Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 71 of 317

1401Mishkaat-al-Masabih

عیدین کا خطبہ نماز کے بعد پڑھنا چاہیے

وعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبُوْ بَکْرٍص وَعُمَرُص ےُصَلُّوْنَ الْعِےْدَےْنِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)&&

اور حضرت ابن عمر ؓ کہتے ہیں کہ سرتاج دو عالم ﷺ حضرت ابوبکر اور عمر ؓ عید کی نماز خطبہ سے پھلے پڑھتے تھے۔ تشریح ابن منذر کا قول ہے کہ فقہا کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عید و بقر عید کا خطبہ نماز کے بعد پڑھنا چاہیے۔ نماز سے پہلے خطبہ پڑھنا جائز نہیں ہے لیکن اگر کسی آدمی نے نماز سے پہلے ہی خطبہ پڑھ لیا تو تمام علماء کے نزدیک نماز جائز ہوجائے گی منقول ہے کہ مروان ابن حکم جب مدینہ کا حاکم ہوا اور اس نے خطبہ نماز سے پہلے پڑھا تو اس کے اس فعل کو صحابہ کرام نے بہت برا جانا۔

1402Mishkaat-al-Masabih

عیدین کی نماز کے لئے اذان و تکبیر مشروع نہیں ہے

وَسُئِلَ ابْنُ عَبَّاسص ٍ اَشَھِدْتَّ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الْعِےْدَ قَالَ نَعَمْ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ ےَذْکُرْ اَذَانًا وَّلَا اِقَامَۃًثُمَّ اَتَی النِّسَآءَ فَوَعَظَھُنَّ وَذَکَّرَھُنَّ وَاَمَرَھُنَّ بِالصَّدَقَۃِ فَرَاَےْتُھُنَّ ےَھْوِےْنَ اِلٰی اٰذَانِھِنَّ وَحُلُوْقِھِنَّ ےَدْفَعْنَ اِلٰی بِلَالٍ ثُمَّ ارْتَفَعَ ھُوَ وَبِلَالٌ اِلٰی بَےْتِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

(مروی ہے کہ ایک مرتبہ) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ سر تاج دو عالم ﷺ کے ہمراہ عید میں شریک ہوئے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں (پھر آپ نے یہ تفصیل بیان کی کہ) رسول اللہ ﷺ (عیدگاہ) تشریف لے گئے چناچہ آپ ﷺ نے وہاں عید کی نماز پڑھی پھر خطبہ ارشاد فرمایا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ نے (رسول اللہ ﷺ کی نماز تفصیل سے بیان کرنے کے دوران) تکبیر و اذان کا ذکر نہیں کیا (پھر انہوں نے فرمایا کہ) اس کے بعد آپ ﷺ عورتوں کی جماعت کی طرف آئے، ساتھ حضرت بلال ؓ بھی تھے، ان عورتوں کو نصیحت فرمائی، دین کے احکام یاد کرائے۔ ثواب و عذاب کے بارے میں بتایا اور ان کو صدقہ (یعنی فطرانہ و زکوٰۃ یا محض اللہ کے نام پر) دینے کا حکم فرمایا چناچہ میں نے عورتوں کو دیکھا کہ وہ اپنے ہاتھ کانوں اور گلوں کی طرف (زیور اتارنے کے لئے) بڑھاتی تھیں اور کانوں اور گلوں کے زیور (اتار اتار کر) حضرت بلال ؓ کے حوالہ کر رہی تھیں (تاکہ وہ ان کی طرف سے فقراء و مساکین میں تقسیم کردیں) پھر اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اور حضرت بلال اپنے گھر تشریف لے آئے۔ (صحیح البخاری ) تشریح جیسا کہ حضرت جابر ابن سمرہ ؓ نے بھی وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ اس روایت سے بھی ثابت ہو رہا ہے کہ نماز عید و بقر عید کے لئے اذان و تکبیر مشروع نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے حکم سے عورتیں بھی نماز عید و بقر عید میں عید گاہ جاتی تھیں۔ چناچہ جب آپ ﷺ مردوں کو وعظ و نصیحت فرما چکے تو علیحدہ سے عورتوں کے پاس بھی انہیں پند و نصیحت کرنے کے لئے تشریف لے گئے کیونکہ عورتیں مردوں سے الگ ایک طرف بیٹھی ہوتی تھیں اس لئے جب آپ مردوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آواز ان تک اچھی طرح نہیں پہنچتی تھی۔

1403Mishkaat-al-Masabih

نماز عیدین سے پہلے یا بعد میں نفل نماز پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلّٰی ےَوْمَ الْفِطْرِ رَکْعَتَےْنِ لَمْ ےُصَلِّ قَبْلَھُمَا وَلَا بَعْدَھُمَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عید الفطر کے دن (نماز عید کی) دو رکعتیں پڑھیں نہ تو آپ ﷺ نے ان سے پہلے (نفل) نماز پڑھی اور نہ بعد میں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح علامہ ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ یہ نفی عید گاہ سے متعلق ہے کیونکہ حضرت ابوسعید خدری ؓ کی یہ روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز عید سے پہلے (نفل) نماز نہیں پڑھتے تھے ہاں جب (عید گاہ) سے اپنے گھر تشریف لے جاتے تو دو رکعتیں پڑھتے چناچہ در مختار میں لکھا ہے کہ نماز عید سے پہلے نفل نماز پڑھنی مطلقاً مکروہ ہے یعنی عیدگاہ میں بھی مکروہ ہے اور گھر میں بھی۔ البتہ نماز عید کے بعد عیدگاہ میں نفل نماز پڑھنی مکروہ ہے مگر گھر میں جائز ہے۔

1404Mishkaat-al-Masabih

عیدگاہ میں عورتوں کے جانے کا مسئلہ

وَعَنْ اُمِّ عَطِےَّۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ اُمِرْنَا اَنْ نُّخْرِجَ الْحُےَّضَ ےَوْمَ الْعِےْدَےْنِ وَذَوَاتِ الْخُدُوْرِ فَےَشْھَدْنَ جَمَاعَۃَ الْمُسْلِمِےْنَ وَدَعَوْتَھُمْ وَتَعْتَزِلُ الْحُےَّضُ عَنْ مُّصَلَّاھُنَّ قَالَتِ امْرَاَۃٌ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِحْدٰنَا لَےْسَ لَھَا جِلْبَابٌ قَالَ لِتُلْبِسْھَا صَا حِبَتُھَا مِنْ جِلْبَابِھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا کہ ہم عید و بقرہ عید کے دن ان عورتوں کو (بھی) جو ایام والی ہوں (یعنی جو ایام سے ہوں یا یہ کہ جو بالغ ہوں) اور (بھی جو پردہ نشین ہوں (گویا یا تمام عورتوں کو) عید گاہ لے چلیں اور یہ سب مسلمانوں کی جماعت اور دعا میں شریک ہوں۔ نیز جو عورتیں ایام سے ہوں وہ نماز پڑھنے کی جگہ سے الگ رہیں ایک عورت نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے جس کے پاس چادر نہیں (وہ کیا کرے؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اسے ساتھ والی چادر اڑھا دے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح خطابی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے تمام عورتوں کو عید گاہ جانے کا حکم فرمایا تاکہ جن عورتوں کو کوئی عذر نہیں ہے وہ تو نماز پڑھیں اور جن عورتوں کو کوئی عذر ہے انہیں نماز اور دعا کی برکت پہنچے گویا اس طرح لوگوں کو ترغیب دلائی جا رہی ہے کہ وہ نمازوں میں شریک ہوں۔ وعظ و ذکر کی مجالس میں حاضر ہوں اور علماء و صلحا کا قرب حاصل کریں تاکہ انہیں اللہ کے ان نیک و مقدس بندوں کی برکت حاصل ہو اگرچہ رسول اللہ ﷺ کے مقدس زمانے میں عورتوں کے لئے عید گاہ جانا ممنوع نہیں تھا مگر آجکل کے زمانے میں فتنہ و فساد کے خوف سے عورتوں کے لئے عیدہ گاہ جانا مستحب نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں عورتوں کے عید گاہ جانے کی توجیہہ امام طحاوی نے یہ بیان فرمائی ہے کہ چونکہ اس وقت اسلام کا ابتدائی دور تھا مسلمان بہت کم تھے اس لئے رسول اللہ ﷺ کا یہ مقصد تھا کہ اگر تمام عورتیں بھی عیدگاہ جائیں گی تو مسلمانوں کی تعداد زیادہ معلوم ہوگی جس سے کفار پر رعب پڑے گا۔ لہٰذا آجکل نہ صرف اس کی ضرورت ہے بلکہ عورتوں کی موجودگی چونکہ بہت زیادہ محرمات و مکروہات کا ذریعہ بن سکتی ہے اس لئے علماء نے عورتوں کو عید گاہ جانے سے روک دیا ہے۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی عورت کے پاس ایسی کوئی چادر اور کوئی کپڑا نہ ہو جسے اوڑھ کر وہ عید گاہ جاسکے تو اس کی ساتھ والی کو چاہیے کہ یا تو اس کے پاس کئی چادریں ہوں تو ایک چادر عاریتا اس عورت کو دے جسے وہ بعد میں واپس کر دے گی یا پھر یہ کہ اگر اس کے پاس کئی نہیں بلکہ ایک ہی چادر ہے تو اپنی چادر کا ایک حصہ اس کو اڑھا دے اور دونوں ایک جگہ بیٹھ جائیں۔

1405Mishkaat-al-Masabih

نغمہ و سرور کا مسئلہ

وَعَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ اِنَّ اَبَابَکْرٍ دَخَلَ عَلَےْھَا وَعِنْدَھَا جَارِےَتَانِ فِیْ اَےَّامِ مِنًی تُدَفِّفَانِ وَتَضْرِبَانِ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ تُغَنِّےَانِ بِمَا تَقَاوَلَتِ الْاَنْصَارُ ےَوْمَ بُعَاثَ وَالنَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم مُتَغَشٍّ بِثَوْبِہٖ فَانْتَھَرَ ھُمَا اَبُوْ بَکْرٍ فَکَشَفَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ وَّجْھِہٖ فَقَالَ دَعْھُمَا ےَا اَبَا بَکْرٍ فَاِنَّھَا اَےَّامُ عِےْدٍ وَّفِیْ رِوَاےَۃٍ ےَّا اَبَا بَکْرٍ اِنَّ لِکُلِّ قَوْمٍ عِےْدًا وَّھٰذَا عِےْدُنَا ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ ایام منیٰ میں (یعنی جن دونوں میں حجاج منیٰ میں قیام کرتے ہیں اور جو ایام تشریق کہلاتے ہیں انہیں میں سے بقر عید کے دن یا اس کے بعد کے دنوں میں) حضرت ابوبکر صدیق میرے پاس تشریف لائے جب کہ اس وقت میرے پاس (انصار کی لڑکیوں میں سے) دو چھوکریاں بیٹھی ہوئی دف بجا رہی تھیں ایک دوسری روایت میں ان الفاظ کی بجائے یا یہ کہ مزید) یہ الفاظ ہیں کہ چھوکریاں (وہ اشعار) گا رہی تھیں جو انصار نے بعاث کی جنگ کے متعلق کہے تھے اور رسول اللہ ﷺ اس وقت منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے لیٹے ہوئے تھے حضرت ابوبکر صدیق ان چھوکریوں کو دھمکانے لگے یعنی انہیں گانے بجانے سے منع فرمایا رسول اللہ ﷺ نے اپنا منہ کھولا اور فرمایا کہ ابوبکر انہیں چھوڑ دو کچھ نہ کہو کیونکہ یہ عید یعنی خوشی کے دن ہیں ایک اور روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوبکر! ہر قوم کی عید ہوتی ہے یہ ہماری عید ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح لفظ تضربان گویا تدفعان کی تاکید کے لئے استعمال کیا گیا ہے لیکن بعض حضرات نے اس کے یہ معنی بیان کئے ہیں کہ وہ لڑکیاں اچھلتی کودتی تھیں اور دف بجاتی تھیں دف بجانے کا مسئلہ دف باجے کے بارے میں علماء کے دو قول ہیں۔ ایک قول تو یہ ہے کہ دف بجانا مطلقاً مباح ہے یعنی کسی بھی وقت اور کسی بھی موقعہ پر بجایا جاسکتا ہے اس کے برخلاف دوسرا قول یہ ہے کہ مطلقاً حرام ہے۔ اس سلسلے میں صحیح مسئلہ یہ ہے کہ بعض مواقع پر مثلاً نکاح، ولیمہ یا اس قسم کی دوسری تقریبات میں کہ جو انہیں دونوں کے حکم میں ہوں، نیز عیدین میں دف بجانا مباح ہے۔ پھر علماء نے دف میں فرق کیا ہے یعنی اگر دف جھانجدار ہے تو اس کا بجانا مکروہ ہے اور اگر جھانجدار نہ ہو تو مکروہ نہیں ہے۔ اگرچہ جھاندار دف کے بارے میں بھی علماء نے اختلاف کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ تغنیان (گارہی تھی) کا مطلب یہ ہے کہ لڑکیاں وہ اشعار پڑھ رہی تھیں جن میں شجاعت و بہادری کے مضمون مذکور تھے اور جو انصار نے بعاث پر چڑھائی اور وہاں کی جنگ کے متعلق کہے تھے جیسا کہ بہادروں کی عادت ہے کہ جنگ کے وقت اپنی شجاعت و بہادری پر مشتمل اشعار بڑے فخر کے ساتھ کہتے ہیں۔ بعاث ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ بعض حضرات کی تحقیق یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں انصار کے دو قبیلوں اوس اور خزرج کے درمیان سخت جنگ ہوئی تھی جس میں قبیلہ اوس کا میاب رہا تھا اسی جنگ کو جنگ بعاث کہا جاتا ہے۔ بہر حال لڑکیاں جو اشعار گا رہی تھیں وہ فواحش اور حسن و عشق کے ان مضامین کے حامل نہیں تھے جن کا پڑھنا معیوب اور ممنوع ہے بلکہ وہ اشعار جنگ و جدل کے کارناموں، معرکہ آرائیوں کی پر شجاعت داستانوں اور میدان جنگ کی گرم کہانیوں پر مشتمل تھے جن کے پڑھنے سے اشاعت دین میں مدد ملتی تھی بایں طور کہ وہ کفار سے جہاد کرنے کے لئے مومنین کو ترغیب دلاتے تھے ورنہ ان لڑکیوں کی کیا مجال کہ عائشہ صدیقہ ؓ کی موجودگی میں اور سرکار دو عالم ﷺ کے سامنے وہ برے اور معیوب اشعار کی جرات بھی کرتیں۔ چنانچہ صحیح البخاری کی ایک روایت میں لفظ تغنیان کے بعد یہ الفاظ بھی مذکور ہیں کہ ولیستا بمغنیتین یعنی لڑکیاں اشعار گا رہی تھیں اور گانا ان لڑکیوں کا کسب و پیشہ نہیں تھا کہ کوئی زیادہ اچھا گاتی ہوں اور گانے بجانے کے فن میں مشہور ہوں یا یہ کہ وہ اپنے اشعار کے ذریعہ خیالات فاحشہ و خواہشات نفسانی کے ہیجان و اشتیاق کا سبب بنتی ہوں جو فتنہ و فساد کا باعث ہوتا بلکہ وہ بالکل اسی انداز میں اشعار پڑھ رہی ہیں جیسا کہ اکثر شریف زادیاں اپنے گھروں میں پاکیزہ خیالات کے حامل اشعار گنگنایا کرتی ہیں۔ فانتھر ھما ابوبکر (حضرت ابوبکر ان چھو کریوں کو دھمکانے لگے) یعنی جیسا کہ صحیح البخاری میں مذکور ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ نے ان لڑکیوں سے کہا کہ سرکار دو عالم ﷺ کے قریب مز مار شیطان (یعنی شیطانی باجا) بجاتی ہو؟ گویا حضرت ابوبکر نے انہیں تنبیہ کی اور اس فعل سے منع فرمایا اصطلاحاً مزمار ہر اس باجے کو کہتے ہیں جو گویے بجاتے ہیں مثلاً بانسری، دف رباب ( سارنگی) حضرت ابوبکر نے لڑکیوں کے باجے کو شیطانی باجا اس لئے کہا کہ جس طرح شیطان اپنی ذات سے انسانوں کی عملی زندگی کو نیک کاموں سے ہٹا کر برے کاموں میں مشغول کردیتا ہے اسی طرح باجا بھی انسانی قلوب کو یاد الہٰی کے مقدس راستے سے ہٹا کر لہو و لعب و ناجائز خواہشات کے راستے پر ڈال دیتا ہے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح گذشتہ امتوں اور غیر مسلموں کے ہاں خوشی و مسرت اور عید کا ایک خاص دن ہوتا ہے جیسے قوم مجوس کے ہاں نوروز ایک خاص دن ہے جس میں وہ اپنی عید مناتے ہیں اسی طرح مسلمانوں کے لئے بھی خوشی و مسرت اور شادمانی کے دو دن ہیں اور وہ عید و بقر عید کے دن ہیں یہ مشابہت صرف تمیثل کی حد تک ہے ان کے معتقدات و افعال کے ساتھ مشابہت مقصود نہیں ہے یعنی اس کا یہ مقصد نہیں ہے کہ جس طرح غیر مسلم اپنے خوشی و تہواروں کے دن غلط کام کرتے ہیں اسی طرح غلط کام مسلمان بھی ان دنوں میں کرسکتے ہیں۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ عید و بقر عید کے دن غیر مسلموں کے تہوار کی مشابہت اختیار کرنا کفر ہے مثلا غیر شرعی اور غیر مناسب زیبائش و آرائش کرنا، انڈے لڑانا، مردوں کا مہندی لگانا، ناچ گانوں میں مشغول ہونا وغیرہ وغیرہ۔ حدیث سے اہل سماع کا غلط استدلال اس حدیث سے اہل سماع کو بڑی زبردست غلط فہمی ہوگئی ہے۔ ان لوگوں نے اس حدیث کی بنیاد پر ڈھولک وہارمونیم جیسے ساز کے ساتھ قوالی کے مباح ہونے اور اس کے سننے کو جائز قرار دیا ہے حالانکہ اس حدیث کا قطعی طور پر وہ مفہوم و مطلب نہیں ہے جو اہل سماع نے مراد لیا ہے بلکہ بنظر انصاف اور بغیر کسی تعصب و ہٹ دھرمی کے اگر معقولیت پسند قلب و دماغ کے ساتھ اس حدیث کے حقیقی مفہوم کو دیکھا جائے تو وہ پوری وضاحت کے ساتھ یہ ہے کہ حضرت ابوبکر نے ان لڑکیوں کو گانے اور دف بجانے سے اس لئے منع کیا اور انہیں دھمکایا کہ ان کے نزدیک گانا بجانا مطلقاً معیوب و ممنوع تھا۔ نیز انہوں نے یہ گمان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لڑکیوں کو ان کے گانے بجانے سے اس لئے منع نہیں فرمایا کہ آپ ﷺ سوئے ہوئے تھے اور آپ ﷺ کو یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہاں کیا ہو رہا ہے؟ حالانکہ حضرت ابوبکر کو یہ معلوم نہیں تھا آپ ﷺ نے اس دن بہت معمولی طریقے پر اشعار پڑھنے کی اجازت دی تھی جس کا شمار حقیقی گانے بجانے اور لہو و لعب میں نہیں تھا۔ حاصل یہ کہ حضرت ابوبکر کو اس فرق اور تفصیل کا علم نہیں تھا اس لئے انہوں نے لڑکیوں کو اشعار پڑھنے سے روکا جس پر رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر سے کہا کہ وہ لڑکیوں کو کچھ نہ کہیں۔ لہٰذا اس حدیث سے صرف اس قدر ثابت ہوا کہ عید کے روز یا ایسے کسی موقع پر جہاں خوشی منانی مباح ہے شریعت کی حدود کی اندر رہتے ہوئے کچھ اشعار پڑھ لینا مباح ہے پھر یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اس واقعہ کا تعلق ایک مخصوص جگہ اور مخصوص وقت سے ہے جس سے گانے بجانے کا مطلقاً مباح ہونا لازم نہیں آتا۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کسی خاص موقع پر ایک آدھ مرتبہ دف بجانا اور سماع ممنوع نہیں ہے لیکن اس پر مداومت کرنا مکروہ ہے کیونکہ مستقل طور پر گانا بجانا وصف تقوی اور اخلاق فاصلہ کو ختم کردیتا ہے جس کی وجہ سے ایسا آدمی شریعت کی نظر میں اپنا اعتماد کھو دیتا ہے۔ ابن مالک فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ دف جائز ہے جب کہ اس میں چھانج نہ ہو اور کبھی کبھی ایک آدھ دفعہ بجایا جائے۔ نیز ایسے اشعار پڑھنے جائز ہیں جس میں کسی کی برائی ومذمت نہ بیان کی گئی ہو اور جو فحش مضامین پر مشتمل نہ ہوں۔ فتاوی قاضیخاں میں لکھا ہے کہ سننا گناہ ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ باجوں کا سننا گناہ، اس کی مجلس میں شرکت فسق اور اس سے لطف انداوز ہونا شعار کفر سے ہے۔ نیز مسئلہ یہ ہے کہ اگر غیر اختیاری طور پر باجے کی آواز کان میں پڑجائے تو کوئی گناہ نہیں۔ باجوں کی آواز سے حتی الامکان بچنے کی پوری کوشش کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ ایسے موقعہ پر آپ ﷺ کانوں میں انگلیاں ڈال لیتے تھے۔ علماء لکھتے ہیں کہ زمانہء جاہلیت کے ایسے عربی اشعار پڑھنا کہ جن میں فحش مضامین مثلاً شراب و کباب اور حسن و عشق کے تذکرے ہوں مکروہ ہے۔ ایک جلیل القدر محدث نے اس حدیث کے فائدے میں سماع و غنا کا مسئلہ پوری وضاحت کے ساتھ لکھا ہے اس موقعہ پر اس کا خلاصہ نقل کردینا مناسب ہے۔ موصوف فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ دف بجانا اور گانا ممنوع ہے ہاں کچھ مواقع پر مثلاً عید یا اسی قسم کی کسی دوسری خوشی کی تقریب میں یعنی نکاح وغیرہ میں اس کی ایک حد تک اجازت ہے، کیونکہ حضرت ابوبکر صدیق کی صحابہ میں سب سے زیادہ فضیلت ہے۔ انہیں احکام دین خوب اچھی طرح معلوم تھے انہوں نے گانے کو مزمار شیطان کہا رسول اللہ ﷺ نے اس موقع پر جواباً انہیں منع فرمایا تو اس بات سے منع نہیں فرمایا تھا کہ گانے کو مزمار شیطان کہا۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں عید کے دن کے لئے منع فرمایا کہ آج کے دن اس میں اتنی شدت اختیار نہ کرو۔ گویا رسول اللہ ﷺ کے ارشاد کا مقصد گانے بجانے کی ممانعت کے سلسلے میں حضرت ابوبکر کے قول کی تردید نہیں تھا بلکہ مراد یہ تھی کہ گانے بجانے کا صرف اتنا معمولی درجہ کہ جس میں یہ لڑکیاں مشغول ہیں آج کے دن ممانعت کے حکم سے مستثنیٰ ہے اگر لڑکیاں شرعی و اخلاقی حدود میں رہ کر شجاعت و بہادری کی تعریف و توصیف پر مشتمل اشعار ترنم کے ساتھ پڑھ رہی ہیں تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے صرف یہ کہ خود لڑکیوں کے اس فعل سے کوئی دلچسپی نہیں لی (جیسا کہ یہ معلوم ہوچکا ہے کہ آپ ﷺ اس وقت سو رہے تھے بلکہ حضرت ابوبکر کو بھی اس کی ترغیب نہیں دلائی بلکہ آپ ﷺ نے ایک طرح اس سے لا پروائی بھی برتی، گویا آپ ﷺ نے اپنے اس فعل کے ذریعے بھی اس دن اس کے ناجائز ہونے کی طرف اشارہ فرمایا۔ لہٰذا یہ حدیْث مطلق طور پر سماع و غنا اور گانے بجانے کی اباحت کی دلیل قرار نہیں دی جاسکتی۔ جیسا کہ بعض حضرات اس حدیث کے دور از حقیقت مفہوم کا سہارا لے کر سماع و غنا کے مطلقاً جواز کو ثابت کرتے ہیں۔ سماع کی حرمت و کراہت یہ تو حدیث کی وضاحت اور اس کی تشریح تھی۔ اب اصل مسئلے کی طرف آئیے اور دیکھئے کہ اس بارے میں سلف کی رائے کیا ہے۔ سماع و غنا کا مسئلہ ہمیشہ سے علماء و فقہا کے درمیان مختلف فیہ رہا ہے۔ صحابہ وتابعین کی بھی اس سلسلے میں مختلف رائیں تھیں۔ لیکن جلیل القدر صحابہ اس کی حرمت و کراہت کے قائل تھے۔ چناچہ انہوں نے آیت کریمہ (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّشْتَرِيْ لَهْوَ الْحَدِيْثِ ) 31۔ لقمان 6) کی مراد غنا (نغمہ و سرور) بیان کی ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس و حضرت عبداللہ ابن مسعود تو اس مراد کے تعین کے سلسلہ میں قسم تک کھاتے اور کہا کرتے تھے کہ یہاں غنا مراد ہے۔ اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس اور مجاہد کے نزدیک آیت کریمہ (وَاسْتَفْزِزْ مَنِ اسْ تَ طَعْتَ مِنْهُمْ بِصَوْتِكَ ) 17۔ الاسراء 64) میں شیطان کی آواز سے مراد غنا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عمر کے بارے میں منقول ہے کہ وہ گانے سے اور گانا سننے سے منع فرمایا کرتے تھے۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا ارشاد منقول ہے کہ اگر کوئی ایسا آدمی مرجائے جس کے پاس گا ئن (گانے والی عورت) ہوں تو اس کی نماز جنازہ مت پڑھو۔ حضرت ابوامامہ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ گا ئن (گانے والی عورت) کی نہ تو خریدو فروخت کرو اور نہ انہیں تعلیم دو (یعنی ان سے مکمل مقاطعہ رکھو) اس ارشاد کے مثل یہ آیت کریمہ من یشتری لھو الحدیث نازل ہوئی تھی۔ چناچہ اسی وجہ سے بعض علماء فرماتے ہیں کہ جو احادیث نغمہ سرور کی اباحت پر دلالت کرتی ہیں ان کا تعلق اس ممانعت سے قبل کے زمانے سے ہے۔ جب یہ آیت شریفہ نازل ہوئی اور غنا کی ممانعت واضح ہوئی تو احادیث منسوخ قرار دے دی گئیں۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ یہ ارشاد منقول ہے کہ غنا نفاق کو اسی طرح اگاتا ہے جیسے پانی سبزہ کو اگاتا ہے۔ حضرت جابر سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ جس طرح پانی کھیتی کو اگاتا ہے یوں ہی غنا نفاق کو اگاتا ہے حضرت انس ؓ سے یہ الفاظ منقول ہیں کہ غناء اور لہو و لعب دل میں نفاق کو اس طرح اگاتے ہیں جیسے پانی گھاس کو اگاتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ یہ الفاظ منقول ہیں کہ غنا کی محبت دل میں نفاق کو اس طرح اگاتی ہے جیسے پانی گھاس کو اگاتا ہے ان ارشادات میں نفاق سے مراد وہ عملی نفاق ہے جو ظاہری احوال کے برخلاف گناہ کی خواہش کو پوشیدہ رکھتا ہو۔ حضرت فضیل بن عیاض فرماتے ہیں کہ غنا زنا کا منتر ہے بہر حال۔ اس سلسلے میں صحابہ اور تابعین کے اس قسم کے اور بہت سے ارشادات منقول ہیں۔ جہاں تک فقہاء کا تعلق ہے انہوں نے بھی اس کی حرمت اور کراہت کو بہت زیادہ شدت کے ساتھ بیان کیا ہے۔ چناچہ چاروں اماموں کا متفقہ طور پر جو مشہور اور صحیح قول ہے وہ یہ ہے کہ غنا مکروہ ہے اگرچہ اس کی حرمت کا اطلاق بھی منقول ہے۔ چنانچہ قاضی ابولطیف نے شعبی، سفیان ثوری، حماد، نخعی اور فاکہی سے اس کا حرام ہونا نقل کیا ہے۔ علامہ بغوی نے بھی تفسیر معالم النزیل میں یہی لکھا ہے کہ چاروں ائمہ کے ہاں غنا حرام ہے۔ علامہ قرطبی نے فرمایا ہے کہ غنا کی حرمت کے بارے میں اختلاف نہیں ہے کیونکہ وہ لہو و لعب کے قبیل سے ہے جو متفقہ طور پر سب کے یہاں مذموم ہے۔ ہاں جو غنا محرمات سے محفوظ ہو وہ تھوڑا بہت شادی بیاہ، عید اور اسی قسم کی دوسری تقریبات میں جائز ہے۔ علماء کی ایک جماعت کا رجحان غنا کی اباحت کی طرف ہے۔ اس سلسلے میں اتنی بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ ہاں جس غنا اور نغمہ اور سرور کے بارے میں بحث کی جا رہی ہے اور جو حرمت و اباحت کا محل اختلاف ہے اور وہ اس قسم کا غنا ہے جسے گویے اور گلوکار بطور فن اور پیشہ اختیار کئے ہوئے ہیں چناچہ وہ صرف لوگوں کی طبیعتوں میں انتشار و ہیجان اور کیف و نشاط پیدا کرنے کے لئے ایسے اشعار گاتے ہیں جو محض محرمات کے ذکر پر مشتمل ہوتے ہیں! ہاں وہ غنا مباح ہیں جو ایسے پاکیزہ اشعار پر مشتمل ہوں جن سے قلوب روحانی استنباط محسوس کریں اور جو محرمات و مکروہات کے ذکر پر مشتمل نہ ہوں مثلاً خدا تعالیٰ کی حمد، رسول اکرم ﷺ کی نعت، حرمین شریفین یا دوسری مقدس چیزوں کی منقبت، جہاد اور میدان جہاد کے اوصاف جیسے حدا نصب، رکبانی بچوں کو خوش کرنے یا انہیں سلانے کے لئے ماؤں بہنوں کی لوریاں، بزرگان دین کی جائز توصیف و تعریف، قطع مسافت کے لئے مسافروں کی وابستگی، خوشی و مسرت کے اظہار اور اسی قسم کے دوسرے مضامین کے حامل اشعار ترنم کے ساتھ پڑھنا یہ جائز نہیں ہے بلکہ ایک حد تک یہ مستحب ہے کیونکہ یہ نیک و بامقصد اعمال کے لئے موجب نشاط ہے۔ جو لوگ غنا کی اباحت کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں کہ غنا اور سماع اکثر صحابہ، تابعین، محدثین اور علماء دین سے جو اصحاب زہد وتقوی ہیں، سے منقول ہے۔ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ غنا کی حرمت و کراہت کے سلسلے میں ائمہ یا بعض اکابر سے جو سخت الفاظ منقول ہیں وہ دراصل اس غنا پر محمول ہیں جس میں فحش مضامین یا ان سے غیر شرعی چیزوں مثلاً مزامیر وغیرہ کا ارتباط ہوتا ہو۔ یہ بات ان حضرات کی جانب سے اسی لئے کہی جاتی ہے تاکہ ائمہ اور علماء کے قول و فعل میں تطبیق ہوجائے کیونکہ ان سے بھی غنا کا سننا منقول ہے۔ پہلے زمانے کے بزرگوں اور مشائخ اور بعد کے بزرگوں اور مشائخ کے اقوال و افعال کے درمیان بھی اختلاف ہے چناچہ پہلے زمانے کے مشائخ جو راہ طریقت کے پیش رو اور راہنما ہیں اس سے اجتناب کرتے تھے مگر بعد کے بعض مشائخ سے سماع کی ابتدا ہوئی ہے اس سلسلے میں پہلے زمانے کے مشائخ کے قول و فعل کے بارے میں اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت شیخ حماد و یاس جو اپنے وقت کے امام طریقت اور سلسلہ قادر یہ کے ایک جلیل القدر شیخ تھے۔ ایک مرتبہ جمعے کی نماز کے لئے جا رہے تھے۔ کہ راستے میں اچانک ان کے کان میں گانے کی آواز پہنچی فوراً رک گئے اور فرمایا کہ آج مجھ سے کون سا ایسا گناہ سرزد ہوا ہے جس کی سزا میں مجھے اس میں مبتلا کیا گیا ہے؟ بہت دیر تک غور کرتے رہے مگر ایسی کوئی بات محسوس نہیں ہوئی جس سے یہ سمجھتے کہ فلاں گناہ ہوا ہے۔ جب گھر واپس آئے تو پھر تحقیق شروع کی۔ بہت دیر کے بعد معلوم ہوا کہ ایک تصویر دار پیالہ خرید لیا تھا۔ فرمایا یہی سبب ہے جس کی وجہ سے میں اس سزا میں گرفتار ہوا (کہ گانے کی آواز میرے کان میں پہنچی) حضرت غوث الاعظم کے قول و ارشادات دیکھنے سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موصوف بھی اس کو مکروہ جانتے تھے حضرت شبلی کے بارے میں منقول ہے کہ ان سے ایک مرتبہ پوچھا گیا کہ غنا جائز ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا غنا حق ہے؟ (یعنی اس میں غیر شرعی وغیر اخلاقی مضامین مذکور نہیں ہیں) لوگوں نے کہا کہ نہیں! فرمایا کہ اگر وہ حق نہیں ہے تو پھر گمراہی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے اور پھر فرمایا کہ اس کے مکروہ ہونے کی یہی دلیل کافی ہے کہ اس کے ذریعے نہ صرف یہ کہ طبیعت میں انتشار، خواہشات نفسانی میں ہیجان اور عورتوں کی طرف میلان ہوتا ہے بلکہ اس میں نفس امارہ کی رعونت و خوشی عقل کی سبکی اور دنائت کا اظہار بھی ہے۔ البتہ اللہ کے ذکر اور اس کی یاد میں مشغول ہوجانا ہر اس آدمی کے لئے جو اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لایا ہے سب سے بہتر ہے حضرت شیخ ابوالحسن شازلی جو سلسلہ شاذلیہ کے امام اور پیشوا ہیں فرماتے ہیں کہ جو لوگ سماع میں مشغول ہوتے ہیں اور ظالموں کے ہاں کھانا کھاتے ہیں ان میں یہودیت کا ایک حصہ شامل ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ سَمَّا عُوْنَ لِلْکَذِبِ اکَّالُوْنَ لِلْسُّحْتِ حضرت امام غزلی فرماتے ہیں کہ سماع کے کئی درجے ہیں (١) نوجوانوں کے لئے حرام محض ہے کیونکہ نوجوانوں کے مزاج و طبیعت پر خواہشات نفسانی کا غلبہ ہوتا ہے اس لئے سماع ان کے لئے بجائے کوئی اچھا اثر مرتب کرنے کے ان کی خواہشات نفسانی میں اور زیادہ انتشار و ہیجان پیدا کرتا ہے۔ (٢) اس آدمی کے لئے مکروہ ہے جو اکثر اوقات بطریق لہو و لعب کے سماع میں مشغول رہے۔ (٣) اس آدمی کے لئے مباح ہے جو محض ترنم اور خوش گلوئی سے دلچسپی رکھتا ہے۔ (٤) اس آدمی کے لئے مندوب ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی محبت کا غلبہ ہو اور سماع اس کے لئے صرف اچھے اثرات مرتب کرے مشائخ چشتیہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ سماع سے دلچسپی رکھتے تھے مگر ان کی دلچسپی آداب و شرائط کے حدود کے اندر ہوتی تھی چناچہ وہ حضرات اکثر و بیشتر خلوت میں سماع سنتے تھے جہاں نہ تو غیر ہوتے تھے اور نہ غیر محرم۔ حضرت شیخ المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی سماع سنتے تھے لیکن ان کی مجلس سماع مزامیر و قوالی جیسی لغویات سے پاک ہوتی تھی۔ بہر حال مطلب یہ ہے کہ جو صوفیہ سماع کے قائل ہیں ان کے ہاں یہ کلیہ مقرر ہے کہ سماع صرف اہل دل کے مباح ہے۔ چناچہ انہوں نے نہ صرف یہ کہ سماع کے آداب و شرائط مقرر کئے ہیں بلکہ یہ بھی بتادیا ہے کہ سماع سننے کا اہل کسے کہا جاسکتا ہے۔ اور ایسے ہی سماع کی ممانعت کے سلسلے میں فقہاء اور اکابر اولیاء اللہ کے جو الفاظ منقول ہیں ان کا تعلق اس نغمہ سرور سے ہے جس کے ساتھ غیر مشروع چیزیں مثلاً مزامیر وغیرہ کی آمیزش ہو اور جس کی بنیاد محض خواہشات نفسانی اور لہو و لعب ہو ورنہ تو فی نفسہ خوش گلوئی ممنوع نہیں ہے کیونکہ وہ مباح الاصل ہے۔ پھر اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جس طرح خوش گلوئی کے اندر مفاسد ہیں اسی طرح مصالح خیر بھی ہیں مثلاً نغمہ و ترنم سخت دل کو نرم کرتا ہے اور عبادت میں ذوق و شوق اور حلاوت و خشوع پیدا کرتا ہے تاہم اس کے باوجود نغمے پر مداومت اکابر سلف کے طریقہ اتباع سے بعید ہے، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جو آدمی اس پر مداومت کرے گا وہ اس کی دلچسپی کو عبادت و ریاضت پر ترجیح دینے لگے اور شیطان کا مکر و فریب اسے اس راستے سے اپنے جال میں پھنسا کر اطاعت و شریعت کی اہمیت کو اس کی نظر سے کم کر دے جس کی وجہ سے وہ غلط راستے پر بھٹکنے لگے۔ لہٰذا سماع بذاتہ تو مباح ہے لیکن غلط عوارض جیسے عورت و شراب کے ذکر، نامحرم عورتوں اور مرد کے گانے، مزامیر یعنی ڈھول وہارمونیم وغیرہ کی آمیزش، نفسانی خواہشات، سماع کی نااہلیت اور اس پر مداومت کی وجہ سے ممنوع ہے۔ چنانچہ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ جو لوگ معرفت و حقیقت اور محبت و حال کے مدعی ہو کر اپنے ایک خاص جذبے کی تسکین کی خاطر سماع میں مشغول ہو کر حقیقی ذکر اللہ اور تلاوت قرآن کریم وغیرہ سے محروم رہتے ہیں وہ اپنے نفس کے دھوکے اور شیطان کے فریب میں مبتلا ہیں کہ وہ درحقیقت راہ راست سے ہٹ کر غلط راستہ اختیار کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے وہ روز بروز دین و شریعت سے دور تر ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وہ دیگر عبادات میں کیا مشغول رہتے کہ ان کی نمازیں بھی بےروح ہو کر محض، نشست و برخاست کا ایک مجموعہ بن کر رہ گئی ہیں۔ اور نمازیں بھی جبراً ریاء کی وجہ سے یا اللہ کی مخلوق کی نظروں میں بظاہر اپنی دینی و مذہبی زندگی کو نمایاں کرنے کے لئے پڑھتے ہیں۔ کاش انہیں سماع سے اس قدر دلچسپی نہ ہوتی صرف وہ نماز روزے اور دیگر فرائض خلوص نیت کے ساتھ ادا کرتے تو ان کا دین تو کم سے کم بنا رہتا۔ اس سلسلے میں یہ صورت بھی ہے کہ آجکل جو لوگ سماع کے قائل ہیں ان کا مطمح نظر یہ ہے کہ فلاں بزرگ سماع سنتے تھے یا ہمارے فلاں پیشوا اس کے قائل تھے لہٰذا جب انہوں نے اسے اختیار کیا تو ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہیں اور ان کی اتباع میں سماع کو جائز قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ بھی محض فریب نفس ہے کیونکہ اگر بزرگوں نے سماع کو اختیار کیا اور اس سے دلچسپی رکھی تو وہ ان کی حالت بےخودی اور غلبہ حال تھا، انہوں نے اگر سماع سنا ہے تو اس پر مداومت نہیں کی بلکہ کبھی کبھی مصلحت کے پیش نظر سنا ہے۔ پھر یہ کہ ان کے ہاں مجالس سماع کی یہ جلوہ نگاری نہیں تھی بلکہ انہوں نے خلوت میں اور خلوص نیت کے ساتھ سنا ہے نیز انہوں نے ضرورت قرار دے کر کوئی طریقہ مقرر نہیں کیا کہ بہر صورت اس پر عمل کیا جائے۔ پھر یہ کہ کہاں ان بزرگوں کا جذبہ حال و بےخودی اور اور اخلاص نیت اور کہاں ہمارے دور کی دنیاوی و نفسانی خواہشات اور فریب نفس؟ اب تو ان بزرگوں کی صرف اس بات کی تقلید ہے نہ ان کے صالح افکار کی اطاعت ہے اور ان کے نیک اعمال و مقدس زندگیوں کی پیروی۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ بد نام کنندہ نکونامے چند۔ حقیقت یہ ہے کہ ان بزرگوں سے نہ تو ان لوگوں کو کوئی حقیقی نسبت ہے اور نہ ان بزرگوں کا کوئی ان سے تعلق ہے۔ اور جو لوگ ان امور کو باپ دادا کی روایت سمجھ کر بغیر اہلیت کے اختیار کئے ہوئے ہیں ان کے حال پر یہ آیت کریمہ صادق آتی ہے کہ (اِنَّهُمْ اَلْفَوْا اٰبَا ءَهُمْ ضَا لِّيْنَ 69 فَهُمْ عَلٰ ي اٰثٰرِهِمْ يُهْرَعُوْنَ 70) 37۔ الصفت 69) حاصل یہ ہے کہ آجکل جو یہ طریقہ رائج ہے کہ اولیاء اللہ کے مزارات پر عرس کے نام پر محض نمودو نمائش اور حب جاہ و شہرت کے جذبے سے جشن منایا جاتا ہے مجالس رقص و سرور منعقد ہوتی ہیں، قوالوں اور گویوں کی جماعت اپنی قوالی اور سازوسامان کے ساتھ بلائے اور بغیر بلائے صرف شہرت اور مال حاصل کرنے کے لئے آتی ہے۔ ماشا اللہ! کہ پہلے زمانے کے کسی بزرگ کا یہ طریقہ رہا ہو اور کسی بزرگ نے آجکل کی طرح یہ ڈھونگ رچائے ہوں؟ اور پھر غصب یہ کہ ان چیزوں کو مشائخ کے عرسوں میں قرب اللہ کا ذریعہ سمجھا جانے لگا ہے ایسے لوگ غور کریں کہ انہوں نے گمراہی و ضلالت کا کیسا راستہ اختیار کر رکھا ہے یہ کون سی مذہبی اور دینی زندگی ہے؟ کاش یہ لوگ اپنے آپ کو متقی و پرہیزگار اور بزرگان دین کے شیدائی نہ کہتے اور اپنے جسم آزاد پر نام نہاد زہد وتقوی کا یہ جامہء تنگ مزین نہ کرتے۔ خوب اچھی طرح جان لیجئے کہ ایسے لوگوں کی شرعا ودیانۃ نہ تو اطاعت واجب ہے اور نہ ان کی تعظیم ضروری ہے اس لئے کہ اگر ان لوگوں کی عزت و توقیر کی جائے گی تو اس طرح ان کے ان اعمال و افعال کی تائید و مدد ہوگی۔ اللہ ہم سب کو بھی اسی راستہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے جو اس نے اپنے پیغمبر رسول اکرم ﷺ کے ذریعے ہمیں دکھایا ہے۔ آمین۔

1406Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ عید گاہ جانے سے پہلے کھجور تناول فرماتے تھے

وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَغْدُوْ ےَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی ےَاکُلَ تَمَرَاتٍ وَّےَاکُلُھُنَّ وِتْرًا۔(صحیح البخاری)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھجوریں تناول فرمائے بغیر عید گاہ تشریف نہیں لے جاتے تھے اور کھجوریں طاق کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح آپ ﷺ عید کے روزعید گاہ جانے سے بیشتر کھجوریں نوش فرما کر گویا کھانے میں جلدی کرتے تھے تاکہ پہلے دنوں یعنی ایام رمضان میں امتیاز پیدا ہوجائے کیونکہ جس طرح رمضان میں نہ کھانا واجب ہے اسی طرح عید کے روز کھانا واجب ہے۔ آپ ﷺ کھجوریں طاق یعنی تین، پانچ، سات یا اس سے کم اور زیادہ تناول فرماتے تھے چونکہ ہر کام میں طاق کی رعایت رکھنا بہتر ہے اس لئے آپ ﷺ اس معاملہ میں بھی طاق کا لحاظ فرماتے تھے اور وجہ اس کی یہ ہے کہ اِنَّ ا وِتْرٌ یُحِبُّ الْوِتْرِ یعنی اللہ تعالیٰ طاق ہے اور طاق کو پسند فرماتا ہے۔ عید کے روز آپ ﷺ کھجوریں اس لئے نوش فرماتے تھے کہ وہی اس وقت موجود ہوتی تھیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ کھجوریں کھانے میں حکمت یہ تھی کہ وہ شیریں ہوتی ہے اور شیرینی تقویت بصر کا ذریعہ بنتی ہے خاص طور پر خالی معدہ کے وقت تو نگاہوں کی تقویت کے لئے یہ بڑی زود اثر ہوتی ہے لہٰذا روزوں کی وجہ سے جو ضعف ہوجاتا تھا کھجوریں اپنے اثرات سے اسے ختم کرتی تھیں۔ پھر یہ کہ شیرینی مقتضاء ایمان کے موافق ہے۔ چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ جو آدمی خواب میں شیرنی کھاتے دیکھے اسے حلاوت ایمان نصیب ہوگی۔ نیز شیرینی دل کو نرم کرتی ہے اس سبب سے شیرینی کے ساتھ افطار کرنا فضل ہے۔

1407Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ عید گاہ ایک راستے سے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ ےَوْمُ عِےْدٍ خَالَفَ الطَّرِےْقَ۔(صحیح البخاری)

حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ جب عید کا روز ہوتا تو رسول اللہ ﷺ راستوں میں فرق کرتے۔ (صحیح البخاری ) تشریح یعنی عید گاہ ایک راستے سے تشریف لے جاتے اور دوسرے راستے سے واپس آتے اور اس کی حکمت یہ تھی تاکہ دونوں راستے اور دونوں راستوں پر رہنے والے جن و انس عبادت کی گواہی دیں۔ اس کے علاوہ اور کئی وجوہ بھی علماء نے لکھی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سب احتمال کے درجے میں ہیں۔ علماء نے اپنے اپنے فہم کے مطابق اس کی وجہیں بیان کی ہیں۔ اصل حقیقت اور وجہ کیا تھی؟ یہ اللہ اور اس کا رسول ہی جانتے ہیں۔

1408Mishkaat-al-Masabih

قربانی کا وقت

وَعَنِ الْبَرَآءِ ص قَالَ خَطَبَنَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ النَّحْرِ فَقَالَ اِنَّ اَوَّلَ مَا نَبْدَاُ بِہٖ فِیْ ےَوْمِنَا ھٰذَا اَنْ نُّصَلِّیَ ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ فَمَنْ فَعَلَ ذَالِکَ فَقَدْ اَصَابَ سُنَّتَنَا وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ اَنْ نُّصَلِّیَ فَاِنَّمَا ھُوَ شَاۃُ لَحْمٍ عَجَّلَہُ لِاَھْلِہٖ لَےْسَ مِنَ النُّسُکِ فِیْ شَئٍ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت براء ؓ راوی ہیں سرتاج دو عالم ﷺ نے یوم النحر (یعنی بقر عید کے دن) ہمارے سامنے خطبے میں ارشاد فرمایا کہ اس دن سب سے پہلا کام جو ہمیں کرنا چاہیے وہ یہ ہے کہ ہم (عیدالاضحی کی) نماز پڑھیں پھر گھر واپس جائیں اور قربانی کریں، لہٰذا جس آدمی نے اس طرح عمل کیا (کہ قربانی سے پہلے نماز و خطبے سے فراغت حاصل کرلی) اس نے ہماری سنت کو اختیار کیا اور جس آدمی نے نماز سے پہلے قربانی کرلی وہ قربانی نہیں ہے بلکہ وہ گوشت والی بکری ہے جسے اس نے اپنے گھروالوں کے لئے جلدی ذبح کرلیا ہے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ نماز سے پہلے قربانی کرلینے سے قربانی کا ثواب نہیں ملتا بلکہ اس کا شمار اس گوشت میں ہوجاتا ہے جو عام طور پر گھر والے کھاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں مشروع یہ ہے کہ پہلے عید قربان کی نماز پڑھی جائے اس کے بعد خطبہ پڑھا جائے اور سنا جائے پھر قربانی کی جائے چونکہ حدیث بالا میں قربانی کا وقت پوری وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اس لئے علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عید قرباں کے دن طلوع فجر سے پہلے قربانی جائز نہیں۔ البتہ طلوع فجر کے بعد قربانی کا وقت شروع ہونے کے سلسلے میں ائمہ کا اختلاف ہے۔ چناچہ حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ جب آفتاب بقدر نیزہ بلند ہوجائے اور اس کے بعد کم از کم دو رکعت نماز اور دو مختصر خطبے کی بقدر وقت گزر جائے تو قربانی کا وقت شروع ہوتا ہے اس کے بعد قربانی کرنا جائز ہے خواہ بقر عید کی نماز ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو۔ اس وقت سے پہلے قربانی جائز نہیں ہے خواہ قربانی کرنے والا شہر میں رہتا ہو یا دیہات کا رہنا والا ہو، نیز امام شافعی کے نزدیک قربانی کا وقت تیرہویں تاریخ کے غروب آفتاب تک رہتا ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک قربانی کا وقت شہر والوں کے لئے عید قربان کی نماز کے بعد شروع ہوتا ہے اور دیہات والوں کے لئے طلوع فجر کے بعد ہی شروع ہوجاتا ہے۔ ان کے ہاں قربانی کا آخری وقت بارہویں تاریخ کے آخر تک رہتا ہے۔ قربانی واجب ہے یا سنت حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں قربانی واجب نہیں بلکہ سنت ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ ہر صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے اگرچہ نصاب نامی نہ ہو۔

1409Mishkaat-al-Masabih

قربانی کا وقت

وَعَنْ جُنْدُبِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الْبَجَلِیِّ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَلْےَذْبَحْ مَکَانَھَا اُخْرٰی وَمَنْ لَّمْ ےَذْبَحْ حَتّٰی صَلَّےْنَا فَلْےَذْبَحْ عَلَی اسْمِ اللّٰہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت جندب ابن عبداللہ بجلی ؓ راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا جو آدمی ( قربانی کا جانور) عید قربان کی نماز سے پہلے ذبح کردے تو اسے چاہیے کہ وہ اس کے بدلے (قربانی کیلئے) دوسرا جانور ذبح کرے اور جو آدمی نماز پڑھنے تک ذبح نہ کرے تو اسے چاہیے کہ وہ نماز کے بعد اللہ تعالیٰ کے نام پر قربانی کا جانور ذبح کر دے (یہ قربانی درست ہوگی جس کا ثواب اسے ملے گا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

1410Mishkaat-al-Masabih

قربانی کا وقت

وَعَنِ الْبَرَآئِص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ الصَّلٰوۃِ فَاِنَّمَا ےَذْبَحُ لِنَفْسِہٖ وَمَنْ ذَبَحَ بَعْدَ الصَّلٰوۃِ فَقَدْ تَمَّ نُسُکُہُ وَاَصَابَ سُنَّۃَ الْمُسْلِمِےْنَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت براء راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے (قربانی کا جانور) نماز سے پہلے ذبح کیا تو گویا اس نے اپنے (محض کھانے کے) واسطے ذبح کیا (اس لئے اسے قربانی کا ثواب حاصل نہیں ہوا) جس آدمی نے نماز کے بعد ذبح کیا تو بلا شبہ اس کی قربانی ادا ہوگئی اور (اس طرح) اس نے مسلمانوں کے طریقے کو اپنایا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح جمہور علماء کا مسلک یہی ہے مگر تعجب ہے کہ اتنی واضح اور صحیح احادیث کے باوجود حضرت امام شافعی (رح) نے نہ معلوم کیوں جمہور علماء کے مسلک کے خلاف یہ کہا کہ قربانی کا وقت شروع ہوجانے کی بعد قربانی کر لینی جائز ہے۔ خواہ نماز ہوچکی ہو یا نہ ہوئی ہو جیسا کہ ابھی پیچھے ان کا مسلک نقل کیا گیا ہے۔

1411Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ عیدگاہ میں قربانی کرتے تھے

وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَذْبَحُ وَےَنْحَرُ بِالْمُصَلّٰی۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ عید گاہ میں ذبح اور نحر کرتے تھے۔ (صحیح البخاری ) تشریح بکری، دنبہ بھیڑ، گائے بھینس اور اونٹ یہ جانور خواہ نر ہوں یا مادہ، ان کے علاوہ دوسرے جانور کی قربانی جائز نہیں، اونٹ کے علاوہ بقیہ جانوروں کے حلال کرنے کو ذبح کہتے ہیں اور اونٹ کے حلال کرنے کو نحر کہتے ہیں نحر کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ اونٹ کو کھڑا کر کے اس کے سینہ میں نیزہ مارا جاتا ہے جس سے وہ گرپڑتا ہے۔ اگرچہ اونٹ کو ذبح کرنا بھی جائز ہے لیکن نحر افضل ہے۔

1412Mishkaat-al-Masabih

مسلمانوں کے لئے خوشی کے دو دن

عَنْ اَنَسٍ قَالَ قَدِمَ النَّبِیُّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَدِیْنَۃَ وَلَھُمْ یَوْمَانِ یَلْعَبُوْنَ فِیْھِمَا فَقَالَ مَا ھٰذَانِ الْیَوْمَانِ قَالُوْا کُنَّا نَلْعَبُ فِیْھِمَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَدْ اَبْدَ لَکُمُ اﷲُ بِھِمَا خَیْرًا مِّنْھُمَا یَوْمَ الْاٰضْحٰی وَیَوْمَ الْفِطْرِ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو اہل مدینہ نے دو دن مقرر کر رکھے تھے جن میں وہ لہو و لعب کرتے (اور خوشیاں مناتے) تھے، آپ ﷺ نے (یہ دیکھ کر) پوچھا کہ یہ دو دن کیسے ہیں؟ صحابہ نے عرض کیا کہ ان دونوں دنوں میں ہم زمانہ جاہلیت میں کھیلا کو دا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے ان دونوں دنوں کے بدلے ان سے بہتر دو دن مقرر کر دئیے ہیں اور وہ عید الاضحی اور عید الفطر کے دن ہیں۔ (ابوداؤد) تشریح زمانہ جاہلیت میں اہل مدینہ کے لئے دو دن مقرر تھے جن میں وہ لہو و لعب میں مشغول ہوتے تھے اور خوشیاں منایا کرتے تھے ان میں سے ایک دن نوروز تھا اور دوسرا دن مہر جان۔ نوروز کے دن آفتاب برج حمل میں جاتا ہے اور مہر جان کے دن برج میزان میں داخل ہوتا ہے۔ چونکہ ان دونوں دنوں میں آب و ہوا معتدل ہوتی ہے۔ اور رات دن برابر ہوتے ہیں اس لئے ان دنوں کو حکام نے خوشی منانے کی لئے مقرر کرلیا تھا چناچہ وہی رسم لوگوں میں چلی آتی تھی۔ یہاں تک کہ جب اہل مدینہ حلقہ بگوش اسلام ہوئے تو شروع میں پرانی عادت کے مطابق ان دونوں میں پہلے زمانے کی طرح خوشی منایا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے جب ان دنوں کی حقیقت دریافت فرمائی تو وہ اس کی کوئی حقیقت بیان نہ کرسکے صرف اتنا بتاسکے کہ پرانے زمانے سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے اور ان دنوں سے ہم اسی طرح خوشی مناتے چلے آتے ہیں، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان دنوں سے تمہیں اب کوئی سروکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان دنوں سے بہتر تمہیں عیدین کے دو دن عنایت فرما دئیے ہیں تم ان بابرکت دنوں میں خوشی منا سکتے ہو۔ گویا اس طرح آپ ﷺ نے ایک طرف تو یہ اشارہ فرمایا کہ مسلمان کو چاہیے کہ وہ حقیقی عید اور خوشی عبادت کے دن منائے۔ لہٰذا اس حدیث میں عیدین کے دن لہو و لعب میں مشغول ہونے کی ممانعت ہے۔ دوسری طرف یہ اشارہ خفی ہے کہ عیدین میں بہت معمولی طریقے پر کھیل کود اور اس انداز اور اس طریقے سے خوشی منانا کہ جس میں حدود شریعت سے تجاوز اور فحاشی نہ ہو جائز ہے۔ یہ حدیث نہایت طبع انداز میں یہ بتارہی ہے کہ غیر مسلموں کے تہوار کی تعظیم کرنا اور ان میں خوشی منانا، نیز ان کی رسموں کو اپنانا ممنوع ہے نیز یہ حدیث غیر مسلموں کی عید و تہوار میں شرکت و حاضری کی ممانعت کو بھی ظاہر کر رہی ہے۔ بعض علماء نے تو اسے سخت جانا ہے کہ اس عمل پر کفر کا حکم لگایا ہے چناچہ ابوحفص کبیر حنفی فرماتے ہیں کہ جو آدمی نوروز کی عظمت و توقیر کے پیش نظر اس دن مشرکوں کو تحفہ میں انڈا بھیجے ( جیسا کہ اس روز مشرکین کا طریقہ ہے) تو وہ کافر ہوجاتا ہے اور اس کے تمام اعمال نابود ہوجاتے ہیں۔ حضرت قاضی ابوالمحاسن ابن منصور حنفی کا قول ہے کہ اگر کوئی اس دن وہ چیزیں خریدے جو دوسرے دنوں میں نہیں خریدتا ہے (جیسا کہ ہمارے یہاں دیوالی کے روز کھلیں اور مٹھائی بنے ہوئے کھلونے وغیرہ خریدے جاتے ہیں یا اس دن کسی کو تحفہ بھیجتا ہے اور اس سے اس کا مقصد اس دن کی تعظیم ہو جیسا کہ مشرک اس دن کی تعظیم کرتے ہیں تو وہ آدمی کافر ہوجاتا ہے اور اگر کوئی آدمی محض اپنے استعمال اور فائدہ اٹھانے یا حسب عادت کسی کو ہدیہ بھیجنے کی نیت سے خریدتا ہے۔ تو کافر نہیں ہوتا لیکن یہ بھی مکروہ ہے لیکن اس طرح کافروں کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اس لئے اس سے بھی احتراز کرنا چاہیے۔ اس طرح اگر کوئی آدمی عاشورہ کے دن خوشی مناتا ہے تو خوارج کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے اور اگر اس دن غم والم ظاہر کرنے والی چیزیں اختیار کرتا ہے تو روافض کے ساتھ مشابہت ہوتی ہے لہٰذا ان دونوں باتوں سے بچنا چاہیے۔ یہ بات بھی جانے لیجئے کہ نوروز کی عظمت و توقیر کے سلسلہ میں روافض مجوسیوں کے ساتھ شریک ہوتے ہیں اور اس کا سبب یہ بیان کرتے ہیں کہ اسی دن حضرت عثمان شہید کئے گئے تھے اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خلاف منعقد ہوئی تھی۔ فتاوی ذخیرہ میں لکھا ہے کہ جو آدمی ہولی اور دیوالی دیکھنے کے لئے بطور خاص نکلتا ہے وہ حدود کفر سے قریب ہوجاتا ہے کیونکہ اسی میں اعلان کفر ہوتا ہے لہٰذا ایسا آدمی گویا اپنے عمل سے فکر کی مدد کرتا ہے اسی پر نوروز دیکھنے کے لئے نکلنے کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ بعض مسلمان ایسا کرتے ہیں۔ یہ بھی موجب کفر ہے۔ تجنیس میں مذکور ہے کہ ہمارے مشائخ اور علماء اس بات پر متفق ہیں کہ جس آدمی نے اہل کفار کے معتقدات و معاملات میں سے کسی چیز کے اچھا ہونے کا اعتقاد رکھا تو وہ حدود کفر میں داخل ہوجائے گا۔ اسی پر اس مسئلہ کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسے ہال ہوا و ہوس انسان مثلاً شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرنے والے نام نہاد صوفیا کے کسی کلام یا کسی قول کے بارے میں اچھا خیال رکھے اور یہ کہے کہ یہ کلام معنوی ہے یا یہ کہے کہ فلاں قول ایسا ہے جس کے معنی صحیح ہیں تو اگر حقیقت میں وہ کلام و قول کفر آمیز ہو تو اس کے بارے میں اچھا عقیدہ رکھنے والا اور اسے صحیح کہنے والا بھی کافر ہوجاتا ہے۔ اسی طرح نوادر الفتاوی میں منقول ہے کہ جو آدمی غیر مسلموں کی رسومات کو اچھا جانے وہ کافر ہوجاتا ہے۔ عمدۃ الاسلام میں لکھا ہے کہ جو آدمی کافروں کی رسومات ادا کرے مثلاً نئے مکان میں بیل اور گائے اور گھوڑے کو زردو سرخ رنگ کرے یا بندھن دار باندھے تو کافر ہوجاتا ہے۔ حاصل یہ کہ ان معتقدات و رسومات سے قطعاً احتراز کرنا چاہے جن سے اسلام اور شریعت کا دور کا بھی واسطہ نہ ہو بلکہ ان کی بنیاد خالص غیر اسلامی و غیر شرعی چیزوں پر ہے۔

1413Mishkaat-al-Masabih

عید میں نماز سے پہلے اور بقر عید میں نماز کے بعد کھانا پینا چاہیے

وَعَنْ بَرِیْدَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا یَخْرُجُ یَوْمَ الْفِطْرِ حَتّٰی یَطْعَمَ وَلَا یُطْعَمُ یَوْمَ الْاَضْحٰی حَتّٰی یُصَلِّی ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ الدارمی)

حضرت بریدہ ؓ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ عید کے دن بغیر کچھ کھائے پئے عید گاہ تشریف نہیں لے جاتے تھے۔ اور بقر عید کے دن بغیر نماز پڑھے کچھ نہیں کھاتے پیتے تھے۔ (جامع ترمذی، سنن ابن ماجہ، دارمی) تشریح عید کے روز نماز سے پہلے کھانے پینے کا سبب گذشتہ صفحات میں بیان کیا جا چکا ہے۔ بقر عید کے روز آپ غرباء و مساکین کا ساتھ دینے اور ان کی دلجوئی کی خاطر بقر عید کی نماز کے بعد ہی کچھ تناول فرماتے تھے۔ کیونکہ غرباء و مساکین کو تو کچھ کھانا پینا اسی وقت نصیب ہوتا تھا جب قربانی ہوجاتی اور اس کا گوشت ان لوگوں میں تقسیم ہوجاتا اس لئے آپ ان کی وجہ سے خود بھی کھانے پینے میں تاخیر فرماتے تھے۔

1414Mishkaat-al-Masabih

تکبیرات عیدین

وَعَنْ کَثِیْرِ بْنِ عَبْدِاﷲِ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَبَّرَ فِی الْعِیْدَیْنِ فِی الْاُوْلٰی سَبْعًا قَبْلَ الْقِرَاءَ ۃِ۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ و الدارمی)

اور حضرت کیثر ابن عبداللہ اپنے والد سے اور وہ کیثر کے دادا سے یعنی اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے پانچ تکبیریں کہیں۔ (جامع ترمذی، ابن ماجۃ، دارمی) تشریح مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے تحریمہ اور رکوع کی تکبیروں کے علاوہ ساتھ تکبیریں کہیں۔ اسی طرح دوسری رکعت میں قیام اور رکوع کی تکبیروں کے علاوہ پانچ تکبیریں کہیں۔ چناچہ حضرت امام شافعی (رح) کا اسی پر عمل ہے اس سلسلہ میں مفصل بحث آگے آرہی ہے۔

1415Mishkaat-al-Masabih

تکبیرات عیدین

وَعَنْ جَعْفِرِ بْنِ مُحَمَّدٍ مُرْسَلًا اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبَا بَکْرٍ وَ عُمَرَ کَبَّرُوا فِی الْعِیْدَیْنِ وَالْاِسْتِسْقَآءِ سَبْعًا وَخَمْسًا وَصَلَّوْا قَبْلَ الْخُطْبَۃِ وَجَھَرُوْابِلْقِرَاءَ ۃِ۔ (رواہ الشافعی)

اور حضرت جعفر ابن محمد مرسلاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ عیدین اور استسقاء کی نماز میں سات اور پانچ تکبیریں کہا کر تھے اور (عیدین و استسقاء کی) نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے، نیز قرأت بآواز بلند پڑھتے تھے۔ (شامی) تشریح جعفر سے مراد امام جعفر صادق ابن محمد باقر ابن علی یعنی امام زین العابدین ابن حضرت امام حسین ابن علی ابن حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ سات اور پانچ کی وضاحت حدیث بالا تاکید کی ہے کہ پہلی رکعت میں قرأت سے پہلے سات تکبیریں اور دوسرک رکعت میں قرار سے پہلے پانچ تکبیریں کہا کرتے تھے، یہ بھی بتایا جا چکا ہے کہ حضرت امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے۔

1416Mishkaat-al-Masabih

تکبیرات عیدین

وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْعَاصِ قَالَ سَأَلْتُ اَبَا مُوْسٰی وَحُذَیْفَۃَ کَیْفَ کَانَ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُکَبِّرُ فِی الْاَضْحٰی وَالْفِطْرِ ؟ فَقَالَ اَبُوْ مُوْسٰی کَانَ یُکَبِّرُ اَرْبَعًا تَکْبِیْرَہ، عَلَی الْجَنَائِزِ فَقَالَ حُذَیْفَۃُ صَدَقَ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت سعید ابن عاص فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابوموسی و حضرت حذیفہ ؓ سے سوال کیا کہ رسول کریم ﷺ عید و بقر عید کی نماز میں کتنی تکبیریں کہتے تھے؟ تو حضرت ابوموسی ؓ نے جواب دیا کہ جس طرح آپ ﷺ جنازہ میں چار تکبیریں کہتے تھے اسی طرح عیدین کی نماز میں بھی چار تکبیریں کہا کرتے تھے حضرت حذیفہ نے (یہ سن کر) فرمایا کہ ابوموسی نے سچ کہا (ابوداؤد) تشریح حضرت ابوموسی کے جواب کی تفصیل یہ ہے کہ جس طرح آپ ﷺ نماز جناز میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اسی طرح آپ ﷺ عیدین کی نماز میں بھی ہر رکعت میں چار تکبیریں کہا کرتے تھے اس طرح کہ پہلی رکعت میں تو قرأت سے پہلے تکبیر تحریمہ سمیت چار تکبیریں کہتے تھے اور دوسری رکعت میں قرأت کے بعد رکوع کی تکبیر سمیت چار تکبیریں کہتے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ تکبیرات عید کے سلسلہ میں متضاد احادیث منقول ہیں اسی وجہ سے ائمہ کے مسلک میں بھی اختلاف ظاہر ہوا ہے چناچہ تینوں اماموں کے نزدیک عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں ہیں اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کے ہاں تو پہلی رکعت میں سات تکبیریں مع تکبیر تحریمہ کے ہیں اور اسی طرح دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں تکبیر قیام سمیت ہیں جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک پہلی رکعت میں سات تکبیریں تکبیر تحریمہ کے علاوہ اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں تکبیر قیام کے علاوہ ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ تکبیر تحریمہ کے علاوہ تین تکبیریں پہلی رکعت میں اور تکبیر رکوع کے علاوہ تین تکبیریں دوسری رکعت میں ہیں جیسا کہ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ نیز اسی کو حضرت عبداللہ ابن مسعود نے بھی اختیار کیا ہے جبکہ حضرت امام شافعی کے مسلک کے مطابق حضرت عبداللہ ابن عباس کا مسلک ہے یہاں تک ان احادیث کا تعلق ہے جن سے حضرت امام شافعی استدلال کرتے ہیں تو ان کی صحت و ضعف اور ان کی اسناد و طرق کے بارے میں بہت زیادہ اعتراضات ہیں جس کو یہاں نقل کرنے کا موقع نہیں ہے۔ علماء حنیفہ اپنے مسلک کے بارے میں لکھتے ہیں کہ تکبیرات عیدین کے سلسلہ میں جب متضاد اور مختلف احادیث سامنے آئیں تو ہم نے ان میں سے ان احادیث کو اپنا معمول بہ قرار دیا جن میں تکبیرات کی تعداد کم منقول تھی کیونکہ عیدین کی زائد تکبیریں اور رفع یدین بہر حال خلاف معمول ہیں اس لئے کم تعداد کا اختیار کرنا ہی اولیٰ ہوگا۔

1417Mishkaat-al-Masabih

امام خطبہ دیتے عصا وغیرہ کا سہارا لے لے

وَعَنِ الْبَرَاءِ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نُوْوِلَ یَوْمَ الْعِیْدِقَوْسًا فَخَطَبَ عَلَیْہِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کمان پیش کی گئی چناچہ آپ ﷺ نے سہارا لے کر خطبہ ارشاد فرمایا۔ (ابوداؤد) تشریح مطلب یہ ہے کہ جس طرح عصاء وغیرہ ٹیک کر خطبہ پڑھا جاتا ہے اسی طرح آپ ﷺ نے عصاء کے بجائے کمان ٹیک کر اس کے سہارے خطبہ ارشاد فرمایا۔

1418Mishkaat-al-Masabih

امام خطبہ دیتے عصا وغیرہ کا سہارا لے لے

وَعَنْ عَطَاءٍ مُرْسَلًا اَنَّ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا خَطَبَ یَعْتَمِدُ عَلَی عَنَزَتِہٖ اِعْتَمَادًا۔ ( رواہ الشافعی)

اور حضرت عطاء بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبہ ارشاد فرماتے تو اپنے نیزے پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے۔ (شافعی)

1419Mishkaat-al-Masabih

امام خطبہ دیتے عصا وغیرہ کا سہارا لے لے

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ شَھِدْتُ الصَّلَاۃَ مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فِی یَوْمِ عِیْدٍ فَبَدَأَ بِالصَّلٰوۃِ قَبْلَ الْخُطْبَۃِ بِغَیْرِ اَذَانٍ وَّلَا اَقَامَۃٍ فَلَمَّا قَضَی الصَّلٰوۃَ قَامَ مُتَّکِئًا عَلَی بِلَالٍ فَحَمِدَ اﷲِ وَاَثْنٰی عَلَیْہِ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَکَّرَ ھُمْ وَحَثَّھُمْ عَلَی طَاعَتِہِ وَمَضَی اِلَی النِّسَآءِ وَمَعَہ، بِلَالٌ فَاَمَرَھُنَّ بِتَقْوَی اﷲِ وَوَعَظَھُنَّ وَذَکَرَّ ھُنَّ۔ (رواہ السنن نسائی )

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ عید کے دن رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز میں شریک ہوا، چناچہ آپ ﷺ نے اذان و تکبیر کے بغیر خطبہ سے پہلے نماز شروع فرمائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو (خطبہ کے لئے) حضرت بلال ؓ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تعریف بیان فرمائی۔ لوگوں کو نصیحت کی اور انہیں عذاب وثواب ( کے احکام یاد دلائے اور اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے پر ترغیب دلائی۔ پھر آپ ﷺ عورتوں کی جماعت کی طرف متوجہ ہوئے حضرت بلال ؓ بھی آپ ﷺ کے ساتھ تھے (وہاں بھی) آپ ﷺ نے عورتوں کو اللہ سے ڈرنے کا حکم دیا، ان کو نصیحت کی اور انہیں عذاب وثواب ( کے احکام) یاد دلائے۔ (سنن نسائی) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خطیب کے لئے مناسب ہے کہ وہ خطبہ دیتے وقت کسی چیز مثلاً تلوار، کمان برچھی، عصا یا کسی آدمی کا سہارا لے کر کھڑا ہو۔

1420Mishkaat-al-Masabih

عید گاہ جانے کا طریقہ

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَرَجَ یَوْمَ الْعِیْدِ فِی طَرَیْقٍ رَجَعَ فِی غَیْرِہٖ۔ (رواہ الترمذی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب عید کے دن (عید گاہ) ایک راستہ سے تشریف لے جاتے تو واپس دوسرے راستہ سے ہوتے تھے۔ (جامع ترمذی، دارمی) تشریح عیدگاہ جانے کے لئے ایک راستہ اختیار کرنا اور واپسی کے لئے دوسرا راستہ اختیار کرنا مسنون ہے، اس کی حکمت اسی باب کی فصل میں ایک حدیث کی فائدہ کے ضمن میں بیان کی جا چکی ہے۔ عیدگاہ جاتے ہوئے۔ راستہ میں یعنی اللہ اکبر اللہ اکبر لا الہ الا اللہ۔ واللہ اکبر اللہ اکبر و للہ الحمد پڑھتے رہنا چاہیے۔ صاحبین کے نزدیک تو عید و بقر عید دونوں موقع پر راستہ میں یہ تکبیر بلند آواز سے پڑھنی چاہیے مگر حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ عید الفطر میں تو یہ تکبیر آہستہ آواز سے۔ اور بقر عید میں بلند آواز سے پڑھنا چاہیے۔