Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 313 of 315
وَعَنْ\nحُذَيْفَةَ قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوِ اسْتَخْلَفْتَ؟ قَالَ: «إِنِ اسْتَخْلَفْتُ عَلَيْكُمْ فَعَصَيْتُمُوهُ عُذِّبْتُمْ وَلَكِنْ مَا حَدَّثَكُمْ حُذَيْفَةُ فَصَدِّقُوهُ وَمَا أقرأكم عبد الله فاقرؤوه» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، صحابہ نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اگر آپ خلیفہ مقرر فرما دیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر میں نے تم پر خلیفہ مقرر کر دیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب میں مبتلا ہو جاؤ گے ، لیکن حذیفہ جو تمہیں بتائیں اس کی تصدیق کرو اور عبداللہ جو تمہیں پڑھائیں اسے پڑھو ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: مَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ تُدْرِكُهُ الْفِتْنَةُ إِلَّا أَنَا أَخَافُهَا عَلَيْهِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْلَمَةَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَا تَضُرُّكَ الْفِتْنَةُ» . رَوَاهُ أَبُو دَاوُد\n
حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، محمد بن مسلمہ ؓ کے علاوہ ہر شخص کے متعلق اندیشہ ہے کہ اسے فتنہ نقصان پہنچائے گا ، لیکن ان کے متعلق کوئی اندیشہ نہیں کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ فتنہ تمہیں نقصان نہیں پہنچائے گا ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ ابوداؤد ۔
وَعَنْ\nعَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا فَقَالَ: «يَا عَائِشَة ماأرى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ وَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ» فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے زبیر ؓ کے گھر میں چراغ جلتا ہوا دیکھا تو فرمایا :’’ عائشہ ! میرا خیال ہے کہ اسماء کے ہاں ولادت ہوئی ہے ، تم اس بچے کا نام نہ رکھنا ، اس کا نام میں خود رکھوں گا ۔‘‘ آپ ﷺ نے اس (بچے) کا نام عبداللہ رکھا اور اپنے ہاتھ سے کھجور کے ساتھ اسے گھٹی دی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ\nعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لِمُعَاوِيَةَ: «اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا وَاهْدِ بِهِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
عبد الرحمن بن ابی عمیرہ ؓ نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے معاویہ ؓ کے متعلق فرمایا :’’ اے اللہ ! اسے ہادی اور ہدایت یافتہ بنا اور اس کے ذریعے ہدایت نصیب فرما ۔‘‘ اسنادہ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَسْلَمَ النَّاسُ وآمن عَمْرو بنُ الْعَاصِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ وقا ل: هَذَا حَدِيث غَرِيب وَلَيْسَ إِسْنَاده بِالْقَوِيّ
عقبہ بن عامر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور عمرو بن عاص ایمان لائے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث غریب ہے ۔ اس کی اسناد قوی نہیں ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ جَابِرٍ\nقَالَ: لَقِيَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «يَا جَابِرُ مَا لي أَرَاك منكسراً» قلت يَا رَسُول الله اسْتشْهد أبي قتل يَوْم أحد وَتَرَكَ عِيَالًا وَدَيْنًا قَالَ أَفَلَا أُبَشِّرُكَ بِمَا لَقِي الله بِهِ أَبَاك قَالَ قُلْتُ بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مَا كَلَّمَ اللَّهُ أَحَدًا قَطُّ إِلَّا مِنْ وَرَاءِ حجاب وَأَحْيَا أَبَاك فَكَلمهُ كفاحا فَقَالَ يَا عَبْدِي تَمَنَّ عَلَيَّ أُعْطِكَ قَالَ يَا رَبِّ تُحْيِينِي فَأُقْتَلُ فِيكَ ثَانِيَةً قَالَ الرَّبُّ عز وَجل إِنَّه قد سبق مني أَنهم إِلَيْهَا لَا يرجعُونَ قَالَ وأنزلت هَذِهِ الْآيَةِ [وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا] الْآيَة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ملاقات کی تو فرمایا :’’ جابر ! کیا بات ہے کہ میں تمہیں مغموم دیکھ رہا ہوں ؟‘‘ میں نے عرض کیا : میرے والد شہید ہو گئے ہیں اور انہوں نے بچے اور قرض چھوڑا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ کیا میں تمہیں اس چیز کے متعلق خوشخبری نہ سناؤں جس کے ساتھ اللہ نے تیرے والد سے ملاقات فرمائی ؟‘‘ میں نے عرض کیا ، ضرور اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے جس سے بھی کلام فرمایا ، پس پردہ کلام فرمایا ، اور تیرے والد کو زندہ کیا تو اس سے حجاب کے بغیر کلام فرمایا ، فرمایا : میرے بندے ! تمنا کر ، میں تجھے عطا کروں گا ۔ انہوں نے عرض کیا : رب جی ! تو مجھے زندہ فرما تا کہ میں تیری خاظر دوبارہ شہید کر دیا جاؤں ، رب تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : میری طرف سے فیصلہ ہو چکا ہے کہ وہ واپس نہیں جائیں گے ۔‘‘ تب یہ آیت نازل ہوئی :’’ اللہ کی راہ میں شہید ہو جانے والوں کو مردہ مت کہو ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعنهُ قا\nل: اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خمْسا وَعشْرين مرّة. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے پچیس مرتبہ مغفرت طلب کی ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ\nأَنَسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يَؤُبَّهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ مِنْهُمُ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ» رواء التِّرْمِذِيّ وَالْبَيْهَقِيّ فِي دَلَائِل النُّبُوَّة\n
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ کتنے ہی لوگ ہیں جو پراگندہ بال ہیں ، غبار آلود ہیں ان پر دو بوسیدہ کپڑے ہیں ، ان کی کوئی وقعت نہیں ہوتی لیکن اگر وہ اللہ پر قسم اٹھا لیں تو وہ اسے پوری فرما دیتا ہے ، براء بن مالک بھی انہی میں سے ہیں ۔‘‘ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی و البیھقی فی دلائل النبوۃ ۔
وَعَنْ\nأَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَلَا إِنَّ عَيْبَتِيَ الَّتِي آوِي إِلَيْهَا أَهْلُ بَيْتِي وَإِنَّ كَرِشِيَ الأنصارُ فاعفوا عَن مسيئهم واقبلوا من مُحْسِنِهِمْ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ\n
ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ سن لو ! میرے اہل بیت میرے خاص ہیں جہاں میں پناہ لیتا ہوں ، اور میرے راز دان انصار ہیں ، ان کے خطاکاروں سے درگزر کرو اور ان کے نیکوکاروں سے (عذر) قبول کرو ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن ہے ۔ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنِ\nابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا يُبْغِضُ الْأَنْصَارَ أَحَدٌ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ\n
ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھنے والا کوئی شخص انصار سے دشمنی نہیں رکھے گا ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن صحیح ہے ۔ صحیح ، رواہ الترمذی ۔
وَعَن\nأنس وَأبي طَلْحَةَ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَقْرِئْ قَوْمَكَ السَّلَامَ فَإِنَّهُمْ مَا علمت أَعِفَّةٌ صُبُرٌ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
انس ؓ ، ابوطلحہ ؓ سے روایت کرتے ہیں ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ اپنی قوم کو سلام کہو ، کیونکہ وہ سوال کرنے سے پرہیز کرتے ہیں اور لڑائی کے وقت صبر کرتے ہیں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ\nجَابِرٍ أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبٍ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا إِلَيْهِ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّار فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «كذبت لَا يدخلهَا فَإِنَّهُ شهد بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَة» . رَوَاهُ مُسلم\n
جابر ؓ سے روایت ہے کہ حاطب ؓ کا غلام نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے آپ سے حاطب کی شکایت کرتے ہوئے کہا : اللہ کے رسول ! حاطب جہنم میں جائے گا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ تو جھوٹ کہتا ہے ، وہ اس میں داخل نہیں ہو گا ۔ کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ میں شرکت کر چکا ہے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: [وَإِنْ تَتَوَلَّوْا يَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ ثُمَّ لَا يَكُونُوا أمثالكم] قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ ذَكَرَ اللَّهُ إِنْ تَوَلَّيْنَا اسْتُبْدِلُوا بِنَا ثُمَّ لَا يَكُونُوا أَمْثَالَنَا؟ فَضَرَبَ عَلَى فَخِذِ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ ثُمَّ قَالَ: «هَذَا وَقَوْمُهُ وَلَوْ كَانَ الدِّينُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنَ الْفُرْسِ» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی :’’ اگر تم پھر گئے تو اللہ تمہاری جگہ دوسری قوم لے آئے گا ، پھر وہ تمہاری مانند نہیں ہوں گے ۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! یہ کون لوگ ہیں جن کا اللہ نے ذکر فرمایا ہے کہ اگر ہم پھر گئے تو وہ ہماری جگہ آ جائیں گے اور وہ ہماری طرح نہیں ہوں گے ۔ آپ ﷺ نے سلمان فارسی ؓ کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا :’’ یہ اور ان کی قوم ، اگر دین ثریا پر بھی ہوا تو فارسی لوگ اسے حاصل کر لیں گے ۔‘‘ سندہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس عجمیوں کا ذکر کیا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد کرتا ہوں ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
عَنْ عَلِيٍّ\nرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ رُقَبَاءَ وَأُعْطِيْتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عشرَة قُلْنَا: مَنْ هُمْ؟ قَالَ: أَنَا وَابْنَايَ وَجَعْفَرٌ وَحَمْزَةُ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ وَبِلَالٌ وَسَلْمَانُ وَعَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ وَأَبُو ذَر والمقداد. رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ\n
علی ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ ہر نبی کے سات برگزیدہ نگہبان ہوتے ہیں ، جبکہ مجھے چودہ عطا کیے گئے ہیں ، ہم نے عرض کیا ، وہ کون ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اور میرے دو بیٹے (حسن و حسین ؓ) ، جعفر ، حمزہ ، ابوبکر ، عمر ، مصعب بن عمیر ، بلال ، سلمان ، عمار ، عبداللہ بن مسعود ، ابوذر اور مقداد ؓ ۔‘‘ اسنادہ ضعیف ، رواہ الترمذی ۔
وَعَنْ\nخَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ قَالَ: كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ كَلَامٌ فَأَغْلَظْتُ لَهُ فِي الْقَوْلِ فَانْطَلَقَ عَمَّارٌ يَشْكُونِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ خَالِدٌ وَهُوَ يشكوه إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَجَعَلَ يُغْلِظُ لَهُ وَلَا يَزِيدُهُ إِلَّا غِلْظَةً وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَاكِتٌ لَا يَتَكَلَّمُ فَبَكَى عَمَّارٌ وَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا تَرَاهُ؟ فَرَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَسَهُ وَقَالَ: «مَنْ عَادَى عَمَّارًا عَادَاهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَ عَمَّارًا أَبْغَضَهُ اللَّهُ» . قَالَ خَالِدٌ: فَخَرَجْتُ فَمَا كَانَ شَيْءٌ أَحَبَّ إِلَيَّ من رضى عمار فَلَقِيته بِمَا رَضِي فَرضِي\n
خالد بن ولید ؓ بیان کرتے ہیں ، میرے اور عمار بن یاسر ؓ کے درمیان کسی معاملہ میں مکالمہ ہو گیا تو میں نے ان سے سخت لہجے میں بات کی تو عمار ؓ رسول اللہ ﷺ سے میری شکایت لگانے چلے گئے ، خالد ؓ آئے تو عمار ؓ نبی ﷺ سے خالد ؓ کی شکایت کر رہے تھے ، راوی بیان کرتے ہیں ، خالد ؓ ان سے سخت لہجے میں بات کرنے لگے اور اس سختی میں اضافہ ہوتا چلا گیا جبکہ نبی ﷺ خاموش ہیں کوئی بات نہیں کر رہے ، (اس پر) عمار ؓ رو پڑے اور عرض کیا ، اللہ کے رسول ! آپ انہیں دیکھ نہیں رہے ؟ نبی ﷺ نے اپنا سر مبارک اٹھا کر فرمایا :’’ جس نے عمار سے عداوت رکھی اللہ اس سے عداوت رکھے گا اور جو شخص عمار سے بغض رکھے گا تو اللہ اس سے بغض رکھے گا ۔‘‘ خالد ؓ بیان کرتے ہیں میں وہاں سے نکلا تو عمار ؓ کی رضا مندی کے سوا مجھے کوئی چیز زیادہ محبوب نہیں تھی ۔ میں نے انہیں راضی کرنے کی کوشش کی حتیٰ کہ وہ راضی ہو گئے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ احمد ۔
وَعَن\nأبي عُبَيدةَ أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «خَالِدٌ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَنِعْمَ فَتَى الْعَشِيرَةِ» . رَوَاهُمَا أَحْمد\n
ابوعبیدہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ خالد اللہ عزوجل کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ، اور اپنے قبیلے کے اچھے نوجوان ہیں ۔‘‘ دونوں احادیث کو امام احمد نے روایت کیا ہے ۔ سندہ ضعیف ، رواہ احمد ۔
وَعَنْ بُرَيْدَةَ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى أَمرنِي بِحُبِّ أَرْبَعَةٍ وَأَخْبَرَنِي أَنَّهُ يُحِبُّهُمْ» . قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ سَمِّهِمْ لَنَا قَالَ: «عَلِيٌّ مِنْهُمْ» يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثًا «وَأَبُو ذَرٍّ وَالْمِقْدَادُ وَسَلْمَانُ أَمرنِي بحبِّهم وَأَخْبرنِي أَنه يحبُّهم» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ\n
بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ تبارک و تعالیٰ نے چار اشخاص سے محبت کرنے کا مجھے حکم فرمایا ہے ، اور اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! ہمیں ان کے نام بتا دیں ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ علی ان میں سے ہیں ۔‘‘ آپ ﷺ نے تین بار ان کا نام لیا ،’’ (باقی) ابوذر ، مقداد اور سلمان ہیں ، اس نے مجھے ان سے محبت کرنے کا حکم فرمایا ہے اور اس نے مجھے خبر دی ہے کہ وہ ان سے محبت کرتا ہے ۔‘‘ ترمذی ، اور انہوں نے فرمایا : یہ حدیث حسن غریب ہے ۔ اسنادہ حسن ، رواہ الترمذی ۔
وَعَن\nجَابر قا ل: كَانَ عُمَرُ يَقُولُ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَأَعْتَقَ سَيِّدَنَا يَعْنِي بِلَالًا. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، عمر ؓ فرمایا کرتے تھے : ہمارے سردار ابوبکر ؓ نے ہمارے سردار یعنی بلال ؓ کو آزاد کیا ۔ رواہ البخاری ۔
وَعَنْ\nقَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ أَنَّ بِلَالًا قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: إِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِنَفْسِكَ فَأَمْسِكْنِي وَإِنْ كُنْتَ إِنَّمَا اشْتَرَيْتَنِي لِلَّهِ فَدَعْنِي وَعمل الله. رَوَاهُ البُخَارِيّ\n
قیس بن ابی حازم ؓ سے روایت ہے کہ بلال ؓ نے ابوبکر ؓ سے کہا : اگر تو آپ نے مجھے اپنی ذات کے لیے خریدا ہے تو پھر آپ مجھے روک رکھیں ، اور اگر آپ نے مجھے اللہ کی خاطر خریدا ہے تو پھر مجھے چھوڑ دیں اور اللہ کے راستے میں عمل کرنے دیں ۔ رواہ البخاری ۔