Mishkaat-al-Masabihمشکوٰۃ المصابیح
All 6,294 hadiths in order · Page 311 of 315
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «أُرِيْتُ الْجَنَّةَ فَرَأَيْتُ امْرَأَةَ أَبِي طَلْحَةَ وَسَمِعْتُ خَشْخَشَةً أَمَامِي فَإِذَا بِلَالٌ» . رَوَاهُ مُسلم
جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ مجھے جنت دکھائی گئی ، میں نے ابوطلحہ ؓ کی اہلیہ دیکھیں ، اور اپنے آگے بلال کے جوتوں کی آواز سنی ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن سعد قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ نَفَرٍ فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسلم: اطرد هَؤُلَاءِ لَا يجترؤون عَلَيْنَا. قَالَ: وَكُنْتُ أَنَا وَابْنُ مَسْعُودٍ وَرَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ وَبِلَالٌ وَرَجُلَانِ لَسْتُ أُسَمِّيهِمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقَعَ فَحَدَّثَ نَفْسَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى: [وَلَا تَطْرُدِ الَّذِينَ يَدْعُونَ رَبَّهُمْ بِالْغَدَاةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيدُونَ وَجْهَهُ] . رَوَاهُ مُسلم
سعد ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم چھ افراد نبی ﷺ کے ساتھ تھے ، مشرکین نے نبی ﷺ سے کہا کہ ان لوگوں کو یہاں سے دور کر دو اور یہ ہماری موجودگی میں آنے کی جرأت نہ کریں ، راوی بیان کرتے ہیں (ان میں) میں ، ابن مسعود ، ہذیل قبیلے کا ایک آدمی ، بلال اور دو آدمی اور تھے جن کا میں نام نہیں لیتا ، اللہ نے جو چاہا رسول اللہ ﷺ کے دل میں خیال آیا اور آپ نے اپنے دل میں کوئی بات سوچی تو اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی :’’ آپ ان لوگوں کو دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو ، اس کی رضا مندی کے حصول کے لیے پکارتے رہتے ہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَبِي مُوسَى أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: «يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيْتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آل دَاوُد» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوموسی ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے انہیں فرمایا :’’ ابوموسیٰ ! آپ کو آل داؤد کی سی خوش الحانی عطا کی گئی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَن أنس قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ: أُبَيُّ بْنِ كَعْبٍ وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَزَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبُو زَيْدٍ قِيلَ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ؟ قَالَ: أحد عمومتي. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے عہد میں چار افراد نے قرآن کو جمع کر لیا تھا : ابی بن کعب ، معاذ بن جبل ، زید بن ثابت اور ابوزید ؓ ، انس ؓ سے پوچھا گیا : ابوزید کون ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : میرے ایک چچا ہیں ۔ متفق علیہ ۔\n
وَعَن خبّاب بن الأرتِّ قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ تَعَالَى فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَضَى لَمْ يَأْكُلْ مَنْ أَجْرِهِ شَيْئًا مِنْهُمْ: مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ قُتِلَ يَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مَا يُكَفَّنُ فِيهِ إِلَّا نَمِرَةٌ فَكُنَّا إِذَا غطينا بهَا رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ وَإِذَا غَطَّيْنَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «غطوا بهَا رَأسه وَاجْعَلُوا على رجلَيْهِ الْإِذْخِرِ» . وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يهدبها. مُتَّفق عَلَيْهِ
خباب بن ارت ؓ بیان کرتے ہیں ، ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی ، ہم اللہ کی رضا مندی چاہتے تھے ، چنانچہ ہمارا اجر اللہ کے ہاں ثابت ہو گیا ، ہم میں سے کچھ (جلد) وفات پا گئے اور انہوں نے اپنے (دنیوی) اجر (مال غنیمت وغیرہ) سے کچھ نہ پایا ، مصعب بن عمیر ؓ بھی انہی میں سے ہیں ، وہ غزوۂ احد میں شہید ہو گئے تھے ، انہیں کفن دینے کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آئی ، جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو ان کے دونوں پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ہم ان کے دونوں پاؤں ڈھانپتے تو ان کا سر ننگا ہو جاتا ، نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اس سے ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پاؤں پر گھاس ڈال دو ۔‘‘ اور ہم میں سے وہ بھی ہیں کہ ان کے لیے پھل پک چکے ہیں اور وہ انہیں چن رہے ہیں ۔ (قتوحات کے بعد دنیوی فوائد بھی حاصل کر رہے ہیں) متفق علیہ ۔
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اهْتَزَّ الْعَرْشُ لِمَوْتِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ»\nوَفِي رِوَايَةٍ: «اهْتَزَّ عَرْشُ الرَّحْمَنِ لِمَوْتِ سَعْدِ بن معَاذ» . مُتَّفق عَلَيْهِ\n
جابر ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ سعد بن معاذ ؓ کی وفات پر عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ ایک دوسری روایت میں ہے :’’ سعد بن معاذ ؓ کی موت پر رحمن کا عرش ہل گیا تھا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: أُهْدِيَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةُ حَرِيرٍ فَجَعَلَ أَصْحَابُهُ يَمَسُّونَهَا وَيَتَعَجَّبُونَ مِنْ لِينِهَا فَقَالَ: «أَتَعْجَبُونَ مِنْ لِينِ هَذِهِ؟ لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الجنَّةِ خيرٌ مِنْهَا وألين» . مُتَّفق عَلَيْهِ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ریشمی جوڑا بطور ہدیہ پیش کیا گیا تو صحابہ اسے چھونے لگے اور اس کی ملائمیت پر تعجب کرنے لگے تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم اس کی ملائمیت پر تعجب کرتے ہو ۔ سعد بن معاذ کے جنت میں رومال اس سے زیادہ بہتر ہیں اور زیادہ ملائم ہیں ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَسٌ خَادِمُكَ ادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ: «اللهمَّ أَكثر مَاله وَولده وَبَارك فِيمَا أَعْطيته» قَالَ أنس: فو الله إِنَّ مَالِي لَكَثِيرٌ وَإِنَّ وَلَدِي وَوَلَدَ وَلَدِي لَيَتَعَادُّونَ عَلَى نَحْوِ الْمِائَةِ الْيَوْمَ. مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
ام سلیم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! انس ؓ آپ کا خادم ہے ، اس کے لیے اللہ سے دعا فرمائیں : آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اس کے مال و اولاد میں اضافہ فرما ، اور تو نے جو اسے عطا فرمایا ہے اس میں برکت فرما ۔‘‘ انس ؓ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میرا مال بہت زیادہ ہے ، اور آج میرے بیٹے اور میرے پوتے سو سے زیادہ ہیں ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِأَحَدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ «إِنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ» إِلَّا لِعَبْدِ اللَّهِ بن سَلام. مُتَّفق عَلَيْهِ
سعد بن ابی وقاص ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے عبداللہ بن سلام ؓ کے علاوہ روئے زمین پر چلنے والے کسی اور شخص کے بارے میں نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ ’’ وہ اہل جنت میں سے ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا فِي مَسْجِدِ الْمَدِينَةِ فَدَخَلَ رَجُلٌ عَلَى وَجْهِهِ أَثَرُ الْخُشُوعِ فَقَالُوا: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ تَجَوَّزَ فِيهِمَا ثُمَّ خَرَجَ وَتَبِعْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّكَ حِينَ دَخَلْتَ الْمَسْجِدَ قَالُوا: هَذَا رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ. قَالَ: وَاللَّهِ مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَقُولَ مَا لَا يَعْلَمُ فَسَأُحَدِّثُكَ لِمَ ذَاكَ؟ رَأَيْتُ رُؤْيَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَصَصْتُهَا عَلَيْهِ وَرَأَيْتُ كَأَنِّي فِي رَوْضَةٍ - ذَكَرَ مِنْ سَعَتِهَا وَخُضْرَتِهَا - وَسَطَهَا عَمُودٌ مِنْ حَدِيدٍ أَسْفَلُهُ فِي الْأَرْضِ وَأَعْلَاهُ فِي السَّمَاءِ فِي أَعْلَاهُ عُرْوَةٌ فَقِيلَ لِيَ: ارْقَهْ. فَقُلْتُ: لَا أَسْتَطِيعُ فَأَتَانِي مِنْصَفٌ فَرَفَعَ ثِيَابِي مِنْ خَلْفِي فرقِيتُ حَتَّى كُنْتُ فِي أَعْلَاهُ فَأَخَذْتُ بِالْعُرْوَةِ فَقِيلَ: اسْتَمْسِكْ فَاسْتَيْقَظْتُ وَإِنَّهَا لَفِي يَدِي فَقَصَصْتُهَا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «تِلْكَ الرَّوْضَةُ الْإِسْلَامُ وَذَلِكَ الْعَمُودُ عَمُودُ الْإِسْلَامِ وَتِلْكَ العروة الْعُرْوَةُ الْوُثْقَى فَأَنْتَ عَلَى الْإِسْلَامِ حَتَّى تَمُوتَ وَذَاكَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
قیس بن عباد ؓ بیان کرتے ہیں ، میں مدینہ کی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اس کے چہرے پر خشوع کے آثار تھے ۔ حاضرین نے کہا : یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ، چنانچہ اس نے اختصار کے ساتھ دو رکعتیں پڑھیں ، پھر وہ چلا گیا ۔ میں اس کے پیچھے پیچھے گیا ، تو میں نے کہا : جس وقت آپ مسجد میں تشریف لائے تھے تو لوگوں نے کہا تھا کہ یہ آدمی اہل جنت میں سے ہے ۔ اس آدمی نے کہا : اللہ کی قسم ! کسی شخص کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ایسی بات کہے جسے وہ جانتا نہیں ، میں تمہیں بتاتا ہوں کہ ایسے کیوں ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں خواب دیکھا تو میں نے اسے آپ سے بیان کیا : میں نے دیکھا کہ گویا میں ایک باغ میں ہوں ، انہوں نے اس کی وسعت اور اس کی شادابی کا ذکر کیا ، اس کے وسط میں لوہے کا ستون ہے ، اس کا نچلا حصہ زمین میں ہے اور اس کا اوپر والا حصہ آسمان میں ہے ، اس کی چوٹی پر ایک حلقہ (کڑا) ہے ، مجھے کہا گیا : اس پر چڑھو ، میں نے کہا : میں استطاعت نہیں رکھتا ، میرے پاس ایک خادم آیا اس نے پیچھے سے میرے کپڑے اٹھائے تو میں اوپر چڑھ گیا ، حتیٰ کہ میں نے اس کی چوٹی پر پہنچ کر حلقے (کڑے) کو پکڑ لیا ، مجھے کہا گیا : مضبوطی کے ساتھ پکڑ لو ، میں اسے پکڑے ہوئے تھا کہ میں بیدار ہو گیا ، میں نے اسے نبی ﷺ سے بیان کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ باغ اسلام ہے ، اور وہ ستون اسلام کا ستون ہے اور وہ حلقہ مضبوط حلقہ ہے تم تا دم مرگ اسلام پر رہو گے ۔‘‘ اور وہ آدمی عبداللہ بن سلام ؓ تھے ۔ متفق علیہ ۔
عَن\nأَنَسٍ قَالَ: كَانَ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شماس خطيب الْأَنْصَار فَلَمَّا نزلت هَذِه الْآيَة: [يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوق صَوت النَّبِي] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ جَلَسَ ثَابِتٌ فِي بَيْتِهِ وَاحْتَبَسَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ فَقَالَ: «مَا شَأْنُ ثَابِتٍ أَيَشْتَكِي؟» فَأَتَاهُ سَعْدٌ فَذَكَرَ لَهُ قَوْلُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ثَابِتٌ: أُنْزِلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَلَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي مِنْ أَرْفَعِكُمْ صَوْتًا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنَا مِنْ أَهْلِ النَّارِ فَذَكَرَ ذَلِكَ سَعْدٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلْ هُوَ من أهل الْجنَّة» . رَوَاهُ مُسلم\n
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ نَزَلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ فَلَمَّا نَزَلَتْ [وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يلْحقُوا بهم] قَالُوا: مَنْ هَؤُلَاءِ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: وَفِينَا سَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ قَالَ: فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ ثُمَّ قَالَ: «لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ عِنْدَ الثُّرَيَّا لَنَالَهُ رجالٌ من هَؤُلَاءِ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، جب سورۂ جمعہ نازل ہوئی تو ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، جب یہ آیت (وَاخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ) نازل ہوئی تو ہم نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ان سے کون لوگ مراد ہیں ؟ راوی بیان کرتے ہیں ، سلمان فارسی ؓ ہمارے درمیان موجود تھے ، نبی ﷺ نے سلمان ؓ پر اپنا دست مبارک رکھ کر فرمایا :’’ اگر ایمان ثریا پر بھی ہو گا تو تب بھی ان لوگوں میں سے کچھ حضرات اس تک پہنچ جائیں گے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اللَّهُمَّ حَبِّبْ عُبَيْدَكَ هَذَا» يَعْنِي أَبَا هُرَيْرَةَ «وَأُمَّهُ إِلَى عِبَادِكَ الْمُؤْمِنِينَ وَحَبِّبْ إِليهم الْمُؤمنِينَ» . رَوَاهُ مُسلم\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اے اللہ ! اپنے اس بندے یعنی ابوہریرہ اور ان کی والدہ کو اپنے مومن بندوں کا محبوب بنا دے اور مومنوں کو ان کا محبوب بنا دے ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَن\nعَائِذ بن عَمْرو أَن أَبَا سُفْيَان أَتَى عَلَى سَلْمَانَ وَصُهَيْبٍ وَبِلَالٍ فِي نَفَرٍ فَقَالُوا: مَا أَخَذَتْ سُيُوفُ اللَّهِ مِنْ عُنُقِ عَدُوِّ اللَّهِ مَأْخَذَهَا. فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَتَقُولُونَ هَذَا لِشَيْخِ قُرَيْشٍ وَسَيِّدِهِمْ؟ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ لَعَلَّكَ أَغْضَبْتَهُمْ لَئِنْ كُنْتَ أَغْضَبْتَهُمْ لَقَدْ أَغْضَبْتَ رَبَّكَ فَأَتَاهُمْ فَقَالَ: يَا إِخْوَتَاهْ أَغْضَبْتُكُمْ قَالُوا: لَا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَخِي. رَوَاهُ مُسلم\n
عائذ بن عمرو سے روایت ہے کہ ابوسفیان سلمان ، صہیب اور بلال ؓ کے پاس سے گزرے اس وقت اور صحابہ کرام بھی موجود تھے ، انہوں نے کہا : اللہ کی تلواروں نے اللہ کے دشمن کی گردن سے اپنا حق وصول نہیں کیا ۔ ابوبکر ؓ نے فرمایا : کیا تم ایسی بات قریش کے معتبر اور سردار شخص کے بارے میں کہتے ہو ؟ ابوبکر ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے اور انہیں بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ ابوبکر ! شاید کہ تم نے انہیں ناراض کر دیا ہے ، اگر تم نے انہیں ناراض کیا تو تم نے اپنے رب کو ناراض کر دیا ۔‘‘ وہ ان کے پاس آئے اور کہا : بھائیو ! کیا میں نے تمہیں ناراض کر دیا ہے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، بھائی ! اللہ آپ کی مغفرت فرمائے ۔ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «آيَةُ الْإِيمَانِ حُبُّ الْأَنْصَارِ وَآيَةُ النِّفَاقِ بُغْضُ الْأَنْصَارِ» . مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ
انس ؓ ، نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا :’’ انصار سے محبت علامت ایمان ہے ، اور عداوت انصار علامت نفاق ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنِ الْبَرَاءِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «الْأَنْصَارُ لَا يُحِبُّهُمْ إِلَّا مُؤْمِنٌ وَلَا يَبْغَضُهُمْ إِلَّا مُنَافِقٌ فَمَنْ أَحَبَّهُمْ أَحَبَّهُ اللَّهُ وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ أَبْغَضَهُ اللَّهُ» . مُتَّفق عَلَيْهِ
براء ؓ بیان کرتے ہیں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ انصار سے صرف مومن شخص ہی محبت کرتا ہے جبکہ انصار سے صرف منافق شخص ہی عداوت رکھتا ہے ، چنانچہ جس نے ان سے محبت کی تو اللہ اس سے محبت کرے گا اور جس نے ان سے عداوت کی تو اللہ اس سے عداوت کرے گا ۔‘‘ متفق علیہ ۔
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: إِنَّ نَاسًا مِنَ الْأَنْصَارِ قَالُوا حِينَ أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْوَالِ هَوَازِنَ مَا أَفَاءَ فَطَفِقَ يُعْطِي رِجَالًا مِنْ قُرَيْشٍ الْمِائَةَ مِنَ الْإِبِلِ فَقَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُنَا وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَحَدَّثَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَقَالَتِهِمْ فَأَرْسَلَ إِلَى الْأَنْصَارِ فَجَمَعَهُمْ فِي قُبَّةٍ مَنْ أَدَمٍ وَلَمْ يَدْعُ مَعَهُمْ أَحَدًا غَيْرَهُمْ فَلَمَّا اجْتَمَعُوا جَاءَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسلم فَقَالَ: «مَا كَانَ حَدِيثٌ بَلَغَنِي عَنْكُمْ؟» فَقَالَ فُقَهَاؤُهُمْ: أَمَّا ذَوُو رَأْيِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَمْ يَقُولُوا شَيْئًا وَأَمَّا أُنَاسٌ مِنَّا حَدِيثَةٌ أَسْنَانُهُمْ قَالُوا: يَغْفِرُ اللَّهُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِي قُرَيْشًا وَيَدَعُ الْأَنْصَارَ وَسُيُوفُنَا تَقْطُرُ مِنْ دِمَائِهِمْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنِّي أُعْطِي رِجَالًا حَدِيثِي عَهْدٍ بِكُفْرٍ أَتَأَلَّفُهُمْ أَمَا تَرْضَوْنَ أَنْ يَذْهَبَ النَّاسُ بِالْأَمْوَالِ وَتَرْجِعُونَ إِلَى رِحَالِكُمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» . قَالُوا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قد رَضِينَا. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ بیان کرتے ہیں ، جب اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ہوازن قبیلے کے اموال میں سے غنیمت عطا فرمائی اور آپ قریش کے (نو مسلم) افراد کو سو اونٹ دینے لگے تو انصار کے کچھ لوگوں نے کہا : اللہ رسول اللہ ﷺ کی مغفرت فرمائے ، آپ قریشیوں کو تو عطا فرما رہے ہیں جبکہ ہمیں چھوڑ رہے ہیں ، اور صورت حال یہ ہے کہ ہماری تلواروں سے ان کا خون ابھی تک ٹپک رہا ہے ، ان کی یہ گفتگو رسول اللہ ﷺ کو بتائی گئی تو آپ نے انصار کو بلا بھیجا اور انہیں چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور آپ نے ان کے علاوہ کسی اور کو وہاں نہ بلایا ، جب وہ اکٹھے ہو گئے تو رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا :’’ تمہارے متعلق مجھے کیا خبر پہنچی ہے ؟‘‘ ان (انصار) کے سمجھ دار لوگوں نے عرض کیا ، اللہ کے رسول ! ہمارے سنجیدہ لوگوں نے تو کوئی بات نہیں کی ، البتہ ہمارے چند نو عمر لڑکوں نے کہا ہے : اللہ ، رسول اللہ ﷺ کو معاف فرمائے کہ وہ قریشیوں کو دے رہے ہیں اور انصار کو چھوڑ رہے ہیں ، جبکہ ہماری تلواروں سے ان (قریشیوں) کا خون ٹپک رہا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں نے نو مسلموں کو ان کی تالیف قلبی کے لیے دیا ہے ، کیا تم پسند نہیں کرتے کہ لوگ تو مال و دولت لے کر واپس جائیں اور تم رسول اللہ ﷺ کو ساتھ لے کر اپنے گھروں کو واپس جاؤ ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، کیوں نہیں ، اللہ کے رسول ! ہم اس پر راضی ہیں ۔ متفق علیہ ۔
وَعَنْ\nأَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَءًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَلَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَسَلَكَتِ الْأَنْصَارُ وَادِيًا أَوْ شِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْأَنْصَارِ وشعبها وَالْأَنْصَار شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي عَلَى الْحَوْضِ» . رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار میں سے ایک آدمی ہوتا ، اگر سارے لوگ ایک وادی میں چلیں اور انصار ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انصار کی وادی اور گھاٹی میں چلوں گا ، انصار استر ہیں جبکہ باقی لوگ اوپر کا کپڑا ہیں ، بے شک تم لوگ میرے بعد ترجیح دیکھو گے (کہ تم پر دوسروں کو ترجیح دی جائے گی) تم صبر کرنا حتیٰ کہ تم حوض کوثر پر مجھ سے ملاقات کرو ۔‘‘ رواہ البخاری ۔
وَعَنْهُ\nقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَقَالَ: «مَنْ دَخَلَ دَارَ أَبِي سُفْيَانَ فَهُوَ آمِنٌ وَمَنْ أَلْقَى السِّلَاحَ فَهُوَ آمِنٌ» . فَقَالَتِ الْأَنْصَارُ: أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ. وَنَزَلَ الْوَحْيُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «قُلْتُمْ أَمَّا الرَّجُلُ فَقَدْ أَخَذَتْهُ رَأْفَةٌ بِعَشِيرَتِهِ وَرَغْبَةٌ فِي قَرْيَتِهِ كَلَّا إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ هَاجَرْتُ إِلَى الله وإليكم فالمحيا مَحْيَاكُمْ وَالْمَمَاتُ مَمَاتُكُمْ» قَالُوا: وَاللَّهِ مَا قُلْنَا إِلَّا ضِنًّا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ. قَالَ: «فَإِنَّ اللَّهَ وَرَسُوله يصدقانكم ويعذرانكم» . رَوَاهُ مُسلم\n
ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، فتح مکہ کے روز ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ جو شخص ابوسفیان کے گھر داخل ہو جائے تو وہ امن میں ہے ، جو ہتھیار ڈال دے وہ امن میں ہے ۔‘‘ انصار نے کہا : اس آدمی کو اپنے رشتہ داروں سے رحمت اور اپنے شہر کی محبت نے پکڑ لیا ، (ان کی اس بات کے متعلق) رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ تم نے کہا ہے کہ اس آدمی کو اپنے کنبے سے شفقت اور اپنے شہر سے محبت نے پکڑ لیا ہے ، سن لو ، ایسے نہیں ، میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ، میرا جینا مرنا تمہارے ساتھ ہے ۔‘‘ انہوں نے عرض کیا ، اللہ کی قسم ! ہم نے تو محض اللہ اور اس کے رسول کی رفاقت کے حصول کے لیے ایسے کہا تھا ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے رہیں ۔‘‘ رواہ مسلم ۔
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صِبْيَانًا وَنِسَاءً مُقْبِلِينَ مِنْ عُرْسٍ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ اللَّهُمَّ أَنْتُمْ مِنْ أَحَبِّ النَّاسِ إِلَيَّ» يَعْنِي الْأَنْصَار. مُتَّفق عَلَيْهِ
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (انصار کے) کچھ بچوں اور خواتین کو کسی شادی کی تقریب سے واپس آتے ہوئے دیکھا تو نبی ﷺ نے کھڑے ہو کر فرمایا :’’ اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ، اے اللہ ! (تو جانتا ہے) تم یعنی انصار تمام لوگوں سے زیادہ مجھے محبوب ہو ۔‘‘ متفق علیہ ۔