Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 73 of 317

1441Mishkaat-al-Masabih

جذع کی قربانی

وَعَنْ مُجَا شِعٍ مِنْ بَنِی سُلَیْمٍ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یَقُوْلُ اِنَّ الْجَذْعَ یُوَفِّی مِمَّا یُوَفِّی مِنْہُ الثَّنِیَّ۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی و ابن ماجۃ)

قبیلہ بنی سیلم کے (ایک فرد) حضرت مجاشع راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ جذع (یعنی وہ دنبہ یا بھیڑ جس کی عمر چھ مہینے سے زیادہ ہو) کافی ہے اس بچے سے کہ کفایت کرے اس کو ثنی۔ (ابوداؤد، سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح کہ اس بکری کی قربانی جائز ہے جو ایک سال سے زیادہ کی ہو اسی طرح جزع کی قربانی بھی جائز ہے۔ ثنی بھی ایک اصلاحی لفظ ہے جو قربانی کے جانور کی عمر کے سلسلہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ چناچہ بکری میں ثنی وہ بکری کہلاتی ہے جو ایک سال پورا کر کے دوسرے سال میں داخل ہوچکی ہو۔ بیل اور گائے میں ثنی وہ ہے جو دو سال کر کے تیسرے سال میں ہو، اونٹ میں ثنی وہ ہے جو پانچ سال پورے کرنے کے بعد چھٹے سال میں داخل ہوچکا ہو۔

1442Mishkaat-al-Masabih

جذع کی قربانی

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ نِعْمَۃُ الْاَضْحِیَّۃُ الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ۔ (رواہ الترمذی )

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دنبہ کی جزع (یعنی چھ ماہ کے بچہ) کی قربانی بہتر ہے۔ (جامع ترمذی ) تشریح دنبہ کے جزع کی قربانی کی تعریف سے دراصل لوگوں کو یہ بتایا ہے کہ دنبہ کے چھ مہینہ کے بچہ کی قربانی جائز ہے بخلاف بکری کے جزع کی کہ اس کی قربانی درست نہیں۔

1443Mishkaat-al-Masabih

قربانی میں شرکت

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی سَفَرٍ فَحَضَرَ الْاَضْحٰی فَا شْتَرَکْنَا فِی الْبَقَرَۃِ سَبْعَۃً وَّفِی الْبَعِیْرِ عَشْرَۃً رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ النِّسَائِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ہم (ایک) سفر میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تھے کہ عید قربان آگئی، چناچہ گائے (کی قربانی) میں ہم سات آدمی اور اونٹ (کی قربانی) میں دس آدمی شریک ہوئے ( جامع ترمذی، سنن نسائی، ابن ماجہ) امام جامع ترمذی فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے تشریح اسحق ابن راہو یہ (رح) نے اس حدیث پر عمل کیا ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ قربانی کے لئے ایک اونٹ میں دس آدمیوں کو شریک ہوجانا چاہیے بلکہ تمام علماء کے نزدیک یہ اس حدیث کے ذریعہ منسوخ قرار دے دی گئی ہے جس میں یہ صراحت ہے کہ جس طرح گائے کی قربانی سات آدمیوں سے درست ہے اسی طرح اونٹ کی قربانی بھی سات آدمیوں کی طرف سے کی جاسکتی ہے۔

1444Mishkaat-al-Masabih

قربانی کی فضیلت

وَعَنْ عَآئِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا عَمَلَ ابْنُ اٰدَمَ مِنْ عَمَلٍ یَوْمً النَّحْرِاَحَبَّ اِلَی اﷲِ مِنْ اِھْرَاقِ الدَّمِ وَاِنَّہ، لِیَاتِی یُوْمَ الْقِیَامَۃِ بِقُرُوْنِھَا وَاَشْعَارِ ھَا وَاَظْلَا فِھَا وَاِنَّ الدَّمَ لَیَقَعُ مِنَ اﷲِ بِمَکَانٍ قَبْلَ اَنْ یَّقَعَ بِالْاَرْضِ فَطَیِّبُوْا بِھَا نَفْسًا۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ ابن آدم کا نحر (یعنی قربانی کے دن) ایسا کوئی عمل نہیں جو اللہ کے نزدیک خون بہانے (یعنی قربانی کرنے) سے زیادہ محبوب ہو اور (قربانی کا) وہ ذبح کیا ہوا جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور بالوں اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون قبل اس کے کہ زمین پر گرے (یعنی ذبح کرنے کے ارادہ کے وقت ہی) الٰہی میں قبول ہوجاتا ہے۔ لہٰذا تم اس کی وجہ سے (یعنی قربانی کر کے) اپنے نفس کو خوش کرو۔ (جامع ترمذی، ابن ماجہ) تشریح زین العرب فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ بقر عید کے دن سب سے افضل عبادت قربانی کے جانور کا خون بہانا ہے اور قربانی کا جانور قیامت کے روز اسی طرح آئے گا جس طرح کے دنیا میں قربانی سے پہلے بغیر کسی عیب کے تھا تاکہ وہ قربانی کرنے والے کے ہر ہر عضو کی طرف سے نعم البدل اور پل صراط پر اس کی سواری ہو۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جب تم نے یہ جان لیا کہ اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی قبول کرتا ہے اور اس کے بدلہ میں تمہیں بہت زیادہ ثواب سے نوازتا ہے تو قربانی کرنے کی وجہ سے تمہارے اندر کسی قسم کی کوئی تنگی یا کراہت پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ بلکہ اس عظیم خوشخبری کی وجہ سے تمہارے نفس کو مطمن اور تمہارے دل کو خوش ہونا چاہیے۔

1445Mishkaat-al-Masabih

عشرہ ذی الحجہ کی عبادتوں کی فضیلت

وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مِنْ اَیَّامٍ اَحَبُّ اِلَی اﷲِ اَنْ یُّتَعَبَّدَ لَہ، فِیْھَا مِنْ عَشْرِ ذِی الْحَجَّۃِ یَعْدِلُ صِیَامُ کُلِّ یَوْمٍ مِّنْھَا بِصِیَامِ سَنَۃٍوَقِیَامِ کُلِّ لَیْلَۃٍ مِّنْھَا بِقِیَامِ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ َو ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ اَسْنَادَہ، ضَعَیْفٌ۔

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا ایسا کوئی دن نہیں ہے کہ جس میں عبادت کرنا عشرہ ذی الحجہ سے زیادہ افضل ہو اس میں سے ہر دن کے روزے ایک سال کے روزوں کے برابر قرار دئیے جاتے ہیں اور اس میں ہر رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر قرار دی جاتی ہے (جامع ترمذی، ابن ماجہ) امام جامع ترمذی فرماتے ہیں کہ اس کی اسناد ضعیف ہیں۔ تشریح طلب یہ ہے کہ خدا کے نزدیک ان دنوں میں عبادت کرنا دوسرے دنوں میں عبادت کرنے سے زیادہ محبوب ہے خصوصاً قربانی کرنا دوسرے اعمال سے زیادہ افضل اور محبوب ہے۔ اور عشرہ ذی الحجہ کی فضیلت کے سلسلہ میں پوری وضاحت پہلی فصل میں گذر چکی ہے۔

1446Mishkaat-al-Masabih

بقر عید کی نماز سے پہلے قربانی درست نہیں

عَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِص قَالَ شَھِدْتُّ الْاَضْحٰی ےَوْمَ النَّحْرِ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمْ ےَعْدُ اَنْ صَلّٰی وَفَرَغَ مِنْ صَلٰوتِہٖ وَسَلَّمَ فَاِذَا ھُوَ ےَرٰی لَحْمَ اَضَاحِیْ قَدْ ذُبِحَتْ قَبْلَ اَنْ ےَّفْرُغَ مِنْ صَلٰوتِہٖ فَقَالَ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ ےُصَلِّیَ اَوْنُصَلِّیَ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَفِیْ رِوَاےَۃٍ قَالَ صَلَّی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ خَطَبَ ثُمَّ ذَبَحَ وَقَالَ مَنْ کَانَ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ ےُّصَلِّیَ فَلْےَذْبَحْ اُخْرٰی مَکَانَھَا وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ فَلْےَذْبَحْ بِاسْمِ اللّٰہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت جندب ابن عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں (ایک مرتبہ) عید قرباں میں جو نحر یعنی قربانی کا دن ہے رسول کریم ﷺ کے ہمراہ (عیدگاہ) حاضر ہوا، ابھی آپ ﷺ نے نماز اور خطبہ شروع نہیں فرمایا تھا) کہ کیا دیکھتے ہیں کہ قربانی کا گوشت رکھا ہے اور نماز پڑھنے سے پہلے ہی قربانی ہوگئی ہے، آپ نے فرمایا کہ جس نے قبل اس کے کہ نماز پڑھے، یا یہ فرمایا کہ قبل اس کے کہ ہم نماز پڑھیں (قربانی کا جانور) ذبح کردیا ہے اسے چاہیے کہ وہ اس کے بدلہ میں دوسرا جانور) ذبح کرے ایک اور روایت میں ہے کہ حضرت جندب ؓ نے فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بقر عید کے روز نماز اور خطبہ ارشاد فرمایا پھر (قربانی کا جانور) ذبح کیا اور فرمایا کہ جو آدمی قبل اس کے کہ نماز پڑھے، یا فرمایا کہ قبل اس کے کہ ہم نماز پڑھیں ذبح کیا تو اسے چاہیے کہ (نماز کے بعد قربانی کا جانور) اللہ کے نماز کے ساتھ ذبح کردے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

1447Mishkaat-al-Masabih

ایام قربانی

وَعَنْ نَافِعٍ اَنَّ ابْنَ عُمَرَ قَالَ اَلْاَضْحٰی یَوْمَانِ بَعْدَ یَوْمُ الْاَضْحٰی رَوَاہُ مَالِکٌ وَقَالَ بَلَغَنِیْ عَنْ عَلِیِّ بْنِ اَبِی طَالِبٍ مِثْلَہ،۔

اور حضرت نافع راوی ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے فرمایا بقر عید کے دن کے بعد قربانی کے دو دن ہیں۔ امام مالک نے یہ روایت نقل کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مجھے حضرت علی ابن ابی طالب کرم اللہ وجہہ، سے بھی اس قسم کی روایت پہنچی ہے۔ تشریح حضرت امام ابوحنیفہ، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہم اللہ تعالیٰ علیہم تینوں ائمہ کا عمل اسی حدیث پر ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ قربانی کا آخری وقت ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ حضرت امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ آخری وقت تیرہویں تاریخ تک رہتا ہے۔ یہ حدیث تینوں ائمہ کی مستدل اور حضرت امام شافعی (رح) پر حجت ہے۔

1448Mishkaat-al-Masabih

ایام قربانی

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ اَقَامَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِا لْمَدِیْنَۃِ عَشْرَ سِنِیْنَ یُضَحِّیَ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ میں دس سال قیام فرمایا اور (ہر سال قربانی) کرتے تھے۔ (جامع ترمذی ) تشریح قربانی واجب ہونے کی یہ سب سے بڑی دلیل ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر مداومت فرمائی اور ہمیشہ قربان کرتے رہتے۔

1449Mishkaat-al-Masabih

قربانی حضرت ابراہیم کی سنت ہے

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِی قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصَّوْفُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصَّوْفِ حَسَنَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)

اور حضرت زید ابن ارقم ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اصحاب نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ (یعنی ان کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا گائے اور بکری کی قربانی کرنے میں کہ جن کے بال ہوتے ہیں) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے (انہوں نے عرض کیا کہ صوف (یعنی دنبہ، بھیڑ اور اونٹ کی اون اور اس کے بدلہ میں کیا ثواب ملتا ہے؟ ) فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔ (احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)

1450Mishkaat-al-Masabih

عتیرہ کا بیان

عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لاَ فَرَعَ وَلَا عَتِےْرَۃَ قَالَ وَالْفَرَعُ اَوَّلُ نِتَاجٍ کَانَ ےُنْتَجُ لَھُمْ کَانُوْا ےَذْبَحُوْنَہُ لِطَوَاغِےْتِھِمْ وَالْعَتِےْرَۃُ فِیْ رَجَبٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا فرع اور عتیرہ (کی) اسلام میں (کوئی حقیقت) نہیں۔ ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں فرع جانور کا وہ پہلا بچہ ہے جو کافروں کے یہاں پیدا ہوتا ہے تو وہ اسے اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح ایام جاہلیت میں یہ طریقہ تھا کہ کسی کے ہاں جب جانور کے پہلا بچہ پیدا ہوتا تھا تو وہ اسے بتوں کے نام پر ذبح کرتا تھا۔ ابتداء اسلام میں بھی یہ طریقہ جاری رہا کہ مسمان اس بچہ کو اللہ کے نام پر ذبح کردیتے تھے مگر بعد میں اس طریقہ کو منسوخ قرار دے دیا گیا اور کفار کی مشابہت کے پیش نظر مسلمانوں کو اس سے منع کردیا گیا۔ عتیرہ کسے فرماتے ہیں؟ نیز ایام جاہیلت میں ایک رسم یہ بھی تھی کہ لوگ ماہ رجب کے پہلے عشرہ میں اپنے معبود کا تقرب حاصل کرنے کے ایک بکری ذبح کرتے تھے اسی کو عتیرہ کہا جاتا ہے۔ چناچہ ابتداء اسلام میں مسلمان بھی ایسا کرتے تھے مگر کافر تو اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے اور مسلمان اسے تقرب الی اللہ کا ذریعہ سمجھ کر اللہ کے نام پر ذبح کرتے تھے پھر بعد میں اسے بھی منسوخ قرار دے کر مسلمانوں کو اس سے منع کردیا گیا۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہ ممانعت اسی لئے تھی کہ وہ اسے اپنے بتوں کے نام پر ذبح کرتے تھے، اگر اللہ تعالیٰ کے نام پر ذبح کیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں لیکن صحیح مسئلہ یہ ہے کہ بت پرستوں کی مشابہت سے بچنے کے لئے یہ ممانعت عام ہے۔

1451Mishkaat-al-Masabih

عتیرہ کا بیان

عَنْ مِخْنفِ بْنِ سُلَیْمٍ قَالَ کُنَّا وَقُوْفًا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم بِعَرَفَۃَ فَسَمِعْتُہ، یَقُوْلُ یَاَیُّھَا النَّاسُ اِنَّ عَلَی کُلِّ اَھْلِ بَیْتٍ فِی کُلِّ عَامٍ اُضْحِیَّۃُ وَعَتَیْرَۃً ھَلْ تَدْرُوْنَ مَا لْعَتْیَرَہ، ھِیِ الَّتِی تُسَمُّوْنَھَا لرَّجَبِیَّۃُ رَوَاہُ التِّرْمِذِیِّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَ النِّسَائِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَقَالَ التِّرْمِذِیُّ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ ضَعِیْفُ الْاِسْنَادِ وَقَالَ اَبُوْدَاؤدَ وَ الْعَتِیْرَۃَ مَنْسُوْخَۃٌ۔

حضرت مخنف ابن سلیم ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول اکرم ﷺ کے ہمراہ (ایک حج کے موقعہ) میں کھڑے ہوئے تھے کہ میں نے سنا آپ ﷺ فرماتے تھے۔ لوگو! ہر گھر والے پر ہر سال قربانی کرنا اور عتیرہ کرنا واجب ہے اور تم جانتے ہو عتیرہ کیا ہے؟ عیترہ وہ ہے جسے تم رجبیہ کہتے ہو ( جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) امام ترمذی (رح) نے فرمایا کہ یہ حدیث غریب اور ضعیف الا سناد ہے نیز امام ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ عتیرہ منسوخ قرار دیا جا چکا ہے۔ (یہ اب جائز نہیں ہے)

1452Mishkaat-al-Masabih

تنگ دست پر قربانی واجب نہیں

عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍ وَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَمِرْتُ بِیَوْمِ الْاَضْحٰی عِیْدًا جَعَلَہُ اﷲُ لِھٰذِہِ الْاُمَّۃِ قَالَ لَہُ رَجُلٌ یَا رَسُوْلَ اﷲِ اَرَأَیْتَ اِنْ لَّمْ اَجِدْ اِلَّا مَنِیْحَۃً اُنْثٰی اَفَاُضَحِّیَ بِھَا قَالَ لَا وَلٰکِنْ خُذْ مِنْ شَعْرِکَ وَاَظْفَارِکَ وَتَقُصُّ شَارِبکَ وَتَحْلِقُ عَانَتَکَ فَذَالِکَ تَمَامٌ اُضْحِیَتُکَ عِنْدَ اﷲِ ۔ (رواہ ابوداؤد و السنن نسائی )

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں بقرہ عید کے دن کو عید قرار دوں اور اللہ تعالیٰ نے اس دن کو اس امت کے لئے عید مقرر فرمایا ہے۔ ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے یہ بتائیے کہ اگر مجھے ماہ منیحہ کے علاوہ اور (جانور) میسر نہ ہو تو کیا میں اسی کو قربانی کرلوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں! ہاں تم اپنے بال بنوالو اپنے ناخن ترشوالو، لبوں کے بال کتروالو اور زیر ناف کے بال صاف کرلو، اللہ کے نزدیک تمہاری یہی قربانی ہوجائے گی یعنی تمہیں قربانی کی مانند ثواب مل جائے گا۔ (ابوداؤد سنن نسائی ) تشریح منیحہ منح سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں عطاء و بخشش، اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ وہ ازراہ ِ ہمدردی و احسان اپنی کوئی دودھ و الی اونٹنی محتاجوں کو دے دیا کرتے تھے تاکہ وہ اس کے دودھ، اون اور اس کے بچوں سے اپنی ضرورت و احتیاج کے وقت تک فائدہ اٹھائے اور جب ان کی ضرورت و حاجت پوری ہوجائے تو اسے واپس کردیں۔ چناچہ ان صحابہ کے پاس اسی قسم کا کوئی جانور تھا جو انہیں کسی نے ضرورت و حاجت کے پیش نظر دیا تھا انہوں نے بقر عید میں اسی جانور کی قربانی کی اجازت چاہی تو رسول اللہ ﷺ نے منع فرما دیا۔ کیونکہ اول تو قاعدہ کے مطابق اپنی ضرورت کے بعد وہ جانور انہیں اصل مالک کو واپس کرنا تھا۔ دوسرے اس جانور کے علاوہ ان کے پاس ایسا اور کوئی ذریعہ نہیں تھا جس سے وہ اپنی ضروریات پوری کرتے۔ لہٰذا حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قربانی تنگ دست و غریب پر واجب ہے۔ جمہور علماء کا قول یہ ہے کہ تنگدست کے لئے قربانی کرنا مستحب ہے، مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ قربانی صرف اس آدمی پر واجب ہے جو نصاب کا مالک ہو۔

1453Mishkaat-al-Masabih

نماز خسوف کا بیان

مشہور اہل لغت اہل علم کا قول یہ ہے کہ خسوف چاند گرہن کو فرماتے ہیں کہ کسوف سورج گرہن کو۔ اس باب میں جتنی احادیث نقل کی جائیں گی سب کی سب سورج گرہن سے متعلق ہیں۔ ہاں صرف ایک حدیث جو پہلی فصل کی دوسری حدیث ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ چاند گرہن سے متعلق ہے لہٰذا مولف مشکوٰۃ کے لئے بہتر یہ تھا کہ وہ اس باب کا نام الصلوٰۃ الخسوف کی بجائے باب صلوٰۃ الکسوف رکھتے۔ بعض علماء نے لفظ کسوف دونوں جگہ استعمال کیا ہے سورج گرہن میں بھی چاند گرہن میں بھی، اسی طرح بعض حضرات نے لفظ خسوف کو بھی دونوں جگہ استعمال کیا ہے۔ سورج گرہن کی نماز بالا تفاق جمہور علماء کے نزدیک مسنون ہے۔ حنفیہ کے نزدیک سورج گرہن کی نماز دو رکعت باجماعت بغیر خطبہ کے ہے۔ چاند گرہن کی نماز میں دو رکعت ہے مگر اس میں جماعت نہیں ہے بلکہ ہر آدمی الگ الگ یہ نماز پڑھے حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک دونوں میں جماعت اور خطبہ ہے۔

1454Mishkaat-al-Masabih

سورج گرہن کے وقت رسول اللہ کی نماز

عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہاقَالَتْ اِنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَعَثَ مُنَادِےًا اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰی اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِیْ رَکْعَتَےْنِ وَاَرْبَعَ سَجَدَاتٍ قَالَتْ عَآئِشَۃُ مَا رَکَعْتُ رُکُوْعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُّ سُجُوْدًا قَطُّ کَانَ اَطْوَلَ مِنْہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ مبارک میں (ہجرت کے بعد ایک مرتبہ) سورج گرہین ہوا چناچہ آپ ﷺ نے ایک منادی والے کو (لوگوں کے درمیان) بھیجا کہ وہ منادی کر دے کہ الصلوٰۃ جامعۃ یعنی نماز جمع کرنے والی ہے چناچہ ( جب لوگ جمع ہوگے تو) آپ ﷺ آگے بڑھے اور دو رکعت نماز پڑھائی جن میں چار رکوع کئے اور چار سجدے کئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ (جتنے طویل رکوع اور سجدے میں نے اس دن نماز خسوف میں کئے) اس سے زیادہ طویل میں نے نہ کبھی رکوع کیا اور نہ کبھی سجدہ کیا۔ ( صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح نماز خسوف میں لوگوں کو جمع کرنے کے لئے الصلوٰۃ جامعۃ پکار کر کہنا سنت ہے خاص طور پر جب کہ لوگ اس نماز کے لئے جمع نہ ہوئے ہوں۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ نماز جماعت کے ساتھ جامع مسجد میں یا عید گاہ میں پڑھی جائے نیز یہ نماز اوقات مکروہہ میں نہ پڑھی جائے۔ فصلی اربع رکعات الخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے کئے یعنی ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے کئے لیکن امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں دوسری نمازوں کی طرح اس نماز میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع ہے ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جن سے ایک ہی رکوع کرنا ثابت ہے بلکہ اس باب میں ایک حدیث قولی بھی منقول ہے اور یہ کلمہ ہے کہ جہاں قول اور فعل ثابت ہوتے ہیں تو فعل پر قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔

1455Mishkaat-al-Masabih

نماز خسوف کی قراءت

وَعَنْھَا قَالَتْ جَھَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ صَلٰوۃِ الْخُسُوْفِ بِقِرَآتِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں یہ رسول اللہ ﷺ نے نماز خسوف یعنی چاند گرہن کی نماز میں قرأت بآواز بلند پڑھی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

1456Mishkaat-al-Masabih

سورج گرہن کا حقیقی سبب

وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ مَعَہُ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا نَّحْوًا مِّنْ قِرَآءَ ِۃ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِےَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرَّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا وَّھُوَ دُوْنَ الْقِےَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَہُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعاً طَوِیْلاًوَہُوَ دُوْنَ الرَّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰےَتَانِ مِنْ اٰےَاتِ اللّٰہِ لاَ ےَخْسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَےٰوتِہٖ فَاِذَا رََاَےْتُمْ ذَالِکَ فَاذْکُرُواللّٰہَ قَالُوْا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ رَاَےْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَےْئًا فِیْ مَقَامِکَ ھٰذَا ثُمَّ رَاَےْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ فَقَالَ اِنِّیْ رَاَےْتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْھَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ اَخَذْتُہُ لَاَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِےَتِ الدُّنْےَا وَرَاَےْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَ کَالْےَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ اَفْظَعَ وَرَاَےْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَآءَ فَقَالُوْا بِمَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُفْرِھِنَّ قِےْلَ ےَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ قَالَ ےَکْفُرْنَ الْعَشِےْرَ وَےَکْفُرْنَ الْاِحْسَانَ لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَےْئًا قَالَتْ مَا رَاَےْتُ مِنْکَ خَےْرًا قَطُّ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم )

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ( اس طرح) نماز پڑھی کہ سورت بقرہ کی قرأت کی بقدر طویل قیام فرمایا (یعنی اتنی دیر تک قیام میں کھڑے رہے جتنی دیر تک سورت بقرہ پڑھی جاسکتی ہے) پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا، رکوع بھی اتنا طویل تھا، رکوع سے سر اٹھایا اور بڑی دیر تک کھڑے رہے لیکن یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر (دوبارہ) رکوع کیا، یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر کھڑے ہوئے اور سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوئے اور بہت طویل قیام کیا مگر یہ قیام پہلی رکعت کے قیام سے کم تھا، پھر رکوع میں گئے یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر کھڑے اور دیر تک کھڑے رہے مگر یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع میں گئے یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم پھر کھڑے ہوئے اور سجدہ کیا اس کے بعد (یعنی التحیات اور سلام کے بعد) نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہوچکا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں! یہ نہ کسی مرنے کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کے پیدا ہونے کی وجہ سے جب تم یہ دیکھو کہ (یہ گرہن میں آگئے ہیں) تو اللہ کی یاد میں مشغول ہوجاؤ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ! ( نماز کے دوران) ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنی جگہ سے کسی چیز کو لینے کا ارادہ کیا پھر ہم نے آپ ﷺ کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا (جب تم نے مجھے کسی چیز کے لینے کیلئے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا تو اس وقت) میں نے جنت کو دیکھا تھا اور اس میں سے خوشہ انگور لینے کا ارادہ کیا تھا، اگر میں خوشہ انگور لے لیتا تو بلا شبہ تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے اور جب تم نے مجھے پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تھا (اس وقت) میں نے دوزخ دیکھی تھی (اس کی گرمی کے پہنچنے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گیا تھا) چناچہ آج کے دن کی طرح کسی دن میں نے ایسی ہو لناک جگہ کبھی نہیں دیکھی اور دوزخ میں میں نے زیادہ عورتیں ہی دیکھی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کس وجہ سے؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ان کے کفر کی وجہ سے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا عورتیں اللہ کے کفر میں مبتلا ہیں۔؟ فرمایا نہیں بلکہ وہ شوہروں کی نعمتوں اور احسان کا کفران کرتی ہیں (یعنی شوہروں کی ناشکر و نافرمائی کرتی ہیں اور کسی کا احسان نہیں مانتیں) چناچہ تم ان میں سے کسی کے ساتھ مدتوں تک بھلائی کرتے رہو مگر جب کبھی وہ کسی چیز کو اپنی مرضی کے خلاف پائے گی تو یہی کہے گئے کہ میں نے کبھی تمہارے یہاں بھلائی نہیں دیکھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح آیتان من ایت اللہ کا مطلب یہ ہے کہ سورج و چاند اللہ کی الوہیت اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے اس بات کی دو نشانیاں ہیں کہ یہ دونوں رب قدوس کے تابعدار اور فرمانبردار پیدا کئے گئے ہیں انہیں اپنی طرف سے کسی کو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت تو کیا ہوتی ہے ان میں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ اپنے اندر کسی قسم کے پیدا ہوئے نقصان اور عیب کو ختم کرسکیں۔ لہٰذا کیسے بد عقل و کند فہم اور کور بخت ہیں وہ لوگ جو اس چیز کا مشاہدہ کرتے ہوئے چاند و سورج کو معبود قرار دیتے ہیں ان کے سامنے اپنی پیشانی جھکاتے ہیں؟ اس کے بعد آپ ﷺ نے اہل جاہلیت کے اس عقیدہ کو ختم فرمایا کہ کس عظیم حادثہ مثلاً کسی بڑی آدمییت کے مرنے اور وباء عام یعنی قحط وغیرہ کی وجہ سے سورج و چاند گرہن میں آتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے آگاہ فرمایا کہ یہ خیالات باطل اور اعتقادات فاسد ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ ان دونوں کو گرہن میں مبتلا کر کے صرف اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔ فاذکروا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ چاند و سورج گرہن کے وقت اگر نماز کے وقت مکروہ نہ ہوں تو کسوف و خسوف کی نماز پڑھو اور اگر اوقات مکروہ ہوں تو پھر نماز نہ پڑھو بلکہ پروردگار کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر نیز استغفار میں مشغول ہوجاؤ۔ لیکن یہ بات جان لو کہ یہ حکم امراستحبابی کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے کیونکہ نماز کسوف و خسوف واجب نہیں ہے۔ بلکہ بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک سنت ہے۔ رہتی دنیا تک کھاتے یعنی جیسا کہ بہشت کے میووں کی خاصیت ہے، انگور کے اس خوشہ میں سے جو دانہ کھاتے اس کی جگہ دوسرا دانہ پیدا ہوجاتا اسی طرح وہ خوشہ رہتی دنیا تک چلتا رہتا۔ جنت کے اس خوشہ انگور کو رسول اللہ ﷺ کے نہ لینے کا سبب یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ اسے لئے لیتے اور لوگ اسے کچھ لیتے تو ایمان بالغیب کی کوئی حقیق و اہمیت باقی نہ رہ جاتی۔

1457Mishkaat-al-Masabih

سورج گرہن کا حقیقی سبب

وَعَنْ عَآئِشَۃَ رضی اللہ عنہا نَحْوَ حَدِےْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَّقَالَتْ ثُمَّ سَجَدَ فَاَطَالَ السُّجُوْدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَےْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰےَتَانِ مِنْ اٰےَاتِ اللّٰہِ لَا ےَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَّلَا لِحَےٰوتِہٖ فَاِذَا رَأَےتُمْ ذَالِکَ فَادْعُوْاللّٰہَ وَکَبِّرُوْا وَصَلُّوْاوَتَصَدَّقُوْا ثُمَّ قَالَ ےَا اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَاللّٰہِ مَا مِنْ اَحَدٍ أَغْےَرُ مِنَ اللّٰہِ اَنْ ےَّزْنِیَ عَبْدُہُ اَوْ تَزْنِیَ اَمَتُہُ ےَا اُمَّۃَمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَّاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِےْلًا وَّلَبَکَےْتُمْ کَثِےْرًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے (بھی) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت منقول ہے چناچہ انہوں نے یہ (بھی) فرمایا ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ سجدہ میں گئے تو بڑا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہوئے تو (آفتاب) روشن ہوچکا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے (لوگوں کے سامنے) خطبہ ارشاد فرمایا چناچہ (پہلے) آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، نہ تو کسی کی موت کی وجہ انہیں گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے چناچہ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا مانگو، تکبیر کہو اور نماز پڑھو نیز اللہ کی راہ میں خیرات کرو۔ پھر فرمایا کہ اے امت محمد ﷺ! قسم ہے پروردگار کی اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ جب کہ اس کا کوئی بندہ زنا کرتا ہے یا اس کی کوئی بندی زنا میں مبتلاء ہوتی ہے اور اے امت محمد ﷺ! قسم ہے خد ا کی، اگر تم لوگ وہ چیز جان لو جو میں جانتا ہوں (یعنی یوم آخرت کی ہو لنا کی اور پروردگار کا غضب) تو اس میں کوئی شک نہیں تمہارا ہنسنا کم اور تمہارا رونا زیادہ ہوجائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس روایت میں سجدہ کی طولات، خطبہ، دعا، تکبیر، نماز اور خیرات کرنے کا ذکر و حکم اور حدیث کے آخری الفاظ مزید منقول ہیں جب کہ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی روایت میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ غیرت کے اصل معنی ہیں اپنے حق میں کسی غیر کی شرکت کو برا جاننا۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کا مطلب ہے اپنے احکام میں بندوں کی نافرمانی اور امرو نہی کے خلاف کرنے کو برا جاننا۔ ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ یا اس کی کوئی بندی جب زنا میں مبتلا ہوتی ہے تو اس معاملہ میں تمہیں جتنی غیرت محسوس ہوتی ہے اور ان دونوں سے تمہیں جتنی نفرت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی غیرت اس سے کہیں زیادہ شدید اور اس کی نفرت تمہاری نفرت سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔

1458Mishkaat-al-Masabih

گرہن کے وقت آنحضرت ﷺ کی کیفیت

اور حضرت ابوموسی ؓ فرماتے ہیں کہ (جب) سورج گرہن ہو تو رسول اللہ ﷺ گھبرائے ہوئے کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ پر ایسا خوف طاری ہوا جیسے قیامت ہوگئی ہو۔ چناچہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور طویل قیام و رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھی میں نے اس طرح کبھی آپ ﷺ کو (اتنا طویل قیام و رکوع اور سجود) کرے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ نہ تو کسی کے مرنے کے سبب سے ( ظاہر ہوتی) ہیں اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے، ہاں اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہٰذا جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کا ذکر کرنے، اس سے دعا مانگنے اور استغفار کرنے میں مصروف ہوجاؤ۔ (صحیح مسلم صحیح البخاری تشریح الفاظ یخشی ان تکون الساعۃ دراصل راوی نے بطریق تمثیل استعمال کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس موقع پر اس طرح گھبرائے ہوئے اور خوف زدہ تھے جیسا کہ کوئی آدمی قیامت شروع ہوجانے پر گھبرا جائے اور خوف زدہ ہوجائے۔ آپ ﷺ کا یہ خوف اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھے ہوں کہ قیامت شروع ہوگئی ہے چونکہ آپ ﷺ پوری طرح جانتے تھے کہ جب تک کہ میں لوگوں میں موجود ہوں قیامت نہیں آسکتی۔ بہر حال، رسول اللہ ﷺ اللہ کی نشانیوں کے ظہور مثلاً سورج و چاند گرہن، زلزے، آندھی و طوفان اور چمک و کڑک کے وقت جو گھبراتے اور ڈرتے تھے تو اس میں صرف زمین کے اوپر بسنے والے انسانوں کی شفقت کا جذبہ کار فرما تھا چناچہ آپ ﷺ اپنی ذات کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا والوں کی طرف سے خوف زدہ ہوجایا کرتے تھے کہ کہیں یہ اپنے دامن میں دنیا والوں کی تباہی و بربادی کا پیغام نہ لئے ہو اور اس صورت میں لوگوں پر اللہ کا عذاب نازل نہ ہوجائے۔ وقال ھذہ الا یات کا مطلب یہ ہے کہ چاند و سورج گرہن ہونا، زلزلوں اور آندھی اور طوفانوں کا آنا اور بجلی کی کڑک وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور انسانوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ دیکھو میں تغیر حالت، قسمت کے چھین لینے اور عذاب نازل کرنے پر کیسا قادر ہوں؟

1459Mishkaat-al-Masabih

نماز کسوف میں رکوع و سجود کی تعداد

عَنْ جَابِرٍص قَالَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ مَاتَ اِبْرٰھِےْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ بِاَرْبَعِ سَجَدٰتٍ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جس دن رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا سورج گرہن ہوا، چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ نماز پڑھائی۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت ابر اہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے ٨ ھ میں پیدا ہوئے تھے اور ١٠ ھ میں حالت شیر خوارگی میں وفات پاگئے تھے، ان کی عمر صرف اٹھارہ مہینے یا اس سے کچھ زیادہ ہوئی تھی۔ جس دن ان کا انتقال ہوا اس دن سورج کو گرہن لگا۔ چناچہ لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ان کی وفات ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس کی رسول اللہ ﷺ نے تردید فرمائی جیسا کہ گذشتہ روایتوں میں معلوم ہوچکا ہے۔ چھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں تین تین رکوع اور دو دو سجدے کئے۔ جیسا کہ اس باب کی احادیث میں اس نماز کے رکوع کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے ان احادیث کو ترجیح دی ہے جن میں ہر رکعت میں صرف ایک رکوع کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اصل یہی ہے کہ ہر رکعت میں ایک رکوع ہو بلکہ اس بارے میں قولی اور فعلی دونوں طرح کی احادیث منقول ہیں۔ پھر یہ کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کی مستدل روایت کے علاوہ حضرت امام شافعی (رح) اور دوسرے اکثر اہل علم حضرات کے یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ اگر گرہن دیر تک رہے تو یہ جائز ہے کہ ہر رکعت میں تین یا چار یا پانچ رکوع بھی کئے جاسکتے ہیں۔

1460Mishkaat-al-Masabih

نماز کسوف میں رکوع و سجود کی تعداد

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمحِےْنَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ فِیْ اَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَّعَنْ عَلِیٍّ مِّثْلُ ذَالِکَ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ اس طرح پڑھائی کہ ہر رکعت میں چار چار رکعت اور دو دو سجدے کئے) اور اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ ؓ سے بھی منقول ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح وعن علی مثل ذلک کا مطلب یہ ہے کہ یا تو حضرت علی المرتضیٰ ؓ نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح نماز ادا فرمائی یا پھر یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے بھی اس طرح نماز ادا فرمائی۔