Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 93 of 317

1841Mishkaat-al-Masabih

ایک سبق آموز واقعہ :

ایک سبق آموز واقعہ منقول ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امام احمد (رح) بازار گئے اور وہاں سے انہوں نے کچھ سامان خریدا جسے بنان جلال اٹھا کر احمد کے ساتھ ان کے گھر لائے جب وہ گھر میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ وہاں روٹیاں ٹھنڈی ہونے کے لئے کھلی ہوئی رکھی تھیں، حضرت امام نے اپنے صاحبزادے کو حکم دیا کہ ایک روٹی بنان کو دے دیں، صاحبزادے نے جب بنان کو روٹی دی تو انہوں نے انکار کردیا بنان جب گھر سے باہر نکل گئے اور واپس چل دئیے تو امام احمد نے صاحبزادے سے کہا کہ اب ان کے پاس جاؤ اور انہیں روٹی دے دو صاحبزادے نے باہر جا کر بنان کو روٹی دی تو انہوں نے فورا قبول کرلیا۔ انہیں بڑا تعجب ہوا کہ پہلے تو روٹی لینے سے صاف انکار کردیا اور اب فورا قبول کرلیا آخر یہ ماجرا کیا ہے! انہوں نے حضرت امام احمد سے اس کا سبب پوچھا تو امام صاحب نے فرمایا کہ بنان جب گھر میں داخل ہوئے تو انہوں نے کھانے کی ایک عمدہ چیز دیکھی بتقاضائے طبیعت بشری انہیں اس کی خواہش ہوئی اور دل میں اس کی طمع پیدا ہوگئی اس لئے جب تم نے انہیں روٹی دی تو انہوں نے یہ گوارا نہ کیا کہ اپنی طمع و خواہش کے تابع بن جائیں انہوں نے روٹی لینے سے انکار کردیا مگر جب وہ باہر چلے گئے اور روٹی سے قطع نظر کر کے اپنا راستہ پکڑا اور پھر تم نے جا کر وہ روٹی دی تو اب چونکہ وہ روٹی انہیں بغیر طمع و خواہش اور غیر متوقع طریق پر حاصل ہو رہی تھی اس لئے انہوں نے اسے اللہ کی نعمت سمجھ کر فورا قبول کرلیا۔

1842Mishkaat-al-Masabih

ایک سبق آموز واقعہ :

عن سمرة بن جندب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المسائل كدوح يكدح بها الرجل وجهه فمن شاء أبقى على وجهه ومن شاء تركه إلا أن يسأل الرجل ذا سلطان أو في أمر لا يجد منه بدا . رواه أبو داود والترمذي والنسائي

حضرت سمرہ بن جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سوال کرنا ایک زخم ہے کہ جس کے ذریعے انسان اپنا منہ زخمی کرتا ہے بایں طور کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا اپنی عزت و آبرو کو خاک میں ملاتا ہے کہ یہ اپنے منہ کو زخمی کرنے ہی کے مترادف ہے لہٰذا جو شخص اپنی عزت و آبرو باقی رکھنا چاہے کہ وہ سوال سے شرم کرے اور کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلا کر اپنی عزت و آبرو کو باقی رکھے اور کوئی شخص اپنی آبرو کو باقی رکھنا ہی نہیں چاہتا تو وہ لوگوں کے ہاتھ پھیلا کر اپنی عزت خاک میں ملا لے یعنی اسے باقی نہ رکھے یہ گویا سوال کرنے والے کے لئے تہدید اور تنبیہ ہے کہ کسی سے سوال نہ کرنا چاہئے۔ ہاں اگر سوال ہی کرنا ہے تو پھر حاکم سے سوال کرے یا ایسی صورت میں سوال کرے کہ اس کے لئے کوئی واقعی ضرورت اور مجبوری ہو۔ ( ابوداؤد، نسائی، ترمذی) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر تم سوال ہی کرو تو کم سے کم ایسے شخص سے تو کرو جس پر تمہارا حق بھی ہے اور وہ حاکم یا بادشاہ ہے کہ جس کے تصرف میں بیت المال اور خزانہ ہو تم ان سے اپنا حق مانگو، اگر تم مستحق ہوگے وہ تمہیں بیت المال سے دیں گے۔ عطاء سلطانی کو قبول کرنے کا مسئلہ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ اس بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ آیا عطاء سلطانی بادشاہ و حاکم کا عطیہ قبول کرنا جائز ہے یا نہیں؟ چناچہ اس بارے میں صحیح قول یہی ہے کہ اگر بیت المال اور خزانے میں حرام مال زیادہ ہو تو اس میں سے کچھ مانگنا یا اس سے عطیہ سلطانی قبول کرنا حرام ہے اور اگر ایسی صورت نہ ہو تو پھر حلال ہے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی واقعی مجبوری اور ضرورت ہو کہ کسی سے مانگے بغیر چارہ کار نہ ہو مثلا کسی کا ضامن بن گیا ہو، طوفان و سیلاب کی وجہ سے کھیتی باڑی تباہ ہوگئی ہو یا کسی حادثے و مصیبت کی وجہ سے نوبت فاقوں تک پہنچ گئی تو ایسی صورتوں میں سوال کرنے کی اجازت ہے بلکہ اگر کوئی شخص حالت اضطراری کو پہنچ گیا ہو خواہ وہ اضطراری حالت کپڑے کی طرف سے ہو کہ ستر چھپانے کو کپڑا نہ ہو یا کھانے کی طرف سے ہو کہ شدت بھوک سے جان نکلی جاتی ہو تو پھر ایسی صورت میں کسی سے مانگ کر اپنی اضطراری حالت کو دور کرنا واجب ہوجاتا ہے۔ امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ اسی طرح اس شخص کے لئے بھی سوال کرنا واجب ہوتا ہے جو حج کی استطاعت رکھتا تھا مگر حج نہیں کیا یہاں تک کہ مفلس ہوگیا تو اب اسے چاہئے کہ وہ لوگوں سے سفر خرچ مانگ کر حج کے لئے جائے

1843Mishkaat-al-Masabih

مستغنی سائل کے لئے وعید

وعن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل الناس وله ما يغنيه جاء يوم القيامة ومسألته في وجهه خموش أو خدوش أو كدوح . قيل يا رسول الله وما يغنيه ؟ قال : خمسون درهما أو قيمتها من الذهب . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص لوگوں سے ایسی چیز کی موجود گی میں سوال کرے جو اسے مستغنی بنا دینے والی ہو تو وہ قیامت کے دن اس حال میں پیش ہوگا کہ اس کے منہ پر اس کا سوال بصورت خموش یا کدوش یا کدوح ہوگا۔ عرض کیا گیا کہ یا رسول اللہ! مستغنی بنانے والی کیا چیز ہوتی ہے آپ ﷺ نے فرمایا پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی) تشریح خموش جمع ہے خمش کی، خدوش جمع ہے خدش کی اور کدوح جمع ہے کدح کی۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ تمام الفاظ قریب المعنی ہیں بایں طور کہ ان سب کے معنی کا حاصل زخم ہے گویا حدیث میں لفظ اور اوی کا شک ظاہر کرتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ان تینوں میں سے کوئی ایک لفظ ارشاد فرمایا ہے۔ لیکن دوسرے بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ تینوں الفاظ متبائن ہیں یعنی ان تینوں کے الگ الگ معنی ہیں خموش کے معنی ہیں لکڑی کے ذریعے کھال چھیلنا، خمش کے معنی ہیں ناخن کے ذریعے کھال چھیلنا اور کدح کے معنی ہیں دانتوں کے ذریعے کھال اتارنا، گویا اس طرح قیامت کے روز سائلین کے تفاوت احوال کی طرف اشارہ ہے کہ جو شخص کم سوال کرے گا اس کے منہ پر ہلکا زخم ہوگا، جو شخص بہت زیادہ سوال کرے گا اس کے منہ پر بہت گہرا زخم ہوگا جو شخص سوال کرنے میں درمیانہ درجہ اختیار کرے گا اس کے منہ پر زخم بھی درمیانی درجے کا ہوگا۔

1844Mishkaat-al-Masabih

مستغنی سائل کے لئے وعید

وعن سهل بن الحنظلية قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل وعنده ما يغنيه فإنما يستكثر من النار . قال النفيلي . وهو أحد رواته في موضع آخر : وما الغنى الذي لا ينبغي معه المسألة ؟ قال : قدر ما يغديه ويعشيه . وقال في موضع آخر : أن يكون له شبع يوم أو ليلة ويوم . رواه أبو داود

حضرت سہل بن حنظلیہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کے پاس اتنا مال ہو جو اس کو مستغنی کر دے مگر وہ اس کے باوجود لوگوں سے سوال کرتا ہے تو گویا وہ زیادہ آگ مانگتا ہے یعنی جو شخص بغیر ضرورت و حاجت کے لوگوں سے مانگ مانگ کر مال و زر جمع کرتا ہے تو وہ گویا دوزخ کی آگ جمع کرتا ہے۔ نفیلی (رح) جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک راوی ہیں ایک اور جگہ یعنی ایک دوسری روایت میں نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ سے پوچھا گیا کہ مستغنی ہونے کی کیا حد ہے کہ اس کی موجودگی میں دوسرے لوگوں سے مانگنا ممنوع ہے آپ ﷺ نے فرمایا صبح اور شام کے بقدر۔ نفیلی نے ایک اور جگہ آنحضرت ﷺ کا جواب اس طرح نقل کیا ہے کہ اس کے پاس ایک دن یا ایک رات و ایک دن کے بقدر خوراک ہو راوی کو شک ہو رہا ہے کہ آپ ﷺ نے صرف ایک دن فرمایا یا ایک رات و ایک دن فرمایا ہے۔ (ابو داؤد) تشریح صبح اور شام کے کھانے کے بقدر، مطلب یہ ہے کہ جس شخص کے پاس اتنی مقدار میں غذائی ضروریات موجود ہوں کہ وہ دن و رات اپنا پیٹ بھر سکے تو وہ غنی کہلائے گا یعنی اس کے لئے اب جائز نہیں ہوگا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلائے۔ ابھی اس سے پہلے حضرت ابن مسعود ؓ کی جو روایت گزری ہے اس سے تو یہ معلوم ہوا کہ مال کی تعداد کہ جس کی وجہ سے آدمی مستغنی ہوجائے اور کسی سے سوال نہ کرے، پچاس درہم ہے یعنی جو شخص پچاس درہم کا مالک ہوگا اس کے لئے کسی سوال کرنا حرام ہوگا یہاں جو یہ روایت نقل کی گئی ہے اس میں یہ مقدار صبح و شام کے کھانے بقدر بیان کی گئی ہے اور اس کے بعد حضرت عطاء بن یسار کی جو روایت آرہی ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جو شخص ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم کا مالک ہو وہ مستغنی کہلائے گا اس کے لئے کسی سے سوال کرنا مطلقاً جائز نہیں ہوگا۔ گویا یہ تین روایتیں ہیں جن میں باہم اختلاف ہے لہٰذا حضرت امام احمد، ابن مبارک اور اسحاق رحمہم اللہ کا عمل تو پہلی روایت پر ہے جو ابن مسعود ؓ سے منقول ہے، بعض علماء نے تیسری روایت کو معمول بہا قرار دیا ہے۔ جو عطاء بن یسار ؓ سے منقول ہے اور حضرت اماما عظم ابوحنیفہ نے دوسری روایت کو اپنے مسلک کی بنیاد وقرار دیا ہے جو سہیل بن حنظلہ ؓ سے منقول ہے لہٰذا حضرت امام اعظم کا یہی مسلک ہے کہ جو شخص ایک دن کی غذائی ضروریات کا مالک ہوگا وہ مستغنی کہلائے گا اور اس کے لئے کسی سے سوال کرنا حرام ہوگا، گویا حضرت امام صاحب کے نزدیک یہ حدیث دوسری احادیث کے لئے ناسخ ہے۔ واللہ اعلم۔

1845Mishkaat-al-Masabih

مستغنی سائل کے لئے وعید

وعن عطاء بن يسار عن رجل من بني أسد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سأل منكم وله أوقية أو عدلها فقد سأل إلحافا . رواه مالك وأبو داود والنسائي

حضرت عطاء بن یسار ؓ قبیلہ بنی اسد کے ایک شخص سے نقل کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے جو شخص ایک اوقیہ یعنی چالیس درہم کا یا اس کی قیمت کے بقدر سونا وغیرہ کا مالک ہو اور اس کے باوجود وہ لوگوں سے تو مانگے تو اس نے گویا بطریق الحاح سوال کیا۔ (مالک، ابوداؤد، نسائی) تشریح بطریق الحاح کا مطلب یہ ہے کہ اس نے اضطراری کیفیت کے علاوہ اور بلا ضرورت انتہائی مبالغہ کے ساتھ لوگوں سے مانگا جو ممنوع اور برا ہے، چناچہ قرآن کریم میں فقراء کی بایں طور تعریف کی گئی ہے کہ آیت (ولا یسألون الناس الحافا)۔ وہ لوگوں سے بطریق الحاح نہیں مانگتے۔

1846Mishkaat-al-Masabih

کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا انتہائی محتاجگی کے وقت جائز ہے۔

وعن حبشي بن جنادة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن المسألة لا تحل لغني ولا لذي مرة سوي إلا لذي فقر مدقع أو غرم مفظع ومن سأل الناس ليثري به ماله : كان خموشا في وجهه يوم القيامة ورضفا يأكله من جهنم فمن شاء فليقل ومن شاء فليكثر . رواه الترمذي

حضرت حبشی بن جنادہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ تو غنی کے لئے یعنی اس شخص کے لئے جو ایک دن کی خوراک کا مالک ہو اور نہ تندرست و توانا اور صحیح الاعضاء کے لئے مانگنا حلال ہے ہاں اس فقیر کے لئے مانگنا حلال ہے جسے فقر و فاقہ نے زمین پر ڈال دیا ہو اسی طرح اس قرض دار کے لئے بھی مانگنا حلال ہے جو بھاری قرض کے نیچے دبا ہو یاد رکھو جو شخص صرف اس لئے لوگوں سے مانگے کہ اپنے مال و زر میں زیادتی ہو تو قیامت کے دن اس کا مانگنا اس کے منہ پر زخم کی صورت میں ہوگا۔ نیز دوزخ میں اسے گرم پتھر اپنی خوراک بنائے گا اب چاہے کوئی کم سوال کرے چاہے کوئی زیادہ سوال کرے۔ (ترمذی) تشریح زمین پر ڈال دیا ہو، یہ کنایہ ہے شدت محتاجگی اور مفلسی نے زمین پر ڈال رکھا ہے کہ اٹھنے کی بھی سکت نہیں رکھتا۔ گویا مطلب یہ ہے کہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا صرف انتہائی محتاجگی ہی کے وقت جائز ہے حدیث کا آخری جملہ بطور تنبیہ و تہدید کے ارشاد فرمایا گیا ہے جیسا کہ کافروں، ظالموں اور اللہ کے باغیوں کے بارے میں بطور تہدید قرآن کریم کی یہ آیت ہے کہ آیت (فَمَنْ شَا ءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّمَنْ شَا ءَ فَلْيَكْفُرْ اِنَّا اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِيْنَ نَارًا) 18۔ الکہف 29)۔ جو چاہے مومن ہوجائے اور جو چاہے کافر ہوجائے۔ ہم نے تو ظالموں کے لئے دوزخ کی آگ تیار کر رکھی ہے۔

1847Mishkaat-al-Masabih

کسی کے آگے ہاتھ پھیلانا انتہائی محتاجگی کے وقت جائز ہے۔

وعن أنس بن مالك : أن رجلا من الأنصار أتى النبي صلى الله عليه و سلم يسأله فقال : أما في بيتك شيء ؟ قال بلى حلس نلبس بعضه ونبسط بعضه وقعب نشرب فيه من الماء . قال : ائتني بهما قال فأتاه بهما فأخذهما رسول الله صلى الله عليه و سلم بيده وقال : من يشتري هذين ؟ قال رجل أنا آخذهما بدرهم قال : من يزيد على درهم ؟ مرتين أو ثلاثا قال رجل أنا آخذهما بدرهمين فأعطاهما إياه وأخذ الدرهمين فأعطاهما الأنصاري وقال : اشتر بأحدهما طعاما فانبذه إلى أهلك واشتر بالآخر قدوما فأتني به . فأتاه به فشد فيه رسول الله صلى الله عليه و سلم عودا بيده ثم قال له اذهب فاحتطب وبع ولا أرينك خمسة عشر يوما . فذهب الرجل يحتطب ويبيع فجاء وقد أصاب عشرة دراهم فاشترى ببعضها ثوبا وببعضها طعاما فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا خير لك من أن تجيء المسألة نكتة في وجهك يوم القيامة إن المسألة لا تصلح إلا لثلاثة لذي فقر مدقع أو لذي غرم مفظع أو لذي دم موجع . رواه أبو داود وروى ابن ماجه إلى قوله : يوم القيامة

حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ ایک دن انصار میں سے ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کسی چیز کا سوال کیا۔ آپ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ کیا تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے؟ اس نے عرض کیا کہ صرف ایک موٹی سی کملی ہے جس میں سے کچھ حصہ اوڑھتا ہوں اور کچھ حصہ بچھا لیتا ہوں اس کے علاوہ ایک پیالہ بھی ہے جس میں پانی پیتا ہوں آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں چیزوں کو لے آؤ۔ وہ دونوں چیزیں لے کر حاضر ہوا، آنحضرت ﷺ نے دونوں چیزیں اپنے ہاتھ میں لے کر فرمایا کہ ان چیزوں کو کون خریدتا ہے ایک شخص نے کہا کہ میں ان دونوں چیزوں کو ایک درہم میں خریدنے کے لئے تیار ہوں! آپ ﷺ نے فرمایا ان چیزوں کو ایک درہم سے زیادہ میں کون خریدنے والا ہے؟ آپ ﷺ نے یہ دو یا تین بار فرمایا ایک شخص نے کہا کہ میں ان چیزوں کو دو درہم میں خریدتا ہوں آپ ﷺ نے وہ دونوں چیزیں اس شخص کو دے دیں اور اس سے دو درہم لے کر انصاری کو دئیے اور اس سے فرمایا کہ اس میں سے ایک درہم کا کھانے کا سامان خرید کر اپنے گھر والوں کو دے دو اور دوسرے درہم کی کلہاڑی خرید کر میرے پاس لے آؤ وہ شخص کلہاڑی خرید کر آپ ﷺ کے پاس لایا آپ ﷺ نے اس کلہاڑی میں اپنے دس مبارک سے ایک مضبوط لکڑی لگا دی اور پھر اس سے فرمایا کہ اسے لے کر جاؤ لکڑیاں کاٹ کر جمع کرو اور انہیں فروخت کرو، اب اس کے بعد میں تمہیں پندرہ دن تک یہاں نہ دیکھوں یعنی اب یہاں نہ رہو جا کر اپنے کام میں مشغول ہوجاؤ اور محنت کرو چناچہ وہ شخص چلا گیا اور لکڑیاں جمع کر کر کے فروخت کرنے لگا کچھ دنوں کے بعد جب وہ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں آیا تو کہاں وہ پہلے آپ ﷺ سے مانگنے آیا تھا درہم اب وہ دس درہم کا مالک تھا، اس نے ان درہموں میں سے کچھ کا کپڑا خریدا اور کچھ کا غلہ خرید لیا، آنحضرت ﷺ نے اس کی حالت کی اس تبدیلی کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ صورتحال تمہارے لئے بہتر ہے بہ نسبت اس چیز کے کہ کل قیامت کے دن تم اس حالت میں آؤ کہ تمہارے سوال تمہارے منہ پر برے نشان یعنی زخم کی صورت میں ہو اور یہ یاد رکھو کہ صرف تین طرح کے لوگوں کو سوال کرنا مناسب ہے ایک تو اس محتاج کے لئے کہ جس کو مفلسی نے زمین پر گرا دیا ہو دوسرے اس قرض دار کے لئے جو بھاری اور عدم ادائیگی کی صورت میں ذلیل کرنے والے قرض کے بوجھ سے دبا ہو اور تیسرے صاحب خون کے لئے جو درد پہنچائے یعنی اس شخص کے لئے جس پر دیت واجب ہو خواہ اس نے خود کسی ناحق خون کیا ہو اور اس کا خون بہا اس کے ذمہ ہو یا کسی دوسرے شخص نے کوئی خون کردیا ہو اور اس کی دیت اس نے اپنے ذمہ لی ہو مگر اس کی ادائیگی کی قدرت نہ رکھتا ہو تو اس کے لئے بھی جائز ہے کہ اس خون بہا کے بقدر کسی سے مانگ کر ادائیگی کر دے۔ ابوداؤد اور ابن ماجہ نے اس روایت کو یوم القیامۃ تک نقل کیا ہے۔

1848Mishkaat-al-Masabih

صرف اللہ سے اپنی حاجت بیان کرنی چاہئے

وعن ابن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أصابته فاقة فأنزلها بالناس لم تسد فاقته . ومن أنزلها بالله أوشك الله له بالغنى إما بموت عاجل أو غنى آجل . رواه أبو داود والترمذي

حضرت ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جو شخص فاقہ یعنی سخت حاجت سے دوچار ہو اور اس کو لوگوں کے سامنے بطور شکایت بیان کر کے ان سے حاجت روائی کی خواہش کرے تو اس کی حاجت پوری نہیں کی جائے گی اور جس شخص نے صرف اللہ سے اپنی حاجت کو بیان کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو جلد فائدہ اور اطمینان عطا فرمائے گا بایں طور کہ اسے جلد ہی یا تو موت سے ہمکنا کر دے تاکہ وہ دنیا کی مشقتوں اور تکلیفوں سے نجات پا کر رحمت الٰہی سے ہمکنار ہو یا اسے کچھ دنوں میں مالدار بنا دے گا تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کر کے اطمینان محسوس کرے۔ (ابو داؤد، ترمذی) تشریح حدیث کے آخری جملے اوغنی اٰجل میں لفظ اٰجل مصابیح کے اکثر نسخوں اور جامع الاصول میں عین سے یعنی عاجل مرقوم ہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جلد فائدہ و اطمینان عطا فرمائے گا بایں طور کہ اسے جلد ہی دولت مند و مالدار بنا دے گا۔ مگر خود جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ اس کو جلد فائدہ و اطمینان عطا فرمائے بایں طور کہ اسے جلد ہی دولت مند و مالدار بنا دے گا مگر خود سنن ابوداؤد اور ترمذی میں کہ جہاں سے یہ روایت نقل کی گئی ہے یہ لفظ اٰجل ہے ہے اور صحیح بھی یہی ہے چناچہ ترجمہ اسی کے مطابق کیا گیا ہے۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ یہ حدیث قرآن کریم کی اس آیت کریم کی روشنی میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ۔ آیت (وَمَنْ يَّتَّقِ اللّٰهَ يَجْعَلْ لَّه مَخْرَجًا۔ وَّيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُه) 65۔ الطلاق 3-2)۔ جو کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے نکلنے کی جگہ پیدا فرما دیتا ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے کہ جس کا اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لئے کافی ہوتا ہے۔

1849Mishkaat-al-Masabih

اگر ضرورت ہی ہو تو نیک بختوں سے سولا کرو

عن ابن الفراسي أن الفراسي قال : قلت لرسول الله صلى الله عليه و سلم أسأل يا رسول الله ؟ فقال النبي صلى الله عليه و سلم : لا وإن كنت لابد فسل الصالحين . رواه أبو داود والنسائي

حضرت ابن فراسی (رح) کہتے ہیں کہ میرے والد مکرم حضرت فراسی ؓ نے کہا کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا میں لوگوں سے مانگ سکتا ہوں؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ ہر حالت میں خد اہی پر بھروسہ رکھو ہاں اگر کسی شدید ضرورت اور سخت حاجت کی وجہ سے مانگنا ضروری ہے تو پھر نیک بختوں سے مانگو۔ ( ابوداؤد، نسائی) تشریح ضرورت و حاجت کے وقت نیک بختوں سے مانگنے کے لئے اس لئے فرمایا جا رہا ہے کہ ان کے پاس حلال مال ہوتا ہے وہ بردبار اور مہربان ہوتے ہیں مانگنے والوں کی پردہ دری نہیں کرتے اور ان کے ناموں کو اچھالتے نہیں یہی وجہ ہے کہ بغداد کے فقراء و مساکین اپنی ضرورت و احتیاج کے وقت حضرت امام احمد بن حنبل ہی کے دروازے پر جاتے تھے اور ان سے اپنی ضرورت و حاجت بیان کرتے تھے۔ حضرت امام موصوف (رح) کے تقویٰ و احتیاط کا کیا عالم تھا؟ اس کا اندازہ اس واقعہ سے کیا جاسکتا ہے کہ ایک مرتبہ ان کے گھر والوں کو خمیر کی ضرورت ہوئی جسے انہوں نے حضرت امام احمد کے صاحبزادے ہی کے گھر سے منگوا لیا، حضرت امام احمد کے صاحبزادے قاضی کے عہدہ پر فائز تھے اور ان کی سعادت و بھلائی کا یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھر کے دروازے ہی کے پاس سوتے تھے تاکہ کوئی محتاج و ضرورت مند واپس نہ ہوجائے بہرحال امام احمد کے گھر والوں نے اس خمیر سے روٹی پکائی اور جب حضرت امام موصوف کے سامنے کھانا آیا تو انہیں بذریعہ کشف روٹی کے بارے میں کوئی شبہ گزرا انہوں نے گھر والوں سے پوچھا تو انہوں نے صورتحال بتائی، حضرت امام موصوف نے کھانا کھانے سے انکار کردیا ان کی وجہ سے گھر والوں نے بھی نہیں کھایا اور پوچھا کہ یہ کھانا فقراء کو دے دیا جائے، انہوں نے فرمایا کہ دے دو مگر اس شرط کے ساتھ کہ انہیں بھی صورتحال سے مطلع کردینا چناچہ فقراء نے بھی اسے لینے سے انکار کردیا آخرکار گھر والوں نے پورے گھر کا کھانا امام موصوف کی اجازت کے بغیر ہی دریا میں ڈال دیا۔

1850Mishkaat-al-Masabih

کام کی اجرت بیت المال سے لینی جائز ہے

وعن ابن الساعدي المالكي أنه قال : استعملني عمر بن الخطاب رضي الله عنهم على الصدقة فلما فرغت منها وأديتها إليه أمر لي بعمالة فقلت إنما عملت لله وأجري على الله فقال خذ ما أعطيت فإني قد عملت على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فعملني فقلت مثل قولك فقال لي رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا أعطيت شيئا من غير أن تسأل فكل وتصدق . رواه مسلم وأبو داود

حضرت ابن ساعدی کہتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر فاروق ؓ نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے پر مقرر فرمایا چناچہ جب میں زکوٰۃ کی وصولی سے فارغ ہوگیا اور زکوٰۃ کا مال حضرت عمر ؓ کی خدمت میں پہنچا دیا تو انہوں نے مجھے زکوٰۃ وصول کرنے کی اجرت دئیے جانے کا حکم فرمایا میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ کام صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کیا ہے لہٰذا میرے لئے اس کا ثواب بھی اللہ تعالیٰ ہی کے ذمہ ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جو چیز تمہیں مل رہی ہے اسے قبول کرلو، کیونکہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں جب میں نے زکوٰۃ وصول کرنے کا کام کیا اور آنحضرت ﷺ نے مجھے اس کی اجرت عطا فرمانی چاہی تو میں نے بھی یہی عرض کیا جو اب تم کہہ رہے ہو، چناچہ آپ نے مجھ سے فرمایا کہ جب تمہیں کوئی چیز بغیر طلب اور بغیر طمع دی جائے تو تم اسے لے کر کھاؤ اور جو کچھ تمہاری ضرورت و حاجت سے زائد ہو اسے اللہ کی راہ میں خیرات کردو۔ ( ابوداؤد ) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اپنے کسی بھی کام اور کسی بھی خدمت کی اجرت بیت المال سے لینی جائز ہے خواہ وہ خدمت فرض ہی کیوں نہ ہو جیسے قضاء احتساب اور درس و تدریس وغیر بلکہ امام وقت کے لئے ضروری ہے کہ وہ نہ صرف یہ کہ ایسے لوگوں کی بلکہ ان لوگوں کو بھی جو بیت المال کے معاملے میں ان ہی کے حکم میں شامل ہیں خبر گیری رکھے۔ یہ حدیث اور وہ حدیث جو اسی کے مثل حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں پہلے گزر چکی ہے بظاہر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو اس کے سوال اور اس کی طمع کے بغیر کوئی چیز دے تو اس کو قبول کرنا واجب ہے چناچہ حضرت امام احمد کا یہی مسلک ہے لیکن جمہور علماء اس امر کو استحباب یا اباحت پر محمول کرتے ہیں۔

1851Mishkaat-al-Masabih

کن مقامات پر سوال کرنا مناسب ہے

وعن علي رضي الله عنه أنه سمع يوم عرفة رجلا يسأل الناس فقال : أفي هذا اليوم : وفي هذا المكان تسأل من يغر الله ؟ فخفقه بالدرة . رواه رزين

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے عرفہ کے دن ایک شخص کو لوگوں سے مانگتے دیکھا تو اس سے فرمایا کہ بدنصیب آج کے روز اس جگہ پر تو اللہ کے علاوہ دوسروں سے مانگ رہا ہے پھر انہوں نے اس شخص کو درہ سے مارا۔ (رزین) تشریح حضرت علی ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ یہ تیری کتنی حرماں نصیبی اور بدبختی ہے کہ آج کے دن کہ جو قبولیت دعا کا دن ہے اور جگہ یعنی میدان عرفات میں کہ جو مقدس و بابرکت جگہ ہے تو اللہ سے صرف نظر کر کے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھر رہا ہے؟ اس سے معلوم ہوا کہ مقدس و بابرکت مقامات مثلاً مساجد وغیرہ میں لوگوں سے مانگنا نامناسب بات ہے۔

1852Mishkaat-al-Masabih

طمع افلاس اور محتاجگی ہے

وعن عمر رضي الله عنه قال : تعلمن أيها الناس أن الطمع فقر وأن الإياس غنى وأن المرء إذا يئس عن شيء استغنى عنه . رواه رزين

حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ لوگو! جان لو کہ طمع محتاجگی ہے اور آدمیوں سے ناامید ہونا تونگری و بےپروائی ہے، انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے بےپرواہ ہوجاتا ہے۔ (رزین) تشریح طمع محتاجگی ہے کا مطلب یہ ہے کہ طمع محتاجگی کی ایک صورت ہے یا یہ مطلب ہے کہ طمع محتاجگی کا ذریعہ ہے یعنی طمع کی وجہ سے انسان محتاج بنتا ہے بایں طور کہ اپنی طمع پوری کرنے کے لئے دوسرے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ ناامید ہونا تونگری و بےپروائی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ انسان سے نا امیدی مستغنی اور بےپرواہ بنا دیتی ہے حضرت ابوالحسن شاذلی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے کسی نے علم کیمیا جو صرف دو لفظوں میں منحصر ہو طلب کیا تو انہوں نے اس سے فرمایا کہ مخلوق اللہ سے صرف نظر کرو یعنی کسی انسان سے امیدیں قائم نہ کرو اور اللہ سے اس چیز کے بارے میں اپنی طمع منقطع کرلو جو تمہاری قسمت میں لکھی ہوئی چیزوں کے علاوہ ہے یعنی اللہ نے جو چیزیں تمہارے مقدر میں لکھ دی ہیں اس کے علاوہ دوسری چیزوں کی امید نہ رکھو۔ طمع کے معنی ہیں اس چیز پر نظر رکھنا یعنی اسے حاصل کرنے کی خواہش کرنا کہ جس کے حاصل ہونے میں شک ہو یعنی کسی چیز کے بارے میں یہ خیال ہو کہ اس کا مالک دے گا یا نہیں ہاں اگر کسی ایسی چیز کی کسی ایسے شخص سے حصول کی خواہش ہو جس پر اس کا ہو اس شخص سے کمال تعلق اور محبت و مروت کی بنا پر یقین ہو کہ وہ چیز مل جائے گی تو اسے طمع نہیں کہیں گے۔

1853Mishkaat-al-Masabih

سوال نہ کرنے والے کے لئے آنحضرت ﷺ کی بشات

وعن ثوبان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يكفل لي أن لا يسأل الناس شيئا فأتكفل له بالجنة ؟ فقال ثوبان : أنا فكان لا يسأل أحدا شيئا . رواه أبو داود والنسائي

حضرت ثوبان ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میرے ساتھ اس بات کا عہد کرے کہ وہ لوگوں کے آگے دست سوال دراز نہیں کرے گا تو میں اس کے لئے جنت کا ضامن ہوں (ثوبان کہتے ہیں کہ) میں کبھی بھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاؤں گا چناچہ ثوبان ؓ کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے تھے خواہ وہ کتنی ہی تنگیوں میں کیوں نہ مبتلا رہے ہو۔ ( ابوداؤد، نسائی) تشریح آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ میں اس شخص کے لئے اس بات کی ضمانت لوں گا کہ وہ بغیر کسی عذاب کے ابتداء ہی میں جنت میں داخل کیا جائے گا گویا اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ کسی کے اگے دست سوال دراز نہ کرنے والا انشاء اللہ خاتمہ بالخیر کی سعادت سے نوازا جائے گا۔ لیکن اتنی بات ضرور سمجھ لیجئے کہ اس بارے میں وہ صورت مستثنی ہے جب کہ موت کا خوف ہو کیونکہ انتہائی شدید ضرورت ممنوع چیزوں کو بھی مباح کردیتی ہے لہٰذا اگر کوئی شخص ایسی پوزیشن میں ہو کہ اگر کسی سے کچھ نہ مانگے تو جان کے لا لے پڑجائیں تو اس کے لئے مانگنا اور اپنا جان کو بچاہی ضروری ہوگا بلکہ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص سخت بھوک میں مبتلا ہو اور وہ کسی سے کچھ مانگ کر نہ کھائے اور اسی حالت میں وہ مرجائے تو گنہگار مرے گا۔

1854Mishkaat-al-Masabih

سوال نہ کرنے کا حکم

وعن أبي ذر قال : دعاني رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو يشترط علي : أن لا تسأل الناس شيئا قلت : نعم . قال : ولا سوطك إن سقط منك حتى تنزل إليه فتأخذه . رواه أحمد

حضرت ابوذر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے بلایا اور اس بات کا اقرار کرایا کہ کبھی بھی کسی سے کوئی چیز نہیں مانگو گے چناچہ میں نے اس بات کا اقرار کیا پھر آپ ﷺ نے یہ فرمایا کہ اگر تمہارا کوڑا بھی گرجائے تو کسی سے نہ مانگو یعنی کسی سے اٹھانے کے لئے بھی نہ کہو بلکہ تم خود سواری سے اتر کر اٹھا لو۔ (احمد) تشریح آنحضرت ﷺ کا آخری ارشاد ترک سوال کے بارے میں بطور مبالغہ ہے کیونکہ اگر کسی کا کوڑا گرجائے اور وہ اسے اٹھانے کے لئے کسی سے کہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلا رہا ہے بلکہ حقیقت میں تو وہ اسی کی چیز ہے جسے وہ صرف اٹھا کردینے کے لئے کہہ رہا ہے لیکن چونکہ اس میں بھی ایک طرح کا سوال ہوتا ہے اس لئے آپ ﷺ نے بطور مبالغہ اس سے بھی منع فرمایا۔

1855Mishkaat-al-Masabih

مال وزر کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا جذبہ

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو كان لي مثل أحد ذهبا لسرني أن لا يمر علي ثلاث ليال وعندي منه شيء إلا شيء أرصده لدين . رواه البخاري

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو مجھے یہ گوارا نہ ہوتا کہ تین راتیں گزر جاتیں اور وہ تمام سونا یا اس کا کچھ حصہ علاوہ بقدر ادائے قرض کے میرے پاس موجود رہتا۔ (بخاری) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر میرے پاس احد پہاڑ کے برابر بھی سونا ہوتا تو میرے لئے سب سے زیادہ پسندیدہ بات یہ ہوتی کہ میں تمام سونا تین رات کے اندر اندر ہی لوگوں میں تقسیم کردیتا، اس میں سے اپنے پاس کچھ بھی نہ رکھتا ہاں اتنا سونا ضرور بچا لیتا جس سے میں اپنا قرض ادا کرسکتا کیونکہ قرض ادا کرنا صدقہ سے مقدم ہے۔ اس ارشاد گرامی سے جہاں آنحضرت ﷺ کی انتہائی سخاوت فیاضی کا وصف سامنے آتا ہے وہیں یہ بات بھی معلوم ہوتی ہے کہ جو لوگ اپنے مال و زر کی خیرات نکالتے ہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور اپنی آسائش و راحت کے ذرائع مہیا کرتے ہیں۔ مثلاً عالیشان بلڈنگیں بناتے ہیں کوٹھیاں تعمیر کرتے ہیں یا اسی قسم کی دوسرا آسائش زندگی کے لئے بےتحاشا مال خرچ کرتے ہیں مگر ان کے اوپر دوسرے لوگوں کے حقوق ہوتے ہیں وہ ان کے حقوق کی ادائیگی تو کیا کرتے ان کی طرف ان کا دھیان بھی کبھی نہیں جاتا تو یہ کوئی اچھی اور پسندیدہ بات نہیں ہے بلکہ شرعی طور پر انتہائی غلط ہے۔ شریعت و اخلاق ہی نہیں بلکہ محض عقل و دانش اور انسانی ہمدردی کے نقطہ نظر سے بھی کیا یہ بات گوارا کی جاسکتی ہے کہ ایک شخص تو دولت و حرص و ہوس کا پتلا بن کر اپنی تجوریاں بھرے بیٹھا ہوا بےمصرف مال و زر کے انبار لگائے ہوئے ہو اور سونے چاندی کے خزانے جمع کئے مگر ایک دوسرا شخص اس کے آنکھوں کے سامنے نان جویں کے لئے بھی محتاج ہوا ور اس کی تجوری کا منہ نہ کھلے، ایک غریب بھوک و افلاس کے مارے دم توڑ رہا ہو مگر اس کے اندر اتنی بھی ہمدردی نہ ہو کہ اس غریب کو کھانا کھلا کر اس کی زندگی کے چراغ کو بجھنے سے بچائے؟ جی ہاں! آج کے اس دور میں بھی جب کہ سوشلزم، مساوات اور انسانی بھائی چارگی و ہمدردی کے نعرے ہمہ وقت فضا میں گونجتے رہتے ہیں کون نہیں دیکھتا کہ مال و زر کے بندے اپنی ادنیٰ سی خواہش کے لئے تجوریوں کے منہ کھول دیتے ہیں اپنی دنیاوی آسائش و راحت کی خاطر مال و زر کے تختے بچھا دیتے ہیں مگر جب بھوک و پیاس سے بلکتا کوئی انہیں جیسا ان کے آگے ہاتھ پھیلاتا ہے تو ان کی جبین پر بل پڑجاتے ہیں اور ان کے منہ سے نفرت و حقارت کے الفاظ ابلنے لگتے ہیں وہ شقی القلب یہ نہیں سوچتے کہ اگر معاملہ برعکس ہوتا تو ان کے جذبات و احساسات کیا ہوتے؟ لہٰذا جنگ زرگری کے موجودہ دور میں مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ پوری انسانی برادری کے لئے یہ ارشاد گرامی ایک دعوت عمل اور مینارہ نور ہے۔

1856Mishkaat-al-Masabih

سخی کے لئے فرشتوں کی دعا اور بخیل کے لئے بد دعا

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من يوم يصبح العباد فيه إلا ملكان ينزلان فيقول أحدهما : اللهم أطع منفقا خلفا ويقول الآخر : اللهم أعط ممسكا تلفا

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا روزانہ صبح کے وقت دو فرشتے اترتے ہیں ان میں سے ایک فرشتہ تو سخی کے لئے یہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! خرچ کرنے والے کو بدل عطا فرما یعنی جو شخص جائز جگہ اپنا مال خرچ کرتا ہے اس کو بہت زیادہ بدلہ عطا فرما بایں طور کہ یا تو دنیا میں اسے خرچ کرنے سے کہیں زیادہ مال دے دے یا آخرت میں اجر وثواب عطا فرما اور دوسرا فرشتہ بخیل کے لئے بد دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! بخیل کو تلف (نقصان) دے اور یعنی جو شخص مال و دولت جمع کرتا ہے اور جائز جگہ خرچ نہیں کرتا بلکہ بےمحل اور بےمصرف خرچ کرتا ہے تو اس کا مال تلف و ضائع کر دے۔ (بخاری ومسلم)

1857Mishkaat-al-Masabih

سخاوت کا حکم

وعن أسماء قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أنفقي ولا تحصي فيحصي الله عليك ولا توعي فيوعي الله عليك ارضخي ما استطعت

حضرت اسماء ؓ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس جگہ مال خرچ کرنے سے اللہ تعالیٰ راضی ہو وہاں اپنا مال خرچ کرو اور یہ شمار نہ کرو کہ کتنا خرچ کروں اور کیا خرچ کروں نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں شمار کرے گا (یعنی اس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہارے مال میں برکت ختم کر کے تمہارا رزق کم کر دے گا بایں طور کہ اسے ایک معدودع و محدود چیز کی مانند کر دے گا یہ کہ اللہ تعالیٰ تمہارے مال و زر کے بارے میں تم سے محاسبہ کرے گا اور جو مال تمہاری حاجت و ضرورت سے زائد ہو اسے حاجت مندوں سے روک کر نہ رکھو نہیں تو اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں اپنی زائد عطاء و بخشش روک لے گا، نیز یہ کہ تم سے جو کچھ بھی ہو سکے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے رہو۔ (بخاری ومسلم) تشریح لفظ لاتحصی (اور یہ شمار نہ کرو الخ) کے ایک معنی تو وہی ہیں جو اوپر ترجمے میں مذکور ہوئے ہیں اس کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ مال کو جمع کرنے کے لئے نہ شمار کرو اور اس مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا ترک نہ کرو۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے تم اپنی حیثیت وقدرت کے مطابق جو کچھ بھی خرچ کرسکو اسے اللہ کی راہ میں جرور خرچ کرو خواہ وہ مقدار تعداد کتنا ہی کم کیوں نہ ہو بلکہ اسے حقیق بھی نہ سمجھو کیونکہ خلوص نیت کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کیا جانے والا ایک ذرہ بھی اللہ کے نزدیک بہت وقیع اور میزان عمل میں بہت وزنی ہے۔

1858Mishkaat-al-Masabih

سخاوت کا حکم

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قال الله تعالى : أنفق يا ابن آدم أنفق عليك

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے اولاد آدم میری راہ میں اپنا مال خرچ کر میں تیرے اوپر خرچ کروں گا۔ (بخاری ومسلم) تشریح اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ اے اولاد آدم! تو دنیا کے فانی مال کو میری راہ میں خرچ کر تاکہ آخرت میں تجھے اموال عالیہ حاصل ہوں۔ بعض حضرات نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ جو کچھ میں نے تجھے عطا کیا ہے اس میں سے تو لوگوں کو دے تاکہ میں تجھے دنیا و عقبی میں اس سے زیادہ عطا کروں گویا اس آیت کریمہ کی طرف اشارہ ہے کہ آیت ( وَمَا اَنْفَقْتُمْ مِّنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُه) 24۔ سبأ 39)۔ تم جو کچھ بھی اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرتے ہو اللہ تمہیں اس کا بدلہ عطا کرتا ہے۔

1859Mishkaat-al-Masabih

ضرورت سے زائد مال کو خرچ کرنے کا حکم

وعن أبي أمامة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يا ابن آدم إن تبذل الفضل خير لك وإن تمسكه شر لك ولا تلام على كفاف وابدأ بمن تعول . رواه مسلم

حضرت ابوامامہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ اے اولاد آدم! جو مال تمہاری حاجت و ضرورت سے زائد ہو اسے اللہ کی خوشنودی کے لئے خرچ کرنا تمہارے لئے دنیا و آخرت میں بہتر ہے اور اسے روکے رکھنا یعنی خرچ نہ کرنا اللہ کے نزدیک بھی اور بندوں کے نزدیک بھی تمہارے لئے برا ہے! بقدر کفایت مال پر کوئی ملامت نہیں ہے اور جو مال تمہاری حاجت سے زائد ہو اسے خرچ کرنے کے سلسلے میں اپنے اہل و عیال سے ابتداء کرو۔ (مسلم) تشریح ولا تلام علی کفاف (بقدر کفایت مال پر کوئی ملامت نہیں ہے) کا مطلب یہ ہے کہ اگر تم اتنا مال اپنے پاس بچائے رکھو جو تمہاری زندگی کی بقاء کے لئے ضروری ہو بایں طور کہ اس کی وجہ سے تمہاری غذائی ضرورت پوری ہو اور تم کسی کے سامنے دست سوال دراز کرنے سے بچے رہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے اور ظاہر ہے کہ بقاء زندگی کے بقدر مال کا تعین اشخاص و احوال اور زمانہ کے مطابق ہوتا ہے یعنی بعض اشخاص کے بقاء زندگی کے بقدر مال کی مقدار کم ہوتی ہے اور بعضوں کے لئے زیادہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی واقعی ضروریات زندگی کے لئے کم مال درکار ہوتا ہے اور کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے لئے زیادہ مقدار ضروری ہوتی ہے اسی طرح بعض دنوں میں بقاء زندگی کے لئے کم مال درکار ہوتا ہے اور بعض دنوں میں زیادہ مقدار میں ضروری ہوتا ہے نیز بعض حالات میں تھوڑا مال کفایت کرجاتا ہے اور بعض حالات میں زیادہ مال کی ضرورت ہوتی ہے حاصل یہ کہ اگر کوئی شخص اپنی حیثیت کے مطابق کسی واقعی ضرورت و حاجت کے بقدر مال و زر بچائے رکھتا ہے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ و ابدا بمن تعول کا مفہوم یہ ہے کہ سخاوت خرچ کے معاملے میں اپنے اہل و عیال اور ان لوگوں کو مقدم رکھنا چاہئے جن کا نفقہ اپنے اوپر واجب ہو یعنی ان لوگوں کو دو، جب ان سے بچ رہے تو دوسرے لوگوں کو دینا چاہئے اور اس انداز سے خرچ کرنا کوئی مستحسن بات نہیں ہے کہ اپنے اہل و عیال تو ضرورت مند و محتاج رہیں اور دوسروں کو دیا جائے۔ حدیث کے ظاہری الفاظ سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ ارشاد بھی حدیث قدسی (اللہ تعالیٰ کا ارشاد) ہے اگرچہ حدیث میں صراحتا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ لیکن یہ احتمال بھی ہے کہ شاید آنحضرت ﷺ نے اپنے ہی ارشاد کے لئے یہ اسلوب اختیار فرمایا ہو۔ واللہ اعلم۔

1860Mishkaat-al-Masabih

صدقہ دینے والے اور بخیل کی مثال

وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل البخيل والمتصدق كمثل رجلين عليهما جنتان من حديد قد اضطرت أيديهما إلى ثديهما وتراقيهما فجعل المتصدق كلما تصدق بصدقة انبسطت عنه البخيل كلما هم بصدقة قلصت وأخذت كل حلقة بمكانها

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بخیل اور صدقہ دینے والے کی مثال ایسے دو شخصوں کی ہے جن کے جسم پر لوہے کی زرہیں اور ان زرہوں کے تنگ ہونے کی وجہ سے ان دونوں کے ہاتھ ان کی چھاتیوں اور گردن کی ہنسلی کی طرف چمٹے ہوئے ہوں چناچہ جب صدقہ دینے کا قصد کرتا ہے تو اس کی زرہ کھل جاتی ہے اور جب بخیل صدقہ دینے کا قصد کرتا ہے تو اس کی زرہ کے حلقے اور تنگ ہوجاتے ہیں اور اپنی جگہ پر ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ (بخاری ومسلم) تشریح اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ سخی انسان جب اللہ کی خوشنودی کے لئے اپنا مال خرچ کرنے کا قصد کرتا ہے تو اس جذبہ صدق کی بنا پر اس کا سینہ کشادہ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ اس کے قلب و احساسات کے تابع ہوتے ہیں بایں طور کہ وہ مال خرچ کرنے کے لئے دراز ہوتے ہیں اس کے برخلاف ایسے مواقع پر بخیل انسان کا سینہ تنگ ہوتا ہے اور اس کے ہاتھ سمٹ جاتے ہیں۔ اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ جب سخی انسان خیر و بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو توفیق الٰہی اس کے شامل حال ہوتی ہے بایں طور کہ اس کے لئے خیر و بھلائی اور نیکی کا راستہ آسان کردیا جاتا ہے اور بخیل کے لئے نیکی و بھلائی کا راستہ دشوار گزار ہوجاتا ہے۔