کسی شرعی قباحت کی بنا پر ناپسندیدہ ہونا ہے۔

4485Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نیک فال لینے کے لئے اچھے ناموں کا سننا پسند فرماتے تھے

وعن أنس أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعجبه إذا خرج لحاجة أن يسمع يا راشد يا نجيح . رواه الترمذي .

اور حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی کام کے لئے باہر نکلتے تو آپ ﷺ کو یہ اچھا معلوم ہوتا کہ کسی کی زبان سے یہ سنیں اے راشد اے نجیح یعنی کسی کام کے لئے جاتے وقت اس طرح کے نام و الفاظ سننا نیک فال ہے۔ (ترمذی )

4486Mishkaat-al-Masabih

آنحضرت ﷺ نیک فال لینے کے لئے اچھے ناموں کا سننا پسند فرماتے تھے

وعن بريدة أن النبي صلى الله عليه وسلم كان لا يتطير من شيء فإذا بعث عاملا سأل عن اسمه فإذا أعجبه اسمه فرح به ورئي بشر ذلك على وجهه وإن كره اسمه رئي كراهية ذلك على وجهه وإذا دخل قرية سأل عن اسمها فإن أعجبه اسمها فرح به ورئي بشر ذلك في وجهه وإن كره اسمها رئي كراهية ذلك في وجهه . رواه أبو داود . ( حسن )

اور حضرت بریدہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کسی چیز سے شگون بد نہ لیتے تھے اور جب آپ ﷺ کسی عامل (کارکن کو کہیں) روانہ کرنے لگتے تو اس کا نام دریافت فرماتے، اگر اس کا نام اچھا معلوم ہوتا تو آپ ﷺ اس سے خوش ہوئے اور آپ ﷺ کی خوشی سے ظاہر ہوتی (یہاں تک کہ آپ ﷺ اس کے نام کو کسی اچھے نام سے بدل دیتے) اسی طرح جب آپ ﷺ کسی بستی میں داخل ہوتے تو اس بستی کا نام پوچھتے اگر آپ ﷺ کو اس کا نام اچھا معلوم ہوتا تو اس سے خوش ہوتے اور آپ ﷺ کی ناگواری آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہوتی ( ابوداؤد) تشریح کسی برے نام کو سن کر ناگواری ہونا تطیر ( یعنی شگون بد لینا) نہیں ہے تطیر تو اس صورت میں ہوتا جب آپ ﷺ برے نام کو سن کر اپنے کام یا اپنے سفر کو ترک کردیتے جیسا کہ شگون بد لینے کی صورت میں ہوتا ہے تاہم کسی شخص یا آبادی کا برا اور بھدا نام سن کر آپ ﷺ کے چہرہ مبارک سے ناگواری کے اثرات نمایاں ہوتے تھے کیونکہ طبیعت کا اچھائی و برائی سے متاثر ہونا اور اس کے نتیجے میں خوشی یا ناخوشی کا ظاہر ہونا تفاؤل وتطیر سے قطع نظر ایک فطری بات ہے۔ ابن ملک کہتے ہیں کہ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنی اولاد یا اپنے خادم کے لئے اچھے نام کو اختیار کرنا سنت ہے، کیونکہ بسا اوقات برے نام تقدیر کے موافق ہوجاتے ہیں اور اس کے نتائج دور رس اثرات کے حامل ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص اپنے بیٹے کا نام خسار رکھے تو ہوسکتا ہے کہ کسی موقع پر خود وہ شخص یا اس کا وہ بیٹا تقدیر الہٰی کے تحت خسارہ میں مبتلا ہوجائے اور اس کے نتیجہ میں لوگ یہ سمجھنے لگیں کہ اس کا خسارہ مبتلا ہونا نام کی وجہ سے ہے اور بات یہاں تک پہنچے کہ لوگ اس کو منحوس جاننے لگیں اور اس کی صحبت وہم نشینی تک سے احتراز کرنے لگیں۔