جمعہ کے لئے بطور خاص اچھے کپڑے بنانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا عَلٰی اَحَدِکُمْ اِنْ وَجَدَ اَنْ یَتَّخِذَ ثَوْبَیْنَ لِیَوْمِ الْجُمُعَۃِ سِوَی ثَوْبَی مِھْنَتِہٖ رَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃَ وَرَوَاہُ مِالِکٌ عَنْ یَحْیَ بْنِ سَعِیْدٍ۔
اور حضرت عبداللہ ابن سلام ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا تم میں سے جسے مقدور ہو کہ نماز جمعہ کے لئے علاوہ کاروبار کے کپڑوں کے دو کپڑے اور بنا لے تو کوئی مضائقہ نہیں (سنن ابن ماجہ) اور امام مالک نے یہ روایت یحییٰ ابن سعد سے نقل کی ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی آدمی کو سہولت و آسانی کے ساتھ یہ میسر ہو کہ وہ ان کپڑوں کے علاوہ جنہیں وہ ہمیشہ پہنتا ہے اور ان کپڑوں میں گھر باہر کا کاروبار کرتا ہے نماز جمعہ کے لئے دو مزید کپڑے بنا لے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی آدمی بطور خاص جمعہ اور عیدین کے لئے اچھے کپڑے بنائے تو یہ زہد وتقوی کے منافی نہیں ہوگا چناچہ خود سرکار دو عالم ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ کے پاس دو ایسے کپڑتے تھے جنہیں آپ ﷺ بطور خاص جمعے ہی کے روز زیب تن فرماتے تھے۔
امام کے قریب بیٹھ کر خطبہ سنو
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اُحْضُرُو الذِّکْرَوَ اُدْنُوُاْ مِنَ الْاِمَامِ فَاِنَّ الرَّجُلَ لَا یَزَالُ یَتَبَا عَدُ حَتّٰی یُؤَخَّرَ فِی الْجَنَّۃِ وَاِنْ دَخَلَھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت سمرۃ بن جندب ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ خطبے کے وقت جلد حاضر ہوا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو، کیونکہ آدمی (بھلائیوں کی جگہ سے بلا عذر) جتنا دور ہوتا جاتا جنت میں داخل ہونے سے پیچھے رہے گا۔ اگرچہ جنت میں داخل ہو بھی جائے۔ (ابوداؤد)
تشریح
اس حدیث کے ذریعے اس بات کی رغبت دلائی جا رہی ہے کہ ہمیشہ اعلیٰ امور اختیار کئے جائیں اور ادنیٰ چیزوں پر قناعت نہ کی جائے۔ ہمت بلند دار کہ نزد اللہ و خلق باشد بقدر ہمت تو اعتبار تو
گردنوں کو پھلانگے پر وعید
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ الْجُنَھِّنی عَنْ اَبِیْہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَخَطّٰی رِقَابَ النَّاسِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اُتُّخِذَ جَسْرًا اِلٰی جَھَنَّمَ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت معاذ ابن انس جہنی ؓ اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن ( جامع مسجد میں جگہ حاصل کرنے کے لئے) لوگوں کی گردنیں پھلانگے گا وہ جہنم کی طرف پل بنایا جائے گا جامع ترمذی نے یہ روایت نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
سید نے کہا ہے حدیث کی اسناد عن معاذ ابن انس عن ابیہ سھوا نقل ہوگئی ہے کیونکہ معاذ کے والد انس کو نہ شرف روایت حاصل ہے اور نہ فیض صحبت ہی میسر ہوا ہے لہٰذا صحیح اسناد اس طرح ہے عن سہل ابن معاذ عن ابیہ (سہل ابن معاذ اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں) جیسا کہ جامع ترمذی میں منقول ہے۔ حدیث کے الفاظ جہنم کی طرف پل بنایا جائے گا کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے دن ایسے آدمی کو اپنے فعل کی مثل بدلہ ملے گا یعنی جس طرح اس نے گردنوں کو پھلانگ کر لوگوں کو اپنی گذر گاہ بنایا اس طرح اس کو جہنم کی طرف پل بنا کر لوگوں کے لئے گذر گاہ بنایا جائے گا۔
خطبے کے وقت بیٹھنے کا ایک ممنوع طریقہ
وَعَنْہُ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم نَھٰی عَنِ الحَبْوَۃِ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت معاذ ابن انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جمعے کے دن جب کہ امام خطبہ پڑھ رہا ہو گوٹ مارنے سے منع فرمایا ہے۔ (جامع ترمذی و سنن ابوداؤد)
تشریح
گوٹ مارنا ایک خاص نشست اور بیٹھنے کے ایک مخصوص طریقے کو کہتے ہیں جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اکڑوں بیٹھ کر سرین کو زمین پر ٹیک کر کپڑے یا ہاتھوں کے ذریعے دونوں گھٹنے اور رانیں پیٹ کے ساتھ ملا لی جاتی ہیں۔ خطبے کے وقت اس طرح بیٹھنے سے منع فرمایا گیا ہے کیونکہ ایسی حالت میں نیند آجاتی ہے جس کی وجہ سے خطبے کی سماعت نہیں ہوسکتی بلکہ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اس طرح بیٹھنے والا غنودگی کے عالم میں ایک پہلو پر گر جاتا ہے یا بیٹھے ہی بیٹھے اس کا وضو ٹوٹ جاتا ہے اور اسے احساس بھی نہیں ہوتا۔
اونگھ آنے کی صورت میں جگہ بدل دینی چاہیے
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا نَعَسَ اَحَدُکُمْ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ فَلْیَتَحَوَّلْ مِنْ مَجْلِسِہٖ ذَالِکَ۔ ( رواہ الترمذی)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی آدمی جمعے کے دن ( مسجد میں بیٹھے ہوئے اونگھنے لگے تو اسے چاہیے کہ وہ اپنی جگہ بدل دے (یعنی جس جگہ بیٹھا ہے وہاں سے اٹھ جائے اور دوسری جگہ جا کر بیٹھ جائے اس طرح نیند کا غلبہ کم ہوجائے گا۔ (جامع ترمذی )
کسی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھاؤ
عَنْ نَّافِعٍ رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَص ےَقُوْلُ نَھٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَنْ ےُّقِےْمَ الرَّجُلُ الرَّجُلَ مِنْ مَّقْعَدِہٖ وَےَجْلِسُ فِےْہِ قِےْلَ لِنَافِعٍ رَحْمَتُہ اللّٰہ عَلَیْہ فِی الْجُمْعَۃِ قَالَ فِی الْجُمُعَۃِ وَغَےْرِھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت نافع فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ کوئی آدمی کسی کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود وہاں بیٹھ جائے نافع سے پوچھا گیا کہ کیا یہ ممانعت جمعے کے لئے ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جمعے کے لئے بھی اور جمعے کے علاوہ بھی۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
چونکہ اس طرز عمل سے منع فرمایا گیا ہے اس سے ایک مسلمان بھائی کو تکلیف پہنچتی ہے لہٰذا یہ ممانعت کیا جمعہ اور کیا غیر جمعہ ہر موقع سے متعلق ہے۔
آداب جمعہ کی رعایت کرنے والے کے لئے خوشخبری
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَحْضُرُا الْجُمُعَۃَ ثَلاثَۃُ نَفَرٍ فَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِلَغْوٍ فَذَالِکَ حَظُّہ، مِنْھَا وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِدُعَاءٍ فَھُوَ رَجُلٌ دَعَا اﷲَ اِنْ شَاءَ اَعْطَاہُ وَاِنْ شَاءَ مَنَعَہ، وَرَجُلٌ حَضَرَھَا بِاِنْصَاتٍ وَسُکُوْتٍ وَلَمْ یَتَخَطَّ رَقَبَۃَ مُسْلِمٍ وَلَمْ یُؤْذِ اَحَدًا فَھِیَ کَفَّارَۃٌ اِلَی الْجُمُعَۃِ الَّتِی تَلِیْھَا وَزِیَادَۃُ ثَلاَ ثَۃِ اَیَّامٍ وَ ذَالِکَ بِاَنَّ اﷲُ یَقُوْلُ مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ، عَشْرُ اَمْثَالِھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ ( کی نماز) میں تین طرح کے لوگ آتے ہیں ایک وہ آدمی جو لغو کلام اور بیکار کام کے ساتھ آتا ہے (یعنی وہ خطبے کے وقت لغو بیہودہ کلام اور بیکار کام میں مشغول ہوتا ہے) چناچہ جمعے کی حاضری میں اس کا یہی حصہ ہے (یعنی وہ جمعے کے ثواب سے محروم رہتا ہے اور لغو کلام و فعل کا وبال اس کے حصے میں آتا ہے) دوسرا وہ آدمی ہے جو جمعے میں دعا کے لئے آتا ہے (چنانچہ وہ خطبے کے وقت دعا میں مشغول رہتا ہے یہاں تک کہ اس کی دعا اسے خطبے سننے یا خطبہ کے کمال ثواب سے باز رکھتی ہے) پس وہ دعا مانگتا ہے خواہ اللہ تعالیٰ (اپنے فضل و کرم کے صدقہ میں) اس کی دعا کو قبول فرمائے یا نہ قبول فرمائے تیسرا وہ آدمی جمعہ میں آتا ہے تو (اگر خطبہ کے وقت امام کے قریب ہوتا ہے تو خطبے سننے کے لئے) خاموش رہتا ہے اور (اگر امام سے دور ہوتا ہے اور خطبے کی آواز اس تک نہیں پہنچتی تب بھی خطبے کے احترام میں وہ) سکونت اختیار کرتا ہے نیز نہ تو وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہے اور نہ کسی کو ایذاء پہنچاتا ہے لہٰذا اس کے واسطے یہ جمعہ اس (یعنی پہلے) جمعے تک جو اس سے ملا ہوا بلکہ اور تین دن زیادہ تک کا کفارہ ہوجائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَۃِ فَلَہ عَشَر اَمْثَالِھَا یعنی جو ایک نیکی کرے گا۔ اس کو نیکی کا دس گناہ ثواب دیا جائے گا۔ (ابوداؤد)
تشریح
ان شاء اعطاہ وان شاء منعہ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آدمی چونکہ خلاف ادب اور خلاف حکم اس وقت دعا میں مشغول رہتا ہے اس لئے اگر اللہ تعالیٰ چاہے گا تو محض اپنے فضل و کرم کے صدقے اس کی دعا کو قبول فرما لے گا ورنہ از راہ عدل اس کے اس فعل بد کی وجہ سے کہ وہ دعا میں مشغول رہ کر خطبہ سننے سے غافل رہا اس کی دعا قبول نہیں فرمائے گا۔ خطبے کے وقت دعا میں مشغول ہونا حنفیہ کے نزدیک مکروہ ہے جب کہ دوسرے علماء کے ہاں حرام ہے مشکوٰۃ کے ایک دوسرے نسخے میں لفظ بَلَغُوْا صیغہ مضارع کے ساتھ نقل کیا گیا ہے لیکن صحیح بلغو جیسا کہ یہاں نقل کیا گیا ہے کیونکہ یہ اگلے جملوں کے مطابق ہے۔ ولم یوذ احد کا مطلب یہ ہے کہ مسجد میں آکر اس نے کسی آدمی کو ایذاء اور تکلیف نہیں پہنچائی بایں طور کہ مثلاً نہ تو کسی کو اس کی جگہ سے اٹھایا نہ کسی دوسرے کے جسم کے کسی عضو پر چڑھ کر بیٹھایا اسی طرح نہ تو کسی کے مصلیٰ پر اس کی مرضی کے بغیر بیٹھا اور نہ لہسن و پیاز جیسی اشیاء کی بدبو سے کسی کو تکلیف پہنچائی۔
خطبے کے وقت بات چیت کرنے والوں کے لئے وعید
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَکَلَّمَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَالْاِمَامُ یَخْطُبُ فَھُوَ کَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًاوَالَّذِی یَقُوْلُ لَہ، اَنْصِتْ لَیْسَ لَہ، جُمُعَۃٌ۔ (رواہ احمد بن حنبل)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن اس حالت میں جب کہ امام خطبہ پڑھ رہا ہو بات چیت میں مشغول ہو تو وہ اس گدھے کی مانند ہے کہ جس پر کتابیں لاد دی گئیں ہوں اور جو آدمی اس (بات چیت میں مشغول رہنے والے) سے کہے چپ رہو تو اس کے لئے جمعے کا ثواب نہیں ہے۔ (احمد بن حنبل)
تشریح
کمثل الحمار کا مطلب یہ ہے کہ ایسا آدمی اس گدھے کی طرح ہے جس کی پشت پر کتابیں لاد دی جائیں یہ دراصل عالم کے علم پر عمل نہ کرنے سے کنایہ ہے نیز اس بات سے کنایہ ہے کہ اس آدمی نے انتہائی محنت و مشقت برادشت کر کے علم حاصل کیا مگر اس علم سے فائدہ نہیں اٹھایا۔ جو آدمی مشغول گفتگو کو خاموش ہونے کے لئے کہے اس کو بھی جمعے کا ثواب اس لئے نہیں ملتا کہ اس سے ایسا لغو اور بےفائدہ کلام صادر ہوا جس کی ممانعت ثابت ہوچکی ہے جیسا کہ اس کی تفصیل حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت (نمبر ٥) میں بیان کی جا چکی ہے۔ خطبے کے وقت رسول اللہ ﷺ کا کلام اور اس کی وضاحت ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ جمعے کے روز جب کہ رسول اللہ ﷺ خطبہ دے رہے تھے ایک اعرابی آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ! میرا مال تباہ و برباد ہوگیا، میرے اہل و عیال بھوکے ہیں ہمارے لئے دعا کیجئے! رسول اللہ ﷺ نے اسی حالت میں اپنے ہاتھ اٹھائے اور دعا فرمائی یا اسی طرح بعض روایتوں میں رسول اللہ ﷺ سے خطبہ کی حالت میں بات چیت کرنا ثابت ہے تو ان روایتوں کے بارے میں کئی احتمال ہیں اول تو یہ کہ آپ ﷺ کا دعا میں مشغول ہونا یا بات چیت کرنا خطبہ کی حالت میں نہیں تھا بلکہ یا تو خطبہ شروع ہونے کے بعد آپ ﷺ دعا یا بات چیت میں مشغول ہوئے ایک احتمال یہ ہے کہ ان روایتوں کا تعلق اس زمانے سے ہے جب کہ خطبے کی حالت میں اس قسم کی مشغولیت ممنوع نہیں تھی یا پھر یہ کہا جائے کہ یہ آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے ہے۔
مسلمانوں کے لئے جمعہ عید ہے
وَعَنْ عُبَیْدِ بْنِ السَّابَّقِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی جُمُعَۃٍ مِنَ الْجُمُعِ یَا مَعْشَرَ الْمُسْلِمِیْنَ اِنَّ ھٰذَا یَوْمٌ جَعَلَہُ اﷲُ عِیْدًا فَاغْتَسِلُوْا وَمَنْ کَانَ عِنْدَہ، طِیْبٌ فَلَا یَضُرُّہُ اَنْ یَمَسَّ مِنْہُ وَ عَلَیْکُمْ بِالسَّوَاکِ رَوَاہُ مَالِکٌ وَرَوَاہُ ابْنُ مَاجَۃٌ عَنْہُ وَھُوَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مُتَّصِلًا۔
اور حضرت عبیداللہ ابن سباق بطریق ارسال روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے مسلمانوں کی جماعت! یہ (جمعہ) کا وہ دن ہے جسے اللہ تعالیٰ نے (مسلمانوں) کی عید قرار دیا ہے۔ لہٰذا (اس دن) غسل کرو اور جس آدمی کو خوشبو میسر ہو اگر وہ اسے استعمال کرے تو کوئی حرج نہیں نیز تم مسواک ضرور کیا کرو (مالک) ابن ماجہ نے بھی یہ حدیث عبیداللہ ابن سباق سے انہوں نے عبداللہ ابن عباس ؓ سے متصل نقل کی ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جمعہ کا دن عید یعنی فقراء و مساکین اور اولیاء اللہ و صالحین کے لئے خوشی و مسرت اور زیب وزینت کرنے کا دن ہے اس دن نہاؤ یعنی خوب اچھی طرح طہارت اور ستھرائی حاصل کرو۔ اور خوشبو استعمال کرو خوشبو ایسی ہونی چاہیے جس میں خوشبو تو ہو مگر رنگ نہ ہو جیسے عطر وغیرہ علامہ ابن حجر (رح) فرماتے ہیں کہ خوشبوؤوں میں سب سے اعلیٰ خوشبو ایسا مشک ہے جس میں گلاب کی آمیزش ہو کیونکہ رسول اللہ ﷺ اکثر و بیشتر مشک ہی کا استعمال فرماتے تھے۔ حدیث کے الفاظ ومن کان عندہ طیب فلا یضرہ ان یمس کے بارے میں اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ یہ پیرا یہ بیان وہاں استعمال کیا جاتا ہے جہاں کسی گناہ کا گمان ہوتا ہے لیکن خوشبو استعمال کرنا اور خاص طور پر جمعے کے دن سنت موکدہ ہے لہٰذا اس موقعہ پر یہ پیرا یہ بیان کیوں اختیار کیا گیا؟ تو جواب یہ ہوگا کہ بعض مسلمان یہ گمان کرتے تھے کہ خوشبو چونکہ عورتوں کے استعمال میں زیادہ آتی ہے اور عورتیں زیادہ تر اس کے استعمال کی عادی ہوتی ہیں اس لئے مردوں کے لئے اس کا استعمال مناسب نہ ہوگا چناچہ اس گمان اور گناہ کی نفی اس پیرایہ بیان سے کی گئی ہے جیسا کہ طواف یعنی صفا ومروہ کی سعی ارکان حج میں سے ہے اور واجب ہے لیکن اس کے باوجود اس بارے میں حق تعالیٰ نے یہ پیرایہ بیان اختیار فرمایا لا جناح علیہ ان یطوف بھما (یعنی اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ صفا و مردہ کی سعی کی جائے) حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جمعے کے دن اور خاص طور پر غسل و وضو کے وقت مسواک ضرور استعمال کرنی چاہیے۔
جمعے کے دن غسل کرنے اور خوشبو لگانے کی اہمیت
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَقًّا عَلَی الْمُسْلِمِیْنَ اَنْ یَغْتَسِلُوْا یَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَلِیَمَسَّ اَحَدُھُمْ مِنْ طِیْبِ اَھْلِہٖ فَاِنْ لَمْ یَجِدْ فَالْمَآءُ لَہُ طِیْبٌ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ۔
اور حضرت براء ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مسلمانوں پر جمعے کے دن نہاناواجب ہے نیز مسلمانوں کو چاہیے کہ ان میں سے ہر آدمی اپنے گھر میں سے خوشبو لے کر استعمال کرے اور اگر کسی کو خوشبو میسر نہ ہو تو اس کے لئے پانی ہی خوشبو ہے۔ یہ روایت احمد و ترمذی نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث حسن ہے۔
تشریح
من طیب اھلہ اس لئے فرمایا گیا ہے کہ عورتیں اکثر خوشبو لگاتی ہیں اس سے گویا اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کسی کے پاس خوشبو نہ ہو وہ اپنی بیوی سے مانگ لے لیکن خوشبو زنانی یعنی ایسی نہ ہو کہ اس میں رنگ کی آمیزش ہو۔ فَالْمَاءُ لَہ طَیِّبٌ کا مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کے پاس خوشبو نہ ہو اور اس کے گھر میں بھی بیوی وغیرہ کے پاس سے نہ ملے تو وہ پانی سے نہالے کہ پانی بمنزلہ خوشبو کے ہے کیونکہ پانی پاکیزگی اور ستھرائی کا سبب ہے اور بدن کی بدبو اس سے جاتی رہتی ہے۔ یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حضرت امام مالک کے مسلک کی موید ہے کیونکہ ان کے نزدیک جمعے کے دن غسل کرنا واجب ہے لیکن جمہور علماء کے نزدیک چونکہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں لہٰذا ان حضرات نے احادیث کو سنت پر محمول کیا ہے کیونکہ ان کے علاوہ دوسری اور بہت سے احادیث سے یہ ثابت ہے کہ جمعہ کے دن غسل واجب نہیں ہے تاہم علماء لکھتے ہیں کہ جمعہ کے دن غسل نہ کرنا مکروہ ہے۔
خطبے اور جمعے کی نماز کا بیان
لغت میں خطبہ مطلقاً تقریر، گفتگو اور اس کلام کو کہتے ہیں کہ جس کے ذریعے لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہو، لیکن شریعت کی اصطلاح میں خطبہ اس کلام اور مجموعہ الفاظ کو کہتے ہیں جو پندو نصائح، ذکروارشاد، درود وسلام اور شہادتیں پر مشتمل ہو۔ نماز جمعہ میں خطبہ فرض اور شرط ہے، امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک خطبے کی کم سے کم مقدار سبحان اللہ یا الحمد اللہ یا لا الہ الا اللہ کہنا ہے۔ اگرچہ رسول اللہ ﷺ سے طویل خطبہ منقول ہے لیکن طویل خطبہ واجب یا سنت ہے شرائط اور فرائض میں سے نہیں ہے کہ بغیر طویل خطبے کے جمعے کی نماز درست نہ ہوتی ہو۔ مگر حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما فرماتے ہیں کہ طویل ذکر اور پندو نصیحت کہ جسے عرف عام میں خطبہ کہا جاتا ہے ضروری ہے محض سبحان اللہ یا الحمد اللہ کہہ لینے کو خطبہ نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت امام شافعی فرماتے ہیں کہ جب تک دو خطبے نہ پڑھے جائیں خطبہ جائز ہی نہیں ہوتا۔ ان تمام ائمہ کے دلائل فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔
عَنْ اَنَسٍ ص اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ ےُصَلِّی الْجُمُعَۃَ حِےْنَ تَمِےْلُ الشَّمْسُ۔ (صحیح البخاری)
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کی نماز اس وقت پڑھتے تھے جب کہ آفتاب ڈھل جاتا۔ (صحیح البخاری )
تشریح
نماز جمعہ پڑھنے کے سلسلے میں آپ ﷺ کا معمول یہ تھا کہ جب سردی کا موسم ہوتا تھا تو آپ ﷺ آفتاب ڈھلتے ہی جمعے کی نماز پڑھ لیتے تھے مگر شدید گرمی کے دنوں میں ٹھنڈے وقت پڑھتے تھے جیسا کہ آگے حضرت انس ؓ کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوگا۔
وَعَنْ سَھْلِ بْنِ سَعْدٍص قَالَ مَا کُنَّا نَقِےْلُ وَلَا نَتَغَدّٰی اِلَّا بَعْدَ الْجُمُعَۃِ ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت سہل ابن سعد ؓ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ جمعے کی نماز سے فارغ ہو کر قیلولہ کرتے تھے اور کھانا کھاتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
تشریح
دوپہر کے وقت استراحت کرنے کو قیلولہ کہتے ہیں خواہ سویا جائے یا نہ سویا جائے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ ہم جمعے کے روز دوپہر کے کھانے اور قیلولہ میں مشغول نہ رہتے تھے بلکہ صبح سویرے نماز جمعہ کے لئے چلے جاتے تھے نماز کے بعد کھانا کھاتے اور قیلولہ کرتے تھے۔
وَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا اشْتَدَّ الْبَرْدُ بَکَّرَ بِالصَّلٰوۃِ وَاِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ اَبْرَدَ بِالصَّلٰوۃِ ےَعْنِی الْجُمُعَۃَ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سخت سردی کے موسم میں جمعے کی نماز سویرے پڑھ لیتے تھے اور جب شدید گرمی کے دن ہوتے تو دیر سے پڑھتے تھے۔ (صحیح البخاری )
رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں جمعے کی پہلی اذان نہیں ہوتی تھی
وَعَنِ السَّآئِبِ بْنِ ےَزِےْدَ صقَالَ کَانَ النِّدَاءُ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَوَّلُہُ اِذَا جَلَسَ الْاِمَامُ عَلَی الْمِنْبَرِ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَبِیْ بَکْرٍ وَّعُمَرَ فَلَمَّا کَانَ عُثْمَانُ وَکَثُرَ النَّاسُ زَادَ النِّدَآءَ الثَّالِثَ عَلَی الزَّوْرَآئِ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت سائب ابن یزید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر و عمر ؓ کے زمانے میں جمعے کی پہلی اذان وہ ہوتی تھی جو امام کے منبر پر بیٹھنے کے بعد دی جاتی تھی مگر جب حضرت عثمان غنی ؓ خلیفہ ہوئے اور لوگوں کی کثرت ہوگئی تو تیسری اذان کا اضافہ کیا گیا جو وزراء میں دی جاتی تھی۔ (صحیح البخاری )
تشریح
رسول اللہ ﷺ کے زمانہ مبارک میں جمعے کی اذان کے سلسلے میں معمول یہ تھا کہ جب آپ نماز جمعہ کے لئے تشریف لاتے اور منبر پر بیٹھتے تو اذان کہی جاتی تھی۔ جمعہ کی پہلی اذان جو نماز کا وقت شروع ہوجانے کے بعد کہی جاتی ہے اس وقت مقرر نہیں تھی۔ زمانہء رسالت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق و عمر ؓ کے زمانہ خلافت میں بھی یہی معمول رہا۔ مگر جب حضرت عثمان غنی خلیفہ ہوئے تو انہوں نے یہ دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے مبارک زمانہ میں مسلمان تعداد میں کم تھے اور یہ کہ مسجد کے قریب ہی سکونت پذیر تھے بلکہ اکثر مسلمان تو ہمہ وقت بارگاہ رسالت ہی میں حاضر رہتے تھے اور اب نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کی تعداد بھی بہت بڑھ گئی ہے بلکہ اکثر مسلمان مسجد سے دور دراز علاقوں میں سکونت پذیر ہیں اور اپنے اپنے کاروبار میں مشغول رہتے ہیں تو انہوں نے یہ مناسب جانا کہ جب نماز کا وقت ہوجائے تو اذان کہی جائے تاکہ جو لوگ دور دراز علاقوں میں رہتے ہیں وہ بھی خطبے میں حاضر ہوجائیں۔ اسی طرح اسی وقت سے اذان اول کہی جانے لگی۔ لہٰذا تیسری اذان سے مراد یہی پہلی اذان ہے کہ حدیث میں اس کو تیسری اذان سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگرچہ یہ اذان وقوع کے اعتبار سے اول ہے کہ سب سے پہلے کہی جاتی ہے مگر رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں چونکہ مقرر شدہ دو اذانوں (یعنی ایک تو وہ اذان جو خطبے کے وقت کہی جاتی ہے اور دوسری تکبیر) کے بعد یہ اذان مقرر ہوئی ہے اس لئے اسے تیسری اذان کہا جاتا ہے۔ بہر حال وہ اذان جو نماز جمعہ کے لئے سب سے پہلی کہی جاتی ہے حضرت عثمان غنی ؓ نے مقرر کی ہے اور وہ بھی سنت ہے اسے بدعت نہیں کہا جائے گا کیونکہ حضرات خلفاء راشدین کا فعل اور ان کا مقرر کردہ طریقہ بھی سنت ہی میں شمار ہوتا ہے۔ اب تو غالباً کسی بھی جگہ طریقہ یہ رائج نہیں ہے مگر پہلے بعض مقامات پر یہ معمول تھا کہ سنتیں پڑھنے کے وقت مزید ایک اذان کہی جاتی تھی جو نہ تو رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں مقرر تھی اور نہ صحابہ اور تابعین کے دور میں مقرر ہوئی اور نہ اکثر مسلم ممالک وبلاد میں اس وقت یہ اذان کہی جاتی تھی نہ معلوم کس آدمی نے یہ بدعت جاری کی تھی۔ علماء نے لکھا ہے کہ نماز جمعہ کے لئے پہلی اذان ہوجانے کے بعد خریدو فروخت (یا کوئی بھی دنیاوی مشغولیت) حرام ہوجاتی ہے اور نماز جمعہ میں جلدی پہنچنے کے لئے اس کی تیاریوں اور اہتمام میں مشغول ہوجانا واجب ہوجاتا ہے۔
رسول اللہ ﷺ دو خطبے پڑھتے تھے اور دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کَانَتْ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم خُطْبَتَانِ ےَجْلِسُ بَےْنَھُمَا ےَقْرَءُ الْقُرْآنَ وَےُذَکِّرُ النَّاسَ فَکَانَتْ صَلٰوتُہُ قَصْدًا وَّخُطْبَتُہُ قَصْدًا۔(مسلم)
اور حضرت جابر ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ دو خطبے پڑھا کرتے تھے اور دونوں (خطبوں) کے درمیان بیٹھتے تھے، ان خطبوں میں آپ قرآن کریم پڑھتے تھے اور لوگوں کو پند و نصیحت فرمایا کرتے تھے۔ نیز آپ ﷺ کی نماز بھی اوسط درجہ کی ہوتی تھی اور آپ کا خطبہ بھی اوسط درجے کا ہوتا تھا نہ بہت زیادہ طویل ہوتا تھا اور نہ بالکل ہی مختصر۔ (صحیح مسلم)
تشریح
آپ دونوں خطبوں کے درمیان اس قدر بیٹھا کرتے تھے کہ جسم مبارک کا ہر ہر عضو اپنی اپنی جگہ پر آجاتا تھا۔ چناچہ فقہاء نے دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنے کا صرف اتنا عرصہ مقرر کیا ہے کہ جس میں تین مرتبہ سبحان اللہ کہا جاسکے دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھنا واجب نہیں ہے بلکہ سنت ہے۔ یہ بات بھی جان لینی چاہیے کہ صحیح طور پر یہ ثابت نہیں ہے کہ رسول اللہ ﷺ دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھ کر کوئی دعا پڑھتے تھے۔
مختصر مگر پر تایثر خطبہ خطیب کی دانائی کی علامت ہے
وَعَنْ عَمَّارٍص قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ اِنَّ طُوْلَ صَلٰوۃِ الرَّجُلِ وَقَصْرَ خُطْبَتِہٖ مَئِنَّۃٌ مِّنْ فِقْھِہٖ فَاَطِےْلُوا الصَّلٰوۃَ وَاقْصُرُوا الْخُطْبَۃَ وَاِنَّ مِنَ الْبَےَانِ سِحْرًا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عمار ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لمبی نماز اور مختصر خطبہ پڑھنا آدمی کی دانائی کی علامت ہے۔ لہٰذا تم نماز کو طویل اور خطبہ کو مختصر کرو کیونکہ بعض بیان سحر (کی تایثر لئے ہوئے ہوتا) ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
خطبہ کی حالت میں لوگوں کی توجہ مخلوق (یعنی خطبہ پڑھنے والے) کی طرف ہوتی ہے جب کہ نماز کی حالت میں توجہ کا مرکز خالق (یعنی اللہ تعالیٰ ) کی ذات ہوتی ہے۔ چناچہ حدیث بالا بڑے ہی بلیغ انداز میں یہ بتانا چاہتی ہے کہ انسان کی سمجھ داری اور اس کی دانائی کا تقاضہ یہ ہونا چاہیے کہ اس حالت کو زیادہ دراز اور طویل کیا جائے جس میں بندے کی توجہ اپنے خالق کی طرف ہو اور اس حالت کو مختصر کیا جائے جس میں توجہ مخلوق کی طرف منعطف ہو رہی ہو۔ لیکن اتنی بات سمجھ لیجئے کہ یہاں نماز طویل کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز سنت کے موافق ہو۔ یعنی نماز پڑھنے کے سلسلے میں جو درجے رسول اللہ ﷺ سے منقول اور ثابت ہے نہ تو اس سے طویل ہو اور نہ اس سے مختصر ہی ہو۔ اس طرح اس حدیث میں اور اوپر والی حدیث میں مطابقت پیدا ہوجائے گی۔ و ان من البیان سحرا (کیونکہ بعض بیان سحر ہے) گویا یہ خطبے کو مختصر کرنے کے سلسلے میں دلیل بیان کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ خطبہ ایسا پڑھنا چاہیے جو قَلَّ وَ دَلَّ کا پورا پورا مصداق ہو۔ یعنی اس کے الفاظ مختصر ہوں مگر حقائق و معنی کے دریا اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔ کیونکہ جس طرح سحر کے مختصر ترین الفاظ میں بہت زیادہ تایثر ہوتی ہے اسی طرح اس بیان اور اس تقریر میں بھی جو الفاظ کے معنی کے اعتبار سے جامع و مانع ہو، ایک عظیم تایثر ہوتی ہے جس کی وجہ سے سامعین کے قلوب ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف مائل و منتقل ہوجاتے ہیں۔ لہٰذا حدیث کے ان الفاظ میں بیان و تقریر کی تعریف بھی ہے اور مذمت بھی بایں طور کہ اگر کوئی بیان سا معین کے قلوب و دماغ کو برائی کی طرف سے نیکی کی طرف مائل کر دے تو وہ اچھا ہے اور جو بیان سامعین کے ذہن و فکر کو نیکی کے راستہ سے ہٹا کر برائی کے راستہ پر موڑ دینے والا ہو وہ برا ہے۔
خطبہ ارشاد فرماتے وقت رسول اللہ ﷺ کی کیفیت
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا خَطَبَ اِحْمَرَّتْ عَےْنَاہُ وَعَلَا صَوْتُہُ وَاشْتَدَّ غَضَبُہُ حَتّٰی کَاَنَّہُ مُنْذِرُ جَےْشٍ ےَقُوْلُ صَبَّحَکُمْ وَمَسّٰکُمْ وَےَقُوْلُ بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَےْنِ وَےَقْرِنُ بَےْنَ اِصْبَعَیْہِ السَّبَابَۃِ وَالْوُسْطٰی۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب (جمعے کا یا کوئی) خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ ﷺ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آواز بلند ہوجاتی اور غصہ تیز ہوجاتا تھا یہاں تک کہ (ایسا محسوس ہوتا) گویا آپ لوگوں کو (دشمن کے لشکر سے) ڈرا رہے ہوں اور فرما رہے ہوں کہ صبح و شام میں تم پر (دشمن کا لشکر ڈاکہ ڈالنے والا ہے۔ اور رسول اللہ ﷺ خطبے میں ارشاد فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اور قیامت کو اس طرح ساتھ ساتھ بھیجا گیا ہے یہ کہہ کر آپ اپنی دو انگلیوں یعنی شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کو ملاتے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
انوار جلال کبریائی کی تجلی اور امت مرحومہ کی تقصیرات کے مشاہدے کی وجہ سے خطبے کے وقت آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتی تھیں اسی طرح اپنی امت کے غم و فکر کی وجہ سے یا یہ کہ سا معین کے کانوں تک اپنے الفاظ پہنچانے کے لئے آپ کی آوازبلند ہوتی تھیں تاکہ لوگوں کے قلوب متاثر ہوں۔ نیز اس وقت آپ کا غصہ امت کی اعتقادی و عملی بےراہ روی کے پیش نظر ہوجاتا تھا۔ بہر حال حاصل یہ ہے کہ جس طرح اپنی قوم اور اپنے لشکر کی غفلت شعاریوں اور کو تاہیوں کو دیکھ کر اس کو دشمن کے خطرناک ارادوں اور منصوبوں سے ڈرانے والا اپنی آواز کو بلند کرتا ہے۔ اس کی آنکھیں سرخ ہوجاتی ہیں اور غصہ تیز ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اپنی امت کی غفلت شعاریوں کی پیش نظر خطبے کے وقت رسول اللہ ﷺ کی یہ کیفیت و حالت ہوتی تھی۔ حدیث کی آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے تھوڑی سی بڑھی ہوئی ہے اسی طرح میں بھی قیامت سے بس تھوڑا ہی پہلے دنیا میں آیا ہوں، قیامت کے آنے کا وقت میری بعثت کے وقت سے متصل ہی ہے میرے بعد جلد ہی قیامت آنے والی ہے۔
خطبے میں رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں پڑھا کرتے تھے
وَعَنْ ےَّعْلَی بْنِ اُمَےَّۃَص قَالَ سََمِعْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ وَنَادَوْا ےَا مَالِکُ لِےَقْضِ عَلَےْنَا رَبُّکَ۔صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت یعلی ابن امیہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر یہ (آیت) پڑھتے ہوئے سنا ہے ( يٰمٰلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ ) 43۔ الزخرف 77) اے سردار! تو اپنے پروردگار سے کہہ کہ وہ ہمارا کام تمام کرے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس آیت میں دوزخیوں اور دوزخ کے سردار کے سوال و جواب کا بیان ہے کہ دوزخی دوزخ کے عذاب کی شدت سے گھبرا کر سردار یعنی داروغہ دوزخ سے کہیں گے کہ اے سردار تم اپنے پروردگار سے عرض کرو کہ وہ ہمارا کام تمام کرے یعنی ہمیں موت دیدے تاکہ اس عذاب سے ہمیں چھٹکارا مل جائے اس کے آگے داروغہ دوزخ کا جواب بھی مذکورہ ہے وہ کہے گا کہ اِنَّکُمْ مَاکِثُوْنَ یعنی موت اور اس عذاب سے چھٹکارا کی تمہاری تمنائیں باطل اور بیکار ہیں تو تم ہمیشہ ہمیشہ اس آگ ہی میں جلتے اور اسی طرح عذاب میں مبتلا رہو گے۔ لہٰذا رسول اللہ ﷺ لوگوں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرانے کے لئے یہ آیت پڑھا کرتے تھے۔
خطبے میں رسول اللہ ﷺ قرآن کی آیتیں پڑھا کرتے تھے
وَعَنْ اُمِّ ھِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَۃَ بْنِ النُّعْمَانَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ مَا اَخَذْتُ قۤ وَالْقُرْآنِ الْمَجِےْدِ اِلَّا عَنْ لِّسَانِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقْرَأُھَا کُلَّ جُمُعَۃٍ عَلَی الْمِنْبَرِ اِذَا خَطَبَ النَّاسَ۔مسلم
حارثہ ابن نعمان کی بیٹی حضرت ام ہشام فرماتی ہیں کہ میں نے سورت ق والقران المجید رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے صرف اس طرح سیکھی ہے کہ آپ ہر جمعے منبر پر جب لوگوں کے سامنے خطبہ ارشاد فرماتے تو یہ سورت پڑھا کرتے تھے اور میں سن سن کر یاد کرلیتی تھی۔ (صحیح مسلم)
تشریح
چونکہ خطبہ میں یکبارگی رسول اللہ ﷺ سے پوری سورت کا پڑھنا ثابت نہیں ہے اس لئے اس حدیث کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہر جمعہ کے روز خطبہ میں اس سورت کے تھوڑے تھوڑے حصے تلاوت فرماتے ہوں گے۔ اسی طرح ام ہشام نے آپ ﷺ سے ہر جمعے میں تھوڑا تھوڑا سن کر پوری سورت یاد کرلی ہوگی۔ وا اللہ اعلم