وَعَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدہ قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا سْتَسْقٰی قَالَ اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبِھَیْمَتَکَ وَانْشُرْ رَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ۔ ( رواہ موطا امام مالک و ابوداؤد)
اور حضرت عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا (یعنی حضرت عبداللہ صحابی سے) روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا رسول اللہ ﷺ جب بارش مانگتے تو دعا پڑھتے اَللّٰھُمَّ اسْقِ عِبَادَکَ وَبَھِیْمَتَکَ وَانْشُرْرَحْمَتَکَ وَاَحْیِ بَلَدَکَ الْمَیِّتَ یعنی اے اللہ اپنے بندوں اور اپنے جانوروں کو پانی سے سیراب فرما دے اپنی رحمت پھیلا دے اور اپنی مردہ (یعنی خشک) زمینوں کو زندگی (یعنی شادابی و سبزی عطا فرما۔ (ابوداؤد)
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ رَأَیْتُ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یُوَا کِیءُ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ اسْقِنَا غَیْثًا مُغِیْثًا مَرِیْئًا مُّرِیْعًانَّا فِعًا غَیْرَ ضَارٍّعَا جِلًا غَیْرَ اٰجِلٍ قَالَ فَاطْبَقَتْ عَلَیْھِمُ السَّمَآئُ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ رسول کریم ﷺ (استسقاء کے لئے) ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور یہ دعا فرما رہے تھے اللھم اسقنا مغیثا مریا مریعا نا فعا غیر ضارعا جلا غیر اجل یعنی اے اللہ؟ تو ہمیں بارش سے سیراب فرما جو فریاد رسی کرے اور جس کا انجام بہتر ہو اور جو ارزانی کرنے والی اور نفع پہنچانے والی ہو اور جلد آنے والی ہو دیر میں آنے والی نہ ہو۔ حضرت جابر ؓ فرماتے ہیں کہ ( اس دعا کے بعد) آسمان ابر آلود ہوگیا۔ (ابوداؤد)
عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ شَکَی النَّاسُ اِلٰی رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم قُحُوْطَ الْمَطَرِ فَاَمَرَ بِمِنْبَر فَوُضِعَ لَہ، فِی الْمُصَلَّی وَوَعَدَ النَّاسَ یَوْمًا یَخْرُجُوْنَ فِیْہِ قَالَتْ عَائِشَۃُ فَخَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمحِیْنَ بَدَاَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَقَعَدَ عَلَی الْمِنْبَرِ فَکَبَّرَ وَ حَمِدَ اﷲُ ثُمَّ قَالَ اِنَّکُمْ شَکَوْ تُمْ جَدْبَ دِیَارِ کُمْ وَاسْتِخَارَ الْمَطَرِ عَنْ اِبَّانَ زَمَانِہٖ عَنْکُمْ وَقَدْ اَمَرَ کُمُ اﷲُ اَنْ تَدْعُوْہُ وَوَعَدْکُمْ اَنْ یَّسْتَجِیْبَ لَکُمْ ثُمَّ قَالَ الْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ مَالِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ لَا اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ یَفْعَلُ مَا یُرِ یْدُ اَللّٰھُمَّ اَنْتَ اﷲُ لَا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ الْغَنِیُّ وَنْحُنُ فُقَرَاءُ اَنْزِلْ عَلَیْنَا الْغَیْثَ وَاجْعَلْ مَا اَنْزَلْتَ لَنَا قُوَّۃً وَ َبلَاغًا اِلٰی حِیْنٍ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ فَلَمْ یَتْرُکِ الرَّفْعِ حَتّٰی بَدَاَ بَیَاضُ اِبِطَیْہِ ثُمَّ حَوَّلَ اِلَی النَّاسِ ظَھْرَہ، وَقَلَّبَ اَوْحَوَّلَ رِدَاءَ ہُ وَھُوَرَافِعٌ یَدَیْہِ ثُمَّ اَقْبَلَ عَلَی النَّاسِ وَنَزَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ فَاَنْشَاَ اﷲُ سَحَابَۃً فَرَ عَدَتْ وَبَرَ قَتْ ثُمَّ اَمْطَرَتْ بِاِذْنِ اﷲِ فَلَمْ یَاْتِ مَسْجِدَہ، حَتّٰی سَالَتِ السَّیُوْلُ فَلَمَّارَاٰی سُرْعَتَھُمْ اِلَی الْکِنَّ ضَحِکَ حَتّٰی بِدَتْ نَوَاَجِذُہ، فَقَالَ اَشْھَدُ اَنَّ اﷲَ عَلٰی کُلِّ شَیْی ءٍ قَدِیْرٌ وَاِنِّیْ عَبْدُاﷲِ وَرَسُوْلَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ لوگوں نے رسول کریم ﷺ سے بارش نہ ہونے کی شکایت کی، آپ ﷺ نے حکم دیا کہ عید گاہ میں منبر رکھا جائے چناچہ جب عید گاہ میں منبر رکھ دیا گیا تو آپ ﷺ نے لوگوں سے ایک دن کے بارے میں طے کیا کہ اس دن سب لوگ عید گاہ چلیں گے۔ حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ (متعین دن) کو رسول اللہ ﷺ سورج کا کنارہ ظاہر ہوتے ہی (عید گاہ) تشریف لے گئے اور منبر پر بیٹھ کر تکبیر کہی اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا کہ تم نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے اپنے شہروں کی قحط سالی اور بارش کے اپنے وقت پر نہ برسنے کی شکایت تھی اب اللہ تعالیٰ تمہیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس سے بارش کے لئے دعا مانگو اور اس نے وعدہ کیا ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوگئی ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے مہربان اور بخشش کرنے والا ہے یوم جزاء کا مالک ہے۔ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔ اے اللہ! تو معبود ہے۔ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو غنی (بےپرواہ) ہے اور ہم فقیر و محتاج ہیں۔ ہم پر بارش برسا اور جو چیز کہ تو نازل کرے (یعنی بارش) اس کو ایک مدت دراز تک ہماری مدت اور (اس کے ذریعہ اپنے اپنے مقاصد و منافع تک) پہنچنے کا سبب بنا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اتنے بلند اٹھائے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی، پھر اپنی پشت مبارک لوگوں کی طرف پھیر کر اپنی چادر الٹی یا یہ کہ پھیری اور اپنے ہاتھ یوں ہی اٹھائے رہے پھر لوگوں کی طرف منہ کرے (منبر سے) نیچے تشریف لائے اور دو رکعت نماز پڑھی۔ جب ہی اللہ تعالیٰ نے بادل ظاہر فرمائے جو گرجنے لگے اور بجلی چمکنے لگی، چناچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے بارش شروع ہوگئی یہاں تک کہ آپ ﷺ اپنی مسجد تک نہ آئے پائے تھے کہ نالے بہنے لگے، جب آپ ﷺ نے لوگوں کو سایہ (یعنی بارش سے بچنے کے لئے محفوظ مقام) ڈھونڈھنے میں جلدی کرتے دیکھا تو ہنس پڑھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کی کچلیاں ظاہر ہوگئیں پھر فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے اور یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول اللہ ہوں۔ (ابوداؤد)
تشریح
حضرت امام مالک حضرت امام شافعی اور ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد فرماتے ہیں کہ نماز استسقاء کے بعد دو خطبے پڑھنا سنت ہے اور خطبہ کی ابتداء استغفار کے ساتھ کرنی چاہیے جیسے کہ عیدین کے خطبہ کی ابتداء تکبیر کے ساتھ ہوتی ہے اور حضرت امام ابوحنیفہ اور ایک دوسری روایت کے مطابق حضرت امام احمد کے نزدیک خطبہ مشروع نہیں ہے صرف دعا و استغفار پر اکتفا کرنا چاہیے۔ حضرت ابن ہمام (رح) فرماتے ہیں کہ اصحاب سنن اربعہ نے حضرت اسحق ابن عبداللہ کنانہ سے ایک روایت نقل کی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (استسقاء کے لئے) عید گاہ جا کر تمہاری طرح خطبہ نہیں پڑھا بلکہ آپ ﷺ برابر دعا کرتے گریہ وزاری کرتے اور اللہ کی عظمت و بڑائی بیان کرتے رہے نیز آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی جیسا کہ عید میں پڑھتے تھے۔
وَعَنْ اَنَسٍ صاَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ص کَانَ اِذَاقُحِطُوْا اسْتَسْقٰی بِالْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ فَقَالَ اَللّٰھُمَّ اِنَّا کُنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَےْکَ بِنَبِےِّنَا فَتَسْقِےْنَا وَاِنَّا نَتَوَسَّلُ اِلَےْکَ بِعَمِّ نَبِےِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَےُسْقَوْنَ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ جب (بارش نہ ہونے کے وجہ سے) قحط سالی ہوتی تو امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب، حضرت عباس ابن عبدالمطلب کے وسیلہ سے بارش کے لئے دعا فرماتے تھے چناچہ وہ فرماتے اے اللہ! ہم تیرے نبی ﷺ کے وسیلہ سے تجھ سے دعا کرتے تھے پس تو ہمیں سیراب کرتا تھا اب ہم تیرے نبی ﷺ کے چچا کے وسیلہ سے دعا کرتے ہیں پس تو ہمیں سیراب کر۔ حضرت انس فرماتے ہیں کہ (اس دعا سے) بارش ہوجاتی تھی۔ (صحیح البخاری )
تشریح
منقول ہے کہ جب حضرت عمر اور دوسرے صحابہ کرام جو ان کے ہمراہ ہوتے تھے حضرت عباس ؓ کے وسیلہ سے دعا مانگتے تو حضرت عباس ؓ فرماتے کہ اے پروردگار! تیرے پیغمبر کی امت نے میرا وسیلہ اختیار کیا ہے۔ خداوند! تو میرے اس بڑھاپے کو رسوا مت کر اور مجھے ان کے سامنے شرمندہ نہ کر۔ چناچہ حضرت عمر ؓ و دیگر صحابہ کرام کی دعا اور حضرت عباس ؓ کے ان الفاظ میں اتنی تایثر ہوتی کہ جب ہی بارش شروع ہوجاتی تھی۔
استسقاء کے سلسلہ میں ایک نبی کا واقعہ
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ خَرَجَ نَبِیٌّ مِّنَ الْاَ نْبِیَاءِ بِالنَّاسِ یَسْتَسْقِیْ فَاِذَا ھُوَ بِنَمْلَۃٍ رَافِعَۃٍ بَعْضَ قَوَائِمِھَا اِلَی السَّمَاءِ فَقَالَ ارْجِعُوْا فَقَدِا سْتَجِیْبَ لَکُمْ مِنْ اَجْلِ ھٰذِہِ النَّمْلَۃِ(رواہ الدار قطنی)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انبیاء میں سے ایک نبی لوگوں کے ہمراہ استسقاء کے لئے نکلے پس اس نبی نے اچانک ایک چیونٹی کو دیکھا جو اپنے کچھ پاؤں آسمان کی طرف اٹھاے ہوئے (کھڑی) تھی (یہ دیکھ کر) نبی ﷺ نے فرمایا کہ واپس چلو! اس چیونٹی کی وجہ سے تمہاری دعا قبول کرلی گئی۔ (دارقطنی)
تشریح
منقول ہے کہ یہ نبی حضرت سلیمان (علیہ السلام) تھے۔ واقعہ سے مقصود درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی قدرت کا اظہار ہے اور یہ بتانا ہے کہ نہ صرف یہ کہ پروردگار کی رحمت تمام مخلوقات پر یکساں ہیں بلکہ اس کا علم تمام موجودات کے احوال و کوائف کو گھیرے ہوئے ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کی ذات مسبب الاسباب اور قاضی الحاجات ہے۔ اس واقعہ کے سلسلہ میں یہ بھی منقول ہے کہ وہ چیونٹی یہ دعاء کرتی تھی اللھم انا خلق من خلقک لا غنی بنا عن رزقک فلا نھلکنا بذنوب بنی ادم یعنی اے پروردگار! تیری مخلوقات میں سے ہم ایک مخلوق ہیں تیرے رزق سے ہم مستغنی نہیں ہیں سو تو ہمیں انسانوں کو گناہوں کی وجہ سے ہلاک نہ کر۔
مشکوٰۃ کے اکثر نسخوں میں یہاں صرف لفظ باب لکھا ہوا ہے جیسا کہ مؤلف مشکوٰۃ کی عادت ہے کہ وہ بعض مواقع پر صرف لفظ باب لکھ کر ایک باب قائم جو درحقیقت کوئی الگ سے اور مستقل باب نہیں ہوتا بلکہ بیان کردہ پہلے باب کے لواحق اور متممات پر مشتمل ہوتا ہے۔ لیکن ایک صحیح نسخہ میں اس موقع پر باب فرالریاح اور اسی طرح ایک دوسرے نسخہ میں باب الریاح لکھا ہوا ہے جس کا مطلب ہے ہواؤں کا بیان گویا اس باب میں ہواؤں سے متعلق احادیث نقل کی جائیں گی۔
ہوا رحمت بھی ہے اور عذاب بھی
ابن عباس ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پروا ہوا کے ذریعے میری مدد کی گئی اور قوم عاد پچھوا ہوا کے ذریعہ ہلاک کی گئی (مسلم)
تشریح
غزوہ خندق کے موقع پر جب کفار نے اپنی پوری قہرمانی طاقتوں کے ساتھ مدینہ کا بڑا شدید محاصرہ کیا تو منجانب اللہ مسلمانوں کی اس طرح مدد کی گئی کہ پروا ہوا نہایت تیز چلنی شروع ہوگئی جس کی شدت کا یہ عالم تھا کہ اس نے لشکر کفار کے خیمے اکھاڑ ڈالے۔ ان کی ہانڈیاں اوندھا دیں اور ان کے منہ پر کنکریوں کی بارش کردی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں رعب و دہشت کی ایسی ہیبت ناک لہر دوڑا دی کہ وہ حو اس باختہ ہوگئے اور شکست کا منہ دیکھ کر میدان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ گویا یہ مسلمانوں پر اللہ تعالیٰ کا ایک بڑا افضل اور رسول اللہ ﷺ کا ایک عظیم معجزہ تھا۔ قوم عاد گذشتہ امتوں میں ایک بڑی سرکش امت گذری ہے اس امت کے لوگوں کے قد بارہ بارہ گز کے تھے۔ جب اس قوم کی سرکشی و بد کر داری نے حد سے تجاوز کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دی تو بڑے زبر دست پچھم کی ہوا چلی جس نے ان کو اس طرح زمین پردے مارا کہ ان کے سر چنکنا چور ہوگئے، پیٹ پھٹ گئے اور آنتیں باہر نکل پڑیں۔ لہٰذا اس ارشاد سے رسول اللہ ﷺ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ ہوا اللہ تعالیٰ کی تابعدار ہے کبھی تو وہ اللہ کے حکم سے رحمت الٰہی کی شکل میں مدد و نصرت بن کر آتی ہے اور کبھی وہی ہوا اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے عذاب الہیٰ کی صورت میں کسی قوم کے لئے ہلاکت و بربادی کا پیغام لے کر آتی ہے۔
ابر و ہوا دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کی کیفیت
وَعَنْ عَآئِشَۃَ رضی اللہ عنہا قَالَتْ مَا رَاَےْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ضَاحِکًا حَتّٰی اَرٰی مِنْہُ لَھَوَاتِہٖ اِنَّمَا کَانَ ےَتَبَسَّمُ فَکَانَ اِذَا رَاٰی غَےْمًا اَوْ رِےْحًا عُرِفَ فِیْ وَجْھِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے آپ ﷺ کو کبھی بھی اس طرح ہنستے ہوئے نہیں دیکھا کہ مجھے آپ ﷺ کا کوا نظر آیا ہو۔ آپ صرف تبسم فرماتے تھے اور جب ابر یا ہوا دیکھتے تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کا تغیر (صاف) پہچانا جاتا۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ جب ابر یا ہوا دیکھتے تو متفکر ہوجاتے تھے اور چہرہ مبارک پر اس ڈر اور خوف کے آثار صاف پہچانے جاتے کہ کہیں یہ ابر یا ہوا اپنے دامن میں لوگوں کے لئے نقصان و ضرر کا سامان نہ لئے ہو۔ اس روایت میں حضرت عائشہ ؓ کا مقصد یہ بتانا ہے کہ یوں تو رسول اللہ ﷺ شہود یعنی جلال کبریائی کے مشاہدہ کی وجہ سے ہمیشہ ہی خائف و لرزاں رہا کرتے تھے اور کسی بھی وقت آپ ﷺ کا قلب مبارک خوف و خشیت سے خالی نہیں رہتا تھا۔ مگر خاص طور پر جب ابر یا ہوا دیکھتے تو اور زیادہ متفکر اور متردد ہوجاتے تھے۔
تیز ہوا کے وقت رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنْھَا قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا عَصَفَتِ الرِّےْحُ قَالَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ خَےْرَھَا وَخَےْرَ مَا فِیْھَا وَ خَیْرَ مَااُرْسِلَتْ بِہٖ وَاَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّھَا وَشَرِّ مَا فِےْھَا وَشَرِّ مَا اُرْسِلَتْ بِِہٖ وَاِذَا تَخَےَّلَتِ السَّمَآءُ تَغَےَّرَ لَوْنُہُ وَخَرَجَ وَدَخَلَ وَاَقْبَلَ وَاَدْبَرَ فَاِذَا مَطَرَتْ سُرِّیَ عَنْہُ فَعَرَفَتْ ذَالِکَ عَآئِشَۃُ فَسَاَلَتْہُ فَقَالَ لَعَلَّہُ ےَا عَائِشَۃُ کَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَاَوْہُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِےَتِھِمْ قَالُوْا ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا وَفِیْ رِوَاےَۃٍ ےَقُوْلُ اِذَا رَاَی الْمَطَرَ رَحْمَۃً۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب شدت کی ہوا چلتی تو رسول اللہ ﷺ یہ دعا فرماتے اے اللہ! میں مانگتا ہوں تجھ سے بھلائی جو اس (ہوا کی ذات میں ہے اور بھلائی اس چیز کی جو اس میں ہے (یعنی اس کے منافع) اور بھلائی اس چیز کی جس کے لئے یہ ہوا بھیجی گئی ہے (یعنی اس کی مدد) اور پناہ مانگتاہوں تیرے ذریعہ اس برائی سے اور اس چیز کی برائی سے جو اس میں ہے (یعنی یہ عذاب کا باعث نہ ہو) اور جب آسمان ابر آلود ہوتا تو رسول اللہ ﷺ (کے چہر مبارک) کا رنگ بدل جاتا چناچہ (اضطراب و گھبراہٹ کی وجہ سے ایک جگہ نہ رہتے بلکہ) کبھی گھر سے باہر نکلتے اور کبھی باہر سے اندر آتے اس طرح پھر آتے اور پھرجاتے۔ جب بارش شروع ہوجاتی تو آپ ﷺ کا خوف و اضطراب ختم ہوجاتا (ایک مرتبہ) حضرت عائشہ ؓ نے جب یہ (تغیر و اضطراب) محسوس کیا تو رسول اللہ ﷺ سے اس کا سبب پوچھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ عائشہ کیا! خبر یہ ابرو یسا ہی ہو جس کی نسبت قوم عاد نے کہا تھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بر سے گا۔ چناچہ اس آیت میں قوم عاد کا حال بیان کیا گیا ہے کہ جب انہوں نے ابر کو اپنے نالوں اور وادیوں پر آتے ہوئے دیکھا کہ یہ ابر ہے جو ہم پر بر سے گا۔ اور ایک روایت میں بجائے (فاذا مطرت سری عنہ) یہ الفاظ ہیں کہ جب آپ ﷺ بارش کو دیکھتے تو یہ فرماتے کہ یہ بارش باعث رحمت ہو۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
مذکورہ بالا آیت میں قوم عاد کی ہلاکت کی ابتداء کا ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب جب ابر کی شکل میں ان پر نمودار ہوا تو اسی خوش فہمی میں رہے کہ یہ ابر ہمارے اوپر بارش برسائے گا، مگر حق تعالیٰ نے ان کی اس خوش فہمی کو جلد ہی ہلاکت میں بدل دیا جس کا اظہار اسی آیت کے دوسرے الفاظ میں بل ھو ما استعجلتم الاّ یہ کے ذریعہ بایں طور کیا گیا ہے کہ (نہیں) بلکہ (یہ) وہ چیز ہے جس کے لئے تم رہ گئے کہ ان کے گھروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا، گنہگار لوگوں کو ہم اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ پس حدیث کا حاصل یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب ابر دیکھتے تو پڑھتے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ جس طرح قوم عاد نے ابر دیکھ کر یہ سمجھا تھا کہ ہم پر بارش ہوگی اور پھر وہ ابر ان پر بارش تو کیا برساتا بلکہ ایسی تند و تیز آندھی آئی جس نے آن واحد میں پوری قوم کو ہلاکت کی وادی میں پھینک دیا اسی لئے ہمارے لئے بھی یہ ابر ہلاکت و بربادی کا باعث نہ ہو؟
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَفَاتِےْحُ الْغَےْبِ خَمْسٌ ثُمَّ قَرَاَ اِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہ، عِلْمُ السَّاعَۃِ وَےُنَزِّلُ الْغَےْثَ اَلْاٰےَۃَ۔(صحیح البخاری)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا غیب کے خزانے پانچ ہیں پھر آپ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (جس کا ترجمہ یہ ہے) اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے اور وہی بارش برساتا ہے۔ (صحیح البخاری )
تشریح
غیب کے پانچ خزانے ہیں جن کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ کوئی دوسرا ان پر مطلع نہیں ہے۔ انہیں پانچ خزانوں کو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے۔ آیت (اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَه عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْاَرْحَامِ وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِيْ نَفْسٌ بِاَيِّ اَرْضٍ تَمُوْتُ اِنَّ اللّٰهَ عَلِيْمٌ خَبِيْرٌ) 31۔ لقمان 34) یعنی بلاشبہ اللہ ہی کو قیامت قائم ہونے اور بارش برسانے کا علم ہے اور وہی جانتا ہے کہ (ماں کے) پیٹ میں کیا ہے (یعنی لڑکا ہے یا لڑکی، گورا ہے یا کالا اور پورا ہے یا ادھورا وغیرہ وغیرہ) اور کوئی آدمی نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کرے گا (یعنی دنیا میں بھلائی کرے گا یا برائی اور آخرت میں ثواب پائے گا یا عذاب) اور نہ کوئی یہ جانتا ہے کہ وہ کون سی زمین پر مرے گا، بیشک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ یہ غیب کی وہ پانچ چیزیں ہیں جن کی کلیات کو اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہاں اللہ کے بعض برگزیدہ و نیک بندے ان میں سے کسی بعض جزئیات کو جان جاتے ہیں (مگر وہ بھی اسی وقت جب کہ اللہ اپنے کسی ذریعہ سے بتادیتا ہے)
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَےْسَتِ السَّنَۃُ بِاَنْ لَّا تُمْطَرُوْا وَلٰکِنِ السَّنَۃُ اَنْ تُمْطَرُوْا وَتُمْطَرُوْا وَلَا تُنْبِتُ الْاَرْضُ شَےْئًا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سخت قحط اس کا نام نہیں ہے کہ تم پر بارش نہ ہو بلکہ سخت قحط یہ ہے کہ تم پر بارش ہو مگر زمین نہ کچھ لگائے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
قاضی نے کہا ہے کہ جیسا کہ حدیث سے معلوم ہوا شدید اور سخت قحط سالی یہ نہیں ہے کہ بارش نہ ہو اور سو کھا پڑجائے بلکہ شدید اور سخت قحط سالی اس کا نام ہے کہ بارش تو ہو مگر زمین کی پیداوار بالکل بند ہوجائے کیونکہ فائدہ اور بھلائی کی امید اور توقع اور پھر اس کے اسباب و وسائل کے ظاہر ہوجانے کے بعد غیر متوقع طریقہ پر نقصان و ضرر پہلے سے متوقع نقصان و مایوسی سے کہیں زیادہ سخت اور شدید ہوتا ہے۔
ہوا کو برا کہنے کی ممانعت
عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ الرَّیْحُ مِنْ رَوْحِ اﷲِ تَاْتِیْ بِالرَّحْمَۃِ وَابِالْعَذَابِ فَلَا تَسُبُّوْ ھَا وَسَلُوا اﷲَ مِنْ خَیْرِ ھَا وَعُوذُوْابِہٖ مِنْ شَرِّھَا۔ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَاَبُوْدَاؤدَ وَ ابْنُ مَاجَۃَ وَالْبَیْھِقِیُّ فِیْ الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ
حضرت ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ہوا اللہ کی رحمت ہے، وہ رحمت بھی لاتی ہے اور عذاب بھی۔ پس تم (اگر تمہیں اس سے کوئی نقصان پہنچے تو) اسے برا نہ کہو ہاں تم اللہ سے اس کی بھلائی طلب کرو، اللہ سے اس کے نقصان سے پناہ مانگو۔ (شافعی، سنن ابوداؤد، ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
سخت ہوا اور آندھی جو اللہ کے سرکش اور نافرمانبردار بندوں کے لئے عذاب کا ذریعہ بن کر آتی ہے وہ بھی حقیقت میں رحمت ہی ہے کیونکہ اللہ کے نیک و فرمانبردار بندے اس کی تباہی سے محفوظ رہتے ہیں۔
ہوا کو برا کہنے کی ممانعت
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَجُلًا لَعَنَ الرَّیْحَ عِنْدَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ لَا تَلْعَنُوْا الرِّیْحَ فَاِنَّھَا مَاْ مُوْرَۃٌ وَاِنَہ، مَنْ لَّعُنْ شَیْاً لَیْسَ لَہ، بِاَھْلٍ رَجَعَتِ الْلَعْنَۃُ عَلَیْہِ رَوَاہُ التِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک آدمی نے کسی ایسی چیز پر لعنت کی جو لعنت کی مستحق نہ تھی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہوا پر لعنت نہ کرو کیونکہ وہ تو (رحمت یا عذاب کے لئے) اللہ کی جانب سے مامور ہے اور جو آدمی کسی ایسی چیز پر لعنت کرتا ہے جو لعنت کی مستحق نہیں ہوتی تو وہ لعنت اسی لعنت کرنے والے پر لوٹ آتی ہے۔ یہ روایت امام ترمذی (رح) نے نقل کی ہے اور کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
تشریح
حضرت امام غزالی (رح) فرماتے ہیں کہ لعنت کا باعث تین ہی چیزیں ہوا کرتی ہیں۔ (١) کفر (٢) بدعت (٣) فسق اور ظاہر ہے کہ ہوا میں ان تین چیزوں میں سے کوئی بھی چیز نہیں پائی جاتی اس لئے رسول اللہ ﷺ نے ہوا کو لعنت دینے سے منع فرمایا۔
ہوا کو برا کہنے کی ممانعت
وَعَنْ اَبِیْ کَعْبٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا تَسُبُّوْ الرِّیْحَ فَاِذَا رَاَیْتُمْ مَّا تَکْرَ ھُوْنَ فَقُوْلُوْا اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْئَلُکَ مِنْ خَیْرِ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَ خَیْرِ مَا فِیْھَا وَخَیْرِ مَا اُمِرَتْ بِہٰ وََنَعُوْذُبِکَ مِنْ شَرِّ ھٰذِہِ الرِّیْحِ وَشَرِّمَا فِیْھَا وَشَرِّمَا اُمِرَ تْ بِہٖ۔ (رواہ الترمذی)
اور حضرت ابی ابن کعب ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہوا کو برا نہ کہو، ہاں جب تم یہ دیکھو کہ (اس کے جھلسا دینے والے جھونکوں یا اس کی ٹھنڈی لہروں کی وجہ سے) تمہیں وہ ناگوار محسوس ہو رہی ہے (یا اس کی تیز و تندی کی وجہ سے تمہیں تکلیف یا نقصان ہو رہا ہے) دعا کرو کہ اے اللہ! ہم تجھ سے اس ہوا کی بھلائی اور جو کچھ اس کے اندر ہے اس کی بھلائی اور جس چیز کے لئے یہ مامور کی گئی ہے اس کی بھلائی مانگتی ہیں اور ہم تجھ سے اس ہوا کی برائی سے اور جو کچھ اس کے اندر ہے اور اس کی برائی سے اور جس چیز کے لئے یہ مامور کی گئی ہے اس کی برائی سے پناہ چاہتے ہیں۔ (جامع ترمذی )
تیز ہوا کے وقت رسول اللہ ﷺ کی دعا
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ مَا ھَبَّتْ رِیْحُ قَطُّ اِلَّا جَثَا النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلٰی رُکْبَتَیْہِ وَقَالَ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رَحْمَۃً وَّلَا تَجْعَلْھَا عَذَابًا اَللّٰھُمَّ اجْعَلْھَا رِیَا حًا وَلَا تَجْعَلْھَا رِیْحًا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِیْ کِتَابِ اﷲِ تَعَالیٰ اِنَّا اَرْسَلْنَا عَلَیْھِمْ رِیْھَاصَرْ صَرَاوَّاَرْ سَلْنَا عَلَیْھِمُ الرِّیْحَ الْعَقِیْمَ وَاَرْسَلْنَا الرِّ یَاحَ لِوَاقِحٌ وَاَنْ یَّرْسِلَ الرِّیَاحَ مُبَشِّرَاتٍ رَوَاہُ الشَّافِعِیُّ وَالْبَیْھِقِیُّ فِی الدَّعْوَاتِ الْکَبِیْرِ۔
حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب بھی (تیز) ہوا چلتی تو رسول اللہ ﷺ ( اللہ کے سامنے عجز و انکساری کے اظہار) امت کی طرف سے خوف اور تعلیم کے پیش نظر کہ دوسرے لوگ بھی ایسا ہی کریں) دوزانوں ہو کر بیٹھ جاتے تھے اور یہ دعا فرماتے تھے۔ اے اللہ! اس ہوا کو ریاح (یعنی رحمت) بناء ریح (یعنی عذاب) نہ بنا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن کریم کی یہ آیات کریمہ ہیں (جن کا ترجمہ یہ ہے) کہ اور بھیجی ہم نے ان پر تیز و تند ہوا۔ اور بھیجی ہم نے ان پر بانجھ ہوا (یعنی ایسی ہوا جو درختوں کو ثمر آور نہیں ہونے دیتی تھی) اور بھیجیں ہم نے میوہ لانے والی ہوائیں۔ اور یہ کہ بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ (بارش کی) خوشخبری لانے والی ہوائیں۔ (شافعی، بیہقی)
تشریح
مشہور اور صحیح یہ ہے کہ لفظ ریح جو مفرد ہے عذاب کے موقع پر استعمال کیا جاتا ہے جیسا کہ اس روایت میں ذکر کردہ پہلی دونوں آیتوں سے معلوم ہوا اور لفظ ریاح جو جمع ہے رحمت کے موقع پر مستعمل ہوتا ہے جیسا کہ آخر کی دونوں آیتوں سے ثابت ہوا۔ پس حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کی اس روایت میں مذکور دعا میں ریاح سے مراد رحمت اور ریح سے مراد عذاب ہے لیکن ابوجعفر طحاوی نے اس میں اشکال ظاہر کیا ہے کیونکہ قرآن کریم ہی میں یہ بھی ارشاد ہے کہ وجرین بھم بر یح طیبۃ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ریح رحمت و بھلائی کے لئے مستعمل ہے۔ اسی طرح بعض احادیث میں بھی لفظ ریح جو مفرد ہے خیر و شر دونوں موقعوں کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر حضرت ابو ہریرہ ؓ کی گذشتہ روایت ( نمبر ٦) کے الفاظ الریح من روح اللہ الخ کو دیکھ لیجئے۔ لہٰذا اس اشکال کے پیش نظر خطابی نے اس حدیث کی توجیہہ یہ کی ہے کہ جب بہت ساری ہوائیں آتی ہیں تو وہ ابروبارش لاتی ہیں اور کھیتوں میں نمو پیدا کرتی ہیں۔ جب کہ ایک ہوا میں یہ تایثر کم ہوتی ہے اس لئے رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ! اس ہوا کو ریاح بنا، ریح نہ بنا۔
وَعَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَاَ بْصَرْنَا شَیْئًا مِنَ السَّمَاءِ تَعْنِی السَّھَابَ تَرَکَ عَمَلَہ، وَاسْتَقْبَلَہ، وَقَالَ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا فِیْہِ فَاِنْ کَشَفَہُ اﷲُ حَمِدَ اﷲُ وَاِنْ مَطَرَتْ قَالَ اَللّٰھُمَّ سَقْیًانَا فِعًا رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَالنِّسَائِیُّ وَابْنُ مَاجَۃَ وَالشَّافِعِیُّ وَالْلَفْظُ لَہ،۔
اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب آسمان سے گھٹا دیکھتے تو ( مباح) کام کاج چھوڑ کر ادھر متوجہ ہوجاتے اور یہ دعا فرماتے اے اللہ! جو کچھ اس میں برائی ہو میں اس سے تیری پناہ چاہتا ہوں اگر اللہ تعالیٰ (بغیر برسائے) آسمان کو صاف کردیتا تو آپ ﷺ اللہ کی حمد بیان فرماتے اور اگر بارش شروع ہوجاتی تو یہ دعا فرماتے کہ اللہ! نفع دینے والا پانی برسا۔ سنن ابوداؤد، سنن نسائی، سنن ابن ماجہ، الفاظ شافعی کے ہیں۔
وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا سَمِعَ صَوْتَ الرَّ عْدِ وَ الصَّوَاعِقِ قَالَ اَللّٰھُمَّ لَا تَقْتُلْنَا بِغَضِبِکَ وَلَا تُھْلِکْنَا بِعَذَابِکَ وَعَافِنَا قَبْلَ ذٰلِکَ رَوَاہُ اَحْمَدُ وَالتِّرْمِذِیُّ وَقَالَ ھٰذَا حَدِیْثٌ غَرِیْبٌ۔
اور حضرت عبداللہ بن عمر ؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب گرج کی آواز سنتے ہیں یا آپ ﷺ کو بجلی کا گرنا معلوم ہوتا تو یہ دعا فرماتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں اپنے غضب سے نہ مار اور اپنے عذاب سے ہلاک نہ کر اور ہمیں عافیت میں رکھ ( یعنی ہمیں عافیت کی موت دے) پہلے اس کے (کہ تیرا عذاب نازل ہو) احمد بن حنبل جامع ترمذی اور امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے۔
عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ الزُّبَیْرِ اَنَّہُ کَانَ اِذَا سَمِعَ الرَّعْدَ تَرَکَ الْحَدِیْثَ وَقَالَ سُبْحَانَکَ الذِّیْ یُسَبِّحُ الرَّعْدُ بِحَمْدِہٖ وَالْمَلَائِکَۃُ مِنْ خِیْفَتِہٖ۔ (رواہ موطا امام مالک)
حضرت عبداللہ ابن زبیر ؓ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ جب گرج کی آواز سنتے تو بات چیت چھوڑ دیتے تھے اور یہ پڑھنے لگتے۔ پاک ہے وہ ذات جس کی رعد تسبیح کرتا ہے اس کی تعریف کے ساتھ اور فرشتے اس کے خوف سے۔ (مالک)
تشریح
رعد فرشتے کا نام ہے جو بادل ہنکانے پر مقرر ہے۔ چناچہ گرج درحقیقت اس کی تسبیح کی آواز ہے حضرت عبداللہ ابن عباس کی یہ روایت منقول ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر کے ہمراہ سفر میں تھے گرج، بجلی کی چمک اور سردی نے ہمیں آلیا، حضرت کعب نے (یہ دیکھ کر) کہا کہ جو آدمی گرج کی آواز سن کر تین مرتبہ یہ پڑھے سبحان من یسبح الرعد بحمدہ والملائ کہ من خیفتہ تو وہ ان چیزوں سے محفوظ و مامون رہتا ہے۔ چناچہ ہم نے یہ پڑھنا شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے ہمیں محفوظ رکھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسے موقع پر جب کہ بادل کی چمک و گرج اور بجلی کی تڑپ و کڑک، خوب و اضطرب کی لہر پیدا کر دے ان مقدس الفاظ کا ورد سکون قلب اور حفاظت کے لئے بہت موثر ہے۔ لِلّٰہِ الْحَمْدُ اَوَّلَا وَّاٰخِرً ا وَّظَاھِرًاوَّبَا طِنًا وَصَلَّی اللہ تَعَالیٰ عَلٰی خَیْرِ مُحَمَّدٍ وَاٰلِہ وَاَصْحَابِہ اَجْمَعِیْنَ بِرَ حْمَتِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ
جنائز جنازہ کی جمع ہے، لفظ جنازہ لغت کے اعتبار سے جیم کے زیر اور زبر دونوں کے ساتھ مستعمل ہوتا ہے لیکن زیادہ فصیح جیم کے زیر کے ساتھ ہی ہے۔ جنازہ میت یعنی مردے کو جو تخت پر ہو کہتے ہیں۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ لفظ جنازہ یعنی جیم کے زبر کے ساتھ میت کے معنیٰ میں استعمال کیا جاتا ہے اور جنازہ یعنی جیم کے زیر کے ساتھ تابوت اور اس تخت یا چار پائی کو کہتے ہیں جس پر مردہ کو رکھ کر اٹھاتے ہیں، بعض حضرات نے اس کے برعکس کہا ہے یعنی جنازہ تابوت یا تخت کو کہتے ہیں اور جنازہ میت کو کہا جاتا ہے۔
بیمار کی عیادت کرنی چاہئے
عن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أطعموا الجائع وعودوا المريض وفكوا العاني . رواه البخاري
حضرت ابوموسیٰ ؓ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا بھوکے (یعنی مضطر و مسکین اور فقیر) کو کھانا کھلاؤ، بیمار کی عیادت کرو اور قیدی کو (دشمن کی قید سے) چھڑاؤ (بخاری)
تشریح
اس حدیث میں تین باتوں کا حکم دیا جا رہا ہے یہ وجوب علی الکفایۃ کے طور پر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص بھی ان احکام کو پورا کرلے تو بقیہ دوسرے لوگوں کے لئے انہیں پورا کرنا ضروری نہیں ہے تاہم سب کے لئے ان احکام پر عمل کرنا سنت اور باعث ثواب ضرور ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص ان احکام کو پورا نہ کرے تو پھر سب ہی لوگ نافرمانی کے گناہ میں مبتلا ہوں گے۔ حضرت شیخ عبدالحق دہلوی نے لکھا ہے کہ بھوکے کو اس صورت میں کھانا کھلانا سنت ہے اگر وہ حالت اضطرار میں نہ ہو یعنی اس بھوکے کی یہ کیفیت نہ ہو کہ اگر اسے کھانا نہ کھلایا گیا تو مرجائے۔ مگر اس شکل میں اسے کھانا دینا فرض ہے کہ وہ حالت اضطرار کو پہنچ چکا ہو۔ اسی طرح کوئی بھوکا کسی ایسے مقام پر ہو جہاں ایک نہ ہو بلکہ کئی آدمی ذی مقدور ہوں یعنی اس بھوکے کو کھانا کھلانے کی استطاعت رکھتے ہوں تو ان سب ذی المقدور لوگوں پر بھوکے کو کھانا کھلانا فرض کفایہ ہوگا کہ اگر ان میں سے کسی ایک نے بھی بھوکے کو کھانا کھلا دیا تو سب لوگ بری الذمہ ہوجائیں گے۔ ہاں اگر بھوکا کسی ایسی جگہ ہو جہاں صرف ایک ہی آدمی ذی مقدور ہو اور بقیہ سب لوگ مفلس و قلاش ہوں تو اس ذی مقدور پر بھوکے کو کھانا کھلانا فرض عین ہوگا ایسے ہی اس بیمار کی عیادت اور مزاج پرسی سنت ہے جس کا کوئی خبر گیر اور تیمار دار ہو اور اس بیمار کی عیادت و مزاج پرسی واجب ہے جس کا کوئی خبر گیر و تیمار دار نہ ہو۔