وعن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يبعث عبد الله ابن رواحة إلى يهود فيخرص النخل حين يطيب قبل أن يؤكل منه . رواه أبو داود
ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ عبداللہ بن رواحہ ؓ کو خیبر کے یہودیوں کے پاس بھیجا کرتے تھے وہاں جا کر کھجوروں کی مقدار کا اندازہ کیا کرتے تھے جب کہ ان میں شیرینی پیدا ہوجاتی تھی مگر کھانے کے قابل نہیں ہوتی تھی۔ ( ابوداؤد )
وعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم في العمل : في كل عشرة أزق زق . رواه الترمذي وقال : في إسناده مقال ولا يصح عن النبي صلى الله عليه و سلم في هذا الباب كثير شيء
حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے شہد کی زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا کہ ہر دس مشک میں ایک مشک بطور زکوٰۃ واجب ہے (ترمذی اور امام ترمذی نے فرمایا ہے کہ اس حدیث کی اسناد میں کلام کیا گیا ہے نیز اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی اکثر احادیث جو نقل کی جاتی ہیں وہ صحیح نہیں۔
تشریح
شہد کی زکوٰۃ کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے حضرت امام شافعی تو فرماتے ہیں کہ شہد میں زکوٰۃ نہیں ہے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک شہد میں زکوٰۃ واجب ہے خواہ کم مقدار میں ہو یا زیادہ مقدار میں ہو بشرطیکہ عشری زمین میں نکلا ہو۔ ان کی دلیل یہ ارشاد گرامی ہے کہ زمین کی ہر پیداوار میں عشر ہے
وعن زينب امرأة عبد الله قالت : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا معشر النساء تصدقن ولو من حليكن فإنكن أكثر أهل جهنم يوم القيامة . رواه الترمذي
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی زوجہ محترمہ حضرت زینب کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ ارشاد کرتے ہوئے فرمایا کہ اے عورتوں کی جماعت، تم اپنے مال کی زکوٰۃ ادا کرو اگرچہ وہ زیور ہی کیوں نہ ہو اس لئے کہ قیامت کے دن تم میں اکثریت دوزخیوں کی ہوگی۔ (ترمذی)
تشریح
اکثریت دوزخیوں کی ہوگی کا مطلب یہ ہے کہ عورتوں کی اکثریت چونکہ دنیا اور دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوتی ہے ہے جس کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوتی بلکہ اللہ کی راہ میں اپنا مال خرچ کرنے کا ان میں جذبہ بھی نہیں ہوتا اس لئے عورتوں کی اکثریت کو دوزخی فرمایا گیا ہے چناچہ عورتوں کو آگاہ فرمایا گیا کہ اگر تم دوزخ کی ہولنا کیوں سے بچنا چاہتی ہو تو دنیا کی محبت اور دنیاوی عیش و عشرت کی طمع و حرص سے باز آؤ۔ اللہ نے تمہیں جس قدر مال دیا ہے اس پر قناعت کرو اور اس میں سے زکوٰۃ و صدقہ نکالتی رہو تاکہ قیامت کے دن اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہو اور تم دوزخ میں جانے سے بچ جاؤ۔ عورتوں کے زیور کی زکوٰۃ کے بارے میں ائمہ کا اختلاف ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا تو مسلک یہ ہے کہ مطلقا زیور میں زکوٰۃ واجب ہے جب کہ وہ حد نصاب کو پہنچتا ہو حضرت امام شافعی کا پہلا قول بھی یہی ہے حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ عورتوں کے ان زیورات میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے جن کا استعمال مباح ہے لہٰذا جن زیورات کا استعمال حرام ہے ان حضرات کے نزدیک بھی ان میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حضرت امام شافعی کا آخری قول بھی یہی ہے حضرت امام اعظم کے مسلک کی دلیل بھی یہی حدیث ہے جس سے مطلقاً زیورات میں زکوٰۃ کا وجوب ثابت ہو رہا ہے۔ کون سے زیورات مباح ہیں اور کون سے زیورات غیر مباح و حرام ہیں؟ اس کی تفصیل جاننے کے لئے محرر اور شافعی مسلک کی دوسری کتابیں دیکھی جاسکتی ہیں۔
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده : أن امرأتين أتتا رسول الله صلى الله عليه و سلم وفي أيديهما سواران من ذهب فقال لهما : تؤديان زكاته ؟ قالتا : لا . فقال لهما رسول الله صلى الله عليه و سلم : أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار ؟ قالتا : لا . قال : فأديا زكاته رواه الترمذي وقال : هذا حديث قد رواه المثنى بن الصباح عن عمرو بن شعيب نحو هذا والمثنى بن الصباح وابن لهيعة يضعفان في الحديث ولا يصح في هذا الباب عن النبي صلى الله عليه و سلم شيء
حضرت عمرو بن شعیب ؓ اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے جد محترم سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دن دو عورتیں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں ان دونوں نے اپنے ہاتھوں میں سونے کے کڑے پہنے ہوئے تھے، آنحضرت ﷺ نے ان کڑوں کو دیکھ کر فرمایا کہ کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو! ان دونوں نے کہا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم یہ بات پسند کرتی ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمہیں آگ کے دو کڑے پہنائے۔ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں! تو آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر اس سونے کی زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کو اسی طرح مثنی بن صباح نے عمرو بن شعیب سے نقل کیا ہے اور مثنی بن صباح نیز ابن لہیعہ جو اس حدیث کے ایک دوسرے راوی ہیں دونوں روایت حدیث کے بارے میں ضعیف شمار کئے جاتے ہیں اور اس بارے میں نبی کریم ﷺ کی کوئی صحیح حدیث منقول نہیں ہے۔
تشریح
یہ حدیث بھی بڑی وضاحت کے ساتھ اس بات کی دلیل ہے کہ زیورات میں زکوٰۃ واجب ہے امام ترمذی کا یہ کہنا ہے کہ اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی کوئی صحیح حدیث منقول نہیں ہے سمجھ میں آنے والی بات نہیں ہے کیونکہ احادیث کی دوسری کتابوں میں اس مسئلہ سے متعلق صحیح حدیثیں منقول ہیں جنہیں ملا علی قاری نے بھی مرقات میں نقل کیا ہے۔
وعن أم سلمة قالت : كنت ألبس أوضاحا من ذهب فقلت : يا رسول الله أكنز هو ؟ فقال : ما بلغ أن يؤدى زكاته فزكي فليس بكنز . رواه مالك وأبو داود
حضرت ام سلمہ ؓ راوی ہیں کہ میں سونے کا وضح جو ایک زیور کا نام ہے پہنا کرتی تھی ایک دن میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا اس کا شمار بھی جمع کرنے میں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو چیز اتنی مقدار میں ہو کہ اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے یعنی حد نصاب کو پہنچتی ہو تو زکوٰۃ ادا کرنے کے بعد اس کا شمار جمع کرنے میں نہیں ہوتا۔ (مال، ابوداو، )
تشریح
حضرت ام سلمہ ؓ کے سوال کا مطلب یہ تھا کہ قرآن کریم نے مال جمع کرنے کے بارے میں یہ جو وعید بیان فرمائی ہے کہ آیت (والذین یکنزون الذھب والفضۃ الآیہ (جو لوگ سونا اور چاندی جمع کرتے ہیں اور اس میں سے اللہ کی راہ میں کچھ خرچ نہیں کرتے تو انہیں دردناک عذاب سے آگاہ کر دیجئے)۔ تو کیا سونے کا میرا یہ زیور بھی اس وعید میں داخل ہے اس کا جواب آنحضرت ﷺ نے یہ دیا کہ جو مال بقدر نصاب ہو اور اس کی زکوٰۃ ادا کی جائے تو وہ مال اس وعید میں داخل نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم تو دردناک عذاب کی خبر اس مال کے مالک کے بارے میں دے رہا ہے جسے بغیر زکوٰۃ دیئے جمع کیا جائے۔
وعن سمرة بن جندب : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يأمرنا أن نخرج الصدقة من الذي نعد للبيع . رواه أبو داود
حضرت سمرہ بن جندب ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم تجارت کے لئے جو مال تیار کریں اس کی زکوٰۃ نکالا کریں۔ ( ابوداؤد )
وعن ربيعة بن أبي عبد الرحمن عن غير واحد : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم أقطع لبلال بن الحارث المزني معادن القبلية وهي من ناحية الفرع فتلك المعادن لا تؤخذ منها إلا الزكاة إلى اليوم . رواه أبو داود
حضرت ربیعہ بن ابی عبدالرحمن (تابعی) بہت سے صحابہ سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت بلال بن حارث منزی کو نواح فرع میں قبل کی کانیں بطور جاگیر عطا فرما دیں تھیں چناچہ ان کانوں میں سے اب تک صرف زکوٰۃ لی جاتی ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
قبلیہ قبل کی طرف منسوب ہے جو نواح فرع میں ایک جگہ کا نام ہے اور فرع مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک علاقہ ہے قبل میں جو کانیں تھیں انہیں آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال بن حارث مزنی ؓ کو عطا فرما دی تھیں تاکہ وہ ان کانوں میں سے جو کچھ برآمد کریں اس سے اپنی گزر بسر کا کام چلائیں۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ ان کانوں میں سے زکوٰۃ یعنی چالیسواں حصہ لیا جاتا ہے گویا کہ خمس نہیں لیا جاتا جیسا کہ کانوں کے متعلق حکم ہے، چناچہ حضرت امام مالک اور ایک قول کے مطابق حضرت امام شافعی کا مسلک یہی ہے کہ کانوں میں بھی چالیسواں حصہ واجب نہیں ہوتا حضرت امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے۔ حضرت امام شافعی کا ایک تیسرا قول یہ بھی ہے کہ اگر کان سے برآمد ہونے والی چیز بڑی محنت اور مشقت کے نتیجے میں حاصل ہو تو چالیسواں حصہ واجب ہوگا ورنہ بصورت دیگر خمس ہی واجب ہوگا۔ بہرحال حدیث چونکہ حنفیہ کے مسلک کے خلاف ہے اس لئے اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ حدیث کے مفہوم سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ ان کانوں میں سے خمس کے بجائے چالیسواں آنحضرت ﷺ کے کسی حکم کے مطابق لیا جاتا ہو بلکہ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ اس وقت کے حکام کے اپنے ذاتی اجتہاد سے ان کانوں میں سے بجائے خمس کے چالیسواں حصہ نکالنا ضروری قرار دیا ہوگا اور ظاہر ہے کہ ہمارے مسلک کی بنیاد کتاب اللہ، سنت صحیحہ اور قیاس پر ہے ملا علی قاری نے مرقات میں اس بات کو بڑی تفصیل کے ساتھ پیش کیا ہے اہل علم اس کتاب سے مراجعت کرسکتے ہیں۔
ترکاریوں اور عاریت کے درختوں میں زکوٰۃ نہیں
عن علي أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : ليس في الخضراوات صدقة ولا في العرايا صدقة ولا في أقل من خمسة أوسق صدقة ولا في العوامل صدقة ولا في الجبهة صدقة . قال الصقر : الجبهة الخيل والبغال والعبيد . رواه الدارقطني
حضرت علی ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ترکاریوں میں عاریت کے درختوں میں پانچ وسق سے کم میں، کام کاج کے جانوروں میں اور جبہہ میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے صقر (رح) کہتے ہیں کہ جبہہ سے گھوڑا، خچر اور غلام مراد ہے۔ (دارقطنی)
تشریح
ترکاریوں اور سبزیوں کی زکوٰۃ کے بارے میں پوری تفصیل باب کے بالکل شروع میں بیان کی جا چکی ہے۔ عرایا عریۃ کی جمع ہے عریۃ کھجور کے اس درخت کو کہتے ہیں جسے اس کا مالک کسی محتاج و ضرورت مند کو بطور عاریت دے دیتا ہے اور پورے سال کی کھجوروں کو اس کی ملکیت بنا دیتا ہے تاکہ وہ ان کھجوروں سے اپنی احتیاج و ضرورت کو ختم کرسکتے چناچہ ایسی کھجوروں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ ان میں زکوٰۃ واجب نہیں ہے کیونکہ وہ وجوب زکوٰۃ سے پہلے ہی اپنے مالک کی ملکیت سے نکل جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ حدیث بالا میں جن چیزوں کی زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا گیا ہے ان سب کا تفصیلی ذکر گزشتہ صفحات میں مختلف مقام پر بیان کیا جا چکا ہے۔
وقص جانوروں کی زکوٰۃ کا مسئلہ
وعن طاوس أن معاذ بن جبل أتي بوقص البقر فقال : لم يأمرني فيه النبي صلى الله عليه و سلم بشيء . رواه الدارقطني والشافعي وقال : الوقص ما لم يبلغ الفريضة
حضرت طاؤس (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت معاذ بن جبل کے پاس وقص گائیں لائی گئیں (تاکہ وہ اس میں سے زکوٰۃ وصول کریں) مگر انہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان میں سے مجھے کچھ لینے کا حکم نہیں فرمایا (یعنی آپ ﷺ نے ان کی زکوٰۃ کے طور پر کچھ واجب نہیں فرمایا) دارقطنی اور امام شافع رحمہما اللہ نے فرمایا ہے کہ وقص وہ جانور کہلاتے ہیں جو (ابتدائی طور پر یا پہلے دوسرے نصاب کے بعد) حد نصاب کو نہ پہنچیں۔
تشریح
علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ وقص قاف کے زیر کے ساتھ جانوروں کی اس تعداد کو کہتے ہیں جو فرض حد نصاب کو نہ پہنچے خواہ ابتداء ایسی تعداد ہو خواہ دو نصابوں کے درمیان ہو۔ اس بات کو مثال کے طور پر یوں سمجھئے کہ گائے یا بیل اگر تیس سے کم تعداد میں ہوں تو ان میں زکوٰۃ واجب نہیں چنانچیہ تیس سے کم وہ تعداد ہے جو ابتدائی طور پر ہی حد نصاب کو نہیں پہنچتی تیس سے کم یہ تعداد وقص کہلائے گی۔ دو نصابوں کے درمیان وقص یہ ہے کہ مثلا تیس گائے یا بیل پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے جب تعداد تیس سے بڑھ جائے گی مگر چالیس تک نہ پہنچے تو اس درمیانی تعداد یعنی اکتیس سے لے کر انتالیس تک میں زکوٰۃ کے طور پر کچھ دینا واجب نہیں ہوتا ہاں جب تعداد پوری چالیس ہوجاتی ہے تو زکوٰۃ کی مقدار بڑھ جاتی ہے لہٰذا اکتیس سے لے کر انتالیس تک کی تعداد بھی وقص کہلاتی ہے اسی طرح چالیس کے بعد زکوٰۃ کی مقدار اسی وقت بڑھتی ہے جب کہ تعداد پوری ساٹھ ہوجائے۔ ان دونوں عدد کی درمیانی تعداد کو وقص کہیں گے کیونکہ اس تعداد میں زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی۔ پھر جب تعداد ساٹھ سے متجاوز ہوگی زکوٰۃ کی مقدار اسی وقت بڑھے گی جب تعداد ستر ہوجائے، ان دونوں عدد کی درمیانی تعداد بھی وقص کہلائے گی کیونکہ اس تعداد میں بھی زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی، اسی طرح ہر دہائی کے بعد حکم متغیر ہوتا چلا جاتا ہے بایں طور زکوٰۃ کی مقدار میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، دو د ہوئیں کے درمیان جتنے بیل اور گائے ہوں گی ان سب کو وقص کہیں گے اور ان میں زکوٰۃ معاف ہوگی۔ حدیث میں وقص کا تذکرہ کیا گیا ہے اس سے ابتدائی وقص یعنی تیس سے کم تعداد مراد ہے کیونکہ حضرت معاذ ؓ کے پاس جو گائیں لائی گئی تھیں ان کی تعداد تیس سے کم تھی۔ دو نصابوں کے درمیان کے وقص میں صاحبین کے نزدیک مطلقاً زکوٰۃ واجب نہیں ہوتی لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک چالیس سے ساٹھ تک کے درمیان وقص میں زکوٰۃ واجب ہوتی ہے مگر باقی وقص میں واجب نہیں ہوتی۔ اس مسئلے کی پوری تفصیل اس باب کی دوسری فصل کے شروع میں بیان کی جا چکی ہے اس حدیث کے بارے میں میرک (رح) کہتے ہیں کہ اس کی اسناد منقطع ہے کیونکہ حضرت معاذ ؓ سے طاؤس کی ملا قات نہیں ہے۔
عن ابن عمر قال : فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مسلمانوں میں سے ہر غلام، آزاد، مرد، عورت اور چھوٹے بڑے پر زکوٰۃ فطر (صدق فطر) کے طور پر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جَو فرض قرار دیا ہے نیز آپ ﷺ نے صدقہ فطر کے بارے میں یہ بھی حکم فرمایا ہے کہ وہ لوگوں کو عید الفطر کی نماز کے لئے جانے سے پہلے دے دیا جائے۔ (بخار ومسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمہما اللہ کے نزدیک صدقہ فطر فرض ہے، حضرت امام مالک (رح) کے ہاں سنت مؤ کدہ ہے اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں واجب ہے حدیث میں مذکور لفظ فرض حضرت امام شافع اور حضرت امام احمد کے نزدیک اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے، حضرت امام مالک فرض کے معنی بیان کرتے ہیں مقرر کیا حنفی حضرات فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر چونکہ دلیل قطعی کے ذریعے ثابت نہیں ہے اس لئے صدقہ فطر عمل کے لحاظ سے تو فرض ہی کے برابر ہے لیکن اعتقادی طور پر اسے فرض نہیں کہا جاسکتا جس کا مطلب یہ ہے کہ واجب ہے فرض نہیں ہے۔ حضرت امام شافعی کے مسلک میں ہر اس شخص پر صدقہ فطر واجب ہے جو اپنے لئے اور ان لوگوں کے لئے کہ جن کی طرف سے صدقہ فطر دینا اس کے ذمہ ایک دن کا سامان خوراک رکھتا ہو اور وہ بقدر صدقہ فطر اس کی ضرورت سے زائد بھی حضرت امام اعظم (رح) کے مسلک کے مطابق صدقہ فطر اسی شخص پر واجب ہوگا جو غنی ہو یعنی وہ اپنی ضرورت اصلیہ کے علاوہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر اسباب وغیرہ کا مالک ہو یا اس کے بقدر سونا چاندی اپنی ملکیت میں رکھتا ہو اور قرض سے محفوظ ہو۔ صدقہ فطر کا وجوب عید الفطر کی فجر طلوع ہونے کے وقت ہوتا ہے لہٰذا جو شخص طلوع فجر سے پہلے مرجائے اس پر صدقہ فطر واجب نہیں اور اسی طرح جو شخص طلوع فجر کے بعد اسلام لائے اور مال پائے یا جو بچہ طلوع فجر کے بعد پیدا ہو اس پر بھی صدقہ فطر واجب نہیں۔ ایک صاع ساڑھے تین سیر یعنی چودہ اوزان کے مطابق تین کلو ٢٦٦ گرام ہوتا ہے گزشتہ صفحات میں بھی کچھ اوزان کے بارے میں تفصیل بیان کی جا چکی ہے۔ جو غلام خدمت کے لئے ہو اس کی طرف سے اس کے مالک پر صدقہ فطر دینا واجب ہے ہاں جو غلام تجارت کے لئے ہو اس کی طرف سے صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے اسی طرح جو غلام بھاگ جائے اس کی طرف سے بھی صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے ہاں جب وہ واپس آجائے تو اس وقت دینا واجب ہوگا۔ اولاد اگر چھوٹی ہو اور مالدار نہ ہو تو اس کی طرف سے اس کے باپ پر صدقہ فطر دینا واجب ہے ہاں اگر چھوٹی اولاد مالدار ہو تو پھر اس کا صدقہ فطر اس کے باپ پر واجب نہیں ہے بلکہ اس کے مال میں دیا جائے گا۔ بڑی اولاد جس پر دیوانگی طاری ہو اس کا حکم بھی چھوٹی اولاد کی طرح ہے، اسی طرح بڑی اولاد کی طرف سے باپ پر اور بیوی کی طرف سے خاوند پر ان کا صدقہ فطر دینا واجب نہیں ہے ہاں اگر کوئی باپ اپنی ہوشیار اولاد کی طرف سے یا کوئی خاوند اپنی بیوی کی طرف سے ان کا صدقہ ان کی اجازت سے از راہ احسان و مروت ادا کر دے تو جائز ہوگا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث میں لفظ من المسلمین لفظ عبد اور اس کے بعد کے الفاظ کا حال واقع ہو رہا ہے لہٰذا کسی مسلمان پر اپنے کافر غلام کی طرف سے صدقہ فطر واجب نہیں ہوگا۔ مگر صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ غلام کافر کا صدقہ فطر بھی اس کے مسلمان مالک پر واجب ہوتا ہے، انہوں نے اس کے ثبوت میں ایک حدیث بھی نقل کی ہے جسے ہدایہ یا مرقات میں دیکھا جاسکتا ہے، حنفیہ کے یہاں صاحب ہدایہ ہی کے قول کے مطابق فتویٰ ہے۔ (علم الفقہ) حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ہی ادا کردینا مستحب ہے اگر کوئی شخص اس سے بھی پہلے خواہ ایک مہینے یا ایک مہینے سے بھی زیادہ پہلے دے دے تو جائز ہے۔ نماز عید کے بعد یا زیادہ تاخیر سے صدقہ فطر ساقط نہیں ہوتا بہر صورت دینا ضروری ہوتا ہے۔
وعن أبي سعيد الخدري قال : كنا نخرج زكاة الفطر صاعا من طعام أو صاعا من شعير أو صاعا من تمر أو صاعا من أقط أو صاعا من زبيب
حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ ہم کھانے میں سے ایک صاع یا جو میں سے ایک صاع یا کھجوروں میں سے ایک صاع یا کھجوروں میں سے ایک صاع اور یا خشک انگوروں میں ایک صاع صدقہ فطر نکالا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ طعام (کھانے) سے مراد گیہوں ہے لیکن حنفی علماء کہتے ہیں کہ طعام سے گیہوں کے علاوہ دوسرے غلے مراد ہیں لہٰذا اس صورت میں طعام پر اس کے مابعد کا عطف خاص علی العام کی قسم سے ہوگا۔ قروط ایک خاص قسم کے پنیر کو کہتے تھے یہ پنیر اس طرح بنایا جاتا تھا کہ دہی کو کپڑے میں باندھ کر لٹکا دیتے تھے دہی کا تمام پانی ٹپک ٹپک کر گر جاتا تھا اور اس کا باقی ماندہ حصہ پنیر کی طرح کپڑے میں رہ جاتا تھا وہی حصہ قروط کہلاتا تھا۔ خشک انگور چونکہ حضرت امام اعظم (رح) کے ہاں گیہوں کی مانند ہے اس لئے اس میں سے صدقہ فطر کے طور پر نصف صاع یعنی ایک کلو ٢٣٣ کلو گرام دینا چاہئے البتہ صاحبین خشک کھجوروں کو چونکہ جو کی مانند سمجھتے ہیں اس لئے ان حضرات کے نزدیک اس میں سے صدقہ فطر کے طور پر ایک صاع یعنی تین کلو ٣٦٦ گرام دینا چاہئے۔ امام حسن (رح) نے حضرت امام اعظم کا بھی ایک قول یہی نقل کیا ہے۔
عن ابن عباس قال : في آخر رمضان أخرجوا صدقة صومكم . فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم هذه الصدقة صاعا من تمر أو شعير أو نصف صاع من قمح على كل حر أو مملوك ذكر أو أنثى صغير أو كبير . رواه أبو داود والنسائي
روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے رمضان کے آخری دنوں میں (لوگوں سے) کہا کہ تم اپنے روزوں کی زکوٰۃ نکالوں یعنی صدقہ فطر ادا کرو رسول کریم ﷺ نے یہ صدقہ ہر مسلمان، آزاد، غلام، لونڈی، مرد، عورت اور چھوٹے بڑے پر) کھجوروں اور جو میں سے ایک صاع اور گیہوں میں سے نصف صاع فرض (یعنی واجب) کیا ہے۔ ( ابوداؤد، نسائی)
تشریح
حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اسی حدیث کے مطابق کہتے ہیں کہ صدقہ فطر کے طور پر اگر گیہوں دیا جائے تو اس کی مقدار نصف صاع یعنی ایک کلو 332 گرام ہونی چاہئے۔
وعن ابن عباس قال : فرض رسول الله صلى الله عليه و سلم زكاة الفطر طهر الصيام من اللغو والرفث وطعمة للمساكين . رواه أبو داود
حضرت ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے روزوں کی بےہودہ باتوں اور لغو کلام سے پاک کرنے کے لئے نیز مساکین کو کھلانے کے لئے صدقہ فطر لازم قرار دیا ہے۔ (ابو داؤد)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ صدقہ فطر کو اس لئے واجب کیا گیا ہے تاکہ تقصیرات و کوتاہی اور گناہوں کی وجہ سے روزوں میں جو خلل واقع ہوجائے وہ اس کی وجہ سے جاتا رہے نیز مساکین و غرباء عید کے دن لوگوں کے سامنے دس سوال دراز کرنے سے بچ جائیں اور وہ صدقہ لے کر عید کی مسرتوں اور خوشیوں میں دوسرے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوجائیں۔ دارقطنی نے اس روایت کے آخر میں یہ الفاظ بھی ذکر کئے ہیں کہ جو شخص صدقہ فطر نماز عید سے پہلے ادا کرے گا اس کا صدقہ مقبول صدقہ ہوگا اور جو شخص نماز عید کے بعد ادا کرے گا تو اس کا وہ صدقہ بس صدقوں میں سے ایک صدقہ ہوگا۔
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده أن النبي صلى الله عليه و سلم بعث مناديا في فجاج مكة : ألا إن صدقة الفطر واجبة على كل مسلم ذكر أو أنثى حر أو عبد صغير أو كبير مدان من قمح أو سواه أو صاع من طعام . رواه الترمذي
حضرت عمرو بن شعیب ؓ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مکہ کے گلی کوچوں میں یہ منادی کرائی کہ سن لو! صدقہ فطر ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ مرد ہو یا عورت، آزاد یا غلام اور چھوٹا ہو یا بڑا (اور اس کی مقدار) گیہوں یا اس کی مانند چیزوں ( مثلا خشک انگور وغیرہ) میں سے دو مد اور (گیہوں کے علاوہ) دوسرے غلوں میں سے ایک صاع۔ (ترمذی)
تشریح
دو مد سے مراد آدھا صاع ہے کیونکہ ایک مد غلہ کا وزن چودہ چھٹانک کے قریب ہوتا ہے اور ایک صاع ساڑھے تین سیر کے برابر ہوتا ہے لہٰذا صدقہ فطر کے طور پر گیہوں پونے دو سیر یعنی ایک کلو 336 گرام دینا چاہئے چونکہ گیہوں کا آٹا یا گیہوں کا ستو بھی گیہوں ہی کے مثل ہے اس لئے یہ دونوں چیزیں بھی اسی مقدار میں دینی چاہئیں۔
وعن عبد الله بن ثعلبة أو ثعلبة بن عبد الله بن أبي صعير عن أبيه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صاع من بر أو قمح عن كل اثنين صغير أو كبير حر أو عبد ذكر أو أنثى . أما غنيكم فيزكيه الله . وأما فقيركم فيرد عليه أكثر ما أعطاه . رواه أبو داود
حضرت عبداللہ بن ثعلبہ یا حضرت ثعلبہ بن عبداللہ بن ابی صعیر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صدقہ فطر واجب ہے گیہوں میں سے ایک صاع دو آدمیوں کی طرف سے (کہ ہر ایک کی طرف سے نصف نصف صاع ہوگا) خواہ چھوٹے ہوں یا بڑے، آزاد ہوں یا غلام، مرد ہوں یا عورت، غنی کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ (صدقہ فطر دینے کی وجہ سے) اسے پاکیزہ بنا دیتا ہے اور فقیر کا معاملہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ دیتا ہے جتنا اس نے صدقہ فطر کے طور پر دیا۔ (ابو داؤد)
تشریح
مشکوۃ کے نسخوں میں حدیث کے راوی کا نام اگرچہ اسی طرح لکھا ہوا ہے لیکن صحیح اس طرح عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر یا بن ابی صعیر عن ابیہ الخ۔ حضرت ثعلبہ ؓ صحابی ہیں جن سے ان کے صاحبزادے یہ روایت نقل کرتے ہیں۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ غنی بھی صدقہ فطر ادا کرے اور فقیر بھی صدقہ فطر دے۔ ان دونوں کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ غنی کو تو اس کے صدقہ فطر دینے کی وجہ سے پاکیزہ بنا دیتا ہے اور فقیر کو اس سے زیادہ دیتا ہے جتنا اس نے صدقہ فطر کے طور پر دیا ہے، یہ بشارت اگرچہ غنی کے لئے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے مال میں بھی اس سے کہیں زیادہ برکت عطا فرماتا ہے جتنا کہ اس نے دیا ہے مگر اس بشارت کو فقیر کے ساتھ اس لئے مخصوص کیا تاکہ اس کی ہمت افزائی ہو اور وہ صدقہ فطر دینے میں پیچھے نہ رہے۔
جن لوگوں کو زکوٰۃ کا مال لینا اور کھانا حلال نہیں ہے ان کا بیان
اس باب کے تحت وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے معلوم ہوگا کہ زکوٰۃ کا مال کن لوگوں کو لینا اور اس سے فائدہ اٹھانا جائز نہیں ہے، چونکہ اس باب سے متعلق بہت زیادہ مسائل ہیں اس لئے مناسب یہ ہے کہ پہلے ان تمام مسائل کو تفصیلی طور پر نمبر وار نقل کردیا جائے۔ (١) جو شخص صاحب نصاب ہو اور اس پر زکوٰۃ واجب ہو تو وہ زکوٰۃ کا مال اپنی اصل کو نہ دے یعنی ماں باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور ان سے اوپر کے بزرگوں کو خواہ وہ باپ کی طرف سے ہوں یا ماں کی طرف سے ان میں سے کسی کو زکوٰۃ دینا درست اور جائز نہیں ہے اسی طرح اپنی فرع یعنی بیٹا، بیٹی، پوتا، پوتی، پڑپوتا، پڑپوتی، نواسا، نواسی اور ان کی اولاد میں سے کسی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے امام اعظم (رح) کے قول کے مطابق شوہر، بیوی کو اور بیوی شوہر کو زکوٰۃ نہ دے، مگر صاحبین کا قول یہ ہے کہ اگر بیوی اپنے شوہر کو زکوٰۃ دے تو درست ہے، ان کے علاوہ بقیہ رشتہ داروں کو زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے بشرطیکہ وہ زکوٰۃ کے مستحق ہوں، یعنی غنی سید، ہاشمی اور کافر نہ ہوں بلکہ غیروں کے مقابلہ میں اپنے رشتہ داروں کو دینا بہتر ہے، اس بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر زکوٰۃ اس ترتیب سے دی جائے تو بہت اچھا ہے کہ پہلے بہن، بھائی کو دے ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر چچا اور پھوپھی کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ماموں خالہ کو، ان کے بعد ان کی اولاد کو، پھر ان لوگوں کو جو ذوی الارحام ہوں پھر اپنے اجنبی ہمسایہ اور پڑوسی کو، پھر اپنے ہم پیشہ کو اور پھر اپنے ہم وطن کو یہی حکم صدقہ فطر اور نذر کا ہے کہ مذکورہ بالا ترتیب سے دینا افضل ہے، ویسے اگر کوئی شخص غیر اور اجنبی کو دیتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے مگر بہتر اور افضل یہی ہے کہ اپنے رشتہ داروں اور عزیزوں کو مقدم رکھا جائے۔ (٢) اپنے غلام اور اپنی لونڈی کو زکوٰۃ دینی درست نہیں ہے، یہی حکم ام ولد یعنی اس لونڈی کا ہے جس کے اپنے مالک سے کوئی اولاد ہو کہ اس کا مالک اسے بھی زکوٰۃ نہ دے۔ (٣) سسرالی رشتہ داروں کو زکوٰۃ دینی درست ہے مثلا ساس سسر، سالا، سالی یا جن لوگوں سے ان کی وجہ سے رشتہ دار ہو اسی طرح داماد اور بہو کو زکوٰۃ دینی درست ہے، نیز سوتیلی ماں، سوتیلی نانی کو بھی زکوٰۃ کا مال دینا جائز ہے۔ (٤) زکوٰۃ کا مال غنی کو دینا درست نہیں ہے، غنی اس شخص کو کہتے ہیں جو بقدر نصاب مال کا مالک ہو مال خواہ نامی ہو غیر نامی۔ نامی مال اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری ہوتی ہے جیسے مال تجارت، نقد روپیہ سونا چاندی اور سونے چاندی کے زیورات یہ مال شرعی قاعدہ کے مطابق نامی ہیں یعنی بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسی طرح ایسے مویشی اور جانور بھی حقیقۃً نامی مال ہیں جو تجارت یا افزائش نسل کے لئے ہوں۔ غیرنامی مال اس مال کو کہتے ہیں جس میں اضافہ اور بڑھوتری نہ ہوتی ہو جیسے حویلی و مکانات، کپڑے اور برتن وغیرہ یہ چیزیں بھی اگر ضرورت اصلیہ سے زائد ہوں اور بقدر نصاب ہوں، نیز قرض سے محفوظ ہوں تو بھی زکوٰۃ لینا درست نہیں ہے۔ رہائش کا مکان استعمال کے کپڑے، کھانے پکانے کے برتن، اہل علم کی لکھنے پڑھنے کی کتابیں لڑنے والے ہتھیار و اسلحے اور کاریگروں کے اوزار۔ یہ وہ اشیاء ہیں جنہیں ضرورت اصلیہ میں شمار کیا جاتا ہے۔ (٥) ہاشمی کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے پانچ لوگوں کی اولاد کو ہاشمی کہتے ہیں، اول حضرت علی ؓ کی اولاد خواہ حضرت فاطمہ زہراء کے بطن مبارک سے ہو یا دوسری بیویوں سے، دوم حضرت جعفر کی اولاد، سوم حضرت عقیل کی اولاد، چہارم حضرت عباس کی اولاد اور پنجم حارث بن عبدالمطلب کی اولاد ان پانچوں کے سلسہ نسب سے تعلق رکھنے والے ہاشمی کہلاتے ہیں۔ ان کے غلام اور لونڈی کو بھی زکوٰۃ دینی جائز نہیں ہے اسی طرح اگر ان کے غلام لونڈی آزاد ہوگئے ہوں تب بھی انہیں زکوٰۃ کا مال لینا اور کھانا جائز نہیں۔ (٦) کافر کو زکوٰۃ کا مال دینا درست نہیں ہے خواہ حربی ہو یا ذمی۔ (٧) اگر کسی شخص نے غنی یا کافر یا اپنے باپ یا اپنے بیٹے یا اپنی بیوی کو مستحق زکوٰۃ سمجھ کر زکوٰۃ کا مال دے دیا یعنی زکوٰۃ دیتے وقت اسے معلوم نہیں ہو کہ یہ ہاشمی ہے یا کافر ہے یا اپنا باپ یا بیٹا ہے یا اپنی بیوی ہے پھر زکوٰۃ دینے کے بعد اسے حقیقت معلوم ہوئی تو اس کے ذمہ سے زکوٰۃ ادا ہوجائے گی اب دوبارہ زکوٰۃ دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ (٨) مسجد کی تعمیر و مرمت کے لئے یا کسی میت کے کفن کے لئے اور یا میت کے قرض کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی بھی کام کے لئے زکوٰۃ کا مال دیا تو اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی۔ مستحقین زکوۃ۔ زکوٰۃ کے مستحق فقیر ہیں اور اصطلاح شریعت میں فقیر اس شخص کو کہتے ہیں جو نصاب سے کم مال کا مالک ہو مساکین بھی مستحق زکوٰۃ ہیں۔ مساکین ان لوگوں کو کہتے ہیں جن کے پاس کچھ بھی نہ ہو۔ وہ شخص بھی زکوٰۃ کا مستحق ہے جو حاکم وقت کی طرف سے لوگوں سے زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہو اگرچہ وہ خود بھی غنی کیوں نہ ہو برسبیل تذکرہ یہ بھی جان لیجئے کہ ہاشمی کے لئے وہ تنخواہ بھی جائز نہیں ہے جو زکوٰۃ وصول کرنے والے کو ملتی ہے وہ لوگ بھی زکوٰۃ کے مستحق ہیں جو جہاد یا سفر حج کے مسافر ہوں اور ان کے پاس روپیہ پیسہ نہ رہا ہو اگرچہ ان کے وطن میں ان کا کتنا ہی زیادہ روپیہ پیسہ کیوں نہ موجود ہو۔ اسی طرح دوسرے مسافروں کا بھی زکوٰۃ کا مال دینا درست ہے خواہ کسی مسافر کا اپنے وطن میں کتنا ہی مال و زر کیوں نہ ہو لیکن آخر میں اتنی بات جان لیجئے جس شخص کو ایک دن بقدر بھی اسباب زندگی میسر ہوں اس کے لئے دس سوال دراز کرنا بالکل درست نہیں۔ (مولانا اسحق دہلوی)
آنحضرت ﷺ کو زکوٰۃ کا مال کھانا حرام تھا
عن أنس قال : مر النبي صلى الله عليه و سلم الله عليه وسلم بتمرة في الطريق فقال : لولا أني أخاف أن تكون من الصدقة لأكلتها
حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ ایک کھجور کے پاس سے گزرے جو راستے میں پڑی ہوئی تھی، آپ ﷺ نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اگر مجھے یہ خوف نہ ہوتا کہ یہ کھجور زکوٰۃ کی ہوگی تو میں اللہ کی نعمت کی تعظیم کے پیش نظر اسے اٹھا کر ضرور کھا لیتا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے کئی مسئلے مستنبط ہوتے ہیں۔ (١) آنحضرت ﷺ کو زکوٰۃ کا مال کھانا حرام تھا چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے حق میں مطلقاً صدقہ کا مال حرام تھا کہ خواہ صدقہ واجب (یعنی زکوٰۃ وغیر) کا مال ہو یا صدقہ نافلہ کا آپ ﷺ اسے اپنے استعمال میں نہیں لاسکتے تھے۔ (٢) بنی ہاشم کے لئے صدقہ واجبہ لینا اور اسے استعمال کرنا تو حرام ہے لیکن صدقہ نافلہ حرام نہیں ہے (٣) راستے میں پڑی ہوئی کسی ایسی چیز کو اٹھا کر کھا لینا یا اسے اپنے استعمال میں لے آنا جائز ہے خواہ وہ مقدار و تعداد میں بہت تھوڑی ہو اور یہ گمان ہو کہ اس کا مالک اسے تلاش نہیں کرے گا۔ (٤) بندہ مومن کے لئے یہ بات اولیٰ اور افضل ہے کہ وہ ہر اس چیز سے اجتناب و پرہیز کرے جس میں حرمت کا ذرا بھی شبہ ہو۔
بنی ہاشم کے لئے صدقہ وزکوۃ کا مال کھانا حرام ہے۔
وعن أبي هريرة قال : أخذ الحسن بن علي تمرة من تمر الصدقة فجعلها في فيه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : كخ كخ ليطرحها ثم قال : أما شعرت أنا لا نأكل الصدقة ؟
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت حسن بن علی ؓ نے زکوٰۃ کی رکھی ہوئی کھجوروں میں سے ایک کھجور اٹھا کر اپنے منہ میں ڈال لی (یہ دیکھ کر) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے نکالو! نکالو (اور اس طرح فرمایا تاکہ) وہ اسے (منہ سے نکال کر) پھینک دیں پھر آپ نے ان سے فرمایا کہ کیا تم جانتے نہیں کہ ہم بنی ہاشم صدقہ کا مال نہیں کھاتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اما شعرت (کیا تم نہیں جانتے) اس جملے کا استعمال ایسے مواقع پر کیا جاتا ہے جب کہ مخاطب کسی واضح اور ظاہر امر کے برخلاف کوئی بات کہہ یا کر رہا ہو خواہ مخاطب اس واضح امر سے لاعلم ہی کیوں نہ ہو گویا اس جملے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ امر اتنا واضح اور ظاہر ہونے کے باوجود تم پر پوشید کیسے ہے اور تم اس سے لاعلم کیسے ہو۔ بہرحال ظاہر ہے کہ حضرت حسن ؓ تو اس وقت بالکل ہی کمسن تھے، انہیں ان سب باتوں کی کیا خبر تھی مگر آپ ﷺ نے اس کے باجود انہیں اس انداز سے اس لئے خطاب کیا تاکہ دوسرے لوگ اس کے بارے میں مطلع ہوجائیں اور انہیں بنی ہاشم کے حق میں صدقہ زکوٰۃ کے مال کی حرمت کا علم ہوجائے۔ اس حدیث سے یہ نکتہ بھی ہاتھ لگا کہ والدین اور مربی پر واجب ہے کہ وہ اپنی اولاد کو خلاف شرع باتوں اور غلط حرکتوں سے روکیں اسی وجہ سے حنفی علماء فرماتے ہیں کہ والدین کے لئے یہ حرام ہے کہ وہ اپنے لڑکوں کو ریشم کے کپڑے (جو مردوں کے لئے ناجائز ہیں) اور سونے چاندی کا زیور پہنائیں۔
وعن عبد المطلب بن ربيعة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن هذه الصدقات إنما هي أوساخ الناس وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد . رواه مسلم
حضرت عبدالمطلب بن ربیعہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ صدقات یعنی زکوٰۃ تو انسانوں کے میل ہیں، صدقہ نہ تو محمد ﷺ کے لئے حلال ہے اور نہ آل محمد (بنی ہاشم) کے لئے حلال ہے (مسلم)
تشریح
زکوٰۃ کو میل اس لئے کہا گیا ہے کہ جس طرح انسان کا جسم میل اتارنے سے صاف ہوجاتا ہے اسی طرح زکوٰۃ نکالنے سے نہ صرف یہ کہ مال ہی پاک ہوجاتا ہے بلکہ زکوٰۃ دینے والے کے قلب و روح میں پاکیزگی پیدا ہوتی ہے یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حرام تھا اسی طرح آنحضرت ﷺ کی اولاد بنی ہاشم کو بھی زکوٰۃ لینی حرام ہے، خواہ وہ زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر ہوں یا محتاج و مفلس ہوں چناچہ حنفیہ کا صحیح مسلک یہی ہے۔
صدقہ کے مال سے آنحضرت ﷺ کی احتیاط
وعن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أتي بطعام سأل عنه : أهدية أم صدقة ؟ فإن قيل : صدقة : قال لأصحابه : كلوا ولم يأكل وإن قيل : هدية ضرب بيده فأكل معهم
حضرت ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کا یہ معمول تھا کہ جب آپ ﷺ کے پاس کھانے کی کوئی چیز لائی جاتی تو پہلے آپ ﷺ اس کے بارے میں پوچھتے کہ یہ ہدیہ ہے یا صدقہ اگر بتایا جاتا کہ یہ صدقہ ہے تو آپ ﷺ (بنی ہاشم کے علاوہ) اپنے دوسرے صحابہ سے فرماتے کہ کھالو لیکن آپ ﷺ خود نہ کھاتے اور اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ ﷺ اپنا دست مبارک بڑھاتے اور صحابہ کے ساتھ اسے تناول فرماتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
صدقہ اس مال کو کہا جاتا ہے جو کسی محتاج و ضرورت مند کو از راہ مہربانی دیا جاتا ہے اور اس سے مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی رضا حاصل ہو اور آخرت میں اس کا اجر وثواب ملے چونکہ صدقہ کا مال لینے والے کی ایک طرح سے ذلت اور کمتری محسوس ہوتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ کے لئے مطلقاً صدقہ لینا حرام تھا۔ ہدیہ کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے کسی بڑے اور عظیم المرتبت شخص کی خدمت میں کوئی چیز از راہ تعظیم و تکریم پیش کرے۔ ہدیہ کا ایک خاص پہلو یہ بھی ہوتا ہے کہ دنیاوی طور پر اس کا تعلق طرفین سے ہوتا ہے بایں طور کہ جو شخص کسی کو کوئی چیز ہدیہ کرتا ہے تو وہ دنیا ہی میں اس کا اس طرح بدلہ بھی پاتا ہے کہ جسے اس نے ہدیہ دیا ہے وہ کسی وقت اسے بھی کوئی چیز ہدیہ کے طور پر دیتا ہے جب کہ صدقہ میں اس کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔