طب کا بیان

Mishkaat-al-Masabih · Chapter 141 · 97 hadiths · Page 5 of 5

4487Mishkaat-al-Masabih

مکان میں بے برکتی کا ذکر

وعن أنس قال قال رجل يا رسول الله إنا كنا في دار كثر فيها عددنا وأموالنا فتحولنا إلى دار قل فيها عددنا وأموالنا . فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ذروها ذميمة . رواه أبو داود .

اور حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن بارگاہ رسالت میں ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ پہلے ہم ایک مکان میں رہا کرتے تھے جس میں ہمارے افراد کی تعداد بھی زیادہ تھی اور ہمارے پاس مال بھی بہت تھا، پھر ہم ایک دوسرے مکان میں منتقل ہوگئے تو اس میں ہمارے آدمیوں کی تعداد بھی کم ہوگئی اور ہمارے مال بھی تھوڑا رہ گیا رسول کریم ﷺ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ اس مکان کو چھوڑ دو جو برا ہے۔ (ابوداؤد )۔ تشریح آنحضرت ﷺ کا اس مکان کو چھوڑ دینے کا حکم اس مکان کو منحوس سمجھنے کی بنا پر نہیں تھا۔ بلکہ اس مکان کی آب و ہوا اور اس کی سکونت چونکہ مکینوں کو راس نہیں آئی اس لئے آپ ﷺ نے بہتر یہی سمجھا کہ وہ مکان کو چھوڑ دیں۔ خطابی کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کو مکان چھوڑ دینے کا حکم اس مصلحت کے پیش نظر دیا کہ ان کے دلوں میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ سارے نقصان اور ساری جڑ مکان ہے اگر ہم اس مکان میں نہ رہتے تو نہ ہمارے آدمیوں میں کمی آتی اور نہ ہمارے مال و اسباب کا نقصان ہوتا، لہٰذا آپ ﷺ نے ان کو مکان چھوڑ دینے کا حکم ہی بہتر سمجھا۔ تاکہ ان کے غلط خیال اور واہمہ کی جڑ ہی کٹ جائے اور یہ شرک خفی کے گرداب میں نہ پھنسیں۔

4488Mishkaat-al-Masabih

خراب آب وہوا کو چھوڑ دینے کا حکم

وعن يحيى بن عبد الله بن بحير قال أخبرني من سمع فروة بن مسيك يقول قلت يا رسول الله عندنا أرض يقال لها أبين وهي أرض ريفنا وميرتنا وإن وباءها شديد . فقال دعها عنك فإن من القرف التلف . رواه أبو داود .

اور حضرت یحییٰ بن عبداللہ بن بحیر کہتے ہیں کہ مجھ سے اس شخص نے بیان کیا کہ جس نے حضرت فردہ ؓ بن مسیک سے یہ روایت سنی کہ انہوں نے یعنی فروہ نے کہا کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس ایک زمین ہے جس کو ابین کہا جاتا ہے اور وہ ہماری زراعت اور غلے کی زمین ہے یعنی وہ غلہ منڈی ہے، جہاں تجارت کے لئے دوسری جگہوں سے غلہ لا کر جمع کیا جاتا ہے اور دوسرے شہروں میں بھیجا جاتا ہے لیکن اس زمین کی وبا سخت ہے یعنی وہاں وبائی امراض زیادہ رہے ہیں آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو (یعنی وہاں رہنا اور آنا جانا ترک کردو کیونکہ وہ طاعون زدہ آبادی کے حکم میں ہے) اور وبا (بیماری) کا قرب ہلاکت اور اتلاف کا باعث ہوتا ہے۔ (ابوداؤد) تشریح طیبی کہتے ہیں کہ اس زمین کو چھوڑنے کا حکم عدویٰ یعنی چھوت کے نقطہ نظر سے نہیں تھا بلکہ اصول طب اور حفظان صحت کے پیش نظر تھا کیونکہ وہاں کی آب و ہوا غیر موافق تھی اور یہ ظاہر ہے کہ آب و ہوا کا اچھا و صاف اور موافق ہونا حفظان صحت کی بنیاد اور جسم و بدن کی تندرستی و سلامتی کے لئے ضروری اسباب میں سے ہے اس کے برعکس آب و ہوا کا خراب و ناموافق ہونا صحت و تندرستی کے لئے انتہائی مضر اور بیماری و ہلاکت کا سبب ہوتا ہے۔ بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ وبا کی جگہ سے بھاگ جانا جاہئے وہ شاید اسی حدیث کے مضمون سے استدلال کرتے ہیں، ان حضرات کے مطابق اس شخص نے آنحضرت ﷺ سے وبا کی شکایت کی کہ اس زمین میں وبائیں پھیلتی ہیں لہٰذا آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اس زمین کو چھوڑ دو اور وہاں سے نکل جاؤ، کیونکہ وبائی امراض کی قربت و مخالطت ہلاکت کا باعث ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت میں اس حدیث سے مذکورہ استدلال قطعا غیر موزوں ہے کیونکہ یہ حدیث اس صورت سے متعلق نہیں ہے کہ وہاں وبا پھیلی ہوئی تھی اور آپ ﷺ نے وہاں سے بھاگ جانے کو جائز رکھا بلکہ اس شخص کی شکایت کا تعلق دراصل اس بات سے تھا کہ وہ زمین ایسی ہے۔ جہاں وبائیں پھیلتی رہتی ہیں۔ گویا اس شخص نے اس زمین کو منحوس و مکروہ جانا، چناچہ اس کے باطنی احوال کی کمزوری کی بنا پر اس کو یہ اجازت دینا ہی بہتر سمجھا گیا کہ وہ اس زمین کو چھوڑ دے اور وہاں آنا جانا ترک کر دے تاکہ وہ ان وباؤں کو اس زمین کو نحوست سمجھ کر بےبنیاد عقیدے کا شکار نہ ہوجائے اور شرک خفی کے گرداب میں نہ پھنس جائے۔ ویسے وبا کی جگہ کی مسئلہ میں علماء کے مختلف اقوال و مباحث ہیں مگر جس صورت کو علماء نے زیادہ بہتر قرار دیا ہے اور جس پر عمل کیا جانا چاہئے وہ یہ ہے کہ پیش از وقوع تو احتراز و اجتناب کیا جائے اور بعد از وقوع صبر و رضا کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ اگر کسی شہر و آبادی میں کوئی وبائی مرض پھیل جائے تو وہاں پہلے سے موجود لوگوں کو اس شہر و آبادی سے بھاگنا ناروا ہے بلکہ وہاں رہتے ہوئے توبہ استغفار کیا جائے اور اس وبا کے دفعیہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا و تضرع کیا جائے جیسا کہ صحیح احادیث سے ثابت ہے، چناچہ بخاری و مسلم، وغیر ہما میں وہ احادیث موجود ہیں جن میں وبا زدہ آبادی سے نکلنے اور وبا سے ڈر کر بھاگنے کی ممانعت نیز ایسے مواقع پر صبر و اثبات کی راہ اختیار کرنے کی ترغیب و تعریف منقول ہے۔ واضح رہے کہ وبا سے بھاگنے کو جائز قرار دینے والے حضرات کا اس حدیث سے استدلال کرنا یوں بھی غیر مناسب ہے کہ اس حدیث کو ابوداؤد نے نقل کیا ہے جب کہ جو احادیث بھاگنے کی ممانعت کو ثابت کرتی ہیں ان کو بخاری، ومسلم نے نقل کیا ہے جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا لہٰذا یہ حدیث بخاری، ومسلم، کی احادیث کے معارض نہیں ہوسکتی علاوہ ازیں اس حقیقت کو بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ علماء و محققین کے مطابق فروہ ؓ بن مسیک کوئی کثیر الروایت صحابی نہیں ہیں بلکہ ان سے ایک دو ہی حدیثیں نقل کی گئی ہیں اور وہ بھی ایک ایسے راوی نے روایت کی ہیں جو بالکل مجہول غیر معروف ہیں یہاں تک کہ ان کا نام تک معلوم نہیں ہوسکا ہے۔ بلکہ خود یحییٰ ابن عبداللہ ابن بحیر کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ کوئی ثقہ راوی ہیں بھی یا نہیں؟ حاصل یہ کہ وبا سے ڈر کر بھاگنا بلا شک و شبہ ممنوع اور معصیت ہے اور اگر کوئی اس اعتقاد کے ساتھ بھاگے کہ یہاں موجود رہا اور صبر و اثبات کی راہ اختیار کی تو یقینا وبا کا شکار ہو کر مرجاؤں گا اور اگر یہاں سے نکل بھاگا تو بچ جاؤں گا تو ایسا شخص نہ صرف بھاگنے کی معصیت ہی کا مرتکب ہوگا بلکہ اس فاسد اعتقاد کی بنا پر کافر ہوجائے گا اس اعتقاد کے بغیر بھاگنے والا معاصی ہوگا۔ وبا سے ڈر کر بھاگنے کو، زلزلہ آجانے یا آگ لگ جانے کی صورت میں گھر سے نکل بھاگنے پر قیاس کرنا بھی ایک مہمل بات ہے کیونکہ اول تو یہ قیاس نص کے خلاف ہے، دوسرے زلزلہ آجانے، گھر کے گر پڑنے اور مکان میں آگ لگ جانے کی صورت میں گھر میں موجود رہنا یقینی طور پر ہلاکت و تباہی کا موجب ہے، جیسا کہ عام طور پر دیکھا جاتا ہے اس کے برخلاف وباء سے نہ بھاگنے کی صورت میں مرجانا یقینی نہیں ہوتا بلکہ مشکوک و موہوم ہوتا ہے۔

4489Mishkaat-al-Masabih

بدشگونی کو سد راہ نہ بناؤ

عن عروة بن عامر قال ذكرت الطيرة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أحسنها الفأل ولا ترد مسلما فإذا رأى أحدكم ما يكره فليقل اللهم لا يأتي بالحسنات إلا أنت ولا يدفع السيئات إلا أنت ولا حول ولا قوة إلا بالله . رواه أبو داود .

حضرت عروہ بن عامر تابعی کہتے ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ کے سامنے بدشگونی کا ذکر ہوا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی بہترین صورت اچھی فال ہے اور یاد رکھو کسی مسلمان کو شگون بد ( اس کے مقصد و ارادہ سے) باز نہ رکھے (یعنی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کام کو کرنے کا ارادہ کرے اور پھر کسی چیز کو بد شگونی سمجھ کر اس کام سے باز رہے) اور جب تم میں کوئی شخص ایسی چیز کو دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہے یعنی ایسی چیز جس کے ذریعہ شگون بد لیا جاتا ہے اور جو دل و دماغ میں وہم و خلجان پیدا کرتی ہے تو چاہئے کہ یہ دعا پڑھے (اللہم لایاتی بالحسنات الا والا یدفع السیات الا انت ولا حول ولاقوۃ الا باللہ) اے اللہ! اچھائیوں اور برائیوں کا لانے والا صرف تو ہے اور صرف تو ہی برائیوں اور خرابیوں کو دور کرنے والا ہے اور برائی سے منہ موڑنے اور نیکی کی طرف آنے کی توفیق و طاقت اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ اس روایت کو ابوداؤد نے بطریق روایت نقل کیا ہے۔

4490Mishkaat-al-Masabih

کہانت کا بیان

صراح میں لکھا ہے کہ کہانت فال گوئی کو کہتے ہیں اور اس ( فال گوئی) کے پیشہ و ہنر کو کہانت کہا جاتا ہے اسی طرح فال گو کاہن کہتے ہیں طیبی کہتے ہیں کہ کاہن اس شخص کو کہتے ہیں جو آئندہ پیش آنے والے واقعات و حوادث کی خبر دے اور علم غیب و معرفت اسرار کا دعوی کرے آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب میں کہانت کا بڑا رواج تھا اہل عرب کاہنوں کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتماد بھروسہ کرتے تھے ان میں سے بعض کاہن یہ دعوی کرتے تھے کہ جو جنات آسمان پر جاتے ہیں وہ وہاں کی باتیں ہم کو بتا دیتے ہیں یہ بات تو روایت سے بھی ثابت ہے کہ بعثت نبوی ﷺ سے پہلے شیاطین چوری چھپے آسمان پر جاتے وہاں دنیا میں آئندہ پیش آنے والے واقعات جن کا تذکرہ فرشتوں میں ہوتا یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرشتوں کو جو احکام دیئے جاتے وہ شیاطین ان کو ادھر ادھر چھپ کر سن لیتے تھے اور پھر زمین پر آ کر ان میں اپنی من پسند باتوں کا اضافہ کر کے اور جھوٹ ملا کر اپنے متبعین کو بتا دیتے وہ لوگ ان سب باتوں کو صحیح مان کر تسلیم کرتے اور ان کے ذریعہ اہل عرب پر اپنی غیب دانی کا سکہ جماتے، لیکن آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد جب شیاطین کو آسمان پر جانے سے روک دیا گیا اور یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔ تو کہانت کا کام بھی تمام ہوگیا۔ کہانت ہی کی طرح کی ایک چیز عرافت بھی تھی کچھ لوگ بعض مخصوص چیزوں اور کچھ علامات و مقدمات کے ذریعہ پوشیدہ چیزوں کی خبر دیتے تھے، جیسے رمل جاننے والوں کی طرح وہ بھی بتا دیتے تھے کہ چوری کا مال کہاں موجود ہے۔ یا گمشدہ شخص کس جگہ ہے وغیرہ وغیرہ ایسے لوگوں کو عراف کہا جاتا تھا بعض مواقع پر کاہن کا اطلاق عراف اور منجم پر بھی ہوتا ہے علماء لکھتے ہیں کہ کہانت، عرافت اور رمل و نجوم کا علم حرام ہے کہ ان کا سیکھنا اور ان پر عمل کرنا شریعت نے قطعا روا نہیں رکھا ہے اسی لئے ان علوم کے ذریعہ کمایا ہوا مال بھی حرام ہوتا ہے، لینے والا اور دینے والا دونوں گنہگار ہوتے ہیں جو لوگ دنیاوی طور پر یا دینی طور پر مخلوق اللہ کی دیکھ بھال اور ان کی ہدایت و راہنمائی پر مامور ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ لوگوں کو ان چیزوں میں پڑنے سے روکیں اور جو لوگ ان میں مبتلا ہیں ان کو تادیب و تنبیہ کریں

4491Mishkaat-al-Masabih

کہانت ورمل ناجائز ہے

عن معاوية بن الحكم قال قلت يا رسول الله أمورا كنا نصنعها في الجاهلية كنا نأتي الكهان قال فلا تأتوا الكهان قال قلت كنا نتطير قال ذلك شيء يجده أحدكم في نفسه فلا يصدنكم . قال قلت ومنا رجال يخطون قال كان نبي من الأنبياء يخط فمن وافق خطه فذاك . رواه مسلم . ( متفق عليه )

حضرت معاویہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! ﷺ ایسی کتنی ہی چیزیں ہیں جن کو ہم زمانہ جاہلیت میں کیا کرتے تھے، ان میں سے ایک تو یہ ہے کہ ہم کاہنوں کے پاس جاتے تھے (اور ان سے غیب کی باتیں پوچھا کرتے تھے) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اب تم کاہنوں کے پاس نہ جایا کرو، حضرت معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا ایک چیز یہ بھی ہے کہ ہم شگون بد لیا کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو تم میں سے کوئی اپنے دل میں محسوس کرسکتا ہے لیکن یہ (یعنی دل میں اس طرح کا خیال آنا) تم کو کسی کام سے نہ روکے (یعنی اگر تم میں سے کوئی شخص بتقاضائے بشریت شگون بد کا خیال بھی لائے تو اس سے متاثر ہو کر اپنے قصد و ارادہ سے باز نہ رہے کیونکہ بدشگونی وہم محض سے زیادہ کوئی حقیقت نہیں رکھتی) حضرت معاویہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا۔ ایک چیز یہ بھی ہے کہ ہم میں سے کچھ لوگ لکیریں اور خطوط کھینچتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا،۔ انبیاء میں سے ایک نبی گزرے ہیں جو (اللہ تعالیٰ کے حکم سے یا اپنے علم لدنی کے ذریعہ) لکیریں اور خطوط کھینچا کرتے تھے لہٰذا جس شخص کا خط ان کے موافق ہو وہ مباح ہوگا (ور نہ ناجائز )۔ ( مسلم) تشریح حدیث میں جن نبی کا ذکر کیا گیا ہے ان سے حضرت دانیال (علیہ السلام) یا بعض حضرات کے قول کے مطابق حضرت ادریس (علیہ السلام) مراد ہیں۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ لکیریں اور خطوط کھینچنے کا علم کہ جس کو رمل کہا جاتا ہے اصل میں ان نبی سے چلا تھا جو اب اپنے حقیقی اصول وقواعد کے اعتبار سے معدوم ہوچکا ہے، اگر اب بھی کوئی شخص اس علم کو انہی خصوصیات و شرائط کے ساتھ جانتا ہو جو ان نبی ﷺ نے وضع فرمائے تھے اور اس کا لکیریں اور خطوط کھینچنا بالکل اسی طرح ہو جس طرح نبی کھینچتے تھے تو اس صورت میں اس علم سے فائدہ اٹھانا مباح ہوگا، لیکن یہ بات چونکہ متحقق ہے کہ یہ علم اپنے اصل کے اعتبار سے دنیا سے اٹھ گیا ہے اور کوئی شخص یہ جاننے پر قادر نہیں ہے کہ وہ نبی کس طرح لکیریں اور خطوط کھینچا کرتے تھے اس لئے اب اس علم کو سیکھنا اور اس پر عمل کرنا حرام و ممنوع ہوا اس کی وضاحت باب مالا یجوز من العمل فی الصلوۃ گزر چکی ہے۔

4492Mishkaat-al-Masabih

کہانت کوئی حقیقت نہیں ہے

وعن عائشة قالت سأل أناس رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الكهان فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم إنهم ليسوا بشيء قالوا يا رسول الله فإنهم يحدثون أحيانا بالشيء يكون حقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم تلك الكلمة من الحق يخطفها الجني فيقرها في أذن وليه قر الدجاجة فيخلطون فيها أكثر من مائة كذبة .

اور حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ سے کاہنوں کے بارے میں پوچھا (کہ ان کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتماد کیا جاسکتا ہے یا نہیں) تو رسول کریم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ وہ کچھ نہیں ہیں یعنی وہ جن باتوں کا دعوی کرتے ہیں وہ بےبنیاد ہوتی ہیں اس لئے ان کی بتائی ہوئی باتوں پر اعتماد بھروسہ مت کرو۔ لوگوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! بعض دفعہ وہ ایسی بات بتاتے ہیں یا ایسی خبر دیتے ہیں۔ جو سچ ہوتی ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ بات حق ہوتی ہے جس کو جن (یعنی شیطان) اچک لیتا ہے اور اپنے دوست (کاہن) کے کان میں اس طرح ڈال دیتا ہے۔ جس طرح مرغ کوئی دوسرے مرغ کو دانہ لینے کے لئے بلاتا ہے پھر وہ کاہن اس بات میں سو سے زیادہ جھوٹی باتیں ملا دیتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح وہ بات حق ہوتی ہے جس کو جن اچک لیتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ کاہنوں کی جو باتیں یا بعض چیزیں صحیح ثابت ہوتی ہیں اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ جب ذات حق جل مجدہ سے کوئی حکم بذریعہ وحی فرشتوں تک آتا ہے یا لوح محفوظ کی کوئی بات فرشتوں پر منکشف ہوتی ہے تو کسی طرح سے جنات و شیاطین ان فرشتوں سے اس بات یا حکم کو سن لیتے ہیں اور اس کو ان لوگوں کے کان میں پھونک دیتے ہیں جو ان جنات اور شیاطین کے پیروکار ہوتے ہیں (یعنی وہ کاہن) اور پھر وہ کاہن اس ایک بات میں سینکڑوں جھوٹی باتیں ملا کر لوگوں کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ بعض حضرات نے لفظ یقرہا فی اذن ولیہ قر الدجاجۃ کے معنی یہ بیان کئے ہیں کہ جس طرح مرغ اپنی مرغی سے جفتی کے وقت اس طرح منی ڈالتا ہے کہ کسی آدمی کو معلوم نہیں ہوتا اسی طرح وہ جن اس آسمانی بات کو اپنے پیروکار کے کان میں اس طور سے ڈالتا ہے کہ اس کے علاوہ دوسرے لوگوں کو اس کا علم نہیں ہوتا۔

4493Mishkaat-al-Masabih

کہانت کوئی حقیقت نہیں ہے

وعنها قالت سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن الملائكة تنزل في العنان وهو السحاب فتذكر الأمر قضي في السماء فتسترق الشياطين السمع فتوحيه إلى الكهان فيكذبون معها مائة كذبة من عند أنفسهم . رواه البخاري .

اور حضرت عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ فرشتوں کی کوئی جماعت جب عنان یعنی ابر میں اترتی ہے اور (آپس میں) ان باتوں اور ان امور کا تذکرہ کرتیں ہیں جو آسمان میں اللہ کے ہاں مقدر ہوئے ہیں اور دنیا میں وقوع پذیر ہونے والے ہیں جب وہ کوئی بات سن لیتے ہیں تو اس کو کاہنوں کے پاس پہنچا دیتے ہیں اور وہ کاہن شیاطین سے سنی ہوئی۔ اس بات میں اپنی طرف سے سو جھوٹ ملا لیتے ہیں۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ کاہن جو باتیں بیان کرتے ہیں ان میں وہ بات نہیں ہوتی ہے جو ان شیاطین کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے اور وہ شیاطین اس بات کو فرشتوں سے چوری چھپے سن لیتے ہیں اور چونکہ وہ بات بہر صورت وقوع پذیر ہوتی ہے اس طرح کاہنوں کی بعض باتیں حقیقت و واقعہ کے مطابق ہوجاتی ہیں لیکن یہ چیز بہر حال ملحوظ رکھنے کی ہے کہ وہ کاہن چونکہ اس بات میں اپنی طرف سے سینکڑوں جھوٹی باتیں بھی ملا دیتے ہیں اور ان کی بتائی ہوئی باتوں اور چیزوں پر جھوٹ غالب رہتا ہے اس لئے شریعت نے ان کاہنوں سے استفادہ کرنے اور ان کی باتوں پر دھیان دینے سے سرے سے روک دیا اور فرمایا ان کی باتیں کچھ حقیقت نہیں رکھتیں۔

4494Mishkaat-al-Masabih

نجومیوں اور کاہنوں کے پاس جانے والے کے بارے میں وعید

وعن حفصة قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أتى عرافا فسأله عن شيء لم تقبل صلاة أربعين ليلة . رواه مسلم . ( متفق عليه )

اور حضرت حفصہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص کاہن یا نجومی کے پاس جائے اور اس سے کچھ پوچھنے یعنی غیب کی باتیں دریافت کرے ) تو اس کی چالیس دن رات کی نمازیں قبول نہیں کی جاتی۔ (مسلم) تشریح یہ چیز گویا ایسے شخص کے حق میں سخت نقصان دہ اور انتہائی بدبختی کی علامت ہے کہ اس کی نماز جو عبادات میں سے سب سے افضل اور بزرگ ترین عمل ہے، نامقبول ہوجائے یا یہ مراد ہے کہ اس شخص کی جب نماز ہی قبول نہیں ہوتی تو دوسرے اعمال بطریق اولی قبول نہیں ہوں گے، نیز نماز قبول نہ ہونے سے مراد یہ ہے کہ اس کو ان نمازوں کا ثواب نہیں ملتا اگرچہ اس کے ذمہ سے فرض ادا ہوجاتا ہے اور اس پر ان نمازوں کی قضا واجب نہیں ہوتی۔ حدیث میں اگرچہ اربعین لیلۃ کے الفاظ ہیں یعنی صرف رات کا ذکر کیا گیا ہے مگر حقیقت میں رات اور دن دونوں مراد ہیں کیونکہ اہل عرب کے کلام کا یہ بھی اسلوب ہے کہ الفاظ میں تو ذکر صرف دن یا صرف رات کا ہوتا ہے۔ مگر مراد رات اور دن دونوں ہوتے ہیں۔

4495Mishkaat-al-Masabih

ستاروں کو بارش ہونے کا سبب قرار دینا کفر ہے

وعن زيد بن خالد الجهني قال صلى لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم صلاة الصبح بالحديبية على أثر سماء كانت من الليل فلما انصرف أقبل على الناس فقال هل تدرون ماذا قال ربكم ؟ قالوا الله ورسوله أعلم قال أصبح من عبادي مؤمن بي وكافر فأما من قال مطرنا بفضل الله ورحمته فذلك مؤمن بي كافر بالكوكب وأما من قال مطرنا بنوء كذا وكذا فذلك كافر بي ومؤمن بالكوكب .

حضرت زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مقام حدیبیہ میں ہمیں صبح کی نماز پڑھائی جب کہ رات میں بارش ہوچکی تھی، جب آپ ﷺ نماز فارغ ہوئے تو ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ تم جانتے ہو تمہارے پروردگار نے اس وقت کیا فرمایا ہے (یعنی آپ ﷺ نے ارشاد کیا کہ ابھی مجھ پر وحی نازل ہوئی ہے) صحابہ نے عرض کیا کہ اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میرے بندوں نے آج اس حال میں صبح کی کہ بعض تو مجھ پر ایمان لائے اور بعض نے کفر کی، چناچہ جس شخص نے یہ کہا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کے فضل اور اس کی رحمت سے بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان لایا اور ستاروں کے ساتھ کیا (یعنی ستاروں کے اثر کا منکر ہیں) اور جس شخص نے کہا کہ فلاں ستارے کے طلوع ہونے اور فلاں ستارے کے غروب ہونے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو اس نے میرے ساتھ کفر کیا اور ستاروں پر ایمان لایا۔ (بخاری ومسلم) تشریح جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ بارش ہونے میں ستاروں کی تاثیر کا دخل ہوتا ہے یعنی ستارے ہی بارش برساتے ہیں یا ستارے ہی ایسے اثرات مرتب کرتے ہیں جن سے پانی برستا ہے جیسا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگوں کا عقیدہ ہوتا ہے تو ایسا شخص کافر ہوجائے گا۔ ہاں اگر اعتقاد کی نوعیت یہ ہو کہ بارش اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے اور اس کے فضل و کرم سے ہوتی ہے۔ اور ستاروں کا طلوع و غروب اور نچھتر وغیرہ کی ایک علامت ہے۔ اور ان چیزوں کی بنیاد پر بارش ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہے تو یہ کفر نہیں لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس طرح کا خیال و عقیدہ رکھنا بھی مکروہ تنزیہی ہے۔

4496Mishkaat-al-Masabih

ستاروں کو بارش ہونے کا سبب قرار دینا کفر ہے

وعن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ما أنزل الله من السماء من بركة إلا أصبح فريق من الناس بها كافرين ينزل الله الغيث فيقولون بكوكب كذا وكذا . رواه مسلم .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب بھی اللہ تعالیٰ آسمان سے کوئی برکت نازل کرتا ہے تو انسانوں کی کوئی نہ کوئی جماعت اس کے ذریعہ کفر میں مبتلا ہوجاتی ہے یعنی کچھ نہ کچھ لوگ ایسے ضرور ہوتے ہیں جو اس برکت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے دوسرے ذرائع و اسباب کی طرف منسوب کردیتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ بارش برساتا ہے تو بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ فلاں ستارے کے اثر سے بارش ہوئی ہے۔ (مسلم) تشریح اگرچہ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ برکت سے مراد بارش ہے اور یہ عبارت وینزل الغیث (اللہ تعالیٰ برساتا ہے الخ) ماقبل عبارت اور لفظ برکت کی توضیح ہے لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ برکت سے عام یعنی ہر طرح کی برکت مراد ہو اور وینزل الغیث الخ کے ذریعہ نزول برکت کی ایک مثال اور اس کی ایک خاص صورت کو بیان کرنا مقصود ہو۔

4497Mishkaat-al-Masabih

علم نجوم حاصل کرنا گویا سحر کا علم حاصل کرنا ہے

عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من اقتبس علما من النجوم اقتبس شعبة من السحر زاد ما زاد . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه .

حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص علم نجوم کا ایک حصہ سیکھتا ہے تو گویا وہ علم سحر کا ایک حصہ سیکھتا ہے اس طرح وہ اتنا زیادہ سحر کا علم سیکھتا ہے جتنا زیادہ نجوم کا علم سیکھتا ہے۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ) تشریح علم نجوم کو سحر سے تشبیہ دی گئی ہے کہ نجوم کا علم سیکھنا ایسا ہی ہے جیسا کسی نے جادو ٹوٹکے کا علم سیکھ لیا اور اس مشابہت کی وجہ سے علم نجوم کی برائی کو ظاہر کرنا ہے اس اعتبار سے علم نجوم پر عمل کرنے والا گویا جادوگروں اور کاہنوں میں کا ایک فرد ہے جو خلاف شریعت امور کو اختیار کرتے ہیں اور غیب کی باتیں بتانے کا دعوی کرتے ہیں۔

4498Mishkaat-al-Masabih

کاہنوں کی بتائی ہوئی باتوں کو سچ جاننے والے کے بارے میں وعید

وعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أتى كاهنا فصدقه بما يقول أو أتى امرأته حائضا أو أتى امرأته من دبرها فقد برئ مما أنزل على محمد . رواه أحمد وأبو داود .

اور حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص کاہن کے پاس جائے اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچا جانے، یا جو شخص کاہن کے پاس جائے اور اس کی بتائی ہوئی باتوں کو سچا جانے، یا جو شخص حیض کی حالت میں اپنی بیوی سے ہم بستر ہو، یا جو شخص اپنی بیوی کے پیچھے کی طرف سے بدفعلی کرے تو وہ اس چیز (یعنی قرآن و سنت و شریعت) سے بیزار ہوا جو محمد ﷺ پر نازل ہوئی ہے۔ (احمد، ابوداؤد) تشریح بیزار ہوا کا مطلب یہ ہے کہ وہ کافر ہوگیا، لیکن یہ اس صورت میں پر محمول ہے جب کہ وہ اس کو حلال جانے، حلال نہ جاننے کی صورت میں یہ ارشاد گرامی ﷺ ان چیزوں کی سخت ترین برائی کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے اور ان سخت برائیوں کے اختیار کرنے والے کو شدت کے ساتھ متنبہ کرنے اور ڈرانے پر محمول ہوگا۔

4499Mishkaat-al-Masabih

نجومی اور کاہن غیب کی باتیں کس طرح بتاتے ہیں ؟

عن أبي هريرة أن نبي الله صلى الله عليه وسلم قال إذا قضى الله الأمر في السماء ضربت الملائكة بأجنحتها خضعانا لقوله كأنه سلسلة على صفوان فإذا فزع عن قلوبهم قالوا ماذا قال ربكم ؟ قالوا للذي قال الحق وهو العلي الكبير فسمعها مسترقوا السمع ومسترقوا السمع هكذا بعضه فوق بعض ووصف سفيان بكفه فحرفها وبدد بين أصابعه فيسمع الكلمة فيلقيها إلى من تحته ثم يلقيها الآخر إلى من تحته حتى يلقيها على لسان الساحر أو الكاهن . فربما أدرك الشهاب قبل أن يلقيها وربما ألقاها قبل أن يدركه فكذب معها مائة كذبة فيقال أليس قد قال لنا يوم كذا وكذا كذا وكذا ؟ فيصدق بتلك الكلمة التي سمعت من السماء . رواه البخاري .

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس وقت اللہ تعالیٰ آسمان میں کسی چیز کا حکم جاری کرتا ہے۔ تو فرشتے اللہ کے فرمان سن کر خوف و عاجزی سے اپنے بازو کو پھڑ پھڑانے لگتے ہیں (یعنی فرشتے حکم الہٰی کی ہیبت و عظمت سے مارے ڈر کے پرندوں کی طرح اپنے چکھ پھیلا دیتے ہیں اور لرزنے کانپنے لگتے ہیں) اور اللہ تعالیٰ کے فرمان یعنی اس کے کلام کی آواز (گویا) اس زنجیر کی آواز کی مانند ہوتی ہے جس کو صاف پتھر پر کھینچا جائے پھر جب فرشتوں کے دلوں سے خوف دور ہوجاتا ہے تو وہ (نیچے رہنے والے) تمام فرشتے مقرب فرشتوں سے دریافت کرتے ہیں کہ تمہارے پروردگار نے کیا حکم جاری فرمایا ہے، مقرب فرشتے وہ حکم بتاتے ہیں جو پروردگار نے جاری کیا ہے ( یا مقرب فرشتے دریافت کرنے والے فرشتوں سے کہتے ہیں کہ جو کچھ ہمارے پروردگار نے فرمایا ہے) حق ہے اور اللہ تعالیٰ کی ذات بلند قدر اور بلند مرتبہ ہے۔ چناچہ ان باتوں کو (جو فرشتوں کے درمیان ہوتی ہیں) چوری چھپے سننے والے (یعنی جنات و شیاطین) سن لیتے ہیں اور وہ چوری چھپے سننے والوں کی ہیت کو اپنے ہاتھ (کی انگلیوں) کے ذریعہ بیان کیا چناچہ انہوں نے ہاتھ کو ٹیڑھا کر کے انگلیوں کے درمیان فرق کیا (یعنی حضرت سفیان ؓ نے اپنے ہاتھ کی انگلیوں کے اوپر تلے ہونے کی طرف اشارہ کیا اور بتایا کہ وہ جنات و شیاطین آسمان سے زمین تک اس طرح سلسلہ وار اور اوپر تلے کھڑے رہتے ہیں) اور اوپر والا جن فرشتوں کی بات کو چوری چھپے سن کر اپنے نیچے والے جن کو پہنچا دیتا ہے اور وہ اپنے نیچے والے جن کو پہنچاتا ہے یہاں تک کہ آخری جن (جو سب سے نیچے ہوتا ہے) اس بات کو ساحر یا کاہن کی زبان تک پہنچاتا ہے ادہر (ان جنات و شیاطین کو مارنے اور بھگانے کے لئے آسمان سے شعلے پھینکے جاتے ہیں تو) کبھی تو یہ شعلے ساحر یا کاہن تک وہ بات پہنچانے سے پہلے ہی چوری چھپے سننے والے (جن کو) آ پکڑتے ہیں اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ جن اس شعلے کے پہنچنے سے پہلے ساحر یا کاہن تک وہ بات پہنچا دیتا ہے اور جب اس ساحر یا کاہن تک وہ بات پہنچا دیتا ہے اور جب اس ساحر یا کاہن تک وہ بات پہنچ جاتی ہیں تو وہ اس میں سو جھوٹی باتیں شامل کرلیتا ہے (اور لوگوں کے سامنے ان جھوٹی باتوں کے درمیان وہ بات بھی بیان کرتا ہے جو اس تک جنات و شیاطین کے ذریعہ پہنچتی ہے) چناچہ جب کوئی شخص اس کاہن کو (اس کی بتائی ہوئی باتوں میں سے جھوٹی باتوں کے ذریعہ) جھٹلاتا ہے ( یعنی یہ کہا جاتا ہے کہ اس نے جو فلاں فلاں بات کہی تھی ثابت ہوئی) تو (ان گمراہ لوگوں کی طرف سے جو کاہن کی باتوں کو سچا جانتے ہیں جھٹلانے والے کے سامنے) یہ کہا جاتا ہے کہ کیا یہ حقیقت نہیں ہے اور کیا تم نہیں جانتے کہ اس کاہن نے فلاں فلاں دن ہم سے فلاں بات کہی تھی اور اس طرح اس کاہن کی سچائی کی تصدیق اس بات سے کی جاتی ہے جو اس تک (جنات کے ذریعہ) آسمان سے پہنچتی تھی۔ (بخاری) تشریح حدیث میں وہ صورت بیان کی گئی ہے جو کاہنوں تک غیب کی باتیں پہنچنے کا سبب بنتی ہے اس کے ساتھ حدیث کے آخر میں اس گمراہی کا ذکر کیا گیا ہے کہ جب کاہن کی بتائی ہوئی اکثر باتیں جھوٹ ثابت ہوتی ہیں اور لوگ اس کو جھٹلاتے ہیں تو وہ لوگ جو کاہن کی سچائی کا اعتقاد رکھتے ہیں اور باطن کی گمراہی میں مبتلا ہوتے ہیں اس کاہن کی ساری جھوٹی باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور صرف اس بات کا حوالہ دے کر اس کو سچا ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو جنات و شیاطین فرشتوں سے چوری چھپے سن کر کاہن تک پہنچانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو واقعہ کے مطابق ہوتی ہے یہی صورت نجومیوں کے بارے میں بھی ہوتی ہے کہ جب سینکڑوں باتیں بتاتے ہیں اور اس میں کوئی بات اتفاق سے صحیح ثابت ہوجاتی ہے تو وہ دنیا دار لوگ جن کے باطن میں گمراہی و کجی ہوتی ہے اس ایک بات کی بنیاد پر ان نجومیوں کے معتقد ہوجاتے ہیں۔ آگے حضرت ابن عباس ؓ کی ایک روایت آرہی ہے جس میں صراحت کے ساتھ کاہن کو ساحر فرمایا گیا ہے اس اعتبار سے اس حدیث کے ان الفاظ علی لسان الساحر او الکاہن میں ساحر سے مراد کاہن ہے اس صورت میں حرف اور اوی کے شک کے اظہار کے لئے ہوگا (یعنی یہ کہا جائے گا کہ راوی نے اپنے شک کا اظہار کیا ہے کہ یہاں ساحر کا لفظ فرمایا گیا ہے یا کاہن کا) اور اگر یہ بات پیش نظر ہو کہ ساحر چونکہ غیب کی باتیں نہیں بتایا کرتا اور اس اعتبار سے یہاں ساحر کا لفظ اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہوسکتا تو یہ کہا جائے گا کہ ساحر سے مراد نجومی ہے جیسا کہ ایک روایت میں فرمایا گیا ہے المنجم ساحر یعنی نجومی ساحر ہے اس صورت میں الساحر والکاہن میں حرف او تنویع کے لئے ہوگا۔ رہی یہ بات کہ چوری چھپے آسمان میں داخل ہونے اور فرشتوں کی باتیں سننے والے جن و شیطان کو بھگانے کے لئے جب شعلے پھینکے جاتے ہیں اور وہ شعلے اس جن یا شیطان کو پکڑتے ہیں تو اس کا حشر کیا ہوتا ہے؟ چناچہ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ وہ جن یا شیطان ان شعلوں کی زد میں آ کر جل بھن جاتے ہیں اور ختم ہوجاتے ہیں جب کہ بعض حضرات کا قول یہ ہے کہ وہ جل بھن کر ختم نہیں ہوتے بلکہ شعلوں سے تکلیف و ایذاء پا کر زندہ واپس آجاتے ہیں۔

4500Mishkaat-al-Masabih

شہاب ثاقب کی حقیقت

وعن ابن عباس قال أخبرني رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم من الأنصار أنهم بينا جلوس ليلة مع رسول الله صلى الله عليه وسلم رمي بنجم واستنار فقال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما كنتم تقولون في الجاهلية إذا رمي بمثل هذا ؟ قالوا الله ورسوله أعلم كنا نقول ولد الليلة رجل عظيم ومات رجل عظيم فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم فإنها لا يرمى بها لموت أحد ولا لحياته ولكن ربنا تبارك اسمه إذا قضى أمر سبح حملة العرش ثم سبح أهل السماء الذين يلونهم حتى يبلغ التسبيح أهل هذه السماء الدنيا ثم قال الذي يلون حملة العرش لحملة العرش ماذا قال ربكم ؟ فيخبرونهم ما قال فيستخبر بعض أهل السماوات بعضا حتى يبلغ هذه السماء الدنيا فيخطف الجن السمع فيقذفون إلى أوليائهم ويرمون فما جاؤوا به على وجهه فهو حق ولكنهم يقرفون فيه ويزيدون . رواه مسلم .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے انصاری صحابہ میں سے ایک صحابی نے مجھ سے بیان کا کہ ایک دن رات کے وقت کچھ صحابہ رسول کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک ستارہ ٹوٹا اور اس کی تیز روشنی پھیل گئی یہ دیکھ کر رسول کریم ﷺ نے صحابہ سے فرمایا کہ تم زمانہ جاہلیت میں اس طرح ستارہ ٹوٹنے کو کیا کہتے تھے؟ صحابہ نے عرض کیا۔ حقیقت حال کو اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں ہم تو یہ کہا کرتے تھے کہ آج کی رات کوئی بڑا آدمی پیدا کیا گیا ہے (یا کبھی یہ کہتے کہ) آج کی رات کوئی بڑا آدمی مرگیا ہے (یعنی ہم اس طرح ستارہ ٹوٹنے کو کسی بڑے اور اہم واقعے کی علامت سمجھا کرتے تھے) رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ستارہ نہ تو کسی کی موت سے ٹوٹتا ہے اور نہ کسی کے پیدا ہونے سے بلکہ، حقیقت حال یہ ہے کہ ہمارا رب جس کا نام بابرکت ہے جس کو کوئی حکم جاری فرماتا ہے تو عرض الہٰی کو اٹھانے والے فرشتے تسبیح (یعنی سبحان اللہ، سبحان اللہ کا ورد کرنے لگتے ہیں) پھر ان کی تسبیح کی آواز سن کر آسمان کے فرشتے تسبیح کرنے لگتے ہیں، جو عرش اٹھانے والے فرشتوں کے قریب ہے یہاں تک کہ اس تسبیح کی آواز ایک دوسرے آسمان سے ہوتی ہوئے آسمان دنیا پر رہنے والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے، پھر وہ فرشتے جو عرش الہٰی کو اٹھانے والے فرشتوں سے قریب رہتے ہیں عرش کو اٹھانے والے فرشتوں سے پوچھتے ہیں تمہارے پروردگار نے کیا فرمایا ہے؟ وہ فرشتے ان کو وہ بات بتاتے ہیں جو پروردگار نے فرمائی ہے، پھر اس بات کو ان سے دوسرے فرشتے دریافت کرتے اور ان سے اور فرشتے، یہاں تک کہ یہ سلسلہ آسمان دنیا پر رہنے والوں تک پہنچ جاتا ہے پھر اس کی سنی ہوئی بات کو جنات اچک لیتے ہیں یعنی وہ کان لگائے ایسی باتوں کے منتظر رہتے ہیں اور جب وہ چوری چھپے کوئی بات سن لیتے ہیں تو اس کو وہاں سے لے اڑتے ہیں۔ اور اپنے دوستوں یعنی کاہنوں تک پہنچا دیتے ہیں، چناچہ ان جنات کو مارنے کے لئے ستارے پھینکے جاتے ہیں (لہٰذا ان ستاروں کے پھینکے جانے کا سبب یہ ہے نہ کہ وہ جس کا تم اعتقاد رکھتے ہو، یعنی کسی کی موت یا پیدائش وغیرہ) اس طرح کاہن اگر اس بات کو جو آسمان سے سنی گئی ہے۔ اور جنات کے ذریعہ اس تک پہنچی ہے جوں کی توں (یعنی اس میں کوئی تصرف اور کمی بیشی کے بغیر) بیان کریں تو وہ یقینا صحیح ثابت ہوگی، (لیکن وہ کاہن ایسا نہیں کرتے بلکہ) اس میں جھوٹی باتیں شامل کردیتے ہیں اور ایک بات کی بہت سی باتیں بنا لیتے ہیں۔ (مسلم، )

4501Mishkaat-al-Masabih

ستارے کس لئے پیدا کئے گئے ؟

وعن قتادة قال خلق الله تعالى هذه النجوم لثلاث جعلها زينة للسماء ورجوما للشياطين وعلامات يهتدى بها فمن تأول فيها بغير ذلك أخطأ وأضاع نصيبه وتكلف مالا يعلم . رواه البخاري تعليقا وفي رواية رزين تكلف مالا يعنيه ومالا علم له به وما عجز عن علمه الأنبياء والملائكة . وعن الربيع مثله وزاد والله ما جعل الله في نجم حياة أحد ولا رزقه ولا موته وإنما يفترون على الله الكذب ويتعللون بالنجوم .

اور حضرت قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو تین باتوں کے لئے پیدا کیا ہے ایک تو یہ کہ ان کو آسمانوں کی زینت بنایا اور دوسرے شیاطین و جنات کو مارنے کے لئے اور تیسرے علامات کے لئے کہ لوگ ان کے ذریعہ جنگل و دریا میں اپنا راستہ پاسکیں، لہٰذا جس شخص نے ان ستاروں میں ان تین باتوں کے سوا اور کوئی غرض بیان کی تو اس نے خطا کی، اپنا حصہ ضائع کیا اور پھر اس چیز میں تکلف کیا جس کو وہ نہیں جانتا (یعنی آسمان کی چیزوں کے بارے میں جو حقوق ہیں ان کا علم قرآن و سنت کے علاوہ اور کسی ذریعہ سے حاصل ہونا ممکن نہیں اور جب قرآن و سنت میں ستاروں کی غرض ان تین باتوں کے علاوہ اور کوئی بیان نہیں کی گئی ہے تو مذکورہ باتوں کے علاوہ کوئی اور غرض بیان کرنا ایسی بات کا بیان کرنا ہے جس کا معلوم ہونا متصور ہی نہیں ہے۔! اس روایت کو بخاری نے بغیر سند کے نقل کیا ہے اور رزین کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ اس نے اس چیز کا تکلف کیا جو اس کو کوئی فائدہ نہیں پہنچاتی اور اس چیز میں تکلف کیا (یعنی اس چیز کو جاننے کا دعوی کیا) جس کا اس کو علم نہیں ہے اور اس چیز میں تکلف کیا جس کے علم سے انبیاء اور فرشتے عاجز رہے ہیں۔ ربیع نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ قسم ہے اللہ کی! اللہ تعالیٰ نے ستارے میں نہ تو کسی کی زندگی (یعنی پیدائش) مقرر کی ہے نہ کسی کا رزق یعنی مال و جاہ وغیرہ اور نہ کسی کی موت! اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ کاہن اللہ تعالیٰ کے بارے میں جھوٹی افتراء پردازی کرتے ہیں اور ستاروں کے طوع و غروب ہونے کو کسی واقعہ و حادثہ کی علت قرار دیتے ہیں!۔ تشریح اپنا حصہ ضائع کیا کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اس طرح لایعنی باتوں اور بیکار امور میں مبتلا کیا کہ جن کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں حاصل ہوتا ہے اور نہ آخرت میں حاصل ہونے والا ہے۔ اس طرح اس نے گویا اپنی عمر عزیز کا قیمتی حصہ گنوایا۔

4502Mishkaat-al-Masabih

نجومی، ساحر ہے

وعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من اقتبس بابا من علم النجوم لغير ما ذكر الله فقد اقتبس شعبة من السحر المنجم كاهن والكاهن ساحر والساحر كافر . رواه رزين .

اور حضرت ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے علم نجوم کا کوئی حصہ سیکھا اور سیکھنے کی غرض ان تین چیزوں کے علاوہ کسی اور چیز سے متعلق ہو کہ جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر فرمائی ہیں۔ ( اور جن کا بیان حدیث میں گزرا) تو اس نے بلا شبہ علم سحر کا ایک حصہ سیکھا ( جب کہ علم سحر ایک برا علم ہے کیونکہ اس کی بعض قسم فسق میں داخل ہے اور بعض قسم موجب کفر ہے ) اور (یاد رکھو) منجم (علم نجوم کا جاننے والا) کاہن کے حکم میں ہوتا ہے (کیونکہ کاہن کی طرح منجم بھی بعض علامات کے ذریعہ غیب کی خبر دیتا ہے) اور کاہن، ساحر کے حکم میں ہے (کیونکہ کاہن بھی بری باتوں کا ارتکاب کرتا اور لوگوں کو نقصان پہنچاتا ہے) اور جو شخص ساحر کرے اور اس کے جائز ہونے کا اعتقاد رکھے وہ کافر ہوجاتا ہے (اسی طرح منجم اور کاہن بھی اپنی بد اعتقادی کی بنا پر کافر ہوجاتے ہیں )۔ (رزین) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ نجوم کہانت اور سحر، یہ سب چیزیں ایک ہی جنس سے ہیں کہ ان سب کا ایک ہی حکم ہے اور یہ سب کافروں اور بےدین لوگوں کے کام ہیں۔

4503Mishkaat-al-Masabih

منازل قمر کو نزول باراں میں مؤثر حقیقی جاننا کفر ہے

وعن أبي سعيد الخدري قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لو أمسك الله القطر عن عباده خمس سنين ثم أرسله لأصبحت طائفة من الناس كافرين يقولون سقينا بنوء المجدح . رواه النسائي .

اور حضرت ابوسعید ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ مثلا پانچ برس تک اپنے بندوں کو بارش سے محروم رکھے اور پھر بارش برسائے تو لوگوں کی ایک جماعت جو نجوم پر اعتقاد رکھتی ہے اس صورت میں بھی کفر کرتی ہوئی یہ کہے گی کہ مجدح یعنی قمر کی منزل کے سبب ہم پر بارش ہوئی ہے۔ (نسائی) تشریح مجدح میم کے زیر جیم کے جزم اور دال کے زبر کے ساتھ اہل عرب کے نزدیک منازل قمر میں سے ایک منزل کا نام ہے زمانہ جاہلیت میں اہل عرب اس منزل کو بارش برسنے کا سبب قرار دیتے تھے۔ یہ بات پہلے بھی بتائی جا چکی ہے کہ ستاروں کے طلوع و غروب اور منازل قمر کو بارش برسنے کا حقیقی سبب سمجھنا کفر ہے۔