جمعے کی رات روشن رات اور جمعے کا دن چمکتا دن ہے
وَعَنْ اَنَسٍ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا دَخَلَ رَجَبٌ قَالَ اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَنَا فِی رَجَبَ وَ شَعْبَانَ وَبَلِّغْنَا رَمَضَانَ قَالَ وَکَانَ یَقُوْلُ لَیْلَۃَ الْجُمُعَۃِ لَیْلَۃٌ اَغَرُّوَیَوْمُ الْجُمُعَۃِ یَوْمُ اَزْھَرُ رَوَاہُ الْبَیْھَقِیْ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ جب رجب کا مہینہ آتا تو سر تاج دو عالم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے اللہ! رجب اور شعبان کے مہینے (کی ہماری اطاعت و عبادات) میں ہمیں برکت دے اور ہمیں رمضان تک پہنچا نیز حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ جمعہ کی رات روشن رات ہے اور جمعے کا دن چمکتا دن ہے۔ (بیہقی)
تشریح
اور ہمیں رمضان تک پہنچا کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ! ہمیں یہ سعادت بخش کہ پورا رمضان پائیں اور رمضان کے تمام دنوں میں ہمیں روزے رکھنے اور نماز تراویح پڑھنے کی توفیق ہو۔ جمعے کے دن اور جمعے کی رات کی نورانیت معنوی یا تو بالذات ہوتی ہے یا پھر یہ کہ جمعے کے دن اور جمعے کی رات جو عبادت کی جاتی ہے اس کی برکت اور اس کے سبب سے معنوی نورانیت پیدا ہوتی ہے۔
جمعے کے واجب ہونے کا بیان
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ جمعہ کی نماز فرض عین ہے چناچہ یہاں وجوب سے مراد فرض ہے۔ علامہ یحییٰ فرماتے ہیں کہ نماز جمعہ فریضہ محکمہ ہے جو قرآن کریم، احادیث رسول اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ نماز جمعہ کی فرضیت کا انکار کرنے والا کافر ہوجاتا ہے قرآن کریم کی جس آیت سے جمعہ کی فرضیت ثابت ہے اس کے الفاظ ( فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ ) 62۔ الجمعہ 9) میں ذکر سے مراد جمعے کی نماز اور اس کا خطبہ ہے۔
نماز جمعہ ترک کرنے کی وعید
عَنِ ابْنِ عُمَرَص وَاَبِیْ ھُرَےْرَۃَصاَنَّھُمَا قَالَا سَمِعْنَا رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَقُوْلُ عَلٰی اَعْوَادِ مِنْبَرِہٖ لَےَنْتَھِےَنَّ اَقْوَامٌ عَنْ وَّدْعِھِمُ الْجُمُعَاتِ اَوْ لَےَخْتِمَنَّ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ثُمَّ لَےَکُوْنُنَّ مِنَ الْغَافِلِےْنَ۔(صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ ؓ دونوں راوی ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کو اپنے منبر کی لکٹری (یعنی اس کی سیٹرھیوں) پر یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ لوگ نماز جمعہ کو چھوڑنے سے باز رہیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا اور وہ غافلوں میں شمار ہونے لگیں گے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ان دونوں چیزوں میں سے ایک چیز مقرر ہے یا تو نماز جمعہ کو نہ چھوڑنا، یا دلوں پر مہر لگ جانا، اگر لوگ نماز جمعہ نہیں چھوڑیں گے تو ان کے دلوں پر مہر نہ لگے گی اور اگر چھوڑ دیں گے تو ان کے دلوں پر مہر لگا دی جائے گی۔ دلوں پر مہر لگانا اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے بدبخت لوگوں کے دلوں کو انتہائی غفلت میں مبتلا کر دے گا اور انہیں نصیحت و بھلائی قبول کرنے سے باز رکھے گا۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے کہ ان کے حق میں یہی نکلے گا کہ ایسے لوگ اللہ کے سخت عذاب میں مبتلا کئے جائیں گے۔
نماز جمعہ ترک کرنے کی وعید
عَنْ اَبِی الْجَعْدِ الْضُّمَرِیْ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ ثَلاَثَ جُمَعٍ تَھَاؤُنًا بِھَا طَبَعَ اﷲُ عَلَی قَلْبِہِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَأَ ئِیِّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَالدَّارِمِیُّ وَرَوَاہُ مَالِکٌ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ سُلَیْمٍ وَاَحْمَدُ عَنْ اَبِی قَتَادَۃَ۔
حضرت ابی الجعد ضمیری راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی محض سستی و کاہلی کی بنا پر تین جمعے چھوڑ دے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگائے دے گا۔ (سنن ابوداؤد، جامع ترمذی، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، دارمی اور مالک نے اس روایت کو صفوان ابن سلیم سے اور امام احمد نے ابی قتادہ سے نقل کیا ہے)
بغیر عذر نماز چھوڑنے کی صورت میں صدقہ دینا چاہیے
وَ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ عُذْرٍ فَلْیَتَصَدَّقْ بِدِیْنَارٍ فَاِنْ لَّمْ یَجِدْ فَبِنِصْفِ دِیْنَارٍ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد و ابن ماجۃ)
اور حضرت سمرۃ ابن جندب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی بغیر کسی عذر کے جمعہ چھوڑ دے تو چاہیے کہ ایک دینار صدقہ دے اور اگر ایک دینار میسر نہ ہو تو آدھا دینار دے۔ (احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، ابن ماجۃ)
جمعے کی اذان سننے والے پر نماز جمعہ واجب ہے
وَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عُمَرٍو عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَلْجُمُعَۃُ عَلَی مَنْ سَمِعَ النِّدَائَ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی ( جمعہ کی) اذان سنے اس پر جمعہ کی نماز واجب ہوجاتی ہے۔ (سنن ابوداؤد)
تشریح
حضرت شیخ عبدالحق فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب کوئی آدمی جمعہ کی اذان سنے تو اس کے لئے جمعہ کی تیاری کرنا اور جمعہ کی نماز کے لئے جانا واجب ہے۔ ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ اگر اس حدیث کو علی الاطلاق اس کے ظاہری معنی پر محمول کیا جائے گا تو اس سے بڑے اشکالات پیدا ہونگے اس لئے مناسب یہ ہے کہ اس حدیث کا مفہوم یہ لیا جائے کہ جمعہ اس آدمی پر واجب ہے جو کسی ایسی جگہ ہو جہاں اس کے اور شہر کے درمیان بقدر آواز پہنچنے کا فاصلہ ہو یعنی اگر کوئی شہر میں پکارے تو جہاں وہ ہے وہاں آواز پہنچ جائے۔ شرح منیہ میں ذکر کیا گیا ہے کہ جمعہ اس آدمی پر لازم ہے جو شہر کے اطراف میں کسی ایسی جگہ ہو کہ اس کہ اور شہر کے درمیان فاصلہ نہ ہو بلکہ ملے ہوئے مکانات ہوں (اگرچہ وہ اذان کی آواز نہ سنے) اور اگر اس کے اور شہر کے درمیان کھیت اور چراگاہ وغیرہ حائل ہونے کی وجہ سے فاصلہ ہو تو اس پر جمعہ واجب نہیں اگرچہ وہ اذان سنے۔ مگر امام محمد سے منقول ہے کہ اگر وہ اذان کی آواز سنے تو اس پر جمعہ واجب ہوگا۔ فتوی حضرت امام محمد کے قول ہی پر ہے۔
جمعے کی اذان سننے والے پر نماز جمعہ واجب ہے
وَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اَلْجُمُعَۃُ عَلَی مَنْ اَوَاہُ اللَّیْلِ اِلَی اَھْلِہٖ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ اِسْنَادُہ، ضَعِیْفٌ۔
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعے کی نماز اس آدمی پر فرض ہے جو رات اپنے گھر بسر کرسکے۔ (امام ترمذی نے اس روایت کو نقل کیا ہے اور کہا کہ اس حدیث کی اسناد ضعیف ہے)۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جمعہ ایسے آدمی پر واجب ہے جس کی جائے سکونت اور اس مقام کے درمیان کہ جہاں نماز جمعہ پڑھی جاتی ہے اتنا فاصلہ ہو کہ نماز جمعہ کے بعد بآسانی رات ہونے سے پہلے پہلے اپنے گھر لوٹ کر آسکے اور رات اپنے اہل و اعیال کے ساتھ گزار سکے۔
وہ لوگ جن پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے
وَعَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَلْجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُسْلِمٍ فِی جَمَاعَۃِ اِلَّا عَلَی اَرْبَعَۃٍ عَبْدٍ مَمْلُوْکٍ اَوِامْرَأَۃٍ اَوْصَبِیٍّ اَوْ مَرِیْضٍ رَوَاہُ اَبُوْدَا،دَ فِی شَرْحِ السُّنَّۃِ بِلَفْظِ الْمَصَابِیْحِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِی وَائِلٍ۔
اور حضرت طارق ابن شہاب راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ حق ہے اور جماعت کے ساتھ ہر مسلمان پر واجب ہے علاوہ چار آدمیوں کے غلام جو کسی کی ملک میں ہو عورت بچہ اور مریض (ان پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے)
تشریح
جمعہ حق ہے یعنی جمع کی فرضیت کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کے ذریعے ثابت ہے اسی طرح واجب ہے کا مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان پر علاوہ مذکورہ اشخاص کے جمعے کی نماز با جماعت فرض ہے۔ مذکورہ لوگوں پر جمعہ کیوں واجب نہیں غلام چونکہ دوسرے کی ملکیت اور تصرف میں ہوتا ہے اس لئے اس پر جمعہ فرض نہیں کیا گیا۔ عورت پر جمعہ اس لئے فرض نہیں ہے کہ نہ صرف یہ کہ اس کے ذمہ خاوند کے حقوق اتنے زیادہ متعلق ہیں کہ نماز جمعہ میں شمولیت ان کی ادائیگی سے مانع ہوگی، بلکہ جمعے کی نماز میں چونکہ مردوں کا ہجوم زیادہ ہوتا ہے اس لئے نماز جمعہ میں عورتوں کی شمولیت بہت سے فتنے فساد کا موجب بن سکتی ہے بچہ چونکہ غیر مکلف ہے اس لئے اس پر جمعہ فرض نہیں۔ اسی طرح مریض پر اس کی ضعف و نا تو انی اور دفع ضرر کے سبب جمعہ فرض نہیں ہے لیکن مریض سے مراد وہ مریض ہے جو کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جس کی وجہ سے جمعے میں حاضر ہونا دشوارو مشکل ہو۔ ان کے علاوہ دوسری احادیث سے جن لوگوں پر جمعہ کا فرض نہ ہونا ثابت ہے ان میں دیوانہ بھی ہے جو بچے کے حکم میں ہے ایسے ہی مسافر، اندھے اور لنگڑے پر بھی جمعہ فرض نہیں ہے ابن ہمام (رح) نے فرمایا ہے کہ ایسا بوڑھا جس کو ضعف و نا تو انی لاحق ہو بیمار کے حکم میں ہے اس لئے اس پر اور اس معذور پر بھی جو اپنے پیروں پر چل سکنے پر قادر نہ ہو جمعہ فرض نہیں نیز ایسے تیماردار پر بھی جمعہ فرض نہیں جس کے جمعے میں چلے جانے کی وجہ سے بیمار کی تکلیف و وحشت بڑھ جانے یا اس کے ضائع ہوجانے کا خوف ہو۔
وہ لوگ جن پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍصاَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ لِقَوْمٍ ےَّتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ لَقَدْھَمَمْتُ اَنْ اٰمُرَ رَجُلًا ےُّصَلِّیْ بِالنَّاسِ ثُمَّ اُحْرِقُ عَلٰی رِجَالٍ ےَتَخَلَّفُوْنَ عَنِ الْجُمُعَۃِ بُےُوْتَھُمْ۔ (صحیح مسلم)
حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کے بارے میں جو نماز جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں (یعنی نماز جمعہ نہیں پڑھتے) فرمایا کہ میں سوچتا ہوں کہ میں کسی آدمی سے کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور پھر میں (جا کر) ان لوگوں کے گھر بار جلا دوں جو (بغیر عذر) کے جمعہ چھوڑ دیتے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے بڑی سخت وعید ہے، جو بلا کسی عذر اور مجبوری کے نماز جمعہ نہیں پڑھتے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ اس حدیث سے عبرت حاصل کریں اور نماز جمعہ کبھی بھی نہ چھوڑیں۔
وہ لوگ جن پر نماز جمعہ واجب نہیں ہے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ تَرَکَ الْجُمُعَۃَ مِنْ غَیْرِ ضَرُوْرَۃٍ کُتِبَ مُنَا فِقًا فِی کِتَابٍ لَا یُمْحَی وَلَا یُبَدَّلُ وَفِی بَعْضٍ الرِّوَایَاتِ ثَلَاثًا۔ (رواہ الشافعی)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی بغیر کسی عذر کے نماز جمعہ چھوڑ دیتا ہے وہ ایسی کتاب میں منافق لکھا جاتا ہے جو نہ کبھی مٹائی جاتی ہے اور نہ تبدیل کی جاتی ہے اور بعض روایات میں یہ ہے کہ جو آدمی تین جمعے چھوڑ دے (یہ وعید اس کے لئے ہے)۔ (شافعی)
تشریح
من غیر ضرورۃ کا مطلب یہ ہے کہ ترک جماعت کے جو عذر ہیں مثلاً کسی ظالم اور دشمن کا خوف، پانی برسن، برف پڑنا یا راستے میں کیچڑ وغیرہ کا ہونا وغیرہ وغیرہ اگر ان میں سے کسی عذر کی بنا پر جمعہ کی نماز کیلئے نہ جائے تو وہ منافق نہیں لکھا جائے گا ہاں بغیر کسی عذر اور مجبوری کے جمعہ چھوڑنے والا منافق لکھا جائے گا۔ فی کتبا لا یمحی ولا یبدل میں کتاب سے مراد نامہ اعمال ہے حاصل یہ ہے کہ نماز جمعہ چھوڑنے والا اپنے نامہ اعمال میں کہ جس میں نہ تنسیخ ممکن ہے اور نہ تغیر و تبدل، منافق لکھ دیا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ نفاق جیسی ملعون صفت ہمیشہ کے لئے چپک کر رہ جاتی ہے تاکہ آخرت میں یا تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اسے عذاب میں مبتلا کر دے یا اپنے فضل و کرم سے درگزر فرماتے ہوئے اسے بخش دے غور و فکر کا مقام ہے کہ نماز جمعہ چھوڑنے کی کتنی شدید وعید ہے؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنے عذاب سے محفوظ رکھے۔
نماز جمعہ چھوڑنے والا کچھ اپنا ہی کھوتا ہے
وَعَنْ جَابِرٍ اَنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنْ کَانَ یُؤْمِنُ بِاﷲِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ فَعْلَیْہِ الْجُمُعَۃُ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ اِلَّا مَرِیْضٌ اَوْ مُسَافِرٌ اَوْ ا اِمْرَأَۃٌ اَوْصَبِیٌ اَوْ مَمْلُوْکُ فَمَنِ اسْتَغْنٰی بِلَھْوٍ اَوْ تِجَارَۃٍ اسْتَغْنَی اﷲُ عَنْہُ وَاﷲُ غَنِیٌّ حَمِیْدٌ (رواہ الدارقطنی)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعے کے دن نماز جمعہ فرض ہے علاوہ مریض مسافر، عورت بچے اور غلام کے (کہ ان پر جمعہ فرض نہیں ہے (لہٰذا جو آدمی کھیل کود اور تجارت وغیرہ میں مشغول ہو کر نماز جمعہ سے بےپروائی اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے بےپرواہ اور تعریف کیا گیا ہے۔ (دار قطنی)
تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی کھیل کود، تجارت اور دنیا کی دوسری مشغولیتوں میں منہمک ہو کر نماز جمعہ کی پرواہ نہیں کرتا اور نماز جمعہ چھوڑنے کا اسے کوئی احساس نہیں ہوتا تو وہ اپنا ہی کچھ کھوتا ہے اور اپنا ہی کچھ نقصان کرتا ہے کیونکہ ایسے آدمی سے اللہ تعالیٰ بھی بےپروائی اختیار کرلیتا ہے اور اس پر اپنی عنایت و مہربانی اور کرم نہیں کرتا اور جس بدنصیب پر اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور اس کی مہربانی نہ ہو دین و دنیا دونوں جگہ اس کی تباہی و بربادی کے بارے میں کس کم بخت کو شبہ ہوسکتا ہے؟
پاکی حاصل کرنے اور جمعہ کے لئے سویرے جانے کا بیان
پاکی حاصل کرنے سے مراد ہے غسل کے ذریعے بدن پاک کرنا اور لبوں (مونچھوں) کا کتروانا، ناخن کٹوانا، زیر ناف بال صاف کرنا بغل کے بال دور کرنا، کپڑوں کا پاک کرنا اور خوشبو استعمال کرنا، جمعے کے دن یہ تمام چیزیں سنت ہیں اس کی تفصیل کتاب الطہارت میں مسواک کے بیان میں گزر چکی ہے۔ جمعہ کے لئے سویرے جانے سے مراد ہے مسجد یا جہاں نماز ادا کی جاتی ہو وہاں جمعہ کے لئے نماز کے اول وقت پہنچ جانا۔ اگر کوئی آدمی نماز جمعہ کے لئے مسجد میں دن کے اول وقت میں ہی پہنچ جائے تو یہ افضل ہے چناچہ امام غزالی نے بعض علماء سلف سے یہ معمول نقل کیا ہے کہ وہ عبادت کی طرف پیش روی اختیار کرنے کے جذبہ سے نماز جمعہ کے لئے جمعہ کے دن صبح ہی سے مسجد پہنچ جایا کرتے تھے۔ مگر اتنی بات ذہن نشین رہنی چاہیے۔ کہ مسجد نبوی میں نماز پڑھنے والوں نے جو یہ معمول بنایا ہے کہ وہ جمعہ کے روز صبح سویرے ہی مسجد مقدس میں جگہ روکنے کے لئے اپنے اپنے مصلی بچھا دیتے ہیں مگر وہاں بیٹھتے نہیں بلکہ چلے جاتے ہیں اور پھر نماز کے وقت آجاتے ہیں۔ تو اس کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ اگر ایسے لوگ وہاں بیٹھ کر ذکر و فکر میں مشغول رہیں تو بہتر ہے ورنہ محض جگہ روکنے کی خاطر مصلی بچھا کر چلے جانا مناسب نہیں کیونکہ اس سے لوگوں کو تنگی ہوتی ہے۔ اس لئے مناسب معلوم ہوا کہ جامع مسجد میں جگہ روکنے کے لئے اول وقت پہنچ کر اپنے اپنے کپڑے بچھا دینا اور پھر وہاں سے کھانا وغیرہ کھانے کے لئے گھر چلے جانا مناسب نہیں ہے۔
عَنْ سَلْمَانَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَغْتَسِلُ رَجُلٌ ےَّوْمَ الْجُمُعَۃِ وَےَتَطَہَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُھْرٍ وَےَدَّھِنُ مِنْ دُھْنِہٖ اَوْ ےَمَسُّ مِنْ طِےْبِ بَےْتِہٖ ثُمَّ ےَخْرُجُ فَلَا ےُفَرِّقُ بَےْنَ اثْنَےْنِ ثُمَّ ےُصَلِّیْ مَا کُتِبَ لَہُ ثُمَّ ےُنْصِتُ اِذَا تَکَلَّمَ الْاِمَامُ اِلَّا غُفِرَ لَہُ مَا بَےْنَہُ وَبَےْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی۔(صحیح البخاری)
حضرت سلمان راوی ہیں کہ سر تاج دو عالم ﷺ نے فرمایا۔ جو آدمی جمعے کے دن نہائے اور جس قدر ہو سکے پاکی حاصل کرے اور اپنے پاس سے (یعنی گھر میں جو بلا تکلف میسر ہو سکے) تیل ڈالے اور اپنے گھر سے عطر لگائے اور پھر مسجد کے لئے نکلے اور (مسجد پہنچ کر) دو آدمیوں کے درمیان فرق نہ رکے اور پھر جتنی بھی اس کے مقدر میں ہو (یعنی جمعے کی سنت نوافل یا قضاء نماز پڑھے اور امام کے خطبہ پڑھتے وقت خاموش رہے تو اس جمعے اور گذشتہ جمعے کے درمیان کے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اور جس قدر ہو سکے پاکی اختیار کرے کا مطلب یہ ہے کہ لبیں کتروائے، ناخن کٹوائے، زیر ناف کے بال صاف کرے بغلوں کے بال دور کرے اور پاک و صاف کپڑے پہنے۔ دو آدمیوں کے درمیان فرق نہ کرے کا مطلب یہ ہے کہ اگر مسجد میں باپ بیٹا یا ایسے دو آدمی جو آپس میں محبت وتعلق رکھتے ہوں ایک جگہ پاس بیٹھے ہوں تو ان کے درمیان نہ بیٹھے یا دو آدمیوں کے درمیان اگر جگہ نہ ہو تو وہاں نہ بیٹھے کہ انہیں تکلیف ہوگی ہاں اگر جگہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں۔ یا فرق نہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ لوگوں کو پھلانگتا ہوا۔؟ صفوں کو چیرتا پھاڑتا آگے کی صفوں میں نہ جائے بلکہ جہاں جگہ ملے وہیں بیٹھ جائے اور اگر بغیر پھلانگے اور بغیر صفوں کے چیرے پھاڑے پہلی صف میں پہنچ سکتا ہے تو آگے جانے میں کوئی مضائقہ نہیں یہ حکم اس صورت کا ہے جب کہ آگے کی صفوں میں جگہ نہ ہو۔ ہاں اگر یہ سمجھتا ہے کہ اگر میں آگے کی صفوں میں جاؤں گا تو لوگ مجھے وہاں بیٹھنے کی جگہ دیدیں گے یا یہ کہ اگلی صفوں میں جگہ خالی پڑی ہو تو پھر صفوں کو چیر پھاڑ کر بھی آگے جانا درست ہوگا کیونکہ یہ پچھلی صفوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کا قصور ہے کہ وہ آگے بڑھ کر پہلی صفوں میں کیوں نہیں بیٹھتے اور خالی جگہ کو پر کیوں نہیں کرتے۔ در حقیقت یہ حدیث اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ نماز جمعہ کے لئے اول وقت مسجد پہنچ جانا چاہے۔ تاکہ وہاں فرق نہ کرنے اور صفوں کو چیرنے پھاڑنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ مَنِ اغْتَسَلَ ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ فَصَلّٰی مَا قُدِّرَ لَہُ ثُمَّ اَنْصَتَ حَتّٰی ےَفْرُغَ مِنْ خُطْبَتِہٖ ثُمَّ ےُصَلِّیْ مَعَہُ غُفِرَ لَہُ مَا بَےْنَہُ وَبَےْنَ الْجُمُعَۃِ الْاُخْرٰی وَفَضْلُ ثَلٰثَۃِ اَےَّامٍ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے غسل کیا پھر جمعہ میں آیا اور جس قدر کہ اس کے نصیب میں تھی نماز پڑھی پھر امام کے خطبے سے فارغ ہونے تک خاموش رہا اور اس کے ساتھ نماز پڑھی تو اس جمعے سے گذشتہ جمعے تک بلکہ اس سے تین دن زیادہ کے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
تین دن کی زیادتی اس لئے ہے کہ ہر نیکی کا ثواب دس گنا زیادہ ہوتا ہے لہٰذا جمعے سے جمعہ تک تو سات دن ہوئے اور تین دن کا اسی میں اضافہ کردیا گیا تاکہ دہائی پوری ہوجائے۔
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ تَوَضَّاَ فَاَحْسَنَ الْوُضُوْۤءَ ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَفَاسْتَمَعَ وَاَنْصَتَ غُفِرَ لَہُ مَا بَنَہُ وَبَےَ الْجُمُعَۃِ وَزِےَادَۃُ ثَلٰثَۃِ اَےَّامٍ وَّمَنْ مَّسَّ الْحَصَا فَقَدْ لَغَا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے وضو کیا اور اچھا وضو کیا (یعنی آداب وضو کی رعایت کے ساتھ) پھر جمعہ میں آیا اور (اگر نزدیک تھا تو) خطبہ سنا اور (اگر دور تھا اور خطبہ نہ سن سکتا تھا) تو خاموش رہا تو اس (جمعے) کے اور گذشتہ جمعے کے درمیان بلکہ اس سے بھی تین دن زیادہ کے اس کے گناہ بخش دئیے جائیں گے اور جس نے کنکریوں کو چھوا اس نے لغو کیا۔ (صحیح مسلم)
تشریح
کنکریوں کو چھوا یعنی نماز میں کنکریوں سے شغل کیا بایں طور کے سجدے کی جگہ برابر کرنے کے لئے انہیں ایک مرتبہ سے زیادہ برابر کیا بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خطبے کے وقت کنکریوں سے کھیلتا رہا۔ لغو کے معنی باطل اور بےفائدہ بات لہٰذا نمازی کے کنکریوں سے کھیلنے یا کنکریوں کو چھونے کو لغو کے ساتھ مشابہت اس لئے دی گئی ہے کہ یہ فعل خطبہ سننے سے مانع ہوتا ہے۔
جمعہ میں اول وقت آنے والے کی فضیلت
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا کَانَ ےَوْمُ الْجُمُعَۃِ وَقَفَتِ الْمَلٰئِکَۃُ عَلٰی بَابِ الْمَسْجِدِ ےَکْتُبُوْنَ الْاَوَّلَ فَالْاَوَّلَ وَمَثَلُ الْمُھَجِّرِ کَمَثَلِ الَّذِیْ ےُھْدِیْ بَدَنَۃً ثُمَّ کَالَّذِیْ ےُھْدِیْ بَقَرَۃً ثُمَّ کَبَشًا ثُمَّ دَجَاجَۃً ثُمَّ بَےْضَۃً فَاِذَا خَرَجَ الْاِمَامُ طَوَوْا صُحُفَھُمْ وَےَسْتَمِعُو نَ الذِّکْر
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب جمعے کا دن آتا ہے تو فرشتے مسجد کے دروازے پر آکھڑے ہوجاتے ہیں۔ چناچہ جو آدمی مسجد میں اول وقت آتا ہے پہلے وہ اس کا نام لکھتے ہیں پھر اس کے بعد پہلے آنے والوں کا نام لکھتے ہیں اور جو آدمی مسجد میں اول (وقت) جمعہ میں آتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسا کوئی آدمی مکہ میں قربانی کے لئے اونٹ بھیجتا ہے۔ (کہ جس کا بہت زیادہ ثواب ہوتا ہے) پھر اس کے بعد جو آدمی جمعہ میں آتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی آدمی مکہ میں قربانی کے لئے گائے بھیجتا ہے۔ پھر اس کے بعد جو آدمی آتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی آدمی دنبہ بھیجتا ہے پھر اس کے بعد جو آدمی آتا ہے اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ کوئی صدقہ میں مرغی دیتا ہے پھر اس کے بعد جو آدمی آتا ہے وہ صدقہ میں انڈا دینے والے کی مانند ہوتا ہے اور جب امام (خطبے کے لئے منبر پر) آتا ہے تو وہ اپنے صحیفے لپیٹ لیتے ہیں اور خطبہ سننے لگتے ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کے ابتدائی حصے کا مطلب یہ ہے کہ جمعے کے دن یا تو صبح ہی سے یا طلوع آفتاب یا پھر (جیسا کہ بہتر اور راجح قول ہے)۔ زوال کے وقت سے مسجد کے دروازے پر فرشتے آکر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور جب ترتیب سے نمازی آتے ہیں اسی ترتیب سے ان کا نام لکھتے رہتے ہیں اس طرح جو لوگ اول وقت مسجد میں آتے ہیں ان کا نام سب سے پہلے ہوتا ہے گویا وہ سب سے افضل ہوتے ہیں۔ اور جو لوگ بعد میں آتے ہیں ان کا نام بعد میں لکھا جاتا ہے اسی طرح وہ لوگ اول وقت آنے والوں کی بہ نسبت کم فضیلت والے شمار کئے جاتے ہیں۔ اور یہ فرشتے ان فرشتوں کے علاوہ ہوتے ہیں۔ جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔
خطبہ کے وقت امر بالعروف اور نہی عن المنکر بھی ممنوع ہے
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا قُلْتَ لِصَاحِبِکَ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ اَنْصِتْ وَالاِْمَامُ ےَخْطُبُ فَقَدْ لَغَوْتَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جمعہ کے دن جب امام خطبہ پڑھ رہا ہو تو اگر تم نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے آدمی سے یہ بھی کہا چپ رہو تو تم نے بھی لغو کام کیا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
خطبہ کے وقت چونکہ کسی بھی قسم کے کلام اور گفتگو کی اجازت نہیں ہے۔ اس لئے اس وقت ایسے آدمی کو جو گفتگو کر رہا ہو خاموش ہوجانے کے لئے کہنا بھی اس حدیث کے مطابق لغو ہے اس سے معلوم ہوا کہ خطبہ کے وقت مطلقاً کلام اور گفتگو ممنوع ہے اگرچہ وہ کلام و گفتگو امر بالمعروف (اچھی بات کے کرنے) اور نہی عن المنکر) بری بات سے روکنے ہی سے متعلق کیوں نہ ہو۔ ہاں اس وقت یہ فریضہ اشارہ کے ذریعے ادا کیا جاسکتا ہے لیکن زبان سے کہنے کی اجازت نہیں ہے۔ خطبے کے وقت خاموشی اختیار کرنے کا مسئلہ جب امام خطبہ پڑھ رہا ہو اس وقت خاموش رہنا اکثر علماء کے نزدیک واجب ہے امام ابوحنیفہ بھی انہیں میں شامل ہیں۔ بعض علماء کے نزدیک مستحب ہے چناچہ امام شافعی کا بھی یہی مسلک ہے لیکن مذاہب لدنیہ میں لکھا ہے اس مسئلہ میں امام شافعی کے دو قول ہیں ایک قول وجوب کا ہے اور دوسرا استحاب کا، امام ابوحنفیہ کا مسلک یہ ہے کہ جس وقت امام خطبے کے لئے چلے اس وقت بھی نماز شروع کرنا یا کلام کرنا دونوں ممنوع ہیں اگر کوئی آدمی نماز (مثلا سنت وغیرہ) پڑھ رہا ہو اور امام خطبہ شروع کر دے تو اس آدمی کو دو رکعت پوری کر کے نماز توڑ دینی چاہیے، مگر حضرت امام ابویوسف اور امام محمد کے نزدیک امام کے خطبے کے لئے چلنے اور خطبہ شروع کرنے کے درمیان اسی طرح اس کے خطبہ ختم کرنے کے بعد سے تکبیر تحریمہ شروع ہوجانے تک کلام کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ کراہیت کلام اس وجہ سے ہے کہ کلام میں مشغول رہنے والا آدمی خطبہ نہیں سن سکتا اور ظاہر ہے کہ یہ مواقع خطبہ سننے کے نہیں ہیں اس لئے ایسے اوقات میں کلام کرنا جائز ہے۔ مگر حضرت امام ابوحنیفہ ان دونوں کی ممانعت کی یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ حدیث ہے اذا خرج الا مام فلا صلوۃ ولا کلام (جب امام خطبہ کے لئے چلے تو اس وقت نہ نماز جائز ہے اور نہ کلام) نیز صحابہ کے اقوال بھی اسی طرح ہیں۔ اور صحابی کے قول کو حجت اور دلیل قرار دینے میں نہ صرف یہ کہ کوئی شک و شبہ نہیں ہے بلکہ قول صحابی کی تقلید و پیروی واجب ہے علماء نے لکھا ہے کہ خطبے کے وقت صاحب ترتیب کے لئے قضا نماز پڑھنی مکروہ نہیں ہے۔ اس آدمی کے بارے میں جو امام سے دور ہو اور خطبے کی آواز اس تک نہ پہنچ رہی ہو علماء کے مختلف اقوال ہیں لیکن صحیح اور مختار قول یہ ہے کہ وہ آدمی بھی گفتگو و کلام نہ کرے بلکہ اس کے لئے بھی خاموش رہنا واجب ہے۔ خطبہ کے وقت کے آداب علماء نے صراحت کی ہے کہ جس وقت امام خطبہ پڑھ رہا ہو اس وقت کھانا پینا یا کتابت وغیرہ دنیوی امور میں مشغول ہونا حرام ہے سلام اور چھینک کا جواب دینا بھی مکروہ ہے اس سلسلہ میں در مختار میں ایک کلمہ لکھا گیا ہے۔ کُلُّ شَیْئٍ حُرِّمَ فِیْ الصَّلٰوۃِ حُرِّمَ فِیْ الْخُطْبَۃِ یعنی جو چیزیں نماز میں حرام ہیں وہ خطبے کے وقت بھی حرام ہیں۔ خطبے کے وقت درود بھی زبان سے نہیں بلکہ دل میں کہہ لیا جائے۔ خطبے کے وقت کسی آدمی کو اس کی خلاف شرع حرکت سے روکنا زبان سے تو مکروہ ہے لیکن ہاتھ یا آنکھ کے اشارے سے اسے منع کردینا مکروہ نہیں ہے۔ بہر حال اس حدیث کی باب سے وجہ مناسبت یہ ہے کہ اس باب کا مقتضی یہ ہے کہ جمعے کو صبح سویرے جانا ثواب کی زیادتی کا باعث ہے اور کوئی آدمی صبح سویرے سے مسجد پہنچ گیا مگر اس نے وہاں امام کے خطبہ پڑھتے وقت کسی کو زبان سے نصیحت کی تو گویا اس سے ایک لغو کام صادر ہوا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سویرے سے مسجد میں پہنچ جانے کا ثواب جاتا رہا۔ لہٰذا اسے چاہیے کہ جمعہ کی نماز کے لئے مسجد میں صبح سویرے پہنچ جائے اور وہاں ایسی کوئی حرکت نہ کی جائے جس سے ثواب جاتا رہے۔
مسجد میں کسی کو اس کی جگہ سے نہ ہٹانا چاہیے
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےُقِےْمَنَّ اَحَدُکُمْ اَخَاہُ ےَوْمَ الْجُمُعَۃِ ثُمَّ ےُخَالِفُ اِلٰی مَقْعَدِہٖ فَےَقْعُدُ فِےْہِ وَلٰکِنْ ےَّقُوْلُ افْسَحُوْا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی آدمی جمعے کے دن (جامع مسجد میں پہنچ کر) اپنے مسلمان بھائی کو اس کی جگہ سے نہ اٹھائے اور وہاں خود بیٹھنے کا ارادہ نہ کرے۔ ہاں (لوگوں سے) یہ کہہ دے کے (بھائیو) جگہ کشادہ کردو۔ (صحیح مسلم)
تشریح
مسئلہ یہ ہے کہ کسی آدمی کو ہٹا کر اس کی جگہ پر اس کی رضاء کے بغیر بیٹھنا حرام ہے اور اگر رضا حاصل ہو تو وہ بھی حقیقۃ ہونی چاہیے۔ نہ کہ کسی خوف و حیاء کی وجہ سے ہو اس طرح اگر کوئی آدمی کسی کو پہلے سے مسجد میں بھیج دے تاکہ وہ وہاں اس کے لئے جگہ روک لے تو اس آدمی کو بھی اس جگہ سے اٹھانا حرام ہے۔ کیونکہ کوئی آدمی بھی محض کسی کو بھیج کر جگہ رکوا لینے سے مسجد وغیرہ جیسی مقدس جگہوں کا حقدار نہیں ہوتا۔ بلکہ جو آدمی جس جگہ بیٹھا ہوا ہے وہ اس جگہ پہلے پہنچ جانے کی وجہ سے اس کا سب سے زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہاں پہنچنے پر اس کی ہی نیت کیوں نہ ہو کہ جس آدمی نے مجھے بھیجا ہے اس کے لئے میں جگہ روک رہا ہوں اور یہاں وہی آدمی آکر بیٹھے گا چناچہ خود اس آدمی کے لئے اپنی جگہ سے اپنے بھیجنے والے کے لئے اٹھنا اور اس کے ساتھ اس سلسلہ میں ایثار کا معاملہ کرنا مکروہ ہے۔ بشرطیکہ وہ آدمی اس سے فضیلت میں کم درجے کا ہو یعنی اگر کوئی اس سے زیادہ افضل ہو تو اس کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرنا مکروہ نہیں ہے اور اس کے لئے وہاں سے اٹھنا مکروہ اس لئے ہے کہ عبادات میں بلاعذر مکروہ ہے۔ جہاں تک اس آیت (وَيُؤْثِرُوْنَ عَلٰ ي اَنْفُسِهِمْ ) 59۔ الحشر 9) کا تعلق ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے ایثار کرنے والوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں وہ ایثار مراد ہے جس کا تعلق حظ نفس (یعنی طبع ضروریات و خواہشات) سے ہو۔ اب تو غالباً کہیں یہ دستور نہیں ہے مگر پہلے زمانے میں بعض اصحاب ثروت و دولت جن کی زندگی کا بنیادی مقصد دوسروں پر ظلم کرنا تھا اپنے خادموں اور ملازموں کو جامع مسجد میں بھیجتے تھے اور وہاں پہنچ کر پہلے سے بیٹھے ہوئے کمزور و غریب لوگوں کو مار مار کر اور دھکے دے دے کر اٹھا دیتے تھے اور اپنے آقاوں کے لئے جگہ بنا لیتے تھے اسی زمانے کے کسی عارف سے اس غلط طریقے کے بارے میں جب کہا گیا تو انہوں نے نہایت تاسف کے ساتھ یہ عارفانہ مقولہ ارشاد فرمایا کہ جب ان کی عبادت کا یہ حال ہے تو ان کے ظلم و گناہ کا کیا عالم ہوگا؟ افسحوا (جگہ کشادہ کرو) اس طرح اس وقت کہنا چاہے جب کہ جگہ میں کشادگی کی گنجائش ہو ورنہ بصورت دیگر یہ بھی نہیں کہنا چاہے اور نہ لوگوں کو تنگ کرنا چاہے بلکہ جہاں بھی جگہ مل جائے وہیں نماز پڑھ لے اگرچہ مسجد کے دروازوں ہی میں جگہ کیوں نہ ملے۔ باب کے ساتھ حدیث کی مناسبت یہ ہے کہ اس حدیث میں یہ رغبت دلائی جا رہی ہے کہ نماز پڑھنے والا جامع مسجد میں صبح سویرے پہنچ جائے تاکہ کسی کو اٹھانے ہٹانے کی ضرورت نہ پڑے۔
جمعے کے روزعمدہ لباس زیب تن کرنا چاہیے
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ وَ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنِ اغْتَسَلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَلَبِئْسَ مِنْ اَحْسَنِ ثِیَابِہٖ وَمَسَّ مِنْ طِیْبٍ اِنْ کَانَ عِنْدَہ، ثُمَّ اَتَی الْجُمُعَۃَ فَلَمْ یَتَخَطَّ اَعْنَاقَ النَّاسِ ثُمَّ صَلَّی مَاکَتَبَ اﷲُ لَہ، ثُمَّ اَنْصَتَ اِذَا خَرَجَ اِمَامُہ، حَتّٰی یَفْرُغَ مِنْ صَلَا تِہٖ کَانَتْ کَفَّارَۃً لِمَا بَیْنَھَا وَبَیْنَ جُمُعَتِہٖ الَّتِیْ قَبْلَھَا۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت ابوسعید اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ سرتاج دو عالم ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن غسل کرے عمدہ لباس پہنے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے پھر جمعہ میں آئے اور وہاں کے لوگوں کی گردنوں پر نہ پھلانگے پھر جتنی اللہ نے اس کے مقدر میں لکھ رکھی ہو نماز پڑھے اور جب امام (خطبے کے لئے) چلے تو خاموشی اختیار کرے یہاں تک کہ نماز سے فراغت حاصل کرے تو یہ اس کے اس جمعہ اور اس پہلے جمعہ کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (ابوداؤد)۔
تشریح
عمدہ لباس سے مراد سفید کپڑے ہیں۔ کیونکہ نبی ﷺ کو سفید کپڑے ہی پسند تھے۔
جامع مسجد پیدل جانا افضل ہے
وَعَنْ اَوْسِ بِنْ اَوْسٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ غَسَّلَ یَوْمَ الْجُمُعَۃِ وَاغْتَسَلَ وَبَکَّرَ وَ ابْتَکَر وَمَشٰی وَلَمْ یَرْکَبْ وَدَنَا مِنَ الْاِمَامِ وَاسْتَمَعَ وَلَمْ یَلْغُ کَانَ لَہ، بِکُلِّ خُطْوَۃٍ عَمَلُ سَنَہٍ اَجْرُ صِیَا مِھَا وَقِیَا مِھَا۔ (رواہ الترمذی ، وابوداؤد، والنسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت اوس بن اوس راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو آدمی جمعے کے دن نہلائے اور خود نہائے، صبح سویرے (جامع مسجد) جائے (تاکہ) شروع سے خطبہ پالے اور پیدل جائے، سوار نہ ہو اور امام کے قریب بیٹھے اور خطبے سنے نیز یہ کہ کوئی بیہودہ بات زبان سے نہ نکالے تو اس کے ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور راتوں کی عبادت کا ثواب لکھا جائے گا۔ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، )
تشریح
غسل (نہلانے) کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی کو نہلائے اور اس سے مراد یہ ہے کہ اپنی بیوی سے صحبت کرے تاکہ اس کے نہانے کا باعث ہو یا یہ مراد ہے کہ اپنے کپڑے صاف کرائے اور دھلوائے یا اپنا سر خطمی وغیرہ سے دھوئے جمعے کے روز اپنی بیوی سے ہم بستری بہتر اس لئے ہے کہ اس سے زنا کا خطرہ دل میں پیدا نہیں ہوتا اور نماز میں حضور قلب حاصل ہوتا ہے۔ اس حدیث میں لفظ مشی کے بعد لم یرکب کی قید کا مقصد اس بات کا ظاہر کرتا ہے کہ تمام راستہ یا پیادہ چلے بالکل سوار نہ ہو۔ چونکہ لفظ مشی اپنے عمومی مفہوم میں تھا۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ خواہ تمام راستہ پیدل چلے یا تھوڑی تھوڑی دور پیدل چل کر پھر سوار ہوجائے۔ اس لئے لم یرکب ذکر کر کے اس بات کے تاکید فرمادی گئی کہ جامع مسجد جانے کے لئے سواری بالکل استعمال نہ کی جائے بلکہ تمام راستہ پیدل چل کر جامع مسجد پہنچے۔