وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان في بريرة ثلاث سنن : إحدى السنن أنها عتقت فخيرت في زوجها وقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الولاء لمن أعتق . ودخل رسول الله صلى الله عليه و سلم والبرمة تفور بلحم فقرب إليه خبز وأدم من أدم البيت فقال : ألم أر برمة فيها لحم ؟ قالوا : بلى ولكن ذلك لحم تصدق به على بريرة وأنت لا تأكل الصدقة قال : هو عليها صدقة ولنا هدية
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ بریرہ کے متعلق تین احکام سامنے آئے پہلا حکم تو یہ کہ جب وہ آزاد ہوئی تو اسے اپنے خاوند کے بارے میں اختیار دیا گیا (دوسرا حکم یہ کہ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میراث کا حق اس شخص کے لئے ہے جس نے آزاد کیا (تیسرا حکم یہ کہ ایک دن) رسول کریم ﷺ گھر میں تشریف لائے تو گوشت کی ہانڈی پک رہی تھی، آپ ﷺ کے سامنے روٹی اور گھر کا سالن لایا گیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا میں نے وہ ہانڈی نہیں دیکھی جس میں گوشت ہے؟ یعنی جب گوشت پک رہا ہے تو وہ مجھے کیوں نہیں دیا گیا؟ عرض کیا گیا کہ بیشک ہانڈی میں گوشت پک رہا ہے لیکن وہ گوشت بریرہ کو بطور صدقہ دیا گیا ہے اور آپ ﷺ تو صدقہ نہیں کھاتے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ گوشت بریرہ کے لئے صدقہ ہے اور ہمارے لئے ہدیہ ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے ابتدائی الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ بریرہ جو حضرت عائشہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی تھیں اس کے سبب تین شرعی احکام نافذ ہوئے پہلا حکم تو یہ کہ جب بریرہ آزاد ہوئی تو اسے اختیار دے دیا گیا کہ چاہے تو وہ اپنے خاوند کہ جس کا نام مغیث تھا کے نکاح میں رہے یا اس سے جدائی اور علیحدگی اختیار کرلے۔ یہ علماء کے یہاں خیار عتق کہلاتا ہے یعنی جو لونڈی کسی کے نکاح میں ہو تو آزاد ہونے کے بعد اسے اختیار ہے کہ چاہے تو خاوند کے نکاح میں رہے چاہے اس سے جدائی اختیار کرلے لیکن حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ لونڈی کو یہ اختیار اس وقت حاصل ہوگا جب کہ اس کا خاوند غلام ہو حنفیہ کہتے ہیں کہ اس کا خاوند خواہ غلام ہو خواہ آزاد ہو وہ دونوں صورتوں میں مختار ہوگی۔ بریرہ کا خاوند مغیث غلام تھا جب بریرہ نے آزاد ہونے کے بعد اس سے جدائی اختیار کرلی گویا اسے قبول نہیں کیا تو مغیث بڑا ہی پریشان ہوا یہاں تک کہ وہ بریرہ کے عشق و فراق میں روتا اور فریاد کرتا پھرتا رہا مگر بریرہ نے اس کا کوئی اثر نہیں لیا اور اس سے علیحدہ ہی رہی۔ بریرہ کے سبب سے دوسرا حکم یہ نافذ ہوا کہ ولاء یعنی لونڈی کی میراث اس شخص کے لئے ہے جس نے اسے آزاد کیا ہوگا اس کی تفصیل یہ ہے کہ بریرہ ایک یہودی کی لونڈی تھی جس نے اسے مکاتب کردیا تھا یعنی یہودی نے اسے یہ کہہ دیا تھا کہ جب تو اتنے درہم دے دے گی تو آزاد ہوجائے گی جب بریرہ مطلوبہ تعداد میں درہم فراہم کرنے سے عاجز ہوگئی تو حضرت عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضرت ہوئی تاکہ اگر وہ کچھ دے دیں تو اپنے مالک کو دے کر آزادی کا خلعت زیب تن کرے، حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ اپنے مالک سے پوچھ اگر وہ تجھے بیچے تو میں خریدے لیتی ہوں۔ بریرہ اپنے مالک کے پاس گئی اور اس سے حضرت عائشہ ؓ کی خواہش بیان کی وہ فروخت کرنے پر تیار ہوگیا مگر اس نے یہ بھی کہا کہ میں اس شرط پر فروخت کرنے کے لئے تیار ہوں کہ ولاء یعنی بریرہ کی میراث کے ہم حقدار ہوں گے حضرت عائشہ ؓ نے نبی کریم ﷺ سے کہا کہ یہودی اس طرح کہتے ہیں اور ان کی یہ شرط ہے، آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہودی غلط کہتے ہیں اور بکو اس کرتے ہیں میراث کا حق اسی کو ہوتا ہے جو آزاد کرتا ہے عائشہ ؓ تم اس سے خرید کر آزاد کردو اس کی میراث تمہارے لئے ہوگی، یہودیوں کی یہ شرط باطل ہے۔ تیسرا حکم جو بریرہ کے سبب سے نافذ ہوا اس کا ذکر حدیث کے آخر میں کیا گیا ہے اس کا حاصل اور مطلب یہ ہے کہ اگر مستحق زکوٰۃ کو زکوٰۃ کا مال دیا جائے اور مستحق زکوٰۃ وہ مال لے کر ایسے شخص کو دے دے جو زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے تو اس کے لئے یہ مال حلال و جائز ہوگا کیونکہ زکوٰۃ دینے والے نے تو ایک صحیح شخص اور مستحق کو مال دے دیا اور وہ مال اس مستحق زکوٰۃ کی ملکیت ہوگا اب وہ جس شخص کو بھی اپنا مال دے گا جائز اور درست ہوگا اصطلاح میں اسے تملیک کہا جاتا ہے جو جائز اور حلال ہے۔
آنحضرت ﷺ تحفہ قبول کرتے اور اس کا بدلہ عطا فرماتے
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقبل الهدية ويثيب عليها . رواه البخاري
حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تحفہ قبول فرماتے تھے اور اس کا بدلہ دے دیا کرتے تھے۔ (بخاری)
معمولی تحفہ بھی قبول کرنا چاہئے
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو دعيت إلى كراع لأجبت ولو أهدي إلي ذراع لقبلت . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر میری کراع کی بھی دعوت کی جائے تو میں قبول کروں گا اور اگر میرے پاس بطور تحفہ ایک دست بھی بھیجا جائے تو میں اسے قبول کروں گا۔ (بخاری)
تشریح
کراع بکری کی پنڈلی کو کہتے ہیں آپ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص مجھے صرف بکری کی پنڈلی دے جو کہ ایک معمولی چیز ہے کھانے کے لئے بلائے تو میں اس کی دعوت قبول کرلوں گا۔ اسی طرح آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر کوئی شخص میرے پاس تحفہ کے طور پر بکری کا دست بھی بھیجے گا تو میں اسے بھی بڑی خوشی کے ساتھ قبول کروں گا۔ اس ارشاد میں اس طرف اشارہ ہے کہ آنحضرت ﷺ مخلوق اللہ کے ساتھ نہایت تواضع و انکساری اور شفقت و محبت کے ساتھ پیش آتے تھے، آپ ﷺ یہ نہیں چاہتے تھے کہ آپ ﷺ کی ذات کی وجہ سے کسی چھوٹے سے چھوٹے اور معمولی درجے کے انسان کا دل بھی دکھے یا وہ کسی بھی طرح کے احساس کمتری میں مبتلا ہو، گویا آپ ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعے اس بات کی ترغیب بھی دلائی ہے کہ اگر کوئی شخص تمہارے پاس انتہائی معمولی درجہ کا بھی کوئی تحفہ لے کر آئے تو اسے خوشی ورغبت کے ساتھ قبول کرو۔
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان والتمرة والتمرتان ولكن المسكين الذي لا يجد غنى يغنيه ولا يفطن به فيتصدق عليه ولا يقوم فيسأل الناس
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ مسکین وہ شخص نہیں ہے جو لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے اور لوگ اسے ایک لقمہ یا دو لقمہ اور کھجوریں دیتے ہیں بلکہ مسکین شخص وہ ہے جو اتنا بھی مال نہیں رکھتا کہ وہ اس کی وجہ سے مستغنی ہو اور اس کے ظاہر حالات کی وجہ سے لوگ یہ بھی نہیں جانتے کہ وہ محتاج و ضروت مند ہے اسے صدقہ دیا جائے نیز لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنے کے لئے گھر سے نہیں نکلتا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
قرآن کریم میں جس طرح زکوٰۃ و صدقات کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں زکوٰۃ کے مصارف اور زکوٰۃ کے مستحقین کو بھی بیان فرمایا ہے چناچہ ارشادربانی ہے۔ آیت (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَا ءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰه) 9۔ التوبہ 60)۔ صدقہ کے مال صرف فقیروں اور مسکینوں کے لئے ہیں اور عمال کے لئے اور ان لوگوں کے لئے جن کی تالیف قلب کی جائے اور غلاموں کی آزادی خرچ کرنے کے لئے اور قرض داروں کے قرض ادا کرنے کے لئے اور اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کے لئے اور مسافر کے لئے۔ اس آیت میں آٹھ قسم کے لوگ بیان کئے گئے ہیں جو صدقات واجبہ مثلاً زکوٰۃ وغیرہ کا مال لینے کے مستحق ہیں ان کے سوا کسی دوسرے کو زکوٰۃ کا مال دینا جائز نہیں ہے، ان میں سے بھی حنفیہ کے نزدیک مؤلفۃ القلوب کا حصہ ساقط ہوگیا ہے اس لئے ان کے ہاں مستحقین زکوٰۃ کی سات قسمیں باقی رہ گئیں ہیں۔ بہرحال حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اس آیت میں جن مسکینوں کا ذکر کیا گیا ہے ان سے وہ مسکین مراد نہیں ہیں جو عرف عام میں مسکین کہلاتے ہیں اور جن کا کام یہ ہوتا ہے کہ مانگنے کے لئے ہر در پر مارے مارے پھرتے ہیں جس دروازے پر پہنچ جاتے ہیں روٹی کا ایک آدھ ٹکڑا یا آٹے کی ایک آدھ چٹکی اپنی جھولی میں ڈلوا کر رخصت کر دئیے جاتے ہیں، بلکہ حقیقی مسکین تو وہ لوگ ہیں جنہیں نان جویں بھی میسر نہیں ہوتی مگر ان کی شرافت و خودداری کا یہ عالم ہوتا ہے کہ ان کی بغل میں رہنے والا ہمسایہ بھی ان کی اصل حقیقت نہیں جانتا وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلاتے اپنے احتیاج و ضرورت کی جھولی پھیلا کر گھر گھر نہیں پھرتے بلکہ وہ اپنے اللہ پر اعتماد و بھروسہ کئے ہوئے اپنے گھروں میں بیٹھے رہتے ہیں۔
بنی ہاشم کے غلاموں کو بھی صدقہ کا مال لیناحلال نہیں
عن أبي رافع أن رسول الله صلى الله عليه و سلم بعث رجلا من بني مخزوم على الصدقة فقال لأبي رافع : اصحبني كيما تصيب منها . فقال : لا حتى آتي رسول الله صلى الله عليه و سلم فأسأله . فانطلق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فسأله فقال : إن الصدقة لا تحل لنا وإن موالي القوم من أنفسهم . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي
حضرت ابورافع ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو زکوٰۃ لینے کے لئے بھیجا اس نے ابورافع سے کہا کہ تم بھی میرے ساتھ چلو تاکہ اس میں سے تمہیں بھی کچھ حصہ مل جائے ابورافع نے کہا کہ میں ابھی نہیں جاؤں گا پہلے رسول کریم ﷺ سے جا کر پوچھتا ہوں کہ میں اس شخص کے ساتھ زکوٰۃ لینے جاؤں یا نہیں! چناچہ وہ آنحضرت ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے اپنے جانے کے بارے میں پوچھا، آپ ﷺ نے فرمایا کہ صدقہ ہمارے یعنی بنی ہاشم کے لئے حلال نہیں ہے اور مولیٰ یعنی آزاد کردہ غلام زکوٰۃ لینے کے معاملے میں اسی آزاد قوم کے حکم میں ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، نسائی )
کن لوگوں کو زکوٰۃ کا مال لینا درست نہیں ہے؟
وعن عبد الله بن عمرو قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ نہ تو غنی کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حلال ہے اور نہ تندرست و توانا کے لئے جو محنت مزدوری کرنے کے قابل ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی اور احمد، نسائی و ابن ماجہ نے اس روایت کو حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے۔
تشریح
غنی تین طرح کے ہوتے ہیں۔ اول تو وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہوتی ہے گویا وہ شخص نصاب نامی کا مالک ہو اور اس کے نصاب پر ایک سال گزر گیا ہو دوم وہ شخص جو مستحق زکوٰۃ نہیں ہوتا اور اس پر صدقہ فطر قربانی کرنا واجب ہوتا ہے گویا وہ شخص کہ جس کے پاس ضرورت اصلیہ کے علاوہ بقدر نصاب یعنی ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر مال ہو، سوم وہ شخص جس کے صدقہ کا مال تو حلال ہو لیکن اسے دست سوال دراز کرنا حرام ہو، گویا وہ شخص جو ایک دن کے کھانے اور بقدر ستر پوشی کپڑے کا مالک ہو۔ تندرست و توانا کا مطلب یہ ہے کہ کہ جس طرح غنی کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہے اسی طرح اس شخص کے لے زکوٰۃ حلال و جائز نہیں ہے جو تندرست و توانا ہو یعنی اس کے اعضاء صحیح وسالم اور قوی ہوں نیز وہ اتنا کمانے پر قادر ہو کہ اس کے ذریعے اپنا اور اہل و عیال کا پیٹ پال سکے چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک اسی حدیث کے مطابق ہے کہ ان کے نزدیک کسی ایسے شخص کے لئے زکوٰۃ کا مال لینا حلال نہیں ہے جو کمانے کے قابل ہو لیکن حنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ ہر اس شخص کو زکوٰۃ لینی حلال ہے جو نصاب مزکورہ کا مالک نہ وہ اگرچہ وہ تندرست و توانا اور کمانے کے قابل ہی کیوں نہ ہو کیونکہ آنحضرت ﷺ ان ضرورت مند صحابہ ؓ کو صدقات و زکوٰۃ کا مال دیتے تھے جو توانا و تندرست بھی تھے اور کمانے قابل بھی تھے اور آخر تک آپ ﷺ کا یہی معمول رہا لہٰذا اس حدیث کے بارے میں کہا جائے گا یا تو یہ منسوخ ہے یا پھر یہ کہ اس حدیث کی مراد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جو شخص تندرست و توانا ہو اور محنت مزدوری کر کے اپنے اور اپنے اہل و عیال کے اس باب معیشت فراہم کرنے کی قدرت و طاقت رکھتا ہو اس کے لئے یہ بہتر اور مناسب نہیں ہے کہ وہ زکوٰۃ و صدقات کا مال لے کر اس ذلت و کمتری پر مطمئن و راضی ہو اور معاشرے کا ایک ناکارہ شخص بن جائے بلکہ اس کے لئے تو بہتر اور اولیٰ یہ ہے کہ وہ اپنے بازوؤں کے سہارے خود کمائے محنت کرے اور اس طرح سماج و سوسائٹی میں باوقار زندگی بسر کرے۔
تندرست وتوانا کو زکوٰۃ کا مال لینا مناسب نہیں
وعن عبيد الله بن عدي بن الخيار قال : أخبرني رجلان أنهما أتيا النبي صلى الله عليه و سلم وهو في حجة الوداع وهو يقسم الصدقة فسألاه منها فرفع فينا النظر وخفضه فرآنا جلدين فقال : إن شئتما أعطيتكما ولا حظ فيها لغني ولا لقوي مكتسب . رواه أبو داود والنسائي
حضرت عبیداللہ بن عدی بن خیار کہتے ہیں کہ مجھے دو آدمیوں نے بتایا کہ وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوئے جب کہ آپ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو زکوٰۃ کا مال تقسیم فرما رہے تھے ان دونوں نے بھی آپ ﷺ کے سامنے اس مال میں سے کچھ لینے کی خواہش کا اظہار کیا، وہ دونوں کہتے تھے کہ آپ ﷺ نے ہماری خواہش و طلب کو دیکھ کر ہم پر سر سے پاؤں تک نظر دوڑائی اور ہمیں تندرست و توانا دیکھ کر فرمایا کہ اگر تم لینا ہی چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دوں لیکن یاد رکھو کہ صدقات و زکوٰۃ کے اس مال میں سے نہ تو غنی کا کوئی حصہ اور نہ اس شخص کا جو تندرست و توانا ہو اور کمانے پر قادر ہو۔ (ابو داؤد، نسائی)
تشریح
حجتہ الوداع آنحضرت ﷺ کے آخری حج کو کہتے ہیں جس میں آپ ﷺ نے احکام الٰہی کی وضاحت فرمائی اور لوگوں کو وداع کہا اور پھر اس کے چند مہینوں بعد ہی رفیق اعلیٰ سے جا ملے۔ حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق حدیث کے آخری جملوں کا مطلب یہ ہوگا کہ تم لوگوں کے لئے صدقہ کا مال کھانا حرام ہے لیکن اگر تم حرام مال کھانا ہی چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، گویا آپ ﷺ نے زجر توبیخ کے طور پر اس طرح ارشاد فرمایا۔ حنفیہ کے نزدیک اس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم اس مال میں سے لینا چاہتے ہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں لیکن یہ سمجھ کہ جو شخص تندرست و توانا ہو اور کمانے پر قدرت رکھتا ہو اس کے لئے صدقہ کا مال کھانا کچھ زیب نہیں دیتا۔
بعض صورتوں میں غنی کے لئے بھی زکوٰۃ کا مال حلال ہوتا ہے
وعن عطاء بن يسار مرسلا قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة : لغاز في سبيل الله أو لعامل عليها أو لغارم أو لرجل اشتراها بماله أو لرجل كان له جار مسكين فتصدق على المسكين فأهدى المسكين للغني . رواه مالك وأبو داود
حضرت عطاء بن یسار ؓ بطریق ارسال روایت کرتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ غنی کے لئے زکوٰۃ کا مال حلال نہیں ہاں پانچ صورتوں میں غنی کے لئے بھی زکوٰۃ کا مال حلال ہوتا ہے (١) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے غنی کے لئے جب کہ اس کے پاس سامان جہاد نہ ہو۔ (٢) زکوٰۃ وصول کرنے والے غنی کے لئے (٣) تاوان بھرنے والے غنی کے لئے (٤) زکوٰۃ کا مال اپنے مال کے بدلے میں خریدنے والے غنی کے لئے یعنی کسی شخص نے ایک مفلس کو زکوٰۃ کا کوئی مال دیا اور غنی اس مفلس سے زکوٰۃ کے مال کو خریدے اور اسے اس کا بدل دے دے تو اس صورت میں غنی کے لئے وہ مال جائز و حلال ہوگا۔ (٥) اور اس غنی کے لئے کہ جس کے پڑوس میں کوئی مفلس رہتا ہو اور کسی شخص نے اسے زکوٰۃ کا کوئی مال دیا اور وہ مفلس اپنے پڑوسی مال دار غنی کو اس میں سے کچھ حصہ تحفہ کے طور پر بھیجے تو وہ غنی کے لئے جائز و حلال ہوگا۔ (مالک، ابوداؤد، ) اور ابوداؤد کی ایک روایت جو ابوسعید ؓ سے منقول ہے لفظ او ابن السبیل (یعنی اس غنی کے لئے بھی کہ جو مسافر ہو زکوٰۃ کا مال حلال ہے مذکور ہے۔
تشریح
تاوان بھرنے والے غنی سے وہ مال دار اور غنی مراد ہے جسے کسی تاوان و جرمانے کے طور پر ایک بڑی رقم یا کسی مال ایک بڑا حصہ ادا کرنا ہے اگرچہ وہ مالدار ہے مگر اس کے ذمہ تاوان اور جرمانے کی جو رقم یا جو مال ہے وہ اس کے موجودہ مال و رقم سے بھی زیادہ ہے تو اس کے لئے جائز اور حلال ہے کہ وہ زکوٰۃ لے کر اس سے وہ تاوان پورا کرے اب وہ تاوان خواہ دیت کی صورت میں یا یہ شکل ہو کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا قرضدار تھا اس نے طرفین کو لڑائی جھگڑے سے بچانے کے لئے یا کسی اور وجہ سے اس شخص کا قرض اپنے ذمہ لے لیا کہ اس کی طرف سے اس کا قرض میں ادا کروں گا اس کی وجہ سے وہ قرض دار ہوگیا یا پھر یہ شکل بھی مراد ہوسکتی ہے کہ وہ خود کسی کا قرض دار ہو اپنا قرض ادا کرنے کے لئے اسے رقم و مال کی ضرورت ہو امام شافعی کے مسلک کے مطابق وہ غازی جہاد کرنے والا جو غنی اور مالدار ہو زکوٰۃ لے سکتا ہے اور اسے زکوٰۃ لینی درست ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اسے زکوٰۃ دینی جائز نہیں ہے کیونکہ دوسری احادیث میں مطلقاً غنی کو زکوٰۃ دینے سے منع فرمایا گیا ہے کہ غنی کے لئے صدقات کا مال حلال نہیں ہے پھر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت معاذ ؓ کو جو حکم تحریر فرمایا تھا اس میں آپ نے مطلقاً یہی ارشاد فرمایا تھا کہ (جس قوم میں تم گئے ہو) اس قوم کے مالداروں سے زکوٰۃ وصول کرو اسے ان کے فقراء و مساکین پر صرف کرو، چناچہ وہ حدیث کہ جس میں حضرت معاذ کے بارے میں مذکورہ حکم منقول ہے یہاں ذکر کی گئی حدیث سے زیادہ قوی ہے۔ ان کے علاوہ حدیث میں جو ذکر کی گئی ہیں وہ سب صورتیں متفقہ طور پر تمام ائمہ کے نزدیک درست ہیں کیونکہ زکوٰۃ وصول کرنے والے کو تو زکوٰۃ کا مال لینا اس لئے درست ہے کہ وہ اپنی محنت اور اپنے عمل کی اجرت لیتا ہے اس صورت میں اس کا فقر و غنا دونوں برابر ہیں۔ تاوان بھرنے والا اگرچہ غنی ہے لیکن اس پر جو قرض کا مطالبہ ہے وہ اس کے موجودہ مال سے زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کا مال نہ ہونے کے برابر ہے اسی طرح باقی دونوں صورتوں کا معاملہ بھی ظاہر ہی ہے کہ زکوٰۃ جب مستحق زکوٰۃ کو مل گئی تو گویا وہ اپنے محل اور اپنے مصرف میں پہنچ گئی اور وہ مستحق زکوٰۃ اس مال کا مالک ہوگیا اب چاہے وہ اسے فروخت کر دے چاہے کسی کو تحفہ کے طور پردے دے۔
زکوۃ کے مستحق وہی لوگ ہیں جن کا ذکر قرآن نے کیا ہے
وعن زياد بن الحارث الصدائي قال : أتيت النبي صلى الله عليه و سلم فبايعته فذكر حديثا طويلا فأتاه رجل فقال : أعطني من الصدقة . فقال له رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله لم يرض بحكم نبي ولا غيره في الصدقات حتى حكم فيها هو فجزأها ثمانية أجزاء فإن كنت من تلك الأجزاء أعطيتك . رواه أبو داود
حضرت زیاد بن حارث صدائی ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ اس کے بعد زیاد ؓ نے ایک طویل حدیث بیان کرتے ہوئے کہا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ مجھے زکوٰۃ کا مال عطا فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا کہ زکوٰۃ تقسیم کرنے کے بارے میں کہ کسے کسے زکوٰۃ دی جائے اللہ تعالیٰ نے تو کسی نبی کے علاوہ کسی دوسرے یعنی علماء و مجتہدین کے حکم پر راضی ہوا بلکہ اس کا حکم حق تعالیٰ نے خود ارشاد فرمایا (یعنی اللہ تعالیٰ نے مستحقین زکوٰۃ کے تعین کی ذمہ داری نبی یا علماء مجتہدین پر نہیں ڈالی بلکہ اس کا تعین خود فرمایا) چناچہ اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے آٹھ مصارف ذکر کئے ہیں اگر تم ان آٹھ میں سے ہو گے تو میں تمہیں زکوٰۃ کا مال دوں گا۔ ( ابوداؤد )
تشریح
آیت کریمہ (اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَا ءِ وَالْمَسٰكِيْنِ وَالْعٰمِلِيْنَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغٰرِمِيْنَ وَفِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ وَابْنِ السَّبِيْلِ فَرِيْضَةً مِّنَ اللّٰهِ ) 9۔ التوبہ 60) کہ جس میں مستحقین زکوٰۃ اور مصرف زکوٰۃ کا ذکر کیا گیا ہے ابھی پچھلے صفحات میں نقل کی جا چکی ہے اس آیت کے مطابق مستحقین زکوٰۃ کی تعداد آٹھ اس طرح ہے (١) فقیر (٢) مسکین (٣) عاملین زکوٰۃ (٤) مؤلفۃ القلوب (اس بارے میں بتایا جا چکا ہے کہ امام ابوحنیفہ کے نزدیک تالیف قلب کا مصرف اب باقی نہیں رہا) (٥) غلام (٦) قرض دار یا تاوان دینے والا (٧) اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا سفر حج کا مسافر اور طالب علم (٨) مسافرین
حضرت عمر رضی اللہ کا ایک واقعہ
عن زيد بن أسلم قال : شرب عمر بن الخطاب رضي الله عنه لبنا فأعجبه فسأل الذي سقاه : من أين هذا اللبن ؟ فأخبره أنه ورد على ماء قد سماه فإذا نعم من نعم الصدقة وهم يسقون فحلبوا من ألبانها فجعلته في سقائي فهو هذا : فأدخل عمر يده فاستقاءه . رواه مالك والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت زید بن اسلم (رح) کہتے ہیں ایک دن امیرالمومنین حضرت عمر فاروق نے دودھ نوش فرمایا تو انہیں بہت اچھا لگا جس شخص نے انہیں دودھ پلایا تھا اس سے انہوں نے پوچھا کہ یہ دودھ کہاں کا ہے؟ اس نے انہیں بتایا کہ ایک پانی پر یعنی نام لے کر بتایا کہ فلاں جگہ جہاں پانی تھا میں گیا، وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ زکوٰۃ کے بہت سے اونٹ موجود ہیں اور انہیں پانی پلایا جا رہا ہے پھر اونٹ والوں نے اونٹوں کا تھوڑا سا دودھ نکالا اس میں سے تھوڑا سا دودھ میں بھی لے کر اپنی مشک میں ڈال لیا یہ وہی دودھ ہے یہ سنتے ہی حضرت عمر ؓ نے اپنا ہاتھ اپنے منہ میں ڈالا اور قے کردی۔ (مالک، بیہقی)
تشریح
حضرت عمر ؓ کا عمل کمال تقویٰ اور انتہائی ورع کی بناء پر تھا ورنہ تو جہاں تک مسئلے کی بات ہے یہ تو بتایا جا چکا ہے کہ اگر مستحق زکوٰۃ کے مال کا مالک ہوجانے کے بعد اسے کسی غیر مستحق زکوٰۃ کو ہبہ کر دے یا اسے تحفہ کے طور پردے دے تو اسے استعمال میں لانا اور اسے کھانا جائز ہے چناچہ ابھی گزشتہ صفحات میں بریرہ کا جو واقعہ گزرا ہے اس میں آنحضرت ﷺ نے اس مسئلہ کے جواز ہی کو بیان فرمایا تھا۔
جن لوگوں کو سول کرنا جائز ہے اور جن کو جائز نہیں
علماء لکھتے ہیں کہ جس شخص کے پاس ایک دن کے بقدر بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر کپڑا ہو تو اسے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ بغیر ضرورت و حاجت مانگنا حرام ہے ہاں جس شخص کے پاس ایک دن کی بھی غذا اور ستر چھپانے کے بقدر بھی کپڑا نہ ہو تو اس کے لئے دست سوال دراز کرنا حلال ہے جو محتاج و فقیر ایک دن کی غذا کا مالک ہو اور وہ کمانے کی قدرت رکھتا ہو تو اس کے لئے زکوٰۃ لینا تو حلال ہے مگر لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے جس مسکین و محتاج کو ایک دن کی غذا بھی میسر نہ ہو اور وہ کمانے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے سوال کرنا حلال ہے۔ نووی (رح) نے شرح مسلم میں لکھا ہے کہ علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر ضرورت و احتیاج لوگوں سے مانگنا ممنوع ہے البتہ جو شخص کمانے کی قدرت رکھتا ہو اس کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں۔ چناچہ زیادۃ صحیح قول تو یہ ہے کہ ایسے شخص کہ جو کما کر اپنا گزارہ کرسکتا ہو لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرنا حرام ہے لیکن بعض حضرات مکروہ کہتے ہیں وہ بھی تین شرطوں کے ساتھ۔ اول یہ کہ دست سوال دراز کر کے اپنے آپ کو ذلیل نہ ہونے دے، دوم الحاح یعنی مانگنے میں مبالغہ سے کام نہ لے، سوم یہ کہ جس شخص کے آگے دست سوال دراز کر رہا ہے اسے تکلیف و ایذاء نہ پہنچائے اگر ان تین شرطوں میں سے ایک بھی پوری نہ ہو تو پھر سوال کرنا بالاتفاق حرام ہوگا۔ ابن مبارک (رح) سے منقول ہے کہ انہوں نے فرمایا جو سائل لوجہ اللہ کہہ کر سوال کرے تو مجھے اچھا نہیں لگتا کہ اسے کچھ دیا جائے کیونکہ دنیا اور دنیا کی چیزیں کمتر و حقیر ہیں، جب اس نے دنیا کی کسی چیز کے لئے لوجہ اللہ کہہ کر سوال کیا تو گویا اس نے اس چیز (یعنی دنیا) کی تعظیم و توقیر کی جسے اللہ تعالیٰ نے کمتر و حقیر قرار دیا ہے لہٰذا ایسے شخص کو از راہ زجر و تنبیہ کچھ نہ دیا جائے اور اگر کوئی شخص یہ کہہ کر سوال کرے کہ بحق اللہ یا بحق محمد دو، تو اسے کچھ دینا واجب نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص اپنی کوئی غلط اور جھوٹی حاجت و ضرورت ظاہر کر کے کسی سے کوئی چیز لے تو وہ اس چیز کا مالک نہیں ہوتا (گویا وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے) اسی طرح کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ میں سید ہوں اور مجھے فلاں چیز کی یا اتنے روپیہ کی ضرورت ہے اور وہ شخص سائل کو سید سمجھ کر اس کا سوال پورا کر دے مگر حقیقت میں وہ سید نہ ہو تو وہ بھی اس مانگی ہوئی چیز کا مالک نہیں ہوتا جس کے نتیجے میں وہ چیز اس کے حق میں ناجائز و حرام ہوتی ہے۔ ایسے ہی اگر کوئی شخص کسی سائل کو نیک بخت صالح سمجھ کر کوئی چیز دے دے حالانکہ وہ سائل باطنی طور پر ایسا گنہگار ہے کہ اگر دینے والے کو اس کے گناہ کا پتہ چل جاتا تو اسے وہ چیز نہ دیتا تو اس صورت میں سائل اس چیز کا مالک نہیں ہوتا وہ چیز اس کے لئے حرام ہے اور اس چیز کو اس کے مالک کو واپس کردینا اس پر واجب ہوگا اگر کوئی شخص کسی کو اس کی بدزبانی یا اس کی چغل خوری کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے کوئی چیز دے تو وہ چیز اس کے حق میں حرام ہوگی۔ اگر کوئی فقیر کسی شخص کے پاس مانگنے کے لئے آئے اور وہ اس کے ہاتھ پیر چومے تاکہ وہ اس کی وجہ سے اس کا سوال پورا کر دے تو یہ مکروہ ہے بلکہ اس شخص کو چاہئے کہ وہ فقیر کو ہاتھ پیر نہ چومنے دے۔ ان سائل اور فقیروں کو کچھ بھی نہ دینا چاہئے جو نقارہ، ڈھول یا ہار مونیم وغیرہ بجاتے ہوئے دروازوں پر مانگتے پھرتے ہیں اور مطرب یعنی ڈوم تو سب سے بدتر ہے۔
کن لوگوں کو سوال کرنا جائز ہے
عن قبيصة بن مخارق الهلالي قال : تحملت حمالة فأتيت رسول الله صلى الله عليه و سلم أسأله فيها . فقال : أقم حتى تأتينا الصدقة فنأمر لك بها . قال ثم قال : يا قبيصة إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة رجل تحمل حمالة فحلت له المسألة حتى يصيبها ثم يمسك ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش ورجل أصابته فاقة حتى يقوم ثلاثة من ذوي الحجى من قومه . لقد أصابت فلانا فاقة فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش أو قال سدادا من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحتا يأكلها صاحبها سحتا . رواه مسلم
حضرت قبیصہ بن مخارق ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک ایسے قرضہ کی ضمانت لی جو دیت کی وجہ سے تھا چناچہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے ادائیگی قرض کے لئے کچھ رقم یا مال کا سول کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ کچھ دن ٹھہرے رہو، جب ہمارے پاس زکوٰۃ کا مال آئے گا تو اس میں سے تمہیں دینے کے لئے کہہ دیں گے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ قبیصہ! صرف تین طرح کے لوگوں کے لئے سوال کرنا جائز ہے ایک تو اس شخص کے لئے جو کسی کے قرض کا ضامن بن گیا ہو بشرطیکہ مانگنے میں مبالغہ نہ کرے بلکہ اتنے ہی مال یا رقم کا سوال کرے کہ اس سے قرضہ کو ادا کر دے اور اس کے بعد پھر نہ مانگے، دوسرے اس شخص کے لئے جو کسی آفت و مصیبت مثلا قحط و سیلاب وغیرہ میں مبتلا ہوجائے اور اس کا تمام مال ہلاک و ضائع ہوجائے، چناچہ اس کو صرف اس قدر مانگنا جائز ہے جس سے اس کی غذا و لباس کی ضرورت پوری ہوجائے یا فرمایا کہ اس قدر مانگے کہ اس کی محتاجگی دور ہوجائے اور اس کی زندگی کے لئے سہارا ہوجائے، تیسرے اس شخص کے لئے جو غنی ہو مگر اس کو کوئی ایسی سخت حاجت پیش آگئی ہے جسے اہل محلہ بھی جانتے ہوں مثلاً گھر کا تمام مال و اسباب چوری ہوجائے یا اور کسی مصیب و حادثے سے دوچار ہونے کے وجہ سے ضرورت مند بن جائے اور قوم محلہ و بستی کے تین صاحب عقل و فراست لوگ اس بات کی شہادت دیں کہ واقعی اسے سخت حاجت پیش آگئی ہے تو اس کے لئے اس قدر مانگنا جائز ہے جس سے اس کی ضرورت پوری ہوجائے۔ یا فرمایا کہ اس کی وجہ سے اس کی محتاجگی دور ہوجائے اور اس کی زندگی کا سہارا ہوجائے۔ قبیصہ! ان تین کے علاوہ کسی اور کو سوال کرنا حرام ہے اگر کوئی شخص ان تین مجبوریوں کے علاوہ دس سوال دراز کر کے کسی سے کچھ لے کر کھاتا ہے تو وہ حرام کھاتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
حمالہ اس مال کو کہتے ہیں جو کسی شخص پر دیت کے طور پر کچھ لوگوں کو دینا ضروری ہو اور کوئی دوسرا شخص اس مال کی عدم ادائیگی کی بناء پر آپس کے لڑائی جھگڑے کو نمٹانے کے لئے درمیان میں پڑجائے اور وہ مال اپنے ذمہ لے لے اور اس کی وجہ سے قرض دار ہوجائے۔ حدیث کے آخر میں تین صاحب عقل و فراست لوگوں کی شہادت کا جو ذکر کیا گیا ہے وہ احتیاج و ضرورت کے واقعی اور حقیقی ہونے کے لئے بطور مبالغہ ہے نیز اس بات کا احساس پیدا کرنے کے لئے کہ لوگ دست سوال دراز کرنے کو آسان نہ سمجھیں اور اس برے فعل سے بچتے رہیں۔
محض اضافہ مال کی خاطر دس سوال دراز کرنے پر وعید
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الناس أموالهم تكثرا فإنما يسأل جمرا . فليستقل أو ليستكثر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص محض اضافہ مال کی خاطر لوگوں کے مال میں سے کچھ مانگتا ہے تو وہ گویا آگ کا انگارا مانگتا ہے اب وہ چاہے کم مانگے یا زیادہ مانگے۔ (مسلم)
تشریح
اضافہ مال کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی احتیاج و ضرورت کی بناء پر نہیں بلکہ محض اس لئے لوگوں کے آگے دست سوال دراز کرتا ہے تاکہ اس کا مال زیادہ ہوجائے۔ آگ کے انگارے سے مراد دوزخ کا انگارہ ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ایسا شخص جو اپنی حاجت پوری کرنے کے لئے نہیں بلکہ محض اضافہ مال کی خاطر کسی سے کچھ مانگتا ہے تو وہ اپنی اس ہوسنا کی اور حرص و طمع کی وجہ سے دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ کم یا زیادہ آپ ﷺ نے بطور تنبیہ ارشاد فرمایا اس کی وضاحت یہ ہے کہ بلا ضرورت لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانا دنیاوی اور اخروی اعبتار سے بہر صورت نقصان دہ اور باعث ذلت و رسوائی ہے خواہ وہ کسی حقیر و کمتر چیز کے لئے ہاتھ پھیلائے خواہ کسی قیمتی اور اعلیٰ چیز کے لئے دست سوال دراز کرے۔
روز قیامت بھیک مانگنے والوں کا حشر
وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يزال الرجل يسأل الناس حتى يأتي يوم القيامة ليس في وجهه مزعة لحم
حضرت عبداللہ بن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص ہمیشہ لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا رہے تو وہ قیامت کے دن اس حال میں ہوگا کہ اس کے منہ پر گوشت کی بوٹی نہ ہوگی۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو لوگ بلا ضرورت محض پیشے کے طور پر بھیک مانگے اور لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے پھرتے ہیں وہ قیامت کے روز میدان حشر میں ذلیل و رسوا کر کے لائے جائیں گے یا حقیقۃً ان کا یہ حال ہوگا کہ ان کی اس برائی اور غلط فعل کی سزا کے طور پر ان کے منہ پر گوشت نہیں ہوگا اس طرح وہ لوگ میدان حشر میں مخلوق اللہ کے درمیان یہ کہہ کر بےآبرو و رسوا کئے جائیں کہ یہ دنیا میں بھیک مانگتے پھرا کرتے تھے، آج انہیں اس کی یہ سزا مل رہی ہے۔
مانگنے میں مبالغہ نہ کرنا چاہئے
وعن معاوية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تلحفوا في المسألة فوالله لا يسألني أحدق منكم شيئا فتخرج له مسألته مني شيئا وأنا له كاره فيبارك له فيما أعطيته . رواه مسلم
حضرت معاویہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مانگنے میں مبالغہ نہ کرو، اللہ کی قسم! تم میں سے جو بھی شخص مجھ سے (مبالغہ کے ساتھ) کچھ مانگتا ہے تو میں اسے اس حال میں کچھ نکال کردیتا ہوں کہ میں اسے دینا برا سمجھتا ہوں اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں یہ کیسے ممکن ہے کہ جو چیز میں نے اسے دی ہے اس میں برکت ہو۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص انتہائی مبالغہ کے ساتھ میرے سامنے دست سوال دراز کرتا ہے تو اگرچہ مجھ سے اس کا سوال ٹھکرایا نہیں جاتا اور میں اسے دے دیتا ہوں مگر میری طرف سے ناخوشی کے ساتھ دی گئی چیز اور برکت دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہوتے لہٰذا میں ناخوشی کے ساتھ جو چیز دیتا ہوں اس میں برکت نہیں ہوتی۔
محنت مزدور کرنا ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے
وعن الزبير بن العوام قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يأخذ أحدكم حبله فيأتي بحزمة حطب على ظهره فيبيعها فيكف الله بها وجهه خير له من أن يسأل الناس أعطوه أو منعوه . رواه البخاري
حضرت زبیر بن عوام ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص ایک رسی اور لکڑیوں کا ایک گٹھا باندھ کر پشت پر لاد کر لائے اور اسے فروخت کرے اور اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت و آبرو کو برقرار رکھے جو مانگنے سے جاتی تھی تو یہ اس کے لئے اس سے بہتر ہے کہ وہ لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلائے اور لوگ اسے دیں یا نہ دیں۔ (بخاری)
اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے
وعن حكيم بن حزام قال : سألت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاني ثم سألته فأعطاني ثم قال لي : يا حكيم إن هذا المال خضر حلو فمن أخذه بسخاوة نفس بورك له فيه ومن أخذه بإشراف نفس لم يبارك له فيه . وكان كالذي يأكل ولا يشبع واليد العليا خير من اليد السفلى . قال حكيم : فقلت : يا رسول الله والذي بعثك بالحق لا أرزأ أحدا بعدك شيئا حتى أفارق الدنيا
حضرت حکیم بن حزام ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ سے کچھ مانگا تو آپ ﷺ نے عنایت فرما دیا میں نے پھر دوبارہ مانگا تو آپ ﷺ نے اس وقت بھی عطا کیا اور پھر مجھ سے فرمایا کہ حکیم! یہ مال سبز و شیریں ہے (یعنی نظر میں خوشنما اور دل کو لذت دینے والا ہے) لہٰذا جو شخص اس مال کو بےپروائی سے یعنی بغیر ہاتھ پھیلائے اور بغیر طمع و حرص کے حاصل کرتا ہے تو اس میں برکت عطا فرمائی جاتی ہے اور جو شخص اسے نفس کے طمع و حرص کے ساتھ حاصل کرتا ہے تو اس میں برکت نہیں ہوتی اور اس کی حالت اس شخص کی مانند ہوتی ہے جو کھانا تو کھاتا ہے مگر اس کا پیٹ نہیں بھرتا گویا بےبرکتی اور کثرت حرص کی وجہ سے یہ حال ہوتا ہے اور یاد رکھو کہ اوپر کا ہاتھ یعنی دوسروں کو دینے والا نیچے کے ہاتھ یعنی دوسروں سے مانگنے والے سے بہتر ہوتا ہے حکیم کہتے ہیں کہ یہ سن کر میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میں اب کسی کے مال میں سے کچھ کم نہیں کروں گا یعنی آج کے بعد آئندہ کبھی بھی کسی سے سوال نہیں کروں گا یہاں تک کہ میں اس دنیا سے جدا ہوں یعنی موت کی آغوش میں پہنچ جاؤں۔
اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال وهو على المنبر وهو يذكر الصدقة والتعفف عن المسألة : اليد العليا خير من اليد السفلى واليد العليا هي المنفقة واليد السفلى هي السائلة
حضرت ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس موقع پر جب آپ ﷺ منبر پر تھے اور صدقہ کا ذکر بیان کر رہے تھے اور سوال سے بچنے کے بارے میں خطبہ دے رہے تھے۔ یہ ارشاد فرمایا کہ اوپر کا ہاتھ نیچے کے ہاتھ سے بہتر ہے اوپر کا ہاتھ خرچ کرنے والا اور لوگوں کو دینے والا ہاتھ ہے اور نیچے کا ہاتھ مانگنے والا یعنی سائل کا ہاتھ ہے۔ (بخاری ومسلم)
وعن أبي سعيد الخدري قال : إن أناسا من الأنصار سألوا رسول الله صلى الله عليه و سلم فأعطاهم ثم سألوه فأعطاهم حتى نفد ما عنده . فقال : ما يكون عندي من خير فلن أدخره عنكم ومن يستعف يعفه الله ومن يستغن يغنه الله ومن يتصبر يصبره الله وما أعطي أحد عطاء هو خير وأوسع من الصبر
حضرت ابوسعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن انصار میں سے چند لوگوں نے رسول کریم ﷺ سے کچھ مانگا، آپ ﷺ نے انہیں عطا فرما دیا۔ انہوں نے پھر مانگا تو آپ ﷺ نے جب بھی دے دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے پاس جو کچھ تھا سب ختم ہوگیا، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جو کچھ بھی مال ہوگا میں تم سے بچا کر اس کا ذخیر نہیں کروں گا اور یاد رکھو کہ جو شخص لوگوں سے سوال کرنے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بری باتوں سے بچاتا ہے اور اسے لوگوں کا محتاج نہیں کرتا اس طرح اس کی خود داری کو باقی رکھتا ہے، نیز جو شخص انتہائی معمولی چیز پر بھی قناعت کرتا ہے اور کسی سے سوال نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے قناعت آسان کردیتا ہے اور جو شخص بےپروائی ظاہر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے بےپرواہ بنا دیتا ہے یعنی جو شخص دوسروں کے مال و زر سے بےپرواہ ہوتا ہے اور ہاتھ پھیلانے سے بچتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو غنی کردیتا ہے اور جو شخص صبر کا طالب ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر عطا فرماتا ہے یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے صبر کی توفیق طلب کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے صبر آسان کردیتا ہے اور یاد رکھو کہ صبر سے زیادہ بہتر اور وسیع کوئی دوسری چیز عطا نہیں کی گئی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی تمام عطا و بخشش میں صبر سب سے بہتر عطاء ہے۔ (بخاری ومسلم)
جو چیز بغیر طمع وحرص کے ملے اسے قبول کرنا چاہئے
وعن عمر بن الخطاب قال : كان النبي صلى الله عليه و سلم يعطيني العطاء فأقول : أعطه أفقر إليه مني . فقال : خذه فتموله وتصدق به فما جاءك من هذا المال وأنت غير مشرف ولا سائل فخذه . ومالا فلا تتبعه نفسك
حضرت عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ جب نبی کریم ﷺ مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کی اجرت عطا فرماتے تو میں عرض کرتا کہ یہ اس شخص کو دے دیجئے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ آپ ﷺ اس کے جواب میں فرماتے کہ اگر تمہیں حاجت و ضرورت ہو تو اسے لے کر اپنے مال میں شامل کرلو اور اگر حاجت و ضرورت سے زیادہ ہو تو خود اللہ کی راہ میں خیرات کردو نیز یہ بھی فرماتے کہ جو چیز تمہیں بغیر طمع و حرص کے اور بغیر مانگے حاصل ہو اسے قبول کرلو اور جو چیز اس طرح یعنی بغیر طمع و حرص اور بغیر سوال کے ہاتھ نہ لگے تو اس کے پیچھے مت پڑو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کہ جو چیز بغیر طمع و حرص اور بغیر مانگے حاصل نہ ہو اس کو حاصل کرنے کے لئے طمع نہ کرو اور نہ اس کے لئے منتظر رہو جیسا کہ کہہ دیا جاتا ہے کہ لارد ولا کد۔ ایک دوسری حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیز بغیر طمع و حرص کے حاصل ہو اور وہ اسے واپس کر دے تو گویا اس نے اس چیز کو اللہ کو واپس کردیا یعنی اللہ کی ایک نعمت کو ٹھکرا دیا۔