عذر کی وجہ سے عیدین کی نماز شہر کی مسجد میں پڑھی جا سکتی ہے
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّہُ اَصَابَھُمْ مَطْرٌ فِی یَوْمِ عِیْدٍ فَصَلَّی بِھِمُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلاۃَ الْعِیْدِ فِی الْمَسْجِدِ۔ (رواہ ابوداؤد و ابن ماجہ)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ (ایک مرتبہ) عید کے دن بارش ہونے لگی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کو مسجد میں نماز پڑھائی۔ ( ابوداؤد، سنن ابن ماجہ)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ عیدین کی نماز شہر سے باہر جنگل میں ادا فرماتے تھے مگر جب بارش ہوتی تو آپ ﷺ مسجد نبوی ہی میں نماز پڑھ لیتے تھے۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ عیدین کی نماز جنگل میں (یعنی عیدگاہ میں) ادا کرنا افضل ہے۔ ہاں کوئی عذر پیش آجائے تو پھر شہر کی مسجد میں ادا کی جاسکتی ہے۔ اس سلسلہ میں اہل مکہ کے لئے مسئلہ یہ ہے کہ وہ عیدین کی نماز مسجد حرام ہی میں ادا کریں جیسا کہ آجکل عمل ہے اسی طرح اہل مدینہ بھی عیدین کی نماز مسجد نبوی ہی میں پڑھتے ہیں۔
عیدین کی نماز تاخیر سے اور بقر عید کی نماز جلدی پڑھ لینی چاہیے
وَعَنْ اَبِی الْحُوَیْرِثِ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم کَتَبَ اِلَی عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَھُوَ بِنَجْرَانَ عَجِلٍّ الْاَضْحٰی وَاَخِّرِ الْفِطْرَ وَ ذَکِّرِ النَّاسَ۔ (رواہ الشافعی)
اور حضرت ابی الحویرث ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو بن حز کو جو نجران میں تھے یہ (حکم لکھ کر بھیجا کہ بقر عید کی نماز جلدی اور عید کی نماز تاخیر سے ادا کرو نیز (خطبہ میں) لوگوں کو پند و نصیحت کرو۔ (شافعی)
تشریح
نجران ایک شہر کا نام ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت عمرو ابن حزم کو وہاں کا عامل بنا کر بھیجا تھا جب کہ ان کی عمر صرف سترہ سال تھی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں یہ احکام لکھ کر بھیجے تھے تاکہ وہ اس پر عمل کریں۔ بقر عید کی نماز جلدی ادا کرلینے کے لئے اس واسطے فرمایا تاکہ لوگ نماز سے جلدی فارغ ہو کر قربانی وغیرہ میں مشغول ہوجائیں۔ اس طرح عید کی نماز تاخیر سے ادا کرنے کے لئے اس واسطے فرمایا بلکہ لوگ سے پہلے صدقہ فطر ادا کرلیں۔
چاند کی شہادت زوال کے بعد آئے تو عید کی نماز دوسرے دن پڑھی جائے
وَعَنْ اَبِی عُمَیْرِ ابْنِ اَنَسَ عَنْ عُمُوْمَۃِ لَّہ، مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ رَکْبًا جَآءُ وْ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم یَشْھَدُوْنَ اَنَّھُمْ رَءُ و الْھِلَالَ بِالْاَمْسِ فَاَمَرَھُمْ اَنْ یُّفْطِرُوْ وَاِذَا اَصْبَحُوْا اَنْ یَّغْدُوْ اِلَی مُصَلَّاھُمْ۔ (رواہ ابوداؤ و السنن نسائی )
اور حضرت عمیر بن انس اپنے چچاؤں سے جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے تھے، نقل کرتے ہیں کہ ایک قافلہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ شہادت دی کہ انہوں نے کل عید کا چاند دیکھا ہے۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو افطار کا حکم دیا اور فرمایا کہ صبح عید گاہ جائیں۔ (ابوداؤد، سنن نسائی)
تشریح
رمضان کی تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو اہل مدینہ نے عید کا چاند نہیں دیکھا چناچہ انہوں نے تیس تاریخ کو روزہ رکھا۔ اتفاق سے اسی روز ایک قافلہ باہر سے مدینہ آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے اس بات کی شہادت دی کہ ہم نے کل چاند دیکھا۔ آپ ﷺ نے اس قافلہ کی شہادت کو مانتے ہوئے لوگوں کو حکم دیا کہ روزہ افطار کردیں۔ اور چونکہ چاند ہونے کی یہ شہادت زوال آفتاب کے بعد آئی تھی اور نماز عید کا وقت نہ رہا تھا۔ جیسا کہ ایک روایت میں یہ صراحت بھی ہے کہ انھم قدموا اخر النھار (یعنی قافلہ دن کے آخری حصہ میں مدینہ پہنچا تھا) آپ ﷺ نے نماز عید کا کے بارے میں یہ حکم دیا کہ کل صبح ادا کی جائے۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا اسی پر عمل ہے کہ آفتاب بلند ہونے کے بعد نماز عید کا وقت شروع ہوجاتا ہے اور زوال آفتاب تک رہتا ہے۔ شرح منیہ لکھا کہ اگر کوئی ایسا عذر پیش آجائے جو عید الفطر کے روز زوال آفتاب سے پہلے نماز عید کی ادائیگی کے لئے مانع ہو تو عید کی نماز اس روز پڑھنے کی بجائے دوسرے روز زوال آفتاب سے پہلے ادا کرلی جائے۔ اگر دوسرے دن بھی کوئی عذر نماز کی ادائیگی کے لئے مانع ہو تو پھر نماز نہ پڑھی جائے۔ بخلاف بقر عید کی نماز کے کہ اگر اس کی ادائیگی کے لئے کوئی عذر پہلے اور دوسرے روز مانع ہو تو تیسرے روز بھی اس کی نماز پڑھی جاسکتی ہے۔ ویسے بقر عید کی نماز میں بلا عذر بھی دوسرے یا تیسرے دن تک تاخیر جائز ہے مگر مکروہ ہے۔
عیدین کی نماز میں اذان و تکبیر نہیں ہے
عَنِ ابْنِ جُرَےْجٍ رحمۃ اللہ علیہ قَالَ اَخْبَرَنِیْ عَطَآءٌ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَجابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَا لَمْ ےَکُنْ ےُؤَذَّنُ ےَوْمَ الْفِطْرِ وَلَا ےَوْمَ الْاَضْحٰی ثُمَّ سَاَلْتُہُ ےَعْنِیْ عَطَآئً بَعْدَ حِےْنٍ عَنْ ذَالِکَ فَاَخْبَرَنِیْ قَالَ اَخْبَرَنِیْ جَابِرُ بْنُ عَبْدِاللّٰہِ اَنْ لَّا اَذَانَ لِلصَّلٰوۃِ ےَوْمَ الْفِطْرِ حِےْنَ ےَخْرُجُ الْاِمَامُ وَلَا بَعْدَ مَا ےَخْرُجُ وَلَا اِقَامَۃَ وَلَا نِدَآءَ وَلَا شَئَ وَلَا نِدَآءَ ےَوْمَئِذٍ وَّلَا اِقَامَۃَ۔(صحیح مسلم)
ابن جریج فرماتے ہیں کہ عطا نے حضرت عبداللہ ابن عباس اور حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا کہ نہ تو عید کے دن (نماز عید کے لئے) اذان دی جاتی تھی اور نہ بقر عید کے دن ابن جریج فرماتے ہیں کہ کچھ مدت کے بعد پھر میں نے دوبارہ عطاء سے یہی مسئلہ پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے حضرت جابر ابن عبداللہ ؓ نے بتایا ہے کہ عید کے دن نماز عید کے لئے اذان نہیں ہے نہ تو امام کے باہر آنے کے وقت اور نہ امام کے باہر آجانے پر اور نہ تکبیر ہے اور نہ نداء ہے اور نہ کچھ اور، اس دن نہ نداء ہے نہ تکبیر۔ (صحیح مسلم)
تشریح
ابن جریج نے یا تو عطاء سے دوبارہ اس مسئلہ کی تفصیل معلوم کی ہوگی یا بعینہ وہی مسئلہ پوچھا ہوگا۔ بہر حال عطاء نے دوسری مرتبہ کے جواب میں صرف عیدالفطر کا ذکر کیا عیدا لاضحی کا نہیں، وجہ اس کی یہ تھی کہ وہ یہ سمجھے کہ صرف عید الفطر کا ذکر کردینا ہی کافی ہے سائل عیدالفطر پر عیدالاضحی کو بھی قیاس کرلے گا۔ نداء سے الصلوٰۃ الصلوٰۃ یا اس طرح کہ دوسرے الفاظ جو نماز کی اطلاع دینے کے لئے استعمال کئے جائیں کہنا مراد ہے لانداء کے بعد لفظ لاشی لانداء کی تاکید کہ لئے لایا گیا ہے، پھر اس کے بعد حدیث کے آخری الفاظ لا نداء یومذ ولا اقامۃ بھی تاکید کے لئے دوبارہ استعمال کئے گئے ہیں۔ (شیخ عبدالحق) ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ لفظ لانداء اول سے آخر تک پہلے جملہ کی تاکید ہے اور مناسب یہ ہے کہ لفظ نداء سے اذان مراد لی جائے کیونکہ عیدین کے موقع پر اذان و تکبیر کی بجائے الصلوٰۃ جامعۃ پکار کر کہنا تمام علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ گویا حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) کے قول کے مطابق حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ عیدین کی نماز کے لئے جس طرح اذان و تکبیر مشروع نہیں ہے اسی طرح نماز کی اطلاع کے لئے کوئی اور لفظ مثلاً الصلوٰۃ جامعہ پکارنا بھی مشروع نہیں ہے جب کہ حضرت ملا علی قاری کے قول کا مطلب یہ ہے کہ عیدین کی نماز میں اذان و تکبیر تو مشروع نہیں ہاں نماز کی اطلاع دینے کے لئے نداء یعنی الصلوۃ جامعۃ پکار کر کہنا مستحب ہے۔ لہٰذا ان دونوں اقوال کے باہم اختلاف و تضاد کو اس تطبیق کے ذریعہ ختم کیا جائے حضرت شیخ نے نداء کی جو نفی کی ہے وہ عیدگاہ کے اندر بطریقہ التزام کے ہے یعنی ان کا مطلب یہ ہے کہ اول تو عید گاہ کے اندر اور دوسرے بطریق التزام نداء نہ دی جائے اور حضرت ملا علی قاری نے نداء کو جو مستحب لکھا ہے تو اس کا تعلق عید گاہ سے باہر اور کبھی کبھی کہنے سے ہے یعنی الصلوٰۃ جامعۃ عید گاہ سے باہر اور کبھی کبھی پکار کر کہنا مستحب ہے۔ وا اللہ اعلم۔
عیدین میں خطبہ نماز کے بعد پڑھنا چاہے
وَعَنْ اَبِیْ سَعِےْدنِ الْخُدْرِیِّص اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےَخْرُجُ ےَوْ مَ الْاَضْحٰی وَےَوْمَ الْفِطْرِ فَےَبْدَأُ بِالصَّلٰوۃِ فَاِذَا صَلّٰی صَلٰوتَہُ قَامَ فَاَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَھُمْ جُلُوْسٌ فِیْ مُصَلَّاھُمْ فَاِنْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ بِبَعْثٍ ذَکَرَہُ لِلنَّاسِ اَوْ کَانَتْ لَہُ حَاجَۃٌ بِغَےْرِ ذَالِکَ اَمَرَھُمْ بِھَا وَکَانَ ےَقُوْلُ تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوْا تَصَدَّقُوْا وَکَانَ اَکْثَرُ مَنْ ےَتَصَدَّقُ النِّسَآءُ ثُمَّ ےَنْصَرِفُ فَلَمْ ےَزَلْ کَذَالِکَ حَتَّی کَانَ مَرْوَانُ بْنُ الْحَکَمِ فَخَرَجْتُ مُخَاصِرًا مَّرْوَانَ حَتّٰی اَتَےْنَا الْمُصَلّٰی فَاِذَا کَثِےْرُ بْنُ الصَّلْتِ قَدْ بَنٰی مِنْبَرًا مِّنْ طِےْنٍ وَلَبِنٍٍ فَاِذَا مَرْوَانُ ےُنَازِعُنِیْ ےَدَہُ کَاَنَّہُ ےَجُرُّنِیْ نَحْوَ الْمِنْبَرِ وَاَنَا اَجُرُّہُ نَحْوَ الصَّلٰوۃِ فَلَمَّا رَاَےْتُ ذَالِکَ مِنْہُ قُلْتُ اَےْنَ الْاِبْتِدَآءُ بِالصَّلٰوۃِ فَقَالَ لَا ےَا اَبَاسَعِےْدٍ قَدْ تُّرِکَ مَا تَعْلَمُ قُلْتُ کَلَّا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِےَدِہٖ لَا تَاْتُوْنَ بِخَےْرٍ مِّمَّا اَعْلَمُ ثَلٰثَ مِرَارٍ ثُمَّ انْصَرَفَ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ بقر عید کے دن (عید گاہ) جاتے تو (پہلے) نماز شروع کرتے جب نماز سے فارغ ہوجاتے تو (خطبہ کے لئے) کھڑے ہو کر لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے، لوگ اپنی نماز کی جگہ بیٹھے رہے چناچہ اگر آپ ﷺ کو کہیں لشکر بھیجنا ہوتا تو (اس وقت) لوگوں کے سامنے اس کا ذکر فرماتے ہیں اور لشکر بھیجتے یا لوگوں کی کوئی اور حاجت ہوتی (یعنی مسلمانوں کے فائدہ کی کوئی بات ہوئی) تو اس کے بارے میں حکم فرماتے اور رسول اللہ ﷺ (اپنے خطبہ کے دوران) یہ فرمایا کرتے تھے صدقہ دو، صدقہ دو، صدقہ دو، چناچہ عورتیں زیادہ صدقہ خیرات یاد کرتیں تھیں۔ اس کے بعد آپ ﷺ اپنے مکان واپس تشریف لاتے (آپ ﷺ کے مبارک زمانہ اور آپ ﷺ کے بعد چاروں خلفاء کے دور خلافت میں نیز اس کے بعد تک بھی) یہی معمول جاری رہا ( کہ خطبہ نماز کے بعد ہوتا اور خطبہ منبر پر نہیں بلکہ زمین ہی پر کھڑے ہو کر پڑھا جاتا رہا) یہاں تک کہ (امیر معاویہ کی جانب سے مدینہ کا حکم) مروان ابن حکم مقرر ہوا (ایک مرتبہ عید کے دن) میں مروان ابن حکم ہاتھ اپنے ہاتھ میں پکڑے عید گاہ آیا (جب ہم عید گاہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ) وہاں کثیر ابن صلت نے مٹی اور کچھی اینٹ کا منبربنا رکھا تھا۔ اچانک مروان مجھے اپنے ہاتھ کے سامنے کھینچنے لگا گویا وہ مجھے منبر کی طرف کھینچ رہا تھا (تاکہ نماز سے پہلے خطبہ پڑھے) اور میں اس کو نماز کی طرف کھینچ رہا تھا (تاکہ وہ پہلے نماز پھر خطبہ پڑھے) جب میں نے یہ دیکھا کہ وہ پہلے خطبہ پڑھنے پر مصر ہے تو میں نے کہا کہ ابوسعید! جھگڑا نہ کرو، جس بات کو تم جانتے ہو اب وہ متروک ہے (یعنی میں نے مصلحت کے پیش نظر خطبہ سے پہلے نماز پڑھنا چھوڑ دیا ہے اور مصلحت یہ ہے کہ اگر خطبہ نماز کے بعد پڑھا جائے گا تو لوگ اٹھ اٹھ کر جانے لگیں گے) میں نے کہا کہ ہرگز نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے جو چیز میں جانتا ہوں تم اس سے بہتر چیز لا ہی نہیں سکتے میں نے یہ بات تین مرتبہ اس سے کہی۔ پھر (مروان کے اس فعل کی وجہ سے) ابوسعید (عید گاہ سے) چلے گئے (اور جماعت میں شریک نہیں ہوئے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
صدقہ و خیرات یعنی اللہ کے نام پر اپنا مال خرچ کرنے کی جو اہمیت و فضیلت ہے اس کے پیش نظر آپ ﷺ اپنے خطبہ میں لفظ تصدقوا تین مرتبہ تاکیدا فرمایا کرتے ہیں، یا یہ کہ تین مرتبہ فرمانا تین حالتوں کی طرف اشارہ ہے (١) صدقہ دو اپنی زندگی کے واسطہ (٢) صدقہ دو اپنی موت کے لئے (٣) اور صدقہ دو اپنی آخرت کے لئے۔ مخاضر دو آدمیوں کے اس طرح باہم ہاتھ پکڑے ہوئے چلنے کو فرماتے ہیں کہ ہر ایک کا ہاتھ دوسرے کو لھے کے قریب ہو۔ مروان ابن حکم ٢ ھ میں پیدا ہوا تھا مگر اسے رسول اللہ ﷺ سے شرف زیارت حاصل نہیں ہوا تھا۔ اسی طرح کثیر ابن صلت کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ ان کی پیدائش بھی رسول اللہ ﷺ ہی کے زمانہ مبارک ہی میں ہوئی تھی۔ چناچہ اسی وجہ سے صاحب جامع الاصول نے انہیں صحابہ میں شمار کیا جب کہ بعض محققین نے انہیں تابعی کہا ہے۔ ان کا مکان عید گاہ کے قریب تھا انہوں نے ہی عیدگاہ میں منبر بنایا تھا تاکہ عیدین کا خطبہ اس پر کھڑے ہو کر پڑھا جائے جیسا کہ جمعہ کا خطبہ منبر پر کھڑے ہو کر پڑھنا مسنون ہے۔ لہٰذا ظاہر حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سب سے پہلے مروان ابن حکم نے عید گاہ میں منبر بنوایا ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ ثم انصرف کے یہ معنی بھی محتمل ہوسکتے ہیں کہ مروان منبر کی طرف آیا تاکہ خطبہ پڑھے اور اس نے حضرت ابوسعید کی یہ بات نہ مانی کہ پہلے نماز پڑھی جائے پھر خطبہ پڑھا جائے۔ عیدین کی نماز کا طریقہ عیدین کی نماز دو رکعت ہے جس کے پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ نماز پڑھنے والا نیت کر کے اور تکبیر کہہ کر ہاتھ باندھے لے پھر سبحانک اللہم پڑھ کر تین مرتبہ اللہ اکبر کہے اور ہر مرتبہ مثل تکبیر تحریمہ کے دونوں کانوں تک ہاتھ اٹھائے اور تکبیر کے بعد لٹکا دے اور ہر تکبیر کے بعد اتنی دیر تو قف کرے کہ تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ سکیں۔ تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ لٹکائے بلکہ ہاتھ باندھے لے اور اعوذبا اللہ، بسم اللہ، پڑھ کر سورت فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھ کر رکوع و سجدہ کر کے کھڑا ہوا۔ پھر دوسری رکعت میں پہلے سورت فاتحہ اور دوسری سورت پڑھ لے اس کے بعد تین تکبیریں اس طرح کہے جس طرح پہلی رکعت میں سبحانک اللہم پڑھ کر کہی تھی۔ لیکن یہاں تیسری تکبیر کے بعد ہاتھ نہ باندھے بلکہ لٹکائے رکھے اور پھر چوتھی تکبیر کہہ کر رکوع میں جائے اور نماز پوری کرے۔ نماز کے بعد امام کو چاہیے کہ وہ منبر پر کھڑے ہو کردو خطبے پڑھے۔ عید الفطر کے خطبہ میں صدقہ فطر کے احکام و مسائل بیان کرے اور عید الاضحی کے خطبہ میں قربانی اور تکبیر تشریق کے احکام بیان کرے۔ تکبیر تشریق یعنی ہر فرض نماز کے بعد فرض نماز پڑھنے والے کے ایک مرتبہ اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ واللہ اکبر و للہ الحمد کہنا واجب ہے۔ یہ تکبیر عرفہ یعنی ذوالحجہ کی نویں تاریخ کی فجر سے تیرہویں تاریخ کی عصر تک کہنا چاہیے۔ یہ تکبیر عورت اور مسافر پر واجب نہیں۔ ہاں اگر یہ لوگ کسی ایسے آدمی کی مقتدی ہوں جن پر تکبیر کہنا واجب ہے تو ان پر بھی تکبیر واجب ہوجائے گی۔ (علم الفقہ)
حنفی مسلک میں قربانی ہر اس مسلمان پر فرض ہے جو مقیم اور غنی ہو یعنی نصاب کا مالک ہوا گرچہ نصاب نامی نہ ہو حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک قربانی سنت موکدہ ہے حضرت امام احمد (رح) کا بھی مشہور اور مختار قول یہی ہے۔
قربانی کا جانور اپنے ہاتھ سے ذبح کرنا چاہیے
عَنْ اَنَسٍ ص قَالَ ضَحّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِکَبْشَےْنِ اَمْلَحَےْنِ اَقْرَنَےْنِ ذَبَحَھُمَا بِےَدِہٖ وَسَمّٰی وَکَبَّرَ قَالَ رَاَےْتُہُ وَاضِعًا قَدَمَہُ عَلٰی صِفَاحِھِمَا وَےَقُوْلُ بِسْمِ اللّٰہِ وَاللّٰہُ اَکْبَرْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے دو دنبوں کی جو سینگوں والے (یعنی جن کے سینگ لمبے تھے یا یہ کہ سینگ ٹوٹے ہوئے نہ تھے) اور ابلق (یعنی سیاہ رنگ کے) تھے قربانی کی۔ آپ ﷺ نے بسم اللہ واللہ اکبر کہہ کر (خود) اپنے ہاتھ سے انہیں ذبح کیا حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پہلو (یا کلے) پر پاؤں رکھے ہوئے تھے اور بسم اللہ وا اللہ اکبر کہتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
قربانی کرنے والے کے لئے مستحب ہے کہ اگر وہ ذبح کے آداب جانتا ہو تو قربانی کا جانور خود اپنے ہاتھ سے ذبح کرے ورنہ بصورت دیگر اپنی طرف سے کسی دوسری آدمی سے ذبح کرائے اور خود وہاں موجود رہے۔ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا (یعنی بسم اللہ کہنا) حنفیہ کے نزدیک شرط ہے اور تکبیر کہنی (یعنی واللہ اکبر کہنا) علماء کے نزدیک مستحب ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ ویقول بسم اللہ واللہ اکبر میں اس طرف اشارہ ہے کہ لفظ واللہ اکبر واؤ کے ساتھ کہنا افضل ہے۔ ذبح کے وقت درود پڑھنا جمہور علماء کے نزدیک مکروہ ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک سنت ہے۔
وَعَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِِ صلی اللہ علیہ وسلم اَمَرَ بِکَبْشٍ اَقْرَنَ ےَطَأُ فِیْ سَوَادٍ وَّےَبْرُکُ فِیْ سَوَادٍ وَےَنْظُرُ فِیْ سَوَادٍ فَاُتِیَ بِہٖ لِےُضَحِّیَ بِہٖ قَالَ ےَا عَآئِشَۃُ ھَلُمِّی الْمُدْےَۃَ ثُمَّ قَالَ اشْحَذِےْھَا بِحَجَرٍ فَفَعَلْتُ ثُمَّ اَخَذَھَا وَاَخَذَ الْکَبْشَ فَاَضْجَعَہُ ثُمَّ ذَبَحَہُ ثُمَّ قَالَ بِسْمِ اللّٰہِ اَللّٰھُمَّ تَقَبَّلْ مِنْ مُّحَمَّدٍ وَّاٰلِ مُحَمَّدٍ وَّمِنْ اُمَّۃِ مُحَمَّدٍ ثُمَّ ضَحّٰی بِہٖ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (قربانی کے لئے) ایک ایسے سینگ دار دنبہ کے لانے کا حکم دیا جو سیاہی میں چلتا ہو (یعنی اس کے پاؤں سیاہ ہوں) سیاہی میں بیٹھا ہو (یعنی اس کا پیٹ اور سینہ سیاہ ہو) اور سیاہی میں دیکھا ہو (یعنی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہی ہو) چناچہ (جب) آپ کے لئے قربانی کے واسطے ایسا دنبہ لایا گیا ( تو) فرمایا کہ عائشہ! چھری لاؤ (جب چھری لائی تو) پھر فرمایا کہ اسے پتھر پر (رگڑ کر) تیز کرو، میں نے چھری تیز کی، آپ نے چھری لی اور دنبے کو پکڑ کر اسے لٹایا پھر جب اسے ذبح کرنے کا ارادہ کیا تو یہ فرمایا کہ اللھم تقبل من محمد و ال محمد و من امۃ محمد (یعنی اے اللہ! اسے محمد ﷺ، آل محمد ﷺ اور امت محمد ﷺ کی طرف سے قبول فرما) پھر اسے ذبح کردیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
جب جانور کو ذبح کیا جا رہا ہو، اس کے سامنے چھری تیز کرنا مکروہ ہے کیونکہ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے ایک ایسے آدمی کو درے سے مارا تھا جس نے ایسا کیا تھا۔ اسی طرح ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ذبح کرنا بھی مکروہ ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ذبح کرتے وقت جو الفاظ ارشاد فرمائے اس سے مراد صرف ثواب میں امت کو شریک کرنا تھا نہ یہ کہ آپ ﷺ نے سب کی طرف سے قبربانی کی تھی کیونکہ ایک دنبہ یا ایک بکری کی قربانی کئی آدمیوں کی طرف سے درست نہیں ہے۔
کس عمر کے جانور کی قربانی کرنی چاہیے؟
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا تَذْبَحُوْا اِلَّا مُسِنَّۃً اِلَّا اَنْ ےُّعْسَرَ عَلَےْکُمْ فَتَذْبَحُوْاجَذَعَۃً مِّنَ الضَّاْنِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم (قربانی میں صرف) مسنہ جانور ذبح کرو، ہاں اگر مسنہ نہ پاؤ تو پھر دنبہ بھیڑ کا جزعہ ذبح کرلو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مسنہ یا جزعہ کسی خاص جانور کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایک اصطلاح ہے جو قربانی کے جانور کی عمر کے سلسلہ میں مستعمل ہوتی ہے۔ چناچہ حنفی مسلک کے مطابق اس کی تفصیل یہ ہے کہ اونٹوں میں وہ اونٹ مسنہ کہلاتا ہے جو پورے پانچ سال کی عمر کا ہو اور چھٹے برس میں داخل ہوچکا ہو۔ گائے، بھینس اور بیل میں مسنہ اسے فرماتے ہیں جو پورے دو سال کی عمر کا ہو تیسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ بھیڑ اور دنبہ میں مسنہ وہ ہے جو اپنی عمر کو پورا ایک سال گزار کر دوسرے سال میں داخل ہوچکا ہو۔ لہٰذا ان جانوروں میں قربانی کے لئے جانور کا مسنہ ہونا ضروری ہے۔ ہاں دنبہ اور بھیڑ کا اگر جزعہ بھی ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ جزعہ بھیڑ یا دنبہ کا وہ بچہ کہلاتا ہے جس کی عمر ایک برس سے تو کم ہو مگر چھ مہینہ سے زیادہ ہو۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ جزعہ کی قربانی اس صورت میں جائز ہوگی جب کہ وہ اتنا فربہ ہو کہ اگر اسے مسنہ کے ساتھ کھڑا کردیا جائے تو دور سے دیکھنے والا اسے بھی مسنہ گمان کرے اگر وہ فربہ نہ ہو بلکہ چھوٹا ہو اور دبلا ہو تو اس کی قربانی درست نہیں۔ بظاہر حدیث سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اگر مسنہ بہم نہ پہنچے یا اس کی قیمت میسر نہ ہو تو جزعہ کی قربانی درست ہے ورنہ بصورت دیگر اس کی قربانی درست نہیں ہوگی۔ بلکہ فقہاء لکھتے ہیں کہ یہ استحباب پر محمول ہے یعنی مستحب تو یہی ہے کہ اگر مسنہ مل جائے اور اس کے خریدنے کی استطاعت ہو تو جزعہ کی قربانی نہ کرے۔ ویسے اگر مسنہ ہوتے ہوئے بھی کوئی جزعہ کی قربانی کرے گا تو درست ہوگئی۔
عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلماَعْطَاہُ غَنَمًا ےَّقْسِمُھَا عَلٰی صَحَابَتِہٖ ضَحَاےَا فَبَقِیَ عَتُوْدٌ فَذَکَرَہُ لِرَسُوْل ِاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ ضَحِّ بِہٖ اَنْتَ وَفِیْ رَوَاےَۃٍ قُلْتُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَصَابَنِیْ جَذَعٌ قَالَ ضَحِّ بِہٖ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عقبہ ابن عامر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں بکریوں کا ایک ریوڑ دیا تاکہ وہ اسے صحابہ کرام میں بطریق قربانی کے تقسیم کردیں چناچہ (انہوں نے تقسیم کردیا) تقسیم کے بعد بکری کا ایک بچہ باقی رہ گیا اور انہوں نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی تم کرلو ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ مجھے! دنبہ کا ایک بچہ ملا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قربانی کرلو۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
عتود بکری کے اس بچہ کو فرماتے ہیں جو موٹا تازہ ہو اور ایک سال کی عمر کا ہو۔ لہٰذا اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بکری کے ایک سال کے بچہ کی قربانی جائز ہے چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ کا یہی مسلک ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ عتود بکری کے اس بچے کو فرماتے ہیں جو چھ مہینہ سے زیادہ کا ہو اس صورت میں یہ حکم صرف عقبہ ابن عامر کے ساتھ مخصوص ہوگا۔ دوسروں کے لئے عتود کی قربانی جائز نہیں ہوگی۔ جزعہ کے بارے میں پہلے بھی بتایا جا چکا ہے۔ یعنی دنبہ کا وہ بچے جو چھ مہینے سے زیادہ کا ہو۔
عید گاہ میں قربانی افضل ہے۔
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَذْبَحُ وَےَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰی۔(صحیح البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ میں قربانی کے جانور کو ذبح اور نحر کیا کرتے تھے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
باب صلوٰۃ العیدین کی پہلی فصل کے آخر میں ذبح اور نحر کے معنی اور ان کے باہم فرق کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے۔ علماء لکھتے ہیں کہ عید گاہ میں قربانی کرنا افضل ہے۔
وَعَنْ جَابِرٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ الْبَقَرَۃُ عَنْ سَبْعَۃِ وَالْجَزُوْرُعَنْ سَبْعَۃٍ (صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قربانی کے لئے) گائے اور ایک اونٹ سات آدمیوں کی طرف سے کافی ہے۔ (صحیح مسلم، سنن ابوداؤد)
قربانی کرنے والے کے لئے کچھ ہدایتیں
وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ وَاَرَادَ بَعْضُکُمْ اَنْ ےُّضَحِّیَ فَلَا ےَمَسَّ مِنْ شَعْرِہٖ وَبَشَرِہٖ شَےْئًا وَّفِیْ رَوَاےَۃٍ فَلَا ےَاْخُذَنَّ شَعْرًا وَّلَا ےَقْلِمَنَّ ظُفْرًا وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ مَّنْ رَّاٰی ھِلَالَ ذِی الْحِجَّۃِ وَاَرَادَ اَنْ ےُّضَحِّیَ فَلَا ےَاْخُذْ مِنْ شَعْرِہٖ وَلاَ مِنْ اَظْفَارِہٖ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ام سلمہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب ذی الحجہ کا پہلا عشرہ شروع ہوجائے تو تم میں سے جو آدمی قربانی کرنے کا ارادہ کرے وہ ( اس وقت تک کہ قربانی نہ کرے) اپنے بال اور ناخن بالکل نہ کتروائے ایک روایت میں یوں ہے کہ نہ بال کٹوائے اور نہ ناخن کتروائے۔ ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ جو آدمی بقر عید کا چاند دیکھے اور وہ قربانی کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو وہ (قربانی کے لینے تک) اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
بقر عید کا چاند دیکھنے لینے کے بعد قربانی کرلینے تک بال وغیرہ کٹوانے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے تاکہ احرام والوں کی مشابہت حاصل ہوجائے۔ لیکن یہ ممانعت تنزیہی ہے لہٰذا بال وغیرہ کا نہ کٹوانا مستحب ہے اور اس کے خلاف عمل کرنا ترک اولی ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک اس کے خلاف کرنا مکروہ ہے۔
عشرہ ذی الحجہ کے نیک اعمال کی فضیلت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضی اللّٰہ عنھما قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا مِنْ اَےَّامٍ الْعَمَلُ الصَّالِحُ فِےْھِنَّ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ مِنْ ہٰذِہِ الْاَےَّامِ الْعَشْرِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ وَلَا الْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ اِلَّا رَجُلٌ خَرَجَ بِنَفْسِہٖ وَمَالِہٖ فَلَمْ ےَرْجِعْ مِنْ ذَالِکَ بِشَیئٍ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا دنوں میں کوئی دن نہیں ہے جس میں نیک عمل کرنا اللہ کے نزدیک ان دس دنوں (ذی الحجہ کے پہلے عشرہ) سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! کیا ( ان ایام کے علاوہ دوسرے دنوں میں) اللہ کی راہ میں جہاد کرنا بھی (ان دنوں کے نیک اعمال کے برابر) نہیں ہے؟ فرمایا ہاں! اس آدمی کا جہاد جو اپنی جان و مال کے ساتھ (اللہ کی راہ میں لڑنے) نکلا اور پھر واپس نہ ہوا ( ان دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ افضل ہے)۔ (صحیح البخاری ٰ
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر جہاد ایسا ہو جس میں مال و جان سب اللہ کی راہ میں قربان ہوجائے اور جہاد کرنے والا مرتبہ شہادت پا جائے تو وہ جہاد البتہ اللہ کے نزدیک ان دس دنوں کے نیک اعمال سے بھی زیادہ محبوب ہے کیونکہ ثواب نفس کشی و مشقت کے بقدر ملتا ہے اور ظاہر ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی جان اور اپنا مال قربان کردینے سے زیادہ نفس کشی اور مشقت کیا ہوسکتی ہے؟ چونکہ رمضان کے نیک اعمال کی بھی بہت زیادہ فضیلت و عظمت بیان کی گئی ہے اس لئے ہوسکتا ہے کہ اس حدیث کی مراد یہ ہو کہ ان دنوں کے نیک اعمال ایام رمضان کے نیک اعمال کے علاوہ دوسرے دنوں کے نیک اعمال سے زیادہ محبوب ہیں یا رمضان کے نیک اعمال اس حیثیت سے سب سے زیادہ محبوب نہیں کہ ان دنوں میں فرض روزے رکھے جاتے ہیں۔ اور بہت زیادہ برگزیدہ و مقدس ترین شب یعنی لیلۃ القدر بھی رمضان ہی میں آتی ہے اور ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے اعمال اس اعتبار سے سب سے زیادہ محبوب ہیں کہ بہت زیادہ برگزید اور باعظمت و فضیلت دن یعنی عرفہ انہیں دنوں میں آتا ہے۔ اور افعال حج بھی انہیں ایام میں ہوتے ہیں
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ ذَبَحُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ الذَّبْحِ کَبْشَیْنِ اَقْرَنَیْنِ اَمْلَحَیْنِ مَوْجُوْئَیْنِ فَلَمَّا وَجَّھَھُمَا قَالَ اِنِّی وَجَّھْتُ وَجْھِیَ لِلَّذِی فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ عَلَی مِلَّۃِ اِبْرَاھِیْمَ حَنِیْفًا وَّمَا اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ اِنَّ صَلَاتِی وَنُسُکِی وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ لَا شَرِیْکَ لَہ، وِبِذَلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ اَللّٰھُمَّ مِنْکَ وَلَکَ عَنْ مُّحَمَّدٍ وَاُمَّتِہٖ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ ثُمَّ ذَبَحَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ اَبُوْدَاؤدَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَفِی رِوَایَۃٍ لِاَحْمَدَ وَاَبِیْ دَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیِّ ذَبَحَ بَیَدِہٖ وَقَالَ بِسْمِ اﷲِ وَاﷲُ اَکْبَرُ اَللّٰھُمَّ ھٰذَا عَنِّی وَعَمَّنْ لَّمْ یُضِحِّ مِنْ اُمَّتِیْ۔
حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے دن (یعنی عید قرباں کے دن) دو دنبے جو سینگ دار ابلق اور خصی تھے ذبح کرنے چاہے تو ان کو قبلہ رخ کیا اور یہ پڑھا۔ یعنی میں اپنا منہ اس ذات کی طرف متوجہ کرتا ہوں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا، اس حال میں کہ میں دین ابراہیم پر ہوں جو توحید کو ماننے والے تھے اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں بلاشبہ میری نماز، میری تمام عبادتیں، میری زندگی اور میری موت (سب کچھ) اللہ ہی کے لئے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور مجھے اس کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمانوں میں سے ہوں اے اللہ! یہ قربانی تیری عطاء سے ہے اور خالص تیری ہی رضا کے لئے ہے تو اس کو محمد ﷺ اور اس کی امت کی جانب سے قبول فرما ساتھ نام اللہ کے اور اللہ بہت بڑا ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ذبح کیا۔ (احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، سنن ابن ماجہ، دارمی) نیز مسند احمد سنن ابوداؤد اور جامع ترمذی کی ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (دونوں دنبے) اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ہیں کہا بسم اللہ واللہ اکبر، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میرے امت کے ہر اس فرد کی طرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔
تشریح
خصی سے مراد وہ ہے جس کے بیضے کوٹ کر اس کی شہوت ختم کردی جاتی ہے اس کی قربانی میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ایسا خصی فربہ ہوتا ہے اور اس کا گوشت لذیذ ہوتا ہے۔ وما انا من المشرکین (اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں) اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نبوت ملنے سے پہلے کس شریعت کے مطابق عبادت کیا کرتے تھے؟ چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نبوت ملنے سے پہلے آپ ﷺ کی عبادت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق ہوتی تھی، بعض علماء کا قول یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق اور بعض علماء کی تحقیق یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت کے مطابق آپ عبادت کیا کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں صحیح قول یہ ہے کہ آپ ﷺ کسی بھی شریعت کے مطابق عبادت نہیں کرتے تھے بلکہ اپنی فہم اور اپنے وجدان کے موافق آپ ﷺ اپنی عبادت میں مشغول رہا کرتے تھے۔ اور اللہ پر ایمان رکھتے تھے۔ البتہ یہ بات بالکل اجماعی طور پر محقق اور ثابت ہے کہ آپ ﷺ زندگی کے کسی بھی دور میں بت برستی کی نجاست میں ملوث نہیں ہوئے۔ اب سوال یہ ہے کہ آپ ﷺ کی عبادت کس نوع اور کس طریقہ کی تھی؟ تو اس کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ وہ غیر معلوم ہے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ آپ ﷺ اس وقت کس طرح عبادت کرتے تھے؟ عن محمد وامتہ میں مشارکت یا تو ثواب پر محمول ہے یعنی رسول اللہ ﷺ نے ذبح کے وقت یہ الفاظ فرما کر اپنی قربانی کے ثواب میں اپنی امت کو بھی شریک فرما لیا۔ یا اسے حقیقت پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے مگر اس صورت میں کہا جائے گا یہ رسول اللہ ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔ اس سلسلہ میں واضح ترین بات یہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایک دنبہ تو اپنی طرف سے قربان کیا اور دوسرے دنبہ کی قربانی امت کی طرف سے کی۔ اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اگر قربانی کرنے والا ذبح کرنے پر قادر ہو تو اس کے لئے اپنے ہاتھ سے قربانی کا جانور ذبح کرنا مستحب ہے اگرچہ عورت ہی کیوں نہ ہو۔
میت کی طرف سے قربانی جائز ہے
وَعَنْ حَنَشٍ قَالَ رَأَیْتُ عَلِیًا یُضَحِّیَ بِکَبْشَیْنِ فَقُلْتُ لَہ، مَا ھٰذَا فَقَالَ اِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَوْ صَانِی اَنْ اُضَحِّیَ عَنْہُ فَاَنَا اَضَحِّیَ عَنْہُ۔ (رواہ ابوداؤد ، الترمذی نحوہ)
اور حضرت خش فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو دو دنبے قربانی کرتے ہوئے دیکھا تو کہا کہ یہ کیا؟ یعنی جب ایک دنبہ کی قربانی کافی ہے تو دو دنبوں کی قربانی کیوں کرتے ہیں؟ ) انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ نے مجھے یہ وصیت فرمائی تھی کہ (ان کے وصال کے بعد) میں ان کی طرف سے قربانی کروں لہٰذا میں ان کی طرف سے قربانی کرتا ہوں۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی )
تشریح
اس سلسلہ میں دونوں ہی احتمال ہیں یا تو حضرت علی المرتضیٰ اپنی قربانی کے علاوہ دو دنبے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے قربان کرتے ہوں گے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی زندگی میں دو دنبوں کی قربانی کرتے تھے، یا پھر یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ ایک دنبہ کی قربانی تو اپنی طرف سے کرتے ہوں گے اور ایک دنبہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے اور بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ کا یہ ہمیشہ کا معمول تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کی طرف سے ہر سال قربانی کرتے تھے۔ یہ حدیث اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ میت کی طرف سے قربانی کرنا جائز ہے اگرچہ بعض علماء نے اسے جائز نہیں کہا ہے۔ ابن مبارک کا قول یہ ہے کہ میں اسے پسند کرتا ہوں کہ میت کی طرف سے اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے۔ اس کی طرف سے قربانی نہ کی جائے، ہاں اگر میت کی طرف سے قربانی کی ہی جائے تو اس کا گوشت بالکل نہ کھایا جائے بلہ سب کا سب اللہ کے نام پر تقسیم کردیا جائے
عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ اَمَرَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَیْنَ وَالْاُذُنَ وَاَنْ لَّا نُضَحِّیَ بِمُقَابَلَۃٍ وَلَا مُدَآبَرَۃٍ وَّلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَ اَبُوْدَاؤدَ وَلنِّسَائِیُّ وَالدَّارِمِیُّ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَانْتَھَتْ رِوَایَتُہ، اِلَی قَوْلِہٖ وَالاذُنَ۔
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم ( قربانی کے جانور کے) آنکھ اور کان کو خوب اچھی طرح دیکھ لیں ( کہ کوئی ایسا عیب اور نقصان نہ ہو جس کی وجہ سے قربانی درست نہ ہو اور یہ حکم بھی دیا ہے کہ) ہم اس جانور کی قربانی نہ کریں جس کا کان اگلی طرف سے یا پچھلی طرف سے کٹا ہوا ہو اور نہ اس جانور کی جس کی لمبائی پر چرے ہوئے اور گولائی میں پھٹے ہوئے ہوں یہ روایت جامع ترمذی ابوداؤد، سنن نسائی، دارمی اور ابن ماجہ نے نقل کی ہے لیکن ابن ماجہ کی روایت لفظ والاذن ختم ہوگئی ہے۔
تشریح
حضرت امام شافعی کے نزدیک اس بکری کی قربانی جائز نہیں ہے جس کا کان تھوڑا سا بھی کٹا ہوا ہو جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک جائز ہے اگر کان آدھے سے کم کٹا ہوا ہو۔ حضرت امام طحاوی حنفی (رح) فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں حضرت امام شافعی کا عمل اس حدیث پر ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے جو بہت جامع ہے کیونکہ اس مسلک سے اس حدیث میں اور فتادہ کی حدیث میں تطبیق ہوجاتی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت قتادہ حضرت ابن کلیب سے یہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے حضرت علی المرتضیٰ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عضبائے قرن و اذن ( کی قربانی) سے منع فرمایا ہے۔ قتادہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعید ابن المسیب سے پوچھا کہ یہ عضائے اذن کیا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جس کا کان آدھا یا آدھے سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔ حنیفہ کے نزدیک کیسے جانور کی قربانی جائز نہیں؟ اس مسئلہ میں حنیفہ کا جو مسلک ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایسے جانور کی قربانی جائز نہیں ہے جس کا کان تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹا ہوا ہو۔ ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں ہے جس کے کان پیدائشی نہ ہوں، اسی طرح ایسے جانور کی قربانی بھی درست نہیں جس کی دم اور ناک تہائی یا تہائی سے زیادہ کٹی ہوئی ہو، جو جانور اندھا یا کانا ہو یا ایک آنکھ کی تہائی روشنی یا اس سے زیادہ جاتی رہی ہو تو اس کی قربانی بھی جائز نہیں ہے جس جانور کے تھن خشک ہوگئے ہوں اس کی قربانی بھی درست نہیں او ایسے جانور کی بھی درست نہیں جس میں مغز نہ رہا ہو اور نہ ایسے لنگڑے کی جو قربانی کی جگہ تک نہ جاسکے اور نہ ایسے بیمار کی جو گھاس نہ کھا سکے نہ ایسے جانور کی جس کے خارش ہو، وہ بغیر دانت کے جانور کی جو گھاس نہ کھا سکتا اور نہ نجاست خور جانور کی، ہاں ایسے جانور کی قربانی درست ہے جس کا کان لمبائی میں یا اس کے منہ کی طرف سے پھٹ جائے اور لٹکا ہوا یا پیچھے کی طرف پھٹا ہوا، اس صورت میں کہا جائے گا یہ حدیث کہ جس سے ایسے جانور کی قربانی کی ممانعت معلوم ہو رہی ہے نہی تنز یہی پر محمول ہے۔
عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے
وَعَنْ عَلِیٍّ قَالَ نَھٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ نُّضَحِّیَ بِا عَضَبِ الْقَرَنِ وَالْاُذُن (رواہ ابن ماجۃ)
اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ، راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے منع فرمایا ہے کہ ہم ایسے جانور کی قربانی کردیں جس کے سینگ ٹوٹے ہوئے اور کان کٹے ہوئے ہوں۔ (سنن ابن ماجہ)
تشریح
حنفی مسلک میں ایسے جانور کی قربانی جائز و درست ہے جس کے پیدائش ہی سے سینگ نہ ہوں یا ٹوٹے ہوئے ہوں یا ان کا خول اتر گیا ہے لہٰذا یہ حدیث نہی تنزیہی پر محمول کی جائے گی۔ البتہ ایسے جانور کی قربانی درست نہیں ہوگی جس کے سینگ بالکل جڑ سے ٹوٹ گئے ہوں۔
عیب دار جانور کی قربانی نہ کرنی چاہیے
وَعَنِ البْرَاءِ بْنِ عَازِبٍ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم سُئِلَ مَاذَا یُتَّقَی مِنَ الضَّحَایَا فَاَشَارَ بِیَدِہٖ فَقَالَ اَرْبَعًا اَلْعَرْجَاءُ الْبَیِّنُ ظَلْعُھَا وَالْعَوْرَاءُ الْبَیِّنُ عَوْرُھَا وَالْمَرِیْضَۃُ الْبَیِّنُ مَرْضُھَا وَالْعَجْفَاءُ الَّتِی لَا تَنْقِیْ۔(رواہ موطا امام مالک و احمد بن حنبل والترمذی وابوداؤو السنن نسائی و ابن ماجۃ والدارمی)
اور حضرت براء ابن عازب راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کیسے جانور کی قربانی لائق نہیں؟ تو آپ ﷺ نے ہاتھ کی انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ چار طرح کے جانور قربانی کی قابل نہیں ہیں۔ (١) لنگڑا۔ جس کا لنگڑا پن ظاہر ہو یعنی جو چل نہ سکے۔ (٢) کا نا جس کا کانا پن ظاہر ہو یعنی آنکھ سے بالکل دکھائی نہ دیتا ہو یا تہائی یا تہائی سے زیادہ روشنی جاتی رہی ہو۔ (٣) بیمار۔ جس کی بیماری ظاہر ہو یعنی جو بیماری کی وجہ سے گھاس نہ کھا سکے۔ (٤) ایسا دبلا کہ جس کی ہڈیوں میں گودانہ ہو۔ (مالک، احمد بن حنبل، جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی)
فربہ جانور کی قربانی بہتر ہے
وَعَنْ اَبِی سَعِیْدٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُضَحِّیَ بِکَبَشٍ اَقْرَنَ فَحِیْلِ یُنْظُرُ فِی سَوَادٍ وَّیَاکُلُ فِی سَوَادٍ وَّیَمْشِیْ فِی سَوَادٍ۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت ابوسعید فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ ایسے سینگ دار فربہ دنبہ کی قربانی کرتے تھے جو سیاہی میں دیکھتا تھا یعنی اس کی آنکھوں کے گرد سیاہی تھی، سیاہی میں کھاتا تھا اس کا منہ سیاہ تھا اور سیاہی میں چلتا تھا یعنی اس کے پاؤں بھی سیاہ تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)
تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ ایسے جانور کی قربانی کرنا جو بہت فربہ اور موٹاہو مستحب ہے۔ چناچہ ایک فربہ بکری کی قربانی دو دبلی بکریوں کی قربانی سے افضل ہے۔ ایسے ہی زیادہ گوشت والی بکری کی قربانی کم گوشت والی بکری کی قربانی سے افضل ہے بشر طی کہ گوشت خراب نہ ہو یعنی زیادہ گوشت والی بکری کا گوشت خراب ہو تو پھر اس کی قربانی افضل نہیں ہے۔