کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
عَنْ جَابِرٍ قَالَ جَاءَ تْ مَلَائِکَۃٌ اِلٰی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ نَائِمٌ فَقَالُوا اِنَّ لِصَاحِبِکُمْ ھٰذَا مَثَلًا فَاضْرِبُوْا لَہُ مَثَلًا قَالَ بَعْضُھُمْ اِنَّہُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُھُمْ اِنَّ الْعَےْنَ نَائِمَۃٌ وَالْقَلْبَ ےَقْظَانٌ فَقَالُوا مَثَلُہُ کَمَثَلِ رَجُلٍ بَنٰی دَارًا وَ جَعَلَ فِےْھَا مَأْدُبَۃً وَبَعَثَ دَاعِےًا فَمَنْ اَجَابَ الدَّاعِیَ دَخَلَ الدَّارَ وَاَکَلَ مَعَہُ مِنَ الْمَأْدُبَۃِ وَمَنْ لَمْ ےُجِبِ الدَّاعِیَ لَمْ ےَدْخُلِ الدَّارَ وَلَمْ ےَأْکُلْ مِنَ الْمَاْدُبَۃِ فَقَالُوا اَوِّلُوْھَا لَہُ ےُفَقِّھُہَا قَالَ بَعْضُھُمْ اِنَّہُ نَائِمٌ وَقَالَ بَعْضُھُمْ اِنَّ الْعَےْنَ نَائِمَۃٌ وَالْقَلْبَ ےَقْظَانٌ فَقَالُوا اَلدَّارُ الْجَنَّۃُ وَالدَّاعِی مُحَمَّدٌ فَمَنْ اَطَاعَ مُحَمَّدًا فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ عَصٰی مُحَمَّدًا فَقَدْ عَصٰی اللّٰہَ وَمُحَمَّدٌ فَرْقٌ بَےْنَ النَّاسِ ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ (کچھ) فرشتے رسول اللہ ﷺ کے پاس اس وقت آئے جب کہ آپ ﷺ سو رہے تھے فرشتوں نے آپس میں کہا۔ تمہارے اس دوست یعنی رسول اللہ ﷺ کے متعلق ایک مثال ہے اس کو ان کے سامنے بیان کرو، دوسرے فرشتوں نے کہا، وہ سوئے ہوئے ہیں (لہٰذا بیان کرنے سے کیا فائدہ) ان میں بعض نے کہا، بیشک آنکھیں سو رہی هیں لیکن دل تو جاگتا ہے، پھر اس نے کہا، ان کی مثال اس آدمی کی سی ہے جس نے گھر بنایا اور لوگوں کے کھانا کھانے کے لئے دستر خوان چنا اور پھر لوگوں کو بلانے کے لئے آدمی بھیجا لہٰذا جس نے بلانے والی بات کو مان لیا وہ گھر میں داخل ہوگا اور کھانا کھائے گا اور جس نے بلانے والے کی بات کو قبول نہ کیا وہ نہ گھر میں داخل ہوگا اور نہ کھانا کھائے گا یہ سن کر فرشتوں نے آپس میں کہا، اس کو (وضاحت کے ساتھ) بیان کرو تاکہ یہ اسے سمجھ لیں، بعض فرشتوں نے کہا بیان کرنے سے کیا فائدہ کیونکہ وہ تو سوئے ہوئے ہیں۔ دوسروں نے کہا، بیشک آنکھیں سو رہی ہیں لیکن دل تو جاگتا ہے اور پھر کہا، گھر سے مراد تو جنت ہے اور بلانے والے سے مراد محمد ﷺ ہیں جس نے محمد ﷺ کی فرمانبرداری کی اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جس نے محمد ﷺ کی نافرمانی کی اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی اور محمد ﷺ لوگوں کے درمیان فرق کرنے والے ہیں۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس آدمی سے مراد جس نے گھر بنایا اور دستر خوان چنا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح دستر خوان اور کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں چونکہ یہ ظاہری طور پر مفہوم ہو رہے ہیں اس لئے ان کی وضاحت نہیں کی گئی آخر میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی لوگوں کے درمیان فرق کرنے والی ہے یعنی کافر و مومن حق و باطل اور صالح و فاسق میں آپ ﷺ فرق کرنے والے ہیں۔ تشریح اس آدمی سے مراد جس نے گھر بنایا اور دستر خوان چنا اللہ تعالیٰ کی ذات ہے، اسی طرح دستر خوان اور کھانے سے مراد بہشت کی نعمتیں ہیں چونکہ یہ ظاہری طور پر مفہوم ہو رہے ہیں اس لئے ان کی وضاحت نہیں کی گئی آخر میں بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی لوگوں کی درمیان فرق کرنے والی ہے یعنی کافر و مومن حق و باطل اور صالح و فاسق میں آپ ﷺ فرق کرنے والے ہیں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ جَآءَ ثَلٰثَۃُ رَھْطٍ اِلَی اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَسْئَلُوْنَ عَنْ عِبَادَۃِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا اُخْبِرُوْا بِھَا کَاَنَّھُمْ تَقَآلُّوْھَا فَقَالُوْا اَےْنَ نَحْنُ مِنَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم وَقَدْ غَفَرَ اللّٰہُ لَہُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِہٖ وَمَا تَاَخَّرَ فَقَالَ اَحَدُھُمْ اَمَّا اَنَا فَاُصَلِّیَ اللَّےْلَ اَبَدًا وَقَالَ الْاٰخَرُاَنَا اَصُوْمُ النَّھَارَ اَبَدًا وَّلَا اُفْطِرُ وَقَالَ الْاٰخَرُ اَنَا اَعْتَزِلُ النِّسَآءَ فَلَا اَتَزَوَّجُ اَبَدًا فَجَآءَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَےْھِمْ فَقَالَ اَنْتُمُ الَّذِےْنَ قُلْتُمْ کَذَا وَکَذَا اَمَا وَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَخْشٰکُمْ لِلّٰہِ وَاَتْقٰکُمْ لَہُ لٰکِنِّیْ اَصُوْمُ وَاُفْطِرُ وَاُصَلِّیْ وَاَرْقُدُ وَاَتَزَوَّجُ النِّسَآءَ فَمَنْ رَغِبَ عَنْ سُنَّتِیْ فَلَےْسَ مِنِّیْ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ تین آدمی رسول اللہ ﷺ کی بیویوں کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ ان سے رسول اللہ ﷺ کی عبادت کا حال دریافت کریں، جب ان لوگوں کو آپ ﷺ کی عبادت کا حال بتلایا گیا تو انہوں نے آپ کی عبادت کو کم خیال کر کے آپس میں کہا۔ رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں ہم کیا چیز ہیں اللہ تعالیٰ نے تو ان کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف کردیئے ہیں، ان میں سے ایک نے کہا، اب میں ہمیشہ ساری رات نماز پڑھا کروں گا، دوسرے نے کہا اور میں دن کو ہمیشہ روزہ رکھا کروں گا اور کبھی افطار نہ کروں گا۔ تیسرے نے کہا میں عورتوں سے الگ رہوں گا اور کبھی نکاح نہ کروں گا، ان میں آپس میں یہ گفتگو ہو ہی رہی تھی کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے اور فرمایا تم لوگوں نے ایسا ویسا کہا ہے، خبردار! میں تم سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور تم سے زیادہ تقوی اختیار کرتا ہوں (لیکن اس کے باوجود) میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں میں ( رات میں) نماز بھی پڑھتا ہوں او سوتا بھی ہوں اور عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں (یہی میرا طریقہ ہے لہٰذا) جو آدمی میرے طریقہ سے انحراف کرے گا وہ مجھ سے نہیں (یعنی میری جماعت سے خارج ہے)۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
تین صحابی یعنی حضرت علی ؓ، حضرت عثمان بن مظعون ؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ ؓ ازواج مطہرات کی خدمت میں رسول اللہ ﷺ کی عبادت کا حال معلوم کرنے کے لئے حاضر ہوئے جب ان لوگوں کو آپ ﷺ کی عبادت کا حال معلوم ہوا تو اسے انہوں نے کم خیال کرتے ہوئے کہا کہ کہاں ہم اور کہاں رسول اللہ ﷺ؟ یعنی عبادت کے مقابلہ میں ہمیں سرکار دو عالم ﷺ کی ذات اقدس سے کیا نسبت؟ اس لئے کہ آپ ﷺ کو اتنی بھی عبادت کی حاجت نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ سراپا معصوم اور مغفور ہیں آپ ﷺ کے اگلے پچھلے تمام گناہ بار گاہ الوہیت میں سے پہلے ہی بخش دیئے گئے ہیں جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ آیت (لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ) 48۔ الفتح 2) تاکہ اللہ تعالیٰ تمہارے اگلے پچھلے تمام گنا بخش دے۔ چنانچہ ان تینوں نے حسب طبیعت ایک ایک چیز کو اپنے اوپر لازم کرلیا اور یہ خیال کیا کہ عبادت میں اتنی زیادتی عرفان حق کا باعث اور تقرب الی اللہ کا واحد ذریعہ ہے لیکن رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس سے منع فرما دیا اس لئے کہ عبادت وہی معتبر اور قابل تحسین ہوگی جو اللہ اور اللہ کے رسول کی قائم کردہ حدود کے اندر ہو اور جتنی عبادت کے لئے بندہ کو مکلف کیا گیا ہے اتنی عبادت ہی تقرب الی اللہ کا باعث ہوگی، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تم سے زیادہ ڈرتا ہوں، تقوی تم سے زیادہ اختیار کئے ہوئے ہوں، خوف اللہ میرے دل میں تم سے زیادہ ہے لیکن اس کے باوجود بھی میری عبادت اور میری ریاضت ان ہی حدود کے اندر ہے جو اللہ نے قائم کردی ہے، اسی لئے میں روزے بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، نماز بھی پڑھتا ہوں اور سونے کے وقت سوتا بھی ہوں اور بقضائے فطرت عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں۔ چنانچہ کمال انسانیت یہی ہے کہ بندہ علائق سے تعلق رکھے، عورتوں سے نکاح بھی کرے لیکن اس شان کے ساتھ کہ ایک طرف تو ان کے حقوق میں ذرہ برابر بھی کمی نہ ہو اور دوسری طرف حقوق اللہ میں بھی فرق نہ آئے اور نہ توکل کا دامن ہاتھ سے چھوٹے، اسی چیز کو رسول اللہ ﷺ نے پورے کمال کے ساتھ عملی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کردیا تاکہ امت بھی اسی طریقہ پر چلتی رہے۔ اور پھر آخر میں آپ ﷺ نے صاف طور پر اعلان فرما دیا کہ یہ میرا طریقہ ہے اور یہی میری سنت ہے، اب جو آدمی میری سنت سے انحراف کرتا ہے، میری بتائی ہوئی حدود سے تجاوز کرتا ہے اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ میری سنت اور میرے طریقہ سے بیزاری و بےرغبتی کر رہا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ایسا آدمی میری جماعت سے خارج ہے اسے مجھ سے اور میری جماعت سے کوئی نسبت نہیں۔ اس ارشاد نے اس طرف بھی اشارہ کردیا کہ علائق دنیا سے بالکل منہ موڑ لینا اور رہبانیت کا طریق اختیار کرلینا جائز نہیں ہے اس لئے کہ اس سے نہ صرف یہ کہ انسانی زندگی کا شیرازہ بکھر جائے گا بلکہ حقوق اللہ کی ادائیگی میں بھی کو تاهی ہوگی اور عبادت کا جو اصلی حق ہے وہ ادا نہیں ہوگا۔ حضرت مولانا شاہ محمد اسحاق حمه اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس حدیث سے بعض علماء نے یہ استنباط کیا ہے کہ اس حدیث میں ان لوگوں کا بھی رد ہے جو بدعت حسنہ کے قائل ہیں۔ اس لئے کہ تینوں صحابہ نے جن چیزوں کو اپنے اوپر لازم کرنے کا ارادہ کیا تھا وہ عبادت ہی کی قسم سے تھیں لیکن چونکہ یہ سنت کے طریقہ کے خلاف اور اس سے زیادہ تھیں اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ان کو پسند نہیں فرمایا اور اس سے منع فرمادیا، لہٰذا اولی یہی ہے کہ جو عبادت آنحضرت ﷺ سے منقول ہو اور جس طرح ثابت ہو اسی طرح ادا کرے اس میں اپنی طرف سے کمی زیادتی نہ کرے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ صَنَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم شَےْئًا فَرَخَّصَ فِےْہِ فَتَنَزَّہَ عَنْہُ قَوْمٌ فَبَلَغَ ذَالِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَخَطَبَ فَحَمِدَاللّٰہَ ثُمَّ قَالَ مَابَالُ اَقْوَامٍ ےَتَنَزَّھُوْنَ عَنِ الشَّےْئِی اَصْنَعُہُ فَوَاللّٰہِ اِنِّیْ لَاَعْلَمُھُمْ بِاللّٰہِ وَاَشَدُّھُمْ لَہُ خَشْےَۃً۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ایک کام کیا اور اس کی اجازت دے دی لیکن کچھ لوگوں نے اس سے پرہیز کیا جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر ملی تو آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور اللہ کی حمد و تعریف کے بعد فرمایا۔ لوگوں کا کیا حال ہے کہ وہ اس چیز سے پرہیز کرتے ہیں جسے میں کرتا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں اللہ تعالیٰ کی مرضی و نا مرضی کو ان سے زیادہ جانتا ہوں اور ان سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
روزہ میں رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیوی کا بوسہ لیا ہوگا یا سفر میں روزہ نہ رکھا ہوگا چونکہ ان چیزوں کی اجازت ہے اور شریعت نے اس کی رخصت دی ہے لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے خود بھی اس پر عمل فرمایا اور لوگوں کو بھی اس کی اجازت دے دی کہ وہ ایسا کرسکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں نے ازراہ احتیاط ان کو جائز نہ سمجھا ہوگا جب رسول اللہ ﷺ کو اس کا علم ہوا تو آپ ﷺ نے اس پر ناراضگی کا اظہار فرمایا اور فرمایا کہ اس کے باوجود کہ میں لوگوں سے زیادہ اللہ سے ڈرتا ہوں اور کمال اخلاق میرے اندر موجود ہے لیکن میں شریعت کی طرف سے دی گئی آسانی اور رخصت پر عمل کرتا ہوں تو وہ لوگ کون ہوئے ہیں جو اس رخصت و اجازت پر عمل نہ کریں۔ اگر معنوی حیثیت سے ان آسانیوں اور رخصت کی حقیقت پر غور کیا جائے جو شریعت نے ایسے مواقع پردے رکھی ہیں تو اس میں بڑی عجیب حکمتیں نظر آئیں گی۔ مثلا! یہ کہ ایسے مواقع پر دراصل بندہ کے عجز و ناچارگی اور ضعف بشریت نیز رفاہیت نفس کا اظہار ہوتا ہے جو اللہ کے نزدیک بہت محبوب چیز ہے اسی لئے سرکار دو عالم ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ اسے پسند کرتا ہے کہ رخصتوں یعنی آسانیوں پر عمل کیا جائے جیسا کہ وہ عزیمتوں یعنی اولی چیزوں پر عمل کئے جانے کو پسند کرتا ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ رَّافِعِ ص بْنِ خَدِےْجٍ صقَالَ قَدِمَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الْمَدِےْنَۃَ وَھُمْ ےُؤَبِّرُوْنَ النَّخْلَ فَقَالَ مَا تَصْنَعُوْنَ قَالُوْا کُنَّا نَصْنَعُہُ قَالَ لَعَلَّکُمْ لَوْ لَمْ تَفْعَلُوْا کَانَ خَےْرًا فَتَرَکُوْہُ فَنَقَصَتْ قَالَ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لَہُ فَقَالَ اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ اِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشیءٍ مِّنْ اَمْرِ دِےْنِکُمْ فَخُذُوْا بِہٖ وَاِذَا اَمَرْتُکُمْ بِشَیءٍ مِّنْ رَّاْےِیْ فَاِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ۔ (صحیح مسلم)
حضرت رافع بن خدیج ؓ (حضرت رافع بن خدیج انصاری اوسی ہیں جس وقت حق و باطل کے درمیان جنگ بدر ہوئی اس وقت یہ بہت کم سن تھے ٤٢ ھ میں بعمر ٥٦ سال انتقال فرمایا۔ اسد الغابہ) بیان کرتے ہیں کہ (جب) سرکار دو عالم ﷺ مدینہ تشریف لائے اس وقت مدینہ کے لوگ کھجور کے درختوں میں تابیر کیا کرتے تھے رسول اللہ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) فرمایا تم یہ کیا کرتے ہو؟ اہل مدینہ نے عرض کیا، ہم ایسا ہی کرتے رہے ہیں، آنحضرت ﷺ نے فرمایا اگر تم ایسا نہ کرو تو شاید بہتر ہو، چناچہ لوگوں نے آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر اسے چھوڑ دیا اور اس سال پھل کم آیا، راوی فرماتے ہیں کہ اس کا تذکرہ رسول اللہ ﷺ سے کیا گیا، آپ ﷺ نے فرمایا میں بھی ایک آدمی ہوں لہٰذا جب میں تمہیں کسی ایسی چیز کا حکم دوں جو تمہارے دین کی ہو تو اسے قبول کرلو اور جب میں کوئی بات اپنی عقل سے تمہیں بتاؤں تو سمجھ لو کہ میں بھی انسان ہوں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
کھجور کے درختوں میں ایک درخت نر ہوتا ہے اور دوسرے مادہ ہوتے ہیں۔ مدینہ والے یہ کیا کرتے تھے کہ نر درخت کا پھل مادہ درختوں پر جھاڑتے یا ان میں لگا دیتے تھے اس سے ان کا خیال تھا کہ پھل زیادہ آتے ہیں اسی کو تابیر کرنا کہا جاتا ہے، آخر حدیث میں رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کے معنی یہ ہیں کہ میں بھی ایک انسان ہوں دنیاوی اسباب کے سلسلہ میں مجھ سے خطا بھی واقع ہوسکتی ہے اور صواب بھی، مگر میں کسی دنیاوی معاملہ میں اپنی کسی ایسی اجتہادی رائے کا اظہار کروں جو وحی کے زیر حکم نہ ہو تو اس پر عمل کرنا ضروری نہیں ہے چناچہ اس معاملہ میں آپ ﷺ نے جب دیکھا کہ یہ چیز امور جاہلیت میں سے ہے اور اس کی تایثر پھلوں کی کمی و زیادتی میں کچھ معقول نظر نہیں آتی اور اس کا خیال نہیں فرمایا کہ شاید اس کی تاثیر کچھ منجانب اللہ ہی سے ہوتی ہو اس لئے آپ ﷺ نے اس کو ترک کردینے کے لئے فرمایا لیکن حکم نہیں فرمایا بلکہ یہ فرمایا کہ اگر یہ عمل نہ کرو تو بهتر ہوگا۔ جب تجربہ کے بعد آپ ﷺ نے یہ دیکھ لیا کہ یہ تو ایک قدرتی چیز ہے کہ جب نر درخت کے پھلوں کو مادہ درخت میں لگا دیتے ہیں تو اس سے پھل کثرت سے آتے ہیں اور اس عمل کے خلاف اللہ کی جانب سے کوئی وعید نہیں آئی ہے تو آپ ﷺ نے سکوت فرمایا۔ یہ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو دنیا کی طرف التفات نہ تھا اور نہ آپ ﷺ کی غرض دنیا تھی بلکہ امور آخرت کے مسائل و احکام اور دینی معاملات میں آپ ﷺ کو زیادہ اہتمام تھا۔ بعض دوسری احادیث میں اس واقع کے بیان کے سلسلہ میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا اتنم اعلم بامور دنیاکم یعنی تم اپنی دنیا کے امور کو خوب جاتنے ہو! اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ دنیاوی اموری کی طرف مجھے التفات نہیں ہے ورنہ جہاں تک رائے و عقل کا معاملہ ہے اس میں ذرہ برابر بھی شبہ نہیں ہے رسول اللہ ﷺ دینی اور دنیاوی دونوں معاملات میں سب سے زیادہ عقل مند و صائب الرائے تھے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ اَبِیْ مُوْسٰی صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّمَا مَثَلِیْ وَمَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہٖ کَمَثَلِ رَجُلٍ اَتٰی قَوْمًا فَقَالَ ےَاقَوْمِ اِنِّیْ رَأَ ےْتُ الْجَےْشَ بِعَےْنَیَّ وَاِنِّیْ اَنَا النَّذِےْرُ الْعُرْےَانُ فَالنَّجَآءَ النَّجَآءَ فَاَطَاعَہُ طَآئِفَۃٌ مِّنْ قَوْمِہٖ فَاَدْلَجُوْا فَانْطَلَقُوْا عَلٰی مَھْلِھِمْ فَنَجَوْا وَکَذَّبَتْ طَآئِفَۃٌ مِّنْھُمْ فَاَصْبَحُوْا مَکَانَھُمْ فَصَبَّحَھُمُ الْجَےْشُ فَاَھْلَکَھُمْ وَاجْتَاحَھُمْ فَذَالِکَ مَثَلُ مَنْ اَطَاعَنِیْ فَاتَّبَعَ مَا جِئْتُ بِہٖ وَمَثَلُ مَنْ عَصَانِیْ وَکَذَّبَ مَا جِئْتُ بِہٖ مِنَ الْحَقِّ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری اور اس چیز کی مثال جسے دے کر اللہ نے مجھے بھیجا ہے (یعنی دین و شریعت) اس آدمی کی سی ہے جو ایک قوم کے پاس آیا اور کہا، اے قوم! میں نے اپنی آنکھوں سے ایک لشکر دیکھا ہے اور میں ننگا (یعنی بےغرض) ڈرانے والا ہوں، لہٰذا تم اپنی نجات کو تلاش کرو، چناچہ اس کی قوم کی ایک جماعت نے اس کی فرمانبرداری کی اور راتوں رات آہستہ آہستہ نکل گئی اور نجات پالی ان میں سے ایک گروہ نے اس کو جھٹلایا اور صبح تک اپنے گھروں میں رہا صبح کو لشکر نے آکر ان کو پکڑ لیا اور ہلاک کر ڈالا (یہاں تک کہ) ان کی جڑیں کھود ڈالیں یعنی ان کی نسل تک کا خاتمہ کردیا، چناچہ یہی مثال ہے اس آدمی کی جس نے میری فرمانبرداری کی اور جو (احکام) میں لایا ہوں ان کی پیروی کی اور اس آدمی کی بھی یہی مثال ہے جس نے میری نافرمانی کی اور جو حق بات (یعنی دین و شریعت میں لے کر آیا ہوں اس کی تکذیب کی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
ننگا ڈرانے والے کی اصل یہ ہے کہ عرب میں قاعدہ تھا کہ جب کوئی آدمی کسی لشکر کو اپنی قوم پر حملہ کے لئے آتا ہوا دیکھتا تو کپڑے اتار کر سر پر رکھ لیتا اور بالکل ننگا ہو کر چلاتا ہوا اپنی قوم کی طرف آتا تاکہ لوگ خبردار ہوجائیں اور دشمن کی اچانک آمد سے بچاؤ کی شکل پیدا کرسکیں۔ اسی کو ننگا ڈرانے والا کہا جاتا تھا، اس کے بعد سے یہ کسی ناگہانی اور خوفناک حادثہ کے پیش آنے میں صرف ایک ضرب المثل بن گیا۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ پر یہ مثال بالکل صحیح و صادق تھی کہ آپ ﷺ فرمانبردار اور اطاعت گزار کو جنت اور رضاء مولیٰ کی خوشخبری اور نافرمانبردار و سرکش جماعت کو اللہ کے عذاب و غضب کی خبر دینے میں بالکل سچے تھے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَثَلِیْ کَمَثَلِ رَجُلٍ اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا اَضَآءَ تْ مَاحَوْلَھَا جَعَلَ الْفَرَاشُ وَھٰذِہِ الدَّوَآبُّ الَّتِیْ تَقَعُ فِی النَّارِ ےَقَعْنَ فِےْھَا وَجَعَلَ ےَحْجُزُھُنَّ وَےَغْلِبْنَہُ فَےَتَقَحَّمْنَ فِےْھَا فَاَنَا اَخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ وَاَنْتُمْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا ھٰذِہٖ رِوَاےَۃُ الْبُخَارِیِّ وَلِمُسْلِمٍ نَحْوُھَا وَقَالَ فِیْ اٰخِرِھَا قَالَ فَذَالِکَ مَثَلِیْ وَمَثَلُکُمْ اَنَا اٰخِذٌ بِحُجَزِکُمْ عَنِ النَّارِ ھَلُمَّ عَنِ النَّارِ ھَلُمََّ عَنِ النَّارِ فَتَغْلِبُوْنِیْ تَقَحَّمُوْنَ فِےْھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میری مثال اس آدمی کی مانند ہے جس نے آگ روشن کی چناچہ جب آگ نے چاروں طرف روشنی پھیلا دی تو پروانے اور دوسرے وہ جانور جو آگ میں گرتے ہیں آکر آگ میں گرنے لگے آگ روشن کرنے والے آدمی نے ان کو روکنا شروع کیا لیکن وہ (نہیں رکتے بلکہ اس کی کوششوں پر) غالب رہتے ہیں اور آگ میں گرپڑتے ہیں اسی طرح میں تمہاری کمریں پکڑ کر تمہیں آگ میں گرنے سے روکتا ہوں اور تم آگ میں گرتے ہو۔ یہ روایت صحیح البخاری کی ہے اور مسلم میں بھی ایسی ہی روایت ہے البتہ مسلم کی روایت کے آخری الفاظ یہ ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بالکل ایسی ہی مثال میری اور تمہاری ہے میں تمہاری کمریں پکڑے ہوں کہ تمہیں آگے سے بچاؤں اور یہ کہتا ہوں کہ دوزخ سے بچو میری طرف آؤ، دوزخ سے بچو میری طرف آؤ لیکن مجھ پر تم غالب آتے ہو اور آگ میں گرپڑتے ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
رسول اللہ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ میں نے حرام اور ممنوع چیزوں کو تمہارے سامنے کھول کھول کر بیان کردیا ہے لیکن جس طرح کوئی آدمی آگ جلائے اور اس آدمی کے روکنے کے باوجود پروانے آگ میں گرتے ہیں وغیرہ۔ اسی طرح باوجودیکہ میں تمہیں برے راستہ سے ہٹاتا ہوں اور برے کام سے روکتا ہوں لیکن تم اس ممنوع اور غیر پسندیدہ چیزوں کو کرتے ہو! اسی طرح دوزخ کی آگ میں گرنے کی کوشش کرتے ہو۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ اَبِیْ مُوْسٰیص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَثَلُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہٖ مِنَ الْھُدٰی وَالْعِلْمِ کَمَثَلِ الْغَےْثِ الْکَثِےْرِ اَصَابَ اَرْضًا فَکَانَتْ مِنْھَا طَآئِفَۃٌ طَےِّبَۃٌ قَبِلَتِ الْمَآءَ فَاَنْبَتَتِ الْکَلَأَوَالْعُشْبَ الْکَثِےْرَ وَکَانَتْ مِنْھَا اَجَادِبُ اَمْسَکَتِ الْمَاءَ فَنَفَعَ اللّٰہُ بِھَا النَّاسَ فَشَرِبُوْا وَسَقَوْا وَزَرَعُوْا وَاَصَابَ مِنْھَا طَآئِفَۃً اُخْرٰی اِنَّمَا ھِیَ قِےْعَانٌ لَا تُمْسِکُ مَآئً وَّلَا تُنْبِتُ کَلَائً فَذَالِکَ مَثَلُ مَنْ فَقُہَ فِیْ دِےْنِ اللّٰہِ وَنَفَعَہُ مَا بَعَثَنِیَ اللّٰہُ بِہٖ فَعَلِمَ وَعَلَّمَ وَمَثَلُ مَنْ لَّمْ ےَرْفَعْ بِذَالِکَ رَاْسًا وَّلَمْ ےَقْبَلْ ھُدَی اللّٰہِ الَّذِیْ اُرْسِلْتُ بِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس چیز کی مثال جسے اللہ نے مجھے دے کر بھیجا ہے یعنی علم اور ہدایت کثیر بارش کی مانند سے جو زمین پر بوئی چناچہ زمین کے اچھے ٹکڑے نے اسے قبول کرلیا یعنی اپنے اندر جذب کرلیا، اس سے بہت زیادہ خشک و ہری گھاس پیدا ہوئی اور زمین کا ایک ٹکڑا ایسا سخت تھا کہ اس کے اوپر پانی جمع ہوگیا اللہ نے اس سے بھی لوگوں کو نفع پہنچایا اور لوگوں نے اسے پیا اور پلایا اور کھیتی کو سیراب کیا اور یہ (بارش کا پانی) زمین کے ایسے ٹکڑے پر بھی (پہنچا) جو چٹیل سخت میدان تھا نہ تو اس نے پانی کو روکا اور نہ گھاس کو اگایا لہٰذا یہ سب (مذکورہ مثالیں) اس آدمی کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھا اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے میری وساطت سے بھیجی تھی اس نے اس سے نفع اٹھایا پس اس نے خود سیکھا اور دوسروں کو سکھایا اور اس آدمی کی مثال ہے جس نے اللہ کے دین کو سمجھنے کے لئے تکبر کی وجہ سے سر نہیں اٹھایا اور اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو جو میرے ذریعہ بھیجی گئی تھی قبول نہیں کیا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اس میں دو قسم کے آدمی ذکر کئے گئے ہیں ایک تو دین سے فائدہ اٹھانے والے اور دوسرے دین سے فائدہ نہ اٹھانے والے، اسی طرح مثال مذکورہ میں زمین دو قسم کی بیان کی گئی ہے، زمین کی ایک قسم تو وہ ہے جو پانی سے فائدہ اٹھاتی ہے، دوسرے وہ جو پانی سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتی پھر فائدہ اٹھانے والی کی بھی دو قسمیں ہیں۔ ایک اگانے والی اور دوسری نہ اگانے والی۔ ٹھیک اسی طرح علم دین سے بھی فائدہ اٹھانے والے دو طرح کے ہوتے ہیں، پہلا وہ آدمی جو عالم بھی ہو اور عابد و فقیہ اور معلم بھی۔ اس پر زمین کے اس ٹکڑے کی مثال صادق آتی ہے جس نے پانی کو اپنے اندر جذب کرلیا، خود بھی فائدہ اٹھایا اور دوسروں کو بھی نفع پہنچایا نیز گھاس بھی اگائی۔ اسی طرح اس آدمی نے علم دین سے خود بھی فائدہ اٹھایا اور دوسروں کو بھی اپنے علم سے مستفیض کیا۔ دوسرا وہ آدمی ہے جو عالم و معلم ہو مگر عابد وفقیہ نہ ہو، نہ تو وہ نوافل وغیرہ میں مشغول ہوا اور نہ اس نے اپنے علم میں تفقہ یعنی سمجھ بوجھ پیدا کی، اس کی مثال زمین کے اس حصہ کی مانند ہے جس میں پانی جمع ہوگیا اور لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا۔ یا پھر زمین کا وہ حصہ جس نے پانی کو جذب بھی کیا اور گھاس بھی اگائی وہ مجتہدین کی مثال ہے کہ جنہوں نے علم حاصل کیا، پھر بہت سے مسائل کا استنباط کیا اس سے خود بھی منتفع ہوئے اور دوسروں کو بھی فائدہ پہنچایا۔ اور زمین کے اس حصہ کی مثال جس میں پانی جمع ہوا، محدثین ہیں کہ انہوں نے علم حدیث حاصل کیا اور اس علم کو بعینہ دوسرے لوگوں تک پہنچا دیا، ان دونوں کے مقابلہ میں تیسرا آدمی وہ ہے جس نے ازراہ غرور وتکبر اللہ کے دین کے سامنے اپنی گردن نہیں جھکائی، نہ اس نے علم دین کی طرف کوئی توجہ والتفات کی اور نہ اس نے اللہ اور اللہ کے رسول کے پیغام کو سنا اور نہ اس پر عمل کیا اور نہ علم کی روشنی دوسروں تک پہنچائی، اب چاہے یہ دین محمدی میں داخل ہو یا نہ ہو اور یا کافر ہو، اس کی مثال زمین شور کی ہے کہ جس نے نہ پانی کو قبول کر کے اپنے اندر جذب کیا، نہ پانی کو جمع کیا اور نہ کچھ اگایا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ تَلاََ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ھُوَالَّذِیْ اَنْزَلَ عَلَےْکَ الْکِتَابَ مِنْہُ اٰےٰتٌ مُحْکَمٰتٌ وَّقَرَءَ اِلٰی &&وَمَا ےَذَّکَّرُ اِلَّا اُوْلُوالْاَلْبَابِ&&(پ٣۔ رکوع٩) قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاِذَا رَاَےْتِ وَعِنْدَ مُسْلِمٍ رَاَےْتُمُ الَّذِےْنَ ےَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَہَ مِنْہُ فَاُولٰئِۤکَ الَّذِےْنَ سَمّٰھُمُ اللّٰہُ فَاحْذَرُوْھُمْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (ھُوَ الَّذِيْ اَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ مِنْهُ اٰيٰتٌ مُّحْكَمٰتٌ) 3۔ آل عمران 7) ترجمہ یہ وہ (خدا) ہے جس نے آپ ﷺ پر کتاب نازل کی کہ جس کی بعض آیات محکم ہیں۔ اور آخر آیت وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَابِ (3۔ آل عمران 7) اور نہیں نصیحت پکڑتے مگر صاحب عقل، تک پڑھی، حضرت عائشہ ؓ عنها کہتی ہیں کہ یہ آیت پڑھ کر، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس وقت تو دیکھے اور مسلم کی روایت میں ہے جب تم دیکھو کہ لوگ ان آیتوں کے پیچھے پڑتے ہیں جو متشابہ ہیں تو (تم سمجھو کہ یہ) وہ لوگ ہیں جن کا نام اللہ تعالیٰ نے (کجرو یا گمراہ) رکھا ہے لہٰذا ان لوگوں سے بچتے رہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
آیت کا بقیہ حصہ یہ ہے آیت ( ھُنَّ اُمُّ الْكِتٰبِ وَاُخَرُ مُتَشٰبِهٰتٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُوْنَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَا ءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَا ءَ تَاْوِيْلِه څ وَمَا يَعْلَمُ تَاْوِيْلَه اِلَّا اللّٰهُ ڤ وَالرّٰسِخُوْنَ فِي الْعِلْمِ يَقُوْلُوْنَ اٰمَنَّا بِه كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ اِلَّا اُولُوا الْاَلْبَاب) 3۔ آل عمران 7) اور وہی (آیات محکمات) اصل کتاب ہیں اور بعض آیات متشابہ ہیں۔ ایسے لوگ کہ جن کے دلوں میں کجی ہے وہ متشابہات کا اتباع کرتے ہیں تاکہ فتنہ برپا کریں اور مراد اصلی کا پتہ لگائیں، حالانکہ مراد ا صلی اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا اور جو لوگ علم میں کامل دسترس رکھتے ہیں وہ یہ فرماتے ہیں کہ ہم ان پر ایمان لائے یہ سب ہمارے پروردگار کی طرف سے ہیں اور نصیحت تو عقلمند ہی قبول کرتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جو لوگ آیات متشابہات کے پیچھے پڑتے ہیں اور ان کی اصل مراد کو پانے کے لئے اپنی عقل کے تیر چلاتے ہیں ان کو اللہ نے کجرو یعنی گمراہ کہا ہے جیسا کہ آیت بالا (فَاَمَّا الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ زَيْغٌ) 3۔ آل عمران 7) سے معلوم ہوا۔ حاصل یہ ہے کہ قرآن کریم میں دو طرح کی آیتیں ہیں اول آیات محکمات یہ وہ آیتیں ہیں جس کے معنی و مطلب ظاہر ہوتے ہیں ان میں اخفاء و ابہام نہیں ہوتا، دوسری آیات متشابہات ہیں یعنی جن کے معنی ظاہر نہیں ہوتے بلکہ ان کی حقیقی مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہوتا ہے جیسے آیت (يَدُ اللّٰهِ فَوْقَ اَيْدِيْهِمْ ) 48۔ الفتح 10) وغیرہ۔ لہٰذا جو لوگ نیک اور صالح ہوتے ہیں اور جن کے قلوب ایمان و ایقان کی روشنی سے پوری طرح منور ہوتے ہیں وہ آیات محکمات کے معنی و مطالب کو سمجھتے بھی ہیں اور ان پر ایمان بھی لاتے ہیں اور آیات متشابہات پر پوری رسوخ وایقان کے ساتھ ایمان لا کر ان کے معنی و مطالب اور حقیقی مراد کا علم اللہ کے سپرد کردیتے ہیں کہ وہی بہتر جاننے والا ہے۔ لیکن جن لوگوں کے قلوب میں کجی ہوتی ہے اور جن کے ذہن گمراہ ہوتے ہیں وہ آیات متشابہات کے پیچھے پڑجاتے ہیں اور ان میں اپنی طرف سے غلط تاویلین کر کے خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرتے ہیں اس حدیث اور مذکورہ بالا آیات شریفہ کا یہی خلاصہ اور مطلب ہے
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ ابْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمَا قَالَ ھَجَّرْتُ اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمًا قَالَ فَسَمِعَ اَصْوَاتَ رَجُلَےْنِ اخْتَلَفَا فِیْ اٰےَۃٍ فَخَرَجَ عَلَےْنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُِعْرَفُ فِیْ وَجْھِہٖ الْغَضَبُ فَقَالَ اِنَّمَا ھَلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ بِاِخْتِلَافِھِمْ فِیْ الْکِتَابِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے دو آدمیوں کی آوازیں سنیں جو ایک (متشابہ) آیت میں اختلاف کر رہے تھے یعنی اس کے معنی میں جھگڑ رہے تھے، آنحضرت ﷺ ہمارے درمیان تشریف لائے (اس وقت) آپ ﷺ کے چہرہ مبارک پر غصہ کے آثار نمایاں تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تم سے پہلے کے لوگ کتاب (الہٰی) میں اختلاف کرنے کی وجہ سے ہلاک ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس سے مراد وہ اختلاف ہے جس کی وجہ سے قلوب شک میں گرفتار ہوں، یا ایمان میں کمزوری پیدا ہو اور آپس میں فتنہ و فساد اور دشمنی کا سبب نیز کفر و بدعت کا باعث ہو، جیسے نفس قرآن میں اختلاف کرنا، اس کے معنی و مطالب میں فرق پیدا کرنا، ظاہر ہے کہ ان چیزوں میں نہ تو اجتہاد جائز ہے اور نہ اختلاف کرنا صحیح ہے، ہاں علمائے مجتہدین کے اختلاف صحیح ہیں جو اللہ کی رحمت کا باعث اور دین و شریعت میں وسعت کا ذریعہ ہیں، چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیهم سے اس طرح کا اجتہادی اختلاف جو فائدہ مند ہے، منقول ہے جو جائز تھا اور جس کی وجہ سے بیشمار مسائل کا استنباط ہوا اور امت ان سے منتفع ہوگئی۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اَعْظَمَ الْمُسْلِمِےْنَ فِی الْمُسْلِمِےْنَ جُرْمًا مَّنْ سَاَلَ عَنْ شَےْیءٍ لَّمْ ےُحَرَّمْ عَلَی النَّاسِ فَحُرِّمَ مِنْ اَجْلِ مَسْاَلَتِہٖ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور سعد بن ابی وقاص ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا مسلمانوں میں سب سے بڑا گناہگار وہ آدمی ہے جس نے کسی ایسی چیز کا سوال کیا جو حرام نہ تھی مگر اس کے سوال کرنے سے وہ حرام ہوگئی ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہ وعید آپ ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں فرمائی جو آپ ﷺ سے ازراہ سرکشی سوالات کرتے تھے یا ان کا سوال کرنا محض تصنع کی وجہ سے ہوتا تھا جیسا کہ بنی اسرائیل نے گائے کے بارے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے سوال کیا تھا۔ ہاں جن لوگوں کا سوال کرنا واقعۃ علم حاصل کرنے یا کسی ضرورت کی بنا پر ہوتا تھا وہ اس میں داخل نہیں ہیں کیونکہ ان کو تو اپنے صحیح سوالات کی بنا پر ثواب ملتا تھا۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَکُوْنُ فِیْ اٰخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُوْنَ کَذَّابُوْنَ ےَاْتُوْنَکُمْ مِنَ الْاَحَادِےْثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوْا اَنْتُمْ وَلَا اَبَآؤُکُمْ فَاِےَّاکُمْ وَاِےَّاھُمْ لَا ےُضِلُّوْنَکُمْ وَلَا ےَفْتِنُوْنَکُمْ ۔ (مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ آخری زمانہ میں ایسے فریب دینے والے اور جھوٹے لوگ ہوں گے جو تمہارے پاس ایسی حدیثیں لائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہوگا اور نہ تمہارے باپوں نے سنا ہوگا لہٰذا ان سے بچو اور ان کو اپنے آپ سے بچاؤ تاکہ وہ تمہیں نہ گمراہ کریں اور نہ فتنہ میں ڈالیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ آخر زمانہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو زہد و تقدس کا پر فریب لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو بہکائیں گے، عوام سے کہیں گے کہ ہم علماء اور مشائخ میں سے ہیں اور تمہیں اللہ کے دین کی طرف بلاتے ہیں، نیز جھوٹی حدیث اپنی طرف سے وضع کر کے لوگوں کے سامنے بیان کریں گے، یا پچھلے بزرگوں کی طرف غلط باتیں منسوب کر کے لوگوں کو دھوکا دیں گے، باطل احکام بتلائیں گے اور غلط عقیدوں کا بیج لوگوں میں بوئیں گے۔ لہٰذا مسلمانوں کو چاہئے کہ اگر وہ ایسے لوگوں کو پائیں تو ان سے بچیں، ایسا نہ ہو کہ وہ اپنے مکر و فریب سے نیک لوگوں کو فتنہ میں ڈال دیں یعنی شرک و بدعت میں مبتلا کردیں۔ اس حکم کا مطلب یہ ہے کہ دین کے حاصل کرنے میں احتیاط سے کام لینا چاہئے، نیز بدعتی اور ایسے لوگوں کی صحبت سے بچنا چاہئے جو ذاتی اغراض اور نفسانی خواہشات کی بنا پر دین و مذہب کی نام پر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اور ان سے ربط و ضبط نہ رکھنا چاہئے چوں بسا ابلیس آدم روئے ہست پس بہر دستے نباید داد دست
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ کَانَ اَھْلُ الْکِتَابِ ےَقْرَءُ وْنَ التَّوْرٰۃَ بِالْعِبْرَانِےَّۃِ وَےُفَسِّرُوْنَھَا بِالْعَرَبِےَّۃِ لِاَھْلِ الْاِسْلَامِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تُصَدِّقُوْا اَھْلَ الْکِتَابِ وَلَا تُکَذِّبُوْھُمْ وَقُوْلُوْا &&اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَےْنَا &&اَلْاٰےَۃِ (پ١رکوع١٤)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب تو رات کو عبرانی زبان میں پڑھا کرتے تھے (جو یہودیوں کی زبان ہے اور مسلمانوں کے لئے اس کی تفسیر عربی زبان میں کیا کرتے تھے سرکار دو عالم ﷺ نے ان کا یہ عمل دیکھ کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیهم سے فرمایا)۔ تم اہل کتاب کو نہ تو سچا جانو اور نہ ان کو جھٹلاؤ (صرف) یہ کہ کہو کہ ہم اللہ پر اور اس چیز پر جو ہم پر نازل کی گئی، ایمان لائے (آخر آیت تک)۔ (صحیح البخاری )
تشریح
پوری آیت یہ ہے آیت (قُوْلُوْ ا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَا اُنْزِلَ اِلٰ ى اِبْرٰھ مَ وَاِسْمٰعِيْلَ وَاِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَا اُوْتِيَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَا اُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْھُمْ ڮ وَنَحْنُ لَه مُسْلِمُوْنَ ) 2۔ البقرۃ 136) (مسلمانو! ) کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسمعیل اور اسحق اور یعقوب (علیہم السلام) اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو کتابیں موسیٰ اور عیسیٰ علیہما السلام کو عطا ہوئیں ان پر اور جو اور پیغمبروں کو ان کے پروردگار کی طرف سے ملیں ان (سب پر ایمان لائے) ہم ان پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (اللہ واحد) کے فرمانبردار ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ جب تمہارے سامنے اہل کتاب (یعنی یہودی) تو رات کی کسی عبارت کا ترجمہ و تفسیر کریں تو ان کو نہ جھٹلاؤ اور نہ ان کو سچ جانو بلکہ یہ آیت کریمہ پڑھو اور ان کو سچا اس لئے نہ جانو کہ یہ لوگ کتاب الہٰی میں تحریف کرتے رہتے ہیں۔ اس لئے ہوسکتا ہے کہ تمہارے سامنے جس عبارت کا ترجمہ و تفسیر کر رہے ہیں، اس کو انہوں نے بدل دیا ہو اور ان کو جھٹلاؤ اس لئے نہیں کہ اگرچہ انہوں نے تورات میں تغیر و تبدل کر رکھا ہے لیکن پھر بھی وہ کتاب ہے الہٰی ہے اور حق ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ شاید وہ سچ اور صحیح عبارت نقل کر رہے ہوں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَفٰی بِالْمَرْءِ کَذِبًا اَنْ ےُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ ۔ (مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا انسان کے جھوٹ بولنے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ جس بات کو سنے (بغیر تحقیق کے) اسے نقل کر دے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی جھوٹ نہ بولتا ہو لیکن اس کی عادت یہ ہے کہ جو کچھ سنے بغیر تحقیق و تفتیش کے اسے نقل کردیتا ہے اور لوگوں میں اسے مشہور کردیتا ہے تو جھوٹ بولنے کے یہی بہت ہے، کیونکہ سنی سنائی باتوں پر اعتماد کرلینا اور بغیر تحقیق کے اس کو پھیلا دینا جھوٹ کا پہلا زینہ ہے، جو آدمی ایسی عادت میں مبتلا ہوگا وہ یقینا جھوٹ کی لعنت میں گرفتار ہوگا کیونکہ وہ جو کچھ سنتا ہے اس میں سب سچ نہیں ہوتا کچھ جھوٹ بھی ہوتا ہے اور جب وہ سچ کے ساتھ جھوٹ کو نقل کرتا ہے تو وہ بھی جھوٹ ہوتا ہے۔ دراصل اس کا مقصد اس بات سے منع کرنا ہے کہ جس چیز کی حقیقت معلوم نہ ہو اور اس کی صداقت کا علم نہ ہو تو اسے بیان کرنا یا اس کی تشہیر کرنا نہیں چاہیے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ نَّبِیٍّ بَعَثَہُ اللّٰہُ فِیْ اُمَّتِہٖ قَبْلِیْ اِلَّا کَانَ لَہُ فِیْ اُمَّتِہٖ حَوَارِےُّوْنَ وَاَصْحٰبٌ ےَّاخُذُوْنَ بِسُنَّتِہٖ وَےَقْتَدُوْنَ بِاَمْرِہٖ ثُمَّ اِنَّھَا تَخْلُفُ مِنْ بَعْدِھِمْ خُلُوْفٌ ےَّقُوْلُوْنَ مَالَا ےَفْعَلُوْنَ وَےَفْعَلُوْنَ مَا لَا ےُؤْمَرُوْنَ فَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِےَدِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِلِسَانِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَمَنْ جَاھَدَھُمْ بِقَلْبِہٖ فَھُوَ مُؤْمِنٌ وَلَےْسَ وَرَآءَ ذَالِکَ مِنَ الْاِےْمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍٍ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ مجھ سے پہلے کسی قوم میں اللہ نے کوئی نبی ایسا نہیں بھیجا جس کے مددگار اور دوست اسی قوم سے نہ ہوں جو اسی (نبی) کے طریقہ کو اختیار کرتے اور اس کے احکام کی پیروی کرتے پھر ان (دوست و مدوگار) کے بعد ایسے نا خلف (نالائق) لوگ پیدا ہوتے جو لوگوں سے ایسی بات کہتے جس کو خود نہ کرتے اور وہ کام کرتے جن کا انہیں حکم نہیں ملا تھا (جیسا کہ علماء سوء اور امراء و سرداروں کا طریقہ ہے) لہٰذا (تم سے)۔ جو خاص لوگوں سے اپنے ہاتھ سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو آدمی ان لوگوں سے اپنی زبان سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور جو آدمی ان لوگوں سے اپنے دل سے جہاد کرے وہ مومن ہے اور اس کے علاوہ (جو آدمی ان کے خلاف اتنا بھی نہ کرسکے اس) میں رائی برابر بھی ایمان نہیں ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ہاتھ سے جہاد کا مطلب تو ظاہر ہے زبان سے جہاد کے معنی یہ ہیں کہ لوگوں کے غلط عقائد و اعمال کی بنا پر ان کو تنبیہ کرے اور ان کو اس سے منع کرے اور ان کی برائی بیان کرتا رہے اسی طرح دل سے جہاد کے معنی یہ ہیں کہ ایسی غلط چیزوں کو برا جانے جو دین و شریعت کے خلاف ہوں اور دل میں ان کے کرنے والوں سے بغض و نفرت رکھے۔ آخر میں فرمایا گیا کہ جس آدمی کا احساس اتنا مردہ ہوجائے کہ وہ غلط چیزوں کو دل سے بھی برا نہ جانے تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اس کے دل میں ایمان کی ہلکی سی روشنی بھی موجود نہیں ہے اس لئے کہ کسی غلط عقیدہ و عمل کو برا نہ جاننا گویا اس بات کا اظہار کرنا ہے کہ وہ اس بری بات سے راضی اور خوش ہے اور ظاہر ہے کہ یہ کفر کا خاصہ ہے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ دَعَا اِلٰی ھُدًی کَانَ لَہُ مِنَ الْاَجْرِ مِثْلُ اُجُوْرِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اُجُوْرِھِمْ شَےْئًا وَّمَنْ دَعَا اِلٰی ضَلَالَۃٍ کَانَ عَلَےْہِ مِنَ الْاِثْمِ مِثْلَ اٰثَامِ مَنْ تَبِعَہُ لَا ےَنْقُصُ ذَلِکَ مِنْ اٰثَامِھِمْ شَےْئًا ۔ (مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے (کسی کو) ہدایت کی طرف بلایا اس کو اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس کو جو اس کی پیروی اختیار کرے اور اس (پیروی کرنے والے) کے ثواب میں کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ اور جو (کسی کو) گمراہی کی طرف بلائے اس کو اتنا ہی گناہ ہوگا جتنا کہ اس کو جو اس کی اطاعت کریں اور ان کے گناہ میں کچھ بھی کم نہ ہوگا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یعنی جو آدمی کسی بھلائی کا باعث اور ذریعہ ہوگا اس کو بھی اتنا ہی ثواب ملے گا جتنا کہ اس بھلائی پر عمل کرنے والے کو، لیکن ہدایت و راستی کی طرف بلانے والے کو جو ثواب ملے گا اس کی وجہ سے اس کی پیروی کرنے والے کے ثواب میں کوئی کمی نہیں ہوگی، کیونکہ اطاعت کرنے والوں کو جو ثواب ملے گا اور ان کے عمل صالح بنا پر ہوگا اور جو ثواب و بھلائی کی طرف بلانے والے کو ہوگا وہ اس کی دعوت و تبلیغ کی بناء پر ہوگا۔ یہی حال ان لوگوں کے گناہ کا ہے جو لوگوں کو غلط عقائد و اعمال کے طرف بلاتے ہیں اور خلاف شرع طریقہ پر عوام کو چلاتے ہیں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَدَأَ الْاِسْلَامُ غَرِےْبًا وَسَےَعُوْدُ کَمَا بَدَأَفَطُوْبٰی لِلْغُرَبَآءِ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا اسلام غربت میں شروع ہوا اور آخر میں بھی ایسا ہی ہوجائے گا لہٰذا غرباء کے لئے خوشخبری ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اسلام کی ابتداء غربیوں سے ہوئی اور آخر میں بھی اسلام غریبوں میں ہی رہ جائے گا۔ یعنی ابتداء اسلام میں مسلمان غریب اور کم تھے جس کی وجہ سے انہیں اپنے وطن کو چھوڑ کر دوسرے ملکوں کی طرف ہجرت کرنی پڑی، اسی طرح آخر میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ اسلام غریبوں ہی کی طرف لوٹ آئے گا، لہٰذا ان غرباء کے لئے جن کے قلوب ایمان و اسلام کی روشنی سے پوری طرح منور ہوں گے خوش بختی وسعادت ہے۔ اس لئے کہ آخر زمانہ میں یہی بےچارے اسلام پر ثابت قدم رہیں گے اور کتاب و سنت کے علوم و معارف سے اپنی زندگیوں کو منور کریں گے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ الْاِیْمَانَ لَیَأْرِزُاِلَی الْمَدِیْنَۃِ کَمَا یَأْرِزُالْحَیَّۃُ اِلٰی جُحْرِھَا مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ وَ سَنَذْکُرُ حَدِیْثَ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ((ذَرُوْفِی مَاتَرَ کْتُکُمْ))فِی کِتَابِ الْمَنَاسِکِ وَ حَدِیْثَیْ مُعَاوِیَۃَ وَ جَابِرِ ((لَا یَزَالُ طَائِفَۃٌ مِّنْ اُمَّتِیْ)) فِیْ بَابِ ثَوَابِ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِ اِنْشَآءَ اﷲُ تَعَالیٰ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ ایمان مدینہ کی طرف اس طرح سمٹ آئے گا جس طرح سانپ بل کی طرف سمٹتا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) اور حضرت ابوہریرہ ؓ کی حدیث (ذرونی ماتر کتکم) ہم کتاب مناسک (حج) میں ذکر کریں گے نیز حضرت معاویہ ؓ و جابر کی دونوں حدیثیں (لایزال من امتی الخ) اور لا یزال طائفۃ من امتی۔ بھی اس امت کے ثواب کے باب میں ذکر کریں گے انشاء اللہ یعنی یہ حدیثیں صاحب مصابیح نے اسی باب میں ذکر کی تھیں لیکن ہم نے ان کو ان بابوں میں ذکر کیا ہے۔
تشریح
دشمنان اسلام کے مصائب اور مظالم سے اہل ایمان کے بھاگنے اور ایمان پر ثابت قدم رہنے کی مثال رسول اللہ ﷺ نے سانپ سے دی ہے اس لئے کہ دوسرے جانوروں کے مقابلہ میں سانپ تیز بھاگتا ہے اور بہت سمٹ کر بل میں جاتا ہے اور پھر مشکل ہی سے وہ بل سے نکالا جاتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی یہ پیشین گوئی یا تو ابتدائے ہجرت کے وقت کے لئے تھی یا پھر آخر زمانہ کے بارے میں جب مسلمان بہت کم رہ جائیں گے اور سب سمٹ سمٹا کر مدینہ چلے جائیں گے۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ رَبِیْعَۃَ الْجُرَشِیِّ رَضِیَ اﷲُ عَنْہُ قَالَ اُتِیَ نَبِیُّ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقِیْلَ لَہ، لِتَنَمْ عَیْنَکَ وَ لْتَسْمَعْ اُذُنُکَ وَلِیَعْقِلْ قَلْبُکَ قَالَ فَنَامَتْ عَیْنَایَ وَسَمِعَتْ اُذُنَایَ وَعَقَلَ قَلْبِیْ قَالَ فَقِیْلَ لِی سَیِّدٌ بَنٰی دَارًا فَصَنَعَ فِیْھَا مَأْدُبَۃً وَّاَرْسَلَ دَاعِیًا فَمَنْ اَجَابَ الدَّاعِیَ دَخَلَ الدَّارَوَاَکَلَ مِنَ الْمَأْدُبَۃِ وَرَضِیَ عَنْہُ السَّیِّدُ وَمَنْ لَمْ یُجِبِ الدَّاعِیَ لَمْ یَدْخُلِ الدَّارِ وَلَمْ یَاْکُلْ مِنَ الْمَأْدُبَۃِ وَسَخَطَ عَلَیْہِ السَّیَّدُ قَالَ فَاﷲُ السَّیِّدُ ، وَمُحَمَّدٌ الدَّاعِیْ وَالدَّارُ الْاِ سْلَامُ ، وَالْمَأْدُبَۃُ اَلْجَنَّۃُ۔ (رواہ الدارمی)
حضرت ربیعہ الجرشی ( آپ کا اسم گرامی ربیعۃ بن التمار ہے کچھ لوگوں نے انہیں ربیعہ بن عمرو بھی لکھا ہے ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے خرج راہط کے دن انتقال ہوا تھا)۔ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو خواب میں فرشتے دکھلائے گئے اور آپ ﷺ سے کہا گیا (یعنی فرشتوں نے کہا) چاہئے کہ آپ کی آنکھیں سوئیں، آپ ﷺ کے کان سنیں اور آپ ﷺ کا دل سمجھے، آپ ﷺ نے فرمایا تو میری آنکھیں سوئیں، میرے کانوں نے سنا اور میرے دل نے سمجھا، پھر آپ نے فرمایا کہ مجھ سے کہا گیا (یعنی مثال کے طور پر فرشتوں نے میرے سامنے بیان کیا) کہ ایک سردار نے گھر بنایا اور کھانا تیار کیا پھر ایک بلانے والے کو بھیجا (تاکہ وہ لوگوں کو بلائے) لہٰذا جس نے بلانے والے کی دعوت کو قبول کیا وہ گھر میں داخل ہوا اور کھانے میں سے کھایا اور سردار خوش ہوا اور جس نے بلانے والے کی دعوت کو قبول نہ کیا وه گھر میں داخل ہوا اور نہ کھانے میں سے کھایا اور نہ ہی اس سے سردار خوش ہوا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس مثال میں سردار سے مراد اللہ ہے، بلانے والے سے مراد محمد ﷺ ہیں، گھر مراد اسلام ہے اور کھانے سے مراد جنت ہے۔ (دارمی)
تشریح
چاہئے کہ آپ ﷺ کی آنکھیں سوئیں یعنی اپنی آنکھوں سے اور کچھ نہ دیکھئے، نہ کسی بات پر کان رکھئے اور نہ دل میں کوئی دوسرا سوال جمائیے فرشتوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خوب غور و خوض اور حضور دل کے ساتھ اس مثال کو سنیے جو ہم بیان کرنے والے ہیں تاکہ یہ خوب اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے جواب دیا کہ فنامت عینای یعنی میری آنکھیں سوئیں الخ، اسی مضمون کی وه حدیث جو پہلی فصل میں گزری اس کی مذکورہ مثال میں گھر سے جنت اور کھانے سے بہشت کی نعمتیں مراد لی گئی تھیں، اس حدیث میں گھر سے مراد اسلام لیا گیا ہے اور کھانے سے جنت مراد لی گئی ہے اس لئے کہ مکان بہشت میں داخل ہونے کا سبب اور ذریعہ ہے اس لئے اسے گھر کی تمثیل دی گئی ہے مادبۃ کے معنی مہمان کے کھانے کے ہیں، دونوں حدیث میں اس سے مراد جنت کی نعمتیں ہیں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنْ اَبِیْ رَافِعِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا اُلْفِیَنَّ اَحَدَکُمْ مُتَّکِئًا عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَاْتِیْہِ الْاَمْرُمِنْ اَمْرِیْ مِمَّا اَمَرْتُ بِہٖ اَوْنَھَیْتُ عَنْہُ فَیَقُوْلُ لَآ اَدْرِیْ مَاوَجَدْنَا فِی کِتَابِ اﷲِ اِتَّبَعْنَاہُ۔ (رواہ مسند احمد بن حنبل والجامع ترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ والبیہقی فی دلائل النبوۃ)
اور حضرت ابورافع ؓ (آپ کا اسم گرامی اسلم ہے ابورافع کنیت ہے یہ جنگ بدر میں شریک نہیں ہوسکے تھے علامہ سیوطی رحمه اللہ کے قول کے مطابق حضرت علی ؓ کے دور خلافت میں آپ کا انتقال ہوا ہے)۔ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا میں تم میں سے کسی کو اس حال میں نہ پاؤں کہ وہ اپنے چھپر کھٹ (مسہری) پر تکیہ لگائے ہوئے اور میرے ان احکام میں سے جن کا میں نے حکم دیا ہے یا جس سے منع کیا ہے کوئی حکم اس کے پاس پہنچے اور وہ (اسے سن کر) یہ کہہ دے کہ میں کچھ نہیں جانتا، جو کچھ ہمیں اللہ کی کتاب میں ملا ہم نے اس کی اطاعت کی۔ (مسند احمد بن حنبل، ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
چھپر کھٹ پر لگائے ہوئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ کوئی آدمی ازراہ غرور وتکبر بےفکر ہو کر بیٹھا نہ رہے اور نہ طالب علم و حصول حدیث میں کو تا ہی کرے اور نہ دینی علوم کو ترک کرے اور ازراہ جہالت و نادانی میرے کسی ایسے حکم کے بارے میں جو قرآن میں صراحت کے ساتھ موجود نہ ہو یہ نہ کہنے لگے کہ کتاب اللہ کے علاوہ میں اور کچھ نہیں جانتا اور نہ اس کے سوا کسی دوسری چیز کی پیروی کرتا ہوں اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے ان جاہل اور متکبر و بےفکرے لوگوں کے بارے میں پیشین گوئی فرمائی ہے جو ان احکام پر عمل کرنے میں شک و شبہ کا اظہار کریں گے یا ان کی اطاعت میں کسل و سستی کا اظہار کریں گے جو صراحت کے ساتھ قرآن میں موجود نہ ہوں گے اور ان کی ظاہر بین نظریں قرآنی علوم کے اسرار و معانی کی حقیقت تک پہنچنے سے قاصر رہیں گی۔ چنانچہ وہ لوگ یہ خیال کریں کہ دین و شریعت کے احکام و مسائل صرف قرآن ہی میں منحصر و مذکور ہیں حالانکہ وہ عقل کے اندھے یہ نہیں جانتے کہ بہت سے مسائل و احکام قرآن مجید میں موجود نہیں ہیں وہ صرف حدیث میں صراحت کے ساتھ ذکر کئے گئے ہیں، اسی لئے علماء اہل سنت والجماعت کا عقیدہ یہ ہے کہ جس طرح احکام شرائع کے لئے قرآن دلیل و حجت ہے اسی طرح حدیث بھی دلیل و حجت ہے کیونکہ جس طرح قرآن رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوا ہے، اسی طرح احادیث کے علوم و معارف بھی بارگاہ الوہیت ہی سے نازل ہوئے ہیں اور دونوں وحی ہیں۔
کتاب اور سنت کو مضبوطی سے پکڑنے کا بیان
وَعَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَربَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم ((اِلَا اِنِّیْ اُوْتِیْتُ الْقُرْاٰنَ وَمِثْلَہ، مَعَہ، اَلَا یُوْشِکُ رَجُلٌ شَبْعَانَ عَلٰی اَرِیْکَتِہٖ یَقُوْل: عَلَیْکُمْ بِھٰذَا الْقُرْاٰنِ& فَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَلَالَ فَاَحِلُّوْہُ وَمَاوَجَدْتُّمْ فِیْہِ مِنْ حَرَامِ فَحَرِّمُوْہُ& وَاِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَمَا حَرَّمَ اﷲُ أَلاَ لاَ یَحِلًّ لَکُمُ الْحِمَارُ الْاَھْلِیُّ وَلَا کُلُّ ذِیْ نَاْبِ مِنَ السِّبَاعِ وَلَا لُقْطَۃُ مُعَاھِدِ اِلا اَنْ یَّسْتَغْنِیَ عَنْھَا صَاحِبُھَا وَمَنْ نَزَلَ بِقَوْمِ فَعَلَیْھِمْ اَنْ یَّْقُرْوُہ فَاِنْ لَّمْ یَقْرُوْہُ فَلَہ،ۤ اَنْ یُعْقِبَھُمْ بِمِثْلِ قِرَاہُ)) رَوَاہُ اَبُوْدَا دَوَرَوَی الدَّرِامِیُّ نَحْوَہ، وَکَذَا ابْنُ مَاجَۃَ اِلٰی قَوْلِہٖ ((کَمَا حَرَّمَ اﷲُ))
اور حضرت مقدام بن معدیکرب ؓ (اسم گرامی مقدام بن معدیکرب اور کنیت بھی معدیکرب ہے، آپ صحابی ہیں شام میں ٨٧ ھ میں بعمر ٩١ سال آپ کا انتقال ہوا ہے۔ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آگاہ رہو! مجھے قرآن دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ اس کا مثل، خبردار، عنقریب اپنے چھپر کھٹ پر پڑا ایک پیٹ بھرا آدمی کہے گا کہ بس اس قرآن کو اپنے اوپر لازم جانو (یعنی فقط قرآن ہی کو سمجھو اور اس پر عمل کرو) اور جو چیز تم قرآن میں حلال پاؤ اس کو حلال جانو اور جس چیز کو تم قرآن میں حرام پاؤ اسے حرام جانو حالانکہ جو کچھ رسول اللہ ﷺ نے حرام فرمایا ہے وہ اس کے مانند ہے جسے اللہ نے حرام کیا، خبردار تمہارے لئے نہ اہلی (گھریلو) گدھا حلال کیا اور نہ کچلی رکھنے والے درندے اور نہ تمہارے لئے معاہد یعنی وہ قوم جس سے معاہدہ کیا گیا ہو کا لقطہ حلال کیا ہے جس کی پرواہ اس کے مالک کو نہ ہو اور جو شخص کسی قوم کا مہمان ہو اس قوم پر لازم ہے کہ اس کی مہمانی کریں۔ اگر وہ مہمانی نہ کریں تو اس آدمی کے لئے جائز ہے کہ وہ مہمانی کے مانند اس سے حاصل کرے۔ (ابوداؤد) دارمی نے بھی ایسی روایت نقل کی ہے اور اسی طرح حدیث بھی مجھے بارگاہ الوہیت سے عطا ہوئی ہے۔
تشریح
قرآن کا مثل حدیث ہے یعنی جس طرح قرآن مجید مجھ پر نازل کیا گیا ہے اسی طرح حدیث بھی مجھے بارگاہ الوہیت ہی سے عطا ہوئی ہے لیکن فرق یہی ہے کہ قرآن وحی ظاہر ہے اور حدیث وحی پوشیدہ۔ لہٰذا واجب العمل دونوں میں الا لا یحل سے بطور مثال کے آپ ﷺ نے فرمایا کہ ان چیزوں کی حرمت قرآن میں کہیں مذکور نہیں ہے میں نے ہی ان کی حرمت بیان کی ہے جس پر عمل کرنا واجب و ضروری ہے۔ اہلی گدھا اسے کہتے ہیں جو گھر میں رہتا ہے یہ حرام ہے گدھا وحشی جسے گورخر کہتے ہیں۔ ان سب کی حرمت احادیث ہی سے ثابت ہے معاہد اس کافر کو کہتے ہیں جس کے ساتھ مسلمانوں کا معاہدہ صلح وامان ہوا ہو، خواہ وہ کافر ہو یا غیر ذمی، اس کے بارے میں فرمایا کہ اس کا لقطہ حلال نہیں ہے، ہاں اگر لقطہ ایسی چیز ہے جس سے اس کا مالک بےنیاز و بےپرواہ ہو جیسے گٹھلی، چھلکے، گا جر، مولیٰ یا ایسی ہی کوئی حقیر چیز تو اس کے لئے لینا جائز ہے لقطہ اس چیز کو کہتے ہیں جو راستہ میں گری پڑی پائی جائے۔ آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جو آدمی کسی کے یہاں مہمان جائے تو میزبان پر اس کی مہمانداری لازم ہے علماء فرماتے ہیں کہ یہ حکم فرض نہیں ہے بلکہ ایسا کرنا مستحب و اولی ہے، اسی طرح یہ حکم دینا کہ اگر میزبان مہمان نوازی نہ کرسکے تو میزبان کے لئے جائز ہے کہ وہ اس میزبان سے مہمانداری کا عوض وصول کرلے یعنی اس سے روپیہ پیسہ لے۔ اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مسئلہ یا تو ایسی شکل میں جائز ہوا جب کہ مہمان ایسا مضطر ولا چار ہو کہ اگر میزبان سے وہ کچھ نہ لے تو اس کے ہلاک ہوجانے کا خطرہ ہو۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ جواز کا حکم ابتدائے اسلام میں تھا لیکن اب منسوخ ہے۔