Mishkaat-al-Masabih

All 6,333 hadiths in order · Page 74 of 317

1461Mishkaat-al-Masabih

سورج گرہن کے وقت رسول اللہ ﷺ کا طریقہ

وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کُنْتُ اَرْتَمِیْ بِاَسْھُمٍ لِیْ بِالْمَدِےْنَۃِ فِیْ حَےَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذْ کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُھَا فَقُلْتُ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرَنَّ اِلٰی مَا حَدَثَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ فَاَتَےْتُہُ وَھُوَ قَائِمٌ فِی الصَّلٰوۃِ رَافِعٌ ےَدَےْہِ فَجَعَلَ ےُسَبِّحُ وَےُھَلِّلُ وَےُکَبِّرُ وَےُحَمِّدُ وَےَدْعُوْحَتّٰی حُسِرَ عَنْھَا فَلَمَّا حُسِرَ عَنْھَا قَرَءَ سُوْرَتَےْنِ وَصَلّٰی رَکْعَتَےْنِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ

اور حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے زمانہ حیات میں اپنے تیروں سے تیراندازی کیا کرتا تھا چناچہ ایک دن میں تیراندازی میں مشغول تھا) کہ سورج گرہن ہوا، میں نے تیروں کو پھینک دیا اور (دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ سورج گرہن ہونے سے رسول اللہ ﷺ کی کیا حالت ہوتی ہے (یعنی یہ دیکھوں گا کہ آپ ﷺ اس وقت کیا کرتے ہیں؟ ) حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ (یہ سوچ کر) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ( میں نے سنا کہ) آپ ﷺ سبحان اللہ لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد اللہ پڑھنے اور دعا مانگنے لگے، یہاں تک سورج گرہن سے نکل آیا۔ جب سورج سے ظلمت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا فرمائی (یعنی آپ ﷺ نے نماز کی دو رکعتیں پڑھیں جن میں دو سورتوں کی قرأت کی )۔ یہ حدیث صحیح مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں عبدالرحمن ابن سمرہ سے نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں بھی ( یہ روایت) اسی طرح ( عبدالرحمن ابن سمرہ سے) منقول ہے اور مصابیح کے نسخوں میں یہ روایات جابر ابن سمرہ سے نقل کی گئی ہے۔ تشریح وھو قائم فی الصلوۃ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے نماز کے سے انداز قبلہ کی طرف رخ کئے ہوئے کھڑے تھے اور لوگ صف باندھے کھڑے تھے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ یہاں صلوٰۃ یعنی نماز سے مراد دعا ہے۔ یہ تاویل اس لئے کی جاتی ہے کہ یہ کسی بھی مسلک سے معلوم نہیں ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ سورج گرہن کے وقت حالت نماز میں اذکار کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، نماز کسوف کے رکوع کی تعداد کے بارے میں مختلف احادیث مروی ہیں چناچہ جن روایتوں سے ہر رکعت میں کئی کئی رکوع کا اثبات ہوتا ہے۔ وہ سب مضطرب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں خود راوی بھی مضطرب ہیں کہ بعض نے تین تین رکوع بیان کئے ہیں، بعض نے چار چار رکوع اور بعض نے پانچ رکوع تک کی تعداد اور روایت کی ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ اضطراب موجب ضعف ہوتا ہے لہٰذا روایتوں کا ترک کرنا واجب ہوا جو تعداد رکوع کو ثابت کرتی ہیں اسی لئے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے انہیں روایات کو اپنا مستدل قرار دیا ہے۔ جن سے ہر رکعت میں ایک ایک رکوع کرنا ثابت ہے۔

1462Mishkaat-al-Masabih

سورج گرہن میں غلام آزاد کرنا چاہیے

وَعَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ لَقَدْ اَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالْعِتَاقَۃِفی کُسُوفِ الشَّمْسِ(رواہ البخاری )

اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی صاحبزادی حضرت اسماء ؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری)

1463Mishkaat-al-Masabih

نماز کسوف کی قرار بآواز بلند ہو یا آہستہ آواز سے ؟

عَنْ سَمُرَۃَ بْنُ جُنْدُبٍ قَالَ صَلَّی بِنَارَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فِی کَسُوْفٍ لَا نَسْمَعُ لَہ، صَوْتًا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤدو السنن نسائی و ابن ماجۃ)

حضرت سمرہ ابن جندب ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ ہمیں سورج گرہن کے وقت ( اس طرح) نماز پڑھائی (کہ) ہم آپ ﷺ کی آواز نہیں سنتے تھے۔ (جامع ترمذی، ابوداؤد و، سنن نسائی، ابن ماجہ) تشریح یہ حدیث اور اسی قسم کی اور احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ نماز کسوف میں امام بآوازبلند قرأت نہ کرے چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کا مسلک یہ ہے۔ صحیح البخاری و صحیح مسلم نیز دوسری کتابوں میں ایسی روایات بھی منقول ہیں کہ جن سے نماز کسوف کی قرأت کا بآواز بلند ہونا ثابت ہوتا ہے۔ روایات کے اس تعارض کے پیش نظر حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ جب روایتوں میں تعارض پیدا ہوا تو ان روایتوں کو ترجیح دینا ضروری ہوا جن سے قراء کا بآواز آہستہ ہونا ثابت ہوتا ہے کیونکہ دن کی نماز میں قرأت کا بآواز آہستہ ہونا اصل ہے۔

1464Mishkaat-al-Masabih

کرشمہ خداوندی کے ظہور کے وقت سجدہ

وَعَنْ عِکْرِمَۃَ قَالَ قِیْلَ لابْنِ عَبَّاسٍ مَا تَتْ فُلَا نَۃُ بَعْضُ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَخَرَّ سَاجِدًا فَقِیْلَ لَہ، تَسْجُدُ فِیْ ھٰذِہِ السَّاعَۃِ فَقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا رَاَیْتُمْ اٰیَۃً فَاسْجُدُوْاوَاَیُّ اٰیَۃٍ اَعْظَمُ مِنْ ذِھَابِ اَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم (رواہ ابوداؤد و الترمذی)

اور حضرت عکرمہ ؓ راوی ہیں کہ (جب) حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے یہ کہا گیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے فلاں زوجہ مطہرۃ (یعنی حضرت صفیہ ؓ انتقال فرما گئیں (تو) وہ (اس عظیم حادثہ کی خبر سنتے ہی) سجدہ میں گرپڑے ( یا یہ کہ انہوں نے نماز پڑھی) ان سے پوچھا گیا آپ اس وقت سجدہ (کیوں) کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ جب تم کوئی نشانی (یعنی کرشمہ خداوندی) دیکھو تو سجدہ کرو اور رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات کی دائمی جدائی سے زیادہ بڑی نشانی اور کیا ہوسکتی ہے؟ (جامع ترمذی، سنن ابوداؤد) تشریح حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے لوگوں کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ آپ اس وقت بلا سبب سجدہ کیوں کرتے ہیں جب کہ بلاوجہ سجدہ کرنا ممنوع ہے؟ اس کا جواب انہوں نے دیا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جب تم بلاؤں اور مصیبتوں کے آنے کی صورت میں اللہ کے کرشموں میں سے جن کہ ذریعہ اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے کوئی کرشمہ دیکھو تو بارگاہ الٰہی میں فوراً سجدہ ریز ہوجاؤ اور ظاہر ہے کہ اللہ کا کون سا کرشمہ اس سے زیادہ ڈرانے والا عظیم اور سخت تر ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی ازواج مطہرات اس دنیا سے رخصت ہوجائیں، کیونکہ ان مقدس ماؤں کو رسول اللہ ﷺ کی زوجیت میں ہونے اور آپ ﷺ سے انتہائی ارتباط و اختلاط کی وجہ سے جو عظمت و فضیلت حاصل تھی دوسروں کو حاصل نہیں تھی۔ لہٰذا جس طرح ان کی حیات دنیا اور دنیا والوں کے لئے امن و برکت کے سبب کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہوجانے کے خوف کا باعث ہے اس لئے ان کی برکت کے منقطع ہوجانے کے وقت اللہ کی یاد میں مشغول اور بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوجانا ہی بہتر ہے کہ اللہ کے ذکر اور سجدہ کی برکت سے اللہ تعالیٰ کا عذاب دفع ہوجائے۔ علماء لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ارشاد فاسجدوا (سجدہ کرو) کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھو جب کہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس ارشاد سے صرف سجدہ کرنا ہی مراد ہے۔ علامہ طیبی (رح) فرماتے ہیں کہ ارشاد نبوی میں لفظ آیۃ مطلق ہے اس لئے اس کو اگر چاند و سورج گرہن پر محمول کیا جائے تو سجدہ سے نماز مراد ہوگی اگر اس کے علاوہ دوسری نشانیوں مثلاً طوفان آندھی یا زلزلہ وغیرہ پر اطلاق کیا جائے تو پھر سجدہ سے سجدہ ہی مراد ہوگا اگرچہ اس صورت میں بھی نماز مراد لی جاسکتی ہے کیونکہ یہ منقول ہے کہ جب ایسی کوئی صورت پیش آتی تو رسول اللہ ﷺ نماز پڑھنے لگئے تھے۔ حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ یہ منقول ہے کہ سخت طوفان، آندھی اور ظلمت چھا جانے کے وقت نماز پڑھنا ہی اچھا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے بارے میں بھی مروی ہے کہ انہوں نے بصرہ میں زلزلہ کے وقت نماز پڑھی تھی۔

1465Mishkaat-al-Masabih

نماز کسوف کے رکوع و سجدہ اور تلاوت

عَنْ اُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ قَالَ اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَسَلَّی بِھِمْ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِنَ الطُّوَّلِ وَرَکَعَ خَمْسَ رَکْعَاتٍ وَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ قَامَ اِلَی الثَّانِیَۃِ فَقَرَأَ بِسُوْرَۃٍ مِّنْ الطُوَلِ ثُمَّ رَکَعَ خَمْسَ رَکْعَاتٍ وَ سَجَدَ سَجْدَتَیْنِ ثُمَّ جَلَسَ کَمَا ھُوَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَۃِ یَدْعُوْ حَتّٰی اِنْجَلَی کُسُوْفُھَا۔ (رواہ ابوداؤد)

رکعت کے لئے کھڑے ہوئے تو (اس میں بھی) طویل سورتوں میں سے ایک سورت کی قرأت فرمائی اور پانچ رکوع و دو سجدے کئے پھر اسی طرح (یعنی بہت دیر تک) قبلہ رخ بیٹھے دعا مانگتے رہے یہاں تک کہ آفتاب روشن ہوگیا۔ (ابوداؤد)

1466Mishkaat-al-Masabih

حنفیہ کی مستدل حدیث

وَعَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیْرٍ قَالَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَی عَھْدِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَجَعَلَ یُصَلِّی رَکْعَتَیْنِ وَیَسْئَالُ عَنْھَا حَتّٰی اِنْجَلَتِ الشَّمْسُ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَفِی رِوَایَۃِ النِّسَائِیِّ اِنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم صَلَّی حِیْنَ اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ مِثْلَ صَلَاتِنَا یَرْکَعُ وَ یَسْجُدُ وَلَہ، فِی اُخْرٰی اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم خَرَجَ یَوْمًا مُسْتَعْجِلًا اِلَی الْمَسْجِدِ وَقَدْ اِنْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّی حَتّٰی اِنْجَلَتْ ثُمَّ قَالَ اِنَّ اَھْلَ الْجَاھِلِیَّۃِ کَانُوْا یَقُوْلُوْنَ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لَا یَخْسِفَانِ اِلَّا لِمَوْتٍ عَظِیْمٍ مِنْ عُظَمَآءِ اَھْلِ الْاَرْضِ وَاِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لاَ یَخْسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَّلَا لِحَیَاتِہٖ وَلَکِنَّھُمَا خَلِیْقَتَانِ مِنْ خَلْقِہٖ یُحْدِثُ اﷲُ فِی خَلْقِہٖ مَاشَآءَ فَاَیُّھُمَا اِنْخَسَفَتْ فَصَلُّوْا حَتّٰی یَنْجَلِی اَوْ یُحْدِثُ اﷲُ اَمْرًا۔

اور حضرت نعمان ابن بشیر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ نے دو دو رکعت نماز پڑھنی شروع کی) یعنی دو رکعت نماز پڑھ کر دیکھتے اگر گرہن ختم نہ ہوتا تو پھر دو دو رکعت نماز پڑھتے اسی طرح گرہن تک نماز پڑھتے رہے) اور ( اللہ تعالیٰ سے یہ دعا) مانگتے ( کہ یا اللہ آفتاب روشن کر دے یا یہ کہ ہر دو دو رکعت کے بعد لوگوں سے گرہن کے بارے میں پوچھتے کہ گرہن ختم ہوا یا نہیں؟ اگر لوگ کہتے کہ ابھی گرہن باقی ہے تو پھر نماز میں مشغول ہوجاتے) جہاں تک کہ آفتاب روشن ہوگیا۔ (ابوداؤد) اور سنن نسائی کی روایت ہے کہ جب سورج گرہن ہوا تو آپ ﷺ نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی جس میں رکوع و سجدہ کرتے تھے سنن نسائی کی ایک دوسری روایت کے لفاظ یہ ہیں کہ ایک روز جب کہ سورج کو گرہن ہوا تھا رسول اللہ ﷺ عجلت کے ساتھ مسجد میں تشریف لائے اور نماز پڑھی یہاں تک کہ آفتاب روشن ہوگیا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ کہا کرتے تھے کہ زمین پر رہنے والے بڑے آدمیوں میں سے کسی بڑے آدمی کے مرجانے کی وجہ سے سورج اور چاند کو گرہن لگتا ہے، حالانکہ (حقیقت یہ ہے کہ) سورج و چاند نہ تو کسی کے مرجانے کی وجہ سے گرہن میں آتے ہیں اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے۔ یہ دونوں محض اللہ تعالیٰ کی مخلوقات میں سے دو مخلوق ہیں، اللہ جو چاہتا ہے اپنی مخلوق میں تغیر (مثلاً گرہن، روشنی اور اندھیرا) پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا جب ان میں سے کوئی گرہن میں آئے تو تم نماز پڑھنی شروع کردو یہاں تک کہ وہ روشن ہوجائے یا اللہ تعالیٰ کا کوئی حکم ظاہر ہوجائے (یعنی عذاب آجائے یا قیامت شروع ہوجائے )۔ (سنن نسائی) تشریح حدیث کے الفاظ ہماری نماز کی طرح کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نماز کسوف کی ہر رکعت میں کئی کئی رکوع نہیں کئے بلکہ جس طرح کہ ہم روز مرہ نماز پڑھتے ہیں اسی طرح آپ ﷺ نے بھی اس وقت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں ایک ایک رکوع اور دو دو سجدے کئے۔ یہ حدیث حنیفہ کے مسلک کی دلیل ہیں اس کے علاوہ اور احادیث بھی منقول ہیں جو اس مسئلہ میں حنیفہ کے مسلک کی تائید کرتی ہیں۔

1467Mishkaat-al-Masabih

سجدہ شکر کا بیان

علماء کے یہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ خارج از نماز صرف سجدہ کرنا جائز ہے مسنون اور تقرب الی اللہ کا ذریعہ ہے۔ یا نہیں؟ چناچہ بعض حضرات کی رائے یہ ہے کہ نماز کے علاوہ دوسرے اوقات میں صرف سجدہ کرنا بدعت محض اور حرام ہے اور شریعت میں اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ اسی بنا پر نماز وتر کے بعد کے دونوں سجدوں کی حرمت بیان کی جاتی ہے۔ دوسرے حضرات کے نزدیک جائز اور کراہت کے ساتھ مشروع ہے۔ اس مسئلہ کی حقیقت اور تفصیل یہ ہے کہ خارج از نماز سجدہ کئی طرح کا ہوتا ہے۔ ایک تو سجدہ سہو ہے یہ نماز ہی کے حکم میں ہے اس کے بارے میں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ہے۔ دوسرا سجدہ تلاوت ہے ظاہر ہے کہ اس کے بارے میں بھی کوئی اختلاف نہیں ہے۔ تیسرا سجدہ مناجات ہے جو خارج از نماز ہے اس کے بارے میں اکثر علماء کے ظاہری اقوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سجدہ مکروہ ہے چوتھا سجدہ شکر ہے جو حصول نعمت اور خاتمہ مصیبت و بلا پر کیا جاتا ہے۔ اس سجدہ میں علماء کے یہاں اختلاف ہے چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے یہاں یہ سجدہ سنت ہے۔ حنیفہ میں سے حضرت امام محمد (رح) کا بھی یہی قول ہے اس مسلک کی تائید میں آثار و احادیث بھی بکثرت منقول ہیں حضرت امام مالک اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما کے یہاں یہ سجدہ مکروہ ہے۔ یہ حضرات اپنی دلیل کے طور پر یہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ان گنت ہیں جن کا شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ظاہر ہے کہ بندہ میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ہر ہر نعمت کا شکر بھی ادا کرسکے اس لئے اللہ تعالیٰ کی ہر نعمت کے حصول پر سجدہ شکر کا حکم دینا اسے ایسی تکلیف و مشقت میں مبتلا کردینا ہے جس برداشت کرنا اس کی طاقت سے باہر ہے۔ لیکن جو حضرات سجدہ شکر کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں کہ نعمتوں سے مراد وہ نعمتیں ہیں جو نئی ہوں کہ کبھی کبھی حاصل ہوتی ہوں وہ نعمتیں مراد نہیں جو مستقل اور دائمی، ہوں جیسے خود انسان کا وجود اس کے توابع اور اس کے لوازمات کہ یہ بھی درحقیقت اللہ کی عظیم نعمتیں ہیں جو بندہ کو مستقل طور پر حاصل ہیں۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ کے بارے میں مروی ہے کہ جب آپ ﷺ کو ابوجہل لعین کے قتل ہوجانے کی خبر ملی تو آپ ﷺ نے سجدہ شکر کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے مسیلمہ کذاب کے مرنے کی خبر سن کر سجدہ کیا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ جب ذی الثدیہ خارجہ قتل کردیا گیا تو انہوں نے سجدہ شکر کیا۔ اسی طرح مشہور صحابی حضرت کعب ابن مالک ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے قبول توبہ کی خوشخبری کے وقت سجدہ شکر کیا۔ وھذا الباب خال عن اَلْفَصْلُ الْاَوَّلُ و الثالث اور اس باب میں پہلی فصل اور تیسری فصل نہیں ہے

1468Mishkaat-al-Masabih

خوشی کے وقت رسول اللہ ﷺ کا سجدہ شکر

وَعَنْ اَبِی بَکْرَۃَ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا جَاءَ ہ، اَمْرٌ سُرُوْرًا اَوْ یَسُرُّ بِہٖ خَرَّ سَاجِدًا شَاکِرًلِلّٰہِ تَعَالٰی رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ حَسَنٌ غَرِیْبٌ۔

حضرت ابوبکر صدیق ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو جب خوشی کا امر پیش آتا۔ یا راوی نے لفظ سرور کی بجائے یسربہ کہا ہے یعنی رسول اللہ ﷺ کو جب کوئی ایسا امر پیش آتا جس سے آپ ﷺ خوش ہوتے تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ میں گرپڑتے۔ اور جامع ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔ (ابوداؤد، جامع ترمذی) تشریح علامہ تور پشتی فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے حدیث کے ظاہری مفہوم کو دیکھتے ہوئے کہا ہے کہ حصول نعمت پر سجدہ شکر مشروع ہے جب کہ دوسرے علماء نے اس سے اختلاف کیا ہے اور حدیث کے مفہوم کے بارے میں کہا ہے یہاں دراصل سجدہ سے مراد نماز ان کی اس تاویل کی دلیل یہ حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چاشت کے وقت دو رکعت نماز پڑھی جب کہ آپ ﷺ کو جنگ میں فتح کی خوشخبری دی گئی یا یہ کہ ابوجہل کا سر کاٹ کر لا گیا۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر بندہ ہر نئی حاصل ہونے والی نعمت پر سجدہ کو لازم قرار دے تو اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ اور ایک ایک پل بھی سجدہ سے خالی نہ ہو کیونکہ انسانی زندگی کا کوئی بھی پل ایسا نہیں آتا جو اپنے دامن میں اللہ تعالیٰ کی نعمت نہ لئے ہوئے ہو۔ پھر یہ کہ انسان کی زندگی خود اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے کہ ہر سانس کا باہر آنا اور اندر جانا اور آنے والا ہر لمحہ اور ہر پل ایک نعمت ہے، چونکہ اس طرح نہ صرف یہ کہ لوگ بہت زیادہ مشقت اور تکلیف میں مبتلا ہوجائیں گے بلکہ انسانی زندگی کا پورا نظم معطل ہو کر رہ جائے گا اس لئے حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک سجدہ شکر سنت نہیں ہے۔

1469Mishkaat-al-Masabih

کسی مبتلائے بلا کو دیکھ کر اپنی عافیت پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے

وَعَنْ اَبِی جَعْفَرٍ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم رَأَی رَجُلًا مِنَ النَّغَاشِیْنَ فَخَرَّ سَاجِدًا رَوَاہ ُالدَّارُقُطْنِی مُرْسَلًا وَفِی شَرْحِ السُّنَّۃِ لَفْطُ الْمَصَابِیْحِ۔

اور حضرت ابوجعفر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک بونے (پست قد آدمی) کو دیکھا تو سجدہ میں گر پڑھے۔ دارقطنی نے یہ روایت بطریق ارسال نقل کی ہے اور شرح السنہ میں مصابیح کے الفاظ میں (منقول ہے)۔ تشریح نغاش اور نغاشی اس آدمی کو فرماتے ہیں جو بہت ہی پستہ قد، ناقص الخلقت اور ضعیف الحرکت ہو ایسے ہی ایک آدمی کو جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا تو بارگاہ رب العزت میں سجدہ ریز ہوگئے۔ مظہر فرماتے ہیں کہ یہ مسنون ہے کہ جب کسی ایسے آدمی کو دیکھا جائے جو مبتلائے بلا ہو تو اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سجدہ شکر کیا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس بلا سے محفوظ رکھا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں یہ خاص ادب ہے کہ یہ سجدہ شکر پوشید طور پر کیا جائے تاکہ وہ مبتلائے بلا رنجیدہ نہ ہو۔ لیکن کسی فاسق کو دیکھ کر اس بات کا سجدہ شکر کرنا کہ اللہ نے مجھے اس فسق سے محفوظ رکھا ہے علانیہ طور پر فاسق کے سامنے ہی ہونا چاہیے تاکہ اسے ندامت اور شرمندگی ہو اور وہ اپنے فسق سے باز آجائے۔ چناچہ حضرت شبلی (رح) کے بارے میں منقول ہے کہ انہوں نے جب ایک ایسے آدمی کو دیکھا جو دنیا کی لذتوں میں اپنے آپ کو گم کرچکا تھا تو اس کے سامنے ہی فرمایا کہ الحمد اللہ الذی عافانی مما ابتلاک بہ یعنی اس اللہ کے لئے تعریف ہے جس نے مجھے اس بلا سے محفوظ رکھا جس میں تم مبتلا ہو۔

1470Mishkaat-al-Masabih

امت کے حق میں رسول اللہ ﷺ کی شفقت

وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِی وَقَّاصٍ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ مَّکَۃَ نُرِیْدُ الْمَدِیْنَۃَ فَلَمَّا کُنَّ قَرِیْبًا مِنْ عَزْوَزَاءَ نَزَلَ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَدَعَا اﷲَ سَاعَۃٌ ثُمَّ خَرَّسَاجِدًا فَمَکَثَ طَوِیْلًا ثُمَّ قَامَ فَرَفَعَ یَدَ ْیہِ سَاعَۃٌ ثُمَّ خَرَّسَاجِدًا فَمَکَثَ طَوِیْلًا ثُمَّ قَامَ فَرَ فَعَ یَدَ ْیہٖ سَاعَۃٌ ثُمَّ سَاجَدَا قَالَ اِنِّی سَأَلْتُ رَبِّی وَ شَفْعَتُ لامِّتِیْ فَاعْطَانِی ثُلُثَ اُمَّتِیْ فَخَرَرْتُ سَاجِدَ الِّرَبِّی شُکْرًا ثُمَّ رَفْعَتُ رَأْسِی فَسَأَلْتُ رَبِّی لْاُمَّتِی فَاعْطَانِیْ ثُلُثَ اُمَّتِی فَخَرَتْ سَاجِدً الِّرَبِّی شُکْرًا ثُمَّ رَفَعْتُ رَأَسِی فَسَأَلْتُ رَبِّی لْاُمَّتِیْ فَاعَطَانِی الثَّلُثَ لْاٰخَرَ فَخَرَرْتُ سَاجِدً الِّرَبِّی شُکْرًا۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

اور حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں کہ ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ مدینہ کے ارادہ سے مکہ سے روانہ ہوئے، جب ہم عزوازا کے قریب ( جو مکہ اور مدینہ کے درمیان میں ایک مقام ہے) پہنچے تو رسول اللہ ﷺ (اونٹنی سے) اترے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر تھوڑی دیر تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے (دعا مانگتے) رہے، پھر سجدہ میں گرپڑے۔ اور دیر تک سجدہ میں رہے پھر کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر تک اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگتے رہے۔ پھر سجدہ میں گرپڑے۔ پھر اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی اور اپنی امت (کے گناہوں کی بخشش، عیوب کی پردہ پوشی اور بلندی درجات) کے لئے شفاعت کی، چناچہ مجھے تہائی امت (کی مغفرت) عطا فرما دی گئی، میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ میں گرپڑا۔ پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے (اس کی رضا اور مغفرت کی) درخواست کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اور تہائی امت (کی مغفرت) عطا فرما دی میں اپنے رب کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ میں گرپڑا، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا اور اپنے پروردگار سے اپنی امت کے لئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے باقی تہائی امت (کی بھی مغفرت) عطا فرما دی، چناچہ میں اپنے پروردگار کا شکر ادا کرنے کے لئے سجدہ میں گرپڑا۔ (احمد بن حنبل، ابوداؤد) تشریح پہلی مرتبہ میں سابقین یعنی ان لوگوں کی مغفرت عطا فرمائی گئی جو بھلائی کرنے میں سبقت اور پیش روی کرتے ہیں اعمال میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہیں کرتے، دوسری مرتبہ میں مقتصدین یعنی اوسط درجہ والوں کی مغفرت عطا فرمائی گئی۔ اور تیسری مرتبہ میں ان لوگوں کی بھی مغفرت عطا فرما دی گئی جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہیں یعنی معصیت و گناہ میں مبتلا رہتے ہیں۔ اس موقع پر ایک اشکال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کتنی آیات اور احادیث سے تو یہ ثاب ہوچکا ہے جو لوگ گناہ کبیرہ میں مبتلا رہتے ہیں انہیں آخرت میں عذاب دیا جائے گا لیکن یہاں اس حدیث سے یہ معلوم ہو رہا ہے کہ ان لوگوں کو عذاب نہیں دیا جائے گا کیونکہ تمام ہی امت کی مغفرت عطا فرما دی گئی ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں دعا، شفاعت اور حق تعالیٰ کی جانب سے مغفرت سے مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا و سفارش سے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی امت کو خسف و مسخ اور ان جیسے دوسرے عذابوں سے پروانہ امن دے دیا ہے کہ جس طرح پہلی امتوں کے لوگ اپنی بد کرداری اور بد اعمالی کی وجہ سے ان جیسے ہولناک عذاب میں اس دنیا میں مبتلا کر دئے جاتے تھے امت محمدی ﷺ کو اس دنیا میں ان عذاب سے دو چار نہیں کیا جائے گا لہٰذا۔ یہاں مغفرت کا تعلق آخرت کے اس عذاب سے نہیں ہے جو ہر گنہگار کو اس کی بد عملی و بد کرداری کی مناسبت سے دیا جائے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں مراد یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا اور سفارش سے امت مرحومہ کو دائمی عذاب سے پروانہ امن دے دیا گیا ہے کہ امت کے گناہگار و بد کردار لوگ دائمی طور پر دوزخ میں نہیں رہیں گے۔ بلکہ اپنے اپنے جرم کی مناسبت سے سزا پا کر رسول اللہ ﷺ کی سفارش سے دوزخ سے نکال لئے جائیں گے اور پھر دائمی طور پر جنت میں داخل کر دئے جائیں گے۔

1471Mishkaat-al-Masabih

نماز استسقاء کا بیان

استسقاء کے لغوی معنی ہیں پانی طلب کرنا اور اصطلاح شریعت میں اس کا مطلب ہے قحط اور خشک سالی میں طلب بارش کے لئے بتائے گئے طریقوں کے مطابق نماز پڑھنا اور دعا کرنا۔

1472Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ کی نماز استسقائ

عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَےْدٍص قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّاسِ اِلَی الْمُصَلّٰی ےَسْتَسْقِیْ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَتَےْنِ جَھَرَ فِےْھِمَا بِالْقِرَآءَ ۃِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ےَدْعُوْ وَرَفَعَ ےَدَےْہ وَحَوَّلَ رِدَآءَ ہُ حِےْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت عبداللہ ابن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ لوگوں کے ہمراہ طلب بارش کے لئے عید گاہ تشریف لئے گئے۔ چناچہ آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قرأت فرمائی اور قبلہ رخ ہو کر دعا مانگی نیز آپ ﷺ نے (دعا کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور قبلہ رخ ہوتے وقت اپنی چادر پھیر دی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) فائدہ حضرت امام شافعی اور صاحبین (حضرت امام یوسف اور حضرت امام محمد) کے نزدیک استسقاء کی نماز عید کی نماز کی طرح ہے اور حضرت امام مالک (رح) کا مسلک یہ ہے کہ استسقاء کی دو رکعت نماز اسی طرح پڑھی جائے جیسا کہ دوسری نماز پڑھی جاتی ہے۔ نماز استسقاء کے بارے میں حنفیہ کا مسلک نماز استسقاء کے سلسلہ میں خود حنفیہ کے یہاں دو قول ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ استسقاء نماز نہیں ہے بلکہ دعا و استغفار ہے وہ فرماتے ہیں کہ جن اکثر احادیث میں استسقاء کا ذکر آیا ہے ان میں نماز مذکور نہیں ہے بلکہ صرف دعا کرنا مذکور ہے۔ پھر حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں صحیح روایت منقول ہے۔ کہ انہوں نے استسقاء کے لئے صرف دعا و استغفار پر اکتفا فرمایا نماز نہیں پڑھی، اگر اس سلسلہ میں نماز مسنون ہوتی تو وہ ترک نہ کرتے۔ اور ایسے ضروری مشہور واقعات کا انہیں معلوم نہ ہونا جب کہ زمانہ نبوت کو بھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے بعید ہے اور معلوم ہونے کی صورت میں اسے ترک کرنا حضرت عمر کی ؓ شان سے بعید تر ہے۔ صاحبین کا مسلک اس کے خلاف ہے۔ ان حضرات کے نزدیک نہ صرف یہ کہ استسقاء کے لئے نماز منقول اور مسنون ہے بلکہ اس نماز میں جماعت اور خطبہ بھی مشروع ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے قول لا صلوۃ فی الاستسقاء (یعنی استسقاء کے لئے نماز نہیں ہے) کی مراد یہ ہے کہ اس نماز کے لئے جماعت خطبہ اور خصوصیت سنت و شرط نہیں، اگر ہر آدمی الگ الگ نفل نماز پڑھے اور دعا و استغفار کرے تو بہتر ہے۔ اس وقت حنفیہ کے یہاں فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ نماز استسقاء رسول اللہ ﷺ سے ثابت اور منقول ہے جس کا ایک واضح ثبوت مذکورہ بالا حدیث ہے۔ نماز استسقاء کے سلسلہ میں یہ افضل ہے کہ اس کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت سورت ق یا سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری رکعت میں اقتربت الساعۃ یا سورت غاشیہ کی قرأت کی جائے۔ چادر پھیرنا دراصل تغیر حالت کے لئے اچھا شگون لینے کے درجہ میں ہے جس طرح چادر الٹ پلٹ دی گئی ہے اسی طرح موجودہ حالت میں بھی تبدیلی اور تغیر ہوجائے بایں طور کہ قحط کے بدلہ ارزانی ہوجائے اور خشک سالی کی بجائے باران رحمت سے دنیا سیراب ہوجائے۔ چادر پھیرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے لے جا کر دائیں ہاتھ سے چادر کی بائیں جانب کے نیچے کا کونا پکڑا جائے اور بائیں ہاتھ سے چادر کی دائیں جانب کے نیچے کا کونا پکڑ لیا جائے پھر دونوں ہاتھوں کو پیٹھ کے پیچھے اس طرح پھیرا اور پلٹا جائے کہ دائیں ہاتھ چادر کا پکڑا ہوا کونا دائیں مونڈھے پر آجائے اور بائیں ہاتھ میں چادر کا پکڑا ہوا کونا بائیں مونڈھے پر آجائے اس طریقہ سے چادر کو دایاں کونا تو بائیں ہوجائے گا اور بایاں کونا دائیں ہوجائے گا۔ نیز اور اوپر نیچے پہنچ جائے گا اور نیچے کا حصہ او پر جائے گا۔

1473Mishkaat-al-Masabih

رسول اللہ ﷺ نماز استسقاء میں دعا کے وقت ہاتھ زیادہ بلند کرتے تھے

وَعَنْ اَنَسٍص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَرْفَعُ ےَدَےْہِ فِیْ شَئٍی مِّنْ دُعَآئِہٖ اِلَّا فِی الْاِسْتِسْقَاءِ فَاِنَّہُ ےَرْفَعُ حَتّٰی ےُرٰی بَےَاضُ اِبْطَےْہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ استسقاء کے علاوہ اور کسی موقع پر دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے چناچہ ( استسقاء کے لئے دعا کے وقت) آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اتنے (زیادہ) بلند کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم) تشریح حضرت انس ؓ کے ارشاد کی مراد استسقاء کے علاوہ کسی دوسرے موقع پر دعا کے وقت بالکل اٹھانے کی نفی نہیں ہے کیونکہ استسقاء کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی دعا کے وقت رسول اللہ ﷺ سے دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا ثابت ہوچکا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دوسرے مواقع پر بھی دعا کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کا اتنا زیادہ اور سر سے اونچا بلند نہیں کرتے تھے کہ آپ ﷺ کوئی کپڑا نہ اوڑھے ہوتے تھے تو بغلوں کی سفیدی تک نظر آنے لگتی تھی۔ علماء لکھتے ہیں کہ جس مقصد اور مراد کے لئے دعا مانگی جارہی ہو وہ مقصد جتنا زیادہ اہم اور عظیم ہو دعا کے وقت دونوں ہاتھ بھی اتنے زیادہ اوپر اٹھانے چاہئیں۔

1474Mishkaat-al-Masabih

دعا کے وقت ہاتھوں کی ہیت

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طلب بارش کے لئے دعا مانگی تو اپنے دونوں ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرلی۔ (صحیح مسلم) تشریح علماء کرام نے لکھا ہے کہ بارش کے لئے دعا مانگتے وقت ہتھیلیوں کی پشت کو آسمان کی طرف کردینا بھی اچھا شگون لینے کے درجہ میں ہے جیسا کہ چارد پلٹ کر اچھا شگون لیا جاتا ہے۔ ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کرنا دراصل اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کرے اسی طرح بادلوں کے پیٹ بھی زمین کی طرف ہوجائیں اور وہ اپنے اندر کے ذخیرہ آب کو زمین پر انڈیل دیں۔ دعا کے وقت اٹھتے ہوئے ہاتھوں کی ہیت کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ جو آدمی بلاء مثلاً قحط وغیرہ کے دور ہونے کے لئے دعا مانگے تو وہ اپنے ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی نعمت کی طلب کے لئے دعا کرے تو وہ ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف کرے۔

1475Mishkaat-al-Masabih

بارش کے وقت رسول اللہ ﷺ کی دعا

وَعَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا رَاَی الْمَطَرَ قَالَ اَلّٰلھُمَّ صَےِّبًا نَافِعًا۔(صحیح البخاری)

اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب بارش دیکھتے تو یہ دعا مانگتے اللھم صیبا نافعا یعنی اے اللہ! نفع دینے والی بارش خوب برسا۔ (صحیح البخاری )

1476Mishkaat-al-Masabih

بارش کے وقت رسول اللہ ﷺ کا عمل

وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ اَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَوْبَہُ حَتّٰی اَصَابَہُ مِنَ الْمَطَرِ فَقُلْنَا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا قَالَ لِاَنَّہُ حَدِےْثُ عَھْدٍ بِرَبِّہٖ۔(صحیح مسلم)

اور حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ بارش شروع ہوگئی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (اپنے سر سے یا پیٹھ سے) کپڑا اتار لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ( سر مبارک یا پیٹھ پر) اوپر بارش کا پانی گرنے لگا۔ ہم نے ( یہ دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لئے کہ یہ پانی اپنے پروردگار کے پاس سے ابھی ابھی آیا ہے۔ (صحیح مسلم) تشریح آپ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ پانی اپنے رب کے حکم سے ابھی ابھی اوپر سے اترا ہے اور اس عالم کثیف کے اجراء سے ابھی تک آلودہ نہیں ہوا ہے نہ ہی اس تک ابی گناہگاروں کے ہاتھ پہنچ پائے ہیں اس کے لئے یہ پانی متبرک ہے جس کا کچھ حصہ میں اپنے بدن پر لے رہا ہوں۔ علماء لکھتے ہیں کہ بارش کے وقت ( اپنے کسی بھی مطلب اور مقصد کے لئے) دعا مانگنا سنت ہے کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔

1477Mishkaat-al-Masabih

استسقاء میں چادر پھیرنے کا بیان

عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَحَوَّلَ رِدَاءَ ہُ حِیْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَجَعَلَ عِطَافَہ، الْاَیْمَنَ عَلَی عَاتِقِہِ الْاَ یْسَرِوَ جَعَلَ عِطَا فُہُ الْاَ یْسَرَ عَلَی عَاتِقِہِ الْاَیْمَنِ ثُمَّ دَعَا اﷲَ ۔ (رواہ ابوداؤد)

حضرت عبداللہ ابن زید ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ تشریف لے گئے اور وہاں بارش مانگی۔ چناچہ آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چارد کا دایاں کونا گھما کر اپنے بائیں مونڈے پر لائے اور چادر کا بایاں کو نا گھما کر اپنے دائیں مونڈھے پر لائے پھر اللہ تعالیٰ سے (بارش کے لئے) دعا مانگی۔ (سنن ابوداؤد) تشریح اس حدیث میں استسقاء کے لئے نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ صرف دعا کا ذکر کیا گیا ہے

1478Mishkaat-al-Masabih

استسقاء میں چادر پھیرنے کا بیان

وَعَنْہُ اَنَّہُ قَالَ اسْتَسْقٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَمِیْصَۃُ لَّہ، سَوْدَآءُ فَاَرَا دَ اَنْ یَّاْخُذَاَسْفَلَھَا فَیَجْعَلَہ، اَعْلَا ھَا فَلَمَّا ثَقَلَتْ قَلَّبَھَا عَلَی عَا تِقَیْہِ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)

اور حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے بارش طلب (کرنے کے لئے دعا) کی تو اس وقت آپ ﷺ کے جسم مبارک پر سیاہ رنگ کی چادر تھی، آپ ﷺ نے یہ ارادہ کیا کہ چادر کے نیچے کا کونا پلٹ کر اسے اوپر کی جانب لائیں (جیسا کہ چادر پھیرنے کا طریقہ ہے) مگر اس میں جب آپ ﷺ کو دقت پیش آئی تو آپ ﷺ نے اپنے ہی مونڈھے پر چادر پلٹ لی۔ تشریح مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق جب چادر پھیرنے میں دقت محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے صرف یہ کیا کہ چادر کا دایاں کونا بائیں مونڈھے پر کرلیا اور بایاں کونا دائیں مونڈھے پر۔ آپ ﷺ نے چادر مبارک دوسرے خطبہ میں پھیری تھی کیونکہ چادر پھیرنے کا وقت اور موقع وہی ہے۔

1479Mishkaat-al-Masabih

استسقاء میں چادر پھیرنے کا بیان

وَعَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی اَبِی اللَّحْمِ اَنَّہُ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَسْقِی عِنْدَ اَحْجَارِ الزَّیْتَ قَرِیْبًا مِّنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا یَدْعُوْ لِیَسْتَسْقِی رَافِعًا یَدَیْہِ فِبَلَ وَجْھِہِ لاَ یُجَاوِزُبِھَا رَأَسَّہُ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ نَحْوَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)

اور حضرت عمیر ؓ سے جو ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام تھے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجالزیت کے پاس جو زوراء کے قریب ہے، بارش مانگتے ہوئے دیکھا۔ آپ ﷺ کھرے ہوئے طلب بارش کے لئے دعا مانگ رہے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ کی طرف اٹھائے ہوئے تھے جو سر سے اونچے نہیں تھے۔ جامع ترمذی اور سنن نسائی نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (ابوداؤد) تشریح احجا الزیت مدینہ میں ایک جگہ کا نام تھا اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہاں سیاہ پتھر تھے جو اتنے چمک دار تھے جن کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا ان پتھر پر روغن زیتون ملا ہوا ہے۔ زوراء بھی مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ اس حدیث میں دعا کے وقت اٹھے ہوئے ہاتھوں کی یہ ہیت بیان کی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی دونوں ہتھیلیاں منہ کی طرف یعنی اوپر کی جانب تھیں۔ بنا بریں یہ روایت اس روایت کے منافی نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ دعا کے وقت آپ ﷺ اپنے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین کی طرف رکھتے تھے کیونکہ کبھی تو آپ ﷺ اس طرح سے دعا مانگتے کہ ہتھیلیاں آسمان کی طرف ہوتی تھیں جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوا۔ اور کبھی اس طرح اللہ کی بار گاہ میں دست سوال دراز کرتے تھے کہ ہتھیلیاں زمین کی طرف ہوتی تھیں جیسا کہ گذشتہ روایت میں معلوم ہوا۔ اسی طرح یہاں اس روایت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کے اٹھے ہوئے ہاتھ سر مبارک سے اونچے نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا یہ بھی حضرت انس ؓ کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس سے معلوم ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ طلب بارش کے لئے دعا مانگتے وقت اپنے ہاتھ بہت زیادہ بلند کرتے تھے، یہاں بھی یہی بات ہے کہ کبھی تو آپ ﷺ اپنے ہاتھ بہت زیادہ بلند کرتے تھے جیسا کہ حضرت انس ؓ نے بیان کیا ہے اور کبھی بہت زیادہ بلند نہیں کرتے تھے جیسا کہ یہاں عمیر بیان کر رہے ہیں۔

1480Mishkaat-al-Masabih

استسقاء کے وقت رسول اللہ ﷺ خشوع و خضوع اور تضرع اختیار کرتے تھے

وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَعْنِی فِی الْاِسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و السنن نسائی و ابن ماجۃ)

اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ استسقاء کے لئے باہر نکلے اور اس وقت آپ ﷺ کی کیفیت یہ تھی کہ (ظاہر میں تو) آپ ﷺ زینت ترک کئے ہوئے اور متواضع تھے (باطن میں) عاجزی و بیچارگی اور (ذکر اللہ میں زبان کی مشغولیت کے ساتھ) تضرع اختیار کئے ہوئے تھے۔ (سنن نسائی، سنن ابن ماجہ) تشریح بارش کے لئے دعا کرنے اور پروردگار سے رحمت مانگنے کے لئے جب آپ ﷺ باہر نکلتے تھے تو آپ ﷺ کا ظاہر و باطن اور زبان و دل گویا پورا وجود مبارک انتہائی بےچارگی اور عجز اختیار کئے ہوئے ہوتا تھا، چناچہ نہ صرف یہ کہ وہ اس موقع پر بندہ کی انتہائی محتاجی و بیچارگی اور عاجزی کے اظہار کے لئے آپ ﷺ کے ظاہری طور پر زیب وزینت (یعنی لباس وغیرہ میں خوش سلیقگی ترک کر کے سراپا عجز و انکسار ہوتے تھے بلکہ باطنی طور پر بھی آپ ﷺ کا قلب مبارک خوف اللہ سے لرزاں اور زبان مبارک تضرع وزاری میں مشغول ہوتی تھی۔