Mishkaat-al-Masabih 1449

قربانى کا بیان

1449Mishkaat-al-Masabih

قربانی حضرت ابراہیم کی سنت ہے

وَعَنْ زَیْدِ بْنِ اَرْقَمَ قَالَ قَالَ اَصْحَابُ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَا رَسُوْلَ اﷲِ مَا ھٰذِہِ الْاَضَاحِی قَالَ سُنَّۃُ اَبِیْکُمْ اِبْرَاھِیْمَ عَلَیْہِ السَّلَامُ قَالُوْا فَمَا لَنَا فِیْھَا یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ حَسَنَۃٌ قَالُوْا فَالصَّوْفُ یَا رَسُوْلَ اﷲِ قَالَ بِکُلِّ شَعْرَۃٍ مِّنَ الصَّوْفِ حَسَنَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابن ماجۃ)

اور حضرت زید ابن ارقم ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے اصحاب نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے باپ ابراہیم (علیہ السلام) کا طریقہ (یعنی ان کی سنت ہے۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! پھر اس میں ہمارے لئے کیا ثواب ہے؟ فرمایا گائے اور بکری کی قربانی کرنے میں کہ جن کے بال ہوتے ہیں) ہر بال کے بدلہ ایک نیکی ہے (انہوں نے عرض کیا کہ صوف (یعنی دنبہ، بھیڑ اور اونٹ کی اون اور اس کے بدلہ میں کیا ثواب ملتا ہے؟ ) فرمایا اون کے ہر بال کے بدلے میں ایک نیکی۔ (احمد بن حنبل، سنن ابن ماجہ)