Mishkaat-al-Masabih 1799

جن چیزوں میں زکوۃ واجب ہوتی ہے ان کا بیان

1799Mishkaat-al-Masabih

انگور کی زکوۃ

وعن عتاب بن أسيد أن النبي صلى الله عليه و سلم قال في زكاة الكروم : إنها تخرص كما تخرص النخل ثم تؤدى زكاته زبيبا كما تؤدى زكاة النخل تمرا . رواه الترمذي وأبو داود

حضرت عتاب بن اسید ؓ راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے انگور کی زکوٰۃ کے بارے میں فرمایا کہ انگوروں کا اسی طرح اندازہ کیا جائے جیسے کھجوروں کا اندازہ کیا جاتا ہے پھر ان انگوروں کی زکوٰۃ اس وقت ادا کی جائے جب وہ خشک ہوجائیں جس طرح کہ خشک ہوجانے کے بعد کھجوروں کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جب انگوروں اور کھجوروں میں شیرینی پیدا ہوجائے تو کوئی ماہر شخص ان کے بارے میں یہ اندازہ لگائے کہ خشک ہونے کے بعد یہ کس قدر ہوں گی۔ پھر جب وہ خشک ہوجائیں تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک مطابق وہ جتنی بھی ہوں ان کا دسواں حصہ بطور زکوٰۃ ادا کیا جائے صاحبین اور حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق اگر ان کی مقدار حد نصاب یعنی پانچ وسق تک پہنچ جائے تو دسواں حصہ ادا کیا جائے۔