مال مستفاد کی زکوٰۃ کا مسئلہ
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من استفاد مالا فلا زكاة فيه حتى يحول عيه الحول . رواه الترمذي وذكر جماعة أنهم وقفوه على ابن عمر
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس کسی کو مال حاصل ہوا تو اس پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی جب تک کہ ایک سال نہ گزر جائے امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور ایک جماعت کے بارے میں کہا ہے کہ اس نے اس حدیث کو حضرت ابن عمر پر موقوف کیا ہے یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی نہیں ہے بلکہ خود حضرت ابن عمر کا قول ہے۔
تشریح
پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ مال مستفاد کسے کہتے ہیں؟ فرض کیجیے کہ آپ کے پاس اسی بکریاں موجود ہیں جن پر ابھی سال پورا نہیں ہے اسی درمیان میں اکتالیس بکریاں اور آپ کو حاصل ہوجاتی ہیں خواہ وہ میراث میں حاصل ہوئی ہوں یا تجارت سے منافع کی صورت میں اور خواہ کسی نے آپ کو ہبہ کردی ہوں بہر حال اس طرح بکریوں کی تعداد اسی کی بجائے ایک سو اکیس ہوگئی چناچہ یہ اکتالیس بکریاں جو آپ کو درمیان سال حاصل ہوئی ہیں مال مستفاد کہلائیں گی۔ گویا مال مستفاد کی تعریف یہ ہوئی کہ وہ مال کی جنس سے ہو اور درمیان سال حاصل ہوا ہو۔ اب اس حدیث کی طرف آئیے ابن مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص پر مال کی وجہ سے زکوٰۃ فرض ہو اور سال کے درمیان اسے کچھ مزید مال پہلے سے موجود مال ہی کی جنس سے (مثلاً پہلے سے بکریاں موجود ہوں تو بکریاں ہی یا پہلے سے گائیں موجود ہوں تو گائیں) ملے تو بعد میں حاصل ہونے والے اس مال پر اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی جب کہ اس مال پر پورا سال نہ گزر جائے چناچہ حضرت امام شافع کا یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اصل (پہلے سے موجود) مال ہی پر پورا سال گزر جانا کافی ہے بعد میں حاصل ہونے والے مال پورا سال گزرے یا نہ گزرے زکوٰۃ مجموعہ مال پر واجب ہوجائے گی۔ اس اختلاف کو مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ مثلاً ایک شخص کے پاس اسی بکریاں ہیں جن پر ابھی چھ مہیینے ہی گزرے تھے کہ پھر اسے اکتالیس بکریاں حاصل ہوگئیں چاہے تو انہیں اس نے خریدا ہو چاہے اسے وراثت میں ملی ہوں یا کسی اور طرح اس نے حاصل کی ہوں تو ان بعد میں ملنے والی اکتالیس بکریوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ ہاں اگر ان بکریوں پر بھی ان کو خریدنے یا وراثت میں حاصل ہونے کے وقت سے ایک سال پورا ہوجائے گا تو زکوٰۃ واجب ہوگی حضرت امام شافعی اور ان کے ساتھ ہی حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے۔ مگر حضرت امام ابوحنیفہ اور ان کے ساتھ حضرت امام مالک کے نزدیک وہ مال مستفاد (جو بعد میں حاصل ہوا ہے) اصل (یعنی پہلے سے موجود) مال کے تابع ہوگا، جب پہلے سے موجود اسی بکریوں پر ایک سال گزر جائے گا تو مجموعہ بکریوں پر زکوٰۃ میں دو بکریاں نکالنا واجب ہوجائے گا کیونکہ بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب چالیس ہے یعنی چالیس سے کم بکریوں پر زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ بلکہ چالیس سے ایک سو بیس کی تعداد پر ایک بکری واجب ہوتی ہے۔ جب تعداد ایک سو اکیس ہوجاتی ہے تو دو بکریاں واجب ہوجاتی ہیں لہٰذا مذکورہ بالا صورت میں پہلے اور بعد کی بکریوں کی مجموعی تعداد چونکہ ایک سو اکیس ہوگئی اس لئے دو بکریاں واجب ہوں گی۔ اب رہ گئی یہ بات کہ حدیث سے تو بظاہر حضرت امام شافعی ہی کے مسلک کی تائید ہو رہی ہے تو اس بارے میں حنفی علماء کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ اس حدیث کے وہ معنی ہیں ہی نہیں جو شافعی حضرات بیان کرتے ہیں بلکہ اس کا تو مفہوم یہ ہے کہ جو شخص ابتدائی طور پر مال پائے اور حاصل کرے تو اس پر زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب کہ مال پر ایک سال گزر جائے لہٰذا حدیث میں مال سے مستفاد مراد نہیں ہے۔
سال پورا ہونے سے پہلے ہی زکوٰۃ ادا کردینا جائز ہے
وعن علي رضي الله عنه : أن العباس سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم في تعجيل صدقة قبل أن تحل : فرخص له في ذلك . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس نے رسول کریم ﷺ سے سال پورا ہونے سے پہلے زکوٰۃ جلدی ادا کردینے کے بارے میں پوچھا تو آپ ﷺ نے انہیں اس کی اجازت دے دی۔ (ابو داؤد، ترمذی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
حنفیہ اور اکثر ائمہ کے نزدیک یہ بات جائز اور درست ہے کہ مال پر سال پورا ہونے سے پہلے ہی زکوٰۃ ادا کردی جائے بشرطیکہ زکوٰۃ دینے والا نصاب شرعی کا مالک ہو۔
نابالغ کے مال کی زکوٰۃ کا مسئلہ
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم خطب الناس فقال : ألا من ولي يتيما له مال فليتجر فيه ولا يتركه حتى تأكله الصدقة . رواه الترمذي وقال : في إسناده مقال : لأن المثنى بن الصباح ضعيف
حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے (یعنی شعیب سے) اور وہ اپنے دادا (یعنی حضرت عبداللہ) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا۔ خبردار! جو شخص کسی یتیم کا نگہبان ہو اور وہ یتیم بقدر نصاب مال کا مالک ہو تو اس نگہبان کو چاہئے کہ وہ اس مال سے تجارت کرے بغیر تجارت اس مال کو نہ رکھ چھوڑے کہ اسے زکوٰۃ ہی کھاجائے (یعنی زکوٰۃ دیتے ہوئے پورا مال ہی صاف ہوجائے) اس روایت کو ابوداؤد و ترمذی نے نقل کیا ہے اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ اس روایت کی اسناد میں کلام کیا گیا ہے کیونکہ روایت کے ایک راوی مثنی بن صباح ضعیف ہیں۔
تشریح
حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ کا مسلک تو یہ ہے کہ نابالغ کے مال میں بھی زکوٰۃ فرض ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ نابالغ خواہ یتیم نہ بہر صورت اس کے مال میں زکوٰۃ فرض نہیں ہے کیونکہ ایک دوسری روایت میں یہ ارشاد گرامی ہے کہ تین اشخاص کو مکلف کرنے سے قلم روک لیا گیا (یعنی ان تینوں کو شریعت نے مکلف قرار نہیں دیا ہے) ایک تو سونے والا شخص جب تک کہ وہ جاگے نہیں۔ دوسرا نابالغ جب تک کہ وہ بالغ نہ ہوجائے اور تیسرا دیوانہ جب تک کہ اس کی دیوانگی ختم نہ ہوجائے۔ اس روایت کو ابوداؤد و نسائی اور حاکم نے نقل کیا ہے نیز حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔
مانعین زکوٰۃ سے حضرت ابوبکر (رض) کا اقدام
عن أبي هريرة قال : لما توفي النبي صلى الله عليه و سلم واستخلف أبو بكر وكفر من كفر من العرب قال عمر : يا أبا بكر كيف تقاتل الناس وقد قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمرت أن أقاتل الناس حتى يقولوا : لا إله إلا الله فمن قال : لا إله إلا الله عصم مني ماله ونفسه إلا بحقه وحسابه على الله . قال أبو بكر : والله لأقاتلن من فرق بين الصلاة والزكاة فإن الزكاة حق المال والله لو منعوني عناقا كانوا يؤدونها إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم لقاتلتهم على منعها . قال عمر : فوالله ما هو إلا أن رأيت أن قد شرح الله صدر أبي بكر للقتال فعرفت أنه الحق
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا اور آپ ﷺ کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ قرار پائے تو اہل عرب میں جنہیں کافر ہوگئے یعنی زکوٰۃ کے منکر ہوگئے تو حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے جنگ کرنے کا فیصلہ کیا حضرت عمر فاروق ؓ نے یہ فیصلہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے عرض کیا کہ آپ لوگوں یعنی اہل ایمان سے کیونکہ جنگ کریں گے۔ جب کہ رسول کریم ﷺ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک لڑوں جب تک کہ وہ لا الہ الا اللہ نہ کہیں (یعنی اسلام لے آئیں) لہٰذا جس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا یعنی اسلام قبول کرلیا اس نے مجھ سے اپنی جان اور اپنا مال محفوظ کرلیا سوائے اسلام کے حق اور اس کے باطن کا حساب اللہ کے ذمہ ہے۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اس شخص سے ضرور جنگ کروں جو نماز اور روزہ کے درمیان فرق کرے کیونکہ جس طرح جان کا حق نماز ہے اسی طرح بلاشبہ مال کا حق زکوٰۃ ہے اور اللہ کی قسم اگر وہ لوگ جو منکر زکوٰۃ ہو رہے ہیں مجھے بکری کا بچہ بھی نہ دیں گے جو وہ رسول کریم ﷺ کو دیتے تھے تو میں ان کے اس انکار کی وجہ سے ان سے جنگ کروں گا۔ حضرت عمر ؓ یہ سن کر کہنے لگے اللہ کی قسم اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں کہ میں نے جان لیا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنگ کرنے کے لئے الہام کے ذریعہ حضرت ابوبکر ؓ کا دل کھول دیا ہے یعنی پر یقین کردیا ہے لہٰذا مجھے یقین ہوگیا کہ اب یہی یعنی منکرین زکوٰۃ سے جنگ ہی حق اور درست ہے۔
تشریح
جب نبی کریم ﷺ اس دنیا سے تشریف لے گئے اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ خلیفہ اول قرار پائے تو کچھ نئے فتنوں نے سر ابھارنا چاہا۔ اس بارے میں ہم نے دسویں قسط میں تذکرہ صدیق کے تحت کچھ روشنی ڈالی تھی اور وہاں ان فتنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے خصوصیت سے فتنہ ارتداد کا ذکر کیا تھا جس کے متلعق بتایا تھا کہ اس عظیم فتنہ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے کتنی جرات اور تدبر کے ساتھ ختم کیا اور وہ موت کے گھاٹ اتر گیا۔ مذکورہ بالا حدیث میں اسی قسم کے ایک اور فتنہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کی صورت یہ ہوئی کہ کچھ قبائل مثلا غطفان اور بنی سلیم وغیرہ نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا اس طرح انہوں نے اسلام کے اس اہم اور بنیادی فریضہ کا انکار کیا۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی کوئی معمولی بات نہیں تھی۔ کسی فریضہ پر عمل نہ کرنا اور بات ہے مگر اس فریضہ کا سرے سے انکار ہی کردینا ایک دوسرے معنی رکھتا ہے یہی وجہ ہے کہ منکرین زکوٰۃ کے بارے میں کفر حقیقی معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے ویسے اس لفظ کے بارے میں تفصیل یہ کی جاتی ہے کہ یا تو ان لوگوں کے بارے میں لفظ کفر (وہ کافر ہوگئے) حقیقی معنی میں استعمال فرمایا گیا ہے کیونکہ زکوٰۃ کی فرضیت قطعی ہے اور فرضیت زکوٰۃ سے انکار کفر ہے یا یہ کہ ان لوگوں کو کافر اس لئے کہا گیا کہ انہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا لہٰذا ان کے اس سخت جرم پر بطریق تغلیظ و تشدید کفر کا اطلاق کیا گیا۔ بہرحال جو معنی بھی متعین کئے جائیں ان کا یہ جرم اتنا سخت تھا کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ان سے جنگ کرنے کا ارادہ فرمایا۔ حضرت عمر ؓ نے جب یہ صورت حال دیکھی تو ان لوگوں کے ظاہر احوال کے مطابق کہ وہ لوگ بظاہر تو مسلمان کہلاتے ہی تھے ان کے کفر میں تامل کیا اور حضرت ابوبکر ؓ کے اس فیصلہ پر اعتراض کیا مگر جب حضرت ابوبکر ؓ نے انہیں حقیقت حال بتائی تو نہ صرف یہ کہ وہ بھی حضرت ابوبکر ؓ کے فیصلے کے ہمنوا ہوگئے بلکہ انہیں یقین کامل بھی ہوگیا کہ حضرت ابوبکر ؓ کی فراست ایمانی اور ان کے تدبر نے جو فیصلہ کیا ہے وہ بالکل صحیح ہے۔ بعض روایتوں میں منقول ہے کہ دوسرے صحابہ ؓ حتی کہ حضرت علی ؓ نے بھی حضرت ابوبکر ؓ کو جنگ کرنے سے منع کی اور کہا کہ عہد خلافت کا ابتدائی دور ہے مخالف بہت زیادہ ہیں ایسا نہ ہو کہ فتنہ و فساد پھوٹ پڑے اور اسلام کو کسی طرح نقصان پہنچ جائے اس لئے اس معاملے میں ابھی توقف کرنا چاہئے مگر حضرت ابوبکر ؓ نے نہایت جرات اور بہادری کے ساتھ انہیں یہ جواب دیا کہ اگر اس معاملے میں تمام لوگ ایک طرف ہوجائیں اور میں تنہا رہ جاؤں تو پھر بھی اپنے فیصلے میں کوئی لچک نہیں دکھاؤں گا اور شعائر دین کی حفاظ اور اسلام کے نظریات و اعمال کے تحفظ کے لئے میں نے جو قدم اٹھایا ہے اس میں لغزش نہیں آئے گی اور میں پوری قوم سے تن تنہا جنگ کروں گا اس سے حضرت ابوبکر ؓ کی اصابت رائے، جرات اور شجاعت و بہادری کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی جس نے لا الہ الا اللہ کہہ لیا، میں لاالہ الا اللہ سے مراد پورا کلمہ توحید یعنی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ، ہے کیونکہ اس بات پر اجماع و اتفاق ہے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے صرف لا الہ الا اللہ کہہ لینا ہی معتبر نہیں ہے بلکہ اللہ کی وحدانیت کے اقرار کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی رسالت کا اقرار بھی ضروری ہے۔ الا بحقہ (سوائے اسلام حق کے) کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس پر دیت لازم ہوگی یا اور کسی قسم کا کوئی حق اس کے ذمے ہوگا تو اس کی ادائیگی بہر صورت ضروری ہوگی اسی طرح قصاص وغیرہ میں اسے قتل کیا جاسکے گا۔ وحسابہ علی اللہ (ا ور اس کا حساب اللہ کے ذمہ ہے) کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص لاالہ الا اللہ کہہ لے گا اور اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے گا تو ہم اس کے مسلمان ہونے کا اعلان کردیں گے اور اس سے جنگ نہیں کریں گے اور نہ ہم اس کے باطن کی تحقیق و تفتیش کریں گے کہ آیا وہ اپنے ایمان و اسلام میں مخلص و صادق ہے یا نہیں؟ بلکہ اس کے باطن کا حال اللہ کے سپرد کردیں گے اگر وہ صرف ظاہر طور پر مسلمان ہوا ہوگا اور دل سے ایمان نہیں لایا ہوگا جیسا کہ منافقین کا حال ہے تو اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اپنے آپ اس سے نمٹ لے گا۔ من فرق بین الصلوۃ والزکاۃ (جو شخص نماز اور زکوٰۃ کے درمیان فرق کرے گا) یعنی نماز کے وجوب کا تو قائل ہو مگر زکوٰۃ کے وجوب کا منکر ہو یا نماز پڑھتا ہو مگر زکوٰۃ ادا نہ کرے۔ عناق بکری کے اس بچہ کو کہتے ہیں جو ایک برس سے کم عمر کا ہو۔ حضرت ابوبکر ؓ نے اپنے ارشاد میں بکری کا بچہ فرض اور واجب حق کے طلب کرنے کا سلسلہ میں بطور مبالغہ فرمایا ہے۔ یہاں یہ حقیقت پر محمول نہیں ہے کیونکہ نہ تو بکری کا وہ بچہ جو ایک سال سے کم ہو زکوٰۃ ہی میں لیا جاتا ہے اور نہ بکری کے ایسے بچوں میں زکوٰۃ ہی واجب ہوتی ہے زکوٰۃ میں لینے کے لئے ادنیٰ درجہ مسنہ ہے (یعنی وہ بچہ جو ایک سال کا ہو) اگر بچے بکریوں کے ساتھ ہوں گے تو پھر ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی لیکن بہر صورت زکوٰۃ میں مسنہ ہی دیا جائے گا یہی حکم گائے اور اونٹوں کا ہے کہ زکوٰۃ کے طور پر بھی مسنہ ہی دیا جائے گا پچھلی قسط میں غالباً بتایا جا چکا ہے کہ بکریوں کا مسنہ تو وہ ہے جس کی عمر ایک سال ہو اور گائے کا مسنہ وہ ہے جس کی عمر دو سال ہو اور اونٹ کا مسنہ وہ ہے جو پانچ سال کا ہو۔ اب آخر میں اتنی بات اور جان لیجئے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے جو فرمایا کہ میں ان کے اس انکار کی وجہ سے ان سے جنگ کروں گا، تو ابھی اوپر کفر کے بارے میں جو تفصیل بیان کی گئی تھی اسی طرح اس قول کے بارے میں بھی یہ تفصیل ہوگی کہ وہ وجوب زکوٰۃ کے منکر ہوگئے ہیں تو میں ان کے کفر اور ان کے ارتداد کی وجہ سے ان سے جنگ کروں گا اور اگر وہ منکر زکوٰۃ تو نہ ہوئے ہوں بلکہ زکوٰۃ ادا نہ کر رہے ہوں تو پھر ان سے میری جنگ شعائر اسلام کی حفاظت اور اس فتنہ کے سدباب کے لئے ہوگی۔
بغیر زکوٰۃ جمع کیا ہوا خزانہ روز قیامت وبال جان ہوگا
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون كنز أحدكم يوم القيامة شجاعا أقرع يفر منه صاحبه وهو يطلبه حتى يلقمه أصابعه . رواه أحمد
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تمہارا خزانہ قیامت کے دن گنجے سانپ کی صورت میں ہوگا مالک اس سے بھاگے گا اور وہ اسے ڈھونڈھتا پھرے گا یہاں تک کہ وہ سانپ مالک کو کھاجائے گا اور اس کی انگلیوں کو لقمہ بنائے گا۔ (احمد)
تشریح
خزانہ سے مراد وہ مال ہے جسے اس کا مالک جمع کر کے رکھے اور اس کی زکوٰۃ نہ ادا کرے یہی حکم ان تمام مالوں کا ہے جو ناجائز اور حرام طریقے سے جمع کئے گئے ہیں۔ حدیث کے آخری جملے حتی یلقمہ اصابعہ کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہی معنی جو ترجمہ میں ظاہر کئے گئے ہیں وہ سانپ مالک کی انگلیوں کو لقمہ بنائے گا کیونکہ اس نے ہاتھوں ہی سے مال کما کر جمع کیا تھا اور اس کی زکوٰۃ ادا نہیں کی تھی اس صورت میں لفظ اصابعہ ضمیر کا بدل ہوگا۔ دوسرے معنی یہ ہوسکتے ہیں کہ مالک مال خود اپنی انگلیاں لقمہ کے طور پر سانپ کے منہ میں دے دے گا جیسا کہ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ سانپ وغیر سے انتہائی خوف کے وقت بےاختیار اپنی انگلیاں اس کے منہ میں داخل کردیتے ہیں لیکن دوسرے معنی نہ صرف یہ کہ کچھ دل کو نہیں لگتے بلکہ اس میں اشکال و اعتراضات بھی پیدا ہوسکتے ہیں اسی لئے زیادہ صحیح پہلے ہی معنی ہیں۔
بغیر زکوٰۃ جمع کیا ہوا خزانہ روز قیامت وبال جان ہوگا
وعن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ما من رجل لا يؤدي زكاة ماله إلا جعل الله يوم القيامة في عنقه شجاعا ثم قرأ علينا مصداقه من كتاب الله : ( ولا يحسبن الذين يبلخون بما آتاهم الله من فضله ) الآية . رواه الترمذي والنسائي وابن ماجه
حضرت ابن مسعود ؓ نبی کریم ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی گردن میں ایک سانپ لٹکائے گا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی جو پہلی فصل کی ایک حدیث میں پوری نقل کی جا چکی ہے آیت (وَلَا يَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ يَبْخَلُوْنَ بِمَا اٰتٰىھُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِھ) 3۔ آل عمران 180) اور وہ لوگ جنہیں اللہ نے اپنے فضل سے مال عطا فرمایا ہے اور وہ اس میں بخل کرتے ہیں یہ گمان نہ کریں۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
حلال مال میں حرام مال کو ملانا مال کو ضائع کردینا ہے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : ما خالطت الزكاة مالا قط إلا أهلكته . رواه الشافعي والبخاري في تاريخه والحميدي وزاد قال : يكون قد وجب عليك صدقة فلا تخرجها فيهلك الحرام الحلال . وقد احتج به من يرى تعلق الزكاة بالعين هكذا في المنتقى وروى البيهقي في شعب الإيمان عن أحمد بن حنبل بإسناده إلى عائشة . وقال أحمد في خالطت : تفسيره أن الرجل يأخذ الزكاة وهو موسر أو غني وإنما هي للفقراء
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس مال میں زکوٰۃ رل مل جاتی ہے وہ مال ضائع ہوجاتا ہے۔ (شافعی، بخاری، حمیدی) حمید نے یہ مزید نقل کیا (یعنی حدیث کی وضاحت بیان کی ہے کہ) بخاری نے فرمایا کہ جب تم پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے اور تم زکوٰۃ نہیں نکالتے تو وہ زکوٰۃ مال میں رلی ملی ہوتی ہے لہٰذا حرام مال حلال مال کو ضائع کردیتا ہے جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ زکوٰۃ عین مال سے متعلق ہے نہ کہ ذمہ سے تو انہوں نے اسی حدیث کو بخاری کی مذکورہ بالا وضاحت کے ساتھ اپنی دلیل قرار دیا ہے (منتقی، بیہقی نے شعب الایمان میں اس روایت کو امام احمد بن حنبل سے حضرت عائشہ تک سلسلہ سند کے ساتھ نقل کیا ہے چناچہ امام احمد نے حدیث کے لفظ خالطت کے معنی یا اس کی تاویل) کے سلسلے میں یہ وضاحت کی ہے کہ (مثلاً ایک شخص مالدار اور یا غنی ہے مگر اس کے باوجود وہ زکوٰۃ لیتا ہے حالانکہ زکوٰۃ تو صرف فقراء اور مساکین اور مستحقین کے لئے جائز ہے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کے دو معنی بیان کئے گئے ہیں حضرت امام بخاری تو اس کا مطلب یہ بیان فرما رہے ہیں کہ مثلا ایک شخص صاحب نصاب ہے اور اس پر زکوٰۃ واجب ہے مگر وہ اپنے مال میں سے وہ حصہ نہیں نکالتا جو بطور زکوٰۃ اس پر نکالنا واجب ہے اس طرح مال وہ حصہ جو زکوٰۃ کے طور پر اسے نکالنا چاہئے تھا اور اب نہ نکالنے کی صورت میں وہ اس کے حق میں حرام مال ہے اس کے اصل میں مال مخلوط رہے۔ بہرحال ان میں سے کوئی بھی معنی متعین کر لئے جائیں دونوں اقوال کے پیش نظر حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ حرام مال خواہ وہ مال میں سے بقدر واجب نہ نکالا جانے والا حصہ ہو خواہ صاحب نصاب کا کسی دوسرے سے زکوٰۃ میں حاصل کیا ہوا مال ہو، اصل اور حال مال کو شائع اور تباہ کردیتا ہے بایں طور کہ اس حرام مال کے ملنے کی وجہ سے پورا مال کسی نہ کسی طرح ضائع ہوجاتا ہے یا اس میں کوئی نقصان واقع ہوجاتا ہے یا مال میں سے برکت اٹھ جاتی ہے اور یا مال ناقابل انتفاع جاتا ہے کیونکہ حرام مال سے نفع اٹھانا شرعا جائز نہیں ہے۔ ادائیگی زکوٰۃ کا تعلق عین مال سے ہے یا ذمہ سے ہے روایت کے آخر میں ایک اختلافی مسئلہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ ادائیگی زکوٰۃ کا تعلق عین مال سے ہے؟ اس کو مثال کے طور پر یوں سمجھیے کہ مثلاً ایک شخص مالدار یعنی صاحب نصاب ہے اس پر زکوٰۃ واجب ہے اب سوال یہ ہے کہ آیا وہ زکوٰۃ کے طور پر بقدر واجب مال اسی مال میں سے نکال کر دے جو اس کے پاس ہے یا یہ کہ اگر وہ اسی مال میں زکوٰۃ کے بقدر حصہ نہ نکالے بلکہ اس کی قیمت ادا کرے تو اس مسئلہ میں حضرت امام شافعی اور دوسرے ائمہ کا مسلک تو یہ ہے کہ زکوٰۃ کا تعلق عین مال سے ہے یعنی جس مال پر زکوٰۃ واجب ہے اسی مال میں بقدر واجب مال نکال کر زکوٰۃ ادا کرے اور یہ بات انہوں نے حدیث کے لفظ خالطت سے مستنبط کی ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ کا تعلق ذمہ ہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر صاحب نصاب اسی مال سے کہ جس پر زکوٰۃ واجب ہے زکوٰۃ کے طور پر بقدر واجب مال نہ نکالے بلکہ اتنے ہی مال کی قیمت زکوٰۃ میں ادا کرے تو زکوٰۃ ادا ہوجائے اور وہ بری الذمہ ہوجائے گا۔ مگر یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ یہ حدیث حضرت امام شافعی وغیر کے مذکورہ مسلک کی دلیل اسی وقت ہوسکتی ہے جب کہ حدیث انہیں معنی کو حدیث کا اصل مفہوم قرار دیا جائے جو حضرت امام بخاری کی طرف سے بیان کئے گئے ہیں۔ حنفی مسلک کی دلیلیں ملا علی قاری نے مرقات میں اور حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اشعۃ اللمعات میں بڑی وضاحت اور تفصیل کے ساتھ بیان کی ہیں۔ طوالت کی وجہ سے انہیں یہاں نقل نہیں کیا گیا ہے۔ اہل علم ان کتابوں سے مراجعت کرسکتے ہیں۔
جن چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے ان کا بیان
شریعت نے چار قسم کے مالوں پر زکوٰۃ فرض کی ہے (١) سائمہ جانوروں پر (٢) سونے چاندی پر (٣) تجارتی مال پر خواہ وہ کسی قسم کا ہو (٤) کھیتی اور درختوں کی پیداوار پر گو اس چوتھی قسم کو فقہاء زکوٰۃ کے لفظ سے ذکر نہیں کرتے بلکہ اسے عشر کہتے ہیں چناچہ متفقہ طور تمام ائمہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ چوبایہ جانوروں یعنی اونٹ گائے، بکری، دنبہ، بھیڑ اور بھینس میں زکوٰۃ واجب ہے خواہ جانور نر ہوں یا مادہ ان کے علاوہ اور جانوروں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ البتہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گھوڑوں میں بھی زکوٰۃ واجب ہے اس کی تفصیل اگلے صفحات میں بیان کی گائے گی اسی طرح متفقہ طور پر تمام ائمہ کے نزدیک سونے چاندی اور تجارت کے مال میں زکوٰۃ واجب ہے۔ جو چیزیں ایک سال تک قائم نہ رہتی ہوں جیسے ککڑی، کھیرا، خربوزہ اور دوسری ترکاریاں ساگ وغیر ان میں دوسرے ائمہ کے نزدیک زکوٰۃ واجب نہیں ہے البتہ کھجوروں اور کشمش میں زکوٰۃ واجب ہے جب کہ ان کی مقدار پانچ وسق تک ہو پانچ وسق سے کم مقدار میں ان میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے ہاں ہر اس چیز میں عشر یعنی دسواں حصہ نکالنا واجب ہے جو زمین سے پیدا ہو خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ ہو لیکن بانس، لکڑی اور گھاس میں عشر واجب نہیں ہے اس بارے میں حضرت امام صاحب کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ ما اخرجتہ الارض ففیہ العشر۔ زمین سے پیدا ہونے والی ہر چیز میں دسواں حصہ نکالنا واجب ہے۔ زمین کی پیداوار میں عشر واجب ہونے کے لئے کسی مقدار معین کی شرط نہیں ہے اسی طرح سال گزرنے کی بھی قید نہیں بلکہ جس قدر اور واجب بھی پیدا وار ہوگی اسی وقت دسواں حصہ نکالنا واجب ہوجائے گا دوسرے مالوں کے برخلاف کہ ان میں زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوتی ہے جب کہ وہ بقدر نصاب ہوں اور ان پر ایک سال پورا گزر جائے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس فيما دون خمسة أوسق من التمر صدقة وليس فيما دون خمس أواق من الورق صدقة وليس فيما دون خمس ذود من الإبل صدقة
حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا پانچ وسق سے کم کھجوروں میں زکوٰۃ واجب نہیں پانچ اوقیہ سے کم چاندی میں زکوٰۃ واجب نہیں اور پانچ راس سے کم اونٹوں میں زکوٰۃ واجب نہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ایک وسق آٹھ صاع کے برابر، ایک صاع آٹھ رطل کے برابر اور ایک رطل چونتیس تولہ ڈیڑھ ماشہ کے برابر ہوتا ہے حساب سے پانچ وسق انگریزی اسی طولی کے سیر کے حساب پچیس من ساڑھے بارہ سیر (نو کو نٹل چوالیس کلو گرام) کے برابر ہوتے ہیں گویا پچیس من 12, 1/2 سیر یا اس سے زائد کھجوروں میں دسواں حصہ زکوٰۃ کے طور پر نکالا جائے گا اس مقدار سے کم اگر کھجوریں پیدا ہوں تو اس حدیث کے بموجب اس میں زکوٰۃ کے طور پر دسواں حصہ واجب نہیں ہوگا چناچہ حضرت امام شافعی اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک زمین کی پیداوار میں کوئی نصاب مقرر نہیں ہے جس قدر بھی پیداوار ہو اس کا دسوں حصہ زکوٰۃ میں نکالنا واجب ہے مثلاً اگر دس سیر پیداوار ہو تو اس میں سے ایک سیر زکوٰۃ کے طور پر نکالا جائے اور اگر دس ہی چھٹانک پیدا ہو تو اس سے بھی ایک چھٹانک نکالا جائے زمین کی دوسری پیداوار مثلاً گیہوں جو چنا وغیرہ کا بھی یہی حکم ہے۔ زمین کی پیداوار کے عشر کے بارے میں حنفیہ کا فتویٰ امام اعظم ہی کے قول پر ہے۔ یہ حدیث چونکہ امام اعظم (رح) کے مسلک کے بظاہر خلاف معلوم ہوتی ہے اس لئے ان کی طرف سے اس حدیث کی توجیہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ حدیث میں کھجور سے مراد وہ کھجوریں ہیں جو تجارت کے لئے ہوں کیونکہ اس وقت عام طور پر کھجوروں کی خریدو فروخت وسق کے حساب سے ہوتی تھی اور ایک وسق کھجور کی قیمت چالیس درہم ہوتی تھی اس حساب سے پانچ وسق کی قیمت دو سو درہم ہوئے جو مال تجارت میں زکوٰۃ کے لئے متعین نصاب ہے۔ اواق اوقیہ کی جمع ہے ایک اوقیہ چالیس درہم یعنی ساڑھے دس تولہ (122۔ 47 گرام) کے برابر ہوتا ہے اس طرح پانچ اوقیہ دو سو درہم یعنی 52, 1/2 تولہ تقریباً 216, 1/2 گرام کے برابر ہوئے جو چاندی کا نصاب زکوٰۃ ہے اس مقدار سے کم چاندی میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے گویا جو شخص دو سو درہم کا مالک ہوگا وہ بطور زکوٰۃ پانچ درہم ادا کرے گا۔ یہ تو درہم کا نصاب تھا چاندی اگر سکہ کے علاوہ کسی دوسری صورت میں ہو مثلا چاندی کے زیورات و برتن ہوں یا چاندی کے سکے ہوں تو اس کو بھی اسی پر قیاس کی جائے اور اسی طرح اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے۔ پھر بھی تفصیل سے چاندی کے نصاب کو یوں سمجئے کہ۔ ایک درہم تین تین ماشہ ایک رتی اور پانچواں حصہ رتی کے برابر ہوتا ہے اس طرح دو سو میں چھ سو تیس ماشہ یعنی ساڑھے باون تولہ تولہ تقریبا ساڑھے دو سو سولہ گرام چاندی ہوئی۔ لہٰذا دو سو درہم کی زکوٰۃ کی چالیسویں حصہ کے مطابق پانچ درہم ہوئے جو پندرہ ماشہ چھ رتی یعنی ایک تولہ میں ماشہ چھ رتی کے برابر ہوتے ہیں۔ اسی طرح درہم کے علاوہ چاندی کے زیورات یا برتن وغیرہ کی صورت میں ساڑھے باون تولہ یعنی ساڑھے دو سو سولہ گرام ہو تو اس کی زکوٰۃ کے طور پر چالیسواں حصہ ایک تولہ تین ماشہ چھ رتی یعنی ساڑھے پندرہ گرام چاندی یا اتنی ہی چاندی کی قیمت زکوٰۃ کے طور پر ادا کی جاے گی اور اگر چاندی سکے کی شکل میں ہو اور ایک سکہ بارہ ماشہ اور قیمت کے اعتبار سے ایک روپیہ کا ہو تو اس حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندے کے ساڑھے باون روپے ہوئے لہٰذا ان کی زکوٰۃ کے طور پر اسی چاندی کے روپے کے حساب سے یعنی وہی بارہ ماشہ والا ایک روپیہ پانچ آنے واجب ہوں گے اور اگر سکہ ساڑھے گیارہ ماشہ اور قیمت کے اعتبار سے ایک روپیہ کا ہو تو اس حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت چون روپے بارہ آنے چھ صحیح چھ بٹا تیس پائی کے برابر ہوگی جس پر زکوٰۃ واجب ہوگی لہٰذا اس میں سے اس چاندی کے روپے کے حساب سے یعنی وہی ساڑھے گیارہ ماشہ والا ایک روپیہ پانچ آنے دس پائی اور بتیس بٹا تئیس پائی بطور زکوٰۃ نکالنا ہوگا۔ مذکورہ بالا تفصیل کو حسب ذیل جدول سے سمجھئے۔ تعداد درہم تعین زکوۃ وزن چاندی تعین زکوۃ سکہ بارہ ماشہ والا زکوۃ سکہ ساڑھے گیارہ ماشہ والا زکوۃ ٢٠٠ درہم ٥ درہم ساڑھے ٥٢ تولہ ایک تولہ تین ماشہ چھ رتی قیمتی۔۔ قابل اصلاح نصاب کا یہ سارا حساب سمجھنے کے لئے لکھا گیا ہے۔ اگر نصاب سے زیادہ روپے ہوں تو اس کا سیدھا حساب یہ ہے کہ ڈھائی روپیہ فی سیکڑا یعنی ہر سو روپیہ میں ڈھائی روپے کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ اگرچہ حدیث میں سونے کا نصاب ذکر نہیں کیا گیا لیکن اس کے بارے میں بھی جانتے چلئے کہ سونے کا نصاب بیس مثقال یعنی ساڑھے ساتھ تولہ تقریبا ساڑھے ستائس گرام ہے اس سے کم میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی اگر اس مقدار میں یا اس سے زائد مقدار میں سونا ہو تو موجودہ مقدار کا چالیسواں حصہ یا اس حصہ کی قیمت زکوٰۃ کے طور پر ادا کی جائے گی۔ اگر سونا اور چاندی دونوں مجموعی اعتبار سے بقدر نصاب ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی مثلاً کسی شخص کے پاس سوا چھبیس تولہ چاندی ہو اور اسی کے ساتھ سوا چھبیس تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر سونا بھی ہو تو وہ شخص صاحب نصاب کہلائے گا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی یا اسی طرح اگر کسی شخص کے پاس سوا چھبیس تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر تجارت کا مال ہو اور اسی کے ساتھ سوا چھبیس تولہ چاندی کی قیمت کے بقدر نقد روپیہ ہو تو وہ بھی صاحب نصاب کہلائے گا اور اس پر بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔ سونا اور چاندی کسی بھی شکل و صورت میں ہوں خواہ وہ گئی اور ڈلی کی صورت میں ہوں یا پترے ہون خواہ زیورات کی شکل میں ہوں یا برتنوں کی صورت میں ہوں بہر صورت ان میں زکوٰۃ واجب ہوگی اس سے معلوم ہوا کہ گوٹہ کناری اور کمخواب وغیرہ میں جو چاندی ہوتی ہے اس کی مقدار کا بھی اندازہ کرایا جائے اگر وہ مقدار نصاب کو پہنچے تو اس کی زکوٰۃ بھی ادا کی جائے موتی، مونگا، یا قوت اور دوسرے جواہرات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی خواہ لاکھوں روپیہ کی قیمت ہی کے کیوں نہ موجود ہوں ہاں اگر جواہرات تجارت کے مقصد سے ہوں گے تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوگی۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس على المسلم صدقة في عبده ولا في فرسه . وفي رواية قال : ليس في عبده صدقة إلا صدقة الفطر
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ کسی مسلمان پر اس کے غلام اور اس کے گھوڑوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے ایک اور روایت کے الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا۔ کسی مسلمان پر اس کے غلام میں زکوٰۃ تو واجب نہیں ہے ہاں صدقہ فطر واجب ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو غلام اور گھوڑے تجارت کے لئے نہ ہوں ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام ابویوسف و امام محمد رحمہما اللہ کا مسلک یہی ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ جو گھوڑے اور گھوڑی ملی ہوئی سال کے اکثر حصہ میں جنگل اور چراگاہوں میں چریں ان میں بھی زکوٰۃ واجب ہے جس کا نصاب یہ ہے کہ فی راس ایک دینار یا اس کی پوری قیمت متعین کر کے ہر دو سو درہم پر پانچ درہم کے حساب سے یعنی قیمت کا چالیسواں حصہ زکوٰۃ میں ادا کیا جائے۔ فتاویٰ قاضی خان، درمختار اور فتاویٰ عالمگیری میں لکھا ہے کہ حنفیہ کے یہاں فتویٰ حضرت امام ابویوسف و حضرت امام محمد ہی کے قول پر ہے کہ گھوڑوں میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے۔
وعن أنس بن مالك : أن أبا بكر رضي الله عنه كتب له هذا الكتاب لما وجهه إلى البحرين : بسم الله الرحمن الرحيم هذه فريضة الصدقة التي فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم على المسلمين والتي أمر الله عز و جل بها رسوله فمن سألها من المسلمين على وجهها فليعطها ومن سئل فوقها فلا يعط : في أربع وعشرين من الإبل فما دونها خمس شاة . فإذا بلغت خمسا وعشرين إلى خمس وثلاثين ففيها بنت مخاض انثى فإذا بلغت ستا وثلاثين ففيها بنت لبون أنثى . فإذا بلغت ستة وأربعين إلى ستين ففيها حقة طروقة الجمل فإذا بلغت واحدة وستين ففيها جذعة . فإذا بلغت ستا وسبعين ففيها بنتا لبون . فإذا بلغت إحدى وتسعين إلى عشرين ومائة ففيها حقتان طروقتا الجمل . فإذا زادت على عشرين ومائة ففي كل أربعين بنت لبون وفي كل خمسين حقة . ومن لم يكن معه إلا أربع من الإبل فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها . فإذا بلغت خمسا ففيها شاة ومن بلغت عنده من الإبل صدقة الجذعة وليست عنده جذعة وعنده حقة فإنها تقبل منه الحقة ويجعل معها شاتين أن أستيسرتا له أو عشرين درهما . ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست عنده الحقة وعنده الجذعة فإنها تقبل منه الجذعة ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين . ومن بلغت عنده صدقة الحقة وليست إلا عنده بنت لبون فإنها تقبل منه بنت لبون ويعطي معها شاتين أو عشرين درهما . ومن بلغت صدقته بنت لبون وعنده حقة فإنها تقبل منه الحقة ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين . ومن بلغت صدقته بنت لبون وليست عنده وعنده بنت مخاض فإنها تقبل منه بنت مخاض ويعطي معها عشرين درهما أو شاتين . ومن بلغت صدقته بنت مخاض وليست عنده وعنده بنت لبون فإنها تقبل منه ويعطيه المصدق عشرين درهما أو شاتين . فإن لم تكن عنده بنت مخاض على وجهها وعنده ابن لبون فإنه يقبل منه وليس معه شيء . وفي صدقة الغنم في سائمتها إذا كانت أربعين ففيها شاة إلى عشرين ومائة شاة فإن زادت على عشرين ومائة إلى مائتين ففيها شاتان . فإن زادت على مائتين إلى ثلاثمائة ففيها ثلاث شياه . فإذا زادت على ثلاثمائة ففي كل مائة شاة . فإذا كانت سائمة الرجل ناقصة من أربعين شاة واحدة فليس فيها صدقة إلا أن يشاء ربها . ولا تخرج في الصدقة هرمة ولا ذات عور ولا تيس إلا ما شاء المصدق . ولا يجمع بين متفرق ولا يفرق بين مجتمع خشية الصدقة وما كان من خليطين فإنهما يتراجعان بينهما بالسوية . وفي الرقة ربع العشر فإن لم تكن إلا تسعين ومائة فليس فيها شيء إلا أن يشاء ربها . رواه البخاري
حضرت انس کے بارے میں مروی ہے کہ جب امیرالمومنین حضرت ابوبکر صدیق نے انہیں بحرین جو بصرہ کے قریب ایک جگہ کا نام ہے بھیجا تو انہیں یہ ہدایت نامہ تحریر فرمایا۔ اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے یہ اس صدقہ فرض (زکوۃ) کے بارے میں ہدایتنامہ جسے رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسلمانوں پر فرض کیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے نافذ کرنے کے بارے میں اپنے رسول کو حکم فرمایا۔ لہٰذا جس شخص سے قاعدہ کے مطابق زکوٰۃ کا مطالبہ کیا جائے تو وہ ادائیگی کرے اور جس شخص سے شرعی مقدار سے زیادہ مطالبہ کی جائے وہ زائد مطالبہ کی ادئیگی نہ کرے زکوٰۃ کا نصاب یہ ہے کہ چوبیس اور چوبیس سے کم اونٹوں کی زکوٰۃ میں بکری ہے اس طرح کہ ہر پانچ اونٹ پر ایک بکری ہے یعنی پانچ اونٹوں سے کم میں زکوٰۃ نہیں ہے اور پانچ سے نو تک ایک بکری دس سے چودہ تک دو بکری پندرہ سے انیس تک تین بکری اور بیس سے چوبیس تک چار بکری واجب ہوگی۔ پچیس سے پینتیس تک میں ایک ایسی اونٹنی جو ایک سال کی ہو چھتیس سے پینتالیس تک ایک اونٹنی جو دو سال کی ہول۔ چھیالیس سے ساٹھ تک میں ایک ایسی اونٹنی جو چار سال کی ہو اور اونٹ سے جفتی کے قابل ہو، اکسٹھ سے پچھتر تک میں ایک اونٹنی جو اپنی عمر کے چار سال ختم کر کے پانچویں سال میں داخل ہوگئی اور چھہتر سے نوے تک میں دو ایسی اونٹنیاں جو دو سال کی ہوں اکیانوے سے ایک سو بیس تک میں دو ایسی اونٹنیاں جو تین تین سال کی ہوں اور اونٹ سے جفتی کے قابل ہوں اور جب تعداد ایک سوبیس سے زائد ہو تو اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ ان زائد اونٹنیوں میں ہر چالیس کی زیادت پر دو برس کی اونٹنی اور ہر پچاس کی زیادت پر پورے تین برس کی اونٹنی واجب ہوگی اور جس کے پاس صرف چار ہی اونٹ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہیں ہاں اگر وہ شخص چاہے تو صدقہ نفل کے طور پر کچھ دے دے جب پانچ اونٹ ہوں گے تو اس پر زکوٰۃ کے طور پر ایک بکری واجب ہوجائے گی اور جس شخص کے پاس اتنے اونٹ ہوں کہ ان میں زکوٰۃ کے طور پر ایسی اونٹنی واجب ہوتی ہو جو چار برس پورے کر کے پانچویں سال میں لگ گئی ہو یعنی اکسٹھ سے پچھتر تک کی تعداد میں اور اس کے پاس چار برس کی اونٹنی نہ ہو کہ جسے وہ زکوٰۃ کے طور پردے سکے بلکہ تین برس کی اونٹنی موجود ہوں تو اس سے تین ہی برس کی اونٹنی زکوٰۃ میں قبول کی جاسکتی ہے مگر زکوٰۃ دینے ولاا اس تین برس کی اونٹنی کے ساتھ ساتھ اگر اس کے پاس موجود ہوں تو دو بکریاں ورنہ بصورت دیگر تیس درہم ادا کرے اور کسی شخص کے پاس اونٹوں کی ایسی تعداد ہو جس میں تین برس کی اونٹنی واجب ہوتی ہو یعنی چھیالیس سے ساٹھ تک کی تعداد اور اس کے پاس تین برس کی کوئی اونٹنی زکوٰۃ میں دینے کے لئے نہ ہو بلکہ چار برس کی اونٹنی ہو تو اس سے چار برس والی اونٹنی ہی لے لی جائے البتہ زکوٰۃ دینے والا دو بکریاں یا بیس درہم بھی اس کے ساتھ دیدے اور اگر کسی شخص کے پاس اتنی تعداد میں اونٹ ہوں کہ جن میں دو برس کی اونٹنی واجب ہوتی ہو جیسے چھتیس سے پینتالیس تک کی تعداد اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی کے بجائے تین برس کی اونٹنی ہو تو اس سے تین برس کی اونٹنی ہی لے لی جائے مگر زکوٰۃ وصول کرنے والا اسے بیس درہم یا دو بکریاں واپس کردے اور اگر کسی شخص کے پاس اتنی تعداد میں اونٹ ہوں جن میں دو برس کی اونٹنی واجب ہوتی ہو اور وہ اس کے پاس نہ ہو بلکہ ایک برس کی اونٹنی ہو تو اس سے ایک برس کی اونٹنی ہی لے لی جائے اور وہ زکوٰۃ دینے والا اس کے ساتھ بیس درہم یا دو بکریاں بھی دے اور اگر کسی شخص کے پاس اتنی تعداد میں اونٹ ہوں کہ جن میں ایک برس کی اونٹنی واجب ہوتی ہو جیسے بیس سے پچیس تک کی تعداد اور ایک برس کی اونٹنی اس کے پاس نہ ہو بلکہ دو برس کی اونٹنی اس کے پاس ہو تو اس سے وہی دو برس والی اونٹنی لے لی جائے مگر زکوٰۃ وصول کرنے والا اس کو دو بکریاں یا بیس درہم واپس کردے اور اگر اس کے پاس دینے کے قابل ایک برس کی اونٹنی نہ ہو اور نہ دو برس کی اونٹنی ہو بلکہ دو برس کا اونٹ ہو تو وہ اونٹ ہی لے لیا جائے مگر اس صورت میں کوئی اور چیز واجب نہیں نہ تو زکوٰۃ لینے والا کچھ واپس کرے گا اور نہ زکوٰۃ دینے والا کچھ اجر دے گا اور چرنے والی بکریوں کی زکوٰۃ کا نصاب یہ ہے کہ جب بکریوں کی تعداد چالیس سے ایک سوبیس تک ہو تو ایک واجب ہوتی ہے اور ایک سو بیس سے زائد ہوں تو دو سو تک کی تعداد پر دو بکریاں واجب ہوتی ہیں اور جب دو سو سے زائد ہوں تو تین سو تک تین بکریاں واجب ہوتی ہیں اور جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو پھر یہ حساب ہوگا کہ ہر سو بکریوں میں ایک بکری واجب ہگی جس شخص کے پاس چرنے والی بکریاں چالیس سے ایک بھی کم ہوں گی تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی ہاں اگر بکریوں کا مل چاہے تو صدقہ نفل کے طور پر کچھ دے سکتا ہے۔ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ زکوٰۃ میں خواہ اونٹ ہو یا گائے اور بکری بڑھیا اور عیب دار نہ جائے اور نہ بوک (بکرا) دیا جائے ہاں اگر زکوٰۃ وصول کرنے والا کسی مصلحت کے تحت بوک لینا چاہے تو درست ہے اور متفرق جانوروں کو یکجا نہ کیا جائے اور نہ زکوٰۃ کے خوف سے جانوروں کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے نیز جس نصاب میں دو آدمی شریک ہوں تو انہیں چاہئے کہ وہ دونوں برابر تقسیم کرلیں اور چاندی میں چالیسواں حصہ زکوٰۃ کے طور پر دینا فرض ہے اگر کسی کے پاس صرف ایک سو نوے درہم ہوں (یعنی نصاب شرعی کا مالک نہ ہو) تو اس پر کچھ فرض نہیں ہے ہاں اگر وہ صدقہ نفل کے طور پر کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
گزشتہ صفحات میں ایک حدیث گزر چکی ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے جس میں یہ فرمایا گیا ہے کہ تم زکوٰۃ وصول کرنے والوں کو خوش کرو اگرچہ وہ تمہارے ساتھ ظلم ہی کا معاملہ کیوں نہ کریں۔ اسی طرح ایک حدیث اور گزر چکی ہے جس میں بیان کیا گیا تھا کہ کچھ لوگوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ زکوٰۃ وصول کرنے والے زیادتی کرتے ہیں یعنی مقدار واجب سے زیادہ مال لیتے ہیں تو کیا ہم ان کی طرف سے زیادہ طلب کے جانے والے مال کو چھپادیں یعنی وہ انہیں نہ دیں تو اس کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع کردیا تھا۔ لیکن یہاں فرمایا گیا ہے کہ جس شخص سے زیادہ مطالبہ کی اجائے وہ ادائیگی نہ کرے۔ لہٰذا بظاہر ان روایتوں میں تعارض اور اختلاف معلوم ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس وقت زکوٰۃ وصول کرنے والے صحابہ تھے ظاہر ہے نہ تو وہ ظالم تھے اور شرعی مقدار سے زیادہ کا مطالبہ کرتے تھے اور نہ صحابہ کے بارے میں ایسا تصور کیا جاسکتا تھا لوگ اپنے گمان اور خیال کے مطابق یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے ساتھ ظلم وزیادت کا معاملہ ہوتا ہے لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس حقیقت کے پیش نظر یہی حکم دیا کہ انہیں بہر صورت خوش کیا جائے اور وہ جو کچھ مانگیں اسے دینے میں تامل نہ کیا جائے اور یہاں حضرت ابوبکر کے ارشاد میں زکوٰۃ وصول کرنے والوں سے صحابہ مراد نہیں ہیں بلکہ دوسرے لوگ مراد ہیں اور ظاہر ہے کہ صحابہ کے علاوہ دوسرے لوگوں سے ایسی باتوں کا صدور ممکن تھا اس لئے حضرت ابوبکر نے یہ تحریر فرمایا کہ زائد مطالبہ کی ادائیگی نہ کی جائے۔ اس وضاحت سے احادیث میں جو بظاہر تعارض نظر آرہا تھا وہ ختم ہوگیا۔ فاذا زادت علی عشرین وماۃ الخ (اور جب تعداد ایک سوبیس سے زائد ہو الخ) قاضی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث عدد مذکور سے متجاوز ہونے کی صورت میں استقرار اور حساب پر دلالت کرتی ہے یعنی جب اونٹ ایک سوبیس سے زائد ہوں تو ان کی زکوٰۃ کا حساب از سر نو شروع نہ کیا جائے بلکہ ایسی صورت میں ہر چالیس کی زیادتی پر دو برس کی اونٹنی اور ہر پچاس کی زیادتی پر تین برس کی اونٹنی کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جانی چاہئے، چناچہ اکثر ائمہ کا یہی مسلک ہے مگر حضرت امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ از سر نو حساب شرع کیا جائے گا چناچہ جب اونٹوں کی تعداد ایک سوبیس سے متجاوز ہوجائے تو اس وقت دو حقے یعنی تین برس کی دو اونٹنیاں اور ایک بکری واجب ہوگی اور اسی طرح چوبیس کی تعداد تک ہر پانچ پر ایک بکری واجب ہوتی چلی جائے گی پھر پچیس اور پچیس کے بعد بنت مخاض ایک سال کی اونٹنی واجب ہوجائے گی اسی طرح آخر تک پہلی ترتیب کے مطابق حساب کیا جائے گا امام نخعی اور امام ثوری کا یہی قول ہے ان حضرات کی دلیل یہ ارشاد گرامی ہے کہ جب اونٹوں کی تعداد ایک سو سے زائد ہوجائے تو اس کا حساب از سر نو شروع کیا جائے، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے بھی اس طرح منقول ہے۔ اونٹوں کی زکوٰۃ کے بارے میں اتنی بات اور جان لیجئے کہ ان کی زکوٰۃ کے طور پر مادہ یعنی اونٹنی یا اس کی قیمت واجب ہوتی ہے جب کہ گائے اور بکری کی زکوۃ میں نر اور مادہ کی کوئی تخصیص نہیں ہے بلکہ ان کی زکوٰۃ کے طور پر نر یا اس کی قیمت اور مادہ یا اس کی قیمت دونوں ہی دئیے جاسکتے ہیں۔ مالم یکن عندہ بنت مخاض علی وجہہا (اور اگر اس کے پاس دینے کے قابل ایک برس کی اونٹنی نہ ہو) ابن املک نے اس کی وضاحت کے سلسلے میں فرمایا ہے کہ اس کے تین معنی ہوسکت ہیں۔ (١) اس کے پاس سرے سے ایک برس کی اونٹنی موجود ہی نہ (٢) ایک برس کی اونٹنی موجود تو ہو مگر تندرست نہ ہو بلکہ بیمار ہو اس صورت میں بھی گویا وہ نہ ہونے ہی کے درجہ میں ہوگی۔ (٣) ایک برس کی اونٹنی تو موجود ہو مگر اوسط درجہ کی نہ ہو بلکہ نہایت قیمتی اور اعلیٰ درجے کی ہو ملحوظ رہے کہ زکوٰۃ میں اوسط درجہ کا مال دینے کا حکم ہے۔ بہرکیف ان میں سے کوئی صورت ہو اس کا حکم یہ بیان کیا گیا ہے کہ ایسی صورت میں ابن لبون یعنی دو برس کا اونٹ زکوٰۃ کے طور پر دیا جائے گا پھر اس کی وضاحت بھی فرمادی کہ ابن لبون کے ساتھ مزید کچھ لینا دینا واجب نہیں ہے جیسا کہ اونٹنیوں کے بارے میں حکم دیا گیا ہے کہ اگر کسی شخص پر زکوٰۃ کے طور پر دینے کے لئے دو برس کی اونٹنی واجب ہو اور اس کے پاس دو برس کی اونٹنی موجود نہ ہو بلکہ تین برس کی اونٹنی ہو تو زکوٰۃ وصول کرنے والا اس سے وہی تین برس کی اونٹنی لے گا مگر وہ زکوٰۃ دینے والے کو دو بکریاں بیس درہم واپس کرے گا تاکہ زکوٰۃ دینے والے کو دو برس کی اونٹنی کی بجائے تین برس کی اونٹنی دینے کی صورت میں نقصان گھاٹا نہ ہو جیسے اس کے برعکس صورت بھی بیان کی گئی ہے کہ اگر زکوٰۃ دینے والا تین برس کی اونٹنی کی بجائے جو اس پر واجب ہے مگر موجود نہیں ہے دو برس کی اونٹنی دے تو اس کے ساتھ دو بکریاں یا بیس درہم مزید دے تاکہ زکوٰۃ کے مال میں نقصان نہ رہ جائے بہرحال اس سے معلوم ہوا کہ فضیلت تانیث عمر کی زیادتی کا بدل ہوجاتی ہے۔ اگرچہ چرنے والی کی قید صرف بکری کے نصاب میں زکوٰۃ میں لگائی گئی ہے لیکن اس کا تعلق ہر جانور سے ہے یعنی خواہ بکری ہو یا اونٹ اور یا گائے ان میں زکوٰۃ اسی وقت واجب ہوگی جب کہ وہ سال کے اکثر حصے یعنی نصف سال سے زیادہ جنگ میں چریں اگر ان میں سے کوئی بھی جانور ایسا ہو جسے سال کے اکثر حصے میں گھر سے چارہ کھلایا جاتا ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی۔ بکریوں کا نصاب چالیس بیان کیا گیا ہے یعنی اگر چالیس سے کم بکریاں ہوں گی تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی جب چالیس بکریاں ہوں گی تو ایک بکری زکوٰۃ کے طور پر واجب ہوجائے گی اور اگر چالیس سے بھی زائد ہوں تو ایک سو بیس تک ایک ہی بکری واجب رہے گی اسی طرح تین سو تک کی تعداد کے نصاب زکوٰۃ کو بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے کہ جب تعداد تین سو سے تجاوز ہوجائے تو پھر یہ حساب ہوگا کہ ہر سو بکری پر ایک بکری واجب ہوگی یعنی تین سو تک تو تین بکریاں ہوں گی تین سو کے بعد چار سو بکریاں اس وقت واجب ہوں گی جب کہ تعداد پورے چار سال ہوجائے چناچہ اکثر ائمہ و علماء کا یہی مسلک ہے لیکن حسن بن صالح کا قول اس بارے میں یہ ہے کہ تین کے بعد اگر ایک بکری بھی زائد ہوگی تو چار بکریاں واجب ہوجائیں گی۔ ولا ذات عوار (اور عیب دار نہ دی جائے) زکوٰۃ میں عیب دار مال نہ لینے کا حکم اس صورت میں ہے جب کہ پورا مال یا کچھ مال ایسا ہو جس میں کوئی عیب و خرابی نہ ہو اگر پورا ہی مال عیب دار ہو تو پھر اس میں سے اوسط درجے کا دیکھ کردیا جائے گا۔ زکوٰۃ میں بوک (بکرا) لینے سے اس لئے منع کیا گیا ہے کہ بکریوں کے ساتھ بوک افزائیش نسل کے لئے رکھا جاتا ہے اگر بوک لے لیا جائے گا تو بکریوں کے مالک کو نقصان ہوگا یا وہ اس کی وجہ سے پریشانی میں مبتلا ہوجائے گا یا پھر بوک لینے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ اس کا گوشت بدمزہ اور بدبو دار ہوتا ہے۔ ولا یجمع بین متفرق الخ (اور متفرق جانوروں کو یکجا نہ کیا جائے الخ) اس جملے کا مطلب سمجھنے سے پہلے مسئلہ کی حقیقت جان لیجئے تاکہ مفہوم پوری طرح ذہن نشین ہوجائے مسئلہ یہ ہے کہ آیا زکوٰۃ گلہ یعنی مجموعہ پر ہے یا اشخاص یعنی مال کے مالک کا اعتبار ہوتا ہے؟ حضرت امام شافعی تو فرماتے ہیں کہ زکوٰۃ گلہ کے اعتبار سے دینی ہوتی ہے ان کے ہاں مالک کا اعتبار نہیں ہوتا جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں گلہ کا اعتبار نہیں ہوتا مالک کا اعتبار ہوتا ہے۔ اس مسئلہ کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ ایک شخص کے پاس اسی بکریاں ہیں مگر وہ بکریاں ایک جگہ یعنی ایک گلہ ریوڑ میں نہیں ہیں بلکہ الگ الگ دو گلوں میں ہیں تو چونکہ امام شافعی کے نزدیک زکوٰۃ گلہ پر واجب ہوتی ہے اس لئے ان کے مسلک کے مطابق ان دونوں گلوں میں سے دو بکریاں وصول کی جائیں گی لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق دونوں گلوں سے ایک ہی بکری وصول کی جائے گی کیونکہ اگرچہ وہ اسی بکریاں دو گلوں میں تقسیم ہیں مگر ملکیت میں چونکہ ایک شخص کی ہیں اس لئے اس حساب کے مطابق کہ چالیس سے ایک سو بیس تک کی تعداد میں ایک ہی بکری واجب ہوتی ہے اس شخص سے بھی ایک ہی بکری وصول کی جائے گی۔ دوسری مثال یہ ہے کہ دو اشخاص کی اسی بکریاں ہیں جو ایک ہی گلہ میں ہیں تو امام شافعی کے مسلک کے مطابق اس گلہ میں سے ایک ہی بکری لی جائے گی اور امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق اس گلہ میں سے دو بکریاں لی جائیں گی کیونکہ وہ اسی بکریاں اگرچہ ایک ہی گلہ میں ہیں لیکن مالک اس کے دو الگ الگ اشخاص ہیں اور وہ دونوں اتنی اتنی بکریوں (یعنی چالیس چالیس) کے مالک ہیں کہ ان کی الگ الگ تعداد پر ایک بکری واجب ہوتی ہے۔ اس مسئلہ کو ذہن میں رکھ کر اب سمجھئے کہ حدیث کے اس جملے ولا یجمع بین متفرق الخ کا مطلب امام شافعی کے ہاں تو یہ ہے کہ اس ممانعت کا تعلق مالک سے ہے کہ اگر مثال کے طور پر چالیس بکریاں اس کی ہوں اور چالیس بکریاں کسی دوسرے کی ہوں اور یہ دونوں تعداد الگ الگ ہوں تو ان بکریوں کو جو الگ الگ اور متفرق ہیں زکوٰۃ کم کرنے کے لئے یکجا نہ کیا جائے یعنی مالک یہ سوچ کر کہ اگر یہ بکریاں الگ الگ دو گلوں میں ہوں گی تو ان میں سے دو بکریاں دینی ہوں گی اور اگر ان دونوں گلوں کو ملا کر ایک گلہ کردیا جائے تو پھر ایک ہی بکری دینی ہوگی ان کو یکجا نہ کرے۔ اسی طرح ولا یفرق بین مجتمع اور نہ جانوروں کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے میں اس ممانعت کا تعلق بھی مالک سے ہے کہ مثلا اگر اس کے پاس بیس بکریاں ہوں جو کسی دوسرے شخص کی بکریوں کے گلے میں ملی ہوئی ہوں تو مالک اپنی ان بکریوں کو اس گلے سے الگ نہ کرے یہ سوچ کر کہ اگر یہ بکریاں اس گلے میں رہیں گی تو زکوٰۃ دینی ہوگی اور اگر ان بکریوں کو اس گلے سے الگ کردیا جائے تو زکوٰۃ سے بچ جاؤں گا۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس ممانعت کا تعلق ساعی یعنی زکوٰۃ وصول کرنے والے سے ہے کہ وہ زکوٰۃ لینے کے لئے متفق بکریوں کو یکجا نہ کرے مثلا دو الگ الگ اشخاص کے پاس اتنی اتنی بکریاں ہوں کہ جو علیحدہ علیحدہ تو حد نصاب کو نہ پہنچتی ہوں اور ان پر زکوٰۃ واجب نہ ہوتی ہو جیسے دونوں کے پاس بیس بیس بکریاں ہوں مگر جب دونوں کی بکریاں یکجا ہوجائیں تو ان پر زکوٰۃ واجب ہوجائے لہٰذا زکوٰۃ وصول کرنے والے کے لئے یہ درست نہیں ہے کہ وہ زکوٰۃ لینے کی وجہ سے ان بکریوں کو یکجا کر دے اسی طرح دوسری ممانعت کا تعلق بھی زکوٰۃ وصول کرنے والے ہی سے ہے کہ زکوٰۃ لینے کے لئے علیحدہ علیحدہ جانوروں کو یکجا نہ کرے مثلاً اگر کسی شخص کے پاس اسی بکریاں اس طرح ہوں کہ چالیس تو ایک جگہ ہیں اور چالیس دوسری جگہ ہیں تو زکوٰۃ وصول کرنے والا ان دونوں جگہوں کی بکریوں کو دو الگ الگ نصاب قرار دے کر اس شخص سے دو بکریاں وصول نہ کرے بلکہ دونوں جگہوں کی بکریوں کو ایک ہی نصاب قرار دے اور قاعدہ کے مطابق ایک ہی بکری وصول کرے کیونکہ بکریاں اگرچہ الگ الگ ہیں لیکن ملکیت میں ایک ہی شخص کے ہیں لہٰذا دونوں جگہ کی مجموعہ بکریوں پر کہ جن کی تعداد اسی ہے ایک ہی بکری واجب ہوگی۔ وماکان من خلیطین (جس نصاب میں دو آدمی شریک ہوں) اس جملے کی وضاحت بھی ایک مسئلہ سمجھ لینے پر موقوف ہے مسئلہ یہ ہے کہ مثلاً دو سو بکریاں ہیں جس میں دو آدمی شریک ہیں اس حساب سے کہ ایک آدمی کی تو ان میں سے چالیس بکریاں ہیں اور دوسرا آدمی ایک سو ساٹھ بکریوں کا مالک ہے اب سوال یہ ہے کہ ان بکریوں پر زکوٰۃ کے طور پر تو بکریاں واجب ہوں مگر وہ دو بکریاں ان دونوں سے وصول کس حساب سے ہوں گی، ظاہر ہے کہ یہ تو نہیں ہوسکتا کہ پہلے شخص پر تو اس کے حصے کے پیش نظر ایک بکری کا دو خمس واجب ہو اور باقی دوسرے شخص پر واجب ہو بلکہ یہ ہوگا کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا تو قاعدہ کے مطابق دونوں شخصوں سے ایک ایک بکری وصول کرتے گا مگر اس صورت میں پہلے شخص کو نقصان ہوگا کیونکہ ان مشترک بکریوں میں اس کا حصہ صرف چالیس بکریاں ہیں اسے بھی ایک ہی بکری دینی پڑی اور اور دوسرے شخص نے بھی ایک بکری دی جس کا حصہ ایک سو ساٹھ بکریاں ہیں ( اسی کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ زکوٰۃ وصول کرنے والا تو دونوں سے ایک ایک بکری وصول کرے گا لیکن پھر بعد میں دونوں کو چاہئے کہ وہ اپنے اپنے حصے کے مطابق حساب کرلیں یعنی پہلا شخص کہ جس کی چالیس بکریاں ہیں دوسرے شخص کہ جس کی ایک سو ساٹھ بکریاں اپنی دی ہوئی بکری کے تین خمس وصول کرے اس حساب سے چالیس بکریوں کے مالک پر اس کے حصہ کے مطابق دو خمس پڑیں گے اور باقی ایک سو ساٹھ بکریوں کے مالک پر اس کے حصے کے مطابق پڑجائیں گے۔ چناچہ ارشاد گرامی فانہما یتراجعان بالسویۃ، (انہیں چاہئے کہ وہ دونوں برابر برابر تقسیم کرلیں) کے یہ معنی ہیں۔
زمین کی پیداوار پر عشر دینے کا حکم
وعن عبد الله بن عمر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : فيما سقت السماء والعيون أو كان عثريا العشر . وما سقي بالنضح نصف العشر . رواه البخاري
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس چیز کو آسمان نے یا چشموں نے سیراب کیا ہو یا خود زمین سرسبز و شاداب ہو تو اس میں دسواں حصہ واجب ہوتا ہے اور جس زمین کو بیلوں یا اونٹوں کے ذریعے کنویں سے سیراب کیا گیا ہو تو اس کی پیداوار میں بیسواں حصہ واجب ہے (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو زمین بارش سے سیراب کی جاتی ہو یا چشموں، نہروں اور ندی نالوں کے ذریعے اس میں پانی آتا ہو تو ایسی زمین سے جو بھی غلہ وغیرہ پیدا ہوگا اس میں سے دسواں حصہ بطور زکوٰۃ دینا واجب ہوگا۔ عشری اس زمین کو کہتے ہیں جسے عاثور سیراب کیا جائے اور عاثور اس گڑھے کو کہتے ہیں جو زمین پر بطور تالاب کھودا جاتا ہے اس میں سے کھیتوں وغیرہ میں پانی لے جاتے ہیں۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ عشری اس زمین کو کہتے ہیں جو پانی کے قریب ہونے کی وجہ سے ہمیشہ تر و تازہ اور سرسبز و شاداب رہتی ہے۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العجماء جرحها جبار والبشر جبار والمعدن جبار وفي الركاز الخمس
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر جانور کسی کو زخمی کر دے تو معاف ہے اگر کنواں کھدوانے میں کوئی مرجائے تو معاف ہے اگر کان کھدوانے میں کوئی مرجائے تو معاف ہے اور رکاز میں پانچواں حصہ واجب ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کوئی جانور یعنی گھوڑا، بیل اور بھینس وغیرہ اگر کسی شخص کو زخمی کر دے کوئی چیز ضائع کر دے یا کسی کو جان ہی سے مار ڈالے اور اس موقعہ پر جانور کے ساتھ کوئی یعنی اس کا مالک وغیرہ نہ ہو اور یہ کہ دن کا وقت ہو تو جانور کا زخمی کرنا یا کسی چیز کو ضائع کردینا معاف ہے یعنی اس کے مالک پر اس کا کوئی بدلہ اور جرمانہ نہیں ہوگا۔ ہاں اگر جانور اس حال میں کسی کو زخمی کرے یا کوئی چیز ضائع کر دے کہ اس پر کوئی سوار ہو یا اس کے ساتھ کوئی ہانکنے والا اور کھینچنے والا ہو تو ایسی صورت میں جانور کے مالک پر بدلہ اور جرمانہ واجب ہوگا کیونکہ اس میں کوتاہی اور لاپرواہی کو دخل ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی جانور رات کے وقت چھوٹ کر کسی کو زخمی کر دے یا کوئی چیز تلف کر دے تو اس کے مال پر اس کا تاوان آئے کیونکہ رات میں جانوروں کو باندھا جاتا ہے مگر اس نے جانور کو نہ باندھ کر لاپرواہی اور کوتاہی کا ثبوت دیا اس بارے میں مذکورہ حدیث اگرچہ عام ہے اور اس میں کوئی قید اور تخصیص نہیں ہے مگر دوسری احادیث اور دیگر دلائل کے پیش نظر مذکورہ قیود کو ذکر کیا گیا ہے۔ والبیر جبار (اگر کنواں کھدوانے میں کوئی مرجائے تو معاف ہے) اس کا مطلب یہ ہے کہ مثلاً کوئی شخص کنواں کھدوانا چاہتا ہے اور اس نے کنواں کھودنے کے لئے کسی مزدور کی خدمات حاصل کی ہیں اب اگر وہ مزدور کنواں کھودتے ہوئے گر کر یا دب کر مرجائے تو کنواں کھدوانے والے پر کوئی تاوان یعنی خون بہا وغیرہ واجب نہیں۔ اس طرح اگر کوئی شخص اپنی زمین میں یا کسی ایسی افتادہ زمین میں کہ جس کے مالک کا کوئی پتہ نہ ہو کنواں کھدوائے اور اس کنویں میں کوئی آدمی یا جانور گر کر مرجائے تو اس صورت میں بھی اس پر کوئی تاوان نہیں آئے گا ہاں اگر کنواں راستے میں یا کسی دوسرے کی زمین میں مالک کی اجازت کے بغیر کھدوایا جائے اور اس کنویں میں کوئی آدمی یا جانور گر کر مرجائے تو اس صورت میں کنوا کھودنے والے کے عاقلہ پر تاوان یعنی خون بہا واجب ہوگا یہی حکم اس شخص کے بارے میں لاگو ہوگا جو سونا چاندی، فیروزہ یا مٹی نکلوانے کے لئے زمین کے کسی حصے کو کھدوائے گا۔ عاقلہ کسے کہتے ہیں عاقلہ ایک فقہی اصطلاح ہے اس کے معنی مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہوجاتا ہے مثلا وہ شکار پر بندوق چلاتا ہے اور اتفاق سے بغیر کسی قصد و ارادہ کے اس کی گولی شکار کی بجائے کسی انسان کو ہلاک کردیتی ہے یا مذکورہ بالا صورت کے مطابق کوئی شخص راستہ میں کنوا کھدوا دیتا ہے اور اس کنویں میں گر کر کوئی مرجاتا ہے تو جس شخص کی گولی سے کوئی خون ہوجائے یا جس شخص کے کھودے ہوئے کنویں میں کوئی گر کر مرجائے اس کے ساتھی اور رفیق عاقلہ کہلاتے ہیں فرض کیجئے وہ شخص فوج میں یا پولیس میں ملازم ہے تو اس کے ساتھی فوجی یا سپاہی عاقلہ کہلائیں گے اور اگر وہ کہیں ملازم نہ ہو تو پھر اس کے قبیلہ اور خاندان والے اس کے عاقلہ کہلائیں گے۔ عاقلہ پر تاوان کیوں؟ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غلطی تو اس شخص کی ہے مگر جرمانہ اور تاوان اس کے ساتھیوں یا اس کے اہل خاندان اور قبیلہ والوں پر کیوں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اس شخص سے کسی غلطی کا ارتکاب ہوگیا اور اس غلطی میں بھی اس کے قصد و ارادہ کو کوئی دخل نہیں تھا تو اگرچہ اس پر کوئی جرمانہ کیوں نہ کردیا جائے مگر ہوسکتا ہے کہ وہ اس غلطی پر پشیمان و نادم نہ ہو اور اس کی لاپرواہی اور کوتاہی آئندہ کسی اور بڑے حادثے کا ذریعہ بن جائے اس لئے ضروری ہوا کہ جرمانہ اور تاوان ان لوگوں پر لازم کیا جائے جو اس کے قریب رہنے والے ہوں اور اس سے متعلق ہوں تاکہ وہ اس پر پوری طرح کنٹرول کرسکیں اور آئندہ کے لئے اس سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہونے دیں۔ حدیث میں مذکور رکاز سے کیا مراد ہے؟ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ حدیث میں جس رکاز کا ذکر کیا گیا ہے اس سے کان (معدن) مراد ہے لیکن اہل حجاز رکاز سے زمانہ جاہلیت کے دفینے (زمین دوز کئے ہوئے خزانے) مراد لیتے ہیں جہاں تک حدیث کا ظاہر مفہوم اور اس کا سیاق وسباق ہے اس کے پیش نظر وہی معنی زیادہ مناسب اور بہتر معلوم ہوتے ہیں جو حضرت امام اعظم نے مراد لئے ہیں پھر یہ کہ خود آنحضرت ﷺ کا ایک ارشاد گرامی بھی رکاز کے اسی معنی کی وضاحت کرتا ہے چناچہ منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ سے جب دریافت کیا گیا کہ رکاز وہ سونا اور چاندی ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے زمین میں اس کی تخلیق کے وقت ہی پیدا فرمایا ہے۔ کان میں سے نکلنے والی چیزوں کی قسمیں اس موقع پر یہ بھی جان لیجئے کہ جو چیزیں کان سے برآمد ہوتی ہیں ان کی تین قسمیں ہیں۔ (١) وہ چیزیں جو منجمد ہوں اور آگ میں ڈالنے سے نرم ہوجائیں نیز منقش کئے جانے کے قابل ہوں یعنی جو سکے وغیرہ ڈھالنے کے کام آسکتی ہوں جیسے سونا، چاندی، لوہا اور رانگا وغیرہ۔ (٢) وہ چیزیں جو منجمد نہیں ہوتیں جیسے پانی، تیل، رال اور گندھک وغیرہ۔ (٣) وہ چیزیں جو آگ میں ڈالنے سے نرم نہ ہوتی ہوں اور نہ سکے وغیرہ کے لئے ڈھالی جاسکتی ہوں جیسے پتھر، چونا، ہڑتا اور یاقوت وغیرہ، چناچہ ان تینوں اقسام میں سے صرف پہلی قسم میں زکوٰۃ کے طور پر خمس یعنی پانچواں حصہ نکالنا واجب ہے اور اس کے لئے ایک سال گزرنا شرط نہیں ہے حضرت امام شافعی کے نزدیک معدنیات میں سے صرف سونے چاندی میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے دوسری مع دنیا مثلاً لوہے، رانگ وغیرہ میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔
عن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قد عفوت عن الخيل والرقيق فهاتوا صدقة الرقة : من كل أربعين درهما درهم وليس في تسعين ومائة شيء فإذا بلغت مائتين ففيها خمسة دراهم . رواه الترمذي وأبو داود وفي رواية لأبي داود عن الحارث عن علي قال زهير أحسبه عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : هاتوا ربع العشر من كل أربعين درهما درهم وليس عليكم شيء حتى تتم مائتي درهم . فإذا كانت مائتي درهم ففيها خمسة دراهم . فما زاد فعلى حساب ذلك . وفي الغنم في كل أربعين شاة شاة إلى عشرين ومائة ز فإن زادت واحدة فشاتان إلى مائتين . فإن زادت فثلاث شياه إلى ثلاثمائة فإذا زادت على ثلاث مائة ففي كل مائة شاة . فإن لم تكن إلا تسع وثلاثون فليس عليك فيها شيء وفي البقر : في كل ثلاثين تبيع وفي الأربعين مسنة وليس على العوامل شيء
حضر علی کرم اللہ وجہہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میں نے گھوڑوں اور غلاموں میں زکوٰۃ معاف رکھی ہے یعنی اگر غلام تجارت کے لئے نہ ہوں تو ان میں نہیں ہے اور گھوڑوں کی زکوٰۃ کے بارے میں ائمہ کا جو اختلاف ہے اسے بیان کیا جا چکا ہے تم چاندی کی زکوٰۃ ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم کے حساب سے ادا کرو جب کہ چاندی بقدر نصاب دو سو درہم ہو کیونکہ ایک سو نوے درہم یعنی دو سو درہم سے کم چاندی میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے جب دو سو درہم چاندی ہو تو اس میں سے پانچ درہم زکوٰۃ کے طور پر دینا واجب ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد) ابوداؤد نے حارث اعور سے حضرت علی ؓ کی یہ روایت نقل کی ہے کہ زہیر نے جو حارث سے روایت نقل کرتے ہیں کہا کہ میرا گمان ہے کہ حارث نے یہ کہا ہے کہ حضرت علی ؓ نے نبی کریم ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ تم ہر سال ہر چالیس درہم میں سے ایک درہم یعنی چالیسواں حصہ ادا کروں اور تم پر اس وقت تک کچھ واجب نہیں جب تک کہ تمہارے پاس دو سو درہم پورے نہ ہوں جب دو سو درہم پورے ہوں تو ان میں بطور زکوٰۃ پانچ درہم واجب ہوں گے اور جب دو سو درہم سے زائد ہوں گے تو ان میں اسی حساب سے زکوٰۃ واجب ہوگی اور بکریوں کا نصاب یہ ہے کہ ہر چالیس بکریوں میں ایک بکری واجب ہوتی ہے اور یہ ایک بکری ایک سو بیس تک کی تعداد کے لئے ہے اور جب اس تعداد سے ایک بکری بھی زائد ہوجائے تو دو سو تک دو بکریاں واجب ہوں گی اور جب دو سو سے ایک بکری بھی زائد ہوگی تو تین سو تک تین بکریاں واجب ہوں گی اور جب تین سو سے زائد ہوں یعنی چار سو ہوجائیں تو ہر سو بکریں میں ایک بکری واجب ہوگی ہوگی اور اگر تمہارے پاس بقدر نصاب بکریاں نہ ہوں یعنی انتالیس بکریاں ہوں تو پھر ان میں تمہارے ذمہ کچھ بھی واجب نہیں ہوگا اور گائے کا نصاب یہ ہے کہ ہر تیس میں ایک سال کی عمر کا ایک بیل اور چالیس میں دو سال کی عمر کی ایک گائے واجب ہے نیز کام کاج کے جانوروں میں کچھ بھی نہیں (یعنی زکوۃ) واجب نہیں۔
تشریح
فمازاد فعلی حساب ذالک (جب دو سو درہم سے زائد ہوں تو ان میں اس حساب سے زکوٰۃ واجب ہوگی) حنفیہ میں سے صاحبین یعنی حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کا یہی مسلک ہے کہ دو سو درہم سے جو مقدار زائد ہوگی اس کا حسان کر کے چالیسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ دو دسو درہم سے زائد مقدار میں اسی وقت زکوٰۃ واجب ہوگی جب وہ مقدار چالیس درہم تک ہو اور اگر زائد مقدار چالیس تک نہ پہچے تو پھر اس میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی بلکہ دو سو درہم ہی کی زکوٰۃ دی جائے گی حضرت امام صاحب نے اس حدیث میں زائد مقدار کو چالیس درہم کی زائد مقدار پر محمول کیا ہے اور یہ انہوں نے اس لئے کہا ہے تاکہ احادیث میں تطبیق ہوجائے اور کوئی تعارض نظر نہ آئے۔ گائے کے نصاب میں زکوٰۃ کے طور پر بیل دینے کے لئے فرمایا گیا ہے چناچہ گائے کی زکوٰۃ کے طور پر نر اور مادہ دونوں برابر ہیں چاہے گائے دی جائے اور چاہے بیل دیدیا جائے جیسا کہ آگے آنے والی روایت میں اس کی وضاحت بھی ہے چناچہ گائے اور بکری کی زکوٰۃ کے طور پر مادہ ہی دینا ضروری نہیں ہے اونٹوں کے برخلاف کہ ان میں مادہ ہی دینا افضل ہے لیکن گائے اور بکری میں اس کی کوئی قید اور تخصیص نہیں ہے۔ علامہ ابن حجر نے فرمایا ہے کہ اگر گائے یا بیل چالیس سے زائد ہوں تو اس زائد مقدار میں اس وقت تک کوئی چیز واجب نہیں ہوتی جب تک کہ تعداد ساٹھ تک نہ پہنچ جائے جب تعداد ساٹھ ہوجائے گی تو ان میں دو تبیعے یعنی ایک ایک برس کے دو بیل یا اتنی ہی عمر کی دو گائیں دینی ہوں گی پھر اس کے بعد ہر چالیس میں ایک مسنہ اور یعنی دو برس کی گائے یا بیل دینا ہوگا اور ہر تیس میں ایک ایک تبیعہ واجب ہوگا مثلاً جب ستر ہوجائیں تو ایک مسنہ اور ایک تبیعہ، اسی ہوجائیں تو دو مسنہ نوے ہوجائیں تو تین تبیعے اور جب سو ہوجائیں تو دو تبیعے اور ایک مسنہ واجب ہوجائے گا۔ اسی طرح ہر تیس میں ایک تبیعہ اور ہر چالیس میں ایک مسنہ کے حساب سے زکوٰۃ ادا کی جائے گی۔ علامہ ابن حجر کا قول اگر گائے یا بیل چالیس سے زائد مقدار میں اس وقت تک کوئی چیز واجب نہیں ہوتی جب تک کہ تعداد ساٹھ تک نہ پہنچ جائے حنفیہ میں سے صاحبین کا یہی مسلک ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ چالیس سے جو تعداد بھی زائدہ ہوگی اس کا بھی حساب کر کے زکوٰۃ ادا کی جائے گی تاکہ تعداد ساٹھ تک پہنچ جائے جب تعداد ساٹھ تک پہنچ جائے گی تو دو تبیعے واجب ہوجائیں گے باقی حساب مذکورہ بالا ترتیب کے مطابق ہوگا۔ لہٰذا اگر چالیس سے ایک بھی گائے یا بیل زائد ہوگا تو مسنہ کا چالیسواں حصہ یا ایک تبیعہ کا تیسواں حصہ یعنی ان کی قیمت کا چالیسواں یا تیسواں حصہ دینا ضروری ہوگا اسی طرح جو مقدار بھی زائد ہوگی اس کا اسی کے مطابق حساب کی جائے گا حنفیہ میں صاحب ہدایہ اور ان کے متبعین کی رائے میں حضرت امام صاحب کا یہی قول معتبر ہے۔ حدیث کے آخر جملے ولیس علی العوامل چیز (کام کاج کے جانوروں میں کچھ بھی واجب نہیں ہے) کا مطلب یہ ہے کہ جو جانور کام کاج کے ہوں اور ضروریات میں استعمال ہوتے ہوں جیسے بیل ہل جوتنے یا کنویں سے پانی کھینچنے یا بار برداری کے کام لئے ہوں تو اگرچہ ان کی تعداد بقدر نصاب ہی کیوں نہ ہو لیکن ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوگی۔ یہی حکم اونٹ وغیرہ کے بارے میں بھی ہے چناچہ حضرت امام اعظم حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے۔ لیکن حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ ایسے جانوروں میں بھی زکوٰۃ واجب ہوگی۔
وعن معاذ : أن النبي صلى الله عليه و سلم لما وجهه إلى اليمن أمره أن يأخذ من البقرة : من كل ثلاثين تبيعا أو تبيعة ومن كل أربعين مسنة . رواه أبو داود والترمذي والنسائي والدارمي
حضرت معاذ ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جب انہیں عامل بنا کر یمن بھیجا تو انہیں یہ حکم دیا کہ وہ زکوٰۃ کے طور پر ہر تیس گائے میں سے ایک برس کا بیل یا ایک برس کی گائے لیں اور ہر چالیس گائے میں سے دو برس کی گائے یا دو برس کا بیل وصول کریں۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، دارمی)
زکوۃ میں مقدار واجب سے زیادہ وصول کرنا گناہ ہے
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المعتدي في الصدقة كمانعها . رواه أبو داود والترمذي
حضر انس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا زکوٰۃ لینے میں (مقدار واجب سے) زیادتی کرنے والا زکوٰۃ نہ دینے والے کی مانند ہے (یعنی جس طرح زکوٰۃ نہ دینا گناہ ہے اسی طرح زکوٰۃ میں مقدار واجب سے زیادہ وصول کرنا بھی گناہ ہے) (ابو داؤد، ترمذی)
وعن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس في حب ولا تمر صدقة حتى يبلغ خمسة أوسق . رواه النسائي
حضرت ابوسعید خدری ؓ ہیں راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا غلہ اور کھجور میں اس وقت تک زکوٰۃ واجب نہیں جب تک کہ ان کی مقدار پانچ وسق (پچیس من ساڑھے بارہ سیر) نہ ہو۔ (نسائی)
تشریح
غلہ اور کھجوروں کی زکوٰۃ کے بارے میں میں گزشتہ صفحات میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے وہیں کسی موقع پر وسق کی توضیح بھی کی گئی ہے۔
وعن موسى بن طلحة قال : عندنا كتاب معاذ بن جبل عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : إنما أمره أن يأخذ الصدقة من الحنطة والشعير والزبيب والتمر . مرسل رواه في شرح السنة
حضرت موسیٰ بن طلحہ (تابعی) کہتے ہیں کہ ہمارے پاس حضرت معاذ بن جبل ؓ کا وہ مکتوب گرامی ہے جسے نبی کریم ﷺ نے ان کے پاس بھیجا تھا، چناچہ حضرت معاذ ؓ نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں گیہوں، جو، انگور اور کھجوروں کی زکوٰۃ وصول کروں۔ (یہ حدیث مرسل ہے اور شرح السنۃ میں نقل کی گئی ہے)
تشریح
اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ زمین کی پیداوار میں سے صرف انہیں چار چیزوں میں زکوٰۃ واجب ہے بلکہ حضرت امام شافعی کے نزدیک تو زمین کی ہر اس پیداوار میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جو انسانی زندگی کے لئے غذا بن سکتی ہو اور حنفیہ کے نزدیک زمین کی ہر پیداوار میں زکوٰۃ ہے خواہ وہ انسانی زندگی کے لئے غذا ہو یا نہ ہو جہاں تک اس حدیث کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس علاقہ میں صرف یہی چار چیزیں پیدا ہوتی تھیں اس لئے انہیں چار چیزوں کو بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔
وعن عتاب بن أسيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في زكاة الكروم : إنها تخرص كما تخرص النخل ثم تؤدى زكاته زبيبا كما تؤدى زكاة النخل تمرا . رواه الترمذي وأبو داود
حضرت عتاب بن اسید ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انگور کی زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا کہ انگوروں کا اسی طرح اندازہ کیا جائے جیسے کھجوروں کا اندازہ کیا جاتا ہے پھر ان انگوروں کی زکوٰۃ اس وقت ادا کی جائے جب وہ خشک ہوجائیں جس طرح کہ خشک ہوجانے کے بعد کھجوروں کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد )
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب انگوروں اور کھجوروں میں شیرینی پیدا ہوجائے تو کوئی ماہر شخص ان کے بارے میں یہ اندازہ لگائے کہ خشک ہونے کے بعد یہ کس قدر ہوں گی۔ پھر جب وہ خشک ہوجائیں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک مطابق وہ جتنی بھی ہوں ان کا دسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے صاحبین اور حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق اگر ان کی مقدار حد نصاب یعنی پانچ وسق تک پہنچ جائے تو دسواں حصہ ادا کیا جائے۔
وعن سهل بن أبي حثمة حدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : إذا خرصتم فخذوا ودعوا الثلث فإن لم تدعوا الثلث فدعوا الربع . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت سہل بن ابی حثمہ ؓ رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کرتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا جب تم انگوروں اور کھجوروں کی زکوٰۃ کا اندازہ کرلو تو اس میں دو تہائی لے لو اور ایک تہائی چھوڑ دو، اگر ایک تہائی نہ چھوڑ سکو تو چوتھائی تو چھوڑ ہی دو۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی)
تشریح
دراصل یہ زکوٰۃ وصول کرنے والوں سے خطاب ہے کہ جب تم زکوٰۃ کی مقدادر متعین کرلو تو اس مقدار متعین میں سے دو تہائی تو لے لو اور ایک تہائی از راہ احسان و مروت مالک کے لئے چھوڑ دو تاکہ وہ اس میں اپنے ہمسایوں اور راہ گیروں کو کھلائے حضرت امام اعظم اور حضرت امام مالک کا یہی مسلک ہے اگرچہ حضرت امام شافعی کا پہلا قول بھی یہی ہے مگر ان کا بعد کا قول یہ ہے کہ زکوٰۃ کی مقدار واجب میں سے کچھ حصہ بھی نہ چھوڑا جائے۔ اس حدیث کی تاویل وہ یہ کرتے ہیں کہ اس کا تعلق خیبر کے یہودیوں سے تھا، چونکہ آنحضرت ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے مساقات (بٹائی) پر معاملہ کر رکھا تھا کہ آدھی کھجوریں وہ رکھا کریں اور آدھی کھجوریں دربار نبوت میں بھیج دیا کریں اس لئے آپ نے وہاں کی کھجوروں کا اندازہ کرنے والے کو یہ حکم دیا تھا کہ پہلے تمام کھجوروں میں سے ایک تہائی یا ایک چوتھائی ان یہودیوں کے لئے از راہ احسان چھوڑ دیا جائے پھر باقی کھجوروں کو نصف تقسیم کردیا جائے ایک حصہ یہودیوں کو دے دیا جائے اور ایک دربار نبوت میں بھیج دیا جائے۔