Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 70 of 317

1381Mishkaat-al-Masabih

عمامہ باندھ کر خطبہ پڑھنا

وَعَنْ عَمْرِوبْنِ حُرَےْثٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَطَبَ وَعَلَےْہِ عِمَامَۃٌ سَوْدَآءُ قَدْ اَرْخٰی طَرَفَےْھَا بَےْنَ کَتِفَےْہِ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ۔ مسلم

اور حضرت عمرو ابن حریث فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے جمعے کی روز اس حال میں خطبہ ارشاد فرمایا ہے کہ آپ کے سر مبارک پر سیاہ عمامہ تھا جس کے دونوں کنارے آپ نے اپنے دونوں کندھوں کے درمیان چھوڑ رکھے تھے۔ (صحیح مسلم) تشریح ایک ضعیف حدیث میں منقول ہے کہ عمامہ باندھ کر پڑھی گئی نماز ان ستر نمازوں سے بہتر ہے جو بغیر عمامہ پڑھی گئی ہوں بہر حال علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حدیث بالا سے یہ مفہوم ثابت ہوتا ہے کہ جمعے کے روز زیبائش اختیار کرتا، اچھے اور عمدہ لباس زیب تن کرنا، سیادہ عمامہ باندھنا اور عمامہ کے دونوں کناروں کو دونوں کندھوں کے درمیان لٹکانا سنت ہے میرک شاہ کا قول اس حدیث کے بارے میں یہ ہے کہ جس خطبے کے بارے میں یہاں بتایا جا رہا ہے۔ یہ خطبہ آپ ﷺ نے مرض موت میں ارشاد فرمایا تھا۔ زیلعی کا کہنا ہے کہ سیاہ کپڑے کا استعمال کرنا سنت ہے۔ صاحب مدخل نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا عمامہ سات ہاتھ کا تھا۔ سیو طی نے ایسے صحابہ اور تابعین کا ذکر کیا ہے جو سیاہ عماہ باندھتے تھے ان میں انس ابن مالک، عمار ابن یاسر، معاویہ، ابودردا، براء، عبدالرحمن ابن عوف، واثلہ، سعید ابن مسیب، حسن بصری اور سعید ابن جبیر ؓ وغیرہ شامل ہیں۔ نووی (رح) نے لکھا ہے کہ عمامہ دونوں طریقوں سے باندھنا جائز ہے خواہ شملہ چھوڑا جائے یا نہ چھوڑا جائے۔ ان میں کسی طریقہ سے بھی مکروہ نہیں ہے۔

1382Mishkaat-al-Masabih

خطبہ کے وقت تحیۃ المسجد پڑھنے کا مسئلہ

وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَھُوَ ےَخْطُبُ اِذَا جَآءَ اَحَدُکُمْ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ ےَخْطُبُ فَلْےَرْکَعْ رَکْعَتَےْنِ وَلْےَتَجَوَّزْ فِےْھِمَا۔مسلم

اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے کہ جب تم میں سے کوئی آدمی جمعے کے روز (مسجد میں) آئے اور امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو دو رکعتیں پڑھ لے مگر دونوں رکعتیں ہلکی (یعنی مختصر) پڑھے۔ (صحیح مسلم) تشریح حضرت امام شافعی (رح) نے اس روایت کو تحیۃ المسجد پر محمول کیا ہے۔ ان کے نزدیک تحیۃ المسجد کی نماز واجب ہے اگرچہ امام خطبہ ہی کیوں نہ پڑھ رہا ہو۔ یہی مسلک امام احمد کا بھی ہے۔ یہ دونوں حضرات اس حدیث کو اپنی دلیل بناتے ہیں کہ تحیۃ المسجد واجب ہے جب ہی تو آپ ﷺ نے خطبہ کے دوران بھی اس کے پڑھنے کی تاکید فرمائی ہے۔ حنفیہ کے نزدیک تحیۃ المسجد جب کہ خطبے کے علاوہ دوسرے اوقات میں ہی واجب نہیں ہے تو خطبے کے دوران بطریق اولیٰ واجب نہیں ہوگی چناچہ حضرت امام مالک اور سفیان ثوری کا بھی یہی مسلک ہے۔ نیز جمہور صحابہ اور تابعین ان کے ہم نوا ہیں۔ ان حضرات کی طرف سے اس حدیث کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہاں خطبے سے مراد خطبے کا ارادہ ہے یعنی آپ ﷺ کے ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ دو رکعتیں اس وقت بھی پڑھی جاسکتی ہیں جب کہ امام خطبے کے لئے اٹھ جائے اور خطبہ پڑھنے کا ارادہ کر رہا ہو نہ یہ کہ بالفعل خطبہ پڑھ ہی رہا ہو۔ اسی تاویل کی بنیاد وہ قرائن اور صحیح احادیث ہیں جن سے خطبہ کے وقت حرمت نماز ثابت ہوچکی ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جب امام (خطبہ کے لئے) نکلے (یعنی خطبہ پڑھنے کے لئے منبر کی طرف چلے) تو اس وقت نہ بات چیت درست ہے اور نہ نماز ہی درست ہے نہ صرف یہ ارشاد نبوی ہے۔ بلکہ علی المرتضیٰ اور حضرت عمر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ بھی امام کے نکلنے کے بعد کلام اور نماز دونوں کو مکروہ جانتے تھے۔ لہٰذا قول صحابہ بھی حجت ہے اور ہمارے نزدیک اس کی تقلید واجب ہے اگر سنت سے منقول کوئی چیز اس کے معارض نہ ہو۔ اور بخاری و مسلم میں حضرت جابر ؓ سے جو یہ روایت متعدد طرق سے منقول ہے کہ ایک آدمی مسجد میں اس وقت داخل ہوا جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے تو آپ ﷺ نے اس آدمی سے پوچھا کہ اے فلاں آدمی! تم نے (تحیۃ المسجد کی) نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کیا ہم نہیں آپ نے اس سے فرمایا کہ دو رکعت، نماز پڑھ لو اور مختصر پڑھو تو اس کی تاویل یہ کی جاتی ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا تھا جب کہ خطبے کے وقت نماز کی ممانعت نہیں ہوئی تھی، یا یہ کہ اجازت صرف اسی آدمی کے لئے مخصوص تھی، بعض حضرات کی تحقیق تو یہ ہے کہ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے خطبہ شروع کرنے سے پہلے پیش آیا تھا۔ حضرت شیخ ابن ہمام نے اس سلسلے میں جو بات فرمائی ہے وہ زیادہ مناسب ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اور ان احادیث میں جن سے خطبے کے وقت نماز پڑھنے کی ممانعت ثابت ہوئی ہے کوئی معارضہ اور اختلاف ہی لازم نہیں آتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ جب یہ آدمی مسجد میں داخل ہوا اور آپ ﷺ نے اس سے نماز پڑھنے کے لئے فرمایا تو آپ نے خطبہ روک دیا ہوگا۔ جب وہ آدمی نماز سے فارغ ہوگیا ہوگا تب آپ ﷺ نے خطبہ مکمل فرمایا۔ حضرت ابن ہمام (رح) کی یہ بات محض قیاس اور تاویل کے درجے تک محدود نہیں ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ صورت حال یہی ہوئی تھی چناچہ دارقطنی کی روایت نے بالکل واضح الفاظ میں یہ صراحت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ دو رکعت نماز پڑھو، پھر جب تک وہ آدمی نماز سے فارغ نہیں ہوا آپ ﷺ خاموش رہے (نماز سے فراغت کے بعد آپ نے پھر خطبہ مکمل فرمایا )

1383Mishkaat-al-Masabih

جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پائی اس نے پوری نماز پالی

وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ اَدْرَکَ رَکْعَۃً مِنَ الصَّلٰوۃِ مَعَ الْاِمَامِ فَقَدْ اَدْرَکَ الصَّلٰوۃَ۔صحیح البخاری و صحیح مسلم

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس آدمی نے نماز کی ایک رکعت امام کے ساتھ پائی اس نے نماز پالی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح یہ حکم عام طور پر تمام نمازوں کے لئے ہے جمعہ ہی کے لئے مخصوص نہیں چناچہ قسط نمبر ١٤ میں کتاب الصلوۃ کے باب ما علی الماموم میں تقریباً اسی مضمون کی یہ حدیث گذر چکی ہے کہ من ادرک رکعۃ فقدادرک الصلوۃ اس کی وضاحت وہاں بھی کی جا چکی ہے۔ لیکن اس حدیث کو جو یہاں نقل کی جا رہی ہے امام شافعی (رح) نے جمعے کی نماز کے ساتھ مخصوص و مقید کیا ہے اور اس کی بنیاد انہوں نے حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت پر رکھی ہے جو اسی باب کے آخر میں آرہی ہے۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب ہدایہ میں لکھا ہے کہ جس آدمی کی نماز میں امام کے ساتھ نماز کا جو حصہ بھی ملے اسے امام کے ساتھ ادا کرے اور اس حصہ پر جمعہ کی بناء کر کے بقیہ نماز پوری کرلے اس کی دلیل یہ حدیث ہے کہ ماادرکتم فصلوا وما فاتکم فاقضوا یعنی نماز کا جو حصہ امام کے ساتھ پاؤ اسے ادا کرو اور جو کچھ رہ جائے اسے پورا کرو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اگر کوئی آدمی جمعہ کی نماز میں بالکل آخر میں اس حال میں شریک ہوا کہ امام التحیات میں تھا یا سجدہ سہو میں تھا تو اسے چاہیے کہ وہ اسی حالت میں جماعت میں شریک ہوجائے اور امام کے ساتھ اسے نماز جمعہ کا جو بھی حصہ ہاتھ لگا ہے اسی پر جمعہ کی بناء کر کے بقیہ نماز پوری کرلے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف رحمہما اللہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ البتہ امام محمد فرماتے ہیں کہ اگر کوئی آدمی امام کے ساتھ جمعے کی دوسری رکعت کا اکثر حصہ پائے تو اسے اس حصے پر جمعے کی بناء کرنی چاہیے۔ لیکن جس آدمی کو دوسری رکعت کا اکثر حصہ نہ ملے تو اس پر جمعہ کی بناء نہ کرے بلکہ ظہر کی بناء کرے۔ دوسری رکعت کا اکثر حصہ پانے سے مراد دوسری رکعت کا رکوع پانا ہے۔ یعنی اگر کوئی آدمی دوسری رکعت کے رکوع میں بھی شریک ہوگیا تو اسے اکثر حصہ مل گیا اور اگر امام کے رکوع سے سر اٹھانے کے بعد وہ جماعت میں شریک ہوا تو اسے اکثر حصہ پانا نہیں کہیں گے۔ شیخ ابن ہمام نے فرمایا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام ابویوسف نے اپنے مذکورہ بالا مسلک کی بنیاد جس حدیث پر رکھی ہے وہ حدیث بھی مطلق ہے جمعہ کے ساتھ اس کی تخصیص نہیں ہے۔

1384Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کے خطبہ پڑھنے کا طریقہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم یَخْطُبُ خُطْبَتَیْنِ کَانَ یَجْلِسُ اِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتّٰی یَفْرَغُ اَرَاہُ الْمُؤَذِّنَ ثُمَّ یَقُوْمُ فَیَخْطِبُ ثُمَّ یَجْلِسُ وَلَا یَتَکَلَّمُ ثُمَّ یَقُوْمُ یَخْطُبُ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے اس طرح پڑھا کرتے تھے ( کہ) جب آپ منبر پر چڑھتے تو (پہلے) بیٹھتے یہاں تک کہ فارغ ہوتا، راوی فرماتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے کہا تھا کہ یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہوتا پھر آپ اٹھتے اور (پہلا خطبہ ارشاد فرماتے، پھر تھوڑی سی دیر) بیٹھتے (لیکن اس بیٹھنے کے درمیان) کوئی کلام نہ کرتے، پھر کھڑے ہوتے اور (دوسرا) خطبہ ارشاد فرماتے۔ (سنن ابوداؤد) تشریح حدیث کے الفاظ اذا صعد المنبر کے پیش نظر علماء نے کہا ہے کہ منبر پر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا مستحب ہے۔ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کی مقدار کے بارے میں علامہ ابن حجر (رح) کا ارشاد ہے کہ اولی یہ ہے کہ سورت اخلاص پڑھنے کے بقدر بیٹھنا چاہیے کوئی کلام نہ کرتے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کے عرصے میں نہ تو آپ ﷺ دعا کرتے تھے اور نہ کچھ پڑھتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ دوسرے خطبہ میں رسول اللہ ﷺ کے آل و اصحاب و ازواج مطہرات خصوصا خلفاء راشدین اور حضرت حمزہ و عباس ؓ کے لئے دعا کرنا مستحب ہے، بادشاہ وقت کے لئے بھی دعا کرنا جائز ہے۔ لیکن شرح منیہ میں لکھا ہے کہ بادشاہوں کی ایسی تعریف کرنا جو غلط ہو اور ان کے ایسے اوصاف بیان کرنا جن سے وہ متصف نہ ہوں اشد مکروہ (یعنی مکروہ تحریمی) ہے کیونکہ اس طرح عبادت کے ساتھ گناہ یعنی جھوٹ کو ملانا لازم آتا ہے۔ اس مسئلہ کی شدت اس سے بخوبی واضح ہوتی ہے کہ ہمارے بعض ائمہ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ ہمارے زمانے کے بادشاہوں کو عاد کہنا حدود کفر کے قریب ہوجاتا ہے۔ حدیث میں جو یہ بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں خطبوں کے درمیان کلام نہیں کرتے تھے تو اس کے بارے میں حضرت شیٰخ عبدالحق محدث دہلوی نے تو وہی تشریح کی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے۔ لیکن ملا علی قاری نے شرح طیبی سے نقل کیا ہے کہ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھتے تو کتاب اللہ کی آیتیں پڑھا کرتے تھے چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس عرصے میں سورت اخلاص پڑھنا مستحب ہے۔ بہر حال ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے اس جملے کی فائدہ کے وقت حضرت شیخ عبدالحق (رح) کے سامنے یہ روایت نہیں ہوگی۔ وا اللہ اعلم۔

1385Mishkaat-al-Masabih

خطبے کے وقت نمازی خطیب کی طرف متوجہ ہو کر بیٹھیں

وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اسْتَوَی عَلَی الْمِنْبَرِ اسْتَقْبَلْنَاہُ بِوُجُوْھِنَا رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ لَا نَعْرِفُہ، اِلَّامِنْ حَدِیْثِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْفَضْلِ وَھُوَ ضَعِیْفُ ذَاھِبِ الْحَدِیْثِ۔

اور حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ فرماتے کہ رسول اللہ ﷺ جب (خطبے کے وقت) منبر پر تشریف فرما ہوتے تو ہم اپنے منہ آپ ﷺ کی طرف متوجہ کرلیتے امام ترمذی (رح) نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کو ہم بجز محمد ابن فضل کی سند کے اور کسی سند سے نہیں جانتے اور وہ ضعیف ہیں انہیں حدیث یاد نہیں رہتی تھی۔ تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ خطبے کے وقت خطبہ سننے کے لئے اپنے منہ خطیب کی طرف کر کے بیٹھیں۔ اسی طرح خطیب بھی لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر خطبہ پڑھے۔ حنفیہ کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ جب خطیب خطبے کے لئے منبر پر بیٹھے تو لوگوں کو سلام نہ کرے مگر حضرت امام شافعی و امام احمد (رح) نے اس سے اختلاف کیا ہے۔

1386Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے

عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَخْطُبُ قَائِمًا ثُمَّ ےَجْلِسُ ثُمَّ ےَقُوْمُ فَےَخْطُبُ قَآئِمًا فَمَنْ نَبَّاَکَ اَنَّہُ کَانَ ےَخْطُبُ جَالِسًا فَقَدْ کَذَبَ فَقَدْ وَاللّٰہِ صَلَّےْتُ مَعَہُ اَکْثَرَ مِنْ اَلْفَیْ صَلٰوۃٍ۔مسلم

حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر (پہلا) خطبہ ارشاد فرماتے پھر بیٹھتے، پھر (دوسرا) خطبہ (بھی) کھڑے ہو کر ارشاد فرماتے لہٰذا تم سے اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھ کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے تو بلا شبہ وہ آدمی جھوٹا ہے اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ ﷺ کی ہمراہ دو ہزار سے زیادہ نمازیں پڑھی ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح دو ہزار سے زائد نمازوں سے صرف جمعے کی نمازیں مراد نہیں ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ جمعے اور جمعے کے علاوہ دوسری دوہزار سے زائد نمازیں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھی ہیں۔ کیونکہ آپ ﷺ نے سب سے پہلا جمعہ مدینہ میں آکر پڑھا ہے اور مدینہ میں آپ کی کل مدت اقامت دس سال تھی لہٰذا اس طرح آپ ﷺ کی حیات میں تمام جمعوں کی تعداد پانچ سو سے زائد نہیں ہوتی بہرحال حضرت جابر ؓ کا مقصد رسول اللہ ﷺ کے ساتھ معیت ورفاقت کی کثرت بیان کرنا ہے۔ شرح منیہ میں یہ مسئلہ لکھا ہوا ہے کہ جو شہر جنگ و جدل سے اور بذریعہ تلوار فتح ہوا ہو جیسا کہ مکہ فتح ہوا تھا تو وہاں خطیب تلوار کے ساتھ خطبہ پڑھے اور جس شہر کے باشندے بخوشی حلقہ بگوش اسلام ہوجائیں جیسے مدینہ تو وہاں بغیر تلوار کے خطبہ پڑھنا چاہیے۔ بنا بیع میں لکھا ہے کہ دوسرا خطبہ پہلے خطبہ کی بہ نسبت کم آواز سے پڑھنا چاہیے۔

1387Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے

وَعَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَۃَص اَنَّہُ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ اُمِّ الْحَکَمِ ےَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوْا اِلٰی ھٰذَا الْخَبِےْثِ ےَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَدْقَالَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَاِذَا رَاَوْاتِجَارَۃً اَوْ لَھْوَانِ انْفَضُّوْا اِلَےْھَا وَتَرَکُوْکَ قَآئِمًا۔ (الجمعۃ ٦٢:١١) (صحیح مسلم)

اور حضرت ابن عجرۃ (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ (ایک مرتبہ جمعے کے روز) مسجد میں (اس وقت) داخل ہوئے جب کہ عبدالرحمن ابن ام الحکم (جو بنی امیہ میں سے تھا بیٹھ کر خطبہ پڑھ رہا تھا، کعب ابن عجرہ نے کہا کہ (ذرا) اس خبیث کی طرف دیکھو بیٹھ کر خطبہ پڑھ رہا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے آیت (وَاِذَا رَاَوْا تِجَارَةً اَوْ لَهْوَ ا انْفَضُّوْ ا اِلَيْهَا وَتَرَكُوْكَ قَا ى ِمًا) 62۔ الجمعہ 11) یعنی جب لوگ سوداگری یا کھیل دیکھتے ہیں تو اس کی طرف بھاگ جاتے ہیں اور آپ ﷺ کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم) تشریح سرکار دو عالم ﷺ کے مقدس زمانے میں ایک مرتبہ مدینے میں سخت قحط پڑا، اہل مدینہ سخت پریشانی اور تکلیف میں مبتلا ہوئے، انہیں دنوں ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ رسول اللہ ﷺ جمعے کے روز منبر پر کھڑے خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ناگہاں ایک قافلہ تجارت کی غرض سے شام سے مدینہ میں داخل ہوا۔ صحابہ کرام جو فاقہ کشی اور بھوک سے بےحد بےحال ولاغر ہو رہے تھے خطبہ نبی کے دوران ہی اس قافلے کو دیکھنے کے لئے اضطرارًا مسجد سے باہر چلے گئے کچھ صحابہ جن کی تعداد بارہ تھی بدستور مسجد میں بیٹھے خطبہ سنتے رہے جب ہی آیت بالا نازل ہوئی حضرت کعب ؓ کے ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ اللہ جل شانہ، کے اس قول سے یہ بات بالکل واضح ہوتی ہے کہ خطبہ کھڑے ہو کر پڑھا جاتا ہے اور صحیح احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ اس کے باوجود جو یہ آدمی بیٹھ کر خطبہ پڑھ رہا ہے تو اس کی خبث باطن میں کیا شک ہے۔ بہرحال آیت بالا کے الفاظ آپ کو کھڑا چھوڑ جاتے ہیں سے یہ بات واضح ہوئی کہ آنحضرت ﷺ کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرماتے تھے، چناچہ امام شافعی (رح) کے نزدیک کھڑے ہو کر خطبہ پڑھنا خطبے کی شرط ہے جب کہ حنفیہ کے نزدیک سنت ہے۔ جمعے اور خطبے کے اوقات جمعے کی صحیح ادائیگی کے شرائط میں سے ایک شرط وقت ہے چناچہ جمعہ کی نماز وقت کے بعد بخلاف دوسری نمازوں کے صحیح نہیں ہوتی۔ جمعہ کا وقت وقت ظہر ہے چناچہ جمعہ کی نماز وقت سے پہلے جائز نہیں ہے مگر حضرت امام احمد ابن حنبل کے نزدیک درست ہے اسی طرح عصر کا وقت شروع ہوجانے کے بعد بھی نماز جمعہ جائز نہیں ہے مگر حضرت امام مالک کے نزدیک جائز ہے۔ حدیث بالا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ حرام یا مکروہ چیزوں کے ارتکاب کرنے والے پر سختی کرنا یا اس کے ساتھ غصہ کا معاملہ کرنا جائز ہے اس لئے کہ اس چیز کے خلاف عمل کرنا جس کی مداومت رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہوچکی ہے خبث باطن کی نشانی ہے۔

1388Mishkaat-al-Masabih

خطبے کے وقت ہاتھوں کو بلند کرنا چاہیے

وَعَنْ عَمَارَۃَ بْنِ رُوَےْبَۃَ ص اَنَّہُ رَاٰی بِشْرَ بْنَ مَرْوَانَ عَلیَ الْمِنْبَرِ رَافِعًا ےَدَےْہِ فَقَالَ قَبَّحَ اللّٰہُ ھَاتَےْنِ الْےَدَےْنِ لَقَدْ رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَا ےَزِےْدُ عَلٰی اَنْ ےَّقُوْلَ بِےَدِہٖ ھٰکَذَا وَ اَشَارَ بِاِصْبَعِہِ الْمُسَبِّحَۃِ۔ (صحیح مسلم)

اور حضرت عمارہ ابن رویبہ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے (ایک مرتبہ) بشر ابن مروان کو منبر پر (خطبے کے وقت) اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہوئے دیکھا (جیسا کہ آجکل مقررین دوران تقریر جوش خطابت میں اپنے ہاتھوں کو بلند کرتے ہیں) تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو ستیا ناس کرے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے کہ آپ ﷺ اپنے ہاتھ سے اس سے زیادہ اشارہ نہیں کرتے تھے۔ یہ کہہ کر انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ (صحیح مسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ حضرت عمارہ نے جب بشر کو دیکھا کہ وہ طریقے سنت کے خلاف اپنے ہاتھوں کو زیادہ بلند کر رہا ہے تو انہیں بہت زیادہ ناگواری ہوئی جس کا انہوں نے ان الفاظ میں اظہار فرمایا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کر کے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ صرف اس قدر اشارہ کرتے تھے اور وہ بھی اس لئے کرتے تھے تاکہ لوگ پوری دل جمعی کے ساتھ مخاطب ہوں اور خطبہ سننے کی طرف راغب ہوں۔ نیز خطبے کے فرمودات پر عمل پیرا ہونے کا ولولہ اور جذبہ پیدا ہو۔

1389Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا خطبہ کے وقت منبر پر کھڑے ہو کر عبداللہ ابن مسعود کو مسجد میں بلانا

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ لَمَّا اسْتَوَی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ الْجُمُعَۃِ عَلَی الْمِنْبَرِ قَالَ اجْلِسُوْا فَسَمِعَ ذٰلِکَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ فَجَلَسَ عَلَی بَابِ الْمَسْجِدِ فَرَأَہُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ تَعَالَ یَا عَبْدَاﷲِ بْنَ مَسْعُوْدِ۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (ایک مرتبہ) جمعے کے روز (خطبے کے لئے) منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ سے فرمایا کہ (خطبہ سننے کے لئے بیٹھ جاؤ۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ نے جب یہ ارشاد سنا تو وہ مسجد کے دروازے ہی پر بیٹھ گئے۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو دیکھا تو فرمایا کہ عبداللہ ابن مسعود ؓ یہاں آجاؤ۔ (سنن ابوداؤد) تشریح علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ منبر پر خطبہ کے لئے کھڑے ہونے کی صورت میں کلام کرنا جائز ہے مگر حنفیہ کے نزدیک خطیب کے لئے خطبے کی حالت میں کلام کرنا جائز نہیں ہے بشرطیکہ وہ کلام امربالمعروف کے طور پر نہ ہو (مگر خطیب کو چاہیے کہ امربالمعروف کے سلسلہ میں اگر کسی سے کچھ کہے تو عربی زبان میں کہے اگر کسی اور زبان میں کہے گا تو مکروہ ہوگا) حضرت علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ بظاہر یہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب خطبے کے لئے منبر پر کھڑے ہوتے تو آپ ﷺ نے حاضرین میں سے کسی کو اس وقت نماز پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتے دیکھ لیا چناچہ آپ ﷺ نے اس کو بیٹھنے کا حکم فرمایا کیونکہ خطبے کے لئے منبر پر خطیب کے بیٹھنے کے وقت، نماز پڑھنی حرام ہے جیسا کہ تمام علما کا متفقہ مسلک ہے۔

1390Mishkaat-al-Masabih

جمعے کی نماز نہ ملنے کی صورت میں ظہر کی نماز پڑھ لینے کا مسئلہ

وَ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ اَدْرَکَ مِنَ الْجُمُعَۃِ رَکْعَتً فَلْیُصَلِّ اِلَیْھَا اُخْرٰی وَمَنْ فَاتَتْہُ الرَّکْعَتَانِ فَلْیُصَلِّ اَرْبَعًا اَوْقَالَ الظُّھْرَ۔ (رواہ الدارقطنی)

اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو جمعے ایک رکعت (امام کے ساتھ مل جائے تو وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملائے (یعنی تنہا کھڑا ہو کر پوری کرے) اور جس آدمی کو دونوں رکعتیں نہ ملیں تو اسے چاہیے کہ وہ چار رکعتیں پڑھے یا فرمایا کہ ظہر پڑھے۔ (دارقطنی) تشریح اگرچہ نووی (رح) نے وضاحت کی ہے کہ یہ حدیث ضعف سے خالی نہیں ہے تاہم اگر اس حدیث کو صحیح تسلیم بھی کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ جس آدمی کو جمعہ کی دونوں رکعتوں سے مطلقاً کچھ بھی ہاتھ نہ لگے تو وہ ظہر کی چار رکعتیں پڑھ لے۔ اس مسئلے کی وضاحت حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت کی تشریح کے ضمن میں جو اس باب کے پہلی فصل کے آخر میں گذری ہے بیان کی جا چکی ہے۔

1391Mishkaat-al-Masabih

نماز خوف کا بیان

کفار کے خوف اور دشمن کے مقابل ہونے کے وقت جو نماز پڑھی جاتی ہے اسے نماز خوف کہتے ہیں۔ خوف کی نماز کتاب و سنت سے ثابت ہے۔ نیز اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے وصال کے بعد یہ نماز باقی اور ثابت ہے اگرچہ بعض حضرات کا قول ہے کہ نماز خوف صرف رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک ہی کے ساتھ مخصوص تھی۔ نیز بعض حضرات مثلاً حضرت امام مالک (رح) کے نزدیک یہ نماز حالت سفر کے ساتھ مخصوص ہے۔ جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک یہ نماز سفر و حضر دونوں صورتوں میں جائز ہے۔ بحسب اختلاف زمانہ و مقام یہ نماز متعدد طریقوں سے روایت کی گئی ہے چناچہ بعض حضرات نے کہا ہے کہ سولہ طریقوں سے منقول ہے۔ بعض حضرات نے اس سے زائد اور بعض نے اس سے کم کہا ہے لیکن علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ احادیث میں جتنے بھی طریقے منقول ہیں تمام کے تمام معتبر ہیں علماء کے ہاں اختلاف صرف ترجیح اور فوقیت کے بارے میں ہے کہ کسی نے کسی طریقے کو ترجیح دی ہے اور اس پر عمل کیا ہے جو صحاح ستہ میں مذکور ہے۔ علامہ شمنی نے کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نماز خوف چار جگہ پڑھی ہے۔ ذات الرقاع بطن نخل، عسفان اور ذی قرد۔ لہٰذا اس سے معلوم ہوا کہ نماز خوف تھی تو حالت سفر میں مگر فقہاء نے اس پر قیاس کرتے ہوئے اس نماز کو حضر میں بھی جائز رکھا ہے۔

1392Mishkaat-al-Masabih

دشمن کے مد مقابل ہونے کی صورت میں رسول اللہ ﷺ کی نماز اور جماعت

عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عُمَرَ عَنْ اَبِےْہِث قَالَ غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ قِبَلَ نَجْدٍ فَوَازَےْنَا الْعَدُوَّ فَصَافَفْْنَا لَھُمْ فَقَامَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ لنَاَ فَقَامَتْ طَائِفَۃٌ مَعَہُ وَاَقْبَلَتْ طَآئِفَۃٌ عَلَی الْعَدُوِّ وَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِمَنْ مَعَہُ وَسَجَدَ سَجْدَتَےْنِ ثُمَّ انْصَرَفُوْا مَکَانَ الطَّآئِفَۃِ الَّتِیْ لَمْ تُصَلِّ فَجَآءُ ْوا فَرَکَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِھِمْ رَکْعَۃً وَّسََجَدَ سَجْدَتَےْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَ کُلُّ وَاحِدٍ مِّنْھُمْ فَرَکَعَ لِنَفْسِہٖ رَکْعَۃً وَّسَجَدَ سَجْدَتَےْنِ وَرَوٰی نَافِعٌ نَّحْوَہُ وَزَادَ فَاِنْ کَانَ خَوْفٌ ھُوَ اَشَدُّ مِنْ ذَالِکَ صَلَّوْا رِجَالًا قِےَامًا عَلٰی اَقْدَامِھِمْ اَوْ رُکْبَانًا مُّسْتَقْبِلِی الْقِبْلَۃِ اَوْ غَےْرَ مُسْتَقْبِلِےْھَا قَالَ نَافِعٌ لَّا اُرَی ابْنَ عُمَرَ ذَکَرَ ذَالِکَ اِلَّاعَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم۔ (صحیح البخاری)

حضرت سالم ابن عبداللہ ابن عمر اپنے والد (حضرت عبداللہ ابن عمر) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ ہم (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نجد کی طرف جہاد کے لئے گئے (جب) ہم دشمنوں کے سامنے ہوئے تو ہم نے ان (سے مقابل) ہونے کے لئے صفیں باندھ لیں، رسول اللہ ہمیں نماز پڑھانے کے لئے کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے ساتھ (نماز کے لئے) کھڑی ہوئی اور دوسری جماعت دشمن کے مد مقابل کھڑی رہی، رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ جو آپ ﷺ کے ہمراہ ( نماز کی جماعت میں) شریک تھے ایک رکوع کیا اور دو سجدے کئے پھر وہ لوگ (جو آپ ﷺ کے ہمراہ نماز میں تھے) ان لوگوں کی جگہ چلے گئے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی تھی ( اور دشمن کے مد مقابل کھڑے تھے) جن لوگوں نے نماز نہیں پڑھی تھی وہ آئے (اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز میں شریک ہوگئے) چناچہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے ہمراہ ایک رکوع اور دو سجدے کئے پھر سلام۔ اور یہ لوگ کھڑے ہوگئے اور ہر ایک نے اپنا اپنا ایک رکوع اور دو سجدے کر لئے۔ نافع نے بھی اسی طرح روایت بیان کی ہے۔ مگر انہوں نے اتنا اور زیادہ بیان کیا ہے کہ اگر (عین جنگ کی حالت ہو اور) خوف اس سے بھی زیادہ ہو (کہ مذکورہ بالا طریقہ سے نماز پڑھنا ممکن نہ ہو) تو لوگ پیادہ کھڑے کھڑے یا (پیادہ نہ ہو سکیں تو) سواری پر اگر (ممکن ہو تو) قبلے کی طرف یا (اور اگر ممکن نہ ہو تو) کسی بھی طرف رخ کر کے نماز پڑھ لیں حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ نے یہ الفاظ رسول اللہ ﷺ سے ہی نقل کئے ہوں گے۔ (صحیح البخاری ) تشریح نجد بلند زمین کو کہتے ہیں یہاں نجد سے مراد نجد حجاز ہے۔ نجد یمن مراد نہیں ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ تعدد جماعت یعنی کئی کئی مرتبہ جماعت کرنا مکروہ ہے خصوصاً جب کہ تمام نمازی حاضر ہوں۔ ایسے ہی یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ فرض نماز نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے جائز نہیں ہوتی ورنہ رسول اللہ ﷺ دونوں جماعتوں کو الگ الگ دو دو مرتبہ نماز پڑھاتے نیز جماعت کے واجب ہونے کی بھی یہ حدیث دلیل ہے کہ ایسی حالت میں بھی جب کہ دشمن کا لشکر مد مقابل ہو جماعت نہ چھوڑی جائے۔ حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا طریقے سے نماز خوف کی ادائیگی اس وقت ضروری ہوتی ہے جب کہ سب لوگ ایک ہی آدمی کو امام بنانے پر مصر ہوں۔ اگر ایسی صورت حال نہ ہو تو پھر افضل یہ ہے کہ ایک امام ایک جماعت کو پوری نماز پڑھائے اور دوسرا امام دوسری جماعت کو پوری نماز پڑھائے۔ حدیث کے الفاظ فقام کل واحد منھم ( اور یہ لوگ کھڑے ہوگئے الخ) کی تفصیل و فائدہ علماء حنفیہ میں سے بعض شارحین نے یہ بیان کیا ہے کہ یہ جماعت جو بعد میں آکر نماز میں شریک ہوئی تھی۔ آنحضرت ﷺ کے سلام پھیرنے کے بعد دشمن کے مقابلے میں چلی گئی اور پہلی جماعت جو پہلی رکعت میں شریک ہوئی تھی وہاں سے اپنی جگہ یعنی نماز پڑھنے آگئی اور تنہا تنہا اپنی بقیہ نماز پوری کی اور سلام پھیر کے دشمن کے مقابلہ پر چلی گئی اس کے بعد پھر دوسری جماعت یہاں آگئی اور اس نے بھی تنہا اپنی بقیہ نماز پوری کی اور سلام پھیر کے دشمن کے مقابلہ پر چلی گئی۔ ابن ملک (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء سے یہی تفصیل اور طریقہ منقول ہے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہ کا بھی یہی مسلک ہے۔ اگر یہ تفصیل حدیث میں وضاحت کے ساتھ بیان نہیں کی گئی ہے اور نہ صراحت کے ساتھ حدیث اس پر دلالت کرتی ہے۔ لیکن حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے حضرت امام ابوحنیفہ کے مسلک کا ایک جز ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی جماعت ایک رکعت پڑھ کر چلی جائے اور دوسری جماعت دوسری رکعت میں آکر امام کے ساتھ شریک ہو اور اس دوسری جماعت کی موجودگی میں امام اپنی نماز پوری کر کے سلام پھیر دے۔ البتہ حضرت امام اعظم کا پورا مسلک اور ان کا نقل کردہ پورا طریقہ ایک دوسری روایت سے ثابت ہوتا ہے جو حضرت عبداللہ ابن عباس پر موقوف ہے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا یہ مسلک اور ان کی روایت حضرت امام محمد نے اپنی کتاب الآثار میں نقل کی ہے۔ اس سلسلے میں اتنی بات سمجھ لینا چاہیے کہ نماز خوف کے بارے میں حضرت امام اعظم کا جو مسلک ہے اور انہوں نے جو تفصیل بیان کی ہے وہ حدیث موقوف سے ثابت ہے اور ظاہر ہے کہ اس باب میں عقل کو کوئی دخل نہیں لہٰذا حدیث موقوف بھی حدیث مرفوع کے درجے میں ہوگی۔ اور پھر یہ کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ بھی ہے کہ صورت مذکورہ میں پہلی جماعت اپنی نماز بغیر قرأت کے لاحق کی طرح پوری کرے اور دوسری جماعت قرأت کے ساتھ پوری کرے جیسا کہ مسبوق اپنی نماز قرأت کے ساتھ پوری کرتے ہیں لیکن یہ صورت اس وقت کی ہے جب کہ نماز حالت سفر میں پڑھی جا رہی ہو اور امام مسافر ہو یا نماز دو رکعت والی نماز ہو اور اگر امام مقیم ہو اور نماز چار رکعتوں والی ہو تو دونوں جماعتوں میں سے ہر ایک جماعت امام کے ساتھ دو دو رکعتوں پڑھے گی۔ لیکن نماز اگر تین رکعتیں والی ہو جیسے مغرب کی تو خواہ سفر ہو یا حضرت دونوں صورتوں میں پہلی جماعت امام کے ساتھ دو رکعتیں پڑھے گی اور دوسری جماعت ایک رکعت اور ہر جماعت اپنی اپنی نماز مذکورہ بالا طریقے سے پوری کرے گی۔ حدیث کے آخری الفاظ قیا ما علی اقدامھم سے اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نمازی رکوع اور سجدہ ترک کردیں۔ یعنی مذکورہ بالا صورت میں جب کہ لوگ پیادہ کھڑے کھڑے یا سواری پر نماز پڑھیں تو رکوع اور سجدہ سر کے اشارے سے کرلیں نماز خوف کے سلسلے میں مذکورہ بالا طریقہ اگرچہ خلاف قیاس ہے کیونکہ خود حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک چلنا، سوار ہونا اور لڑنا نماز کو فاسد کردیتا ہے۔ پھر یہ کہ اس صورت میں نہ صرف یہ کہ عمل کثیر بہت ہوتا ہے بلکہ قبلے سے بھی انحراف ہوتا ہے لیکن چونکہ قرآن کریم اور رسول اللہ ﷺ کی احادیث صحیحہ میں نماز خوف اور اس کا طریقہ وارد ہوگیا ہے۔ اس لئے اسے مشروع رکھا گیا ہے۔

1393Mishkaat-al-Masabih

نماز خوف کا ایک اور طریقہ

وَعَنْ یَزِیْدَ بْنِ رُوْمَانَ رحمۃ اللہ علیہ عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ عَمَّنْ صَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم یَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ صَلٰوۃَ الْخَوْفِ اَنَّ طَائِفَۃً صَفَّتْ مَعَہ، وَ طَائِفَۃٌ وِجَاہَ الْعَدُوِّ فَصَلّٰی بِالَّتِیْ مَعَہ، رَکْعَۃً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَاَتَمُّوْا لِاَنْفُسِھِمِ ثُمَّ انْصَرَ فُوْا فَصَفُّوْا وِجَاہَ الْعَدُوِّ وَجَاءَ تِ الطَّائِفَۃُ الْاُخْرٰی فَصَلّٰی بِھِمُ الرَّکْعَۃَ الَّتِیْ بَقِیَتْ مِنْ صَلٰوتِہٖ ثُمَّ ثَبَتَ جَالِساً وَاَتَمُّوْا لِاَ نْفُسِھِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِھِمْ (صحیح البخاری و صحیح مسلم واخرج البخاری بطریق اثر عن القاسم عن صالح بن خوات عن سھل بن ابی حثمۃ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

اور حضرت یزید ابن رومان حضرت صالح ابن خوات اور وہ اس آدمی سے جس نے سرتاج دو عالم ﷺ کے ہمراہ ذات الرقاع کے دن نماز خوف پڑھی تھی (نماز خوف کا یہ طریقہ) نقل کرتے ہیں کہ (اس دن) ایک جماعت نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ( نماز کے لئے) صف بندی کی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل صف آرا ہوگئی۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس جماعت کے ہمراہ جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی ایک رکعت نماز پڑھ کر رسول اللہ ﷺ کھڑے رہے اور اس جماعت نے خود اپنی نماز پوری کی (یعنی دوسری رکعت جماعت نے خود تنہا پڑھی) پھر اس کے بعد یہ جماعت) (نماز سے فارغ ہو کر) واپس ہوئی اور دشمن کے مقابل صف آرا ہوگئی اور وہ جماعت جو دشمن کے مقابل صف آرا تھی (نماز کے لئے) آئی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے وہ دوسری رکعت جو باقی رہ گئی تھی اس جماعت کے ساتھ پڑھی اور (التحیات میں) بیٹھے رہے اور پھر اس جماعت نے اپنی وہ پہلی رکعت جو باقی تھی تنہا اور التحیات میں رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ شریک ہوگئی پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ ( صحیح البخاری نے اس روایت کو ایک اور سند کے ساتھ نقل کیا ہے یعنی اس طرح کہ قاسم وہ صالح ابن خوات سے اور وہ حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے اور وہ رسول اللہ ﷺ سے نقل کرتے ہیں۔ تشریح ذات الرقاع کے دن جس آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی تھی ان کا نام سہل ابن ابی حثمہ ہے کیونکہ محمد ابن قاسم نے صلوٰۃ الخوف کی حدیث صالح ابن خوات سے اور انہوں نے حضرت سہل ابن ابی حثمہ سے نقل کی ہے جیسا کہ صحیح البخاری کی روایت میں بیان کیا گیا ہے۔ ذات الرقاع ایک غزوے کا نام ہے جو ٥ ھ میں وقوع پذیر ہوا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کفار کے مقابلے کے لئے گئے مگر بغیر جنگ کئے ہوئے واپسی ہوئی۔ اسی موقع پر یہ نماز پڑھی تھی۔ اس غزوے کو ذات الرقاع اس لئے کہا جاتا ہے کہ اس وقت جو مسلمان غزوہ میں شریک ہونے کے لئے میدان جہاد کی طرف گئے تھے وہ ننگے پاؤں تھے جس کی وجہ سے ان کے پاؤں میں سوراخ ہوگئے تھے اور ناخن ٹوٹ گئے تھے چناچہ ان مجاہدین نے اپنے پاؤں پر رقاع یعنی چیتھڑے لپیٹ لئے تھے اسی مناسبت سے یہ غزوہ ذات الرقاع (یعنی چیتھڑوں) والا کے نام سے مشہور ہوا۔ اس حدیث میں نماز خوف کا جو طریقہ نقل کیا گیا ہے یہ ایک اور طریقہ ہے اس میں بھی ہر جماعت نے ایک ایک رکعت رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ پڑھی اور ایک ایک رکعت تنہا پوری کی۔ لیکن یہاں فرق یہ ہے کہ ہر ایک جماعت نے جو ایک ایک رکعت تنہا پڑھی وہ رسول اللہ ﷺ کے نماز میں رہنے کے دوران ہی پڑھی جب کہ پہلے طریقے میں ہر ایک جماعت نے اپنی اپنی ایک رکعت نماز رسول اللہ ﷺ کے نماز سے فارغ ہونے کے بعد پڑھی تھی۔ حضرت امام شافعی اور حضرت امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نے اسی طریقہ پر عمل کیا ہے جو اس حدیث سے ثابت ہو رہا ہے۔

1394Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کا حلم

وَعَنْ جَابِرٍصقَالَ اَقْبَلْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم حَتّٰی اِذَا کُنَّا بِذَاتِ الرِّقَاعِ قَالَ کُنَّا اِذَا اَتَےْنَا عَلٰی شَجَرَۃٍ ظَلِےْلَۃٍ تَرَکْنٰھَا لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ فَجَاءَ رَجُلٌ مِّنَ الْمُشْرِکِےْنَ وَسَےْفُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مُعَلَّقٌ بِشَجَرَۃٍ فَاَخَذَ سَےْفَ نَبِیِّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَاخْتَرَطَہُ فَقَالَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ اَتَخَافُنِیْ قَالَ لَا قَالَ فَمَنْ ےَمْنَعُکَ مِنِّیْ قَالَ اَللّٰہُ ےَمْنَعُنِیْ مِنْکَ قَالَ فَتَھَدَّدَہُ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَغَمَّدَ السَّےْفَ وَعَلَّقَہُ قَالَ فَنُوْدِیَ بِالصَّلٰوۃِ فَصَلّٰی بِطَآئِفَۃٍ رَّکْعَتَےْنِ ثُمَّ تَاَخَّرُوْا وَصَلّٰی بِالطَّآئِفَۃِ الْاُخْرٰی رَکْعَتَےْنِ قَالَ فَکَانَتْ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَرْبَعُ رَکَعَاتٍ وَّلِلْقَوْمِ رَکْعَتَانِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ہم سر تاج دو عالم ﷺ کے ہمراہ ( جہاد کے لئے روانہ ہوئے یہاں تکہ ہم ذات الرقاع پہنچے۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ (ہمارا قاعدہ یہ تھا کہ) جب ہمیں کوئی سایہ دار درخت ملتا تو ہم اسے رسول اللہ ﷺ کے واسطے چھوڑ دیتے تھے۔ (تاکہ آپ ﷺ اس سائے میں استراحت فرمائیں چناچہ ذات الرقاع میں ایسا ہی ہوا کہ رسول اللہ ﷺ ایک سایہ دار درخت کے نیچے آرام فرما رہے تھے کہ) ایک مشرک آیا اور اس نے رسول اللہ ﷺ کی تلوار جو درخت سے لٹکی ہوئی تھی اتار کر نیام سے کھینچ لی (رسول اللہ ﷺ کو اس کی خبر نہیں ہوئی کیونکہ یا تو آپ سو رہے تھے یا اس کی طرف سے غافل تھے) اس نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ کیا تم مجھ سے ڈرتے ہو؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ نہیں (میں تجھ سے کیوں ڈرنے لگا کیونکہ میرے رب کے سوا دوسرا کوئی نہ مجھے نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان) اس نے کہا کہ پھر تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مجھے تجھ سے اللہ بچائے گا جابر ؓ فرماتے ہیں صحابہ کرام نے (جب یہ دیکھا تو) اس کو دھمکایا، اس نے تلوار نیام میں رکھ کر اسے درخت سے لٹکا دیا حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں پھر (ظہر یا عصر کی) نماز کے لئے اذان ( اور تکبیر) کہی گئی چناچہ رسول اللہ ﷺ نے (پہلے) ایک جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں اور وہ جماعت ( دو رکعت نماز پڑھ کر دشمن کے مقابلے کے ارادے سے) پیچھے ہٹ گئی، پھر آپ نے دوسری جماعت کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں جابر ؓ فرماتے ہیں کہ (اس طرح) رسول اللہ ﷺ کی چار رکعتیں ہوئیں اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہوئیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ ﷺ نہ صرف یہ کہ نہایت شجاع تھے بلکہ کفار کی جانب سے پہنچائی جانے والی ایذا پر صبر کرتے تھے اور جاہل کفار اگر آپ کے ساتھ بےتمیزی کا کوئی معاملہ کرتے تھے تو آپ اسے انتہائی حلم کے ساتھ برداشت فرماتے تھے واقدی نے ذکر کیا ہے کہ جب اس مشرک نے غلط ادارے کے ساتھ تلوارنکالی تو اس کی پیٹھ میں شدید درد شروع ہوگیا جس سے وہ بو کھلا گیا اور تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گرگئی۔ وہ یہ حالت دیکھ مسلمان ہوگیا اور اس کی وجہ سے بہت زیادہ مخلوق نے ہدایت پائی۔ لیکن ابوعوانہ نے نقل کیا ہے کہ وہ مسلمان نہیں ہوا مگر اس نے یہ عہد کیا کہ کبھی بھی رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نہیں لڑوں گا۔ بہر حال رسول اللہ ﷺ نے اس کی اس بد تمیزی پر اسے کوئی سزا نہیں دی۔ اس کیوجہ یا تو اس کی تالیف قلب تھی یا کوئی اور وجہ ہی ہوگی کہ آپ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا۔ اس روایت کے بارے میں مولانا مظہر کا قول یہ ہے کہ اس سے پہلے نقل کی گئی روایت اور اس روایت میں اختلاف ہے باوجود اس کے دونوں روایتوں کا تعلق ایک ہی جگہ یعنی غزوہ ذات الرقاع سے ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ دونوں روایتیں ایک ہی جگہ سے متعلق ہیں مگر اوقات میں فرق و اختلاف ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ دونوں روایتوں کا محمول یہ ہوگا کہ غزوہ ذات الرقاع میں اس جگہ رسول اللہ ﷺ نے دو مرتبہ نماز پڑھی ہے۔ ایک مرتبہ تو اس طریقہ کے مطابق جو سہل ابن ابی حثمہ نے بیان کیا ہے اور ایک مرتبہ اس طریقے کے مطابق جو حضرت جابر ؓ بیان کر رہے ہیں۔ لہٰذا حضرت سہل کی روایت صبح کی نماز پر محمول کی جائے گی اور حضرت جابر کی اس روایت کا محمول ظہر یا عصر کی نماز ہوگی۔ یا پھر یہ کہا جاسکتا ہے کہ دونوں روایتیں تعداد غزوات پر محمول کی جائیں گی۔ جیسا کہ حضرت جابر کے ارشاد سے ثابت ہو رہا ہے اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے چار رکعتیں پڑھیں اور دوسرے لوگوں کی دو ہی رکعتیں ہوئیں۔ تو علماء نے اس کی کئی وجہیں بیان کی ہیں ان میں سب سے صحیح اور بہتر توجیہ یہ ہے کہ یا تو یہ واقعہ آیت قصر کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے یا پھر یہ کہ جس جگہ یہ نماز پڑھی گئی تھی وہاں قصر واجب نہیں ہوتا تھا چناچہ امام اعظم ابوحنیفہ نے اسی قول کو اختیار کیا ہے اور علماء نے حدیث کے الفاظ لقوم رکعتان کی مراد یہ بیان کی ہے کہ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دو دو رکعتیں پڑھیں اور باقی دو دو رکعتیں تنہا تنہا پوری کیں۔ وا اللہ اعلم

1395Mishkaat-al-Masabih

نماز خوف کا ایک طریقہ

وَعَنْہُ قَالَ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃَ الْخَوْفِ فَصَفَفْنَا خَلْفَہُ صَفَّےْنِ وَالْعَدُوُّ بَےْنَنَا وَبَےْنَ الْقِبْلَۃِ فَکَبَّرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَکَبَّرْ نَا جَمِےْعًا ثُمَّ رَکَعَ وَرَکَعْنَا جَمِےْعًا ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِےْعًا ثُمَّ اِنْحَدَرَ بِالسُّجُوْدِ وَالصَّفُّ الَّذِیْ ےَلِےْہِ وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِیْ نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم السُّجُوْدَ وَقَامَ الصَّفُّ الَّذِیْ ےَلِےْہِ اِنْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُوْدِ ثُمَّ قَامُوْا ثُمَّ تَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ وَتَاَخَّرَ الْمُقَدَّمُ ثُمَّ رَکَعَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَرَکَعْنَا جَمِےْعًا ثُمَّ رَفَعَ رَاْسَہُ مِنَ الرُّکُوْعِ وَرَفَعْنَا جَمِےْعًا ثُمَّ انْحَدَرَ بِالسُّجُوْدِ وَالصَّفُّ الَّذِیْ ےَلِےْہِ الَّذِیْ کَانَ مُؤَخَّرًا فِی الرَّکْعَۃِ الْاُوْلٰی وَقَامَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فِی نَحْرِ الْعَدُوِّ فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم السُّجُوْدَ وَالصَّفُّ الَّذِیْ ےَلِےْہِ انْحَدَرَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ بِالسُّجُوْدِ فَسَجَدُوْا ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم وَسَلَّمْنَا جَمِےْعًا۔(صحیح مسلم)

اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے ہمیں (ایک مرتبہ) نماز خوف پڑھائی۔ چناچہ ہم نے آپ ﷺ کے پیچھے دو صفیں باندھ لیں اور دشمن ہمارے قبلے کے درمیان تھا آپ نے تکبیر کہی ہم سب نے بھی (یعنی دونوں صفوں نے) تکبیر کہی، جب آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے (دونوں صفوں نے) بھی (اپنے سر رکوع سے) اٹھائے، پھر سجدے کے لئے اس صف کے ساتھ جھکے جو آپ ﷺ کے قریب تھی (یعنی پہلی صف) اور دوسری صف دشمن کے مقابلے (قومہ ہی میں) کھڑی رہی پھر جب آپ ﷺ سجدہ کرچکے اور آپ ﷺ کے ساتھ وہ صف کھڑی ہوگئی ( جو آپ ﷺ کے قریب تھی یعنی پہلی صف) تو پچھلی صف والے سجدے میں چلے گئے۔ پھر یہ کھڑے ہوگئے۔ اس کے بعد اگلی صف پیچھے ہٹ آئی اور (پچھلی صف آگے بڑھ گئی پھر رسول اللہ ﷺ نے قیام میں قرأت کی اور) رکوع کیا تو ہم سب نے بھی رکوع کیا۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع سے سر اٹھایا تو ہم سب نے بھی رکوع سے سر اٹھایا۔ پھر رسول اللہ ﷺ سجدے میں گئے اور صف جو آپ ﷺ کے قریب تھی اور پہلی رکعت میں پیچھے تھی آپ ﷺ کے ساتھ سجدے میں چلی گئی اور پچھلی صف (جو پہلی رکعت میں آگے تھی) دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی، پھر جب آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے قریب کی صف کے سب لوگ سجدے سے فارغ ہوگئے تو پچھلی صف نے سجدے کیا۔ پھر اس کے بعد آپ نے اور ہم سب نے (یعنی دونوں صفوں نے التحیات پڑھ کر) سلام پھر یا۔ (صحیح مسلم) تشریح نماز خوف کا یہ ایک اور طریقہ ہے رسول اللہ ﷺ جیسا وقت اور جیسا موقع دیکھتے اسی کے مطابق نماز خوف پڑھتے تھے۔ چناچہ یہاں چونکہ دشمن سامنے ہی قبلے کی طرف تھا اس لئے اسلامی لشکر ایک ہی جگہ اس طرح نماز پڑھتا رہا کہ دشمن کا لشکر مد مقابل رہا چناچہ کسی جماعت کو کسی اور طرف بھیجنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، پورا لشکر رکوع تک تو متفق رہا اس کے بعد صرف اتنا فرق ہوا کہ جب ایک صف سجدہ میں گئی تو دوسری صف کھڑی رہی اور جب دوسری صف سجدے میں گئی تو پہلی صف کھڑی رہی۔ جیسا کہ حدیث میں ذکر کیا گیا ہے علماء لکھتے ہیں کہ یہ نماز رسول اللہ ﷺ نے عسفان میں ادا فرمائی تھی۔

1396Mishkaat-al-Masabih

نماز خوف کا رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مختص ایک ہی طریقہ

وَعَنْ جَابِرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ صَلَاۃَ الظُّھْرِ فِی الْخَوْفِ بِبَطْنِ نَخْلٍ فَصَلّٰی بِطَائِفَۃٍ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ ثُمَّ جَآءَ طَائِفَۃُ اُخْرٰی فَصَلَّی بِھِمْ رَکْعَتَیْنِ ثُمَّ سَلَّمَ۔ (رواہ فی شرح السنۃ)

حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقام بطن نخل میں خوف کے وقت ظہر کی نماز پڑھی چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو اس طرح) نماز پڑھائی کہ ایک جماعت کو دو رکعتیں پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ پھر جب دوسری جماعت آئی تو اسے بھی دو رکعتیں نماز پڑھا کر سلام پھیر دیا۔ (شرح السنۃ) تشریح بطن نخل مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ کا نام ہے حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک کے مطابق یہ حدیث اس پر محمول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قصر کی نماز پڑھی۔ یعنی آپ ﷺ نے چار رکعتوں کے بجائے دو رکعت نماز ادا فرمائی اس کے بعد دو رکعت نماز نفل پڑھی۔ حضرت امام شافعی (رح) کے ہاں نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے والا اقتدا کرسکتا ہے۔ حنفی مسلک کے مطابق اس حدیث کی تشریح بظاہر ایک سخت مسئلہ ہے کیونکہ اگر اسے سفر پر محمول کیا جائے تو نفل نماز پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنے والے کی اقتدا لازم آتی ہے اور حنفیہ کے ہاں یہ درست نہیں ہے لہٰذا یہ سفر کی نماز تو قرار نہیں دی جاسکتی۔ اب اگر اس حدیث کا محمول حضر کی نماز قرار دی جائے تو پھر ہر دو رکعت پر سلام پھیرنا لازم آتا ہے جو نماز کے منافی ہے لہٰذا اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں کہ یہ کہا جائے کہ نماز تو حالت حضر ہی میں پڑھی گئی تھی البتہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرنا یہ صرف آپ ﷺ کی خصوصیات میں سے تھا جو دوسروں کے لئے جائز نہیں ہے چناچہ لوگوں نے اپنی بقیہ دو دو رکعتیں آپ کے سلام پھیرنے کے بعد بطور خود پوری کیں اس طرح ان کی بھی چار رکعتیں ہوگئیں۔ اس سلسلے میں حضرت امام طحاوی (رح) نے جو تحقیق پیش کی ہے وہ بہت مناسب معلوم ہوتی ہے انہوں نے فرمایا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ ایک فرض نماز دو مرتبہ پڑھی جاسکتی تھی۔

1397Mishkaat-al-Masabih

نماز خوف کا ایک اور طریقہ

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم نَزَلَ بَیْنَ ضَجْنَانَ وَ عَسْفَانَ فَقَالَ الْمُشْرِکُوْنَ لِھٰؤُلَآءِ صَلَاۃٌ ھِیَ اَحَبُّ اِلَیْھِمْ مِنْ اٰبَآءِ ھِمْ وَھِیَ الْعَصْرُ فَاَجْمِعُوْ اَمْرَکُمْ فَتَمِیْلُوْا عَلَیْھِمْ مِیْلَۃً وَاحِدَۃً وَاِنَّ جِبْرِیْلَ اَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَمَرَہُ اَنْ یُّقَسِّمَ اَصْحَابَہُ شَطْرَیْنِ فَیُصَلِّی بِھِمْ وَتَقُوْمَ طَائِفَۃٌ اُخْرٰی وَرَاءَ ھُمْ وَلْیَأْخُذُوْا حِذْرَھُمْ وَاَسْلِحَتَھُمْ فَتَکُوْنَ لَھُمْ رَکْعَۃٌ وَلِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم رَکْعَتَانِ۔ (رواہ الترمذی و النسائی )

حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ (جہاد کے لئے) فجنان اور عسفان کے درمیان اترے تو مشرک (آپس میں) کہنے لگے کہ مسلمانوں کی ایک نماز ہے جو ان کے نزدیک ان کے باپ اور بیٹے سے بھی زیادہ محبوب ہے اور وہ نماز عصر ہے چناچہ تم اپنے مقصد (یعنی جنگ) کے لئے تیار ہوجاؤ اور جب مسلمان اس نماز میں مصروف ہوں تو) ان پر یکبارگی حملہ کردو۔ جب ہی آپ ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل (علیہ السلام) آئے اور فرمایا کہ آپ ﷺ اپنے صحابہ کرام کو دو حصوں میں تقسیم کردیں۔ ایک حصے کو تو نماز پڑھائیں اور دوسرا حصہ ان کے پیچھے دشمن کے خطرناک ارادوں کا جواب دینے کے لئے) کھڑا رہنا ( اسی طرح دوسرے حصے کو نماز پڑھائیں تو پہلا حصہ دشمن کے مد مقابل رہے نیز تمام نمازیوں کو) چاہیے کہ اپنے دفاع کا سامان یعنی سپر و ہتھیار وغیرہ اپنے پاس رکھیں۔ اس طرح لوگوں کی تو (امام کے ساتھ) ایک ایک رکعت ہوجائے گی اور رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں۔ (جامع ترمذی و سنن نسائی) تشریح ضجنان ایک پہاڑ کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ہے اور عسفان ایک جگہ کا نام ہے جو مکہ سے دو منزل کے فاصلے پر واقع ہے۔

1398Mishkaat-al-Masabih

عیدین کی نماز کا بیان

شوال کہ مہینہ کی پہلی تاریخ کو عیدالفطر (عید) اور ذی الحجہ کی دسویں تاریخ کو عیدالاضحی (بقر عید) اور دونوں کے مجموعے کو عیدین کہتے ہیں۔ یہ دونوں تاریخیں اسلام میں عید اور خوشی کے دن ہیں جس میں دو دو رکعت نماز بطور شکر کے پڑھی جاتی ہے۔ عیدین کی نماز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے ہاں واجب ہے جب کہ حضرت امام شافعی (رح) اور دوسرے علماء عیدین کی نماز کو سنت مؤ کدہ کہتے ہیں۔ عید لفظ عود سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں باربار آنا چناچہ اس دن کو عید اس لئے کہا جاتا ہے کہ یہ دن بار بار یعنی ہر برس آتا ہے چناچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس دن کا نام عید اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ عود کرتا ہے یعنی بندوں پر اپنی رحمت اور بخشش کے ساتھ متوجہ ہوتا ہے۔ اسی مناسبت سے عید کے بارے میں یہ عارفانہ جملے بیان کئے جاتے ہیں کہ لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدَ اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ اٰمَنَ مِنَ الْوَعِیْدِ لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَنَجَّرَ بِالْعُوْدِ اَنَّمَا الْعِیْدُ الِلتَّائِبِ الَّذِی لَا یَعُوْدُ لَیْسَ الْعَیْدُ لِمَنْ تَزَیَّنَ بِزِیْنَۃِ الدُّنْیَا اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْویٰ۔ لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ رَکِبَ الْمَطَایَ اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَرَکَ الْخَطَایَا لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ بَسَطَ الْبِسَاطَ اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ جَاوَزَ الصِّرَاطَ۔ عید اس آدمی کے لئے نہیں ہے جو نئے کپڑے پہنے بلکہ اس کے لئے ہے جو عید سے امن میں (یعنی برے کاموں سے بچتا رہے تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و مغفرت کا مستحق ہوا ور اس کے عتاب سے امن میں رہے) عید اس آدمی کے لئے نہیں ہے جو عود کی خوشبو سے معطر ہو بلکہ اس کے لئے ہے جو توبہ کرنے والا ہو کہ پھر گناہ نہ کرے عید اس آدمی کے لئے نہیں ہے جو آرائش دنیا کی زینت اختیار کرے بلکہ اس کے لئے ہے جو تقوی (پرہیزگاری) کو آخرت کے لئے زاد راہ بنائے۔ عید اس آدمی کے لئے نہیں ہے جو سواریوں پر سوار ہو بلکہ اس کے لئے ہے جو گناہوں کو ترک کرے۔ اور عید اس آدمی کے لئے نہیں جو ( آرائش و زیبائش کے) فرش بچھائے بلکہ اس کے لئے ہے جو پل صراط سے گذر جاے گا۔

1399Mishkaat-al-Masabih

عیدین کی نماز

عَنْ اَبِیْ سَعِےْدِ نِ الْخُدْرِیِّص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم ےَخْرُجُ ےَوْمَ الْفِطْرِ وَالْاَضْحٰی اِلَی الْمُصَلّٰی فَاَوَّلُ شَیْءٍ ےَبْدَاُ بِہِ اَلصَّلٰوۃُ ثُمَّ ےَنْصَرِفُ فَےَقُوْمُ مُقَابِلَ النَّاسِ وَالنَّاسُ جُلُوْسٌ عَلٰی صُفُوْفِھِمْ فَےَعِظُھُمْ وَےُوْصِےْھِمْ وَےَاْمُرُھُمْ وَاِنْ کَانَ ےُرِےْدُ اَنْ ےَّقْطَعَ بَعْثًا قَطَعَہُ اَوْ ےَاْمُرُ بِشَیْءٍ اَمَرَ بِہٖ ثُمَّ ےَنْصَرِفُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

حضرت ابوسعید خدری ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ( جب) عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز کے لئے تشریف لاتے تو وہاں سب سے پہلا یہ کام فرماتے کہ خطبے سے پہلے نماز ادا فرماتے، پھر نماز سے فارغ ہوتے اور لوگوں کے سامنے کھڑے ہوتے اور لوگ اپنی صفوں پر بیٹھتے رہتے چناچہ آپ ان کو وعظ و نصیحت فرماتے، وصیت کرتے اور احکام صادر فرماتے، اگر (جہاد کے لئے) کہیں کوئی لشکر بھیجنا ہوتا تو اس کی روانگی کا حکم فرماتے اس طرح اگر (لوگوں کے معاملات و مقدمات کے بارے میں کوئی حکم دینا ہوتا تو حکم صادر فرماتے پھر (گھر) واپس تشریف لے آتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم) تشریح مدینہ منورہ کی عیدگاہ شہر سے باہر ہے، جس کا فاصلہ کہتے ہیں کہ حجرہ شریف سے ایک ہزار قدم ہے وہ جگہ انتہائی متبرک اور مقدس ہے اب اس کے اردگرد چار دیواری بنادی گئی ہے۔ بہر حال شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ امام وقت کے لئے ضروری ہے کہ وہ عیدین کی نماز کے لئے عید گاہ جائے۔ ہاں اگر کوئی عذر مانع ہو تو پھر شہر کی مسجد ہی میں نماز پڑھائے ابن ہمام فرماتے ہیں کہ امام وقت کے لئے مسنون ہے کہ وہ خود تو عید کی نماز کے لئے عید گاہ جائے اور کسی ایسے آدمی کو اپنا قائم بنا دے جو شہر میں ضعیفوں کو نماز پڑھائے لیکن حضرت علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ عید گاہ جانے کا مسئلہ مسجد حرام اور بیت المقدس کے علاوہ دوسری جگہوں کے لئے ہے کیونکہ نہ صرف ان دونوں مقدس مسجدوں کی عظمت و تقدس کے پیش نظر بلکہ صحابہ اور تابعین کی اتباع میں بھی مسجدوں میں تمام نمازیں پڑھنی افضل ہیں۔ فیقوم کا مطلب یہ ہے کہ آپ نماز سے فراغت کے بعد خطبہ ارشاد فرمانے کے لئے لوگوں کے سامنے زمین پر کھڑے ہوتے تھے۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں عید گاہ میں منبر نہیں تھا۔ اس کے بعد جب مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی تو عید گاہ میں منبر کا انتظام کیا گیا اس لے کہ منبر پر کھڑے ہو کر پڑھے گئے خطبے کی آواز دور دور تک پہنچتی ہے۔ نصیحت کرتے یعنی مسلمانوں کو آپ اس موقع پر دنیا سے زہد اختیار کرنے اور آخرت کے طرف دھیان رکھنے کی نصیحت فرماتے، نیز آپ ﷺ لوگوں کے سامنے ثواب کی عظمت و فضائل بیان کرتے اور گناہوں سے ڈراتے تاکہ لوگ اس دن کی خوشیوں اور مسرتوں میں مشغول ہو کر اطاعت سے غافل اور گناہوں میں مبتلا نہ ہوجائیں جیسا کہ آجکل لوگوں کا حال ہے۔ اور وصیت کرتے یعنی لوگوں کو تقوی یعنی پرہیز گاری اختیار کرنے کی وصیت فرماتے۔ تقوی کے تین درجے ہیں۔ ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ شرک سے بچا جائے۔ وسط درجہ یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی اطاعت و فرمانبرداری کی جائے اور ممنوع چیزوں سے بچا جائے۔ اور اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف ہمہ وقت حضور قلوب کے ساتھ متوجہ اور ماسوا اللہ سے بےغرض رہا جائے۔ احکام صادر فرماتے یعنی لوگوں کے معاملات کے بارے میں جو احکام دینے ہوتے تھے وہ صادر فرماتے نیز عید الفطر میں فطرہ کے احکام اور عیدالاضحی میں قربانی کے احکام بیان فرماتے۔

1400Mishkaat-al-Masabih

عیدین کی نماز

وَ عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ صَلَّےْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم الْعِےْدَےْنِ غَےْرَ مَرَّۃٍ وَّلاَ مَرَّتَےْنِ بِغَےْرِ اَذَانٍ وَلَااِقَامَۃٍ۔

اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عید و بقر عید کی نماز بغیر اذان و تکبیر کے ایک دو مرتبہ نہیں (بلکہ بہت مرتبہ) پڑھی ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے اکثر اہل علم کا یہی مسلک تھا کہ عید و بقر عید کی نماز میں نہ تو اذان مشروع ہے اور نہ تکبیر، اسی طرح دوسرے نوافل میں بھی اذان و تکبیر نہیں ہے بلکہ کتاب ازہار میں تو یہ لکھا ہے کہ مکروہ ہے۔