Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح

All 6,294 hadiths in order · Page 312 of 315

6221Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: مَرَّ أَبُو بَكْرٍ وَالْعَبَّاسُ بِمَجْلِسٍ من مجَالِس الْأَنْصَار وهم يَبْكُونَ فَقَالَ: مَا يُبْكِيكُمْ؟ قَالُوا: ذَكَرْنَا مَجْلِسَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَّا فَدَخَلَ أَحَدُهُمَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ بِذَلِكَ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ عَصَّبَ عَلَى رَأْسِهِ حَاشِيَةَ بُرْدٍ فَصَعِدَ الْمِنْبَر وَلم يَصْعَدهُ بعد ذَلِك الْيَوْم. فَحَمدَ الله وَأَثْنَى عَلَيْهِ. ثُمَّ قَالَ: «أُوصِيكُمْ بِالْأَنْصَارِ فَإِنَّهُمْ كَرِشِي وَعَيْبَتِي وَقَدْ قَضَوُا الَّذِي عَلَيْهِمْ وَبَقِيَ الَّذِي لَهُمْ فَاقْبَلُوا مِنْ مُحْسِنِهِمْ وَتَجَاوَزُوا عَنْ مسيئهم» . رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، ابوبکر اور عباس ؓ انصار کی ایک مجلس کے پاس سے گزرے تو وہ اس وقت رو رہے تھے ۔ انہوں نے پوچھا : تم کیوں رو رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم نے نبی ﷺ کی مجلس کو یاد کیا جس میں ہم (بیٹھا کرتے) تھے ، ان دونوں میں سے ایک نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اس کے متعلق آپ کو بتایا ، نبی ﷺ اپنے سر مبارک پر کپڑے کی پٹی باندھے ہوئے باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، اور اس روز کے بعد آپ منبر پر تشریف نہ لا سکے ، آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ میں انصار کے بارے میں تمہیں وصیت کرتا ہوں ، وہ میرے جسم و جان (دست و بازو) ہیں ، وہ اپنی ذمہ داریاں نبھا چکے ، اب ان کے حقوق باقی ہیں ، تم ان کے نیکوکاروں کی طرف سے (عذر) قبول کرنا اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرنا ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

6222Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ حَتَّى جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: «أَمَّا بَعْدُ فَإِنَّ النَّاسَ يَكْثُرُونَ وَيَقِلُّ الْأَنْصَارُ حَتَّى يَكُونُوا فِي النَّاسِ بِمَنْزِلَةِ الْمِلْحِ فِي الطَّعَامِ فَمَنْ وَلِيَ مِنْكُمْ شَيْئًا يَضُرُّ فِيهِ قَوْمًا وَيَنْفَعُ فِيهِ آخَرين فليقبل عَن محسنهم وليتجاوز عَن مسيئهم» رَوَاهُ البُخَارِيّ\n

ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں ، نبی ﷺ اپنے مرض وفات میں باہر تشریف لائے اور منبر پر جلوہ افروز ہوئے ، آپ نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا :’’ امابعد ! باقی لوگ تو بہت زیادہ ہو جائیں گے جبکہ انصار کم ہو جائیں گے حتیٰ کہ وہ لوگوں میں نمک کے تناسب سے ہو جائیں گے ، تم میں سے جو شخص کسی ایسی چیز کا ذمہ دار و سرپرست ہو جس میں وہ کسی نقصان اور کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہو تو وہ ان (انصار) کے نیکوکاروں کے نیک کاموں کو قبول کرے اور ان کے خطاکاروں سے درگزر کرے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

6223Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم: «الله اغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَلِأَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ وَأَبْنَاءِ أَبْنَاءِ الْأَنْصَارِ» . رَوَاهُ مُسلم\n

زید بن ارقم ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! انصار ، انصار کی اولاد اور انصار کی اولاد کی اولاد کی مغفرت فرما ۔‘‘ رواہ مسلم ۔

6224Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ أَبِي أُسَيْدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ بَنُو النَّجَّارِ ثُمَّ بَنُو عَبْدِ الْأَشْهَلِ ثُمَّ بَنُو الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ ثُمَّ بَنُو سَاعِدَةَ وَفَى كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ابواُسید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار کا سب سے بہترین قبیلہ بنو نجار کا قبیلہ ہے ، پھر بنو عبدالاشہل ، بنو حارث بن خزرج ، پھر بنو ساعدہ اور انصار کے ہر قبیلے میں خیر ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6225Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْر والمقداد - وَفِي رِوَايَة: أَبَا مَرْثَدٍ بَدَلَ الْمِقْدَادِ - فَقَالَ: «انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخٍ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ فَخُذُوا مِنْهَا» فَانْطَلَقْنَا تَتَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا حَتَّى أَتَيْنَا الرَّوْضَة فَإِذا نَحن بِالظَّعِينَةِ قُلْنَا لَهَا: أَخْرِجِي الْكتاب قَالَت: مَا معي كِتَابٍ. فَقُلْنَا لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَتُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا فَأَتَيْنَا بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى نَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ يُخْبِرُهُمْ بِبَعْضِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا حَاطِبُ مَا هَذَا؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَكَانَ مَنْ مَعَك من الْمُهَاجِرين من لَهُم قَرَابَات يحْمُونَ بهَا أَمْوَالهم وأهليهم بِمَكَّةَ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ مِنَ النَّسَبِ فِيهِمْ يَدًا يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَتِي وَمَا فَعَلْتُ كفرا وَلَا ارْتِدَادًا عَن ديني وَلَا رضى بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّهُ قَدْ صَدَقَكُمْ» فَقَالَ عُمَرُ: دَعْنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَضْرِبْ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُم فقد وَجَبت لكم الجنةُ «\nوَفِي رِوَايَة فقد غَفَرْتُ لَكُمْ» فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ] . مُتَّفق عَلَيْهِ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو ، زبیر اور مقداد ؓ کو ، ایک دوسری روایت میں مقداد کے بجائے ابومرثد ؓ کا نام ہے ، کسی کام پر روانہ فرمایا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم چلتے جانا حتیٰ کہ تم روضہ خاخ پر پہنچ جاؤ ، وہاں ایک عورت ہو گی اس کے پاس ایک خط ہو گا تم وہ اس سے لے لینا ۔‘‘ ہم روانہ ہوئے ، ہم اپنے گھوڑے دوڑاتے رہے حتیٰ کہ ہم روضہ خاخ پر پہنچ گئے ، اور وہاں ہمیں وہ عورت مل گئی ۔ ہم نے کہا : خط نکالو ، اس نے کہا : میرے پاس کوئی خط نہیں ، ہم نے کہا : خط نکال دو ورنہ ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے ، چنانچہ اس نے وہ خط اپنی چوٹی سے نکال دیا ، ہم وہ خط لے کر نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس میں لکھا ہوا تھا ، حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے اہل مکہ کے چند مشرکین کے نام ، انہوں نے اس میں رسول اللہ ﷺ کے بعض امور کے متعلق انہیں خبر دی تھی ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ حاطب یہ کیا (ماجرا) ہے ؟‘‘ انہوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میرے متعلق جلدی نہ فرمانا ، میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں قریش کا حلیف ہوں ، میں ان کے خاندان میں سے نہیں ہوں ، اور آپ کے ساتھ جو مہاجرین ہیں ، ان کی تو (ان سے) قرابت ہے جس کی وجہ سے وہ مکہ میں ان کے اموال اور اہل و عیال کی حفاظت کر رہے ہیں ، میں نے ان سے نسبی رشتہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ پسند کیا کہ میں ان سے کوئی احسان کروں ، جس کی وجہ سے وہ میرے قرابت داروں کی حفاظت کریں گے ۔ میں نے یہ کفر کی وجہ سے کیا ہے نہ اپنے دین سے ارتداد کی وجہ سے کیا ہے اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر کو پسند کر کے کیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس نے تم سے سچی بات کی ہے ۔‘‘ عمر ؓ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! مجھے اجازت فرمائیں میں اس منافق کی گردن اڑا دوں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس شخص نے غزوۂ بدر میں شرکت کی ہے ، اور تم نہیں جانتے کہ اللہ نے اہل بدر کے احوال پہلے سے جان لیے تھے ، اس لیے اس نے فرمایا :’’ جو چاہو سو کرو ، تمہارے لیے جنت واجب ہو چکی ہے ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ میں تمہیں معاف کر چکا ۔‘‘ تب اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ ایمان والو ! میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6226Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nرِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ قَالَ: جَاءَ جِبْرِيلُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «مَا تَعُدُّونَ أَهْلَ بَدْرٍ فِيكُمْ» . قَالَ: «مِنْ أَفْضَلِ الْمُسْلِمِينَ» أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا قَالَ: «وَكَذَلِكَ مَنْ شَهِدَ بَدْرًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\n

رفاعہ بن رافع ؓ بیان کرتے ہیں ، جبریل ؑ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا :’’ تم اہل بدر کو اپنے ہاں کس درجہ میں شمار کرتے ہو ؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ مسلمانوں میں سے سب سے افضل ۔‘‘ یا آپ نے اسی طرح کی بات فرمائی ۔‘‘ انہوں (جبریل ؑ) نے فرمایا :’’ اسی طرح جو فرشتے بدر میں شریک ہوئے ان کا بھی بلند درجہ ہے ۔‘‘ رواہ البخاری ۔

6227Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nحَفْصَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ لَا يَدْخُلَ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ أَحَدٌ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ» قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَإِنْ مِنْكُمْ إِلَّا واردها] قَالَ: فَلَمْ تَسْمَعِيهِ يَقُولُ: [ثُمَّ نُنَجِّي الَّذِينَ اتقَوا]\nوَفِي رِوَايَةٍ: «لَا يَدْخُلُ النَّارَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ - أَحَدُ - الَّذِينَ بَايَعُوا تحتهَا» . رَوَاهُ مُسلم\n

حفصہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں امید کرتا ہوں کہ ان شاء اللہ غزوۂ بدر اور صلح حدیبیہ میں شرکت کرنے والا کوئی شخص جہنم میں داخل نہیں ہو گا ۔‘‘ میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے :’’ تم میں سے ہر شخص نے اس پر وارد ہونا ہے ۔‘‘ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا تم نے سنا نہیں ، وہ فرماتا ہے : پھر وہ تقویٰ اختیار کرنے والوں کو بچا لے گا ۔‘‘\n ایک دوسری روایت میں ہے :’’ ان شاء اللہ اصحاب شجرہ جنہوں نے اس (درخت) کے نیچے بیعت کی تھی جہنم میں داخل نہیں ہوں گے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔\n

6228Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: كُنَّا يَوْمَ الْحُدَيْبِيَةِ أَلْفًا وَأَرْبَعَمِائَةٍ. قَالَ لَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرُ أَهْلِ الأَرْض» . مُتَّفق عَلَيْهِ

جابر ؓ نے فرمایا : صلح حدیبیہ کے موقع پر ہم چودہ سو افراد تھے ، نبی ﷺ نے ہمیں فرمایا :’’ آج زمین والوں میں سے تم سب سے بہتر ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔

6229Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ يَصْعَدِ الثَّنِيَّةَ ثَنِيَّةَ الْمُرَارِ فَإِنَّهُ يُحَطُّ عَنْهُ مَا حُطَّ عَنْ بَنِي إِسرائيل» . وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ صَعِدَهَا خَيْلُنَا خَيْلُ بَنِي الْخَزْرَجِ ثُمَّ تَتَامَّ النَّاسُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كُلُّكُمْ مَغْفُورٌ لَهُ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ» . فَأَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا: تَعَالَ يَسْتَغْفِرْ لَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَأَنْ أَجِدَ ضَالَّتِي أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي صَاحِبُكُمْ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ\nوَذَكَرَ حَدِيثَ أَنَسٍ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: «إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ» فِي «بَابٍ» بعدَ فَضَائِل الْقُرْآن\n

جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ثنیۃ المرار کی چوٹی پر چڑھے گا تو اس کے گناہ اس طرح ختم کر دیے جائیں گے جس طرح بنی اسرائیل کے گناہ ختم کر دیے گئے تھے ۔‘‘ بنو خزرج کا دستہ سب سے پہلے اس پر چڑھا ، پھر باقی لوگ متواتر پہنچتے رہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اس سرخ اونٹ والے کے سوا تم سب کی مغفرت ہو گئی ۔‘‘ ہم اس شخص کے پاس آئے تو ہم نے کہا : آؤ رسول اللہ ﷺ تمہارے لیے مغفرت طلب کریں ، اس نے کہا : اگر میں اپنا گم شدہ اونٹ پا لوں تو یہ مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ تمہارا ساتھی میرے لیے مغفرت طلب کرے ۔ رواہ مسلم ۔\n اور انس ؓ سے مروی حدیث کہ آپ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ ’’ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن سناؤں ۔‘‘ باب فضائل القرآن کے بعد ذکر کی گئی ہے ۔\n

6230Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

عَنِ\nابْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي مِنْ أَصْحَابِي: أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَاهْتَدُوا بِهَدْيِ عمّارٍ وَتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ\n

ابن مسعود ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میرے بعد میرے دو صحابہ ابوبکر و عمر کی اقتدا کرنا ، عمار کی راہ پر چلنا ، ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘\n حذیفہ ؓ کی روایت میں ہے :’’ ابن مسعود جو بات تم سے کہیں اس کی تصدیق کرنا ۔‘‘ اس میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کی وصیت کو لازم پکڑنا ۔‘‘ کے الفاظ کے بجائے مذکورہ بالا الفاظ ہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔\n

6231Mishkaat-al-Masabihضعیف

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ كُنْتُ مُؤَمِّرًا مِنْ غَيْرِ مَشُورَةٍ لَأَمَّرْتُ عَلَيْهِمُ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ» رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَهْ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں کسی مشورہ کے بغیر کسی شخص کو امیر مقرر کرتا تو میں ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود ؓ) کو ان کا امیر مقرر کرتا ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی و ابن ماجہ ۔

6232Mishkaat-al-Masabihضعیف

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nخَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَيَسَّرَ لِي أَبَا هُرَيْرَةَ فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَوُفِّقْتَ لِي فَقَالَ: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ؟ قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ. فَقَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ؟ وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ؟ وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ؟ يَعْنِي الْإِنْجِيلَ وَالْقُرْآنَ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

خیثمہ بن ابی سبرہ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے درخواست کی وہ کسی صالح شخص کی ہم نشینی اختیار کرنے کی توفیق بخشے ، چنانچہ اس نے میرے لیے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی میسر فرما دی ، میں ان کے پاس بیٹھ گیا ، میں نے کہا : میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ وہ مجھے کسی صالح شخص کی ہم نشینی میسر فرمائے ، مجھے تمہاری ہم نشینی نصیب ہوئی ہے ۔ انہوں نے فرمایا : تم کہاں سے (آئے) ہو ؟ میں نے کہا کوفہ سے اور میں خیر کی طلب و تلاش میں آیا ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : کیا تم میں مستجاب الدعوات سعد بن مالک ؓ نہیں ہیں ؟ اور رسول اللہ ﷺ کی طہارت کے لیے وضو کا انتظام کرنے والے اور آپ کے جوتے اٹھانے والے ابن مسعود ؓ نہیں ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ کے راز دان حذیفہ ؓ اور عمار ؓ جنہیں اللہ نے اپنے نبی ﷺ کی زبان پر شیطان سے پناہ دی ہے ، اور صاحب کتابین یعنی انجیل و قرآن پر ایمان رکھنے والے سلمان نہیں ہیں ؟ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6233Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اچھا شخص ہے ابوبکر ، اچھا شخص ہے عمر ، اچھا شخص ہے ابوعبیدہ بن جراح ، اچھا شخص ہے اسید بن حضیر ، بہترین آدمی ہے ثابت بن قیس بن شماس ، بہترین آدمی ہے معاذ بن جبل اور اچھا شخص ہے معاذ بن عمرو بن جموح رضی اللہ عنھم ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6234Mishkaat-al-Masabihضعیف

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: «إِنَّ الْجَنَّةَ تَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ عَلِيٍّ وَعَمَّارٍ وسلمان» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ جنت تین اشخاص ، علی ، عمار اور سلمان ؓ کی مشتاق ہے ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6235Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nعَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: اسْتَأْذَنَ عَمَّارٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

علی ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ نے نبی ﷺ سے اندر آنے کی اجازت طلب کی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انہیں اجازت دے دو ۔ بہت ہی اچھے شخص کے لیے خوش آمدید ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6236Mishkaat-al-Masabihضعیف

مناقب کا بیان

وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أمرينِ إِلا اخْتَار أرشدهما» رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ

عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ عمار کو جب بھی دو امور میں سے کسی ایک کو پسند کرنے کا اختیار دیا گیا تو انہوں نے ان میں سے مشکل کام کو پسند کیا ۔‘‘ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔

6237Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جِنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جِنَازَتَهُ وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «إِنَّ الْمَلَائِكَة كَانَت تحمله» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقوں نے کہا : اس کا جنازہ کس قدر ہلکا ہے ، اور یہ بنو قریظہ کے متعلق اس کے فیصلے کی وجہ سے ہے ، نبی ﷺ تک بات پہنچی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ہلکا اس لیے ہے کہ فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ۔‘‘ صحیح ، رواہ الترمذی ۔

6238Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٌو قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أبي ذَر» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

عبداللہ بن عمرو ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر سے زیادہ سچا آدمی کوئی نہیں ۔‘‘ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6239Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nأَبِي ذَرٍّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى بن مَرْيَم» يَعْنِي فِي الزّهْد. فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ كَالْحَاسِدِ: يَا رَسُولَ الله أفتعرف ذَلِك لَهُ؟ قَالَ: «نعم فَاعْرِفُوهُ لَهُ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وَقَالَ: حَدِيث حسن غَرِيب\n

ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ آسمان تلے روئے زمین پر ابوذر ؓ سے زیادہ راست گو اور عہد وفا کرنے والا اور زہد میں عیسیٰ بن مریم ؑ سے زیادہ مشابہ کوئی نہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔

6240Mishkaat-al-Masabihصحیح

مناقب کا بیان

وَعَنْ\nمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ لَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: الْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ وَعِنْدَ سَلْمَانَ وَعِنْدَ ابْنِ مَسْعُودٍ وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيّا فَأسلم فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n

معاذ بن جبل ؓ سے روایت ہے ، جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے کہا : چار اشخاص سے علم حاصل کرو ، عویمر ابودرداء سلمان ، ابن مسعود اور عبداللہ بن سلام سے اور عبداللہ بن سلام ؓ یہودی تھے ، پھر اسلام قبول کیا ، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ آپ دس جنتیوں میں سے دسویں ہیں ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔